Al-An'aam 6:124

Al-An'aam · from ayah 124

6:124

وَاِذَا جَآءَتْهُمْ اٰیَةٌ قَالُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ حَتّٰی نُؤْتٰی مِثْلَ مَاۤ اُوْتِیَ رُسُلُ اللّٰهِ ؔۘؕ— اَللّٰهُ اَعْلَمُ حَیْثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَهٗ ؕ— سَیُصِیْبُ الَّذِیْنَ اَجْرَمُوْا صَغَارٌ عِنْدَ اللّٰهِ وَعَذَابٌ شَدِیْدٌۢ بِمَا كَانُوْا یَمْكُرُوْنَ ۟وَاِذَا جَآءَتۡهُمۡ اٰيَةٌ قَالُوۡا لَنۡ نُّـؤۡمِنَ حَتّٰى نُؤۡتٰى مِثۡلَ مَاۤ اُوۡتِىَ رُسُلُ اللّٰهِؔ‌ۘؕ اَللّٰهُ اَعۡلَمُ حَيۡثُ يَجۡعَلُ رِسٰلَـتَهٗ‌ ؕ سَيُصِيۡبُ الَّذِيۡنَ اَجۡرَمُوۡا صَغَارٌ عِنۡدَ اللّٰهِ وَعَذَابٌ شَدِيۡدٌۢ بِمَا كَانُوۡا يَمۡكُرُوۡنَ

اور جب ان کے پاس کوئی آیت آتی ہے تو کہتے ہیں کہ جس طرح کی رسالت خدا کے پیغمبروں کو ملی ہے جب تک اسی طرح کی رسالت ہم کو نہ ملے ہم ہرگز ایمان نہیں لائیں گے اس کو خدا ہی خوب جانتا ہے کہ (رسالت کا کون سا محل ہے اور) وہ اپنی پیغمبری کسے عنایت فرمائے جو لوگ جرم کرتے ہیں ان کو خدا کے ہاں ذلّت اور عذابِ شدید ہوگا اس لیے کہ مکّاریاں کرتے تھے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And when a sign comes to them, they say, "Never will we believe until we are given like that which was given to the messengers of Allah." Allah is most knowing of where He places His message. There will afflict those who committed crimes debasement before Allah and severe punishment for what they used to conspire.

— Saheeh International

Juz 8 · Ruku 15 of surah · Ruku 2 of juz

Read the whole surah · Surah Al-An'aam

All translations of 6:124

جب ان کے سامنے کوئی آیت آتی ہے تو وہ کہتے ہیں "ہم نہ مانیں گے جب تک کہ وہ چیز خود ہم کو نہ دی جائے جو اللہ کے رسولوں کو دی گئی ہے" اللہ زیادہ بہتر جانتا ہے کہ اپنی پیغامبری کا کام کس سے لے اور کس طرح لے قریب ہے وہ وقت جب یہ مجرم اپنی مکاریوں کی پاداش میں اللہ کے ہاں ذلت اور سخت عذاب سے دو چار ہوں گے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جب ان کے پاس کوئی آیت آتی ہے تو کہتے ہیں کہ جس طرح کی رسالت خدا کے پیغمبروں کو ملی ہے جب تک اسی طرح کی رسالت ہم کو نہ ملے ہم ہرگز ایمان نہیں لائیں گے اس کو خدا ہی خوب جانتا ہے کہ (رسالت کا کون سا محل ہے اور) وہ اپنی پیغمبری کسے عنایت فرمائے جو لوگ جرم کرتے ہیں ان کو خدا کے ہاں ذلّت اور عذابِ شدید ہوگا اس لیے کہ مکّاریاں کرتے تھے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور جب ان کو کوئی آیت پہنچتی ہے تو یوں کہتے ہیں کہ ہم ہرگز ایمان نہ ﻻئیں گے جب تک کہ ہم کو بھی ایسی ہی چیز نہ دی جائے جو اللہ کے رسولوں کو دی جاتی ہے، اس موقع کو تو اللہ ہی خوب جانتا ہے کہ کہاں وه اپنی پیغمبری رکھے؟ عنقریب ان لوگوں کو جنہوں نے جرم کیا ہے اللہ کے پاس پہنچ کر ذلت پہنچے گی اور ان کی شرارتوں کے مقابلے میں سخت سزائیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور جب ان (اہل مکہ) کے پاس (قرآن کی) کوئی آیت آتی ہے تو یہ کہتے ہیں کہ : ہم اس وقت تک ہرگز ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ اس جیسی چیز خود ہمیں نہ دے دی جائے جیسی اللہ کے پیغمبروں کو دی گئی تھی۔ (حالانکہ) اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ اپنی پیغمبری کس کو سپرد کرے۔ جن لوگوں نے (اس قسم کی) مجرمانہ باتیں کی ہیں ان کو اپنی مکاریوں کے بدلے میں اللہ کے پاس جاکر ذلت اور سخت عذاب کا سامنا ہوگا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور جب ان کے پاس کوئی نشانی آئے تو کہتے ہی ہم ہر گز ایمان نہ لائیں گے جب تک ہمیں بھی ویسا ہی نہ ملے جیسا اللہ کے رسولوں کو ملا اللہ خوب جانتا ہے جہاں اپنی رسالت رکھے عنقریب مجرموں کو اللہ کے یہاں ذلت پہنچے گی اور سخت عذاب بدلہ ان کے مکر کا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور جب ان کے پاس کوئی نشانی آتی ہے (تو) کہتے ہیں: ہم ہرگز ایمان نہیں لائیں گے یہاں تک کہ ہمیں بھی ویسی ہی (نشانی) دی جائے جیسی اﷲ کے رسولوں کو دی گئی ہے۔ اﷲ خوب جانتا ہے کہ اسے اپنی رسالت کا محل کسے بنانا ہے۔ عنقریب مجرموں کو اﷲ کے حضور ذلت رسید ہوگی اور سخت عذاب بھی (ملے گا) اس وجہ سے کہ وہ مکر (اور دھوکہ دہی) کرتے تھے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور جب ان کے پاس کوئی نشانی آتی ہے تو کہتے ہیں ہم ہرگز ایمان نہیں لائیں گے، یہاں تک کہ ہمیں اس جیسا دیا جائے جو اللہ کے رسولوں کو دیا گیا، اللہ زیادہ جاننے والا ہے جہاں وہ اپنی رسالت رکھتا ہے۔ عنقریب ان لوگوں کو جنھوں نے جرم کیے، اللہ کے ہاں بڑی ذلت پہنچے گی اور بہت سخت عذاب، اس وجہ سے کہ وہ فریب کیا کرتے تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور جب ان کے پاس کوئی نشانی آتی ہے تو کہتے ہیں ہم تو اس وقت تک نہ مانیں گے جب تک ہمیں بھی وہی کچھ نہ دیا جائے (یعنی نبوت) جو اللہ کے رسولوں کو دیا گیا ہے۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ اپنی رسالت کا کام کس سے لے جلد ہی ان مجرموں کو اپنی مکاریوں کی پاداش میں اللہ کے ہاں ذلت اور سخت عذاب سے دوچار ہونا پڑے گا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور جب ان کے پاس آتی کوئی آیت تو کہتے ہم تو ماننے کے نہیں جب تک ہم کو بھی وہی کچھ نہ ملے جو اللہ کے رسولوں کو ملا، اللہ ہی خوب جانتا ہے کہ وہ اپنا منصب رسالت کس کو بخشے، جو لوگ شرارت کر رہے ہیں اللہ کے ہاں ان کو ان کی اس چالبازی کی پاداش میں ذلت اور عذاب شدید نصیب ہوگا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور جب آپہنچتی ہے ان کے پاس کوئی نشانی، تو یہ کہتے ہیں کہ ہم ہرگز نہ مانیں گے یہاں تک کہ ہمیں بھی وہی کچھ نہ دیا جائے جو کہ دیا گیا اللہ کے رسولوں کو، اللہ خوب جانتا ہے کہ کس سے کام لے اپنی رسال (وپیغمبری) کا، عنقریب ہی پہنچ کر رہے گی مجرموں کو اللہ کے یہاں ایک بڑی ذلت، اور بڑا سخت عذاب ان کی ان مکاریوں کی پاداش میں جن سے وہ کام لیتے رہے،

— مولانا اسحاق مدنی

اور جب انہیں کوئی نشان پہنچتا ہے۔ تو کہتے ہیں ہم ہرگز ایمان نہ لائیں گے جب تک ہم کو بھی وہی نہ ملے جو اللہ کے پیغمبروں کو مل چکا ہے۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ کون اس کی رسالت کا اہل ہے۔ جو لوگ مجرم ہیں ضرور انہیں اللہ کے پاس (پہنچ کر) ذلت نصیب ہوگی اور عذاب سخت (بھی) اس شرارت کی پاداش میں جو وہ کیا کرتے تھے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور جب ان کے پاس (قرآن کی) کوئی آیت آتی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم ہرگز ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ ہمیں بھی وہی چیز نہ دے دی جائے جو اللہ کے (دوسرے) رسولوں کو دی گئی تھی اللہ بہتر جانتا ہے کہ وہ اپنی رسالت کا کام کس سے لے اور کس طرح لے ! عنقریب پہنچے گی ان مجرموں (گنہگاروں) کو بہت ہی ذلت اللہ کے ہاں سے اور سخت عذاب ان کی چال بازیوں کے سبب جو وہ کر رہے ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جب ان کے پاس کوئی نشانی آتی ہے تو کہتے ہیں کہ جس طرح (کی رسالت) اللہ کے پیغمبروں کو ملی ہے جب تک اس طرح (کی رسالت) ہم کو نہ ملے ہم ہرگز ایمان نہ لائیں گے۔ یہ تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ اپنی رسالت کا کام کس سے لے۔ لوگ جرم کرتے ہیں ان کو اللہ کے پاس جلد ہی ذلت اور شدید عذاب ہوگا اس لیے کہ مکاریاں کرتے تھے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Whenever there comes to them a sign from Allah, they say: 'We will not believe until we are given what was given to the Messengers of Allah.' Allah knows best where to place His message. Soon shall these wicked ones meet with humiliation and severe chastigement from Allah for all their evil plotting.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

When a sign comes to them, they say, :We shall never come to believe unless we are given the like of what was given to the messengers of Allah. Allah knows best where to place His message. Those who committed sin shall soon suffer from disgrace before Allah and face severe punishment for the mischief they have been making.

— Muhammad Taqi Usmani

When a sign comes to them, they say, :We shall never come to believe unless we are given the like of what was given to the messengers of Allah. Allah knows best where to place His message. Those who committed sin shall soon suffer from disgrace before Allah and face severe punishment for the mischief they have been making.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And when there comes to them a sign they say: "We shall not believe until we receive the like of that which the Messengers of Allah received." Allah knows best with whom to entrust His Message. Humiliation and disgrace from Allah and a severe torment will overtake the criminals for that which they used to plot.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And when a token cometh unto them, they say: We will not believe till we are given that which Allah's messengers are given. Allah knoweth best with whom to place His message. Humiliation from Allah and heavy punishment will smite the guilty for their scheming.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And when a sign comes to them, they say, "Never will we believe until we are given like that which was given to the messengers of Allah." Allah is most knowing of where He places His message. There will afflict those who committed crimes debasement before Allah and severe punishment for what they used to conspire.

— Saheeh International

When a miracle is shown to them, they say, "We will not believe unless we are shown a miracle like that shown to the messengers of God." God knows best whom to appoint as His Messenger. The sinful ones are worthless in the sight of God and they deserve a severe punishment for their evil plans.

— Muhammad Sarwar

And when a communication comes to them they say: We will not believe till we are given the like of what Allah's apostles are given. Allah best knows where He places His message. There shall befall those who are guilty humiliation from Allah and severe chastisement because of what they planned.

— Muhammad Habib Shakir

And whensoever there cometh unto them a sign, they say: we shall not believe until we are vouchsafed the like of that which is vouchsafed unto the apostles of Allah. Allah knoweth best wheresoever to place His apostleship. Anon shall befall those who have sinned vileness before Allah and severe chastisement for that which they were wont to plot.

— Abdul Majid Daryabadi

When there comes to them a sign (from Allah), They say: "We shall not believe until we receive one (exactly) like those received by Allah's messengers." Allah knoweth best where (and how) to carry out His mission. Soon will the wicked be overtaken by humiliation before Allah, and a severe punishment, for all their plots.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 6:124

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 123–124

بستیوں کے رئیس گمراہ ہوجائیں تو تباہی کی علامت ہوتے ہیں ان آیتوں میں بھی اللہ تعالیٰ اپنے نبی کی تسکین فرماتا ہے اور ساتھ ہی کفار کو ہوشیار کرتا ہے، فرماتا ہے کہ جیسے آپ کی اس بستی میں روسائے کفر موجود ہیں جو دوسروں کو بھی دین برحق سے روکتے ہیں اسی طرح ہر پیغمبر کے زمانے میں اس کی بستی میں کفر کے ستون اور مرکز رہے ہیں لیکن آخر کار و غارت اور تباہ ہوتے ہیں اور نتیجہ ہمیشہ نبیوں کا ہی اچھا رہتا ہے جیسے فرمایا کہ ہر نبی کے دشمن ان کے زمانے کے گنہگار رہے اور آیت میں ہے ہم جب کسی بستی کو تباہ کرنا چاہتے ہیں تو وہاں کے رئیسوں کو کچھ حکم احکام دیتے ہیں جس میں وہ کھلم کھلا ہماری نافرمانی کرتے ہیں پس…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْاَنْعَام 91 یعنی ہم رسولوں کے اس بیان پر ایمان نہیں لائیں گے کہ ان کے پاس فرشتہ آیا اور خدا کا پیغام لایا، بلکہ ہم صرف اسی وقت ایمان لا سکتے ہیں جب کہ فرشتہ خود ہمارے پاس آئے اور براہ راست ہم سے کہے کہ یہ اللہ کا پیغام ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

دوسری آیت میں انہی قریشی سرداروں کی ایک ایسی گفتگو کا ذکر ہے جو حق کے مقابلہ میں محض ہٹ دھرمی اور استہزاء و تمسخر کے انداز میں تھی، پھر اس کا جواب دیا گیا۔ امام بغوی رحمة اللہ علیہ نے بروایت قتادہ نقل کیا ہے کہ قریش کے سب سے بڑے سردار ابوجہل نے ایک مرتبہ کہا کہ بنو عبد مناف (یعنی نبی کریم ﷺ کے خاندان) سے ہم نے ہر محاذ پر مقابلہ کیا، جس میں کبھی ہم ان سے پیچھے نہیں رہے، لیکن اب وہ یوں کہتے ہیں کہ تم شرافت و بزرگی میں ہمارا مقابلہ اس لئے نہیں کرسکتے کہ ہمارے خاندان میں ایک نبی آئے ہیں، جن کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آتی ہے، پھر کہا کہ میں اللہ کی قسم کھاتا ہوں کہ ہم کبھی ان کا اتباع نہ کریں…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

یہ اس چال کی ایک مثال ہے جس کا ذکر اوپر ہوا۔ مطلب یہ ہوا کہ جب ان کے پاس اللہ کی کوئی آیت، عام اس سے کہ وہ کوئی نشانی ہو یا کوئی ہدایت و تنبیہ، آتی تو وہ یہ کہتے کہ ہم تو اس وقت تک ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں جب تک ہمیں بھی وہ رسالت نہ ملے جس کے مدعی یہ رسول لوگ ہیں، آخر ان کو کیا سرخاب کے پر لگے ہوئے تھے کہ انہیں خدا نے اپنا رسول بنایا اور ہمیں نظر انداز کردیا، در آنحالیکہ پشتہا پشت سے قیادت و سیادت اور دولت و امارت ہمارا حصہ ہے ؟ ٹھیک یہی بات، جیسا کہ قرآن میں تفصیل سے بیان ہوئی، قریش کے اکابر کہتے تھے۔ ان کو بھی وہی گھمنڈ تھا جو ان کے پیشرو مستکبرین اور مکذبین انبیاء کو تھا کہ اگر خدا کسی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

124۔ 1 یعنی ان کے پاس بھی فرشتے وحی لے کر آئیں ان کے سروں پر بھی نبوت اور رسالت کا تاج رکھا جائے۔ 124۔ 2 یعنی یہ فیصلہ کرنا کہ کس کو نبی بنایا جائے ؟ یہ تو اللہ ہی کا کام ہے کیونکہ وہی ہر بات کی حکمت و مصلحت کو جانتا ہے اور اسے ہی معلوم ہے کون اس منصب کا اہل ہے ؟ مکہ کا کوئی چوہدری اور رئیس یا جناب عبد اللہ و حضرت آمنہ کا در یتیم۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 124–127

56: یعنی جب تک خود ہم پر ویسی وحی نازل نہیں ہوگی جیسی انبیاء کرام پر نازل ہوتی رہی ہے اور ویسے معجزات ہمیں نہیں دئے جائیں گے جیسے ان کو دئے گئے تھے اس وقت تک ہم ایمان نہیں لائیں گے، خلاصہ یہ ہے کہ ان کا مطالبہ یہ تھا کہ ہم میں سے ہر شخص کو پوری پیغمبری ملنی چاہیے، اسی لئے اللہ تعالیٰ نہ یہ جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ پیغمبری کس کو عطا کی جائے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

(آیت) ” اللّہُ أَعْلَمُ حَیْْثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَہُ سَیُصِیْبُ الَّذِیْنَ أَجْرَمُواْ صَغَارٌ عِندَ اللّہِ وَعَذَابٌ شَدِیْدٌ بِمَا کَانُواْ یَمْکُرُونَ (124) ” اللہ زیادہ بہتر جانتا ہے کہ اپنی پیغامبری کا کام کس سے لے اور کس طرح لے ۔ قریب ہے وہ وقت کہ یہ مجرم اپنی مکاریوں کی پاداش میں اللہ کے ہاں ذلت اور سخت عذاب سے دو چار ہوں گے ۔ “ رسالت ایک نہایت ہی عظیم اور مہتم بالشان منصب ہے ۔ یہ ایک کائناتی معاملہ ہے جس میں ازلی اور ابدی ارادہ الہیہ ایک بندے کے ساتھ جڑ جاتا ہے ۔ عالم بالا اور انسان کی محدود دنیا کے درمیان اتصال ہوجاتا ہے ۔ آسمان اور زمین آپس میں مل جاتے ہیں ‘ دنیا اور آخرت ایک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 ان کی مکاری اور متکبرانہ حیلہ جوئی کی ایک مثال یہ ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) کے صدق کا جب کوئی نشان دیکھتے تو کہتے کہ ہم ان دلائل و نشانات کو نہیں جانتے۔ ہم تو اس وقت یقین کرسکتے ہیں جب ہمارے اوپر فرشتے نازل ہوں اور پیغمبروں کی طرح ہم کو بھی خدا کا پیغام سنائیں یا خود حق تعالیٰ ہی ہمارے سامنے آجائیں۔ " وَقَالَ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُونَ لَقَاءَنَا لَوْلاَ اُنْزَلَ عَلَیْنَا الْمَلٰئِکَۃُ اَوْ نَرٰی رَبَّنَا لَقَدِ اسْتَکْبَرُوْا فِی اَنْفُسِھِمْ وَعَتَوْعُتُوًّا کَبِیْرًا " (فرقان، رکوع 3 ' آیت نمبر 21) خیر یہ تو خدا ہی جانتا ہے کہ کون شخص اس کا اہل ہے کہ منصب پیغامبری پر سرفراز کیا جائے اور…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 124 وَاِذَا جَآءَ تْہُمْ اٰیَۃٌ قَالُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ حَتّٰی نُؤْتٰی مِثْلَ مَآ اُوْتِیَ رُسُلُ اللّٰہِ ط۔ آیات قرآنیہ مختلف انداز سے ان کے سامنے حقائق و رموز پیش کرتی ہیں مگر ان دلائل اور براہین کا تجزیہ کرنے اور انہیں مان لینے کے بجائے یہ لوگ پھر وہی بات دہراتے ہیں کہ جیسے پہلے انبیاء کی قوموں کو معجزے دکھائے گئے تھے ہمیں بھی ویسے ہی معجزات دکھائے جائیں تو تب ہم ایمان لائیں گے۔ اس سلسلے میں حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت کے مطابق جیسے مناسب سمجھا ہر قوم اور امت کے ساتھ معاملہ فرمایا۔ پرانی امتوں کو حسّی معجزے دکھائے گئے تھے ‘ اس لیے کہ وہ نوع انسانیت کا دور طفولیّت تھا۔ جب تک…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

131 رسالت وہبی چیز اور کفار کا مطالبہ رسالت :۔ جیسے مثلاً انشقاق قمر کا معجزہ دیکھا تو کہہ دیا کہ یہ صاف جادو ہے یہ ان کی ہٹ دھرمی کی ایک دلیل ہے اور اب کہہ رہے ہیں کہ رسولوں کی طرح ہم پر فرشتہ نازل ہو اور رسولوں کو جو کتاب و حکمت اور نبوت دی گئی ہے۔ یہ چیزیں جب تک ہمیں میسر نہ ہوں ہم ایمان نہیں لاسکتے حالانکہ وحی کا بار ہر انسان اٹھانے کا متحمل ہی نہیں ہوتا۔ یہ استعداد اللہ تعالیٰ انبیاء کے قلوب میں پیدائش ہی سے رکھ دیتا ہے اور یہ صفت اللہ کا دین اور فضل ہوتی ہے۔ محنت مشقت اور ریاضتوں سے حاصل نہیں ہوسکتی اور یہ بات بھی اللہ ہی جانتا ہے کہ انسانوں میں کون نبوت کا بار اٹھانے کے قابل ہے اور یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

180 ۔ (اور وہ تصدیق نبوت کے لیے بالکل کافی ہوتا ہے) ایۃ کے معنی آیت تکوینی یا معجزہ بالکل ظاہر ہیں۔ بعض نے مراد آیت قرآنی بھی لی ہے۔ 181 ۔ یعنی معجزات مادی یا مرتبہ مخاطبہ الہی۔ فرط جہالت وغباوت سے کافروں کے بعض سرغنہ کہتے تھے کہ ہم تو ایمان جب لائیں گے جب ہم خود مرتبہ نبوت پر فائز کردیئے جائیں۔ اور فرشتوں کو ہم دیکھنے لگیں اور معجزات ہم سے بھی صادر ہونے لگیں۔ قالوا لن نومن حتی نکون انبیاء فنوتی مثل ما اوتی موسیٰ و عیسیٰ من الایات (قرطبی) وقال ابوجھل واللہ لرنرضی بہ ولا نتبعہ ابدا الا ان یاتنا وھی کما یاتیہ (قرطبی) قالوا لن نومن حتی یحصل لنا مثل ھذا المنصب من عند اللہ (کبیر) 182 ۔ یعنی شرف…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 123–127

وکذلک جعلنا فی۔۔۔۔۔۔۔ (الآیۃ) اکابر، اکبر کی جمع ہے مراد کافروں، فاسقوں کے سرغنے ہیں اسلئے کہ یہی انبیاء اور داعیان حق کی مخالفت میں پیش پیش رہتے ہیں، عام اور معمولی درجے کے لوگ ان کے پیچھے لگ لیتے ہیں اسی لئے ان کا بطور خاص ذکر کیا گیا ہے اور ایسے لوگ عام طور پر دنیاوی دولت اور خاندانی وجاہت کے اعتبار سے بھی نمایاں ہوتے ہیں اس لئے مخالفت حق میں بھی ممتاز ہوتے ہیں، ان کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کے پاس بھی فرشتے وحی لے کر آئیں اور ان کے سروں پر تاج نبوت رکھا جائے، حالانکہ یہ فیصلہ کرنا کہ کس کو نبی بنایا جائے ؟ یہ تو اللہ ہی کا کام ہے کیونکہ وہ ہر بات کی حکمت مصلحت کو جانتا ہے اور اسے ہی معلوم ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

واذا جآء تہم ایۃ قالوا لن نومن حتی نوتی مثل ما اوتی رسل اللہ اللہ اعلم حیث یجعل رسالتہ . اور جب ان کو کوئی آیت پہنچتی ہے تو کہتے ہیں ہم ہرگز یقین نہیں کریں گے جب تک ہم کو بھی ایسی ہی چیزنہ دی جائے۔ جیسی اللہ کے رسولوں کو دی گئی ہے جہاں اللہ اپنی پیغمبری رکھتا ہے اس کو وہی خوب جانتا ہے ‘ اللہ اعلم کے جملہ سے یہ ظاہر کرنا مقصود ہے کہ نسب یا مال یا عمر کی وجہ سے نبوت کا استحقاق نہیں ہوتا بلکہ یہ اللہ کا فضل ہے وہی خوب جانتا ہے کہ کون نبوت کا اہل ہے۔ حضرت مجدد الف ثانی نے لکھا ہے کہ تعین نبوت کا مبداء محض صفت الٰہی ہے جس میں پَر تو (اور ظللیت) کی کوئی آمیزش ہی نہیں ہے باقی انسانوں کے (مؤمن کافر…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(124) اور جس وقت ولید بن مغیرہ، عبد یا لیلی، ابی مسعودثقفی کے پاس کوئی آسمانی نشانی ان کے افعال کی خبر دہی کے لیے پہنچتی ہے تو وہ کہتے ہیں ہم اس نشانی پر ہرگز ایمان نہ لائیں گے جب تک کہ جیسا کہ محمد ﷺ کو کتاب دی گئی ہے۔ ہمیں بھی اس طرح کی کتاب نہ دی جائے، اس موقع کو تو اللہ تعالیٰ ہی خوب جانتا ہے کہ کس کو اپنے پیغام کیلئے بطور رسول چنتا ہے اور کہاں بذریعہ جبرائیل امین اس نے وحی بھیجنی ہے (یہ خالص خدائی انتخاب ہوتا ہے) عنقریب یہ مشرکین یعنی ولید اور اس کے ساتھی تکذیب رسل کی وجہ سے ذلیل ورسوا ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَاِذَا جَاۗءَتْهُمْ اٰيَةٌ۔۔ : یعنی ان کفار کے مکر و فریب کا یہ عالم ہے کہ جب بھی ان کے سامنے نبی ﷺ کے صدق کی دلیل کے طور پر کوئی معجزہ ظاہر ہوتا ہے تو کہہ دیتے ہیں کہ جب تک ہم خود اس منصب پر فائز نہ ہوں اور ہمیں یہ معجزہ نہ ملے ہم ایمان نہیں لاسکتے۔ اَللّٰهُ اَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهٗ : یعنی نبوت و رسالت محض وہبی چیز ہے، اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے نبوت کی امانت اس کے سپرد کردیتا ہے اور وہی بہتر جانتا ہے کہ یہ نعمت کسے عطا کرنی ہے، مکہ کے ایک یتیم کو یا مکہ اور طائف کے کسی متکبر سردار کو۔ دیکھیے سورة زخرف (31، 32)۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر : 124 قولہ تعالیٰ : آیت : واذا جآء تھم ایۃ قالوا لن نؤمن اس میں ان کی جہالت کی ایک دوسری جیز بیان فرمائی اور وہ کہ کہ وہ کہنے لگے : ہم ہر گز ایمان نہ لائیں گے یہاں تک کہ ہم انبیاء ہوجائیں اور ہمیں انہیں نشانیوں کی طرح عطا کی جائیں جیسے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو عطا کی گئیں۔ اور اسی کی مثل یہ آیت ہے آیت : بل یرید کل امریء منھم ان یؤتیٰ صحفا منشرہ (المدثر) ( بلکہ ان میں سے ہر شخص چاہتا ہے کہ ان کو کھلے صحیفے دیئے جائیں) ۔ اور جآء تھم میں ضمیر ان اکابر کی طرف لوٹ رہی ہے جن کا ذکر جاری ہے۔ ولید بن مغیرہ (معالم التنزیل، جلد 2، صفحہ 414) نے کہا : اگر نبوت…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

(1) امام ابن منذر اور ابو الشیخ نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت واذا جآء تھم ایۃ قالوا لن نومن حتی نوتی مثل ما اوتی رسل اللہ کے بارے میں فرمایا کہ جب محمد ﷺ ان کو ایسی چیز کی دعوت دیتے جو انہیں اپنی حقانیت کی طرف بلاتی وہ تو آپ کو یہ کہتے اگر یہ دین سچا ہوتا تو ہم میں ایسے لوگ موجود ہیں جو زیادہ حقدار ہیں (اس دین کے) جو محمد ﷺ لے کر آئے اور کہتے لفظ آیت لولا نزل ھذا القران علی رجل من القریتین عظیم (یعنی یہ قرآن ان دو بستیوں کے کسی بڑے آدمی پر کیوں نازل نہیں ہوا) ۔ اماقولہ تعالیٰ : لفظ آیت اللہ اعلم حیث یجعل رسالتہ (2) امام احمد نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَاِذَا [ اور جب بھی ] جَاۗءَتْهُمْ [ آتی ہے ان کے پاس ] اٰيَةٌ [ کوئی نشانی ] قَالُوْا [ تو وہ لوگ کہتے ہیں ] لَنْ نُّؤْمِنَ [ ہم ہرگز ایمان نہیں لائیں گے ] حَتّٰي [ یہاں تک کہ ] نُؤْتٰى [ ہم کو دیا جائے ] مِثْلَ مَآ [ اس کے جیسا جو ] اُوْتِيَ [ دیا گیا ] رُسُلُ اللّٰهِ [ اللہ کے رسولوں کو ] ۂاَللّٰهُ [ اللہ ] اَعْلَمُ [ سب سے زیادہ جاننے والا ہے ] حَيْثُ [ (کہ ) کہاں ] يَجْعَلُ [ وہ بنائے (یعنی رکھے) ] رِسَالَتَهٗ ۭ [ اپنی رسالت کو ] سَيُصِيْبُ [ پہنچے گی ] الَّذِيْنَ [ ان لوگوں کو جنہوں نے ] اَجْرَمُوْا [ جرم کیا ] صَغَارٌ [ ایک ذلت ] عِنْدَ اللّٰهِ [ اللہ کے پاس سے ] وَعَذَابٌ شَدِيْدٌۢ […

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

ولید بن مغیرہ کی اس جہالت کی تردید کہ ہمیں رسالت ملنی چاہئے معالم التنزیل ج 2 ص 128 میں آیت بالا کا سبب نزول یوں لکھا ہے کہ ولید بن مغیرہ نے رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ اگر نبوت واقعی کوئی چیز ہے تو میں تم سے زیادہ اس کا اہل ہوں کیونکہ میری عمر بھی تم سے زیادہ ہے اور میرا مال بھی کثیر ہے اور دوسرا سبب نزول یہ نقل کیا ہے کہ ابو جہل نے کہا کہ بنو عبد مناف نے شرافت کے سلسلے میں ہم سے مقابلہ بازی کی یہاں تک کہ ہم گھوڑ دوڑ کے گھوڑے بن کر رہ گئے۔ اب وہ کہہ رہے ہیں کہ ہم میں ایک نبی ہے جس کی طرف وحی کی جاتی ہے اللہ کی قسم ہم اس مدعی نبوت پر ایمان نہ لائیں گے۔ جب تک ہمارے پاس بھی اسی طرح وحی نہ آجائے جیسی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 122–127

مسلمان اور کافر کی مثال قال اللہ تعالیٰ او من کان میتا فاحییناہ۔۔۔ الی۔۔۔ وھو ولیھم بما کانوا یعملون (ربط) اوپر کی آیت میں اول مشرکین کے مجادلہ اور عناد کا ذکر فرمایا اور پھر مسلمانوں کو اہل جدال اور اہل ضلال کی اتباع سے منع فرمایا اب ان آیات میں مسلمان اور کافر کی مثال بیان فرماتے ہیں تاکہ دونوں میں فرق ظاہر ہوجائے اور معلوم ہوجائے کہ کون لائق اتباع ہے اور کون لائق نفرت ہے۔ وہ مثال یہ ہے کہ جو شخص کفر کے بعد مسلمان ہوا گویا کہ وہ زندہ ہوگیا اور اس کو روشنی مل گئی ایسا شخص قابل اطاعت اور لائق اتباع ہے اور جو شخص کفر پر قائم ہے وہ اندھیروں میں گھرا ہوا ہے اور سرگرداں اور حیران ہے خلاصی کی کوئی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

136 یہ شکوی ہے جب ان کو کوئی معجزہ دکھایا جاتا ہے تو کہتے ہیں ہم اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک ہمیں وہ معجزات نہ دکھائے جائیں جو پہلے رسولوں نے دکھائے تھے۔ اَللہُ اَعْلَمُ الخ جواب شکوی۔ جس طرح اللہ تعالیٰ کو یہ بات معلوم ہے کہ مرتبہ رسالت کی اہلیت کس شخص میں ہے اسی طرح اس کو یہ بھی معلوم ہے کہ کونسا اور کس قسم کا معجزہ کس موقع کے مناسب ہے اور وہ اپنی حکمت بالغہ کے مطابق معجزات کا اظہار فرماتا ہے۔ تمہاری خواہشات کا پابند نہیں۔ حصن حصین میں ہے کہ یہ تمام قبولیت دعاء کا ہے جب تلاوت کنندہ اس آیت پر پہنچے تو اس کے بعد اللہ تعالیٰ سے اپنی کسی حاجت کے لیے دعا مانگے۔ 137 یہ تخویف اخروی ہے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 122–124

گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے شرک کی تردید اور توحید رسالت کا ذکر فرمایا شیاطین کے اغوا سے خبردار کیا ، قرآن پاک کی حقانیت کا تذکرہ ، اکثریت اور اقلیت کا مسئلہ بیان کیا کہ انسانو کی اکثریت محض گمان پر چلتی ہے اور اٹکل پچو باتیں کرتی ہے۔ اس ضمن میں ایک مثال بھی بیان فرمائی کہ مشرک اہل ایمان پر اعتراض کرتے ہیں کہ مؤخر الذکر اپنے ہات کا مارا جانور تو کھالیتے ہیں مگر خدا تعالیٰ کا مارا ہوا حرام سمجھتے ہیں اللہ تعالیٰ نے اس کو محض شیطانی خیال اور غلط قسم کا پراپیگنڈہ قرار دیا اور فرمایا کہ جس جانور پر بوقت ذبح اللہ کا نام لے لیا جائے اس میں برکت اور پاکیزگی پیدا ہوجاتی ہے ، اور جو جانور شرعی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاِذَا جَاۗءَتْہُمْ اٰيَۃٌ قَالُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ حَتّٰي نُؤْتٰى مِثْلَ مَآ اُوْتِيَ رُسُلُ اللہِ۝ 0 ۭ ۘؔ اَللہُ اَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَہٗ۝ 0 ۭ سَيُصِيْبُ الَّذِيْنَ اَجْرَمُوْا صَغَارٌ عِنْدَ اللہِ وَعَذَابٌ شَدِيْدٌۢ بِمَا كَانُوْا يَمْكُرُوْنَ۝ 124 إذا إذا يعبّر به عن کلّ زمان مستقبل، وقد يضمّن معنی الشرط فيجزم به، وذلک في الشعر أكثر، و «إذ» يعبر به عن الزمان الماضي، ولا يجازی به إلا إذا ضمّ إليه «ما» نحو :إذ ما أتيت علی الرّسول فقل له ( اذ ا ) اذ ا ۔ ( ظرف زماں ) زمانہ مستقبل پر دلالت کرتا ہے کبھی جب اس میں شرطیت کا مفہوم پایا جاتا ہے تو فعل مضارع کو جزم دیتا ہے اور یہ عام…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

1 ؎ یعنی وہی معجزات و نبوت جو رسولوں کو عطا ہوئے ہیں جب تک ہم کو نہ ہوں گے ایمان نہ لائیں گے۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

ارشاد فرمایا : وَاِذَا جَآئَتْھُمْ اٰیَۃٌقَالُوْا لَنْ نُّوْمِنَ حَتّٰی نُؤْتٰی مِثْلَ مَآ اُوْتِیَ رُسُلُ اللہِ ط اَﷲُ اَعْلَمُ حَیْثُ یَجْعَلَ رِسَالَتَہٗ ط سَیُصِیْبُ الَّذِیْنَ اَجْرَمُوْا صَغَارٌعِنْدَ اللہِ وَ عَذَابٌشَدِیْدُٗم بِمَا کَانُوْا یَمْکُرُوْنَ ۔ (الانعام : 124) (اور جب ان کے پاس آتی کوئی آیت تو کہتے ہم تو ماننے کے نہیں جب تک ہم کو بھی وہی کچھ نہ ملے جو اللہ کے رسولوں کو ملا اللہ ہی خوب جانتا ہے کہ وہ اپنا منصب رسالت کس کو بخشے جو لوگ شرارت کر رہے ہیں اللہ کے ہاں ان کو ان کی اس چالبازی کی پاداش میں ذلت اور عذاب شدید نصیب ہوگا ) کفار رسالت کا مطالبہ کرتے ہیں مطلب یہ ہے کہ جب…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 123–124

فہم القرآن ربط کلام : جرائم پیشہ لوگ نور توحید کو مٹانے اور بجھانے کے لیے ہمیشہ سرگرم رہے ہیں۔ اس فرمان الٰہی میں نبی کریم ﷺ کو تسلی دینے کے ساتھ اطلاع دی گئی ہے کہ آپ کو گھبرانے اور ڈگمگانے کی ضرورت نہیں یہ تو ہمیشہ سے ہوتا آرہا ہے کہ معاشرے کے سماجی، سیاسی، معاشی اور نام نہاد مذہبی رہنما دعوت حق کی مخالفت اور انبیاء کی مخاصمت میں پیش پیش رہے ہیں۔ جو ملک و قوم کے مفاد کے نام پر مکر و فریب کے جال بنتے ہیں۔ جب انھیں اللہ تعالیٰ کے احکام کو ماننے اور اس کے ارشادات کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کے لیے کہا جاتا تو تکبر، رعونت میں آکر کہتے ہیں کہ ہم اس وقت تک ہرگز نہیں مانیں گے جب تک ہمارے پاس براہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 124: جب ابوجہل نے یہ بات کہی کہ ہم نے بنو عبد مناف کے ساتھ شرف و مرتبہ میں مقابلہ کیا۔ یہاں تک کہ ہم گھوڑ دوڑ کے دو گھوڑوں کی طرح بن گئے۔ اب انہوں نے یہ کہنا شروع کردیا۔ کہ ہم میں ایک پیغمبر ہے جس کی طرف وحی کی جاتی ہے اللہ تعالیٰ کی قسم ہم اس وقت تک راضی نہ ہونگے اور نہ مانیں گے جب تک ہمارے پاس بھی اس طرح وحی آجائے جس طرح ان پر اترتی ہے۔ تو یہ آیت اتری۔ وَاِذَا جَآئَ تْہُمْ یعنی اکابر ٰایَۃٌ معجزہ یا قرآن مجید کی آیت جس میں ان کو ایمان کا حکم دیا گیا۔ احتجاجِ کفار کہ ہمیں بھی نبوت ملنی چاہیے : قَالُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ حَتّٰی نُؤْتٰی مِثْلَ مَآ اُوْتِیَ رُسُلُ اللّٰہِوہ نشانیاں دی جائیں۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

124 (واذا جآء تھم ایۃ قالوا لن نومن حتی نوتی مثل مآ اوتی رسل اللہ یعنی جو رسولوں کو نبوت دی گئی ہے وہ ہمیں دی جائے۔ واذ جاء تھم ایۃ کا نزول کس کے حق میں ہوا اس کا پس منظر یہ ہے کہ ولید بن مغیرہ کہنے لگا کہ اگر نبوت حق ہوتی تو میں اس کا زیادہ حق دار تھا کیونکہ محمد ﷺ سے عمر میں بڑا ہوں اور مال میں زیادہ ہوں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ مقاتل (رح) ہتے ہیں کہ آیت ابوجہل کے بارے میں نازل ہوئی کیونکہ اس نے کہا تھا ہم سے بنو عبد مناف مرتبہ میں مزاحم تھے حتیٰ کہ ہم دونوں ہم مرتبہ تھے اب وہ کہیں گے کہ ہم میں نبی ہے جس کی طرف وحی کی جاتی ہے اللہ کی قسم ہم نہ اس پر ایمان لائیں گے اور نہ اس کی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 123–124

(123 ۔ 124) ۔ معتبر مفسرین سلف مثل مجاہد اور مقاتل نے ان آیتوں کی تفسیر میں لکھا ہے کہ وعید بن مغیرہ اور ابوجہل نے مکہ کے ناکوں اور راستوں پر کئی آدمی اس غرض سے بٹھا رکھے تھے کہ وہ مکہ کے لوگوں سے اور موسم حج میں جو باہر کے لوگ مکہ کو آتے تھے ان سے آنحضرت کی مذمت کریں اور کہیں کہ یہ شخص جادوگر ہے جھوٹا ہے نبی نہیں ہے اور اسی قدر شرارت پر ولید بن مغیرہ نے کفایت نہیں کی بلکہ ایک روز آنحضرت سے آن کر بڑی بحث کی اور کہا کہ اگر نبوت سچی چیز ہوتی تو مجھ کو ہونی چاہئے تھی کہ محمد ﷺ سے عمر میں بڑا ہوں اور مالدار بھی ہوں اور عرب میں میرا کہنا سننا بھی زیادہ ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرما کر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 122–124

آیت 122 (او من کان) ” بھلا ایک شخص جو کہ تھا “ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ کے ہدایت عطا کرنے سے پہلے (میتاً ) (” مردہ “ یعنی کفر، جہالت اور گناہوں کی تاریکیوں میں ڈوبا ہوا (فاحیینہ) ” پھر ہم نے اس کو زندہ کیا۔ “ پھر ہم نے اسے علم، ایمان اور اطاعت کی روشنی کے ذریعے سے زندہ کردیا اور وہ اس روشنی میں لوگوں کے درمیان چلتا پھرتا ہو، اپنے امور میں بصیرت سے بہرہ ور ہو، اپنے راستے کو جانتا ہو، بھلائی کی معرفت رکھتا ہو، اسے ترجیح دیتا ہو، اپنے آپ پر اور دوسروں پر اس کے نفاذ کی کوشش کرتا ہو، جو برئای کی معرفت رکھتا ہو، اسے ناپسند کرتا ہو اور اسے ترک کرنے کی کوشش کرتا ہو اور خود اپنی ذات سے اور دوسروں سے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 121–135

ذبیحہ پر ترک تسمیہ اور اقوال فقہاء قول باری ہے ( ولا تاکلوا مما لم یذکر اسم اللہ علیہ وانہ لفسق اور جس جانور کو اللہ کا نام لے کر ذبح نہ کیا گیا ہو اس کا گوشت نہ کھائو، ایسا کرنا فسق ہے) آیت میں اسے جانور کا گوشت کھانے کی ممانعت ہے جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو۔ اس بارے میں فقہا کے مابین اختلاف رائے ہے۔ ہمارے اصحاب ، امام مالک اور حسن بن صالح کا قول ہے کہ اگر مسلمان ذبح کرتے وقت جان بوجھ کر بسم اللہ نہ پڑھے تو اس کا گوشت نہیں کھایا جائے گا اگر بھول کر بسم اللہ چھوڑ دے تو اس کا گوشت کھالیا جائے گا۔ امام شافعی کا قول ہے کہ دونوں صورتوں میں گوشت کھالیا جائے گا۔ اوزاعی سے بھی اسی قسم کا قول…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 123–124

240 ایک اور سنت کونیہ اور دستور خداوندی کا بیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اسی طرح ہم نے مقرر کردیے ہر بستی میں وہاں کے بڑے مجرم تاکہ وہ وہاں پر اپنے مکر و فریب کی کارروائیاں کریں۔ یعنی ان کو اس کی چھوٹ دی گئی۔ سو ہر بستی میں بڑے مجرموں کا پایا جانا قدرت کا ایک اور دستور اور سنت کونیہ ہے۔ پس ہر بستی میں بڑے مجرموں کا پایا جانا قدرت کا ایک قدیم دستور اور اس کی سنت ہے جو اس کائنات میں کارفرما ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان مجرموں کو ہم نے ڈھیل دئیے رکھی تاکہ اس سے ایک طرف تو ان کا پیمانہ جرم لبریز ہوتا رہے اور دوسری طرف اہل حق کی ابتلاء و آزمائش کے تقاضے بھی تکمیل پذیر ہوں۔ ان کے درجات بلند ہوں…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 123–125

کفار کے مکر، رسالت کی تعریف اور انشراح صدر تشریح : جو لوگ دنیا میں کھو جاتے ہیں وہ نہ صرف یہ کہ خود ہی غلط راستوں پر چلتے ہیں بلکہ اپنے رعب داب اور مال و دولت کے زور پر دوسروں کو بھی گناہ کی طرف مائل کرتے ہیں اور اس طرح کے لوگ ہرگز یہ نہیں سوچتے کہ یہ جو کچھ وہ کر رہے ہیں خود اپنے لیے ہی وبال اکٹھا کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے بندے کو اختیار تو دیا ہے مگر ہدایت کے لیے پیغمبر ان کے پاس بھیجے جاتے ہیں تو وہ بجائے ہدایت پر غور کرنے کے الٹا حجت بازی کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم تو کچھ نہیں مانتے اور نہ مانیں گے جب تک خود ہمیں رسالت نہ دی جائے۔ یہ ناسمجھ لوگ اتنا بھی نہیں سوچتے کہ رسالت کے لیے تو اللہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 123–130

رکوع نمبر 15 ۔ آیات 123 ۔ تا ۔ 130 ۔ اسرار و معارف : اور کافر و مشرک تو مردہ ہیں جن کے مقابل مومن کی مثال ایسی ہے جیسے مردوں میں زندہ۔ قرآن حکیم جو ارشاد فرماتا ہے وہ شاعرانہ تعلی نہیں ہوتی بلکہ عین حق ہوتا ہے اسے محض مثال نہ سمجھا جائے زندگی اس صلاحیت سے عبارت ہے جو مقصد تخلیق کو حاصل کرنے کے لیے کسی بھی چیز میں پایا جاتا ہے اسی اصول کے تحت ہر شے اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں مصروف ہے خواہ وہ آسمانی مخلوق ہے یا زمینی سورج چاند ستاروں سے لے کر ہوا بادل پانی مٹی نباتات اور حیوانات وغیرہ ان میں سے جو چیز اپنی صفت کھو بیٹھے وہ مردہ ہی شمار ہوگی جیسے سورج روشنی سے محروم ہوجائے یا کوئی جانور اپنے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 3 یعنی ان کفار کے مکرو فریب کا یہ عالم ہے کہ جب بھی نے کے سامنے آنحضرت ﷺ کی صداقت کا معجزہ ظاہر ہوتا ہے تو کہہ دیتے ہیں کہ جب تک ہم خود اس منصب پر فائز نہ ہوں ایمان نہیں لاسکتے (رازی)4 یعنی نبوت و رسالت محض وہی چیز ہے۔ اللہ تعالیٰ جس کو پسند کرتا ہے اسے نبوت کی امانت سپرد کردیتا ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(6:124) جاء تھم میں ہم ضمیر جمع مذکر غائب اکابر مکہ کی طرف راجع ہے (یہ اکابر کفار قریش تھے) ۔ سیصیب۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ اصابۃ (افعال) سے مصدر ۔ پہنچے گا۔ اجرموا۔ انہوں نے جرم کیا۔ اجرام (افعال) سے ماضی جمع مذکر غائب۔ صغار۔ ذلت۔ خواری۔ صغر یصغر (کرم یکرم) کا مصدر ہے۔ جس کے معنی ذلیل ہونے کے ہیں۔ یہاں بطور اسم بمعنی ذلت خواری مستعمل ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

لغات القرآن : آیت نمبر 124 : حتی نئوتی ( جب تک ( ہمیں ) نہ دیا جائے) حیث یجعل ( جیسے وہ ڈالتا ہے۔ جیسے وہ بناتا ہے) ‘ رسلتہ (اپنا پیغام) صغار ( ذلت۔ رسوائی) ۔ تشریح : آیت نمبر 124 : حضرت قتادہ ؓ سے منقول ہے کہ بنو مخزوم کے سردار ابو جہل نے ایک بار کہا کہ بنو عبد مناف (یعنی نبی کریم ﷺ کے خاندان) سے ہم کسی محاذ میں پیچھے نہیں رہے۔ لیکن اب وہ یوں کہتے ہیں کہ تم اب شرافت و بزرگی میں ہمارا مقابلہ یوں نہیں کرسکتے کہ ہمارے خاندان میں ایک نبی آگیا ہے جس پر وحی الٰہی آتی ہے۔ اس نے کہا جب تک ہمارے پاس بھی وحی نہ آجاء اور ہم بھی نبوت میں برابر نہ ہوجائیں اس وقت تک ہم کسی بات کو نہ مانیں گے۔ ایک اور جگہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 123–124

شان نزول : جس کا مطلب یہ ہے کہ ابوجہل نے مکہ مکرمہ کے ناکوں اور راستوں پر کئی آدمی اس غرض سے بٹھارکھے تھے کہ وہ مکہ کے لوگوں سے اور موسم حج میں جو باہر کے لوگ مکہ میں آتے تھے ان سے آنحضرت ﷺ کی مذمت کریں۔ اور ایک روز حضرت سے آکر بڑی بحث کی، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرما کر دو مطلب بیان فرمائے۔ ایک تو آحضرت ﷺ کی تسلی اور تدکین فرمائی کہ ہر نبی کے ساتھ ہر بستی میں بھی اسی طرح شریر لوگ ہم نے پیدا کئے ہیں تاکہ ان کی شرارت پر کمزوری کے زمانہ تک نبی وقت کو صبر کرنے سے اجر ملے، اور شریر و سرکش لوگ غارت ہوجاویں اور ان کا غارت ہونا اور لوگوں کو باعث عبرت ہو اور لوگ دین الٰہی کی طرف رجوع ہوں۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 123–125

[48] قرآن کا اسلوب بیان یہ ہے کہ دنیا میں اللہ کے ٹھہرائے ہوئے قوانین کے مطابق جو نتائج پیدا ہوتے ہیں وہ انہیں براہ راست اللہ کی طرف نسبت دیتا ہے کیونکہ قوانین اللہ ہی کے ٹھہرائے ہوئے ہیں۔ رہا اللہ کا کسی شخص کے بارے میں چاہنا تو اس سے مراد اللہ کا اپنے علم ِ کامل کی بنیاد پر مومن اور کافر دونوں کو ان کے پسند کئے ہوئے راستہ پر چلنے کی سہولت دینا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 123–124

(ف 1) اکابر نے ہمیشہ مخالفت کی ہے کیونکہ ان کی کبر پسندی اور غرور کو ایمان کی سادگی اور مسکنت سے کوئی تناسب نہیں ، باوجود اس کے کہ اسلام زندگی ہے اور نور ہے پھر بھی قوم کے بڑے بڑے لوگ ابتداء محروم ہی رہے ۔ مکہ کے بڑے بڑے سرداروں نے اسلام کی مخالفت میں کیا کیا نہیں کیا ، آپ کے کام میں کیا کیا مشکلات پیدا نہیں کیں ، مگر بالآخر ان کو معلوم ہوگیا ، کہ ہماری تمام کوششیں رائیگاں گئی ہیں ، اس آیت میں اسی حقیقت کی جانب اشارہ ہے ۔ معیار رسالت : انکار کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ وہ ظاہری عظمت اور برتری کو معیار قرار دیتے تھے ہر فضیلت روحانی کا ان کا خیال یہ تھا کہ ثبوت کا استحقاق ہمیں حاصل ہے ، کیونکہ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-124 اور جب ان رئوسا وفاق کو کوئی نشانی اور کوئی آیت پہنچتی ہے تو کہتے ہیں ہم توحید و رسالت پر اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک ہم کو بھی ویسی ہی چیز نہ ملے جس قسم کی چیز اللہ کے رسولوں کو م لتی رہی ہے۔ یعنی نبوت کتاب صحیفے اللہ تعالیٰ ہی اس موقع پر اور محل کو خوب جانتا ہے جہاں وہ اپنا پیغام بھیجے ، عنقریب ان لوگوں کو جنہوں نے یہ گستاخانہ جرم کیا ہے خدا کے ہاں ان کو سخت ذلت و رسوائی پہنچے گی اور ان حیلہ سازیوں کی پاداش میں جو یہ کیا کرتے تھے سخت عذاب ہوگا۔ یعنی یہ مطالبہ کہ جب تک ہم کو نبوت نہ ملے گی ہم ہرگز ایمان نہ لائیں گے یہ کتنی بڑی گستاخی اور جرأت ہے نبوت بھی کوئی ایسی چیز ہے کہ جس…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 4۔ اس قول کا جرم عظیم ہونا ظاہر ہے کہ تکذیب اور عناد اور استکبار اور گستاخی سب کا جامع ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جب ان کے پاس کوئی نشانی آتی ہے تو وہ بضد ہوتے ہیں : 191: غور کیجئے کہ کتنے انبیائے کرام (علیہ السلام) آئے اور ان کے مخالفین و معاندین کے پاس دنیا کی فراوانیاں اور مال و دولت کے انبار تھے لیکن کسی نبی نے یہ ضد نہ کی کہ جب تک ہمیں اتنا مال نہ مل جائے آخر ہم ان کو یہ دعوت کیوں پہنچائیں ، کیوں ؟ اس لئے کہ ان سب کو یہ معلوم تھا کہ دنیا کمانے کے وہ طریقے جو دنیا کمانے کے لئے ضروری ہیں ہمارے پاس موجود نہیں تو ہم یہ ضد آخرکیوں کریں۔ لیکن انبیاء کرام کے مخالفین نے ہمیشہ یہ سوال اٹھایا کہ یہ نبوت ہمیں کیوں نہیں ملتی جو ہمارے اس نبی کو مل گئی ہے ہم اس کے اہل کیوں نہیں تھے جب ہم میں سے کتنے ہیں جو عمر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

In the second verse (124), mentioned there is a conversation relating to the same chiefs of the Quraysh. What they said was a combination of verbal belligerence, sarcasm and mockery. It was answered. Imam al-Baghawi reports from Sayyidna Qatadah that Abu Jahl, the big chief of the tribe of Quraysh once said: We have confronted Banu ` Abd Munaf (that is, the family of the Holy Prophet ﷺ) on every front and we have never been behind them. But, now they say: ` you cannot match us in nobility and spiritual greatness because we have a prophet in our family who receives revelation from Allah Ta`…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

91. This shows that they were unwilling to believe in the statement of the Prophets that an angel of God came to each of them and delivered the message of God. They would believe, they said, only if the angel approached them directly and intimated God's message to them.

Read the full tafseer →