نذر نیاز
ابن عباس فرماتے ہیں جاہلیت میں یہ بھی رواج تھا کہ جن چوپایوں کو وہ اپنے معبودان باطل کے نام کردیتے تھے ان کا دودھ صرف مرد پیتے تھے جب انہیں بچہ ہوتا تو اگر نر ہوتا تو صرف مرد ہی کھاتے اگر مادہ ہوتا تو اسے ذبح ہی نہ کرتے اور اگر پیٹ ہی سے مردہ نکلتا تو مرد عورت سب کھاتے اللہ نے اس فعل سے بھی روکا۔ شعبی کا قول ہے کہ بحیرہ کا دودھ صرف مرد پیتے اور اگر وہ مرجاتا تو گوشت مرد عورت سب کھاتے۔ ان کی ان جھوٹی باتوں کا بدلہ اللہ انہیں دے گا کیونکہ یہ سب ان کا جھوٹ اللہ پر باندھا ہوا تھا، فلاح و نجات اسی لئے ان سے دور کردی گئی تھی۔ یہ اپنی مرضی سے کسی کو حلال کسی کو حرام کرلیتے تھے پھر اسے رب کی…
Read the full tafseer →سورة الْاَنْعَام 114
اہل عرب کے ہاں نذروں اور منتوں کے جانوروں کے متعلق جو خود ساختہ شریعت بنی ہوئی تھی اس کی ایک دفعہ یہ بھی تھی کہ ان جانوروں کے پیٹ سے جو بچہ پیدا ہو اس کا گوشت صرف مرد کھا سکتے ہیں، عورتوں کے لیے ان کا کھانا جائز نہیں۔ لیکن اگر وہ بچہ مردہ ہو یا مرجائے تو اس کا گوشت کھانے میں مرد و عورت سب شریک ہو سکتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 137–140
ربط آیات
پچھلی آیتوں میں مشرکین کے عقائد باطلہ شرکیہ کفریہ کا بیان تھا، ان آیات میں ان کی عملی غلطیوں اور جاہلانہ رسموں کا ذکر ہے، جن رسوم جاہلیت کا ذکر ان آیات میں آیا ہے وہ یہ ہیں، اول غلہ اور پھل میں سے کچھ حصہ اللہ کے نام کا نکالتے ہیں اور کچھ بتوں اور جنّات کے نام کا، پھر اگر اتفاق سے اللہ کے حصہ میں سے کچھ بتوں کے حصہ میں مل جاتا تو اس کو اسی طرح ملا رہنے دیتے تھے، اور معاملہ برعکس ہوتا تو اس کو نکال کر پھر بتوں کے حصہ کو پورا کردیتے تھے اور بہانہ یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ تو غنی ہے اس کا حصہ کم ہوجانے سے اس کا کوئی ضرر نہیں، اور شرکاء محتاج ہیں، ان کا حصہ نہ گھٹنا چاہئے، اس رسم بد کا بیان…
Read the full tafseer →وَقَالُوْا مَا فِيْ بُطُوْنِ هٰذِهِ الْاَنْعَامِ خَالِصَةٌ لِّذُكُوْرِنَا وَمُحَرَّمٌ عَلٰٓي اَزْوَاجِنَا ۚ وَاِنْ يَّكُنْ مَّيْتَةً فَهُمْ فِيْهِ شُرَكَاۗءُ۔ یہ بھی انہی خانہ ساز فتو وں کے قسم کی ایک بات ہے۔ بعض چوپایوں کے پیٹ سے پیدا ہونے والے بچوں کے متعلق مشرکانہ توہمات کے تحت ان کا فتوی یہ تھا کہ مردوں کے لیے ان کا کھانا جائز ہے، عورتوں کے لیے ناجائز۔ ہاں اگر بچہ مردہ پیدا ہو تو اس کے کھانے میں مرد عورت دونوں شریک ہوسکتے ہیں۔ فرمایا کہ سیجزیہم وصفہم انہ حکیم علیم۔ یہ جو من مانے فتوے دیے جا رہے ہیں اللہ ان کو عنقریب اس کا بدلہ دے گا۔ اس کے علم و حکمت کے یہ بات منافی ہے کہ وہ ان لوگوں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–140
139۔ 1 یہ ایک اور شکل ہے کہ جو جانور وہ اپنے بتوں کے نام وقف کرتے، ان میں سے بعض کے بارے میں کہتے کہ ان کا دودھ اور ان کے پیٹ سے پیدا ہونے زندہ بچہ صرف ہمارے مردوں کے لیے حلال ہے، عورتوں کے لیے حرام ہے ہاں اگر بچہ مردہ پیدا ہوتا تو پھر اس کے کھانے میں مرد و عورت برابر ہیں۔
139۔ 2 اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ جو غلط بیانی کرتے ہیں اور اللہ پر افترا باندھتے ہیں، ان پر اللہ تعالیٰ انہیں سزا دے گا۔ وہ اپنے فیصلوں میں حکیم ہے اور اپنے بندوں کے بارے میں پوری طرح علم رکھنے والا ہے اور اپنے علم اور حکمت کے مطابق وہ جزا اور سزا کا اہتمام فرمائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–140
71: یعنی بچہ اگر زندہ پیدا ہوجائے تو صرف مردوں کے لیے حلال ہوگا، عورتوں کے لیے حرام، لیکن مردہ پیدا ہو تو مردوں عورتوں دونوں کے لیے حلال
Read the full tafseer →آیت ” نمبر 139۔
اس شرک اور بت پرستی سے جو ادہام پیدا ہوئے تھے ‘ انکے اندر یہ لوگ اس قدر آگے بڑھ گئے تھے کہ انہوں نے حلال و حرام کے تعین کا کام بھی اللہ کے بجائے انسانوں کے سپرد کردیا تھا اور دعوی یہ کرتے تھے کہ یہ انسان جو قانون سازی کر رہے ہیں وہی اللہ کی شریعت ہے ۔ چناچہ خرافات کی دنیا میں وہ اس مقام تک آپہنچے کہ کہنے لگے کہ ان جانوروں کے پیٹ میں جو کچھ ہے وہ مردوں کے لئے ہے یا شاید یہ بات وہ مذکورہ بالا بحریہ ‘ سائبہ اور وصیلہ وغیرہ کے حق میں کہتے تھے کہ عورتوں کے لئے اس کا کھانا حرام ہے ۔ ہاں ایک صورت ہے کہ اگر یہ جانور مردہ حالت میں پیدا ہو تو عورتیں بھی ان سے کھاسکتی ہیں اور یہ کیوں ؟…
Read the full tafseer →2 ایک مسئلہ یہ بنا رکھا تھا کہ بحیرہ اور سائبہ کہ اگر ذبح کیا اور اس کے پیٹ میں سے زندہ بچہ نکلا تو اسے مرد کھائیں اور عورتیں نہ کھائیں اور مردہ نکلے تو سب کھا سکتے ہیں۔ اس طرح کے بےسند مسئلے گھڑنے والوں کے جرائم سے خدا بیخبر نہیں۔ ہاں وہ اپنی حکمت کے موافق مناسب وقت میں ان کو مناسب سزا دے گا۔
Read the full tafseer →آیت 139 وَقَالُوْا مَا فِیْ بُطُوْنِ ہٰذِہِ الْاَنْعَامِ خَالِصَۃٌ لِّذُکُوْرِنَا وَمُحَرَّمٌ عَلٰٓی اَزْوَاجِنَا ج۔
یعنی کسی حاملہ مادہ جانور اونٹنی یا بکری وغیرہ کے پیٹ میں جو بچہ ہے اس کا گوشت صرف مردوں کے لیے ہوگا ‘ عورتوں کے لیے اس کا کھانا جائز نہیں ہے۔
وَاِنْ یَّکُنْ مَّیْتَۃً فَہُمْ فِیْہِ شُرَکَآءُط سَیَجْزِیْہِمْ وَصْفَہُمْط اِنَّہٗ حَکِیْمٌ عَلِیْمٌ ۔
ان ساری رسموں اور خود ساختہ عقائد کے بارے میں وہ دعویٰ کرتے تھے کہ یہ ہماری شریعت ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام سے چلی آرہی ہے اور ہمارے آباء واجداد بھی اسی پر عمل کرتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 138–139
148 مشرکوں کی اپنی وضع کردہ شریعت :۔ ان مشرکوں کی مشرکانہ رسوم کی فہرست بڑی طویل ہے۔ ان کے بزرگوں نے آہستہ آہستہ پوری شریعت ہی وضع کر ڈالی تھی جن میں سے چند مزید امور کا اللہ تعالیٰ نے اس آیت اور اس سے اگلی آیت میں ذکر فرمایا ہے اور وہ یہ ہیں۔
(1) ان مشرکوں کے ہاں یہ دستور تھا کہ جس کھیتی یا مویشی کے متعلق وہ یہ منت مان لیتے کہ وہ فلاں بت یا فلاں دربار یا فلاں سیدہ کے لیے مخصوص ہے تو ایسی نیاز کو ہر ایک نہیں کھا سکتا تھا بلکہ اس کے متعلق بھی انہوں نے ایک فہرست بنا رکھی تھی۔ کہ فلاں قسم کی نذر ہو تو اسے فلاں فلاں لوگ کھا سکتے ہیں اور فلاں قسم کی ہو تو فلاں فلاں۔
(2) جن مویشیوں کو بتوں یا…
Read the full tafseer →208 ۔ منجملہ اور وہم پرستیوں کے ایک ضعیف الاعتقادی یہ بھی پھیلی ہوئی تھی کہ فلاں فلاں چوپایوں کے شکم کے اندر کی چیزوں سے نفع اٹھانا صرف مردوں کے لیے جائز ہے اور عورتوں کے لیے ناجائز۔ (آیت) ” ما فی بطون “۔ اس کے تحت میں دودھ بھی آگیا۔ اور بچہ بھی، ائمہ تفسیر سے دونوں معنی منقول ہیں۔ قال ابن عباس ھو اللبن وقیل الاجنۃ (قرطبی) قال مجاھد والسدی یعنی بھا الاجنۃ وقال غیرھم ارادبھا الالبان والاجنۃ جمیعا (جصاص) (آیت) ” خالصۃ “۔ کی ۃ ائمہ نحو سے منقول ہے کہ لفظ کے معنی میں مبالغہ اور قوت پیدا کرنے کے لیے ہے جیسے علام سے علامہ نساب سے نسابہ۔ والھاء فی خالصۃ للمبالغۃ فی الخلوص و مثلہ رجل علامۃ ونسابۃ عن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 136–140
وَجَعَلوا للہ مما۔۔۔۔ نصیباً ۔ اس آیت میں مشرکوں کے اس عقیدہ و عمل کا ایک نمونہ پیش کیا گیا ہے جو انہوں نے اپنے طور پر گھڑ رکھا تھا کہ وہ زمینی پیداوار اور مال مویشیوں میں سے کچھ حصہ اللہ کیلئے اور کچھ حصہ خود ساختہ معبودوں کے لئے مقرر کرلیتے تھے، اللہ کے حصہ کو مہمانوں محتاجوں اور صلہ رحمی پر خرچ کرتے تھے اور بتوں کے حصہ کو بتوں کے مجاوروں اور ان کی ضروریات پر خرچ کرتے تھے، پھر اگر بتوں کے حصہ میں توقع کے مطابق پیداوار نہ ہوتی تو اللہ کے حصہ میں سے نکال کر بتوں کے حصہ میں شامل کرلیتے اور اگر اس کے برعکس معاملہ ہوتا تو بتوں کے حصہ میں سے نہ نکالتے اور کہہ دیتے کہ اللہ تو غنی ہے۔
Read the full tafseer →وقالوا ما فی بطون ہذہ الانعام خالصۃ لذکورنا و محرم علی ازواجنا وان یکن میتۃ فہم فیہ شرکآء ہ . اور وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ جو بچے ان چوپایوں کے پیٹ کے اندر سے نکلتے ہیں
وہ (اگر زندہ نکلیں تو) ہمارے مردوں کے لئے خالص ہیں اور عورتوں کے لئے حرام اور اگر مردہ نکلیں تو سب مرد عورتیں اس میں شریک ہیں (سب کے لئے حلال ہیں) یعنی بحیرہ اور سائبہ کے پیٹ کے اندر کے بچے اگر زندہ برآمد ہوں تو صرف مردوں کے لئے حلال ہیں عورتوں کے لئے حرام اور اگر مردہ برآمد ہوں تو مرد عورتیں سب اس کو کھا سکتے ہیں۔ ہذہ الانعام : سے مراد ہیں بحیرہ اور سائبہ۔ خالصۃً : بمعنی خالص جس میں کوئی آمیزش نہ ہو اس لفظ میں آخری تاء تاکید یا…
Read the full tafseer →(139) اور کہتے ہیں کہ بحیرہ اور وصیلہ کے پیٹ میں سے جو کچھ نکلے وہ صرف مردوں کے لیے حلال ہے اور عورتوں پر حرام ہے، اور اگر وہ بچہ مردہ جنے یا جننے کے بعع مرجائے تو پھر اس کے کھانے میں مرد و عورت سب برابر شریک ہیں۔ بہت جلد اللہ تعالیٰ ان کو ان کی تجویز کی سزا دیتا ہے یا یہ کہ عمرو بن لحی نے جو تجویز ان کے لیے کی ہے اس کو رسول اکرم ﷺ نے جہنم میں اس طرح دیکھا کہ لکڑیوں کا اپنے پیچھے ایک گھٹہ رکھے ہوئے گھسیٹ رہا ہے یہ مشرک ان کے سامنے یہ تجاویز پیش کیا کرتا تھا، اللہ تعالیٰ حکیم ہے، اس نے تمہارے لیے تمہارے حلال کردہ کو حلال کیا ہے اور وہ شخص ان لغویات کے غلط ہونے سے آگاہ ہے۔
Read the full tafseer →وَقَالُوْا مَا فِيْ بُطُوْنِ هٰذِهِ الْاَنْعَامِ۔۔ : یہ ایک اور شکل تھی کہ جو جانور وہ اپنے بتوں کے نام پر وقف کرتے، ان میں سے بعض کے بارے میں کہتے کہ ان کا دودھ اور ان کے پیٹ سے پیدا ہونے والا زندہ بچہ صرف ہمارے مردوں کے لیے حلال ہے، عورتوں کے لیے حرام ہے، ہاں اگر بچہ مردہ پیدا ہو تو پھر مرد اور عورت اس کے کھانے میں برابر کے شریک ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ ان کی ان غلط بیانیوں پر عنقریب انھیں بدلہ دے گا اور اپنی کامل حکمت اور علم کے مطابق دے گا۔
Read the full tafseer →آیت نمبر 139
قولہ تعالیٰ : آیت : وقالوا ما فی بطون ھذہ الانعام خالصۃ لذکورنا یہ ان کی جہالت کی ایک اور نوع ہے۔
حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : وہ دودھ ہے۔ اسے انہوں نے مردوں کے لیے حلال قرار دیا اور عورتوں پر حرام قرار دیا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد ان کے پیٹوں میں موجود بچے ہیں۔ انہوں نے کہا : بلاشبہ وہ ہم مردوں کے لیے ہیں۔ پھر اگر ان میں سے کوئی مرگیا تو اسے مرد اور عورتیں سبھی کھا سکیں گے۔ اور خالصۃ میں ھا خلوص میں اظہار مبالغہ کے لیے ( یعنی وہ خالصۃ مردوں کے لیے ہیں) ۔ اور اسی کی مثل رجل علامۃ ونسابۃ ہے (2) (یعنی ان کے آخر میں تا مبالغہ کے لیے ہے) یہ کسائی اور اخفش سے مروی ہے۔ اور خالصۃ…
Read the full tafseer →(1) امام فریابی، ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت وقالوا مافی بطون ھذہ الانعام خالصۃ لذکورنا سے دودھ مراد ہے۔
(2) امام ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت وقالوا ما فی بطون ھذہ الانعام خالصۃ لذکورنا سے سائبہ اور بحیرہ مراد ہے اور لفظ آیت و محرم علی ازواجنا یعنی عورتوں پر (حرام ہے) لفظ آیت سیجزیھم وصفھم یعنی اس بارے میں ان کی جھوٹی بات پر (اللہ تعالیٰ اس کو سزا دیں گے)
(3) امام عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے…
Read the full tafseer →وَقَالُوْا [ اور وہ لوگ کہتے ہیں ] مَا [ وہ جو ] فِيْ بُطُوْنِ هٰذِهِ الْاَنْعَامِ [ ان مویشیوں کے پیٹوں میں ہے ] خَالِصَةٌ [ خاص ہے ] لِّذُكُوْرِنَا [ ہمارے مردوں کے لئے ] وَمُحَرَّمٌ [ اور حرام کیا ہوا ہے ] عَلٰٓي اَزْوَاجِنَا ۚ [ ہماری بیویوں پر ] وَاِنْ [ اور اگر ] يَّكُنْ [ وہ ہو ] مَّيْتَةً [ مردہ ] فَهُمْ [ تو وہ (سب) ] فِيْهِ [ اس میں ] شُرَكَاۗءُ ۭ [ شریک ہیں ] سَيَجْزِيْهِمْ [ وہ بدلہ دے گا ان کو ] وَصْفَهُمْ ۭ [ ان کی صفت بیان کرنے کا ] اِنَّهٗ [ یقینا وہ ] حَكِيْمٌ [ حکمت والا ہے ] عَلِيْمٌ [ جاننے والا ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 137–139
مشرکین کا اپنی اولاد کو قتل کرنا اور کھیتیوں اور جانوروں کے بارے میں اپنی طرف سے تحریم اور تحلیل کے قواعد بنانا
اس دنیا میں ہادی عالم رحمتہ للعالمین ﷺ کے تشریف لانے سے پہلے پوری دنیا جہالت، ضلالت، سفاہت، کفر و شرک سے بھری ہوئی تھی۔ عرب کے لوگ مشرک بھی تھے اور جاہل بھی، ان میں جہالت اور جاہلیت دونوں پوری طرح جگہ پکڑے ہوئی تھی طرح طرح کی شرکیہ رسمیں نکال رکھی تھیں۔
جانوروں اور ان کے بچوں اور کھیتیوں کے بارے میں طرح طرح کے افعال قبیحہ میں مبتلا تھے اور یہ افعال اور رسوم انہیں شیاطین الجن اور شیاطین الانس نے سجھا رکھی تھیں جن میں بعض کا ذکر (فَلَیُبَتِّکُنَّ اٰذَانَ الْاَنْعَامِ ) میں اور بعض کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 136–140
ابطال رسوم جاہلیت
قال اللہ تعالیٰ وجعلوا للہ مما ذرا من الحرث والانعام۔۔۔ الے۔۔۔ وما کانو مھتدین
(ربط) گذشتہ آیات میں مشرکین کی اعتقادی جہالتوں کا بیان تھا اب ان آیات میں ان کی بعض عملی جہالتوں یعنی ان کی بعض جاہلانہ رسموں اور عادتوں کو بیان کرتے ہیں وہ رسمیں یہ ہیں۔
رسم اول : اور من جملہ ان کی ہزاروں جہالتوں کے ایک جہالت یہ تھی کہ انہوں نے اللہ کی پیدا کی ہوئی کھیتی اور مویشی میں سے ایک حصہ بطور نیاز اللہ کے لیے مقرر کیا۔ یعنی مشرکین عرب میں ایک رسم یہ تھی کہ اپنی کھیتی اور مویشی میں سے ایک حصہ بطور نیاز کے خدا کے نام کا نکالتے اور ایک حصہ اپنے بتوں کے نام کا نکالتے اللہ کا حصہ مہمانوں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 138–139
152 یہ تحریمات غیر اللہ کا دوسری بار ذکر ہے۔ یہاں باقی ماندہ صورتوں میں سے چار کا ذکر ہے۔ 1 ۔ ھٰذِہٖ اَنْعَامٌ وَّ حَرْثٌ حِجْرٌالخ۔ کچھ چوپایوں اور کھیتوں کو وہ اپنے معبودوں کے لیے مقرر کردیتے تھے اور کہتے تھے انہیں کوئی نہیں کھا سکتا۔ 2 ۔ وَ اَنْعَامٌ حُرِّمَتْ ظُھُوْرُھَا۔ بعض نام زد کرتے تھے ذبح کے وقت ان پر اللہ کا نام نہیں لیتے تھے۔ 3 ۔ وَ اَنْعَامٌ لَّا یَذْکُرُوْنَ اسْمَ اللہِ عَلَیْھَا۔ جن چوپایوں کو وہ غیر اللہ کے لیے نامزد کرتے تھے ذبح کے وقت ان پر اللہ کا نام نہیں لیتے تھے۔ 4 ۔ وَ قَالُوْا مَافِیْ بُطُوْنِ ھٰذِہٖ الاَْنْعَامِ خَالِصَۃٌ لِّذُکُوْرِنَا الخ۔ بحائر وسوائب کے بارے میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 138–140
گذشتہ آیات کی طرح یہ آیات بھی شرک ہی سے متعلق ہیں ان آیات میں بھی عملی شرک ہی کا بیان ہے۔ مشرکین عرب نے جو رسومات باطلہ ایجاد کر رکھی تھیں اللہ تعالیٰ نے ان کا رد فرمایا ہے ، وہ لوگ دو طرح کے نذر و نیاز دیتے تھے ، ایک اللہ کے نام پر اور دوسری معبودان باطلہ کے نام پر اور پھر اللہ کے حصے کی زیادہ پرواہ نہیں کرتے تھے مگر غیر اللہ کی نذر کے لیے خاص اہتمام کرتے تھے اور اس پر کسی قسم کی کمی نہیں آنے دیتے تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ قتل اولاد کا ذکر بھی ہوچکا ہے۔ کہ وہ لوگ اولاد کو مختلف حیلوں سے قتل کردیتے تھے۔ کبھی ننگ و ناموس کے نام پر اور کبھی معاشی تنگدستی کے پیش نظر گر سب سے بڑی قباحت یہ تھی کہ وہ…
Read the full tafseer →وَقَالُوْا مَا فِيْ بُطُوْنِ ہٰذِہِ الْاَنْعَامِ خَالِصَۃٌ لِّذُكُوْرِنَا وَمُحَرَّمٌ عَلٰٓي اَزْوَاجِنَا 0 ۚ وَاِنْ يَّكُنْ مَّيْتَۃً فَہُمْ فِيْہِ شُرَكَاۗءُ 0 ۭ سَيَجْزِيْہِمْ وَصْفَہُمْ 0 ۭ اِنَّہٗ حَكِيْمٌ عَلِيْمٌ 139
بطن
أصل البَطْن الجارحة، وجمعه بُطُون، قال تعالی: وَإِذْ أَنْتُمْ أَجِنَّةٌ فِي بُطُونِ أُمَّهاتِكُمْ [ النجم/ 32] ، وقد بَطَنْتُهُ : أصبت بطنه، والبَطْن : خلاف الظّهر في كلّ شيء، ويقال للجهة السفلی: بَطْنٌ ، وللجهة العلیا : ظهر، وبه شبّه بطن الأمر وبطن الوادي، والبطن من العرب اعتبارا بأنّهم کشخص واحد، وأنّ كلّ قبیلة منهم کعضو بطن وفخذ وكاهل، وعلی هذا الاعتبار قال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–140
2 ؎ ذبح کے وقت گابھن چارپوں کے پیٹ کے بچے پر کہا کرتے تھے۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 138–140
ارشاد ہوتا ہے :
وَقَالُوْا ھٰذِہٖٓ اَنْعَامٌ وَّ حَرْثٌ حِجْرٌ ق صلے لَّا یَطْعَمُھَآ اِلَّا مَنْ نَّشَآئُ بِزَعْمِھِمْ وَ اَنْعَامٌ حُرِّمَتْ ظُھُوْرُھَا وَ اَنْعَامٌ لَّا یَذکُرُوْنَ اسْمَ اللہِ عَلَیْھَا افْتِرَآئً عََلَیْہِ ط سَیَجْزِیْھِمْ بِمَا کَانُوْا یَفْتَرُوْنَ ۔ وَ قَالُوْا مَا فِی بُطُوْنِ ھٰذِہِ الْاَنْعَامِ خَالِصَۃٌ لِّذُکُوْرِنَا وَ مُحَرَّمٌ عَلٰٓی اَزْوَاجِنَا ج وَاِنْ یَّکُنْ مَّیْتَۃً فَھُمْ فِیْہِ شُرَکَآئُ ط سَیَجْزِیْھِمْ وَصْفَھُمْ ط اِنَّہٗ حَکِیْمٌ عَلِیْمٌ۔ قَدْخَسِرَ الَّذِیْنَ قَتَلُوْٓا اَوْلَادَھُمْ سَفَھًام بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ حَرَّمُوْا مَا رَزَقَھُمُ اللہ ُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 138–140
فہم القرآن
ربط کلام : مشرکوں کے شرک و رسومات کی مزید تفصیلات
زمانۂ جاہلیت میں کفار اور مشرکین نے اپنے مویشیوں اور کھیتیوں کو چار اقسام میں تقسیم کر رکھا تھا۔
1۔ غیر اللہ کے نام پر مخصوص کیے ہوئے مویشی اور کھیت جنہیں مجاورین کی اجازت کے بغیر کوئی استعمال نہیں کرسکتا تھا۔
2۔ جو جانور غیر اللہ اور آستانوں کے لیے وقف کیے جاتے ان پر سواری کرنا بھی ان کے ہاں جائز نہیں تھا۔
3۔ غیر اللہ کے نام پر وقف کیے ہوئے جانوروں کو ذبح کرتے وقت ان پر اللہ کا نام نہیں لیتے تھے۔
4۔ وقف کی ہوئی اونٹنی، گائے، بکری کا دودھ پینامردوں کے لیے جائز اور عورتوں کے لیے حرام تھا اسی طرح ان جانوروں سے جو بچہ پیدا ہوتا اس کا…
Read the full tafseer →ایجاد کردہ مصنوعی شرائط :
آیت 139: وَقَالُوْا مَا فِیْ بُطُوْنِ ہٰذِہِ الْاَنْعَامِ خَالِصَۃٌ لِّذُکُوْرِنَا وَ مُحَرَّمٌ عَلٰٓی اَزْوَاجِنَا وہ بحائر اور سوائب کے بچوں کے متعلق کہا کرتے تھے جو زندہ پیدا ہو وہ مرد کھائیں عورتیں نہ کھائیں اور جو مردہ پیدا ہو اس میں مرد و عورتیں شریک ہوتے۔ : خالصۃٌ کا لفظ مؤنث ہے حالانکہ وہ ماؔ کی خبر ہے۔ معنی کا لحاظ کر کے ایسا کہا گیا کیونکہ ماؔ یہ اجنۃ کے معنی میں ہے۔ لفظ کا لحاظ کرتے ہوئے محرم کو مذکر لائے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ خالصۃ کی تاء نسابۃ کی طرح مبالغہ کیلئے ہے۔ وَاِنْ یَّکُنْ مَّیْتَۃً یعنی اگر وہ بچہ جو اسکے پیٹ میں ہو مردہ ہو : قراءت : ابوبکر وان…
Read the full tafseer →139 (وقالوا ما فی بطون ھذہ الانعام خالصۃ لذکورنا و محرم علی ازوجنا) ہماری عورتوں پر ابن عباس ؓ قتادہ اور شعبی رحمہہما اللہ فرماتے ہیں کہ اس سے مراد بحیرہ اور سائبہ کے بچے ہیں کہ جو بچہ زندہ پیدا ہوتا وہ صرف مردوں کے لئے ہوتا عورتیں نہ کھا سکتیں اور جو مردہ پیدا ہوتا اس کو مرد و عورت سب کھاتے۔ (الخالصۃ) میں ھاء تاکید کے لئے ہے جیسے ” عامۃ، علامۃ ، نشابۃ “ میں اور فراء (رح) فرماتے ہیں کہ یہ تانیث کی ہے اور کسائی (رح) فرماتے ہیں کہ خلاص اور خالصتہ ایک ہیں جیسے وعظ و موعظتہ۔
وان یکن میتۃ ابن عامر اور ابو جعفر رحمہما اللہ نے ” تکن “ تاء کے ساتھ ” میتۃ “ پیش کے ساتھ پڑھا ہے۔ فعل کو تانیت کی علامت…
Read the full tafseer →اوپر کے سلسلہ کے موافق مشرکین مکہ کی یہ ایک اور نادانی ہے۔ اوپر گذر چکا ہے کہ جس اونٹنی کے پانچ جھول بچوں کے پیدا ہو چکتے تھے اس کے کان چیر کر بتوں کے نام پر اس کو یہ لوگ چھوڑ دیتے تھے اور اس کا نام انہوں نے بحیرہ رکھا تھا اسی طرح کسی مراد کی نذر میں جو اونٹنی بتوں کے نام پر چھوڑی جاتی ہے اس کو سَائِبَہْ کہتے تھے۔ اب ان لوگوں نے اس رسم میں یہ ایک اور شاخ نکالی تھی کہ بحیرہ اور سائبہ کے پیٹ سے اگر کوئی جیتا بچہ پیدا ہوجاوے تو اس کو انہوں نے عورتوں پر حرام ٹھہرا رکھا تھا اور اگر مردہ بچہ پیدا ہو تو اس کو عورت مرد مل کر کھاتے تھے اوپر کی نادانیوں کی طرح اس نادانی کو بھی یہ لوگ اللہ کا حکم جانتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 136–140
آیت 136
اللہ تعالیٰ رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کرنے والے مشرکین کی بیوقوفی، کم عقلی اور انتہا کو پہنچی ہوئی جہالت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے۔ چناچہ ان کی متعدد خرافات کا ذکر کیا ہے تاکہ وہ ان کی گمراہی پر متنبہ کر کے اہل ایمان کو ان سے بچائے اور ان بیوقوفوں کا اس حق کی مخالفت کرنا، جسے انبیا و رسل لے کر مبعوث ہوئے ہیں، حق میں نقص کا باعث نہیں۔ کیونکہ وہ حق کا مقابلہ کرنے کی اہلیت ہی نہیں رکھتے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی جہالت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا (وجعلو اللہ مما ذرا من الحرث والانعام نصیباً ) ” اور (یہ لوگ) اللہ ہی کی پیدا کی ہوئی چیزوں یعنی کھیتی اور چوپایوں میں اللہ کا بھی ایک حصہ مقرر کرتے ہیں۔ “…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 138–140
قول باری ہے ( وقالوا ھذہ انعام وحدث حجر۔ کہتے ہیں یہ جانور اور یہ کھیت محفوظ ہیں) ضحاک کا قول ہے کہ حرث سے وہ کھیتی مراد ہے جسے وہ بتوں کے لیے وقف کردیتے تھے۔ پہلی آیت میں مذکورہ انعام سے وہ جانور مراد ہیں جنہیں کھیتی کی طرح بتوں کے نام پر وقف کردیتے تھے تا کہ ان بتوں کی دیکھ بھال کرنے والے مہنتوں اور خدمت گاروں کے اخراجات ان سے پورے کیے جاسکیں۔ ایک قول ہے ان انعام سے وہ جانور مراد ہیں جو ان بتوں پر قربان کرنے کے لیے پیش کیے جاتے تھے۔ دوسری آیت میں مذکورہ انعام سے سائبہ، وصیلہ اور حامی مراد ہیں حسن اور مجاہد کا یہی قول ہے ( ان جانوروں پر مفصل نوٹ پچھلے صفحات میں گزر چکا ہے۔ ) تیسری دفعہ…
Read the full tafseer →269 مشرکین مکہ کی ایک اور خودساختہ تحریم کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ ان جانوروں کے پیٹوں میں جو کچھ ہے وہ مردوں کے لئے حلال ہے اور عورتوں کے لئے حرام۔ یعنی " بحیرہ "، " سائبہ " وغیرہ کے پیٹوں میں۔ (محاسن، خازن وغیرہ) ۔ اور مشرکین مکہ وغیرہ کے اس قدیم مرض کے جراثیم آج بھی یہاں اور وہاں جگہ جگہ اور طرح طرح سے ملیں گے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف مشرکین مکہ نے محض اپنی افتراء پردازی سے اس طرح کے جانوروں کو ازخود بغیر کسی سند و دلیل کے حرام قرار دے رکھا تھا۔ حالانکہ تحلیل و تحریم اللہ وحدہٗ لاشریک ہی کا حق ہے جو کہ سب کا خالق ومالک اور مختار کل ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 138–140
مشرکوں کی غلط رسمیں
تشریح : جیسا کہ پچھلی آیات میں ان کی بےہودہ رسموں کا ذکر کیا گیا ہے ان آیات میں ان کو دہرایا گیا ہے۔ ایک بہت بری رسم جاہل عربوں میں یہ بھی تھی کہ اگر ان کے گھر لڑکی پیدا ہوتی تو اس کو زندہ دفن کردیتے۔ یہ سوچتے ہوئے کہ جب اس کی شادی ہوگی یہ کسی کی بیوی بن جائے گی تو ہماری عزت اور غیرت ختم ہوجائے گی اور کبھی غربت کے ڈر سے مار دیتے کہ اس کو کیسے پالیں گے۔ یہ گناہ عظیم وہ کرتے اور اللہ کی دی ہوئی حلال چیزوں کو خود ہی حرام ٹھہراتے اور حرام کو حلال بنا دیتے اور پھر کہتے کہ یہ سب کچھ ہم اللہ کے حکم سے کرتے ہیں۔ ایک تو گناہ کرتے اور پھر اللہ پر جھوٹا بہتان بھی لگاتے۔ کیونکہ اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 131–141
رکوع نمبر 16 ۔ آیات 131 ۔ تا۔ 141:
اسرار و معارف :
میدان حشر میں تو کفار جنات ہوں یا انسان دونوں سے براہ راست سوال ہوگا کہ کیا تمہارے پاس میرے رسول نہیں پہنچے تھے اور تمہیں روز حشر کی جوابدہی کی بروقت اطلاع نہیں کردی تھی تو بغیر اقرار گناہ کسی کو چارہ نہ ہوگا خود کہہ اٹھیں گے کہ ہم اپنے قصور کا اعتراف کرتے ہیں اگر کفار جھٹلانے کی کوشش کریں گے تو انبیاء کی شہادت اور امت محمدیہ کی شہادت کفار کو لاجواب کردے گی انسانوں کی بات تو واجح ہے مگر جنات کے بارے مفسرین کرام نے یہ بحث فرمائی ہے کہ کیا ان میں نبوت تھی ؟ اس پر تو سب کا اتفاق ہے کہ آدم (علیہ السلام) کے دنیا میں تشریف لانے کے بعد کوئی جن نبی…
Read the full tafseer →ف 1 پنی بیٹیوں کو زندہ درگور کرنا جائز جانتے تھے یہ رسم عموما بنی ربعیہ اور مضر میں تھی۔ ؟ ( قرطبی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–140
(6:139) ھذہ۔ (متذکرہ بالا آیت 138) یا وہ جانور جو سائبہ اور بحیرہ کہلاتے تھے جس کے لئے ملاحظہ ہو 5:103 ۔
فھم۔ میں ضمیر جمع مذکر غائب۔ تو مرد اور عورتیں سب (اس میں شریک ہوسکتے ہیں) ۔
سیجزیہم۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ ھم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب وہ (اللہ) ان کو (ان کی مشرکانہ کرتوتوں کی) جزا دے گا۔ بدلہ دے گا۔ وصفہم۔ مصدر ۔ مضاف۔ ہم مضاف الیہ۔ ان کے بیان کی۔ ای وصفہم الکذب علی اللہ ان کا جھوٹا اور بےبنیاد بیان اللہ کے خلاف۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 137–140
لغات القرآن : آیت نمبر 137 تا 140 :
لیردو (تاکہ وہ برباد کریں) لیلبسوا ( تاکہ وہ ایک دوسرے میں گڈ مڈ کردیں) حجر ( ممنوع ہے) لایطعم ( نہیں کھاتا) حرمت (حرام کردی گئی) بطون ( بطن) پیٹ ‘ خالصۃ ( خالص۔ محض) لذکورنا (ہمارے مردوں کے لئے ہے) محرم ( حرام کردیا گیا) ازواجنا ( ہماری بیوں ( پر حرام ہے) ۔ میتۃ (مردار) وصفھم (ان کی باتیں بنانا) سفھا (بےوقوفی۔ نادانی)
تشریح : آیت نمبر 137 تا 140 :
انسانوں میں جو چالاک طبقہ ہے وہ بلامحنت امیر اور امیر تر بننے کے لئے پنڈت ‘ پروہت ‘ پادری ‘ مجاور ‘ آستانہ دار اور تکیہ دار بن جاتا ہے۔ وہ بتوں کو ‘ صلیبوں کو ‘ قبروں کو اور خلوتوں کو تقدس کا رنگ دے کر اپنی آمدنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 138–139
مشرکین کچھ جانوروں کو اور کچھ کھیتی کے حصہ کو بتوں کے نام ٹھہرا کر عورتوں پر اس کو حرام کردیتے تھے کہ فقط بتوں کے پجاری اور مرد کام میں لاویں۔ اسی طرح بتوں کے نام کے جانور آزاد کردیتے تھے اور سواری تک نہیں لیتے تھے، کہ حرام ہے۔ ان سب باتوں کو دین ابراہیمی مشہور کرتے تھے۔ اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے یہ دیا کہ ان لوگون کا یہ جھوٹ ہے کہ یہ باتیں دین ابراہیمی کے موافق ہیں۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ان کے اس جھوٹ کی سزا دیوے گا۔
بحیرہ اور سائبہ وہ جانور جو کان چیر کر بتوں کے نام پر آزاد کردیئے جاتے ہیں۔ ان میں سے اگر کسی کے جیتا بچہ پیدا ہو تو وہ عورتوں پر حرام ٹھہرا رکھا تھا اور مردہ بچہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 137–141
[50] یعنی جب فصل کاٹی جائے تو اس کی زکوٰۃ ادا کرو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 139–140
صنمیات قریش :
(ف 1) ان آیات میں قریش کی صنمیات کا تذکرہ ہے یعنی وہ کن کن چیزوں کو حرمت وعزت کی نگاہ سے دیکھتے ، اور کن کن چیزوں کو تقدیس کا درجہ دیتے ،
بعض کھیت بتوں کے لئے مخصوص ہوتے بعض چراگاہوں کو ناقابل استعمال ٹھہراتے ، پھر اس طرح مال مویشیوں کی بھی ان کے ہاں تقسیم تھی ، بعض مقدس سمجھے جاتے اور چراگاہوں میں آزاد چھوڑ دیئے جاتے ، ان پر سوار ہونا ، یا بوجھ لادنا ممنوع قرار دیا جاتا ، پھر پہلے سے یہ بھی طے کرلیتے کہ اگر اس قسم کی مادہ سے بچہ پیدا ہوا ، تو وہ مردوں کے لئے حلال ہے ، عورتوں کے لئے حرام ، اور اگر بچہ مردہ پیدا ہو تو دونوں شریک رہیں ، یہ اور اس قسم کی بیسوں باتیں محض جہالت اور…
Read the full tafseer →-139 اور وہ مشرکین مکہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ان مواشی کے پیٹ میں جو کچھ ہے خواہ دودھ ہو یا بچہ وہ خالص ہمارے مردوں کے لئے ہے اور ہماری عورتوں پر اس کا کھانا حرام ہے اور اگر وہ پیٹ کا بچہ مرا ہوا ہو اور مردہ نکلے تو اس کے کھانے میں سب مرد و عورت برابر کے شریک ہیں یعنی مردہ بچہ ہو تو مردوں کی خصوصیت ختم ہوجاتی ہے اور عورتیں بھی کھا سکتی ہیں خدا تعالیٰ عنقریب ان کو ان کی غلط بیانیوں کی سزا دے گا وہ بڑی حکمت والا اور بڑے علم کا مالک ہے۔
Read the full tafseer →ف 4۔ مثلا دودھ یا بچہ۔
5۔ بحیرہ اور سائبہ کے ذبح کے وقت جو بچہ پیٹ میں سے نکلتا اگر وہ زندہ ہوتا تو اس کو ذبح کرلیتے اور مردوں کے لیے حلال اور عورتوں کے لیے حرام سمجھتے اور اگر وہ مردہ ہوتا تو سب کے لیے حلال سمجھتے اسی طرح بعض انعام کے دودھ کو بھی مردوں کے لیے حلال اور عورتوں کے لیے حرام سمجھتے تھے۔
6۔ اب تک جو سز انہیں ملی تو وجہ یہ ہے کہ بلاشبہ اللہ حکمت والا ہے اس نے بعض حکمتوں سے مہلت دے رکھی ہے اور ابھی سزانہ دینے سے کوئی یہ نہ سمجھے کہ اس کو خبر نہیں کیونکہ وہ بڑا علم والا ہے اس کو سب خبر ہے۔
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کی حلت و حرمت میں ان کی دخل اندازی کی ایک عام مثال :
214: ان مشرکین کی من جملہ جہالتوں میں سے ایک مروجہ جہالت یہ بھی تھی کہ بعض مادہ جانوروں کے متعلق ان کا خیال تھا کہ ان کے پیٹ میں جو دودھ یا بچہ ہے اس کا استعمال ہمارے مردوں کے لئے حلال اور عورتوں کے لئے حرام ہے اور اگر اس مادہ جانور کے شکم سے مروہ بچہ پیدا ہوا تو وہ مردوں اور عورتوں کے لئے حلال ہے۔ کیوں ؟ اس لئے کہ وہ مردہ جانوروں کو بڑے شوق سے کھاتے تھے اور نبی کریم ﷺ پر پھبتیاں کستے تھے کہ اس آدمی کا نعوذ باللہ دماغ خراب ہے کہ جس جانور کو اللہ مارتا ہے اس کو حرام کہتا ہے اور جس جانور کو خود قتل کرلیتا ہے یعنی ذبح کرلیتا ہے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 137–141
Linkage of Verses
Described in the previous verses were false beliefs of the mushriks of Arabia while the present verses recount their practical errors and ignorant customs. The customs of Jahiliyyah mentioned in these verses are: (1) They took out a portion in the name of Allah from grains and fruits, and some in the name of idols and Jinns. Then, if by chance, some part of what belonged to the portion of Allah got mixed up with the portion reserved for idols, they would let it stay mixed as it was. When the position was the reverse of it, they would take it out and make the portion set for…
Read the full tafseer →114. One of the provisions of this self-contrived religious code of the Arabs was that the flesh of the young, born of the animals consecrated as offerings to the deities, might be eaten by males but not by females. Persons of both sexes were allowed to eat its flesh if it had died either a natural death or was dead at birth.
Read the full tafseer →