Al-An'aam 6:121

Al-An'aam · from ayah 121

6:121

وَلَا تَاْكُلُوْا مِمَّا لَمْ یُذْكَرِ اسْمُ اللّٰهِ عَلَیْهِ وَاِنَّهٗ لَفِسْقٌ ؕ— وَاِنَّ الشَّیٰطِیْنَ لَیُوْحُوْنَ اِلٰۤی اَوْلِیٰٓـِٕهِمْ لِیُجَادِلُوْكُمْ ۚ— وَاِنْ اَطَعْتُمُوْهُمْ اِنَّكُمْ لَمُشْرِكُوْنَ ۟۠وَلَا تَاۡكُلُوۡا مِمَّا لَمۡ يُذۡكَرِ اسۡمُ اللّٰهِ عَلَيۡهِ وَاِنَّهٗ لَفِسۡقٌ ؕ وَاِنَّ الشَّيٰطِيۡنَ لَيُوۡحُوۡنَ اِلٰٓى اَوۡلِيٰٓـئِـهِمۡ لِيُجَادِلُوۡكُمۡ‌ ۚ وَاِنۡ اَطَعۡتُمُوۡهُمۡ اِنَّكُمۡ لَمُشۡرِكُوۡنَ

اور جس چیز پر خدا کا نام نہ لیا جائے اسے مت کھاؤ کہ اس کا کھانا گناہ ہے اور شیطان (لوگ) اپنے رفیقوں کے دلوں میں یہ بات ڈالتے ہیں کہ تم سے جھگڑا کریں اور اگر تم لوگ ان کے کہے پر چلے تو بےشک تم بھی مشرک ہوئے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And do not eat of that upon which the name of Allah has not been mentioned, for indeed, it is grave disobedience. And indeed do the devils inspire their allies [among men] to dispute with you. And if you were to obey them, indeed, you would be associators [of others with Him].

— Saheeh International

Juz 8 · Ruku 14 of surah · Ruku 1 of juzع

Read the whole surah · Surah Al-An'aam

All translations of 6:121

اور جس جانور کو اللہ کا نام لے کر ذبح نہ کیا گیا ہو اس کا گوشت نہ کھاؤ، ایسا کرنا فسق ہے شیاطین اپنے ساتھیوں کے دلوں میں شکوک و اعتراضات القا کرتے ہیں تاکہ وہ تم سے جھگڑا کریں لیکن اگر تم نے اُن کی اطاعت قبول کر لی تو یقیناً تم مشرک ہو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جس چیز پر خدا کا نام نہ لیا جائے اسے مت کھاؤ کہ اس کا کھانا گناہ ہے اور شیطان (لوگ) اپنے رفیقوں کے دلوں میں یہ بات ڈالتے ہیں کہ تم سے جھگڑا کریں اور اگر تم لوگ ان کے کہے پر چلے تو بےشک تم بھی مشرک ہوئے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور ایسے جانوروں میں سے مت کھاؤ جن پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو اور یہ کام نافرمانی کا ہے اور یقیناً شیاطین اپنے دوستوں کے دل میں ڈالتے ہیں تاکہ یہ تم سے جدال کریں اور اگر تم ان لوگوں کی اطاعت کرنے لگو تو یقیناً تم مشرک ہوجاؤ گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور جس جانور پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو، اس میں سے مت کھاؤ، اور ایسا کرنا سخت گناہ ہے۔ (مسلمانو) شیاطین اپنے دوستوں کو ورغلاتے رہتے ہیں تاکہ وہ تم سے بحث کریں۔ اور اگر تم نے ان کی بات مان لی تو تم یقینا مشرک ہوجاؤ گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور اُسے نہ کھاؤ جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا اور وہ بیشک حکم عدولی ہے، اور بیشک شیطان اپنے دوستوں کے دلوں میں ڈالتے ہیں کہ تم سے جھگڑیں اور اگر تم ان کا کہنا مانو تو اس وقت تم مشرک ہو

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور تم اس (جانور کے گوشت) سے نہ کھایا کرو جس پر (ذبح کے وقت) اﷲ کا نام نہ لیا گیا ہو اور بیشک وہ (گوشت کھانا) گناہ ہے، اور بیشک شیاطین اپنے دوستوں کے دلوں میں (وسوسے) ڈالتے رہتے ہیں تاکہ وہ تم سے جھگڑا کریں اور اگر تم ان کے کہنے پر چل پڑے (تو) تم بھی مشرک ہو جاؤ گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور اس میں سے مت کھاؤ جس پر اللہ کا نام نہیں لیا گیا اور بلاشبہ یہ یقینا سرا سر نافرمانی ہے اور بیشک شیطان اپنے دوستوں کے دلوں میں ضرور باتیں ڈالتے ہیں، تاکہ وہ تم سے جھگڑا کریں اور اگر تم نے ان کا کہنا مان لیا تو بلاشبہ تم یقینا مشرک ہو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور جس چیز پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو، اسے مت کھاؤ کیونکہ یہ گناہ کی بات ہے۔ بلاشبہ شیطان تو اپنے دوستوں کے دلوں میں (شکوک و اعتراضات) القاء کرتے رہتے ہیں تاکہ وہ تم سے جھگڑتے رہیں اور اگر تم نے ان کی بات مان لی تو تم بھی مشرک ہی ہوئے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور تم نہ کھاؤ ان چیزوں میں سے جن پر خدا کا نام نہ لیا گیا ہو، بیشک یہ حکم عدولی ہے اور شیاطین القا کر رہے ہیں اپنے ایجنٹوں کو تاکہ وہ تم سے جھگڑیں اور اگر تم ان کا کہا مانوگے، تم بھی مشرک ہوجاؤ گے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور مت کھاؤ تم لوگ ان چیزوں میں سے جن پر نام نہیں لیا گیا اللہ کا، اور بیشک قطعی طور پر گناہ ہے اور شیطان تو رہ رہ کر اپنے دوستوں کے دلوں میں ڈالتے ہیں (طرح طرح کی حجت بازیاں) تاکہ وہ تم لوگوں سے جھگڑا کریں اور اگر تم نے ان کی بات مان لی تو یقیناً تم بھی مشرک ہوجاؤ گے،

— مولانا اسحاق مدنی

اور اس (جانور) میں سے مت کھاؤ جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو بیشک یہ بےحکمی ہے اور بیشک شیاطین اپنے دوستوں کو پٹی پڑھا رہے ہیں تاکہ وہ تم سے حجت کریں اور اگر تم ان کا کہا ماننے لگو تو یقیناً تم (بھی) مشرک ہوجاؤ گے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور مت کھاؤ اس میں سے جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو اور یقیناً یہ (اس کا کھانا) گناہ ہے اور یقیناً یہ شیاطین اپنے ساتھیوں کو وحی کرتے رہتے ہیں تاکہ وہ تم سے جھگڑا کریں اور اگر تم ان کا کہنا مانو گے تو تم بھی مشرک ہوجاؤ گے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جس چیز پر اللہ کا نام نہ لیا جائے اسے مت کھائو کہ وہ (اس کا کھانا) گناہ ہے اور شیطان لوگ اپنے دوستوں کے دلوں میں یہ بات ڈالتے ہیں کہ تم سے جھگڑا کریں اور اگر تم لوگ ان کے کہے پر چلے تو بیشک تم بھی مشرک ہو گے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Do not eat of (the animal) over which the name of Allah has not been pronounced (at the time of its slaughtering), for that is a transgression. And behold, the evil ones do inspire doubts and objections into the hearts of their friends so that they dispute with you; but if you obey them, you will surely yourselves turn into those who associate others with Allah in His divinity.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Do not eat that (meat) over which the name of Allah has not been pronounced. This is surely a sin. The satans inspire their friends to dispute with you. If you were to obey them, you would be Mushriks.

— Muhammad Taqi Usmani

Do not eat that (meat) over which the name of Allah has not been pronounced. This is surely a sin. The satans inspire their friends to dispute with you. If you were to obey them, you would be Mushriks.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Eat not of that on which Allah's Name has not been pronounced, for surely it is disobedience. And certainly, the Shayatin do inspire their friends to dispute with you, and if you obey them, then you would indeed be polytheists.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And eat not of that whereon Allah's name hath not been mentioned, for lo! it is abomination. Lo! the devils do inspire their minions to dispute with you. But if ye obey them, ye will be in truth idolaters.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And do not eat of that upon which the name of Allah has not been mentioned, for indeed, it is grave disobedience. And indeed do the devils inspire their allies [among men] to dispute with you. And if you were to obey them, indeed, you would be associators [of others with Him].

— Saheeh International

Do not eat the flesh of an animal which has been slaughtered without a mention of the Name of God; it is a sinful deed. Satan teaches his friends to argue with you. If you obey them, you will certainly be idol worshippers.

— Muhammad Sarwar

And do not eat of that on which Allah's name has not been mentioned, and that is most surely a transgression; and most surely the Shaitans suggest to their friends that they should contend with you; and if you obey them, you shall most surely be polytheists.

— Muhammad Habib Shakir

And eat not of that whereon the name of Allah hath not been pronounced; for verily that is a departure. Verily the Satans are ever inspiring their friends that they may wrangle with you; and were ye to obey them, verily ye shall become associaters indeed.

— Abdul Majid Daryabadi

Eat not of (meats) on which Allah's name hath not been pronounced: That would be impiety. But the evil ones ever inspire their friends to contend with you if ye were to obey them, ye would indeed be Pagans.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 6:121

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

سدھائے ہوئے کتوں کا شکار یہی آیت ہے جس سے بعض علماء نے یہ سمجھا ہے کہ گو کسی مسلمان نے ہی ذبح کیا ہو لیکن اگر بوقت ذبح اللہ کا نام نہیں لیا تو اس ذبیحہ کا کھانا حرام ہے، اس بارے میں علماء کے تین قول ہیں ایک تو وہی جو مذکور ہوا، خواہ جان بوجھ کر اللہ کا نام نہ لیا ہو یا بھول کر، اس کی دلیل آیت (فَكُلُوْا مِمَّآ اَمْسَكْنَ عَلَيْكُمْ وَاذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلَيْهِ ۠ وَاتَّقُوا اللّٰهَ ۭاِنَّ اللّٰهَ سَرِيْعُ الْحِسَابِ) 5۔ المائدہ :4) ہے یعنی جس شکار کو تمہارے شکاری کتے روک رکھیں تم اسے کھالو اور اللہ کا نام اس پر لو، اس آیت میں اسی کی تاکید کی اور فرمایا کہ یہ کھلی نافرمانی ہے یعنی اس کا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْاَنْعَام 86 حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی روایت ہے کہ علمائے یہود جہلائے عرب کو نبی ﷺ پر اعتراض کرنے کے جو سوالات سکھایا کرتے تھے ان میں سے ایک یہ بھی تھا کہ ”آخر کیا معاملہ ہے کہ جسے خدا مارے وہ تو حرام ہو اور جسے ہم ماریں وہ حلال ہو جائے“۔ یہ ایک ادنٰی سا نمونہ ہے اس ٹیڑھی ذہنیت کا جو ان نام نہاد اہل کتاب میں پائی جاتی تھی۔ وہ اس قسم کے سوالات گھڑ گھڑ کر پیش کرتے تھے تاکہ عوام کے دلوں میں شبہات ڈالیں اور انہیں حق سے لڑنے کے لیے ہتھیار فراہم کر کے دیں۔ سورة الْاَنْعَام 87 یعنی ایک طرف اللہ کی خداوندی کا اقرار کرنا اور دوسری طرف اللہ سے پھرے ہوئے لوگوں کے احکام پر چلنا اور ان کے مقرر کیے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 118–121

ربط آیات اوپر وَاِن تَطِع کے الفاظ میں اہل اضلال کے اتباع سے مطلقاً منع فرمایا تھا آگے باقتضائے ایک واقعہ کے ایک خاص امر میں اتباع کرنے سے منع فرماتے ہیں، وہ خاص واقعہ مذبوح وغیر مذبوح کی حلت کا ہے، واقعہ یہ ہے کہ کفار نے مسلمانوں کو شبہ ڈالنا چاہا کہ اللہ کے مارے ہوئے جانور کو تو کھاتے نہیں ہو اور اپنے مارے ہوئے یعنی ذبیحہ کو کھاتے ہو، اخرجہ ابو داود والحکم عن ابن عباس ؓ (بعض مسلمانوں نے حضور ﷺ کی خدمت میں یہ شبہ نقل کیا، اس پر یہ آیتیں لَمُشرِکُونَ تک نازل ہوئیں، رواہ ابو داؤد والترمذی عن ابن عباس ؓ کذا فی اللباب۔ حاصل جواب یہ ہے کہ تم مسلمان ہو اللہ کے احکام کا التزام کئے ہوئے ہو، اور…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

ان مباح چیزوں کی تحریم جن پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو : اوپر والی آیت میں شرکیہ عقائد کے تحت حرام کی ہوئی چیزوں کو کھانے کا حکم دیا ہے جب کہ ان پر اللہ کا نام لیا گیا ہو۔ اس آیت میں اہل عرب کے عقیدے کی رو سے ان مباح چیزوں کو بھی کھانے کی ممانعت فرما دی جن پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو۔ مشرکین نے اوپر والی حلت کی طرح اس حرم پر بھی ہنگامہ اٹھایا اس لیے کہ ان کے ہاں کسی ذبیحہ کی حلت و طہارت کے لیے یہ چیز ضروری نہیں تھی کہ لازماً اس پر اللہ کا نام بھی لیا جائے۔ جس چیز و کو وہ حلال و طیب سمجھتے تھے اور ان کے باپ دادا بھی جس کو حلال سمجھتے تھے مسلمانوں کی طرف سے اس کی حرمت کے اعلان سے ان کے مذہبی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

121۔ 1 یعنی عمداً اللہ کا نام جس جانور پر نہ لیا گیا، اس کا کھانا فسق اور ناجائز ہے، حضرت ابن عباس نے اس کے یہی معنی بیان کئے ہیں کہ وہ کہتے ہیں کہ بھول جانے والے کو فاسق نہیں کہا جاتا اور امام بخاری کا رجحان بھی یہی ہے تاہم امام شافعی کا مسلک یہ ہے کہ مسلمان کا ذبیحہ دونوں صورتوں میں حلال ہے چاہے وہ اللہ کا نام لے یا چھوڑ دے اور وَ اِنَّہُ لَفِسْق، ُ کو غیر اللہ کے نام ذبح کئے گئے جانور سے متعلق قرار دیتے ہیں 121۔ 2 شیطان نے اپنے ساتھیوں کے ذریعے سے یہ بات پھیلائی کہ یہ مسلمان اللہ کے ذبح کئے ہوئے جانور (یعنی مردہ) کو تو حرام اور اپنے ہاتھ سے ذبح شدہ کو حلال قرار دیتے ہیں اور دعویٰ یہ کرتے…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 120–121

53: ظاہری گناہوں میں وہ گناہ بھی داخل ہیں جو انسان اپنے ظاہری اعضاء سے کرے، مثلاً جھوٹ، غیبت، دھوکا، رشوت، شراب نوشی، زنا وغیرہ، اور باطنی گناہوں سے مراد وہ گناہ ہیں جن کا تعلق دل سے ہوتا ہے مثلاً حسد، ریا کاری، تکبر، بغض، دوسروں کی بد خواہی وغیرہ، پہلی قسم کے گناہوں کا بیان فقہ کی کتابوں میں ہوتا ہے اور ان کی تعلیم و تربیت فقہاء سے حاصل کی جاتی ہے اور دوسری قسم کے گناہوں کا بیان تصوف اور احسان کی کتابوں میں ہوتا ہے اور ان کی تعلیم و تربیت کے لئے مشائخ سے رجوع کیا جاتا ہے، تصوف کی اصل حقیقت یہی ہے کہ باطن کے ان گناہوں سے بچنے کے لئے کسی رہنما سے رجوع کیا جائے افسوس ہے کہ تصوف کی اس حقیقت کو…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

(آیت) ” نمبر 121۔ اس کے بعد ایک بار پھر کفر و ایمان کی اصل حقیقت پر بات کی جاتی ہے اور دو بار تکرار کا مطلب ہے کہ اسلام میں حلال و حرام قرار دینے کا تعلق کفر واسلام سے ہے ۔ یہ بار بار کی تاکید ‘ یہ بار بار کے ربط اور بات کو دہرانے سے معلوم ہوجاتا ہے کہ اسلام کی نظر میں قانون سازی اور اقتدار اعلی انسان کی روز مرہ زندگی کے اندر کس قدر اہمیت رکھتے ہیں ۔ ّ (آیت) ” أَفَغَیْْرَ اللّہِ أَبْتَغِیْ حَکَماً وَہُوَ الَّذِیْ أَنَزَلَ إِلَیْْکُمُ الْکِتَابَ مُفَصَّلاً وَالَّذِیْنَ آتَیْْنَاہُمُ الْکِتَابَ یَعْلَمُونَ أَنَّہُ مُنَزَّلٌ مِّن رَّبِّکَ بِالْحَقِّ فَلاَ تَکُونَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

6 یعنی نہ حقیقۃً نہ حکماً ۔ حنفیہ متروک التسمیہ عمداً کے مسئلہ میں ذکر حکمی کا دعویٰ کرتے ہیں۔ 7 یعنی شرک فقط یہ ہی نہیں کہ کسی کو سوائے خدا کے پوجے بلکہ شرک کے حکم میں یہ بھی ہے کہ کسی چیز کی تحلیل و تحریم میں مستند شرعی کو چھوڑ کر محض آراء و اہوا کا تابع ہوجائے۔ جیسا کہ (اِتَّخَذُوْٓا اَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ ) 9 ۔ التوبہ :31) کی تفسیر میں مرفوعا منقول ہے کہ اہل کتاب نے وحی الہٰی کو چھوڑ کر صرف احبارو رہبان ہی پر تحلیل و تحریم کا مدار رکھ چھوڑا تھا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 121 وَلاَ تَاْکُلُوْا مِمَّا لَمْ یُذْکَرِ اسْمُ اللّٰہِ عَلَیْہِ وَاِنَّہٗ لَفِسْقٌ ط۔ اس آیت کا تعلق بھی مشرکین عرب کے خود ساختہ اعتقادات اور توہمات سے ہے۔ وہ کہتے تھے کہ بعض جانوروں کو ذبح کرتے ہوئے اللہ کا نام سرے سے لینا ہی نہیں چاہیے۔ یہ حکم ایک خاص مسئلے کے حوالے سے ہے ‘ جس کی وضاحت آگے آیت 138 میں آئے گی۔ وَاِنَّ الشَّیٰطِیْنَ لَیُوْحُوْنَ الآی اَوْلِیٰٓءِہِمْ لِیُجَادِلُوْکُمْج وَاِنْ اَطَعْتُمُوْہُمْ اِنَّکُمْ لَمُشْرِکُوْنَ ۔ مشرکین مکہ اپنے غلط اعتقادات کی حمایت میں طرح طرح کی حجت بازی کرتے رہتے تھے ‘ مثلاً یہ کیا بات ہوئی کہ جو جانور اللہ نے مارا ہے یعنی ازخود مرگیا ہے وہ تو…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

126 جس چیز پر ذبح کرتے وقت اللہ کے سوا کسی دوسرے کا نام لیا جائے وہ قرآن کی متعدد آیات کی تصریح کے مطابق حرام ہے اور جس پر عمداً اللہ کا نام نہ لیا جائے وہ اس آیت کی رو سے حرام ہے اور اگر ذبح کرتے وقت اللہ کا نام لینا بھول جائے تو اس کے کھانے میں کوئی حرج نہیں۔ کیونکہ آپ نے فرمایا ہے کہ مسلمان کا ذبیحہ حلال ہے۔ نیز اس کی دلیل سیدہ عائشہ ؓ کی روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ سے پوچھا کہ ہمارے پاس لوگ گوشت بیچنے آجاتے ہیں۔ وہ نیا نیا اسلام لائے ہیں۔ معلوم نہیں انہوں نے ذبح کے وقت اللہ کا نام لیا تھا یا نہیں لیا تھا ؟ آپ نے فرمایا تم خود بسم اللہ پڑھ لیا کرو اور اسے کھالیا کرو۔ (بخاری۔ کتاب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

176 ۔ (اے مسلمانو ! ) (آیت) ” ولا تاکلوا ممالم یذکر اسم اللہ علیہ وانہ لفسق “۔ مشرک وملحد تو بہرحال اللہ کا نام نہ لے گا۔ اس لیے اس کا ذبیحہ تو کھلا ہوا حرام ہے۔ سوال صرف مسلمان کے ترک تسمیہ کے باب میں رہ جاتا ہے۔ سو مسلم کے لیے بھی ذبح کرتے یا شکاری جانور چھوڑتے وقت ترک تسمیہ کی دو صورتیں ممکن ہیں، یا عمدا و دانستہ ہو، اور یا محض سہو ونسیان سے ہو۔ امام ابوحنفیہ (رح) اور بہت سے دوسرے فقیہوں اور بعض تابعین کا مذہب یہ ہے کہ یہ ممانعت و حرمت صرف اس صورت کے لیے ہے۔ جب ترک تسمیہ دانستہ وعمدا ہو۔ ان ترکھا عمدا لم یؤکلا قالہ مالک ؓ وابن القاسم وھو قول ابی حنیفۃ و اصحابہ والثوری والحسن بن حی و عیسیٰ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 114–121

شان نزول : اَفَغیر اللہ ابتغی حَکَمًا، مشرکین مکہ آنحضرت ﷺ سے یہ کہا کرتے تھے کہ اہل کتاب میں سے کسی کو ثالث قرار دیا جائے اگر وہ قرآن کا کلم الہیٰ کہہ دے تو ہم لوگ آپ کے نبی برحق اور قرآن کے کلام الہیٰ ہونے کے قائل ہوجائیں گے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں، اس آیت کا حاصل یہ ہے کہ میرے اور تمہارے درمیان مقدمہ نبوت و رسالت میں اختلاف و نزاع ہے میں اس کا مدعی ہوں اور تم منکر اور اس نزع و اختلاف کا فیصلہ احکم الحاکمین کی عدالت سے میرے حق میں اس طرح ہوچکا ہے کہ میرے اس دعوے پر کافی ثبوت اور دلائل موجود ہیں خود قرآن کا اعجاز ہے جس نے نہ صرف عالم عرب کو بلکہ اقوام عالم کو چیلنچ کیا کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ولا تاکلوا مما لم یذکر اسم اللہ علیہ . اور جس پر (ذبح کے وقت) اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو اس میں سے نہ کھاؤ۔ اس آیت کے عموم سے امام احمد نے استدلال کیا ہے کہ ذبح کے وقت اللہ کا نام لینا بھول گیا ہو یا قصداً نہ لیا ہو دونوں صورتوں میں ایسے ذبیحہ کا کھانا حرام ہے۔ داؤد ‘ ابو ثور ‘ شعبی اور محمد بن سیرین کا بھی یہی قول ہے۔ امام مالک کے نزدیک آیت کے عموم میں وہ ذبیحہ داخل نہیں جس کو ذبح کرتے وقت اللہ کا نام لینا بھول کر رہ گیا ہو اس کا ثبوت حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے ہوتا ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا یا رسول اللہ ﷺ اگر ہم میں سے کوئی ذبح کرے اور اللہ کا نام لینا بھول جائے تو کیا حکم…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 118–121

(118۔ 119۔ 120۔ 121) حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان تمام جانوروں کی تفصیل بتلادی جن کو تم پر حرام کیا ہے جیسا کہ مردار خون اور سور کا گوشت وغیرہ مگر مردار کھانے کی بھی جب تمہیں سخت ضرورت پڑجائے تو یہ مشروط طور پر حلال ہے۔ اور ابوالاحوص اور اس کے ساتھی بغیر علم اور حجت کے لوگوں کو مردار کھانے کی دعوت دیتی ہیں تم ظاہری زنا اور اجنبیہ کے ساتھ خلوت کو بھی چھوڑ دو کیوں کہ زانیوں کو دنیا میں کوڑے اور آخرت میں ان کو عذاب ملے گا۔ جن جانوروں پر جان بوجھ کر اللہ کا نام نہ لیاجائے ان کو بغیر سخت حاجت کے کھانا گناہ کا باعث ہے اور ایسے جانوروں کو حلال سمجھنا تو صریح کفر ہے۔ اور شیاطین اپنے یاروں ابوالاحوص اور…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَلَا تَاْكُلُوْا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِاسْمُ اللّٰهِ عَلَيْهِ : پہلے اللہ نے یہ بیان فرمایا کہ اللہ کے نام کا ذبیحہ حلال ہے۔ اب اس آیت میں بیان فرمایا کہ جس ذبیحہ پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو اس کا کھانا حرام ہے، اس میں مردار اور وہ جانور تو آیت کے صاف الفاظ میں داخل ہیں جو غیر اللہ کے نام پر ذبح کیے گئے ہوں اور آیت گو لفظ عام ہونے کی وجہ سے ہر اس چیز کو شامل ہے جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو، خواہ وہ کھانے کی کوئی بھی چیز ہو، مگر فقہاء نے اس سے بالاجماع ذبیحہ مراد لیا ہے۔ (رازی) یاد رہے ! اگر کسی ذبیحہ پر جان بوجھ کر اللہ کا نام ترک کردیا جائے تو وہ اکثر فقہاء کے نزدیک حرام ہے، مگر جب مسلمان…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر : 121 قولہ تعالیٰ : آیت : ولا تاکلوا ممالم یذکر اسم اللہ علیہ وانہ لفسق اس میں پانچ مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1۔ ابو داؤد نے روایت بیان کی ہے کہ یہودی حضور نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور کہنے لگے : ہم اسے تو کھالیتے ہیں جسے ہم خود مارتے ہیں اور اسے نہیں کھاتے جسے اللہ تعالیٰ مار دے ؟ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : آیت : ولا تاکلوا ممالم یذکر اسم اللہ علیہ الی آخری الآیۃ (سنن ابی داؤد، کتاب الضحایا، باب فی ذبائح اھل الکتاب، حدیث نمبر 2436، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) ۔ اور نسائی نے حضرت ابن عباس ؓ سے اس قول باری تعالیٰ کے تحت بیان کیا ہے : آیت : ولا تاکلوا ممالم یذکر اسم اللہ علیہ انہوں…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

جانور حلال کرنے کے لئے بسم اللہ پڑھنا لازم ہے (1) فریابی، ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابو داؤد، ابن ماجہ، ابن منذر، ابن ابی حاتم، نحاس، ابو الشیخ، ابن مردویہ، طبرانی، حاکم اور بیہقی نے سنن میں (اور حاکم نے تصحیح بھی کی ہے) ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ مشرکوں نے کہا اور دوسرے الفاظ میں یہودیوں نے کہا تم نہیں کھاتے ہو ان چیزوں میں سے جن کو اللہ تعالیٰ نے قتل کیا اور تم کھاتے ہو ان چیزوں میں سے جن کو تم نے قتل کیا تو اللہ تعالیٰ نے اتارا لفظ آیت ولاتاکلوا مما لم یذکر اسم اللہ علیہ (2) عبد بن حمید اور ابو الشیخ نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ مشرکین نے محمد ﷺ کے اصحاب سے کہا جس کو تم ذبح کرتے ہو اس کو…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَلَا تَاْكُلُوْا [ اور تم لوگ مت کھاؤ] مِمَّا [ اس میں سے ] لَمْ يُذْكَرِ [ یاد نہیں کیا گیا ] اسْمُ اللّٰهِ [ اللہ کا نام ] عَلَيْهِ [ جس پر ] وَاِنَّهٗ [ اور بیشک یہ ] لَفِسْقٌ ۭ [ یقینا نافرمانی ہے ] وَاِنَّ [ اور بیشک ] الشَّيٰطِيْنَ [ شیطان لوگ ] لَيُوْحُوْنَ [ یقینا پیغام رسانی کرتے ہیں ] اِلٰٓي اَوْلِيٰۗـــِٕــهِمْ [ اپنے کارسازوں کی طرف ] لِيُجَادِلُوْكُمْ ۚ [ تاکہ وہ تم لوگوں سے مناظرہ کریں ] وَاِنْ [ اور اگر ] اَطَعْتُمُوْهُمْ [ تم لوگ اطاعت کروگے ان کی ] اِنَّكُمْ [ تو بیشک تم لوگ ] لَمُشْرِكُوْنَ [ یقینا شرک کرنے والے ہو۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 120–121

ظاہری اور پوشیدہ تمام گناہوں سے بچنے کا حکم : (وَ ذَرُوْا ظَاھِرَ الْاِثْمِ وَ بَاطِنَہٗ ) ( اور چھوڑ دو ظاہری گناہ اور باطنی گناہ) اس میں ظاہری اور باطنی دونوں طرح کے گناہ چھوڑنے کا حکم فرمایا ہے۔ جو گناہ ظاہری طور پر علانیہ ہے وہ بھی چھوڑو اور جو پوشیدہ ہو اسے بھی چھوڑو اللہ تعالیٰ ہر گناہ کو جانتا ہے اور وہ گناہوں کی سزا دینے پر پوری طرح قادر ہے گناہ گار یہ نہ سمجھیں کہ تنہائی میں جو گناہ کرلیا اللہ تعالیٰ کو اس کی خبر نہیں ہے۔ (اِنَّ الَّذِیْنَ یَکْسِبُوْنَ الْاِثْمَ سَیُجْزَوْنَ بِمَا کَانُوْا یَقْتَرِفُوْنَ ) بلاشبہ جو لوگ گناہ کرتے ہیں انہیں عنقریب ان کے اعمال کی جزا دیدی جائے گی۔ (وَ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 114–121

تتمۂ توبیخ معاندین وتحذیر از اتباع مضلین ومجادلین قال اللہ تعالیٰ افغیر اللہ ابتغی حکما۔۔۔ الی۔۔۔ وان اطعتموھم انکم لمشرکین (ربط) گذشتہ آیات میں یہ بیان ہوچکا کہ یہ کافر جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں اور ایسے ضدی اور عنادی ہیں کہ جن معجزات کی وہ خواہش رکھتے ہیں ان کے ظاہر ہونے پر بھی ایمان نہیں لائیں گے اگر دل میں کچ بھی قبول حق کا مادہ ہوتا تو پہلے ہی مرتبہ آیات بینات دیکھ کر ایمان لے آتے اس لے کہ اول تو قرآن کریم آپ ﷺ کا عظیم ترین معجزہ ہے اور آپ ﷺ کی نبوت و رسالت کی روشن دلیل ہے اس کی طرف رجوع کرلینا کافی ہے ؎ آفتاب آمد دلیل آفتاب گر دلیلے باید ازدے رومتاب ایسی روشن دلیل کے بعد کسی اور فیصلہ کرنے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

133 جن جانوروں پر خالص اللہ کا نام نہیں لیا گیا انہیں مت کھاؤ یعنی ان کو حلال نہ سمجھو وَاِنَّہٗ لَفِسْقٌ۔ جن جانوروں پر خالص اللہ کا نام نہ لیا جائے بلکہ غیر اللہ کا نام لیا جائے ان کو حلال جاننا فسق اور کفر ہے۔ فسق سے اس کا کامل درجہ یعنی کفر مراد ہے وَاِنَّ الشَّیٰطِیْنَ ای من الجن والانس۔ یعنی شیاطین جن وانس اپنے ماننے والوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتے اور ان کو مشرکانہ افعال کی ترغیب دیتے ہیں۔ وَ اِنْ اَطَعْتُمُوْھُم اگر تم نے اے جماعت مومنین ان کی بات مان لی اور تحریمات لغیر اللہ کو حرام اور نذور غیر اللہ کو حلال جاننے لگے جیسا کہ وہ کہتے ہیں تو یاد رکھو پھر تم بھی ان جیسے مشرک ہو۔ اس سے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 118–121

گذشتہ درس میں اللہ کے علاوہ دوسروں کو حکم تسلیم کرنے سے منع کیا گیا تھا ، نیز نبی علیہ اسلام کو خبر دار کیا گیا تھا کہ اگر آپ اکثریت کا کہا مانیں گے تو آپ سیدھے راستے سے بہک جائیں گے ، کیونکہ لوگوں کی اکثریت محج گمان پر چلتی ہے اور ان کے پاس حق بات نہیں ہوتی۔ اب آج کی آیات میں ایسے لوگوں کی ایک مثال بیان کی گئی ہے اور وہ یہ ہے کہ مشرک لوگ ایمان پر اعتراض کرتے تھے کہ یہ اپنے ہاتھ کا مارا ہوا جانور یعنی ذبح شدہ جانور حلال سمجھتے ہیں اور اس کا گوشت کھالیتے ہیں ، جب کہ خدا کا مارا ہوا یعنی طبی موت مرا ہوا جانور حرام جانتے ہیں۔ وہ لوگ اس بعید از قیاس خیال کرتے تھے۔ بعض مشرکین یہ بھی کہتے تھے کہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَلَاتَاْكُلُوْا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللہِ عَلَيْہِ وَاِنَّہٗ لَفِسْقٌ۝ 0 ۭ وَاِنَّ الشَّيٰطِيْنَ لَيُوْحُوْنَ اِلٰٓي اَوْلِيٰۗـــِٕــہِمْ لِيُجَادِلُوْكُمْ۝ 0 ۚ وَاِنْ اَطَعْتُمُوْہُمْ اِنَّكُمْ لَمُشْرِكُوْنَ۝ 121 ۧ فسق فَسَقَ فلان : خرج عن حجر الشّرع، وذلک من قولهم : فَسَقَ الرُّطَبُ ، إذا خرج عن قشره وهو أعمّ من الکفر . والفِسْقُ يقع بالقلیل من الذّنوب وبالکثير، لکن تعورف فيما کان کثيرا، وأكثر ما يقال الفَاسِقُ لمن التزم حکم الشّرع وأقرّ به، (س ق ) فسق فسق فلان کے معنی کسی شخص کے دائر ہ شریعت سے نکل جانے کے ہیں یہ فسق الرطب کے محاورہ سے ماخوذ ہے جس کے معنی گدری کھجور کے اپنے چھلکے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 119–121

ترکیب : وما استفہامیہ مبتداء لکم خبر الاتاکلوا حرف جر محذوف ای فی ان لاتاکلوا حرف جر کے حذف ہونے کے بعد محل نصب میں ہے وقد فصّل جملہ حال ہے۔ ما اضطررتم الیہ ماموصولہ اضطرر تم الیہ صلہ ماموضع نصب میں ہے جنس سے استثناء ہونے کے سبب معنی۔ کس لئے اللہ تعالیٰ نے جس پر اللہ کا نام لیا جاوے اس کے کھانے سے پرہیز کرنے پر تنبیہ کی ہے جو اباحت اکل کو مطلقاً چاہتا ہے۔ تفسیر : منجملہ مزخرفات قول کفار کے کہ جس کو شیاطین انس و شیاطینِ جن ملمع کار دلیلوں سے ان کے دلوں میں ڈالا کرتے تھے۔ ایک بات یہ بھی تھی کہ کفار جس طرح اور ناپاک چیزوں کو کھاتے تھے جیسا کہ خون وغیرہ اسی طرح جو جانور کہ از خود مرجاتا تھا یا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

ارشاد فرمایا : وَلَا تَاْکُلُوْا مِمَّا لَمْ یُذْکَرِ اسْمُ اللہِ عَلَیْہِ وَ اِنَّہٗ لَفِسقٌط وَاِنَّ الشَّیٰطِیْنَ لَیُوْحُوْنَ اِلٰیٓ اَوْلِیٰٓئِھِمْ لِیُجَادِلُوْکُم ج وَاِنْ اَطَعْتُمُوْھُمْ اِنَّکُمْ لَمُشْرِکُوْنَ ۔ (الانعام : 121) (اور تم نہ کھائوان چیزوں میں سے جن پر خدا کا نام نہ لیا گیا ہو بیشک یہ نافرمانی ہے اور شیاطین القاء کر رہے ہیں اپنے ایجنٹوں کو تاکہ وہ تم سے جھگڑیں اور اگر تم ان کا کہا مانو گے تو تم بھی مشرک ہوجاؤ گے) جن پر اللہ کا نام نہیں لیا جاتا ان کو نہ کھائو ‘ ورنہ مشرک ہوجاؤ گے گزشتہ آیات میں ان چیزوں کے کھانے کا حکم دیا گیا تھا جن کو انھوں نے اپنے شرکیہ عقائد کے تحت…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 121–122

فہم القرآن ربط کلام : مردار اور غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا ہوا جانور کھانے، سے آدمی کا ضمیر اور ایمان مردہ ہوجاتا ہے۔ یہاں ان دونوں کا تقابل کیا گیا ہے۔ بنیادی طور پر انسان کی زندگی دو عناصر پر مشتمل ہے جسم کو قائم رکھنے کے لیے بہتر فضا اور اچھی غذا کی ضرورت ہے۔ روح کو بیدار اور صحت مند رکھنے کے لیے گناہوں سے اجتناب اور کفرو شرک سے بچنا انتہائی ضروری ہے۔ خوراک اور آب و ہوا مناسب نہ ہو تو جسمانی بیماریاں لاحق ہوجاتی ہیں۔ روح کی خوراک، اچھے اعمال اور عقیدۂ توحید ہے۔ جس قدر آدمی کے اعمال اور اس کا عقیدہ کمزور ہوگا اتنی ہی اس کی روح کمزور ہوتی چلی جائے گی۔ یہاں تک کہ زندہ ہونے کے باوجود انسان…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

حرمت متروک التسمیہ عمداً : آیت 121 : وَلَا تَاْکُلُوْا مِمَّا لَمْ یُذْکَرِ اسْمُ اللّٰہِ عَلَیْہِ ذبح کے وقت۔ وَاِنَّہٗ اور اس کا کھانا لَفِسْقٌط وَاِنَّ الشَّیٰطِیْنَ لَیُوْحُوْنَوہ وسوسہ ڈالتے ہیں۔ اِلٰٓی اَوْلِیٰٓپہِمْ یعنی مشرکین۔ لِیُجَادِلُوْکُمْاپنے قول سے۔ نہ کھائو اس کو جس کو اللہ نے ہلاک کیا ہو۔ اور اس کو کھائو جس کو اپنے ہاتھوں سے تم ذبح کرتے ہو یہ آیت متروک تسمیہ کی حرمت کو ثابت کرتی ہے۔ البتہ نسیان والی حالت حدیث کی وجہ سے اس میں خاص کرلی گئی ہے یا بھولنے والے کو تقدیراً ذاکر کہہ کر حکم بیان کیا گیا۔ وَاِنْ اَطَعْتُمُوْہُمْان کو حلال کرنے میں جن کو اللہ تعالیٰ نے حرام کیا ہے۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر (121) (ولا تاکلوا مما لم یذکر اسم اللہ علیہ) ذبح کے وقت جان کر یا بھول کر تسمیہ چھوڑ دینے کی صورت میں ذبیحہ کا حکم۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ آیت میں وہ جانور مراد ہیں جن کو وہ بتوں کے نام پر ذبح کرتے تھے۔ اہل علم کا اس صورت میں اختلاف ہے کہ اگر مسلمان اللہ کا نام ذبح کے وقت نہ ذکر کرے تو کیا حکم ہے ؟ ایک جماعت کا قول ہے کہ چاہے نام لینا بھول گیا ہو یا جان بوجھ کر نہ پڑھے دونوں صورتوں میں یہ جانور حرام ہے۔ یہی امام شعبی اور ابن سیرین رحمہما اللہ کا قول ہے۔ ان حضرات نے اسی آیت کے ظاہری معنی سے استدلال کیا ہے اور ایک جماعت کا قول ہے کہ دونوں صورتوں میں مسلمان کا ذبیحہ حلال ہے ۔ یہی بات ابن…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 118–121

(118 ۔ 121) ۔ یہاں سے آخر رکوع تک کی آیتوں کی جو کچھ شان نزول ترمذی اور داؤد مستدرک حاکم طبرانی ابن ماجہ مسند بزار تفسیر ابن جریر اور ابن ابی حاتم میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ اور عکرمہ کے قول کے موافق بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ قریش اور فارس کے لوگوں میں دوستی تھی اس دوستی کے سبب سے فارس کے مجوس نے قریش سے یہ کہلا بھیجا کہ تم ان نبی پر یہ اعتراض کرو کہ اپنا ذبح کیا ہوا جانور کھانا اور خدا کا مارا ہوا جانور نہ کھانا یہ کونسا دین ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں قریش کا جواب جو ان آیتوں میں ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ ذبح شدہ جانور پر اللہ کا نام لیا جاتا ہے اس واسطے وہ پاک اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

آیت 121 اس ممانعت میں وہ اشیا بھی داخل ہیں جن پر غیر اللہ کا نام لیا گیا ہو مثلاً بتوں اور مشرکین کے معبودوں کے لئے ذبح کرنا۔ اور یہ ممانعت (اھل لغیر اللہ بہ) (المائدہ :3/5) ” جس چیز پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام پکارا جائے۔ “ کی نص کے ذریعے سے خصوصیطور پر حرام ہے۔ اس تحریم میں وہ جانور بھی شامل ہیں جو اللہ کے لئے ذبح کئے گئے ہوں مگر ذبح کرتے وقت اللہ تعالیٰ کا نام نہ لیا گیا ہو مثلاً قربانی اور ہدی کے جانور کا ذبیحہ یا گوشت کھانے کیلئے جانور ذبح کرنا۔ بہت سے علماء کے نزدیک یہ جانور اس وقت حرام ہوگا جب جان بوجھ کر اللہ تعالیٰ کا نام نہ لیا گیا ہو اور اس عموم سے دوسری نصوف کی بنا پر دفعحرج کی…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 121–135

ذبیحہ پر ترک تسمیہ اور اقوال فقہاء قول باری ہے ( ولا تاکلوا مما لم یذکر اسم اللہ علیہ وانہ لفسق اور جس جانور کو اللہ کا نام لے کر ذبح نہ کیا گیا ہو اس کا گوشت نہ کھائو، ایسا کرنا فسق ہے) آیت میں اسے جانور کا گوشت کھانے کی ممانعت ہے جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو۔ اس بارے میں فقہا کے مابین اختلاف رائے ہے۔ ہمارے اصحاب ، امام مالک اور حسن بن صالح کا قول ہے کہ اگر مسلمان ذبح کرتے وقت جان بوجھ کر بسم اللہ نہ پڑھے تو اس کا گوشت نہیں کھایا جائے گا اگر بھول کر بسم اللہ چھوڑ دے تو اس کا گوشت کھالیا جائے گا۔ امام شافعی کا قول ہے کہ دونوں صورتوں میں گوشت کھالیا جائے گا۔ اوزاعی سے بھی اسی قسم کا قول…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

234 شیطان اور اسکے چیلوں کی وسوسہ اندازیوں سے آگاہی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ اس طرح کی وسوسہ اندازیاں کرتے رہتے ہیں تاکہ وہ تم سے جھگڑیں اور اس طرح حق سے وہ خود بھی محروم رہیں اور دوسروں کو بھی اس سے محروم کردیں۔ جیسا کہ مشرکین مکہ مسلمانوں کے بارے میں کہتے تھے کہ یہ لوگ اللہ کے مارے ہوئے یعنی مردار کو تو حرام کہتے ہیں مگر خود اپنے مارے ہوئے یعنی ذبیحہ کو حلال۔ سو یہ شیطان کی سکھائی ہوئی پٹی اور اس کی تلقین کردہ وہ حجت بازی تھی جس سے ایسے لوگ کام لیتے تھے۔ اور یہی شیوہ ہے اہل بدعت اور دوسرے اہل باطل کا کہ یہ لوگ بھی سادہ لوح عوام کو اپنے جال میں پھانسنے کے لئے اسی طرح کے مغالطوں سے کام…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 118–121

جانور کو حلال کرنے کی شرط، گمراہوں کی پیروی کا رد تشریح : حلال حرام کے بارے میں بڑی تفصیل سے پہلے بیان کیا جا چکا ہے۔ کفار کے جواب میں پھر اس مسئلہ کی وضاحت کردی گئی ہے۔ کفار نے اعتراض کیا کہ لو دیکھو اللہ کے مارے ہوئے کو تو نہیں کھاتے جس کو خود ماریں اسے کھالیتے ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جس جانور کو ذبح کرتے ہوئے اللہ کا نام لیا جائے وہ حلال ہے، لیکن جس پر اللہ کے سوا کسی کا نام لیکر ذبح کیا جائے وہ مسلمان کو کھانا منع ہے۔ ہاں ! اگر جان کو خطرہ ہو، یعنی انتہائی مجبوری پیش آجائے تو پھر کھا سکتے ہیں اور یہ مجبوری اللہ خوب جانتا ہے۔ کبھی بھی اللہ سے چھپا کر یا ظاہر طور پر گناہ نہ کرو۔…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 112–122

رکوع نمبر 14 آیات نمبر 112 تا 122: اسرار و معارف : ایمان کا مدار در اصل اس قلبی کیفیت پر ہے جو انسان کو رب العلمین سے نصیب ہوتی ہے جس کی بنیاد تو انسانی مزاج میں رکھ دی گئی ہے مگر اسے نور نبوت ہی سے جلا ملتی ہے اور یہ جذبہ دل میں سر اٹھاتا ہے کہ مجھے اپنے رب کی رضا کو حاصل کرنا چاہئے اور اس کا قرب پانا چاہئے۔ انسانی کردار اس کے ضمیر کو متاثر کرتا رہتا ہے حتی کہ بعض مظالم ایسے ہوتے ہیں جو دل میں اس جذبے پر تہ در تہ تاریکیاں مسلط کردیتے ہیں ایسے ہی بدنصیب تھے وہ لوگ جو آقائے نامدار ﷺ کے مبارک عہد میں آپ کے رخ انور سے بھی کوئی کرن تک حاصل نہ کرسکے کچھ خوش نصیب اگرچہ نور ایمان کو بعض وجوہ کی بنا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 7 پہلے اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمادیا کہ اللہ تعالیے نام کا ذبیحہ حلال ہے اب اس آیت میں بیان فرمایا کہ جس ذبیحہ پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو اس کا کھانا حرام ہے اس میں میتہ اور وہ جانور یا لتنصیص داخل ہیں جو بتوں کے نام پر ذبح کئے گئے ہوں اور آیت گو اپنے عموم کے اعتبار سے ہر اس چیز کو شامل ہے جس پر اللہ تعالیٰ کا نام نہ لیا گیا ہو مگر فقہا نے بالا جماع اس سے ذبیحہ مراد لیا ہے (رازی) مسئلہ اگر کسی ذبیحہ پر عمدا اللہ تعالیٰ کا نام ترک کردیا جائے تو وہ اکثر فقہا نے کے نزدیک حرام مگر جب مسلمان ذبح کرتے وقت بسم للہ بھول جائے تو کھا جائز ہے۔8 یعی جانور کو غیر اللہ کے نام پر ذبح کرنا) دیکھئے 415)9…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(6:121) فسق۔ اصلاح شریعت میں فسق کے معنی ہیں۔ حدود شریعت سے نکل جانا۔ گناہ کرنا۔ عموماً عملی گناہ کو فسق کہتے ہیں۔ اور ضروریات دین کے انکار کو کفر۔ عربی میں ہے فسقت الرطبۃ عن قشرھا۔ کھجور اپنے چھلکے سے باہر نکل آئی۔ فاسق بھی خیر سے باہر نکل آتا ہے۔ یوحون۔ مضارع جمع مذکر غائب ایحاء (افعال) مصدر۔ وہ وحی کرتے ہیں ۔ وہ دل میں ڈالتے ہیں۔ وہ وسوسہ ڈالتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 118–121

لغات القرآن : آیت نمبر 118 تا 121 : الا تاکلوا ( یہ کہ تم کیوں نہیں کھاتے ؟ ) ذکراسم اللہ ( اللہ کا نام لیا گیا ہے) اضطررتم ( تم مجبور ہو جائو۔ مجبور کردیئے گئے) ‘ المعتدین (زیادتی کرنے والے) ذروا ( چھوڑ دو ) ظاھرالاثم ( ظاہری گناہ۔ کھلا ہوا گناہض سیجزون ( جلدہی بدلہ دیئے جائیں گے) فسق (گناہ) لیجادلو (تاکہ وہ جھگڑا کریں) تشریح : آیت نمبر 118 تا 121 : حضرت عبد اللہ ؓ بن عباس ؓ کی روایت ہے کہ عرب کے جہلا کو اسلام کے خلاف بھڑکانے کے لئے علمائے یہود جس قسم کے سوالات سکھایا کرتے تھے ان میں ایک سوال یہ بھی تھا کہ واہ واہ یہ کیا بات ہے جس جانور کو اللہ ماردے وہ تو حرام ہوجائے اور جس جانور کو انسان…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 118–121

شان نزول : جس کا مطلب یہ ہے کہ قریش نے اعتراض کیا کہ اپناذبح کیا ہوا جانور کھانا اور خدا کا مرا ہوا جانور نہ کھانا یہ کون سا دین ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں۔ قریش کا جواب جو ان آیتوں میں ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ ذبح شدہ جانور پر اللہ تعالیٰ کا نام لیا جاتا ہے اس واسطے وہ پاک اور حلال ہے۔ بتوں کے نام پر جو جانور ذبح کیا جاوے یا جو جانور اپنی موت سے مرجاوے بہ سبب اس کے کہ اللہ تعالیٰ کا نام اس پر نہیں لیا گیا وہ حرام اور نجس ہے۔ مفصل تفصیل حلال و حرام کی سورة مائدہ میں معلوم ہوچکی ہے، تو پھر ہر ایماندار آدمی کو چاہیے کہ اس کی پابندی کرے اور مردار کھانے والے لوگ جو حد شرع کے خود…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 120–121

[45] ملاحظہ ہو سورة بقرہ حاشیہ 108 صفحہ 106 [46] عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ علمائے یہود جہلائے عرب کو نبی ﷺ پر اعتراض کرنے کے لیے گھڑ گھڑ کر سوالات سنایا کرتے تھے تاکہ عوام کے دلوں میں شبہات ڈالیں اور انہیں حق سے لڑنے کے لیے ہتھیار فراہم کریں۔ ان میں سے ایک یہ بھی تھا کہ آخر یہ کیا معاملہ ہے جسے اللہ مارے وہ تو حرام ہے اور جسے ہم ماریں وہ حلال ہوجائے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

(ف 1) وہ ذبیحہ جس پر خدا کا نام نہ لیا جائے حرام ہے ، کیونکہ اس طریق سے نظام شرک کی تائید ہوتی ہے ، اور دنیا میں شرک پھیلتا ہے ، ورنہ دراصل گوشت میں کوئی امتیاز نہیں ۔ اسلام کا مقصد یہ ہے کہ قدم قدم پر مسلمان توجہ الی اللہ کا سبق سیکھے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-121 اور جس جانور پر ذبح کرتے وقت صرف اللہ تعالیٰ کا نام نہ لای جائے اس ذبیحہ میں سے تم کچھ نہ کھائو یقینا اس کا کھانا کھلی نافرمانی اور کھلا ہوا فسق ہے اور بلاشبہ شیاطین اپنے رفقاء اور دوستوں کے دلوں میں وسوسے اور شکوک و شبہات ڈالتے رہتے ہیں تاکہ وہ رفقاء تم سے بیکار جھگڑا کریں اور اگر تم ان انسان نما شیطانوں کا کہا ماننے لگو اور تم ان کی اطاعت کرنے لگو تو یقین جانو ! کہ تم مشرک ہو جائو گے۔ یعنی جب اللہ تعالیٰ کے احکام کے مقابلے میں دوسروں کے احکام کو ترجیح دوں گے اور حلال اور حرام جو منصب خداوندی ہے اس منصب میں کسی دوسرے کو شریک کرنا کھلا شرک ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 5۔ یعنی مالم یذکراسم اللہ علیہ کا کھانا بےحکمی ہے۔ 6۔ یعنی ان کی اطاعت ایسی بری چیز ہے اس لیے اس کے مقدمات یعنی التفات سے بھی بچنا چاہیے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جن چیزوں پر اللہ کا نام نہیں لیا گیا ان کو مت کھاؤ اگر کھاؤ گے تو نافرمانی ہوگی : 185: جن چیزوں پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو ان کو مت استعمال کرو۔ جب شرکیہ عقائد کے تحت حرام کی ہوئی چیزوں کو کھانے کا حکم دیا تو ظاہر ہے کہ اس کی تکمیل تب ہی ہو سکتی تھی جب ان چیزوں کی ممانعت بھی کردی جائے جن کو شرک کے تحت حلال کیا گیا یا سمجھا گیا تھا اور شرک کے سوا کوئی دوسری وجہ سے ان کے حلال ہونے کی نہ تھی اور اصطلاح میں اللہ کا نام لینا ان جانوروں کے لئے جو فی نفسہ حلال تھے ذبیحہ کا قام مقام ہوگیا یعنی جن جانوروں پر اللہ کا نام لیا گیا یعنی ان کو ذبح کیا گیا اور جن جانوروں پر اللہ کا نام نہ لیا گیا یعنی ان…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 118–121

Linkage of Verses Earlier (116), by saying: وَ اِن تطِع (And if you obey), following people in error was prohibited absolutely. Onward from there, comes the prohibition of such following in a particular matter as necessitated by an event. That event pertains to the lawfulness of what has been slaughtered properly or improperly. The event is that disbelievers tried to put Muslims in doubt by commenting that they did not eat of the animals killed by Allah (i.e. by natural death) while they had no problem with eating of what they killed (slaughtered) themselves (as deduced by Abu Dawud and…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

86. It has been reported in a tradition transmitted by 'Abd Allah b. 'Abbas that the Jewish religious scholars used to prompt the ignorant people of Arabia to address many enquiries to the Prophet (peace be on him) so as to discredit him. One of the questions they taught them to ask was: 'Why is it that an animal killed by (the act of) God should be deemed prohibited, while one killed by us is considered lawful?'This is a common example of the warped mentality of the People of the Book. They strained their minds to contrive such questions so as to create doubts in people's minds and to…

Read the full tafseer →