Al-An'aam 6:120

Al-An'aam · from ayah 120

6:120

وَذَرُوْا ظَاهِرَ الْاِثْمِ وَبَاطِنَهٗ ؕ— اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْسِبُوْنَ الْاِثْمَ سَیُجْزَوْنَ بِمَا كَانُوْا یَقْتَرِفُوْنَ ۟وَذَرُوۡا ظَاهِرَ الۡاِثۡمِ وَبَاطِنَهٗ‌ؕ اِنَّ الَّذِيۡنَ یَکْسِبُوۡنَ الۡاِثۡمَ سَيُجۡزَوۡنَ بِمَا كَانُوۡا يَقۡتَرِفُوۡنَ

اور ظاہری اور پوشیدہ (ہر طرح کا) گناہ ترک کر دو جو لوگ گناہ کرتے ہیں وہ عنقریب اپنے کئے کی سزا پائیں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And leave what is apparent of sin and what is concealed thereof. Indeed, those who earn [blame for] sin will be recompensed for that which they used to commit.

— Saheeh International

Juz 8 · Ruku 14 of surah · Ruku 1 of juz

Read the whole surah · Surah Al-An'aam

All translations of 6:120

تم کھلے گناہوں سے بھی بچو اور چھپے گناہوں سے بھی، جو لوگ گناہ کا اکتساب کرتے ہیں وہ اپنی اس کمائی کا بدلہ پاکر رہیں گے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ظاہری اور پوشیدہ (ہر طرح کا) گناہ ترک کر دو جو لوگ گناہ کرتے ہیں وہ عنقریب اپنے کئے کی سزا پائیں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور تم ﻇاہری گناه کو بھی چھوڑ دو اور باطنی گناه کو بھی چھوڑ دو۔ بلاشبہ جو لوگ گناه کررہے ہیں ان کو ان کے کئے کی عنقریب سزا ملے گی

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور تم ظاہری اور باطنی دونوں قسم کے گناہ چھوڑ دو۔ یہ یقینی بات ہے کہ جو لوگ گناہ کماتے ہیں، انہیں ان تمام جرائم کی جلد ہی سزا ملے گی جن کا وہ ارتکاب کیا کرتے تھے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور چھوڑ دو کھلا اور چھپا گناہ، وہ جو گناہ کماتے ہیں عنقریب اپنی کمائی کی سزا پائیں گے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور تم ظاہری اور باطنی (یعنی آشکار و پنہاں دونوں قسم کے) گناہ چھوڑ دو۔ بیشک جو لوگ گناہ کما رہے ہیں انہیں عنقریب سزا دی جائے گی ان (اَعمالِ بد) کے باعث جن کا وہ ارتکاب کرتے تھے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور ظاہر گناہ کو چھوڑ دو اور اس کے چھپے کو بھی، بیشک جو لوگ گناہ کماتے ہیں عنقریب انھیں اس کا بدلہ دیا جائے گا، جس کا وہ ارتکاب کیا کرتے تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

تم ظاہر گناہوں کو بھی چھوڑو اور چھپے گناہوں کو بھی۔ جو لوگ گناہ کے کام کرتے ہیں انہیں جلد ہی اس کی سزا مل کے رہے گی

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور چھوڑو گناہ کے ظاہر کو بھی اور اس کے باطن کو، بیشک جو لوگ گناہ کما رہے ہیں وہ عنقریب اپنی اس کمائی کا بدلہ پائیں گے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور چھوڑ دو تم لوگ ظاہر گناہ کو بھی، اور پوشیدہ کو بھی، بیشک جو لوگ گناہ کما رہے ہیں، وہ یقینی طور پر بدلہ پا کر رہیں گے، اپنے ان گناہوں کا جو وہ کماتے رہیں تھے،

— مولانا اسحاق مدنی

اور چھوڑ دو گناہ کے ظاہر کو (بھی) اور اس کے باطن کو (بھی) بیشک جو لوگ گناہ کما رہے ہیں انہیں عنقریب بدلہ مل جائے گا اس کا جو کچھ کہ وہ کرتے رہتے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور چھوڑ دو (ہر طرح کے) گناہ کو وہ کھلا ہو یا چھپا ہوا یقیناً جو لوگ گناہ کماتے ہیں انہیں جلد ہی بدلہ ملے گا اس کا جو وہ جمع کر رہے ہیں۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

ظاہری اور پوشیدہ ہر طرح کا گناہ چھوڑ دو۔ جو لوگ گناہ کرتے ہیں وہ عنقریب اس کی سزا پائیں گے

— محترمہ رفعت اعجاز

Abstain from sin, be it either open or secret. Indeed those who commit sins shall surely be requited for all they have done.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Leave outward sin and inward sin. Surely, those who commit sin shall be punished for what they used to commit.

— Muhammad Taqi Usmani

Leave outward sin and inward sin. Surely, those who commit sin shall be punished for what they used to commit.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Leave sin, open and secret. Verily, those who commit sin will get due recompense for that which they used to commit.) Mujahid said that,

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Forsake the outwardness of sin and the inwardness thereof. Lo! those who garner sin will be awarded that which they have earned.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And leave what is apparent of sin and what is concealed thereof. Indeed, those who earn [blame for] sin will be recompensed for that which they used to commit.

— Saheeh International

Stay away from both public and secret sins for a sinner will suffer for whatever he has committed.

— Muhammad Sarwar

And abandon open and secret sin; surely they who earn sin shall be recompensed with what they earned.

— Muhammad Habib Shakir

And leave the outside of sin and the inside thereof; verily those who earn sin, anon will they be requited for that which they were wont to do.

— Abdul Majid Daryabadi

Eschew all sin, open or secret: those who earn sin will get due recompense for their "earnings."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 6:120

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

ظاہری اور باطنی گناہوں کو ترک کردو چھوٹے بڑے پوشیدہ اور ظاہر، ہر گناہ کو چھوڑو۔ نہ کھلی بدکار عورتوں کے ہاں جاؤ نہ چوری چھپے بدکاریاں کرو، کھلم کھلا ان عورتوں سے نکاح نہ کرو جو تم پر حرام کردی گئی ہیں، غرض ہر گناہ سے دور رہو، کیونکہ ہر بدکاری کا برا بدلہ ہے، حضور سے سوال ہوا کہ گناہ کسے کہتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا جو تیرے دل میں کھٹکے اور تو نہ چاہے کہ کسی کو اس کی اطلاع ہوجائے۔

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 119–120

سورة الْاَنْعَام 85 ملاحظہ ہو سورة نحل آیت 115۔ اس اشارے سے ضمناً یہ بھی متحقق ہوا کہ سورة نحل اس سورة سے پہلے نازل ہوچکی تھی۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 118–121

ربط آیات اوپر وَاِن تَطِع کے الفاظ میں اہل اضلال کے اتباع سے مطلقاً منع فرمایا تھا آگے باقتضائے ایک واقعہ کے ایک خاص امر میں اتباع کرنے سے منع فرماتے ہیں، وہ خاص واقعہ مذبوح وغیر مذبوح کی حلت کا ہے، واقعہ یہ ہے کہ کفار نے مسلمانوں کو شبہ ڈالنا چاہا کہ اللہ کے مارے ہوئے جانور کو تو کھاتے نہیں ہو اور اپنے مارے ہوئے یعنی ذبیحہ کو کھاتے ہو، اخرجہ ابو داود والحکم عن ابن عباس ؓ (بعض مسلمانوں نے حضور ﷺ کی خدمت میں یہ شبہ نقل کیا، اس پر یہ آیتیں لَمُشرِکُونَ تک نازل ہوئیں، رواہ ابو داؤد والترمذی عن ابن عباس ؓ کذا فی اللباب۔ حاصل جواب یہ ہے کہ تم مسلمان ہو اللہ کے احکام کا التزام کئے ہوئے ہو، اور…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وَذَرُوْا ظَاهِرَ الْاِثْمِ وَبَاطِنَهٗ ، یہ اوپر والی بات ہی کی تاکید ایک اور لطیف و دقیق پہلو سے ہے۔ شرک اور مظاہر شرک دونوں کو چھوڑنے کا حکم : ہر برائی کے دو پہلو ہوتے ہیں۔ ایک اس کا باطنی پہلو، دوسرا اس کا ظاہری پہلو۔ اس بات کو دوسرے الفاظ میں یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ ایک تو اس کی حقیقت ہوتی ہے جس کا مسکن انسان کا نفس اور اس کا دل ہوتا ہے، دوسرے اس کے وہ مظاہر و اشکال ہوتے ہیں جن میں انسانی زندگی کے اندر وہ نمایاں ہوتی ہے۔ مثلاً شرک کی ایک تو حقیقت ہے جو یہ ہے کہ خدا کی ذات یا صفات یا اس کے حقوق میں کسی کو شیک ماننا، دوسرے اس کے مظاہر و اشکال ہیں مثلاً اصنام، انصاب، ازلام، بحیرہ، سائبہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 119–120

119۔ 1 جس کی تفصیل اسی سورت میں آگے آرہی ہے، اس کے علاوہ بھی اور سورتوں نیز احادیث میں محرمات کی تفصیل بیان کردی گئی ہے۔ ان کے علاوہ باقی حلال ہیں اور حرام جانور بھی عند الاضطرار سد رمق کی حد تک جائز ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 120–121

53: ظاہری گناہوں میں وہ گناہ بھی داخل ہیں جو انسان اپنے ظاہری اعضاء سے کرے، مثلاً جھوٹ، غیبت، دھوکا، رشوت، شراب نوشی، زنا وغیرہ، اور باطنی گناہوں سے مراد وہ گناہ ہیں جن کا تعلق دل سے ہوتا ہے مثلاً حسد، ریا کاری، تکبر، بغض، دوسروں کی بد خواہی وغیرہ، پہلی قسم کے گناہوں کا بیان فقہ کی کتابوں میں ہوتا ہے اور ان کی تعلیم و تربیت فقہاء سے حاصل کی جاتی ہے اور دوسری قسم کے گناہوں کا بیان تصوف اور احسان کی کتابوں میں ہوتا ہے اور ان کی تعلیم و تربیت کے لئے مشائخ سے رجوع کیا جاتا ہے، تصوف کی اصل حقیقت یہی ہے کہ باطن کے ان گناہوں سے بچنے کے لئے کسی رہنما سے رجوع کیا جائے افسوس ہے کہ تصوف کی اس حقیقت کو…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 118–120

(آیت) ” نمبر 118 اس سے قبل کہ اس تمہید کے بعد حلال و حرام کا آخری فیصلہ دے دیا جائے بعض دوسری ہدایات اور نتائج دیئے جاتے ہیں جو امر ونہی کے بیان اور وعید اخروی اور ضروری تنبیہ پر مشتمل ہیں :

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 یعنی کافروں کے بہکانے پر نہ ظاہر میں عمل کرو نہ دل میں شبہ رکھو۔ کذافی موضح القرآن۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 119–120

آیت 119 وَمَا لَکُمْ اَلاَّ تَاْکُلُوْا مِمَّا ذُکِرَ اسْمُ اللّٰہِ عَلَیْہِ یہ بحیرہ ‘ سائبہ ‘ وصیلہ اور حام وغیرہ بحوالہ المائدۃ : 103 کے بارے میں تمہارے تمام عقیدے من گھڑت ہیں۔ اللہ نے ایسی کوئی پابندیاں اپنے بندوں پر نہیں لگائیں۔ لہٰذا حلال جانوروں کو اللہ کا نام لے کر ذبح کیا کرو اور بلا کراہت ان کا گوشت کھایا کرو۔ وَقَدْ فَصَّلَ لَکُمْ مَّا حَرَّمَ عَلَیْکُمْ یہ تفصیل سورة النحل کے اندر آئی ہے۔ سورة النحل چونکہ سورة الانعام سے پہلے نازل ہوئی ہے اس لیے یہاں فرمایا گیا کہ حلال چیزوں کی تفصیل تمہارے لیے پہلے ہی بیان کی جا چکی ہے۔ اِلاَّ مَا اضْطُرِرْتُمْ اِلَیْہِ ط۔ اس میں بھی تمہارے لیے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

125 ظاہری گناہ کیا ہیں اور باطنی کیا ؟ ربط مضمون کے لحاظ سے تو اس فقرہ کا مطلب یہ ہوگا کہ ان مشرکوں کے بہکانے پر نہ ظاہراً کوئی عمل کرو اور نہ دل میں کسی قسم کا شک و شبہ رکھو تاہم یہ حکم عام ہے۔ ظاہری گناہوں سے مراد ایسے گناہ ہیں جنہیں دوسرے لوگ دیکھ سکیں اور باطنی گناہ وہ ہیں جنہیں دیکھا نہ جاسکے جیسے کفر اور شرک کا عقیدہ حسد، بغض، بخل، تکبر وغیرہ جن کا تعلق دل سے ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

175 ۔ (سو مکافات عمل سے غافل کوئی بھی نہ رہے) (آیت) ” سیجزون “۔ عنقریب یعنی قیامت میں بدلہ مل کررہے گا) ۔ (آیت) ” یکسبون۔ یقترفون “۔ ان سب الفاظ سے ثابت وظاہر ہے کہ گناہ بندہ کی اختیاری چیز ہے۔ ایسی چیز نہیں جو بندہ کے اختیار سے کچھ بھی باہر ہو۔ گوخود یہ اختیار اللہ ہی کی عطا کی ہوئی ایک قوت ہے۔ (آیت) ” ذروا ظاھرالاثم و باطنہ “۔ کے ظاہروباطن سے مراد کیا ہے ؟ جن دونوں کے چھوڑ دینے کا یکساں حکم ہے ؟ بعض نے کہا ہے کہ گناہ کے ظاہر سے مراد اس کی عملی شکل اور اس کے باطن سے مراد غلط اعتقاد، اعتقادی گناہ ہے۔ الظاھر ماکان عملا بالبدن ممانھی اللہ عنہ و باطنہ ما عقد بالقلب من مخالفۃ امر اللہ ما امرونھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 114–121

شان نزول : اَفَغیر اللہ ابتغی حَکَمًا، مشرکین مکہ آنحضرت ﷺ سے یہ کہا کرتے تھے کہ اہل کتاب میں سے کسی کو ثالث قرار دیا جائے اگر وہ قرآن کا کلم الہیٰ کہہ دے تو ہم لوگ آپ کے نبی برحق اور قرآن کے کلام الہیٰ ہونے کے قائل ہوجائیں گے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں، اس آیت کا حاصل یہ ہے کہ میرے اور تمہارے درمیان مقدمہ نبوت و رسالت میں اختلاف و نزاع ہے میں اس کا مدعی ہوں اور تم منکر اور اس نزع و اختلاف کا فیصلہ احکم الحاکمین کی عدالت سے میرے حق میں اس طرح ہوچکا ہے کہ میرے اس دعوے پر کافی ثبوت اور دلائل موجود ہیں خود قرآن کا اعجاز ہے جس نے نہ صرف عالم عرب کو بلکہ اقوام عالم کو چیلنچ کیا کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وذروا ظاہر الاثم و باطنہ . اور تم ظاہری گناہ کو بھی چھوڑ دو اور باطنی گناہ کو بھی۔ یعنی تمام گناہ چھوڑ دو ۔ ظاہری گناہ بھی جن کا عتلق بیرونی جسمانی اعضاء (کان ‘ ناک ‘ آنکھ ‘ زبان ‘ ہاتھ ‘ پاؤں وغیرہ) سے ہے اور اندرونی گناہ بھی جن کا تعلق محض دل اور اندرونی جذبات نفس سے ہے کلبی اور اکثر مفسرین کے نزدیک اثم : سے مراد زنا مراد ہے یعنی ظاہر طور پر اور چھپ کر زنا کرنے سے بچو۔ سعید بن جبیر ؓ نے ظاہر اثم : سے محرمات کے ساتھ نکاح کرنا اور باطن اثم : سے زنا مراد لیا ہے۔ ابن زید نے کہا طاہر اثم : کپڑے اتار کر ننگے ہو کر طواف کرنا اور باطن اثم ہے ایک روایت میں کلبی کا قول یہ بھی آیا ہے کہ دن میں برہنہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 118–121

(118۔ 119۔ 120۔ 121) حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان تمام جانوروں کی تفصیل بتلادی جن کو تم پر حرام کیا ہے جیسا کہ مردار خون اور سور کا گوشت وغیرہ مگر مردار کھانے کی بھی جب تمہیں سخت ضرورت پڑجائے تو یہ مشروط طور پر حلال ہے۔ اور ابوالاحوص اور اس کے ساتھی بغیر علم اور حجت کے لوگوں کو مردار کھانے کی دعوت دیتی ہیں تم ظاہری زنا اور اجنبیہ کے ساتھ خلوت کو بھی چھوڑ دو کیوں کہ زانیوں کو دنیا میں کوڑے اور آخرت میں ان کو عذاب ملے گا۔ جن جانوروں پر جان بوجھ کر اللہ کا نام نہ لیاجائے ان کو بغیر سخت حاجت کے کھانا گناہ کا باعث ہے اور ایسے جانوروں کو حلال سمجھنا تو صریح کفر ہے۔ اور شیاطین اپنے یاروں ابوالاحوص اور…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَذَرُوْا ظَاهِرَ الْاِثْمِ وَبَاطِنَهٗ۔۔ : یعنی حلال و حرام صرف کھانے کی چیزوں میں منحصر نہیں ہے، بلکہ ہر ظاہر و باطن گناہ کو چھوڑنا ضروری ہے۔ شاہ عبدالقادر ؓ لکھتے ہیں : ”یعنی کافروں کے بہکانے پر نہ ظاہر میں عمل کرو اور نہ دل میں شبہ رکھو۔“ (موضح) علماء نے لکھا ہے کہ ظاہر گناہ وہ ہیں جو ہاتھ پاؤں سے کیے جائیں، جیسے چوری، زنا وغیرہ اور چھپے گناہ وہ ہیں جن کے کرنے کا دل میں عزم ہو، یا جو عقیدے سے تعلق رکھتے ہوں، جیسے کفر و شرک اور نفاق وغیرہ، یا جن گناہوں کا نقصان عام لوگوں پر واضح ہو وہ ظاہر گناہ کہلاتے ہیں اور جن کے نقصان سے چند مخصوص آدمیوں کے سوا دوسرے واقف نہ ہوں وہ باطن کہلاتے ہیں۔…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر : 120 قولہ تعالیٰ آیت : وذرا ا ظاہر الاثم و باطنہ اس بارے میں علماء کے بہت سے اقوال ہیں۔ اور ان کا نتیجہ اور حاصل جس کی طرف وہ راجح ہیں وہ یہ ہے کہ ظاہر وہ ہے جو بدن کا ایسا عمل ہو جس نے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہو اور باطن وہ عمل ہے جس کا دل سے اعتقاد رکھا جائے جو اللہ تعالیٰ کے حکم کے خلاف ہو، چاہے حکم امر کی صورت میں ہو یا نہی کی صورت میں۔ اس مرتبہ پر وہی پہنچ سکتا ہے جو تقویٰ اختیار کرے اور نیکی کرے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : آیت : ثم اتقوا وامنوا ثم اتقوا واحسنوا (المائدہ : 93) (پھر (ان احکام کے بعد بھی) ڈرتے ہیں اور (جو اترا) اس پر ایمان رکھتے ہیں پھر بھی ڈرتے ہیں…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 118–120

(1) امام ابو داؤد، ترمذی نے (اور اس کی تحسین بھی کی ہے) بزار، ابن جریر اور ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یہودی نبی ﷺ کے پاس آئے اور کہا کہ کیا ہم کھائیں ان چیزوں میں سے جن کو ہم نے خود قتل کیا اور ہم ان چیزوں میں سے نہ کھائیں جن کو اللہ تعالیٰ مارتے ہیں ؟ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری لفظ آیت فکلوا مما ذکراسم اللہ علیہ ان کنتم بایتہ مومنین سے لے کر لفظ آیت وان اطعتموھم انکم لمشرکون (2) امام ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت فکلوا مما ذکراسم اللہ علیہ اس میں سے کھاؤ جس پر اللہ کا نام لیا گیا کیونکہ وہ حلال ہے لفظ آیت ان…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَ [ اور ] ذَرُوْا [ تم لوگ چھوڑدو ] ظَاهِرَ الْاِثْمِ [ گناہ کے ظاہر کو ] وَبَاطِنَهٗ ۭ [ اور اس کے باطن کو ] اِنَّ [ بیشک ] الَّذِيْنَ [ جو لوگ ] يَكْسِبُوْنَ [ کماتے ہیں ] الْاِثْمَ [ گناہ کو ] سَيُجْزَوْنَ [ ان کو بدلہ دیا جائے گا ] بِمَا [ بسبب اس کے جس کا ] كَانُوْا يَقْتَرِفُوْنَ [ وہ لوگ ارتکاب کرتے تھے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 120–121

ظاہری اور پوشیدہ تمام گناہوں سے بچنے کا حکم : (وَ ذَرُوْا ظَاھِرَ الْاِثْمِ وَ بَاطِنَہٗ ) ( اور چھوڑ دو ظاہری گناہ اور باطنی گناہ) اس میں ظاہری اور باطنی دونوں طرح کے گناہ چھوڑنے کا حکم فرمایا ہے۔ جو گناہ ظاہری طور پر علانیہ ہے وہ بھی چھوڑو اور جو پوشیدہ ہو اسے بھی چھوڑو اللہ تعالیٰ ہر گناہ کو جانتا ہے اور وہ گناہوں کی سزا دینے پر پوری طرح قادر ہے گناہ گار یہ نہ سمجھیں کہ تنہائی میں جو گناہ کرلیا اللہ تعالیٰ کو اس کی خبر نہیں ہے۔ (اِنَّ الَّذِیْنَ یَکْسِبُوْنَ الْاِثْمَ سَیُجْزَوْنَ بِمَا کَانُوْا یَقْتَرِفُوْنَ ) بلاشبہ جو لوگ گناہ کرتے ہیں انہیں عنقریب ان کے اعمال کی جزا دیدی جائے گی۔ (وَ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 114–121

تتمۂ توبیخ معاندین وتحذیر از اتباع مضلین ومجادلین قال اللہ تعالیٰ افغیر اللہ ابتغی حکما۔۔۔ الی۔۔۔ وان اطعتموھم انکم لمشرکین (ربط) گذشتہ آیات میں یہ بیان ہوچکا کہ یہ کافر جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں اور ایسے ضدی اور عنادی ہیں کہ جن معجزات کی وہ خواہش رکھتے ہیں ان کے ظاہر ہونے پر بھی ایمان نہیں لائیں گے اگر دل میں کچ بھی قبول حق کا مادہ ہوتا تو پہلے ہی مرتبہ آیات بینات دیکھ کر ایمان لے آتے اس لے کہ اول تو قرآن کریم آپ ﷺ کا عظیم ترین معجزہ ہے اور آپ ﷺ کی نبوت و رسالت کی روشن دلیل ہے اس کی طرف رجوع کرلینا کافی ہے ؎ آفتاب آمد دلیل آفتاب گر دلیلے باید ازدے رومتاب ایسی روشن دلیل کے بعد کسی اور فیصلہ کرنے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

131 ظَاھِرَ الْاِثْمِ جو گناہ ظاہری اعضاء سے کیے جائیں مثلاً شرک فعلی وغیرہ بَاطِنَہٗ جو گناہ دل سے کیے جائیں مثلاً شرک اعتقادی وغیرہ الشرک الجلی والخفی (مدارک ج 2 ص 24) المراد بظاھر الاثم افعال الجوارح و باطنہ افعال القلوب الخ (خازن ج 2 ص 146) ۔ 132 یہاں الاثم سے مذکورہ ظاہری اور باطنی اثم ہی مراد ہے یہ تخویف اخروی ہے شرک فعلی اور شرک اعتقادی کرنے والوں کے لیے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 118–121

گذشتہ درس میں اللہ کے علاوہ دوسروں کو حکم تسلیم کرنے سے منع کیا گیا تھا ، نیز نبی علیہ اسلام کو خبر دار کیا گیا تھا کہ اگر آپ اکثریت کا کہا مانیں گے تو آپ سیدھے راستے سے بہک جائیں گے ، کیونکہ لوگوں کی اکثریت محج گمان پر چلتی ہے اور ان کے پاس حق بات نہیں ہوتی۔ اب آج کی آیات میں ایسے لوگوں کی ایک مثال بیان کی گئی ہے اور وہ یہ ہے کہ مشرک لوگ ایمان پر اعتراض کرتے تھے کہ یہ اپنے ہاتھ کا مارا ہوا جانور یعنی ذبح شدہ جانور حلال سمجھتے ہیں اور اس کا گوشت کھالیتے ہیں ، جب کہ خدا کا مارا ہوا یعنی طبی موت مرا ہوا جانور حرام جانتے ہیں۔ وہ لوگ اس بعید از قیاس خیال کرتے تھے۔ بعض مشرکین یہ بھی کہتے تھے کہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَذَرُوْا ظَاہِرَ الْاِثْمِ وَبَاطِنَہٗ۝ 0 ۭ اِنَّ الَّذِيْنَ يَكْسِبُوْنَ الْاِثْمَ سَيُجْزَوْنَ بِمَا كَانُوْا يَقْتَرِفُوْنَ۝ 120 وذر [يقال : فلان يَذَرُ الشیءَ. أي : يقذفه لقلّة اعتداده به ] ، ولم يستعمل ماضيه . قال تعالی: قالُوا أَجِئْتَنا لِنَعْبُدَ اللَّهَ وَحْدَهُ وَنَذَرَ ما کانَ يَعْبُدُ آباؤُنا[ الأعراف/ 70] ، وَيَذَرَكَ وَآلِهَتَكَ [ الأعراف/ 127] ، فَذَرْهُمْ وَما يَفْتَرُونَ [ الأنعام/ 112] ، وَذَرُوا ما بَقِيَ مِنَ الرِّبا[ البقرة/ 278] إلى أمثاله وتخصیصه في قوله : وَيَذَرُونَ أَزْواجاً [ البقرة/ 234] ، ولم يقل : يترکون ويخلّفون، فإنه يذكر فيما بعد هذا الکتاب إن شاء اللہ . […

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 119–121

ترکیب : وما استفہامیہ مبتداء لکم خبر الاتاکلوا حرف جر محذوف ای فی ان لاتاکلوا حرف جر کے حذف ہونے کے بعد محل نصب میں ہے وقد فصّل جملہ حال ہے۔ ما اضطررتم الیہ ماموصولہ اضطرر تم الیہ صلہ ماموضع نصب میں ہے جنس سے استثناء ہونے کے سبب معنی۔ کس لئے اللہ تعالیٰ نے جس پر اللہ کا نام لیا جاوے اس کے کھانے سے پرہیز کرنے پر تنبیہ کی ہے جو اباحت اکل کو مطلقاً چاہتا ہے۔ تفسیر : منجملہ مزخرفات قول کفار کے کہ جس کو شیاطین انس و شیاطینِ جن ملمع کار دلیلوں سے ان کے دلوں میں ڈالا کرتے تھے۔ ایک بات یہ بھی تھی کہ کفار جس طرح اور ناپاک چیزوں کو کھاتے تھے جیسا کہ خون وغیرہ اسی طرح جو جانور کہ از خود مرجاتا تھا یا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

ارشاد فرمایا : وَذَرُوْا ظَاھِرَ الْاِثْمِ وَ بَاطِنَہٗ ط اِنَّ الَّذِیْنَ یَکْسِبُوْنَ الْاِثْمَ سَیُجْزَوْنَ بِمَا کَانُوْا یَقْتَرِفُوْنَ ۔ (الانعام : 120) (اور چھوڑو گناہ کے ظاہر کو بھی اور اس کے باطن کو بھی بیشک جو لوگ گناہ کما رہے ہیں وہ عنقریب اپنی اس کمائی کا بدلہ پائیں گے) گناہ کو ظاہراً اور باطناً چھوڑ دو اس آیت کریمہ میں ایک حقیقتِ نفسی کو بیان کیا جا رہا ہے وہ یہ ہے کہ انسان جب اپنی کسی برائی پر پردہ ڈالنا چاہتا ہے یا اس کے لیے صحیح راہ پر چلنا دشوار ہونے لگتا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ میں اس طرح کا رویہ اختیار کروں کہ جانبین کو خوش رکھ سکوں تو پھر وہ عموماً اس طرح کی باتیں کرتا ہے کہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : صرف حرام کھانا ہی نہیں چھوڑنا بلکہ خفیہ اور اعلانیہ گناہ بھی چھوڑ دینے چاہییں۔ اس سے پہلے حکم میں مجبور انسان کو حرام کھانے کی اجازت دی گئی تھی جس سے کوئی ناجائز فائدہ اٹھا سکتا تھا کیونکہ کسی دوسرے کو کیا معلوم کہ حرام کھانے والا کس حد تک مجبور ہے۔ یعنی حالت کا صرف متعلقہ آدمی کو ہی معلوم ہوتا ہے۔ اس لیے واضح کردیا گیا کہ مومن وہ ہے جو پوشیدہ اور کھلے گناہوں کو چھوڑ دیتا ہے۔ لہٰذا انتباہ فرمایا کہ جو لوگ خفیہ یا اعلانیہ گناہ کریں گے بہت جلد سزا سے دو چار ہوں گے۔ جلد سے مراد دنیا میں اللہ تعالیٰ کی کسی نہ کسی شکل میں گرفت ہوسکتی ہے پھر آخرت کے مقابلہ میں دنیا کی زندگی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

علانیہ و پوشیدہ ہر گناہ چھوڑ دو : آیت 120 : وَذَرُوْا ظَاہِرَ الْاِثْمِ وَبَاطِنَہٗ جو علانیہ اور پوشیدہ ہیں دوسری تفسیر دو کانوں میں زنا اور خفیہ سہیلیاں تیسری تفسیر شرک جلی و خفی۔ اِنَّ الَّذِیْنَ یَکْسِبُوْنَ الْاِثْمَ سَیُجْزَوْنَ یوم قیامت میں بِمَا کَانُوْا یَقْتَرِفُوْنَجو دنیا میں کماتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

120 (وتروا ظاھر الاتم و باطنہ) یعنی تمام گناہ چھوڑ دو کیونکہ کوئی بھی گناہ اور ان دو صورتوں سے خالی نہیں یا تو ظاہر ہوگا یا چھپا ہوا۔ وذروا ظاھر الاثم و باطنہ کی تفسیر مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ ظاہر گناہ وہ ہے جو انسان اپنے اعضاء سے کرتا ہے اور باطن گناہ وہ ہے جو وہ دل میں نیت کرتے ہیں۔ کلبی (رح) فرماتے ہیں اس کا ظاہ راکثر مفسرین رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ ظاہری گناہ زنا کا اعلان کرنا اور باطن سے مراد چپکے سے زنا کرنا کیونکہ عرب زنا کو بہت پسند کرتے تھے ان کے شرفاء تو چپکے سے زنا کرتے تھے اور غیر شریف لوگ اس کی پرواہ نہیں کرتے تھے اور اس زنا کو ظاہر کردیتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو حرام…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 118–121

(118 ۔ 121) ۔ یہاں سے آخر رکوع تک کی آیتوں کی جو کچھ شان نزول ترمذی اور داؤد مستدرک حاکم طبرانی ابن ماجہ مسند بزار تفسیر ابن جریر اور ابن ابی حاتم میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ اور عکرمہ کے قول کے موافق بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ قریش اور فارس کے لوگوں میں دوستی تھی اس دوستی کے سبب سے فارس کے مجوس نے قریش سے یہ کہلا بھیجا کہ تم ان نبی پر یہ اعتراض کرو کہ اپنا ذبح کیا ہوا جانور کھانا اور خدا کا مارا ہوا جانور نہ کھانا یہ کونسا دین ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں قریش کا جواب جو ان آیتوں میں ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ ذبح شدہ جانور پر اللہ کا نام لیا جاتا ہے اس واسطے وہ پاک اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

آیت 120 یہاں (اثم) سے مراد تمام معاصی ہیں جو بندے کو گناہگار کرتے ہیں یعنی اسے ان امور کے بارے میں گناہ اور حرج میں مبتلا کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اور بندوں کے حقوق سے متعلق ہوتے ہیں۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بندوں کو ظاہری اور باطنی گناہوں کے ارتکاب سے منع کیا ہے یعنی چھپ کر یا علانیہ ان تمام گناہوں سے روکا ہے جو بدن، جوارح اور قلب سے متعلق ہیں۔ بندہ ظاہری اور باطنی گناہوں کو اس وقت تک کامل طور پر ترک نہیں کرسکتا جب تک کہ وہ بحث و تحقیق کے بعد ان کی معرفت حاصل نہیں کرلیتا۔ بنابریں گناہوں کے بارے میں بحث و تحقیق کرنا، قلب وجوارح کے گناہوں کی معرفت اور ان کے بارے میں علم حاصل کرنا مکلف پر…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

قول باری ہے ( وذروا ظاھر الاثم و باطنہ۔ تم کھلے گناہوں سے بھی بچو اور چھپے گناہوں سے بھی) ضحاک کا قول ہے کہ زمانہ جاہلیت میں لوگ کھلم کھلا زنا کاری کو گناہ سمجھتے تھے لیکن حفیہ طور پر اس فعل بد کے ارتکاب کو گناہ نہیں خیال کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ( وزروا ظاھر الاثم و باطنہ) اس میں ہر ایسے فعل سے جو لفظ اثم کے تحت آتا ہو علانیہ طور پر باز رہنے کے حکم میں عموم ہے اور خفیہ طور پر بھی۔ یہ آیت شراب کی تحریم کی بھی موجب ہے اس لیے کہ قول باری ہے ( یسئلونک عن الخمر والمیسر قل فیھما اثم کبیر۔ آپ ﷺ سے شراب اور جوئے کے متعلق پوچھتے ہیں، آپ کہہ دیجئے کہ ان دونوں چیزوں میں بہت بڑا گناہ ہے ۔ آیت زیر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

231 ہر قسم کے گناہ کو چھوڑنے کی تعلیم و تلقین : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اور صاف وصریح طور پر ارشاد فرمایا گیا اور چھوڑ دو تم لوگ ظاہری گناہ کو۔ یعنی وہ تمام برائیاں جو ظاہر میں نظر آتی ہیں، اور اعضا وجوارح وغیرہ سے صادر ہونے والے برے اعمال و اَفعال اور اسی طرح وہ گناہ جو اعلانیہ طور پر اور برسرعام کئے جائیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ کہ گناہ بہرحال گناہ اور بری چیز ہے۔ اور وہ بہرطور خسارے اور نقصان کا باعث ہے۔ خواہ اس خسارے اور نقصان کا تعلق فرد سے ہو یا جماعت سے۔ انسان کے ظاہر سے ہو یا اس کے باطن سے۔ جلد ہو یا بدیر۔ اسی لئے کتاب حکیم قرآن مجید میں دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا کہ رب تعالیٰ نے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 118–121

جانور کو حلال کرنے کی شرط، گمراہوں کی پیروی کا رد تشریح : حلال حرام کے بارے میں بڑی تفصیل سے پہلے بیان کیا جا چکا ہے۔ کفار کے جواب میں پھر اس مسئلہ کی وضاحت کردی گئی ہے۔ کفار نے اعتراض کیا کہ لو دیکھو اللہ کے مارے ہوئے کو تو نہیں کھاتے جس کو خود ماریں اسے کھالیتے ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جس جانور کو ذبح کرتے ہوئے اللہ کا نام لیا جائے وہ حلال ہے، لیکن جس پر اللہ کے سوا کسی کا نام لیکر ذبح کیا جائے وہ مسلمان کو کھانا منع ہے۔ ہاں ! اگر جان کو خطرہ ہو، یعنی انتہائی مجبوری پیش آجائے تو پھر کھا سکتے ہیں اور یہ مجبوری اللہ خوب جانتا ہے۔ کبھی بھی اللہ سے چھپا کر یا ظاہر طور پر گناہ نہ کرو۔…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 112–122

رکوع نمبر 14 آیات نمبر 112 تا 122: اسرار و معارف : ایمان کا مدار در اصل اس قلبی کیفیت پر ہے جو انسان کو رب العلمین سے نصیب ہوتی ہے جس کی بنیاد تو انسانی مزاج میں رکھ دی گئی ہے مگر اسے نور نبوت ہی سے جلا ملتی ہے اور یہ جذبہ دل میں سر اٹھاتا ہے کہ مجھے اپنے رب کی رضا کو حاصل کرنا چاہئے اور اس کا قرب پانا چاہئے۔ انسانی کردار اس کے ضمیر کو متاثر کرتا رہتا ہے حتی کہ بعض مظالم ایسے ہوتے ہیں جو دل میں اس جذبے پر تہ در تہ تاریکیاں مسلط کردیتے ہیں ایسے ہی بدنصیب تھے وہ لوگ جو آقائے نامدار ﷺ کے مبارک عہد میں آپ کے رخ انور سے بھی کوئی کرن تک حاصل نہ کرسکے کچھ خوش نصیب اگرچہ نور ایمان کو بعض وجوہ کی بنا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 6 یعنی حلال و حرام صر کھانے کی چیزوں میں منحصر نہیں ہے بلکہ ہر ظاہر و باطن گناہ سے اجتناب ضروری ہے (وحیدی) حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی کافروں کے بہکانے پر نہ ظاہر میں عمل کرو اور نہ دل میں شبہ رکھو۔ (موضح) علمانے لکھا ہے کہ ظاہر گناہ وہ ہے جو ہاتھ پاؤں کے ذریعے کیا جائے جیسے چوری زنا وغیرہ اور چھپنے گناہ وہ ہیں جن کے کرنے کا دل میں عزم ہو یا جو عقیدہ سے تعلق رکھتے ہیں جیسے شرک وکفر اور نفاق وغیرہ یا جن گناہوں کا نقصان عام لوگوں پر واضح ہو وہ ظاہر کہلاتے ہیں اور جن کے نقصان سے چند مخصوص آدمیوں کے سوا دوسرے واقف نہ ہوں وہ باطن کہلاتا ہیں۔ ( المنار)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(6:120) ذروا۔ امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ وذر سے تم چھوڑدو۔ ملاحظہ ہو 6:109 ۔ کانوا یقترفونمضارع جمع مذکر غائب کانوا یقترفون ماضی استمراری (جس کا) وہ ارتکاب کیا کرتے تھے۔ ملاحظہ ہو 6:114

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 118–121

لغات القرآن : آیت نمبر 118 تا 121 : الا تاکلوا ( یہ کہ تم کیوں نہیں کھاتے ؟ ) ذکراسم اللہ ( اللہ کا نام لیا گیا ہے) اضطررتم ( تم مجبور ہو جائو۔ مجبور کردیئے گئے) ‘ المعتدین (زیادتی کرنے والے) ذروا ( چھوڑ دو ) ظاھرالاثم ( ظاہری گناہ۔ کھلا ہوا گناہض سیجزون ( جلدہی بدلہ دیئے جائیں گے) فسق (گناہ) لیجادلو (تاکہ وہ جھگڑا کریں) تشریح : آیت نمبر 118 تا 121 : حضرت عبد اللہ ؓ بن عباس ؓ کی روایت ہے کہ عرب کے جہلا کو اسلام کے خلاف بھڑکانے کے لئے علمائے یہود جس قسم کے سوالات سکھایا کرتے تھے ان میں ایک سوال یہ بھی تھا کہ واہ واہ یہ کیا بات ہے جس جانور کو اللہ ماردے وہ تو حرام ہوجائے اور جس جانور کو انسان…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 118–121

شان نزول : جس کا مطلب یہ ہے کہ قریش نے اعتراض کیا کہ اپناذبح کیا ہوا جانور کھانا اور خدا کا مرا ہوا جانور نہ کھانا یہ کون سا دین ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں۔ قریش کا جواب جو ان آیتوں میں ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ ذبح شدہ جانور پر اللہ تعالیٰ کا نام لیا جاتا ہے اس واسطے وہ پاک اور حلال ہے۔ بتوں کے نام پر جو جانور ذبح کیا جاوے یا جو جانور اپنی موت سے مرجاوے بہ سبب اس کے کہ اللہ تعالیٰ کا نام اس پر نہیں لیا گیا وہ حرام اور نجس ہے۔ مفصل تفصیل حلال و حرام کی سورة مائدہ میں معلوم ہوچکی ہے، تو پھر ہر ایماندار آدمی کو چاہیے کہ اس کی پابندی کرے اور مردار کھانے والے لوگ جو حد شرع کے خود…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 120–121

[45] ملاحظہ ہو سورة بقرہ حاشیہ 108 صفحہ 106 [46] عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ علمائے یہود جہلائے عرب کو نبی ﷺ پر اعتراض کرنے کے لیے گھڑ گھڑ کر سوالات سنایا کرتے تھے تاکہ عوام کے دلوں میں شبہات ڈالیں اور انہیں حق سے لڑنے کے لیے ہتھیار فراہم کریں۔ ان میں سے ایک یہ بھی تھا کہ آخر یہ کیا معاملہ ہے جسے اللہ مارے وہ تو حرام ہے اور جسے ہم ماریں وہ حلال ہوجائے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 119–120

(ف 1) ایک اعتراض ذبیحہ پر یہ تھا کہ مسلمان خود مار کر کھالیتے ہیں اور خدا کا مارا ہوا جانور نہیں کھاتے اس کی کیا وجہ ہے َ اس کا جواب یہ ہے کہ ذبح کرنے یہ راز مضمر ہے کہ اس سے توحید کا اعلان ہوتا ہے ، اللہ سے تعلق پیدا ہوتا ہے ، اور مسلمان کو یہ انتباہ ہوتا ہے ، کہ کسی وقت اللہ کو فراموش نہ کرے ، (آیت) ” الا ما اضطرر تم الیہ “۔ سے غرض یہ ہے کہ اگر کھانے کو کچھ نہ ملے اور زندگی خطرے میں ہو تو حرام بھی کھالے ، زندگی بہرحال زیادہ عزیز ہے ، اور اصل میں حلت و حرمت کی بحث محض بقاء حیات کے لئے وہ چیزیں جو حیات انسان کے لئے مفید ہیں ، شریعت نے ان کے کھانے میں کوئی پابندی نہیں رکھی اور وہ جو مضر ہیں ،…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-120 اور تم کھلے گناہ اور چھپے گناہ سب چھوڑ دو اور ترک کردو بلاشبہ جو لوگ گناہوں کا ارتکاب کر رہے ہیں اور گناہ کما رہے ہیں عنقریب ان کو ان افعال کی سزا دی جائے گی جن کا وہ ارتکاب کیا کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 118–120

ف 3۔ اوپر وان تطع۔ میں اہل ضلال کے اتباع سے مطلقا منع فرمایا تھا اب باقتضا ایک واقعہ کے ایک خاص امر میں اتباع کرنے سے منع فرماتے ہیں وہ خاص امرمذبوح وغیر مذبوح کی حلت و حرمت ہے اور وہ واقعہ یہ ہے کہ کفار نے مسلمانوں کو یہ شبہ ڈالنا چاہا کہ اللہ کے مارے ہوئے جانور کو تو کھاتے نہیں اور اپنے مارے ہوئے یعنی ذبیحہ کو کھاتے ہو بعض مسلمانوں نے نبی ﷺ کی خدمت میں یہ شبہ نقل کیا اس پر یہ آیتیں لمشرکون تک نازل ہوئیں۔ 4۔ کیونکہ حلال کو حرام جاننا خلاف ایمان ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

گناہ کی باتوں کو ترک کردو خواہ گناہ چھپا ہوا ہو یا ظاہر ہو : 184: گناہ گناہ ہی ہے خواہ اس سے دوسرے لوگ واقف ہوں یا نہ ہوں۔ گناہ کرنے والوں کے لئے اس کی مضرت یکساں ہے لیکن یہ مضرت اخروی ہے اگر کسی سے کوئی گناہ ہوا لیکن وہ اتنا پوشیدہ تھا کہ کرنے والے کے علاوہ کوئی نہیں جانتا تھا پھر اس گناہ کرنے والے نے جس کا گناہ کیا اس سے معاف کرالیا اور اللہ تعالیٰ سے معافی مانگ لی تویقیناً وہ دنیوی اور اخروی دونوں برائیوں سے بچ گیا۔ اسی طرح یہاں ہر قسم کے گناہوں سے باز آنے کا حکم دیا گیا خواہ ان کا تعلق اعضائے جسمانی سے ہو یا دل کے ارادوں سے خواہ ان کا ارتکاب مجمع عام میں کیا جائے گا یا لوگوں سے چھپ چھپا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 118–121

Linkage of Verses Earlier (116), by saying: وَ اِن تطِع (And if you obey), following people in error was prohibited absolutely. Onward from there, comes the prohibition of such following in a particular matter as necessitated by an event. That event pertains to the lawfulness of what has been slaughtered properly or improperly. The event is that disbelievers tried to put Muslims in doubt by commenting that they did not eat of the animals killed by Allah (i.e. by natural death) while they had no problem with eating of what they killed (slaughtered) themselves (as deduced by Abu Dawud and…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 119–120

85. See (Surah al-Nahl 16:15). We may observe in passing that this allusion indirectly establishes that Surah al-Nahl was revealed before the present surah.

Read the full tafseer →