مومن اور کافر کا تقابلی جائزہ
مومن اور کافر کی مثال بیان ہو رہی ہے ایک تو وہ جو پہلے مردہ تھا یعنی کفر و گمراہی کی حالت میں حیران و سرگشتہ تھا اللہ نے اسے زندہ کیا، ایمان و ہدایت بخشی اتباع رسول کا چسکا دیا قرآن جیسا نور عطا فرمایا جس کے منور احکام کی روشنی میں وہ اپنی زندگی گزارتا ہے اسلام کی نورانیت اس کے دل میں رچ گئی ہے، دوسرا وہ جو جہالت و ضلالت کی تاریکیوں میں گھرا ہوا ہے جو ان میں سے نکلنے کی کوئی راہ نہیں پاتا کیا یہ دونوں برابر ہوسکتے ہیں ؟ اسی طرح مسلم و کافر میں بھی تفاوت ہے نور و ظلمت کا فرق اور ایمان و کفر کا فرق ظاہر ہے اور آیت میں ہے (اَللّٰهُ وَلِيُّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 122–123
سورة الْاَنْعَام 88
یہاں موت سے مراد جہالت و بےشعوری کی حالت ہے، اور زندگی سے مراد علم و ادراک اور حقیقت شناسی کی حالت۔ جس شخص کو صحیح اور غلط کی تمیز نہیں اور جسے معلوم نہیں کہ راہ راست کیا ہے وہ طبیعیات کے نقطہ نظر سے چاہے ذی حیات ہو مگر حقیقت کے اعتبار سے اس کو انسانیت کی زندگی میسر نہیں ہے۔ وہ زندہ حیوان تو ضرور ہے مگر زندہ انسان نہیں۔ زندہ انسان درحقیقت صرف وہ شخص ہے جسے حق اور باطل، نیکی اور بدی، راستی اور ناراستی کا شعور حاصل ہے۔
سورة الْاَنْعَام 89
یعنی تم کس طرح یہ توقع کرسکتے ہو کہ جس انسان کو انسانیت کا شعور نصیب ہوچکا ہے اور جو علم کی روشنی میں ٹیڑھے راستوں کے درمیان حق کی سیدھی…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
ایسا شخص جو کہ پہلے مردہ (یعنی گمراہ) تھا ہم نے اس کو زندہ (یعنی مسلمان) بنادیا اور ہم نے اس کو ایک ایسا نور (یعنی ایمان) دے دیا کہ وہ اس کو لئے ہوئے آدمیوں میں چلتا پھرتا ہے (یعنی ہر وقت وہ اس کے ساتھ رہتا ہے، جس سے وہ سب مضرتوں سے مثل گمراہی وغیرہ محفوظ اور مامون دبے فکر پھرتا ہے تو) کیا ایسا شخص (بدحالی میں) اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جس کی حالت یہ ہو کہ وہ (گمراہی کی) تاریکیوں میں (گھرا ہوا) ہے (اور) ان سے نکلنے ہی نہیں پاتا (مراد یہ کہ وہ مسلمان نہیں ہوا، اور اس کا تعجب نہ کیا جاوے کہ کفر پر باوجود اس کے ظلمت ہونے کے وہ کیوں قائم رہا، وجہ یہ کہ جس طرح مومنین کو ان کا ایمان اچھا…
Read the full tafseer →اَوَمَنْ كَانَ مَيْتًا الایہ، یہاں ‘ موت ’ سے مراد کفر کی زندگی اور حیات سے مراد ایمان کی زندگی ہے۔ نور سے مراد وہ کتاب ہے جس کا ذکر آیت 114، 119 میں گزرا جو اللہ تعالیٰ نے حق و باطل کے درمیان امتیاز اور حرام و حلال کی تفصیل کے لیے اتاری، ظلمات، سے مراد وہ ظنون و اوہام اور وہ خواہشات و بدعات ہیں جن کی طرف آیات 116، 119 میں اشارہ فرمایا ہے۔
اہل ایمان اور اہل کفر کی تمثیل : یہ اہل ایمان اور ان مشرکین کی تمثیل بیان ہوئی ہے کہ اہل ایمان کو اللہ نے کفر کی موت کے بعد ایمان کی زندگی بخشی ہے اور ان کو اپنی کتاب کی شکل میں ایک نور مبین عطا فرمایا ہے جس سے وہ خود بھی روشنی حاصل کر رہے ہیں، دوسروں کو…
Read the full tafseer →122۔ 1 اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے کافروں کو میت (مردہ) مومن کو حی (زندہ) قرار دیا۔ اس لئے کہ کافر کفرو ضلالت کی تاریکیوں میں بھٹکتا پھرتا ہے اور اس سے نکل ہی نہیں پاتا جس کا نتیجہ ہلاکت و بربادی ہے۔ اور مومن کے دل کو اللہ تعالیٰ ایمان کے ذریعے سے زندہ فرماتا ہے جس سے زندگی کی راہیں اس کے لئے روشن ہوجاتی ہیں اور وہ ایمان اور ہدایت کے راستے پر گامزن ہوجاتا ہے، جس کا نتیجہ کامیابی اور کامرانی ہے۔ یہ وہی مضمون ہے جو حسب ذیل آیات میں بیان کیا گیا ہے۔ سورة بقرہ 257، سورة ھود 24، سورة فاطر، 19، 22،
Read the full tafseer →54: یہاں روشنی سے مراد اسلام کی روشنی ہے اور لوگوں کے درمیان چلتا پھرتا ہو فرما کر اشارہ اس طرف کردیا گیا ہے کہ اسلام کا تقاضا یہ نہیں ہے کہ انسان مذہبی عبادات کو لے کر دنیا سے ایک طرف ہو کر بیٹھ جائے اور لوگوں سے میل جول چھوڑدے ؛ بلکہ اسلام کا تقاضا یہ ہے کہ وہ عام انسانوں کے درمیان رہے، ان سے ضروری معاملات کرے، ان کے حقوق ادا کرے ؛ لیکن جہاں بھی جائے اسلام کی روشنی ساتھ لے جائے، یعنی یہ سارے معاملات اسلامی احکام کے تحت انجام دے۔
Read the full tafseer →(آیت) ” نمبر 122 تا 125۔
ان آیات میں ہدایت وضلالت کی ماہیت کی تصویر کشی کی گئی ہے اور حقیقت ہدایت وضلالت پر حقیقت ضلالت کی نہایت ہی حقیقت پسندانہ تعبیر کی گئی ہے ۔ اس کے اندر جو تشبیہات اور جو مجاز استعمال کیا گیا ہے وہ اس لئے کیا گیا ہے کہ یہ تصویر پرتاثیر بن جائے ۔ تشبہیات اور مجاز بھی نہایت ہی واقعیت پسندانہ ہیں۔
ہدایت وضلالت کے حقائق اپنی نوعیت کے اعتبار سے ایسے ہیں جن کو سمجھانے کے لئے اس قسم کی تصویر کشی اور موثر انداز بیان نہایت ہی ضروری ہے ۔ اگرچہ بلاشبہ ہدایت وضلالت حقائق ہیں ۔ لیکن یہ روحانی اور نظریاتی حقائق ہیں اور ایسے حائق میں جنہیں تجربات اور عمل کے ذریعے چکھا جاسکتا ہے ۔ رہی…
Read the full tafseer →1 پہلے فرمایا کہ شیاطین اپنے رفقاء کے دل میں ڈالتے ہیں کہ وہ مسلمانوں سے جھگڑا کریں یعنی بحث و جدل، تلبیس و تلمیع اور وسوسہ اندازی کر کے ان کو طریق حق سے ہٹا دیں۔ لیکن ان کو یہ ہوس خام اپنے دلوں سے نکال دینا چاہئے۔ وہ گروہ یا وہ شخص جو جہل و ضلال کی موت سے مرچکا تھا۔ پھر اس کو حق تعالیٰ نے ایمان و عرفان کی روح سے زندہ کیا اور قرآن کی روشنی عطا فرمائی جسے لے کر وہ لوگوں کے ہجوم میں بےتکلف راہ راست پر چل رہا ہے کیا اس کا حال اغواء شیطانی کے قبول کرنے میں ان " اولیاء الشیطان " جیسا ہوسکتا ہے جو جہالت و ضلالت کی اندھیروں میں پڑے ٹھوکریں کھا رہے ہیں جس سے نکلنے کی کوئی راہ نہیں پاتے کیونکہ اسی…
Read the full tafseer →آیت 122 اَوَ مَنْ کَانَ مَیْتًا فَاَحْیَیْنٰہُ
اس سے معنوی حیات و ممات مراد ہے ‘ یعنی ایک شخص جو اللہ سے واقف نہیں تھا ‘ صرف دنیا کا بندہ بنا ہوا تھا ‘ اس کی انسانیت در حقیقت مردہ تھی ‘ وہ حیوان کی حیثیت سے تو زندہ تھا لیکن بحیثیت انسان وہ مردہ تھا ‘ پھر اللہ تعالیٰ نے اسے ایمان کی ہدایت دی تو اب گویا وہ زندہ ہوگیا۔
وَجَعَلْنَا لَہٗ نُوْرًا یَّمْشِیْ بِہٖ فِی النَّاسِ کَمَنْ مَّثَلُہٗ فِی الظُّلُمٰتِ لَیْسَ بِخَارِجٍ مِّنْہَا ط کَذٰلِکَ زُیِّنَ لِلْکٰفِرِیْنَ مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ
مثال کے طور پر ایک وہ شخص تھا جسے پہلے ہوش نہیں تھا ‘ کبھی اس نے نظریاتی معاملات کی پیچیدگیوں کی طرف توجہ ہی…
Read the full tafseer →129 ایک کافر اور ایماندار کی مثال :۔ یہاں مردہ سے مراد روحانی طور پر مردہ ہے۔ یعنی ایک شخص پہلے کافر تھا پھر وہ اسلام لے آیا اور اسے وحی کے علم کی روشنی نصیب ہوئی۔ لوگوں میں رہ کر وہ اسی روشنی کے مطابق اپنی زندگی بسر کر رہا ہے اور دوسرا شخص کفر و شرک اور جہالت و ضلالت کی تاریکیوں میں ڈبکیاں کھا رہا ہے اور اسے ان تاریکیوں سے نکلنے کی کوئی راہ بھی نہیں مل رہی تو کیا ان دونوں کی حالت یکساں ہوسکتی ہے اور نکلنے کی راہ اس لیے نہیں ملتی کہ انہیں یہ تاریکیاں ہی روشنی معلوم ہونے لگتی ہیں اور ان کے برے کام انہیں بھلے معلوم ہونے لگتے ہیں ہر بدکاری میں انہیں مزہ آتا ہے اور ہر حماقت کو وہ تحقیق سمجھنے…
Read the full tafseer →177 ۔ یعنی وہ مومن جسے کفر سے نجات مل گئی ہے۔ اور کافر جو کفر کے اندھیروں میں پڑا ہے کہیں دونوں برابر ہوسکتے ہیں ؟ التفسیر الماثور عن ابن عباس ؓ ان المراد بالمیت الکافر الضال وبالاحیاء الھدایۃ وبالنور القران وبالظلمات الکفر والضلالۃ (روح) (آیت) ” وجعلنا لہ نورا یمشی بہ فی الناس “۔ یعنی وہ نور ایمان ہر وقت اس کے ساتھ ہے اور وہ اسے تمام گمراہیوں سے محفوظ رکھے ہوئے ہے۔ ای امانا یھتدی بہ سبل الخیر والنجاۃ (ابن قتیبہ) (آیت) ” فی الظلمت “۔ مراد وہ شخص ہے جو کفر کی تاریکیوں میں گھرا ہوا ہے۔ ای فی الکفر “۔ (ابن قتیبہ) ای الجھالات والا ھواء والضلالات المتفرقۃ (ابن کثیر) (آیت) ” نورا یمشی بہ “۔ ضمیر اس…
Read the full tafseer →آیت نمبر 122 تا 129
ترجمہ : اور (آئندہ آیت) ابوجہل وغیرہ کے بارے میں نازل ہوئی، کیا وہ شخص جو کفر کی وجہ سے مردہ ہو پھر ہم نے اس کو ہدایت کے ذریعہ زندہ کردیا ہو اور اس کو ایسا نور دیا ہو کہ جس کی روشنی میں لوگوں کے درمیان چلتا ہو (یعنی) اس نور کے ذریعہ حق و باطل کو دیکھتا ہو، اور وہ (نور) ایمان ہے اس جیسا لفظ (مثل) زائد ہے ہوسکتا ہے کہ جو تاریکیوں میں بھٹک رہا ہو ؟ تاریکیوں سے نکل ہی نہ پاتا ہو اور وہ کافر ہے، نہیں ہوسکتا، جس طرح مومنوں کیلئے ایمان خوشنما بنادیا گیا ہے اسی طرح کافروں کیلئے ان کے اعمال یعنی کفر و معاصی خوشنما بنا دئیے گئے ہیں اور جس طرح ہم نے مکہ کے سرغنوں کو فاسق (حد سے تجاوز…
Read the full tafseer →او من کان میتا فاحیینہ وجعلنا لہ نورا یمشی بہ فی الناس کمن مثلہ فی الظلمت لیس بخارج منہا . ایسا شخص جو کہ پہلے مردہ تھا پھر ہم نے اس کو زندہ بنا دیا اور ہم نے اس کو روشنی عطا کردی جس کو لئے ہوئے وہ آدمیوں میں چلتا پھرتا ہے کیا اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جس کی حالت یہ ہو کہ وہ تاریکیوں میں (پھنسا ہوا) ہو ان سے نکلنے ہی نہیں پاتا۔ یہ استعارہ تمثیلیہ ہے مردہ سے مراد ہے کافر جس کا دل حق سے غافل ہوتا ہے اور مردہ کی طرح اس کو فائدہ بخش اور ضرر رساں چیزوں میں امتیاز نہیں ہوتا۔ زندہ کرنے سے مراد ہے نور ایمان سے دل کو زندہ کردینا۔ نور سے مراد ہے مومن کی وہ فطری دانائی جس کی وجہ سے اس کو حق و باطل کی…
Read the full tafseer →(122) یہ آیت عمار بن یاسر ؓ اور ابوجہل کے بارے میں نازل ہوئی ہے یعنی حضرت عمار پہلے صاحب ایمان نہ تھے پھر ہم نے ان کو ایمان کی بدولت عزت عطا کی اور ہم نے انکو ایسی معرفت عطا فرمائی جس کی بدولت وہ لوگوں میں چلتے پھرتے ہیں یا یہ کہ ہم ان کو پل صراط پر ایک خاص نور عطا فرمائیں گے جس کی وجہ سے وہ لوگوں کے درمیان سے اس پر بلاخوف وخطر گزر جائیں گے،۔
تو کیا ایسا شخص اس شخص کی مانند ہوسکتا ہے جو دنیا میں کفر کی تاریکیوں میں گرفتار ہے اور قیامت کے دن جہنم کے اندھیروں میں پڑا ہوگا وہ ابوجہل ہے اور دنیا میں کفر کی تاریکیوں اور آخرت میں جہنم کے اندھیروں سے وہ نکلنے ہی نہیں پاتا۔
جیسا کہ ابوجہل کو اپنے غلط…
Read the full tafseer →اَوَمَنْ كَانَ مَيْتًا فَاَحْيَيْنٰهُ۔۔ : یعنی وہ کافر تھا اسے مسلمان بنایا۔ (شوکانی) اوپر جانوروں کے مردوں کا ذکر تھا، یہاں کافر پر وہی مثال فرمائی، یعنی جب کافر تھے تو جہل اور کفر و شرک کے باعث سب مردے تھے، پھر جس کو ایمان ملا وہ زندہ ہوا اور روشنی اور راہ ہدایت پائی اور اس کے چہرے پر سب لوگ ایمان کی روشنی دیکھتے ہیں اور جس کو ایمان نہ ملا وہ اندھیروں میں پڑا رہا۔ (موضح) مسلمان اور کافر کے زندہ اور مردہ ہونے کا مضمون دیکھیے سورة بقرہ (257) ، سورة ہود (24) اور سورة فاطر (19 تا 22) میں۔
كَذٰلِكَ زُيِّنَ لِلْكٰفِرِيْنَ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ : یعنی شیطان اپنے وسوسوں کے ذریعے سے ان کافروں کی…
Read the full tafseer →آیت : 122
قولہ تعالیٰ : آیت : اومن کان میتا فاحیینٰہ جمہور نے واؤ کو مفتوح پڑھا ہے، اور اس پر ہمزہ استفہام داخل کیا گیا ہے۔ مسبی نے نافع بن ابی نعیم سے اومن کان واؤ ساکن کے ساتھ روایت کی ہے۔ نحاس نے کہا ہے : اس کا معنی پر محمول ہونا بھی جائز ہے، یعنی تم دیکھو اور تدبر کرو کیا میں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی منصف تلاش کروں ؟ آیت : اومن کان میتا فاحیینہ کہا گیا ہے : اس کا معنی ہے وہ مردہ تھا جس وقت وہ نطفہ تھا، پھر ہم نے اس میں روح پھونک کر اسے زندہ کیا، اسے ابن البحر نے بیان کیا ہے۔ اور حضرت ابن عباس ؓ نے بیان فرمایا : کیا وہ جہ پہلے کافر تھا اور ہم نے اسے ہدایت عطا فرمائی ؟
یہ آیت حضرت حمزہ بن…
Read the full tafseer →(1) امام ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت اومن کان میتا فاحیینہ کے بارے میں فرمایا کہ کافر گمراہ تھا ہم نے اس کی ہدایت دی لفظ آیت وجعلنا لہ نورا میں نور سے مراد ہے قرآن لفظ آیت کمن مثلہ فی الظلمت میں ظلمات سے مراد ہے کفر ار گمراہی۔
(2) امام عبد بن حمید، ابن منذر اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت اومن کان میتا یعنی جو شخص گمراہ ہو لفظ آیت فاحیینہ پھر ہم نے اس کو ہدایت دی لفظ آیت وجعلنا لہ نورا یمشی بہ فی الناس یعنی ہدایت (کے ساتھ لوگوں میں چلتا ہے) لفظ آیت کمن مثلہ فی الظلمت یعنی ہمیشہ گمراہی میں تو پڑا ہوا ہے۔
(3) امام ابن…
Read the full tafseer →اَوَمَنْ [ اور کیا وہ ، جو ] كَانَ [ تھا ] مَيْتًا [ مردہ ] فَاَحْيَيْنٰهُ [ پھر ہم نے زندگی دی اس کو ] وَجَعَلْنَا [ اور ہم نے بنایا ] لَهٗ [ اس کے لئے ] نُوْرًا [ ایک نور ] يَّمْشِيْ [ وہ چلتا پھرتا ہے ] بِهٖ [ اس سے ] فِي النَّاسِ [ لوگوں میں ] كَمَنْ [ اس کی مانند ہے ] مَّثَلُهٗ [ جس کے جیسا ] فِي الظُّلُمٰتِ [ اندھیروں میں ہے ] لَيْسَ بِخَارِجٍ [ (وہ ) نکلنے والا نہیں ہے ] مِّنْهَا ۭ [ ان سے ] كَذٰلِكَ [ اس طرح ] زُيِّنَ [ سجایا گیا ] لِلْكٰفِرِيْنَ [ کافروں کے لیے ] مَا [ اس کو جو ] كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ [ یہ لوگ کرتے ہیں ]
ص غ ر : (س) صغرا چھوٹا ہونا ۔ صغیر ، فعیل کے وزن پر صفت ہے ۔…
Read the full tafseer →مومن زندہ ہے اس کے لیے نور ہے اور کافر اندھیریوں میں گھرا ہوا ہے
علامہ بغوی معالم التنزیل ج 2 ص 128 میں لکھتے ہیں کہ یہ آیت دو خاص آدمیوں کے بارے میں نازل ہوئی۔ پھر ان دو آدمیوں کے تعین میں حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ (وَ جَعَلْنَا لَہٗ نُوْرًا) سے حضرت حمزہ بن عبدالمطلب ( رسول اللہ ﷺ کے چچا) مراد ہیں، اور (مَّثَلُہٗ فِی الظُّلُمٰتِ ) سے ابو جہل مراد ہے۔ واقعہ یہ پیش آیا تھا کہ ابو جہل نے ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ پر گھوڑے کی لید پھینک دی تھی۔ حضرت حمزہ ؓ کو اس کا پتہ چلا جو شکار کر کے ہاتھ میں کمان لیے ہوئے آ رہے تھے اور ابھی تک اسلام قبول نہیں کیا تھا۔ ابو جہل کی حرکت کا علم ہوا تو غصہ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 122–127
مسلمان اور کافر کی مثال
قال اللہ تعالیٰ او من کان میتا فاحییناہ۔۔۔ الی۔۔۔ وھو ولیھم بما کانوا یعملون
(ربط) اوپر کی آیت میں اول مشرکین کے مجادلہ اور عناد کا ذکر فرمایا اور پھر مسلمانوں کو اہل جدال اور اہل ضلال کی اتباع سے منع فرمایا اب ان آیات میں مسلمان اور کافر کی مثال بیان فرماتے ہیں تاکہ دونوں میں فرق ظاہر ہوجائے اور معلوم ہوجائے کہ کون لائق اتباع ہے اور کون لائق نفرت ہے۔
وہ مثال یہ ہے کہ جو شخص کفر کے بعد مسلمان ہوا گویا کہ وہ زندہ ہوگیا اور اس کو روشنی مل گئی ایسا شخص قابل اطاعت اور لائق اتباع ہے اور جو شخص کفر پر قائم ہے وہ اندھیروں میں گھرا ہوا ہے اور سرگرداں اور حیران ہے خلاصی کی کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 122–123
134 بشارت مع تخویف۔ یہ مومن و کافر اور موحد و مشرک کی تمثیل ہے۔ کفر وشرک کو موت اور ظلمت سے ور ایمان و توحید کو حیات اور نور سے تشبیہ دی یعنی جو شخص پہلے کافر و مشرک تھا اللہ نے اس کے مردہ دل کو زندگی عطا فرمائی اور اسے ایمان کی توفیق دے کر ہدایت کی روشنی عطا کی وہ اس شخص کی مانند نہیں ہوسکتا جو کفر شرک کے اندھیروں میں گھرا ہوا ہے اور ایمان کی توفیق اور ہدایت کی روشنی سے محروم ہے کَذٰلِکَ زُیِّنَ الخ یہ انکار کی چوتھی وجہ کا اعادہ ہے۔
135 یہ نہ ماننے کی چھٹی وجہ ہے۔ اَکٰبِرَ جَعلْنَا کا مفعول اول اور مُجْرِمِیْھَا مفعول ثانی یا برعکس لِیَمْکُرُوْا لام عاقبت یعنی ہر بستی کے بڑے بڑے لوگ مجرم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 122–124
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے شرک کی تردید اور توحید رسالت کا ذکر فرمایا شیاطین کے اغوا سے خبردار کیا ، قرآن پاک کی حقانیت کا تذکرہ ، اکثریت اور اقلیت کا مسئلہ بیان کیا کہ انسانو کی اکثریت محض گمان پر چلتی ہے اور اٹکل پچو باتیں کرتی ہے۔ اس ضمن میں ایک مثال بھی بیان فرمائی کہ مشرک اہل ایمان پر اعتراض کرتے ہیں کہ مؤخر الذکر اپنے ہات کا مارا جانور تو کھالیتے ہیں مگر خدا تعالیٰ کا مارا ہوا حرام سمجھتے ہیں اللہ تعالیٰ نے اس کو محض شیطانی خیال اور غلط قسم کا پراپیگنڈہ قرار دیا اور فرمایا کہ جس جانور پر بوقت ذبح اللہ کا نام لے لیا جائے اس میں برکت اور پاکیزگی پیدا ہوجاتی ہے ، اور جو جانور شرعی…
Read the full tafseer →اَوَمَنْ كَانَ مَيْتًا فَاَحْيَيْنٰہُ وَجَعَلْنَا لَہٗ نُوْرًا يَّمْشِيْ بِہٖ فِي النَّاسِ كَمَنْ مَّثَلُہٗ فِي الظُّلُمٰتِ لَيْسَ بِخَارِجٍ مِّنْہَا 0 ۭ كَذٰلِكَ زُيِّنَ لِلْكٰفِرِيْنَ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ 122
الف ( ا)
الألفات التي تدخل لمعنی علی ثلاثة أنواع :
- نوع في صدر الکلام .
- ونوع في وسطه .
- ونوع في آخره .
فالذي في صدر الکلام أضرب :
- الأوّل : ألف الاستخبار، وتفسیره بالاستخبار أولی من تفسیر ه بالاستفهام، إذ کان ذلک يعمّه وغیره نحو : الإنكار والتبکيت والنفي والتسوية .
فالاستفهام نحو قوله تعالی: أَتَجْعَلُ فِيها مَنْ يُفْسِدُ فِيها [ البقرة/ 30] ، والتبکيت إمّا للمخاطب أو لغیره…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 122–123
ترکیب : من مبتداء یمشی بہ موضع نصب میں ہے صفت ہے نورا کی کمن خبر۔ مثلہ مبتداء فی الظلمات خبر لیس بخارج حال ہے ضمیر مثلہ سے۔ اکابر مفعول اول جعلنا فی کل قریہ ثانی۔
تفسیر : پہلی آیت میں مسلمانوں کو کفار کی اطاعت سے منع فرمایا تھا یہاں اس کی وجہ بیان فرماتا ہے کہ قابل اطاعت تو وہ شخص ہے کہ جس کو خدا نے موت ظلمات طبیعت سے بسبب انکشاف و تجلیات روحانیہ کے زندہ کیا ہو اور اس کے ساتھ اس کے پاس خدا کی طرف کا ایک چراغ ہدایت بھی ہو ( قرآن) کہ جس کی روشنی میں وہ لوگوں کو لانا چاہتا ہے نہ وہ کہ جو طرح طرح کی اندھیریوں میں ایسا مبتلا ہو کہ جو ان میں سے کبھی نکل ہی نہ سکے (کیونکہ نہ کفر و شرک کو برا جان کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 122–123
چناچہ ارشادہوتا ہے :
اَوَ مَنْ کَانَ مَیْتًا فَاَحْیَیْنٰہُ وَجَعَلْنَا لَہٗ نُوْرًا یَّمْشِیْ بِہٖ فِی النَّاسِ کَمَنْ مَّثَلُہٗ فِی الظُّلُمٰتِ لَیْسَ بِخَارِجٍٍ مِّنْھَا ط کَذٰلِکَ زُیِّنَ لِلْکٰفِرِیْنَ مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ۔ وَکَذٰلِکَ جَعَلْنَا فِیْ کُلِّ قَرْیَۃٍ اَکٰبِرَ مُجْرِمِیْھَا لِیَمْکُرُوْا فِیْھَا ط وَمَا یَمْکُرُوْنَ اِلَّا بِاَنْفُسِھِمْ وَمَا یَشْعُرُوْنَ ۔ (الانعام : 122۔ 123)
(کیا وہ شخص جو پہلے مردہ تھا پھر ہم نے اسے زندگی بخشی اور اس کو وہ روشنی عطا کی جس کے اجالے میں وہ لوگوں کے درمیان زندگی کی راہ طے کرتا ہے اس کی شخص کی طرح ہوسکتا ہے جو تاریکیوں میں پڑا ہوا ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 121–122
فہم القرآن
ربط کلام : مردار اور غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا ہوا جانور کھانے، سے آدمی کا ضمیر اور ایمان مردہ ہوجاتا ہے۔ یہاں ان دونوں کا تقابل کیا گیا ہے۔
بنیادی طور پر انسان کی زندگی دو عناصر پر مشتمل ہے جسم کو قائم رکھنے کے لیے بہتر فضا اور اچھی غذا کی ضرورت ہے۔ روح کو بیدار اور صحت مند رکھنے کے لیے گناہوں سے اجتناب اور کفرو شرک سے بچنا انتہائی ضروری ہے۔ خوراک اور آب و ہوا مناسب نہ ہو تو جسمانی بیماریاں لاحق ہوجاتی ہیں۔ روح کی خوراک، اچھے اعمال اور عقیدۂ توحید ہے۔ جس قدر آدمی کے اعمال اور اس کا عقیدہ کمزور ہوگا اتنی ہی اس کی روح کمزور ہوتی چلی جائے گی۔ یہاں تک کہ زندہ ہونے کے باوجود انسان…
Read the full tafseer →مومن تو نور ایمان و حکمت سے اور کافر اندھیروں میں ڈوبا ہوا ہے :
آیت 122: اَوَ مَنْ کَانَ مَیْتًا فَاَحْیَیْنٰـہُ کافر تھا ہم نے اس کو ہدایت دی کیونکہ ایمان دلوں کی زندگی ہے۔ مَیِّتًا مدنی نے پڑھا۔ وَجَعَلْنَا لَہ نُوْرًا یَّمْشِیْ بِہٖ فِی النَّاسِ وہ اس سے روشنی حاصل کرنے والا ہے۔ اس سے مراد یقین ہے۔ یعنی اس کی حالت فِی الظُّلُمٰتِ ان میں ٹامک ٹوئیاں مار رہا ہے۔ لَیْسَ بِخَارِجٍ مِّنْہَا۔ ان سے جدا ہونے والا نہ ہو اور نہ چھوٹنے والا ہو۔ : یہ حال ہے بعض نے کہا۔ اس سے مراد حمزہ اور ابوجہل ہیں۔ مگر صحیح تربات یہ ہے کہ آیت ہر اس شخص کے لئے ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت دی ہو اور ہر ایسے شخص کے…
Read the full tafseer →122 (اومن کان میتافآحبینہ) نافع نے (میلاً ) اور لحم اخیہ میتا) اور (والارض المیتۃ احییناھا) ان میں شد کے ساتھ پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے تخفیف کے ساتھ یعنی کفر کی وجہ سے مردہ تھا ہم نے ایمان کے ذریعے اس کو زندہ کردیا۔
(وجعلنا لہ نوراً ) تاکہ تم اس کے ذریعے سے روشنی حاصل کرو۔ (یمشی بہ فی الناس) راستے کے ارادہ پر۔ بعض نے کہا کہ نور سے مراد اسلام ہے کیونکہ خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا (یخرجھم من الظلمات الی النور نکالتا ہے ان کو اندھیروں سے روشنی کی طرف) اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ روشنی اللہ کی کتاب ہے جو اللہ کی طرف سے مئومن کے لئے واضح دلیل ہے کہ اس کی روشنی میں عمل کرتا ہے اسی سے دلیل لیتا ہے…
Read the full tafseer →اگرچہ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ یہ آیت حضرت عمر ﷺ اور ابوجہل کی شان میں اور بعضوں نے کہا ہے کہ حضرت امیر حمزہ اور ابوجہل کی شان میں اتری ہے لیکن صحیح قول یہ ہے کہ زمانہ شروع اسلام سے قیامت تک ہر مسلمان اور کافر کی مثال میں یہ آیت نازل ہوئی ہے 5 ؎ جس میں اللہ تعالیٰ نے مسلمان کی مثال ایک ایسے شخص زندہ کی دی ہے کہ زندہ ہونے کے سبب سے جس کے حواس قائم ہیں اور انہی سے بچنے کے لیے اس کے پاس روشنی ایمان کی ہے ضرر کی چیز کو اجالے کے وقت آنکھوں سے اور اندہیرے کے وقت روشنی سے دیکھتا اور ضرور سے بچتا ہے اور کافر کی مثال ایسے شخص کی دی ہے کہ مردہ ہونے کے سبب سے نہ اس کی آنکھیں ہیں اور نہ اس کے پاس کسی طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 122–124
آیت 122
(او من کان) ” بھلا ایک شخص جو کہ تھا “ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ کے ہدایت عطا کرنے سے پہلے (میتاً ) (” مردہ “ یعنی کفر، جہالت اور گناہوں کی تاریکیوں میں ڈوبا ہوا (فاحیینہ) ” پھر ہم نے اس کو زندہ کیا۔ “ پھر ہم نے اسے علم، ایمان اور اطاعت کی روشنی کے ذریعے سے زندہ کردیا اور وہ اس روشنی میں لوگوں کے درمیان چلتا پھرتا ہو، اپنے امور میں بصیرت سے بہرہ ور ہو، اپنے راستے کو جانتا ہو، بھلائی کی معرفت رکھتا ہو، اسے ترجیح دیتا ہو، اپنے آپ پر اور دوسروں پر اس کے نفاذ کی کوشش کرتا ہو، جو برئای کی معرفت رکھتا ہو، اسے ناپسند کرتا ہو اور اسے ترک کرنے کی کوشش کرتا ہو اور خود اپنی ذات سے اور دوسروں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 121–135
ذبیحہ پر ترک تسمیہ اور اقوال فقہاء
قول باری ہے ( ولا تاکلوا مما لم یذکر اسم اللہ علیہ وانہ لفسق اور جس جانور کو اللہ کا نام لے کر ذبح نہ کیا گیا ہو اس کا گوشت نہ کھائو، ایسا کرنا فسق ہے) آیت میں اسے جانور کا گوشت کھانے کی ممانعت ہے جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو۔ اس بارے میں فقہا کے مابین اختلاف رائے ہے۔ ہمارے اصحاب ، امام مالک اور حسن بن صالح کا قول ہے کہ اگر مسلمان ذبح کرتے وقت جان بوجھ کر بسم اللہ نہ پڑھے تو اس کا گوشت نہیں کھایا جائے گا اگر بھول کر بسم اللہ چھوڑ دے تو اس کا گوشت کھالیا جائے گا۔ امام شافعی کا قول ہے کہ دونوں صورتوں میں گوشت کھالیا جائے گا۔ اوزاعی سے بھی اسی قسم کا قول…
Read the full tafseer →236 کفر و شرک موت ہے اور کافر و مشرک مردہ : سو ارشاد فرمایا گیا بھلا وہ شخص جو مردہ تھا پھر ہم نے اس کو زندگی بخش دی۔ یعنی وہ کفر و باطل کی موت میں پڑا تھا اور طرح طرح کے اندھیروں میں ڈوبا ہوا تھا۔ سو کفر و شرک موت ہے اور کافر و مشرک انسان مردہ اگرچہ دنیا ان کو زندہ کہتی ہو اور وہ اپنے آپ کو بہت کچھ سمجھتے ہوں۔ سو اس آیت کریمہ میں موت سے مراد کفر کی زندگی ہے اور حیات سے مراد ایمان کی زندگی۔ اور نور سے مراد ایمان و یقین کا نور ہے۔ سو کوئی مانے یا نہ مانے، تسلیم کرے یا نہ کرے، حق اور حقیقت بہرحال یہی ہے کہ کفر موت ہے اور ایمان زندگی۔ کفر اندھیرا ہے اور ایمان روشنی اور کافر مردہ ہے اور مومن…
Read the full tafseer →ایماندار اور کافر کی مثال
تشریح : اس آیت میں روشنی اور اندھیرے کا ذکر ہے اور مردہ و زندہ کا ذکر ہے۔ روشنی اور زندگی کو ایمان، علم اور رضائے الٰہی کہا گیا ہے جبکہ اندھیرے اور مردہ کو کفر و شرک، بےدینی اور لاعلمی سے تشبیہہ دی گئی ہے۔ اللہ رب العزت فرماتا ہے کہ وہ لوگ جو کفر کے اندھیرے میں بھٹک رہے تھے ہم نے ان کو نور ہدایت عطا کیا، یعنی ان کو ایمان کی روشنی عطا کی اور اب وہ اس روشنی سے نہ صرف خود برائیوں سے بچ رہے ہیں بلکہ ان کی روشنی سے بہت سے اور لوگ بھی فائدہ اٹھا کر سیدھے راستے پر چل رہے ہیں۔ وہ بھی ایمان کی روشنی میں گناہ اور ثواب کا فرق دیکھ سکتے ہیں۔ مگر کفر کے اندھیرے میں رہنے والا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–122
رکوع نمبر 14 آیات نمبر 112 تا 122:
اسرار و معارف :
ایمان کا مدار در اصل اس قلبی کیفیت پر ہے جو انسان کو رب العلمین سے نصیب ہوتی ہے جس کی بنیاد تو انسانی مزاج میں رکھ دی گئی ہے مگر اسے نور نبوت ہی سے جلا ملتی ہے اور یہ جذبہ دل میں سر اٹھاتا ہے کہ مجھے اپنے رب کی رضا کو حاصل کرنا چاہئے اور اس کا قرب پانا چاہئے۔ انسانی کردار اس کے ضمیر کو متاثر کرتا رہتا ہے حتی کہ بعض مظالم ایسے ہوتے ہیں جو دل میں اس جذبے پر تہ در تہ تاریکیاں مسلط کردیتے ہیں ایسے ہی بدنصیب تھے وہ لوگ جو آقائے نامدار ﷺ کے مبارک عہد میں آپ کے رخ انور سے بھی کوئی کرن تک حاصل نہ کرسکے کچھ خوش نصیب اگرچہ نور ایمان کو بعض وجوہ کی بنا…
Read the full tafseer →ف 10 یعنی وہ کافر تھا اسے مسلمان بنایا (شوکانی)11 بیشتر مفسیرن (رح) کے نز دیک یہ مثال عام ہے اور ہر زمانہ کے مومن اور کافر پر منطبق ہوسکتی ہے۔ فتح القدیر) یعنی شیطان اپنے وساوس کے ذریعے ان کافرو کی نگاہ میں ان کے اعمال کو خوبصورت بنا کر پیش کرتا ہے۔
Read the full tafseer →(6:122) یمشی بہ فی الناس۔ کا مطلب ہے (ہم نے اس کے لئے نور بنادیا) جس کے اجالے میں (یا جس کی مدد سے) وہ لوگوں کے درمیان چلتا پھرتا ہے۔ یا اس کا مطلب یوں بھی ہوسکتا ہے کہ (ہم نے اس کے لئے نور بنادیا) جس کو لے کر وہ لوگوں کے درمیان چلتا ہے (اور اس طرح دوسروں کو بھی روشنی مہیا کرتا ہے)
کذلک۔ ای کما زین للؤمن ایمانہ۔ یعنی جس طرح مومن کے لئے اس کا ایمان خوبصورت و دلکش بنادیا گیا اسی طرح کافروں کے لئے ان کا عمل جاذب و دلکش کردیا گیا۔
Read the full tafseer →لغات القرآن : آیت نمبر 122 :
احیینا (ہم نے زندہ کردیا) ‘ یمشی (چلتا ہے) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 122 :
قرآن کس چزٓ کو زندگی کہتا ہے ؟
انسان اور ہر چیز فلکیات ‘ فضائیات ‘ حیوانات ‘ نباتات ‘ جمادات ‘ آبیات ‘ بخارات ‘ متحرکات کی زندگی کا تعلق بس اسی دنیا سے ہے۔ ان کا مقصد زندگی جو کچھ ہے اسی دنیا میں ہے۔
انسان کی زندگی اور مقصد زندگی کا تعلق دنیا سے بھی ہے اور آخرت سے بھی ہے۔ اس کے پاس دوزندگیاں ہیں۔ فانی زندگی کھیتی ہے۔ لافانی زندگی اس کا پھل۔
انسان جب تک اپنا فریضہ زندگی ادا کر رہا ہے جس کا تعلق سراسر اس دنیا سے ہے وہ زندہ ہے ورنہ وہ مردہ۔ انسان جب تک اپنا فریضئہ زندگی ادا کررہا ہے (جس کا تعلق اس…
Read the full tafseer →مومن اور کافر کی پہچان : اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ مردہ سے کافر اور زندہ سے مومن مراد ہے، کیونکہ کافر کی مثال ایسے شخص کی دی ہے کہ مردہ ہونے کے سبب سے نہ اس کی آنکھیں ہیں نہ اس کے پاس روشنی ہے۔ دنیا میں وہ سمجھتا ہے کہ اچھے کام کررہا ہوں لیکن آخرت کا اس کے پاس کوئی ذریعہ نہیں ہے۔
Read the full tafseer →[47] اس آیت میں ایمان و کفر کی مثال بیان کی گئی ہے۔ ایمان زندگی ہے اور علم و بصیرت کی روشنی۔ کفر موت ہے اور وہم و گمان کی تاریکی۔
Read the full tafseer →اسلام زندگی اور نور ہے !
(ف 2) اسلام اپنے طریق عبادت میں ، عقائد اور اخلاق ورسوم میں ، یکسر زندگی اور نور ہے ، روشنی اور برہان ہے ، اس کی کوئی بات غلط اور بےدلیل نہیں ہوئی ، اس آیت میں بتایا ہے کہ مسلمان کفر کے جمود سے نکلا ہے ، اور ایمان کی نورافروز زندگی میں داخل ہوگیا ہے ، اس لئے یہ اب کفر کو پسندیدہ نظر سے نہیں دیکھ سکتا ۔
حل لغات :
الظلمت : جمع ظلمت ، مقصود تشبیہ ہے ، یعنی کفر کی تاریکیاں ،
اکابر : بڑے بڑے لوگ ، لفظ عام ہے رؤساء الدار اور رؤساء علم دونوں شامل ہیں ۔
Read the full tafseer →-122 کیا ایک ایسا شخص جو مردہ تھا پھر ہم نے اس کو زندگی عطا فرمائی اور اس کو زندہ کردیا اور ہم نے اس کو ایک ایسا نور عطا کیا اور اس کے لئے ایک ایسی روشنی مقرر کی جس کول یکر وہ لوگوں میں چلتا پھرتا ہو کہیں یہ شخص اس شخص کی مثل ہوسکتا ہے جو مختلف تاریکیوں میں پڑا ہوا ہے اور تاریکیوں میں ایسا مبتلا ہے کہ ان سے نکل ہی نہیں سکتا۔ اسی طرح کافروں کے وہ اعمال جو وہ کر رہے ہیں ان کے لئے آراستہ اور خوش نما کردیئے گئے ہیں ، یعنی مردہ وہ جو کفر و گمراہی کی موت مرا ہوا ہو اور زندہ وہ جس کو ایمان عطا کیا ہو اور وہ ایمان کی روشنی ہر طرف لوگوں میں لئے پھرتا ہو تاریکیاں کفر وشرک کی دلدل جس میں پھنسا ہوا ہے جس…
Read the full tafseer →ف 7۔ یعنی گمراہ تھا۔
8 یعنی مسلمان بنادیا۔
9۔ یعنی ایمان دے دیا جو ہر وقت اس کے ساتھ رہتا ہے جس سے وہ سب مضرتوں سے مثلا گمراہی وغیرہ سے محفوظ ومامون وبے فکر پھرتا ہے۔
1۔ چناچہ اسی وجہ سے یہ روساء مکہ جو آپ سے مہمل فرمائشیں اور شبہات ومجادلات پیش کرتے ہیں اپنے کفر کو مستحسن ہی سمجھ کر اس پر مصر ہیں۔
Read the full tafseer →شیطان کا کام ہی کیا ہے ؟ وسوسے ڈالنا۔ اللہ کا حکم مانو اور ان وساوس سے بچو :
186: وساوس شیطانی کو ” وحی “ کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے کیوں ؟ اس لئے کہ وساوس کا اثر بھی براہ راست دل پر ہوتا ہے۔ قرآن کریم میں اس کو کہیں ” شیطانی وحی “ سے تعبیر کیا ہے اور کہیں ” وسولس الخناس “ سے۔ وسواس کے معنی ہیں یا بار بار وسوسہ ڈالنے والا اور وسوسہ کے معنی ہیں پے در پے ایسے طریقوں سے کسی کے دل میں کوئی بری بات ڈالنا کہ جس کے دل میں وہ ڈالی اور وسوسہ کے یہ ؟ ؟ ؟ محسوس نہ ہو سکے کہ وسوسہ اندوز اس کے دل میں کوئی بری بات ڈال رہا ہے۔ وسوسے کے لفظ میں خود تکرار کا مفہوم شا مل ہے جیسے زلزلہ میں حرکت کی تکرار کا…
Read the full tafseer →Commentary
In the previous verses, mentioned there was the demand of ever new miracles by disbelievers as proof of their sheer obstinacy as they had already witnessed the open miracle of the Qur'an itself. After that, the Qur'an argued that the miracles already before their eyes should have been enough to lead them to the true path, only if these people themselves would have been genuinely seeking truth. Then, came the description of these miracles.
The present verse employs a similitude to focus on two life-styles in a tight frame. On one side is the state of those who believe in the Qur'an…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 122–123
88. 'Death' signifies here the state of ignorance and lack of consciousness, whereas 'life' denotes the state of knowledge and true cognition, the state of awareness of Reality. He who cannot distinguish between right and wrong and does not know the Straight Way for human life, may be alive on the biological plane, but his essential humanity is not. He may be a living animal but is certainly not a living human being. A living human being is one who can distinguish right from wrong, good from evil, honesty from dishonesty.
89. The question is: 'How can they expect one who has been able to…
Read the full tafseer →