Explained with ayahs 112–113
ہر نبی کو ایذاء دی گئی
ارشاد ہوتا ہے کہ اے نبی ﷺ آپ تنگ دل اور مغموم نہ ہوں جس طرح آپ کے زمانے کے یہ کفار آپ کی دشمنی کرتے ہیں اسی طرح ہر نبی کے زمانے کے کفار اپنے اپنے نبیوں کے ساتھ دشمنی کرتے رہے ہیں جیسے اور آیت میں تسلی دیتے ہوئے فرمایا آیت (وَلَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ فَصَبَرُوْا عَلٰي مَا كُذِّبُوْا وَاُوْذُوْا حَتّٰى اَتٰىهُمْ نَصْرُنَا ۚ وَلَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِ اللّٰهِ ۚ وَلَقَدْ جَاۗءَكَ مِنْ نَّبَاِى الْمُرْسَلِيْنَ) 6۔ الانعام :34) تجھ سے پہلے کے پیغمبروں کو بھی جھٹلایا گیا انہیں بھی ایذائیں پہنچائی گئیں جس پر انہوں نے صبر کی اور آیت میں کہا گیا ہے کہ تجھ سے بھی وہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–113
سورة الْاَنْعَام 79
یعنی آج اگر شیاطین جن و انس متفق ہو کر تمہارے مقابلہ میں ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں تو گھبرانے کی کوئی بات نہیں۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے جو تمہارے ہی ساتھ پیش آرہی ہو۔ ہر زمانہ میں ایسا ہی ہوتا آیا ہے کہ جب کوئی پیغمبر دنیا کو راہ راست دکھانے کے لیے اٹھا تو تمام شیطانی قوتیں اس کے مشن کا ناکام کرنے کے لیے کمر بستہ ہوگئیں۔
”خوش آیند باتوں“ سے مراد وہ تمام چالیں اور تدبیریں اور شکوک و شبہات و اعتراضات ہیں جن سے یہ لوگ عوام کو داعی حق اور اس کی دعوت کے خلاف بھڑکانے اور اکسانے کا کام لیتے ہیں۔ پھر ان سب کو بحیثیت مجموعی دھوکے اور فریب سے تعبیر کیا گیا ہے۔ کیونکہ حق سے لڑنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–113
آخری آیت وَلَوْ اَنَّنَا نَزَّلْنَآ اِلَيْهِمُ الْمَلٰۗىِٕكَةَ میں اسی مضمون کا بیان ہے کہ اگر ہم ان کو ان کے فرمائشی معجزات سب دکھلادیں، بلکہ ان سے بھی زیادہ فرشتوں سے ان کی ملاقات اور مردوں سے گفتگو کرادیں، جب بھی وہ ماننے والے نہیں، بعد کی دو آیتوں میں آنحضرت ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ یہ لوگ اگر آپ ﷺ سے عداوت کرتے ہیں تو کچھ تعجب کی بات نہیں، پچھلے تمام انبیاء کے بھی دشمن ہوتے چلے آئے ہیں، آپ ﷺ اس سے دلگیر نہ ہوں۔
Read the full tafseer →اس آیت کا عطف : اس مفہوم پر ہے جو اوپر والے جملے سے نکلتا ہے، یعنی ہم نے شیاطین جن و انس کو انبیاء و صالحین کی مخالفت اور بدعات و خرافات کے القا کی یہ مہلت جو اس دنیا میں دی ہے۔ یہ اس لیے دی ہے کہ اس سے ایک طرف حق پرستوں کی حق پرستی کا امتحان ہوتا ہے دوسری طرف باطل پرتوں کو ڈھیل ملتی ہے اور وہ ان شیاطین و اشرار کے ہاتھوں اپنا من بھاتا کھاجا پا کر اس کی طرف راغب ہوتے ہیں، اس کو پسند کرتے ہیں اور اس دنیا میں جو کمائی انہیں کرنی ہے وہ کرلیتے ہیں۔ یہ ڈھیل اس اختیار کا لازمی نتیجہ ہے جو انسان کو بخشا گیا ہے اس وجہ سے یہ سنت الٰہی کے تحت ہے۔ ان لوگوں کی صفت یہاں الذین لا یومنون بالاخرۃ بتائی ہے جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–114
113۔ 1 یعنی شیطانی وسوسہ کا شکار وہی لوگ ہوتے ہیں اور وہی اس کو پسند کرتے ہیں اور اس کے مطابق عمل کرتے ہیں جو آخرت میں ایمان نہیں رکھتے۔ اور یہ حقیقت ہے کی جس حساب سے لوگوں کے اندر عقیدء آخرت کے بارے میں ضعف پیدا ہو رہا ہے، اسی حساب سے لوگ شیطانی جال میں پھنس رہے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–117
51: یہاں پھر وہی بات فرمائی جا رہی ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو شیاطین کو یہ قدرت نہ دیتا اور لوگوں کو زبردستی ایمان پر مجبور کردیتا لیکن چونکہ مقصد امتحان ہے، اس لئے زبردستی کا ایمان معتبر نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–113
(آیت) ” نمبر 112 تا 113۔
یوں ہم نے انسان کو لئے مقدر کردیا ہے کہ جو مشرکین اپنے ایمان کو ایسی باتوں پر موقوف کرتے ہیں جو خوراق عادت ہیں اور اپنے انفس اور اپنے آفاق وماحول میں اس پھیلی ہوئی کائنات کے اندر دلائل ہدایت اور نشانات راہ پر غور نہیں کرتے تو اگر ان کے پاس ہزار مضمرات اور خوارق عادت واقعات آجائیں وہ ایمان نہ لائیں گے ۔
ان لوگوں کی تقدیر کو ہم نے اسی طرح بنا دیا ہے ۔ ہم نے یہ فیصلہ کردیا ہے کہ ہر نبی کے بامقابل انسانوں اور جنوں میں سے کچھ شیاطین اٹھ کھڑے ہوں گے اور ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ان میں سے بعض ‘ بعض دوسروں پر خوش آئندہ باتیں القا کرتے ہیں ۔ اور یہ عوام الناس کو دھوکہ اور فریب…
Read the full tafseer →4 یعنی شیاطین ایک دوسرے کو ملمع کی ہوئی فریب کی باتیں اس لئے سکھلاتے ہیں کہ انھیں سن کر جو لوگ دنیا کی زندگی میں غرق ہیں اور دوسری زندگی کا یقین نہیں رکھتے ان ابلہ فریب باتوں کی طرف مائل ہوجائیں۔ اور ان کو دل سے پسند کرنے لگیں۔ اور پھر کبھی برے کاموں اور کفر و فسق کی دلدل سے نکلنے نہ پائیں۔
Read the full tafseer →وَلِیَرْضَوْہُ وَلِیَقْتَرِفُوْا مَا ہُمْ مُّقْتَرِفُوْنَ ۔
اس فلسفے کو ایک مثال سے سمجھئے۔ پانی کا electrolysis کریں تو negative اور positive چارج والے آئنز ions الگ الگ ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے دنیا میں حق و باطل کی جو کشاکش رکھی ہے ‘ اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ کھرے اور کھوٹے کی ionization ہوجاتی ہے۔ اہل حق نکھر کر ایک طرف ہوجاتے ہیں اور اہل باطل دوسری طرف۔ اس طرح انسانی معاشرے میں اچھے اور برے کی تمیز ہوجاتی ہے۔ جیسے کہ ہم سورة آل عمران آیت 179 میں پڑھ چکے ہیں : حَتّٰی یَمِیْزَ الْخَبِیْثَ مِنَ الطَّیِّبِ ط تاکہ وہ ناپاک کو پاک سے الگ کر دے۔ معاشرے کے اندر عام طور پر پاک…
Read the full tafseer →117 ایسی مکر و فریب والی تدابیر یہ شیاطین اس لیے کرتے ہیں کہ جن لوگوں کا ایمان لانے کا ارادہ ہو وہ ان کے بھرے میں آجائیں اور یہ سمجھ لیں کہ ہم پہلے سے جس دین پر قائم ہیں وہی حق اور درست ہے۔ پھر اپنی تمام مساعی اپنے اسی پرانے دین کی مدافعت میں صرف کرنے لگیں۔
Read the full tafseer →165 ۔ شیطانی وسوسہ اندازی کا بیان ابھی اوپر آچکا ہے۔ اب شیطانی وسوسہ اندازیوں کی غرض وغایت کا بیان ہے۔ (آیت) ” وما یفترون “۔ یعنی دین کے باب میں اظہار کے لیے ہے۔ اللام لام کے (قرطبی) (آیت) ” الذین لایؤمنون بالاخرۃ “۔ سرکشی اور نافرمانی سے اصلی بچانے والی چیز یہی خوف آخرت ہے۔ اس بنیاد کا کمزور ہونا شیطان کے آغوش میں جاپڑنا ہے۔ (آیت) ” ولتصغی الیہ افئدۃ “۔ گمراہی کے سلسلہ میں پہلا درجہ اسی میلان نفس کا ہوتا ہے۔ (آیت) ” ولیرضوہ “۔ دوسرا درجہ ان گمرہانہ عقائد کا اعتقاد قلبی کے ساتھ پسند کرلینے کا ہوتا ہے۔ (آیت) ” ولیقترفوا “۔ تیسری منزل عملا معاصی میں مبتلا ہوجانے کی ہوتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–113
وکذلک جعلنا لکل نبی الخ یعنی آج اگر شیاطین جن و انس متفق ہو کر آپ کے مقابلہ میں ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں تو فکر مند ہونے کی کوئی بات نہیں ہے، یہ کوئی نئی بات نہیں ہے جو کہ آپ ہی کے ساتھ پیش آرہی ہے، ہر زمانہ میں ایسا ہی ہوتا آیا ہے کہ جب بھی کوئی پیغمبر دنیا کو راہ راست دکھانے کے لئے اٹھا تو تمام شیطانی قوتیں اس کے مشن کو ناکام کرنے کیلئے کمر بستہ ہوگئیں۔ خدا کو منظور یہی ہے کہ جب تک نظام عام قائم رکھنا ہے نیکی اور بدی، ہدایت و ضلالت کی حریفانہ جنگ جاری رہے، جس طرح آج یہ مشرکین و معاندیین آپ کو بیہودہ فرمائشوں سے دق کرتے ہیں اور مختلف حیلوں سے لوگوں کو جادہ حق سے ہٹانے کی کوشش کرتے ہیں،…
Read the full tafseer →ولتصغی الیہ افئدۃ الذین لا یومنون بالآخرۃ ولیرضوہ ولیقترفوا ما مقترفون . اور تاکہ اس کی طرف ان لوگوں کے دل مائل ہوجائیں جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور اس کو اختیار کرلیں اور جن امور کے مرتکب ہیں ان کا ارتکاب کرتے ہیں۔
ولتصغی : کا عطف غرورا : پر ہے اگر غرورا : کو مفعول لہ مانا جائے۔ یا فعل محذوف سے اس کا تعلق ہے یعنی ہم نے ایسا اس لئے کیا کہ آخرت پر ایمان نہ رکھنے والوں کے دل اس کی طرف مائل ہوں۔ قریش رسول اللہ ﷺ سے کہتے تھے کہ اپنے اور ہمارے اختلاف کا فیصلہ کرنے کے لئے ایک ثالث مقرر کر دو اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔
Read the full tafseer →(113) کفار یہ سب کچھ اس لیے کرتے ہیں تاکہ ان چکنی چپڑی باتوں کی طرف ان لوگوں کے دل مائل ہوجائیں جو بعث بعد الموت پر ایمان نہیں رکھتے اور شیاطین سے وہ باتوں کو قبول کرلیں تاکہ مرتکب ہوجائیں ان امور کے جن کے وہ پہلے کفار مرتکب ہوئے تھے۔
Read the full tafseer →وَلِتَصْغٰٓى اِلَيْهِ۔۔ : اس کا عطف ”غُرُوْرًا“ پر ہے، یعنی ”لِیَغُرُّوْا بِذٰلِکَ وَ لِتَصْغٰی“ ”تاکہ وہ اس کے ساتھ دھوکا دیں اور تاکہ ان لوگوں کے دل جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اس (جھوٹ) کی طرف مائل ہوں۔“ یہ توجیہ ان تمام توجیہوں سے بہتر ہے جو یہاں کی گئی ہیں۔ (رازی)
وَلِيَرْضَوْهُ وَلِيَقْتَرِفُوْا۔۔ : ”اِکْتَسَبَ یَکْتَسِبُ“ اچھی یا بری دونوں کمائیوں کو کہتے ہیں، جبکہ ”اِقْتَرَفَ یَقْتَرِفُ“ برے اعمال کمانے کو کہتے ہیں، یعنی ان شیاطین کے پیش نظر اس وحی سے یہ سب مقاصد ہیں۔ (رازی) شاہ عبد القادر ؓ لکھتے ہیں کہ یہ کئی آیتیں اس وقت نازل ہوئیں جب کفار کہنے لگے کہ مسلمان اپنا مارا ہوا جانور…
Read the full tafseer →آیت نمبر 113
قولہ تعالیٰ آیت : ولتصغی الیہ افئدہ، تصغی بمعنی تمیل ( مائل ہونا) ہے۔ کہا جاتا ہے : صغوت اصغو صغوا وصغوا، وصغیت اصغی، وصغیت یہ غین کے کسرہ کے ساتھ بھی ہے۔ اس سے کہا جاتا ہے : صغی یصغی صغی وصغیا، واصغیت الیہ اصغاء تمام ہم معنی ہیں۔
شاعر نے کہا ہے :؎
تری السفیۃ بہ عن کل محکمہ زیغ وفیہ الی التشبیہ اصغاء
اور کہا جاتا ہے : اصغیت الاناء ( اور یہ تب کہا جاتا ہے) جب تو برتن کو جھکا دے تاکہ جو کچھ اس میں ہے وہ جمع اور اکٹھا ہوجائے۔ اور اس کی اصل المیل الی الشیء لغرض من الاغراض ہے یعنی کسی غرض اور مقصد کے لیے کسی چیز کی طف مائل ہونا (جھکنا) اور اسی سے ہے صغت النجوم ستارے غروب ہونے کی طرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–113
برائی دعوت شیطانی عمل ہے
(1) امام احمد، ابن ابی حاتم اور طبرانی نے ابو امامہ ؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے ابوذر تو اللہ سے پناہ مانگ جن اور انسان کے شیطانوں کے شر سے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا انسانوں میں سے بھی شیاطین ہیں آپ نے فرمایا ہاں (اور یہ آیت پڑھی) لفظ آیت شیطین الانس والجن یوحی بعضھم الی بعض زخرف القول غرورا
(2) امام احمد، ابن مردویہ اور بیہقی نے الشعب میں ابوذر ؓ سے روایت کیا کہ مجھ کو نبی ﷺ نے فرمایا تو پناہ مانگ انسان اور جن کے شیطانوں سے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ اور انسان میں بھی شیاطین ہیں ؟ فرمایا ہاں !۔
(3) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے…
Read the full tafseer →وَلِتَصْغٰٓى [ اور تاکہ مائل ہوں ] اِلَيْهِ [ اس کی طرف ] اَفْـــِٕدَةُ الَّذِيْنَ [ ان کے دل جو ] لَا يُؤْمِنُوْنَ [ ایمان نہیں رکھتے ] بِالْاٰخِرَةِ [ آخرت پر ] وَلِيَرْضَوْهُ [ اور تاکہ وہ پسند کریں اس کو ] وَلِيَقْتَرِفُوْا [ اور تاکہ وہ ارتکاب کریں ] مَا [ اس کا جس کا ] هُمْ [ وہ ] مُّقْتَرِفُوْنَ [ ارتکاب کرنے والے ہیں ]
Read the full tafseer →(وَ لِتَصْغٰٓی اِلَیْہِ اَفْءِدَۃُ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بالْاٰخِرَۃِ ) اور وہ لوگ فریب دینے والی باتوں کے وسوسے اس لیے ڈالتے ہیں کہ ان کی طرف ان لوگوں کے قلوب مائل ہوجائیں جو آخرت پر یقین نہیں رکھتے۔ وَلِیَرْ ضَوْہُ تاکہ وہ اسے پسند کرلیں۔ (وَ لِیَقْتَرِفُوْا مَا ھُمْ مُّقْتَرِفُوْنَ ) اور تاکہ ان کاموں کے مرتکب ہوتے رہیں جن کا ارتکاب کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–113
بیان کیفیت عناد معاندین
قال اللہ تعالیٰ ولو اننا نزلنا الیھم الملئکۃ۔۔۔ الی۔۔۔ ولیقترفوا ما ھم مقترفون
(ربط) گزشۃ آیت وما یشعرکم انھا اذا جاءت لا یؤمنون میں معاندین کے عناد کو اجمالا ذکر فرمایا اب ان آیات میں ان کے عناد کی تفصیل فرماتے ہیں اور یہ بتلاتے ہیں کہ ان کے عناد کی کیا کیفیت ہے وہ یہ ہے کہ اگر ان کے فرمائشی معجزات سے بڑھ کر بھی ان کو معجزات دکھلا دئیے جائیں تب بھی یہ لوگ عناد اور ضد کی بناء پر حق کو ماننے والے نہیں اور ساتھ آنحضرت ﷺ کو تسلی بھی ہے کہ آپ ﷺ ان معاندین کے بیجا سوالات اور فرمائشی معجزات سے رنجیدہ اور غمگین نہ ہوں یہ بات کچھ آپ کے زمانہ کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ ہر نبی ﷺ کے…
Read the full tafseer →122:۔ یعنی مائل ہوجائیں اِلَیْہِ کی ضمیر زخرف القول کی طرف راجع ہے وَلِتَصْغیٰ جعلنا کے متعلق ہے ولیرضوہ ولیقترفو۔ لتصغی پر معطوف ہیں۔ یعنی تاکہ وہ اسی زخرف القو، جھوٹی بات کو پسند کریں اور بد اعمالیوں میں منہمک رہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–113
یہ آیات بھی گذشتہ آیات کے ساتھ مربوط ہیں گذشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ مشرکین پختہ قسمیں کھا کر کہتے ہیں کہ اگر ہماری مرضی کے مطابق کوئی نشانی آجائے تو ہم مان جائیں اور تصدیق کردیں گے پہلے تو اللہ نے اس کا رد فرمایا کہ آپ کہ دیں کی نشانیاں لانا میرے بس کی بات نہیں ی تو اللہ کے اختیار میں ہے پھر اہل ایمان سے خطاب کیا کہ تمہیں کیا معلوم کہ نشانی آجانے پر یہ ضرور ہی ایمان لے آئیں گے۔ فرمایا جس طرح یہ پہلی دفعہ کلمہ حق سُن کر ایمان نہیں لائے ، اسی طرح آئندہ بھی ان سے ایمان لانے کی توقع نہ رکھیں۔ اللہ تعالیٰ دلوں کو پلٹتا ہے ، سرکشی کرنے والوں کو مہلت دیتا ہے مگر وہ اسی میں بھٹکتے رہیں ان…
Read the full tafseer →وَلِتَصْغٰٓى اِلَيْہِ اَفْـــِٕدَۃُ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَۃِ وَلِيَرْضَوْہُ وَلِيَقْتَرِفُوْا مَا ہُمْ مُّقْتَرِفُوْنَ 113
صغا
الصَّغْوُ : المیل . يقال : صَغَتِ النّجومُ ، والشمس صَغْواً مالت للغروب، وصَغَيْتُ الإناءَ ، وأَصْغَيْتُهُ ، وأَصْغَيْتُ إلى فلان : ملت بسمعي نحوه، قال تعالی: وَلِتَصْغى إِلَيْهِ أَفْئِدَةُ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ [ الأنعام/ 113] ، وحكي : صَغَوْتُ إليه أَصْغُو، وأَصْغَى، صَغْواً وصُغِيّاً ، وقیل : صَغَيْتُ أَصْغَى، وأَصْغَيْتُ أُصْغِي وصَاغِيَةُ الرّجلِ : الذین يميلون إليه، وفلانٌ مُصْغًى إناؤُهُ أي : منقوص حظّه، وقديكنّى به عن الهلاك…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 108–113
ترکیب : فیسبوا منصوب ہے جواب نہی ہو کر عدوًا یہ منصوب اس لئے ہے یا تو مصدر ہے من غیر لفظ الفعل لان السب عدوان فی المعنی اور حال مؤکدہ بھی ہوسکتا ہے اور مفعول لہ بھی بغیر علم بھی حال ہے کذالک موضع نصب میں ہے صفت ہے مصدر محذوف کی اے کمازینا لکل امۃ عملھم زینا لھؤلاء علمھم وما یشعرکم ما مبتداء ویشعر کم خبر اور وہ دو مفعول کی طرف متعدی ہے اول انہا ثانی محذوف تقدیرہ وما یشعرکم ایمانھم اول مرۃ طرف زمان ہے وفذرھم بسکون الراء وضمھا ولتصغٰی جمہور کے نزدیک لام مکسور ہے معطوف ہے غرورًا پر اے لیغروا والتصغٰی بعض کہتے ہیں لام قسم ہے مکسور ہوگیا۔
تفسیر : مشرکین کے ان بیہودہ شبہات پر مسلمان ہنس کر ان کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–113
ارشاد ہوتا ہے :
وَکَذٰلِکَ جَعَلْنَا لِکُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا شَیٰطِیْنَ الْاِنْسِ وَالْجِنِّ یُوْحِیْ بَعْضُھُمْ اِلٰی بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوْرًاط وَلَوْ شَآئَ رَبُّکَ مَا فَعَلُوْہُ فَذَرْھُمْ وَمَا یَفْتَرُوْنَ ۔ وَلِتَصْغٰٓی اِلَیْہِ اَفْئِدَۃُ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَۃِ وَلِیَرْضَوْہُ وَلِیَقْتَرِفُوْا مَاھُمْ مُّقْتَرِفُوْنَ ۔ (الانعام : 112۔ 113)
(اور اسی طرح ہم نے انسانوں اور جنوں کے اشرار کو ہر نبی کا دشمن بنایا۔ وہ ایک دوسرے کو پرفریب باتیں القا کرتے ہیں ‘ دھوکہ دینے کے لیے اور اگر تیرا رب چاہتا تو وہ یہ نہ کر پاتے۔ تو تم ان کو ان کی انہی افتراپردازیوں میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–113
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔
اے نبی ﷺ جن حالات سے آپ گزر رہے ہیں۔ ایسے اعتراضات اور حالات سے تمام انبیاء کو واسطہ پڑتا رہا ہے۔ کیونکہ جنوں اور انسانوں میں سے ہر نبی کا ایک دشمن ضرور ہوا کرتا تھا۔
کَذٰلِکَ کا لفظ اس بات کی ترجمانی کرر ہا ہے کہ نبی آخر الزماں ﷺ سے پہلے جتنے انبیاء کرام (علیہ السلام) دنیا میں تشریف لائے انھیں کئی قسم کے مظالم برداشت کرنے پڑے۔ ان پاکباز شخصیتوں پر الزامات لگائے گئے ان کی دعوت پر ہر قسم کی تنقید کی گئی لیکن وہ جو اں مرد پوری استقامت کے ساتھ اپنے مشن پر قائم رہے۔ یہاں اس بات کو یوں بیان کیا گیا ہے کہ ہم نے ہر نبی کے جنوں اور انسانوں میں سے دشمن بنائے تھے…
Read the full tafseer →وسوسہ اندازی کے نتیجہ میں کافر ادھر جھکیں :
آیت 113 : وَلِتَصْغٰٓی اِلَـیْہِ اَفْپدَۃُ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَۃِ تاکہ ملمع سازی والی بات کی طرف کفار کے دل مائل ہوں۔ اس کا عطف غُرُوْرًا پر ہے۔ یعنی تاکہ وہ دھوکہ میں مبتلاء ہوں اور اس کی طرف مائل ہوں۔ وَلِیَرْضَوْہُتاکہ وہ اسے اپنے نفسوں کے لئے پسند کریں۔ وَلِیَقْتَرِفُوْا مَاہُمْ مُّقْتَرِفُوْنَیعنی گناہ۔
Read the full tafseer →-113 (ولتصفی الیہ افئدۃ الذین لایئومنون بالاخرۃ) یعنی اس کی طرف مائل ہوتا ہے اور الصفو مائل ہونا۔ کہا جاتا ہے صفو فلان معک یعنی مائل ہوا اور اس کا فعل صفی یصفی، صفار و صفی یصفی اور یصفوا اصفو ہے ای ھائ (زخرف القول کی طرف لوٹ رہی ہے ولیرضوہ ولیقترفوا اور وہ اس کو پسند بھی کرلیں اور کئے جائیں تاکہ وہ کمائیں۔ ماھم مفترفون)
کہا جاتا ہے افترف فلان مالاً جب وہ مال کمائے اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے (ومن یفترف حسنۃ) اور زجاج (رح) فرماتے ہیں یعنی تاکہ وہ جو گناہ کرتے ہیں وہ کرلیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–113
(112 ۔ 113) ۔ شروع سورة سے یہاں تک مشرکین مکہ کی ایسی چند باتوں کا ذکر گذرا جو باتیں یہ لوگ عداوت دینی کے سب سے کرتے تھے کبھی کہتے تھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک نوشتہ خاص ہم لوگوں کے نام اسلام کی تصدیق کا آوے گا جب ہم دین اسلام کو سچا جانیں گے کبھی کہتے تھے آسمان پر سے ایک فرشتہ آن کر ہمارے روبرو اسلام کی تصدیق کیوں نہیں کرتا کبھی قرآن کو پچھلے لوگوں کی کہانیاں بتلاتے تھے کبھی کہتے تھے آسمان پر سے ایک فرشتہ آن کر ہمارے روبرو اسلام کی تصدیق کیوں نہیں کرتا کبھی قرآن کو پچھلے لوگوں کی کہانیاں بتلاتے تھے کبھی کہتے تھے اگر محمد ﷺ اللہ کے سچے رسول ہیں تو اللہ سے دعا کر کے ہم کو اتنا خزانہ دلوا دیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–114
آیت 113
اللہ تبارک و تعالیٰ رسول اللہ ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے جس طرح ہم نے آپ کے دشمن بنا دیئے جو آپ کی دعوت کو ٹھکراتے ہیں اور آپ سے حسد کرتے ہیں، تو یہ ہماری سنت ہے، ہم ہر نبی کے، جس کو ہم مخلوق کی طرف مبعوث کرتے ہیں، جنوں اور انسانوں میں سے دشمن مقرر کردیتے ہیں وہ ان تمام امور کی مخالفت کرتے ہیں جنہیں رسول لے کر آئے ہیں۔ (یو حی بعضھم الی بعض زخرف القول غرورا) ” سکھلاتے ہیں وہ ایک دوسرے کو ملمع کی ہوئی باتیں، فریب دینے کے لئے “ یعنی وہ ایک دوسرے کو ان باطل امور کو سجا کر اور مزین کر کے پیش کرتے ہیں جن کی طرف وہ دعوت دیتے ہیں اور وہ اس کی تعبیرات کو آراستہ کر کے بہترین اسلوب میں پیش…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 108–117
بُتوں کو بُرا بھلا نہ کہو
قول باری ہے ( ولا تسبوا الذین یدعون من دون اللہ فیسبوا اللہ عدواً بغیر علم اور ( اے ایمان والو) یہ لوگ اللہ کے سوا جن کو پکارتے ہیں ان کو گالیاں نہ دو کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ شرک سے آگے بڑھ کر جہالت کی بنا پر اللہ کو گالیاں دینے لگیں) سدی کا قول ہے کہ بتوں کو گالیاں نہ دو کہ پھر اس کے جواب میں مشرکین کو تمہارے لیے شریعت نازل کرنے والی ذات کے خلاف بدزبانی کا موقعہ ہاتھ آ جائے۔ ایک قول یہ ہے کہ تم بتوں کو برا بھلا نہ کہو کہ اس کے سبب پیدا ہونے والا غصہ اور جہالت ان مشرکین کو اس ذات کے خلاف بدزبانی کرنے پر نہ اکسا دے جس کی تم بندگی کرتے ہو۔ اس کے اندر اس بات کی دلیل موجود…
Read the full tafseer →217 اِفترا پردازوں کی فکر نہ کرنے کی ہدایت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ چھوڑ دو ان کو اور ان کی ان افتراپردازیوں کو جو یہ لوگ کرتے ہیں کہ یہ اپنے کئے کا بھگتان خود بھگتیں گے۔ سو آپ ان کی فکر نہ کیجئے۔ اللہ تعالیٰ حق اور اہل حق کی مدد فرمائے گا۔ سو اس میں حضور ﷺ اور آپ ﷺ کے واسطے سے ہر داعی حق کیلئے تسکین وتسلیہ کا سامان ہے۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت اور اس کی حکمت نے یہی پسند فرمایا کہ وہ اس معاملہ میں جبر کی بجائے اختیار اور آزادی سے نواز کر لوگوں کا امتحان کرے کہ کون اپنی مرضی اور ارادہ سے خدا کی راہ اختیار کرتا ہے اور کون شیطان کی۔ یہی ابتلاء و آزمائش کا تقاضا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–113
کفار کی ضد اور بری عادات
تشریح : پچھلی آیات میں کفار کی ہٹ دھرمی اور نافرمانی کا ذکر کیا گیا ہے جہاں انہوں نے ایمان لانے کی شرط یہ رکھی کہ صفا کا پہاڑ سونے کا ہوجائے۔ اللہ رب العزت کفار کی اصلیت بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ انہوں نے اگر ایمان لانا ہوتا تو لا چکے ہوتے ان کا ایمان لانا ممکن نہیں نہ معجزہ دیکھ کر لائیں گے اور نہ ہی زبردستی کرنے سے ایمان لائیں گے۔ اگر یہ دونوں باتیں ہوتیں تو یہ بہت معجزے دیکھ چکے ہیں اور اگر زبردستی والی بات ہوتی تو ہم سے زیادہ کون زبردست ہے ہم ان سب کو ایمان والے بنا دیتے مگر یہ تو ان کے ارادے اور اختیار کا امتحان ہے کہ کون سیدھی راہ پر چلتا ہے۔ اور اللہ فرماتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–122
رکوع نمبر 14 آیات نمبر 112 تا 122:
اسرار و معارف :
ایمان کا مدار در اصل اس قلبی کیفیت پر ہے جو انسان کو رب العلمین سے نصیب ہوتی ہے جس کی بنیاد تو انسانی مزاج میں رکھ دی گئی ہے مگر اسے نور نبوت ہی سے جلا ملتی ہے اور یہ جذبہ دل میں سر اٹھاتا ہے کہ مجھے اپنے رب کی رضا کو حاصل کرنا چاہئے اور اس کا قرب پانا چاہئے۔ انسانی کردار اس کے ضمیر کو متاثر کرتا رہتا ہے حتی کہ بعض مظالم ایسے ہوتے ہیں جو دل میں اس جذبے پر تہ در تہ تاریکیاں مسلط کردیتے ہیں ایسے ہی بدنصیب تھے وہ لوگ جو آقائے نامدار ﷺ کے مبارک عہد میں آپ کے رخ انور سے بھی کوئی کرن تک حاصل نہ کرسکے کچھ خوش نصیب اگرچہ نور ایمان کو بعض وجوہ کی بنا…
Read the full tafseer →ف 7 یہ شیاطین ایک دوسرے کا چالبازیاں اور مکاریاں سکھاتے ہیں ( وحیدی) اس کا عطف غیر و دار ہے ای لیغرو ابذالک ولتصغی الیہ الخ۔ یہ توجیہ ان سب توجیہات سے ہتر ہے جو اس مقام پر ذکر کی گئی ہیں۔ ( رازی)8 یعنی اس وحی کے مطابق شیاطین کے پیش نظر یہ سب مقاصد ہیں۔ رازی) حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یہ کئی آیتیں اس وقت نازل ہوئیں جب کفار کہنے لگا کہ مسلمان اپنا مارا ہو جانور کھاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے مارے ہوئے جانور کو حرام سمجھتے ہیں فرمایا کہ ایسی فریب کی باتیں شیطان کرتے ہیں تاکہ انسان کو شبہات میں ڈا لا جائے عقل کا حکم اللہ کا ہے۔ آگے پھر واضح طورسمجھا یا گیا کہ ہر جانور کو مانے والا اللہ ہی ہے اور اس…
Read the full tafseer →(6:113) تصغی۔ مضارع واحد مؤنث غائب۔ وہ چھکتی ہے۔ وہ جھکتے ہیں۔ صغو اور صغی سے (باب سمع۔ نصر) اصغی الیٰ حدیثہ۔ کان لگانا۔ کان دھرنا۔ اصغی الیہ سننے کے لئے جھکنا۔ جھکنا۔ مائل کرنا۔
الیہ اور یرضوہ میں ہ ضمیر ان وسوسوں اور ملمع فریب کی باتوں کی طرف راجع ہے جو شیاطین جن و انس ایک دوسرے کو سکھاتے اور دوسرے لوگوں کے دلوں میں ڈالتے تھے۔
یقترفوا۔ مضارع جمع مذکر غائب اقتراف (افتعال) سے ۔ وہ کمائیں ۔ وہ کریں۔ اقتراف کے اصل معنی درخت سے چھال اتارنے کے ہیں اور زخم سے چھلکا کریدنے کے۔ جو چھال یا چھلکا اتارا جاتا ہے اسے قرب کہتے ہیں۔ اور بطور استعارہ اقترف کمانے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے خواہ وہ کسب اچھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–113
لغات القرآن : آیت نمبر 109 تا 113 :
اقسموا ( انہوں نے قسم کھائی) جھد ایمان (زبردست قسمیں۔ مضبوط قسمیں) ‘ ماشعرکم (تم نہیں سمجھتے) نقلب ( ہم پلٹ دیں گے) افئدۃ (فواد) دل ‘ اول مرۃ ( پہلی مرتبہ) یعمھون ( وہ سرگرداں ہیں۔ وہ بہک رہے ہیں) کلم (باتیں کیں۔ کلام کیا) ۔ الانس (انسان) زخرف (ظاہر۔ چمکدار چیز۔ بناوٹی) غرور ( دھوکہ) لتصغی (تاکہ جھکیں) لیرضوہ ( تاکہ وہ اس کو پسند کرلیں) لیقترفوا (تاکہ وہ کرتے رہیں) ۔
تشریح : آیت نمبر 109 تا 113 :
پچھلی آیات میں ذکر تھا کہ کفار و مشرکین ‘ نشانیوں ‘ معجزوں کے باوجود ایمان نہ لائے۔ اب ذکر ہے کہ انہوں نے اپنی سیاہ ضمیری میں ایک نیا روپ بدلا ہے یعنی حضور ﷺ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–113
مطلب یہ ہے کہ اگر ان مشرکوں کے روبرو فرشتے اور مرے ہوئے مردے اور جہان بھر کی ہر ایک چیز اللہ کے رسول اور اللہ کے کلام کی گواہی دیوے تو بھی جب تک اللہ نہ چاہے تو اس وقت تک یہ لوگ راہ رست پر نہ آویں گے۔
شان نزول : جس کا مطلب یہ ہے کہ مشرکین مکہ عداوت دینی کے سبب سے ایسی باتیں کہتے تھے کہ اللہ کی طرف سے ایک نوشتہ خاص ہم لوگوں کے نام اسلام کی تصدیق کا آوے گا تو ہم دین اسلام لادیں گے۔ کبھی قرآن شریف کو پچھلے لوگوں کی کہانیاں بتاتے تھے، کبھی قرآن شریف کے شان نزول اور اللہ تعالیٰ کی شان میں بےادبی کے لفظ سے نکالنے پر مستعد ہوجاتے تھے۔ غرضیکہ بہت سی ایسی باتیں کرتے تھے۔ ان لوگوں کی ایسی باتوں سے گھڑی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–113
[41] یعنی اللہ کی مشّیت یہ نہیں ہے کہ جو شخص گمراہ ہونا چاہے اللہ اسے جبراً راہ راست پر لائے کیونکہ انسان آزمائش کے لئے پیدا کیا گیا ہے اور یہ بات اس کے اختیار پر چھوڑ دی گئی ہے کہ وہ راہ راست پر چلے یا گمراہی اختیار کرے۔
Read the full tafseer →(ف 3) مقصد یہ ہے کہ اپنی ذمہ داری محسوس کرنے والا شخص شیطان کے پھندے میں نہیں پھنستا ، ایسی باتوں کی طرف وہ ہوتا ہے جو نادان ہو ، اور آخرت پر ایمان نہ رکھتا ہو ، یعنی اعمال کی اہمیت سے بےپروا ہو ۔
حل لغات :
قبلا : قبیل کی جمع ہے بمعنی گروہہا یا مصدر ہے ۔
زخرف القول : ملمع سازی کی یعنی ایسی بات جو بظاہر آراستہ اور بباطن خراب ہو ،
Read the full tafseer →-113 اور یہ لوگ اس لئے ایسا کرتے تھے تاکہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل ان کی فریب آمیز باتوں کی طرف مائل ہوجائیں اور یہ کہ وہ ان باتوں کو پسند کریں اور جب پسند کرلیں تو جو کچھ کر رہے ہیں وہ کئے جائیں، ینی جب آخرت کا دھیان ہی نہیں آئے گا تو توبہ کی توفیق بھی نہ ہوگی اور جوبدکرداریاں کر رہے ہیں اسی میں مبتلا رہیں گے اول تو آخرت پر پورا ایمان نہیں پھر اس پر سے رنگ آمیز باتوں کے وسوسے سے تو لامحالہ ان کا نتیجہ وہی ہونا تھا جو ارشاد فرمایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–115
ف 5۔ لیومنن بھا میں کفار کے قول کی نقل کی ہے اور انما الاٰیات عنداللہ میں ان کا جواب ہے اور وما یشعرکم سے آخر تک مسلمانوں کو فہمائش ہے اور خطاب ہے جواب کا حاصل یہ ہوا کہ رسول مدعی نبوت ہیں اور آیات فارقہ اس دعوی کی دلیل ہے اور مدعی کے ذمہ حسب تصفیہ عقلیہ مطلق دلیل کا قائم کرنا ضروری ہے تعیین کسی خاص آیات جدیدہ کے طلب کا کوئی حق نہ تھا ہاں دلائل قائم کردہ پر جرح وقدح کریں تو اس کا جواب اصالة یانیابة مدعی کے ذمہ ہے جس کے لیے ہر مدعی حقانیت اسلام اب بھی آمادہ ہے۔
Read the full tafseer →جو لوگ آخرت پر یقین نہیں رکھتے ان کا جھکاؤ اس طرف ہے ان کو ان کا حصہ مل جائے گا :
171: تصغی ، صغی سے ہے جس کے معنی جھکنے اور مائل ہونے کے ہیں۔ مضارع کا صیغہ اور مونث غائب۔ مقترفون ، قرب سے جس کے معنی درخت کی کھال چھیلنے اور زخم کا چلکا اتارنے کے ہیں۔ مجازی معنی کمائی کرنا ایسی کمائی جو اچھی نہ ہوئی اسم فاعل جمع مذکر۔ ” وہ مرتکب ہونے لگیں جس کے وہ مرتکب ہونا چاہتے ہیں۔ “ اے پیغمبر اسلام ! ہمارے قانون امہال کا یہ نتیجہ ہے کہ جن لوگوں کے دل آخرت پر نہیں جمتے ان کے دل جب ان شیطانوں کی شیطنت کی طرف رغبت کرتے ہیں تو ہم ان کو فوراً نہیں پکڑ لیتے بلکہ ہمارا قانون امہال ان کو مہلت دیتا ہے کہ وہ انکی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–113
On Signs and Miracles
The previous verses had mentioned how obstinate people failed to benefit from clear signs of Allah and open miracles of His Messenger and kept on denying the message of truth. The present verses mention how they took a new turn, and demanded particular miracles from the Holy Prophet ﷺ . As reported by Ibn Jarir, the Quraysh chiefs asked that they be shown the miracle of turning the Mount of Safa into solid gold; if so, they would accept that he was a prophet and messenger, and that they would embrace Islam. The Holy Prophet ﷺ said: All right, make a solid agreement that,…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–113
79. The Prophet (peace be on him) is told that he should not be unnerved even if the evil ones among both mankind and the jinn stood united against him and opposed him with all their might. For this was not the first time that such a thing had happened. Whenever a Prophet came and tried to lead people to the Truth, all the satanic forces joined hands to defeat his mission. 'Specious talk' signifies all the trickery and manoeuvring to which the enemy resorts, all his efforts aimed at sowing doubts about Islam and undermining people's faith in it, so as to arouse them against both the Prophet…
Read the full tafseer →