Explained with ayahs 112–113
ہر نبی کو ایذاء دی گئی
ارشاد ہوتا ہے کہ اے نبی ﷺ آپ تنگ دل اور مغموم نہ ہوں جس طرح آپ کے زمانے کے یہ کفار آپ کی دشمنی کرتے ہیں اسی طرح ہر نبی کے زمانے کے کفار اپنے اپنے نبیوں کے ساتھ دشمنی کرتے رہے ہیں جیسے اور آیت میں تسلی دیتے ہوئے فرمایا آیت (وَلَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ فَصَبَرُوْا عَلٰي مَا كُذِّبُوْا وَاُوْذُوْا حَتّٰى اَتٰىهُمْ نَصْرُنَا ۚ وَلَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِ اللّٰهِ ۚ وَلَقَدْ جَاۗءَكَ مِنْ نَّبَاِى الْمُرْسَلِيْنَ) 6۔ الانعام :34) تجھ سے پہلے کے پیغمبروں کو بھی جھٹلایا گیا انہیں بھی ایذائیں پہنچائی گئیں جس پر انہوں نے صبر کی اور آیت میں کہا گیا ہے کہ تجھ سے بھی وہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–113
سورة الْاَنْعَام 79
یعنی آج اگر شیاطین جن و انس متفق ہو کر تمہارے مقابلہ میں ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں تو گھبرانے کی کوئی بات نہیں۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے جو تمہارے ہی ساتھ پیش آرہی ہو۔ ہر زمانہ میں ایسا ہی ہوتا آیا ہے کہ جب کوئی پیغمبر دنیا کو راہ راست دکھانے کے لیے اٹھا تو تمام شیطانی قوتیں اس کے مشن کا ناکام کرنے کے لیے کمر بستہ ہوگئیں۔
”خوش آیند باتوں“ سے مراد وہ تمام چالیں اور تدبیریں اور شکوک و شبہات و اعتراضات ہیں جن سے یہ لوگ عوام کو داعی حق اور اس کی دعوت کے خلاف بھڑکانے اور اکسانے کا کام لیتے ہیں۔ پھر ان سب کو بحیثیت مجموعی دھوکے اور فریب سے تعبیر کیا گیا ہے۔ کیونکہ حق سے لڑنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–113
آخری آیت وَلَوْ اَنَّنَا نَزَّلْنَآ اِلَيْهِمُ الْمَلٰۗىِٕكَةَ میں اسی مضمون کا بیان ہے کہ اگر ہم ان کو ان کے فرمائشی معجزات سب دکھلادیں، بلکہ ان سے بھی زیادہ فرشتوں سے ان کی ملاقات اور مردوں سے گفتگو کرادیں، جب بھی وہ ماننے والے نہیں، بعد کی دو آیتوں میں آنحضرت ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ یہ لوگ اگر آپ ﷺ سے عداوت کرتے ہیں تو کچھ تعجب کی بات نہیں، پچھلے تمام انبیاء کے بھی دشمن ہوتے چلے آئے ہیں، آپ ﷺ اس سے دلگیر نہ ہوں۔
Read the full tafseer →وَكَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا شَـيٰطِيْنَ الْاِنْسِ وَالْجِنِّ ، کذالک کا اشارہ اس مخالفانہ شورش کی طرف ہے جو اس دور میں آنحضرت صل اللہ علیہ وسلم کو زچ کرنے کے لیے قریش کے لیڈروں اور ان کے ہمنواؤں نے برپا کر رکھی تھی۔ فرمایا کہ یہ نہ سمجھو کہ اس صورت حال سے تنہا تمہی کو سابقہ پیش آیا ہے، تم سے پہلے جو انبیاء گزرے ہیں ان کو بھی اپنے اپنے زمانوں کو شیاطین جن و انس کے ہاتھوں یہی دکھ جھیلنے پڑے ہیں۔ یہ اللہ کی سنت ابتلا ہے جس سے اس کے تمام نبیوں اور رسولوں کو گزرنا پڑا ہے، اسی سے راست بازوں کی راست بازی کا امتحان ہوتا ہے اور ان کے جوہر نکھرتے ہیں اور اسی سے اہل باطل کو وہ مہلت…
Read the full tafseer →112۔ 1 یہ وہی بات ہے جو مختلف انداز میں رسول اللہ کی تسلی کے لئے فرمائی گئی ہے کہ آپ سے پہلے جتنے بھی انبیاء گزرے ان کو جھٹلایا گیا انھیں ایذائیں دی گئیں وغیرہ وغیرہ۔ مقصد یہ ہے کہ جس طرح انہوں نے صبر اور حوصلے سے کام لیا، آپ بھی ان دشمنان حق کے مقابلے میں صبر و استقامت کا مظاہرہ فرمائیں، اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ شیطان کے پیروکار جنوں میں سے بھی ہیں اور یہ وہ ہیں جو دونوں گروہوں میں سے، باغی اور متکبر قسم کے ہیں۔
112۔ 2 وَ حْیُ ، خفیہ بات کو کہتے ہیں یعنی انسانوں اور جنوں کو گمراہ کرنے کے لئے ایک دوسرے کو چالبازیاں اور حیلے سکھاتے ہیں تاکہ لوگوں کو دھوکے اور فریب میں مبتلا کرسکیں۔ یہ بات عام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–117
51: یہاں پھر وہی بات فرمائی جا رہی ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو شیاطین کو یہ قدرت نہ دیتا اور لوگوں کو زبردستی ایمان پر مجبور کردیتا لیکن چونکہ مقصد امتحان ہے، اس لئے زبردستی کا ایمان معتبر نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–113
(آیت) ” نمبر 112 تا 113۔
یوں ہم نے انسان کو لئے مقدر کردیا ہے کہ جو مشرکین اپنے ایمان کو ایسی باتوں پر موقوف کرتے ہیں جو خوراق عادت ہیں اور اپنے انفس اور اپنے آفاق وماحول میں اس پھیلی ہوئی کائنات کے اندر دلائل ہدایت اور نشانات راہ پر غور نہیں کرتے تو اگر ان کے پاس ہزار مضمرات اور خوارق عادت واقعات آجائیں وہ ایمان نہ لائیں گے ۔
ان لوگوں کی تقدیر کو ہم نے اسی طرح بنا دیا ہے ۔ ہم نے یہ فیصلہ کردیا ہے کہ ہر نبی کے بامقابل انسانوں اور جنوں میں سے کچھ شیاطین اٹھ کھڑے ہوں گے اور ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ان میں سے بعض ‘ بعض دوسروں پر خوش آئندہ باتیں القا کرتے ہیں ۔ اور یہ عوام الناس کو دھوکہ اور فریب…
Read the full tafseer →2 یعنی پیدا کردیا ہم نے۔
3 چونکہ خدا کی حکمت بالغہ تکویناً اسی کو مقتضی ہے کہ نظام عالم کو جب تک قائم رکھنا منظور ہے خیر و شر کی قوتوں میں سے کوئی قوت بھی بالکل مجبور اور نیست و نابود نہ ہو۔ اس لئے نیکی و بدی اور ہدایت و ضلالت کی حریفانہ جنگ ہمیشہ سے قائم رہی ہے۔ جس طرح آج یہ مشرکین و معاندین آپ کو بیہودہ فرمائشوں سے دق کرتے اور بانواع حیل لوگوں کو جادہ حق سے ڈگمگانا چاہتے ہیں اسی طرح ہر پیغمبر کے مقابل شیطانی قوتیں کام کرتی رہی ہیں کہ پیغمبروں کو ان کے پاک مقصد (ہدایت خلق اللہ) میں کامیاب نہ ہونے دیں۔ اسی غرض فاسد کے لئے شیاطین الجن اور شیاطین الانس باہم تعاون کرتے، اور ایک دوسرے کو فریب دہی…
Read the full tafseer →آیت 112 وَکَذٰلِکَ جَعَلْنَا لِکُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا شَیٰطِیْنَ الْاِنْسِ وَالْجِنِّ
سوچنے اور غور کرنے کا مقام ہے ‘ انبیاء کو تو مدد کی ضرورت تھی ‘ اللہ نے شیاطین کو ان کے خلاف کیوں کھڑا کردیا ؟ بہر حال یہ اللہ کا قانون ہے جو راہ حق کے ہر مسافر کو معلوم ہونا چاہیے۔ اس میں حکمت یہ ہے کہ حق و باطل میں اس نوعیت کی کشاکش نہیں ہوگی تو پھر کھرے اور کھوٹے کی پہچان بھی نہیں ہو سکے گی۔ کیسے معلوم ہوگا کہ کون واقعی حق پرست ہے اور کون جھوٹا دعویدار۔ کون اللہ سے سچی محبت کرتا ہے اور کون دودھ پینے والا مجنوں ہے۔ یہ دنیا تو آزمائش کے لیے بنائی گئی ہے۔ یہاں اگر شر کا وجود ہی نہ ہو ‘ ہر جگہ خیر ہی خیر ہو…
Read the full tafseer →116 کافروں کی گمراہ کن تدبیریں اور پروپیگنڈے :۔ یعنی یہ معرکہ حق و باطل ہر نبی کو پیش آتا رہا ہے۔ سب شیطانی قوتیں انبیاء کے مقابلہ میں ڈٹ کر آ کھڑی ہوتی ہیں اور ان دشمنوں میں صرف انسان ہی نہیں ہوتے شیطان بھی شامل ہوجاتے ہیں جو اپنے دوستوں کے دلوں میں کئی خوش آئند تدابیر القاء کرتے رہتے ہیں کہ اسلام اور پیغمبر کے خاتمہ کے لیے یہ تدبیر بھی کارگر ہوسکتی ہے اور یہ تدبیر اس سے زیادہ بہتر ہے۔ نیز وہ کچھ ایسی تدبیریں پیش کرتے ہیں جو بظاہر اچھی معلوم ہوتی ہیں لیکن اصل میں وہ مکر و فریب ہوتا ہے جیسے یہودیوں نے یہ تدبیر کی تھی کہ کچھ یہود ایمان لے آئیں پھر تھوڑے عرصہ بعد مرتد ہوجائیں۔ معاشرہ ہمارے اس…
Read the full tafseer →163 ۔ یعنی تاکہ لوگوں کو فریب میں مبتلا کریں، انسان شیطان کے فریب ہی میں آکر کفر میں مبتلا ہوتا ہے۔ یہاں اس حقیقت کا بیان ہے کہ ہر پیغمبر کے دور میں شیاطین، انس وجن ہی دھوکے کا سبز باغ دکھا دکھا کر لوگوں کو گمراہ کیا کئے ہیں۔ (آیت) ” کذلک “۔ یعنی جس طرح یہ کافر آپ ﷺ کے دشمن ہیں۔ ای کما ابتلیناک بھولاء القوم (قرطبی) ای جعلنا لک عدوا کما جعلنا لمن قبلک من الانبیاء (کبیر) (آیت) ” شیطین الانس والجن “۔ یہ اس باب میں نص ہے کہ قرآن نے جنہیں اپنی بولی میں شیاطین کہا ہے وہ ہمیشہ جنات ہی نہیں ہوتے، جو انسان بھی شیطان کی نیابت انجام دینے لگے، وہ گویا شیطان بہ قالب انسان ہے، شیطان کا لفظ قرآن مجید میں ہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–113
وکذلک جعلنا لکل نبی الخ یعنی آج اگر شیاطین جن و انس متفق ہو کر آپ کے مقابلہ میں ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں تو فکر مند ہونے کی کوئی بات نہیں ہے، یہ کوئی نئی بات نہیں ہے جو کہ آپ ہی کے ساتھ پیش آرہی ہے، ہر زمانہ میں ایسا ہی ہوتا آیا ہے کہ جب بھی کوئی پیغمبر دنیا کو راہ راست دکھانے کے لئے اٹھا تو تمام شیطانی قوتیں اس کے مشن کو ناکام کرنے کیلئے کمر بستہ ہوگئیں۔ خدا کو منظور یہی ہے کہ جب تک نظام عام قائم رکھنا ہے نیکی اور بدی، ہدایت و ضلالت کی حریفانہ جنگ جاری رہے، جس طرح آج یہ مشرکین و معاندیین آپ کو بیہودہ فرمائشوں سے دق کرتے ہیں اور مختلف حیلوں سے لوگوں کو جادہ حق سے ہٹانے کی کوشش کرتے ہیں،…
Read the full tafseer →وکذلک جعلنا لکل نبی عدوا شیطین الانس والجن . اور جس طرح کفار قریش کو ہم نے آپ کا دشمن کہ وہ آپ کی مخالفت کرتے اور آپ کو دیکھتے ہیں) اسی طرح ہر (گزشتہ) پیغمبر کا دشمن جن و بشر میں سے شیطانوں کو بنا دیا تھا۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ کفار کا انبیاء سے عداوت رکھنا بھی اللہ کے زیر تخلیق ہے (کافر خود خالق کفر و عداوت نہیں ‘ اس سے معتزلہ کے قول کی تردید ہوتی ہے کہ بندہ خود اپنے افعال کا خالق ہے) شیطین : سے مراد ہیں سرکش جن و انس۔ قتادہ ؓ مجاہد ؓ اور حسن نے فرمایا انسانوں میں سے کچھ شیطان ہوتے ہیں جو چیز بھی حد سے تجاوز کرنے والی سرکش ہو وہ شیطان ہے۔
میں کہتا ہوں اس کی تائید حضرت جابر ؓ کے بیان سے…
Read the full tafseer →(112) اور جیسا کہ ابوجہل اور دوسرے مشرکین آپ کے دشمن ہیں یہ کوئی نئی بات نہیں بلکہ ہر ایک نبی کے دشمن بہت سے شیاطین پیدا کیے تھے جن میں سے کچھ آدمی تھے اور کچھ جن، جن میں سے بعض یعنی ابلیس دوسرے بعض کافروں کو چکنی چپڑی باتوں کا وسوسہ ڈالتے رہتے تھے تاکہ انسانوں کو دھوکا میں ڈال دیں، لہٰذا آپ بھی ان استہزاء کرنے والوں اور ان کی چکنی چپڑی باتوں کو ان کے حال پر رہنے دیجیے۔
Read the full tafseer →وَكَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا۔۔ : یعنی جس طرح جن و انس کے شیطان آپ سے دشمنی کر رہے ہیں، یہ صرف آپ کا حال نہیں، بلکہ اسی طرح ہم نے آپ سے پہلے تمام انبیاء کے لیے بھی جن و انس شیطان دشمن بنائے تھے، لہٰذا آپ کو گھبرانے کی ضرورت نہیں، بلکہ جس طرح پہلے انبیاء نے اپنے شریر دشمنوں کے مقابلے میں صبر و استقامت سے کام لیا، آپ بھی ان کی ایذا رسانی پر صبر کیجیے، مایوسی اور گھبراہٹ کو اپنے اندر راہ نہ دیجیے۔
يُوْحِيْ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ۔۔ : وحی کا معنی خفیہ طریقے سے اطلاع دینا ہے، یعنی وہ انسان اور جن جو شیطان ہیں، وہ اپنوں میں سے سیدھے سادے لوگوں کو دھوکا دینے کے لیے چوری چھپے طرح طرح…
Read the full tafseer →آیت نمبر 112
قولہ تعالیٰ : آیت : وکذٰلک جعلنا لکل نبی اس میں اللہ تعالیٰ اپنے نبی مکرم ﷺ کو حوصلہ اور تسلی دے رہا ہے، یعنی جس طرح ہم نے آپ کو اس قوم کے ساتھ آزمائش میں ڈالا ہے اسی طرح ہم نے آپ سے پہلے بھی ہر نبی کے لیے دشمن بنائے تھے۔ عدوا یعنی دشمن۔ پھر ان کی صفت بیان کی اور فرمایا : آیت : شیٰطین الانس والجن (تفسیر بغوی، جلد 2، صفحہ 124) سیبویہ نے بیان کیا ہے کہ جعل بمعنی وصف ہے۔ عدوا مفعول اول ہے۔ لکل نبی یہ مفعول ثانی کے محل میں ہے۔ آیت : شیٰطین الانس والجن یہ عدو سے بدل ہے۔ اور یہ بھی جائز ہے کہ شیاطین مفعول اول ہو اور عدوا مفعول ثانی ہو۔ گویا کہ اس طرح کہا گیا : جعلنا شیاطین الانس والجن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–113
برائی دعوت شیطانی عمل ہے
(1) امام احمد، ابن ابی حاتم اور طبرانی نے ابو امامہ ؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے ابوذر تو اللہ سے پناہ مانگ جن اور انسان کے شیطانوں کے شر سے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا انسانوں میں سے بھی شیاطین ہیں آپ نے فرمایا ہاں (اور یہ آیت پڑھی) لفظ آیت شیطین الانس والجن یوحی بعضھم الی بعض زخرف القول غرورا
(2) امام احمد، ابن مردویہ اور بیہقی نے الشعب میں ابوذر ؓ سے روایت کیا کہ مجھ کو نبی ﷺ نے فرمایا تو پناہ مانگ انسان اور جن کے شیطانوں سے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ اور انسان میں بھی شیاطین ہیں ؟ فرمایا ہاں !۔
(3) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے…
Read the full tafseer →وَكَذٰلِكَ [ اور اس طرح ] جَعَلْنَا [ ہم نے بنایا ] لِكُلِّ نَبِيٍّ [ ہر ایک نبی کیلئے ] عَدُوًّا [ کچھ دشمن ] شَـيٰطِيْنَ الْاِنْسِ وَالْجِنِّ [ جو جنوں اور انسانوں کے شیاطین ہیں ] يُوْحِيْ [ پیغام رسانی کرتے ہیں ] بَعْضُهُمْ [ ان کے بعض ] اِلٰى بَعْضٍ [ بعض کی طرف ] زُخْرُفَ الْقَوْلِ [ بات کے ملمع سے ] غُرُوْرًا ۭ [ دھوکے ہوتے ہوئے ] وَلَوْ [ اور اگر ] شَاۗءَ [ چاہتا ] رَبُّكَ [ آپ کا رب ] مَا فَعَلُوْهُ [ تو وہ یہ نہ کرتے ] فَذَرْهُمْ [ پس آپ چھوڑیں ان کو ] وَمَا [ اور اس کو جو ] يَفْتَرُوْنَ [ یہ گھڑتے ہیں ]
Read the full tafseer →معاندین کا مزید تذکرہ اور شیاطین کی شرارتیں
ان آیات میں معاندین کا مزید عناد بیان فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ یہ فرمائشی معجزے طلب کرنا حق قبول کرنے کے لیے نہیں محض باتیں بنانے اور بہانے تراشنے کے لیے ہے۔ اگر ہم ان پر فرشتے اتار دیں اور مردے ان سے باتیں کرلیں اور ہم ہر چیز ان کے سامنے لے آئیں یعنی غیب کی چیزیں ان کے سامنے ظاہر کردیں۔ مثلاً دوزخ دکھا دیں تب بھی یہ لوگ ایمان نہیں لائیں گے مگر یہ کہ اللہ چاہے۔ ایمان لانا مقصود نہیں ہے پھر بھی فرمائشیں کرتے ہیں جو سراپا جہالت ہے پھر فرمایا (وَ کَذٰلِکَ جَعَلْنَا لِکُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا شَیٰطِیْنَ الْاِنْسِ وَ الْجِنِّ ) (الآیۃ) اس میں رسول اللہ ﷺ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–113
بیان کیفیت عناد معاندین
قال اللہ تعالیٰ ولو اننا نزلنا الیھم الملئکۃ۔۔۔ الی۔۔۔ ولیقترفوا ما ھم مقترفون
(ربط) گزشۃ آیت وما یشعرکم انھا اذا جاءت لا یؤمنون میں معاندین کے عناد کو اجمالا ذکر فرمایا اب ان آیات میں ان کے عناد کی تفصیل فرماتے ہیں اور یہ بتلاتے ہیں کہ ان کے عناد کی کیا کیفیت ہے وہ یہ ہے کہ اگر ان کے فرمائشی معجزات سے بڑھ کر بھی ان کو معجزات دکھلا دئیے جائیں تب بھی یہ لوگ عناد اور ضد کی بناء پر حق کو ماننے والے نہیں اور ساتھ آنحضرت ﷺ کو تسلی بھی ہے کہ آپ ﷺ ان معاندین کے بیجا سوالات اور فرمائشی معجزات سے رنجیدہ اور غمگین نہ ہوں یہ بات کچھ آپ کے زمانہ کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ ہر نبی ﷺ کے…
Read the full tafseer →121 زُخْرُفَ الْقَوْلِ ۔ یعنی غلط اور باطل بات جسے خوبصورت بنا کر پیش خوبصورت بنا کر پیش کیا جائے یہ نہ ماننے کی پانچویں وجہ ہے علی سبیل الترقی۔ جس طرح شیاطین جن و انس ہر پیغمبر کے دشمن ہوتے ہیں اور لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے پیغمبر کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا کرتے ہیں۔ اسی طرح حضور ﷺ کے دشمن (شیاطین انس و جن) یہ کام سر انجام دے رہے ہیں اور مسئللہ توحید کے خلاف لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتے پھر رہے ہیں۔ مثلاً یہ شخص بےادب ہے اور بزرگوں کی بےادبی کرتا ہے اس سے بچو۔ تائید۔ وَ مَا اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ مِنْ رَّسُوْلٍ وَّ لَا نَبِیٍّ اِلّا اِذَا تَمَنّٰی اَلْقٰ الشَّیْطَانُ فیْ اُمْنِیَّتہ۔ یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–113
یہ آیات بھی گذشتہ آیات کے ساتھ مربوط ہیں گذشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ مشرکین پختہ قسمیں کھا کر کہتے ہیں کہ اگر ہماری مرضی کے مطابق کوئی نشانی آجائے تو ہم مان جائیں اور تصدیق کردیں گے پہلے تو اللہ نے اس کا رد فرمایا کہ آپ کہ دیں کی نشانیاں لانا میرے بس کی بات نہیں ی تو اللہ کے اختیار میں ہے پھر اہل ایمان سے خطاب کیا کہ تمہیں کیا معلوم کہ نشانی آجانے پر یہ ضرور ہی ایمان لے آئیں گے۔ فرمایا جس طرح یہ پہلی دفعہ کلمہ حق سُن کر ایمان نہیں لائے ، اسی طرح آئندہ بھی ان سے ایمان لانے کی توقع نہ رکھیں۔ اللہ تعالیٰ دلوں کو پلٹتا ہے ، سرکشی کرنے والوں کو مہلت دیتا ہے مگر وہ اسی میں بھٹکتے رہیں ان…
Read the full tafseer →وَكَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا شَـيٰطِيْنَ الْاِنْسِ وَالْجِنِّ يُوْحِيْ بَعْضُہُمْ اِلٰى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوْرًا 0 ۭ وَلَوْ شَاۗءَ رَبُّكَ مَا فَعَلُوْہُ فَذَرْہُمْ وَمَا يَفْتَرُوْنَ 112
جعل
جَعَلَ : لفظ عام في الأفعال کلها، وهو أعمّ من فعل وصنع وسائر أخواتها،
( ج ع ل ) جعل
یہ لفظ ہر کام کرنے کے لئے بولا جاسکتا ہے اور فعل وصنع وغیرہ افعال کی بنسبت عام ہے ۔
نبی
النبيُّ بغیر همْز، فقد قال النحويُّون : أصله الهمْزُ فتُرِكَ همزُه، واستدلُّوا بقولهم : مُسَيْلِمَةُ نُبَيِّئُ سَوْءٍ. وقال بعض العلماء : هو من النَّبْوَة، أي : الرِّفعة وسمّي نَبِيّاً لرِفْعة محلِّه عن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 108–113
ترکیب : فیسبوا منصوب ہے جواب نہی ہو کر عدوًا یہ منصوب اس لئے ہے یا تو مصدر ہے من غیر لفظ الفعل لان السب عدوان فی المعنی اور حال مؤکدہ بھی ہوسکتا ہے اور مفعول لہ بھی بغیر علم بھی حال ہے کذالک موضع نصب میں ہے صفت ہے مصدر محذوف کی اے کمازینا لکل امۃ عملھم زینا لھؤلاء علمھم وما یشعرکم ما مبتداء ویشعر کم خبر اور وہ دو مفعول کی طرف متعدی ہے اول انہا ثانی محذوف تقدیرہ وما یشعرکم ایمانھم اول مرۃ طرف زمان ہے وفذرھم بسکون الراء وضمھا ولتصغٰی جمہور کے نزدیک لام مکسور ہے معطوف ہے غرورًا پر اے لیغروا والتصغٰی بعض کہتے ہیں لام قسم ہے مکسور ہوگیا۔
تفسیر : مشرکین کے ان بیہودہ شبہات پر مسلمان ہنس کر ان کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–113
ارشاد ہوتا ہے :
وَکَذٰلِکَ جَعَلْنَا لِکُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا شَیٰطِیْنَ الْاِنْسِ وَالْجِنِّ یُوْحِیْ بَعْضُھُمْ اِلٰی بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوْرًاط وَلَوْ شَآئَ رَبُّکَ مَا فَعَلُوْہُ فَذَرْھُمْ وَمَا یَفْتَرُوْنَ ۔ وَلِتَصْغٰٓی اِلَیْہِ اَفْئِدَۃُ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَۃِ وَلِیَرْضَوْہُ وَلِیَقْتَرِفُوْا مَاھُمْ مُّقْتَرِفُوْنَ ۔ (الانعام : 112۔ 113)
(اور اسی طرح ہم نے انسانوں اور جنوں کے اشرار کو ہر نبی کا دشمن بنایا۔ وہ ایک دوسرے کو پرفریب باتیں القا کرتے ہیں ‘ دھوکہ دینے کے لیے اور اگر تیرا رب چاہتا تو وہ یہ نہ کر پاتے۔ تو تم ان کو ان کی انہی افتراپردازیوں میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–113
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔
اے نبی ﷺ جن حالات سے آپ گزر رہے ہیں۔ ایسے اعتراضات اور حالات سے تمام انبیاء کو واسطہ پڑتا رہا ہے۔ کیونکہ جنوں اور انسانوں میں سے ہر نبی کا ایک دشمن ضرور ہوا کرتا تھا۔
کَذٰلِکَ کا لفظ اس بات کی ترجمانی کرر ہا ہے کہ نبی آخر الزماں ﷺ سے پہلے جتنے انبیاء کرام (علیہ السلام) دنیا میں تشریف لائے انھیں کئی قسم کے مظالم برداشت کرنے پڑے۔ ان پاکباز شخصیتوں پر الزامات لگائے گئے ان کی دعوت پر ہر قسم کی تنقید کی گئی لیکن وہ جو اں مرد پوری استقامت کے ساتھ اپنے مشن پر قائم رہے۔ یہاں اس بات کو یوں بیان کیا گیا ہے کہ ہم نے ہر نبی کے جنوں اور انسانوں میں سے دشمن بنائے تھے…
Read the full tafseer →وہ شیاطین کو روک سکتا ہے مگر یہ آزمائش ہے :
آیت 112 : وَکَذٰلِکَ جَعَلْنَا لِکُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا جس طرح مشرکین تمہارے دشمن بنے ہیں اسی طرح پہلے انبیاء ( علیہ السلام) کے بھی دشمن بنے ہوئے تھے۔ اس لئے کہ اس میں آزمائش ہے جس کی وجہ سے ثبات و استقلال اور صبر و آخرت کا ثواب و اجر ظاہر ہوتا ہے۔ شَیٰطِیْنَ الْاِنْسِ وَالْجِنِّ ۔ : یہ عدواً سے بدل ہونے کی بناء پر منصوب ہے۔ یا یہ مفعول اول ہے اور عدواً مفعول ثانی ہے۔ یُوْحِیْ بَعْضُہُمْ اِلٰی بَعْضٍشیاطین جن، شیاطین انس کے دلوں میں وسوسہ پیدا کرتے ہیں۔ اسی طرح جنات ایک دوسرے کے دلوں میں وسوسہ اندازی کرتے ہیں مالک بن دینار (رح) فرماتے ہیں انسانی…
Read the full tafseer →تفسیر (112) (وکذلک جعلنا لکل نبی عدواً ) اس میں نبی کریم ﷺ کو تسلی ہے یعنی جس طرح اس قوم کے ذریعے ہم نے آپ کی آزمائش کی اسی طرح آپ سے پہلے ہر نبی کے لئے دشمن بنائے ۔ شیطین الانس والجن
شیاطین انس و جن کا بیان
عکرمہ، ضحاک، سدی اور کلبی رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ مطلب یہ ہے کہ انسانوں کے شیطان ایسے جو انسانوں کے ساتھ اور جنوں کے شیطان ایسے جو جنوں کے ساتھ اور انسانوں میں سے کوئی شیطان نہیں کیونکہ ابلیس نے اپنے لشکر کو دو حصے کردیا ہے۔ ایک جماعت ان میں سے انسانوں کی طرف اور ایک جماعت جنوں کی طرف بھیجی اور یہ دونوں جماعتیں نبی کریم ﷺ اور آپ کے اولیاء کی دشمن ہیں اور یہ دونوں جماعتیں آپس میں ملتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–113
(112 ۔ 113) ۔ شروع سورة سے یہاں تک مشرکین مکہ کی ایسی چند باتوں کا ذکر گذرا جو باتیں یہ لوگ عداوت دینی کے سب سے کرتے تھے کبھی کہتے تھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک نوشتہ خاص ہم لوگوں کے نام اسلام کی تصدیق کا آوے گا جب ہم دین اسلام کو سچا جانیں گے کبھی کہتے تھے آسمان پر سے ایک فرشتہ آن کر ہمارے روبرو اسلام کی تصدیق کیوں نہیں کرتا کبھی قرآن کو پچھلے لوگوں کی کہانیاں بتلاتے تھے کبھی کہتے تھے آسمان پر سے ایک فرشتہ آن کر ہمارے روبرو اسلام کی تصدیق کیوں نہیں کرتا کبھی قرآن کو پچھلے لوگوں کی کہانیاں بتلاتے تھے کبھی کہتے تھے اگر محمد ﷺ اللہ کے سچے رسول ہیں تو اللہ سے دعا کر کے ہم کو اتنا خزانہ دلوا دیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–112
آیت 111
اسی طرح ان کا اپنے ایمان کو اپنے ارادے اور خود اپنی مشیت سے معلق کرنا اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ نہ کرنا، سب سے بڑی غلطی ہے۔ کیونکہ اگر ان کے پاس بڑی بڑی نشانیاں اور معجزات بھی آجائیں، فرشتے نازل ہو کر رسول کی رسالت کی شہادت دے دیں، ان کے ساتھ مردے باتیں کرنے لگیں اور خود ان کو مارنے کے بعد دوبارہ زندہ کردیا جائے (وحشر علیھم کل شیء) ” اور زندہ کردیں ہر چیز کو ان کے سامنے “ حتیٰ کہ وہ ان کے ساتھ باتیں کریں (قبلاً ) ” سامنے “ یعنی ان کے سامنے نظر آتے ہوئے اس چیز کی تصدیق کریں جسے لے کر رسول آیا ہے، تب بھی ان کے حصے میں ایمان نہیں آسکتا، اگر اللہ کی مشیت ان کے ایمان لانے کی نہ ہو۔ مگر ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 108–117
بُتوں کو بُرا بھلا نہ کہو
قول باری ہے ( ولا تسبوا الذین یدعون من دون اللہ فیسبوا اللہ عدواً بغیر علم اور ( اے ایمان والو) یہ لوگ اللہ کے سوا جن کو پکارتے ہیں ان کو گالیاں نہ دو کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ شرک سے آگے بڑھ کر جہالت کی بنا پر اللہ کو گالیاں دینے لگیں) سدی کا قول ہے کہ بتوں کو گالیاں نہ دو کہ پھر اس کے جواب میں مشرکین کو تمہارے لیے شریعت نازل کرنے والی ذات کے خلاف بدزبانی کا موقعہ ہاتھ آ جائے۔ ایک قول یہ ہے کہ تم بتوں کو برا بھلا نہ کہو کہ اس کے سبب پیدا ہونے والا غصہ اور جہالت ان مشرکین کو اس ذات کے خلاف بدزبانی کرنے پر نہ اکسا دے جس کی تم بندگی کرتے ہو۔ اس کے اندر اس بات کی دلیل موجود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–112
213 جبری ایمان نہ مفید ہے نہ مطلوب : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ ایمان نہیں لائیں گے مگر یہ کہ اللہ چاہے تو وہ اور بات ہے کہ وہ قادر مطلق تو سب کچھ کرسکتا ہے۔ مگر اس کا اپنا ارشاد و فرمان یہ ہے کہ وہ ایسا کوئی کام نہیں کرے گا جو اس کی حکمت اور عدل کے خلاف ہو۔ کیونکہ وہ حکیم مطلق ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اس لیے اس کی مشیت اس کی حکمت مطلقہ کے تابع ہے۔ اس لیے وہ جبری ایمان چاہتا ہی نہیں بلکہ وہ یہ چاہتا ہے کہ انسان اپنی مرضی اور اپنے ارادہ و اختیار سے ایمان لائے تاکہ وہ اس کی رحمتوں اور عنایتوں سے محظوظ ومالا مال ہوسکے۔ ورنہ وہ اگر چاہتا تو روئے زمین کے تمام انسان ایک لمحہ اور لحظہ کے اندر سب کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–113
کفار کی ضد اور بری عادات
تشریح : پچھلی آیات میں کفار کی ہٹ دھرمی اور نافرمانی کا ذکر کیا گیا ہے جہاں انہوں نے ایمان لانے کی شرط یہ رکھی کہ صفا کا پہاڑ سونے کا ہوجائے۔ اللہ رب العزت کفار کی اصلیت بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ انہوں نے اگر ایمان لانا ہوتا تو لا چکے ہوتے ان کا ایمان لانا ممکن نہیں نہ معجزہ دیکھ کر لائیں گے اور نہ ہی زبردستی کرنے سے ایمان لائیں گے۔ اگر یہ دونوں باتیں ہوتیں تو یہ بہت معجزے دیکھ چکے ہیں اور اگر زبردستی والی بات ہوتی تو ہم سے زیادہ کون زبردست ہے ہم ان سب کو ایمان والے بنا دیتے مگر یہ تو ان کے ارادے اور اختیار کا امتحان ہے کہ کون سیدھی راہ پر چلتا ہے۔ اور اللہ فرماتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–122
رکوع نمبر 14 آیات نمبر 112 تا 122:
اسرار و معارف :
ایمان کا مدار در اصل اس قلبی کیفیت پر ہے جو انسان کو رب العلمین سے نصیب ہوتی ہے جس کی بنیاد تو انسانی مزاج میں رکھ دی گئی ہے مگر اسے نور نبوت ہی سے جلا ملتی ہے اور یہ جذبہ دل میں سر اٹھاتا ہے کہ مجھے اپنے رب کی رضا کو حاصل کرنا چاہئے اور اس کا قرب پانا چاہئے۔ انسانی کردار اس کے ضمیر کو متاثر کرتا رہتا ہے حتی کہ بعض مظالم ایسے ہوتے ہیں جو دل میں اس جذبے پر تہ در تہ تاریکیاں مسلط کردیتے ہیں ایسے ہی بدنصیب تھے وہ لوگ جو آقائے نامدار ﷺ کے مبارک عہد میں آپ کے رخ انور سے بھی کوئی کرن تک حاصل نہ کرسکے کچھ خوش نصیب اگرچہ نور ایمان کو بعض وجوہ کی بنا…
Read the full tafseer →ف 3 ای جعلنا الک عدوا کما جعلنا من الا نبیا) لہذا آپ ﷺ کو گھبرانے کی ضرورت نہیں بلکہ جس طرح پہلے انبیا شریر دشمنوں کے مقابلہ میں صبر و استقامت سے کام لیا آپ ﷺ بھی ان کی ایذار سانی پر صبر کیجئے اور مایوسی اور گھبراہٹ کو اپنے اندر راہ نہ پانے دیجئے4 یعنی اپنو سے سیدھی سادے لوگوں کو فریب دینے کے لیے چوری چھپے ایک دوسرے کو طرح طرح کو حیلے بازیاں اور مکار یاں سکھاتے ہیں5 وہ چونکہ اتمام حجت کے لیے انہیں امتحان کا پورا پورا موقع دینا چاہتا ہے اور کسی کو اپنی نافرمانی سے زبر دستی باز رکھنا اس کی حکمت اروتکوینی نظام کے خلاف ہے اس لیے وہ انہیں ڈھیل دے رہا ہے، یعنی ان کی کوئی پروانہ کریں اور نہ ان کی…
Read the full tafseer →(6:112) کذلک۔ ایسے ہی۔ اسی طرح ۔ یعنی جس طرح یہ لوگ آپ سے عداوت رکھتے ہیں اور مخالفت کرتے ہیں۔ اسی طرح ہم نے ہر نبی کے لئے شیاطین جن و انسان سے اس کے دشمن پیدا کئے۔
یوحی۔ مضارع واحد مذکر۔ ایحاء سے وہ دوسوسہ ڈالتا ہے وہ وحی بھیجتا ہے۔ یہاں شیاطین جن و انس کی وسوسہ اندازی کو وحی سے اس لئے تعبیر کیا گیا ہے کیونکہ یہ سب باتیں بھی بڑی روزداری اور چپکے چپکے ہوتی ہیں۔
زخرف۔ ملمع ۔ سنہری۔ سونا۔ آراستہ۔ زینت۔ اور کسی شے کے کمال حسن کو زخرف کہتے ہیں۔ اسی لئے سونے کو بھی زخرف کہا جاتا ہے۔ لیکن جب اس کا استعمال قول کے لئے ہو تو جھوٹ سے آراستہ کرنے اور ملمع کی باتیں کرنے کے معنی ہوں گے۔ یہاں ملمع اور زیب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–113
لغات القرآن : آیت نمبر 109 تا 113 :
اقسموا ( انہوں نے قسم کھائی) جھد ایمان (زبردست قسمیں۔ مضبوط قسمیں) ‘ ماشعرکم (تم نہیں سمجھتے) نقلب ( ہم پلٹ دیں گے) افئدۃ (فواد) دل ‘ اول مرۃ ( پہلی مرتبہ) یعمھون ( وہ سرگرداں ہیں۔ وہ بہک رہے ہیں) کلم (باتیں کیں۔ کلام کیا) ۔ الانس (انسان) زخرف (ظاہر۔ چمکدار چیز۔ بناوٹی) غرور ( دھوکہ) لتصغی (تاکہ جھکیں) لیرضوہ ( تاکہ وہ اس کو پسند کرلیں) لیقترفوا (تاکہ وہ کرتے رہیں) ۔
تشریح : آیت نمبر 109 تا 113 :
پچھلی آیات میں ذکر تھا کہ کفار و مشرکین ‘ نشانیوں ‘ معجزوں کے باوجود ایمان نہ لائے۔ اب ذکر ہے کہ انہوں نے اپنی سیاہ ضمیری میں ایک نیا روپ بدلا ہے یعنی حضور ﷺ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–113
مطلب یہ ہے کہ اگر ان مشرکوں کے روبرو فرشتے اور مرے ہوئے مردے اور جہان بھر کی ہر ایک چیز اللہ کے رسول اور اللہ کے کلام کی گواہی دیوے تو بھی جب تک اللہ نہ چاہے تو اس وقت تک یہ لوگ راہ رست پر نہ آویں گے۔
شان نزول : جس کا مطلب یہ ہے کہ مشرکین مکہ عداوت دینی کے سبب سے ایسی باتیں کہتے تھے کہ اللہ کی طرف سے ایک نوشتہ خاص ہم لوگوں کے نام اسلام کی تصدیق کا آوے گا تو ہم دین اسلام لادیں گے۔ کبھی قرآن شریف کو پچھلے لوگوں کی کہانیاں بتاتے تھے، کبھی قرآن شریف کے شان نزول اور اللہ تعالیٰ کی شان میں بےادبی کے لفظ سے نکالنے پر مستعد ہوجاتے تھے۔ غرضیکہ بہت سی ایسی باتیں کرتے تھے۔ ان لوگوں کی ایسی باتوں سے گھڑی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–113
[41] یعنی اللہ کی مشّیت یہ نہیں ہے کہ جو شخص گمراہ ہونا چاہے اللہ اسے جبراً راہ راست پر لائے کیونکہ انسان آزمائش کے لئے پیدا کیا گیا ہے اور یہ بات اس کے اختیار پر چھوڑ دی گئی ہے کہ وہ راہ راست پر چلے یا گمراہی اختیار کرے۔
Read the full tafseer →(ف 2) شیطان کی دوقسمیں ہیں ، ایک تو وہ ہے جو نظروں سے اوجھل ہے دل میں وسوسہ انداز ہوتا ہے اور حواس باطنی پر چھا جاتا ہے اور ایک وہ ہے جو چلتا پھرتا محسوس ہوتا ہے ، یہ انسانوں میں سے بدترین نوع کے لوگ ہیں ، ان کا کام یہ ہے کہ برائیوں کو سنوارکر پیش کریں ، اور گناہ کی باتوں کو ملمع اور فریب کا جامہ پہنائیں تاکہ عوام نہ سمجھ سکیں ، اور پرہیزگاری کی نعمت سے محروم رہ جائیں ۔
Read the full tafseer →-112 اور جس طرح کفار مکہ میں سے بعض لوگ جیسے ابوجہل وغیرہ اے پیغمبر ! آپ کے دشمن ہیں اسی طرح ہم نے ہر نبی کے بہت سے شیاطین دشمن بنائے تھے وہ شیاطین کچھ تو انسانوں میں سے تھے اور کچھ حقیقی شایطنی اور ان کی ذریت میں سے تھے ان دشمنوں کی حالت یہ تھی کہ وہ آپس میں ایک دوسرے کے دل میں طمع کی ہوئی فریب آمیز باتیں وسوسہ کے طور پر ڈالا کرتے تھے یعنی ابلیس اور اس کی ذریت کافر انسانوں کے دلوں میں فریب آمیز باتیں ڈالا کرتے تھے جو ہر زمانہ کے پیغمبروں کو نقصان پہونچانے الی ہوتی تھیں اور اگر آپ کا رب چاہتا تو وہ اس قسم کی ناشائستہ حرکات نہ کرتے سو آپ ان کو اور ان کی ناشائستہ افترا پردازیوں کو ان کے حال پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–115
ف 5۔ لیومنن بھا میں کفار کے قول کی نقل کی ہے اور انما الاٰیات عنداللہ میں ان کا جواب ہے اور وما یشعرکم سے آخر تک مسلمانوں کو فہمائش ہے اور خطاب ہے جواب کا حاصل یہ ہوا کہ رسول مدعی نبوت ہیں اور آیات فارقہ اس دعوی کی دلیل ہے اور مدعی کے ذمہ حسب تصفیہ عقلیہ مطلق دلیل کا قائم کرنا ضروری ہے تعیین کسی خاص آیات جدیدہ کے طلب کا کوئی حق نہ تھا ہاں دلائل قائم کردہ پر جرح وقدح کریں تو اس کا جواب اصالة یانیابة مدعی کے ذمہ ہے جس کے لیے ہر مدعی حقانیت اسلام اب بھی آمادہ ہے۔
Read the full tafseer →انسانون اور جنوں میں سے شیاطین ہر نبی و رسول کا راستہ روک کر کھڑے ہوتے رہے :
169: شیطان کا کام کیا ہے ؟ شیطنت یعنی انگشت زنی کرتے رہنا اور شورش بپار رکھنا۔ بس یہ کام جو بھی کرے وہ شیطان ہے۔ نبی اعظم و آخر ﷺ کے اس دور میں جب آپ مبعوث کئے گئے آپ ﷺ کو زچ کرنے کے لئے جن لوگوں نے سرتوڑ کوشش کی وہ کون تھے ؟ بلاشبہ قریش کے لیڈر اور ان کے ہم نواہی تھے پھر انہوں نے اگشت زنی کرنے اور شورش بپارکھنے میں کوئی کسر باقی نہ رکھی تھی ؟ اوپر سے جن چیزوں کا ذکر ہوتا چلا آرہا ہے اور جن مختلف مطالبوں کا ذکر کیا گیا ہے یہ کون لوگ کرتے تھے ؟ یہی قریشی اور ان کے ہم نواہی تو کر رہے تھے۔ فرمایا جا رہا ہے کہ اے پیغمبر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–113
On Signs and Miracles
The previous verses had mentioned how obstinate people failed to benefit from clear signs of Allah and open miracles of His Messenger and kept on denying the message of truth. The present verses mention how they took a new turn, and demanded particular miracles from the Holy Prophet ﷺ . As reported by Ibn Jarir, the Quraysh chiefs asked that they be shown the miracle of turning the Mount of Safa into solid gold; if so, they would accept that he was a prophet and messenger, and that they would embrace Islam. The Holy Prophet ﷺ said: All right, make a solid agreement that,…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–113
79. The Prophet (peace be on him) is told that he should not be unnerved even if the evil ones among both mankind and the jinn stood united against him and opposed him with all their might. For this was not the first time that such a thing had happened. Whenever a Prophet came and tried to lead people to the Truth, all the satanic forces joined hands to defeat his mission. 'Specious talk' signifies all the trickery and manoeuvring to which the enemy resorts, all his efforts aimed at sowing doubts about Islam and undermining people's faith in it, so as to arouse them against both the Prophet…
Read the full tafseer →