فرماتا ہے کہ یہ کفار جو قسمیں کھا کھا کر تم سے کہتے ہیں کہ اگر کوئی معجزہ وہ دیکھ لیتے تو ضرور ایمان لے آتے۔ یہ غلط کہتے ہیں تمہیں ان کے ایمان لانے سے مایوس ہوجانا چاہیے۔ یہ کہتے ہیں کہ اگر فرشتے اتر تے تو ہم مان لیتے لیکن یہ بھی جھوٹ ہے فرشتوں کے آجانے پر بھی اور ان کے کہہ دینے پر بھی کہ یہ رسول برحق ہیں انہیں ایمان نصیب نہیں ہوگا، یہ صرف ایمان نہ لانے کے بہانے تراشتے ہیں کہ کبھی کہہ دیتے ہیں اللہ کو لے آ۔ کبھی کہتے ہیں فرشتوں کو لے آ۔ کبھی کہتے ہیں اگلے نبیوں جیسے معجزے لے آ، یہ سب حجت بازی اور حیلے حوالے ہیں، دلوں میں تکبر بھرا ہوا ہے زبان سے سرکشی اور برائی ظاہر کرتے ہیں، اگر مردے بھی…
Read the full tafseer →سورة الْاَنْعَام 78
یعنی یہ لوگ اپنے اختیار و انتخاب سے تو حق کو باطل کے مقابلہ میں ترجیح دے کر قبول کرنے والے ہیں نہیں۔ اب ان کے حق پرست بننے کی صرف ایک ہی صورت باقی ہے اور وہ یہ کہ عمل تخلیق وتکوین سے جس طرح تمام بےاختیار مخلوقات کو حق پرست پیدا کیا گیا ہے اسی طرح انہیں بھی بےاختیار کر کے جبلّی و پیدائشی حق پرست بنا ڈالا جائے۔ مگر یہ اس حکمت کے خلاف ہے جس کے تحت اللہ نے انسان کو پیدا کیا ہے۔ لہٰذا تمہارا یہ توقع کرنا فضول ہے کہ اللہ تعالیٰ براہ راست اپنی تکوینی مداخلت سے ان کو مومن بنائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–113
آخری آیت وَلَوْ اَنَّنَا نَزَّلْنَآ اِلَيْهِمُ الْمَلٰۗىِٕكَةَ میں اسی مضمون کا بیان ہے کہ اگر ہم ان کو ان کے فرمائشی معجزات سب دکھلادیں، بلکہ ان سے بھی زیادہ فرشتوں سے ان کی ملاقات اور مردوں سے گفتگو کرادیں، جب بھی وہ ماننے والے نہیں، بعد کی دو آیتوں میں آنحضرت ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ یہ لوگ اگر آپ ﷺ سے عداوت کرتے ہیں تو کچھ تعجب کی بات نہیں، پچھلے تمام انبیاء کے بھی دشمن ہوتے چلے آئے ہیں، آپ ﷺ اس سے دلگیر نہ ہوں۔
Read the full tafseer →وَلَوْ اَنَّنَا نَزَّلْنَآ اِلَيْهِمُ الْمَلٰۗىِٕكَةَ وَكَلَّمَهُمُ الْمَوْتٰى وَحَشَرْنَا عَلَيْهِمْ كُلَّ شَيْءٍ قُبُلًا مَّا كَانُوْا لِيُؤْمِنُوْٓا۔ قُبُل مصدر بھی ہوسکتا ہے جس کے معنی کسی شے کو سامنے سے آتے دیکھنے کے ہیں اور قبیل کی جمع بھی ہوسکتا ہے جس کے گراہ اور جماع کے ہیں۔ قرآن میں دانوں معنوں کے لیے نظیر موجود ہے۔ پہلے معنی کے لیے نظیر سورة کہف میں ہے وَمَا مَنَعَ النَّاسَ أَنْ يُؤْمِنُوا إِذْ جَاءَهُمُ الْهُدَى وَيَسْتَغْفِرُوا رَبَّهُمْ إِلا أَنْ تَأْتِيَهُمْ سُنَّةُ الأوَّلِينَ أَوْ يَأْتِيَهُمُ الْعَذَابُ قُبُلا : ہدایت آچکنے کے بعد لوگوں کو ایمان لانے اور اپنے رب سے مغفرت…
Read the full tafseer →111۔ 1 اور وہ حضرت محمد رسول اللہ کی رسالت کی تصدیق کردیتے۔
111۔ 2 دوسرا مفہوم اس کا بیان کیا گیا ہے کہ جو نشانیاں وہ طلب کرتے ہیں وہ سب ان کے روبرو پیش کردیتے۔ اور ایک مفہوم یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ ہر چیز جمع ہو کر گروہ در گروہ یہ گواہی دے کہ پیغمبروں کا سلسلہ برحق ہے تو ان تمام نشانیوں اور مطالبوں کے پورا کردینے کے باوجود یہ ایمان لانے والے نہیں ہیں۔ مگر جس کو اللہ چاہے اسی مفہوم کی یہ آیت بھی ہے (سورۃ یونس 96۔ 97) جن پر تیرے رب کی بات ثابت ہوگئی ہے وہ ایمان نہیں لائیں گے، اگرچہ ان کے پاس ہر قسم کی نشانی آجائے یہاں تک کہ وہ دردناک عذاب دیکھ لیں۔
111۔ 3 اور یہ جہالت کی باتیں ہی ان کے اور…
Read the full tafseer →49: یہ وہ باتیں ہیں جن کی وہ فرمائش کیا کرتے تھے۔ سورة فرقان (آیت نمبر 21) میں ان کا یہ مطالبہ
50: یعنی حقیقت تو یہ ہے کہ تمام معجزات کو دیکھ کر بھی یہ ایمان لانے والے نہیں ہیں۔ پھر بھی جو مطالبات کر رہے ہیں وہ محض جہالت پر مبنی ہیں۔
Read the full tafseer →پارہ نمبر 8 ایک نظر میں :
اس پارے کے دو حصے ہیں ۔ پہلے حصے میں سورة الانعام کا باقی حصہ ہے ‘ جس کا پہلا حصے ہیں ۔ پہلے حصے میں سورة الانعام کا باقی حصہ ہے ‘ جس پہلا حصہ ساتویں پارے میں تھا۔ دوسرا حصہ سورة اعراف پر مشتمل ہے ۔ سورة انعام کا تعارف ہم نے ساتویں پارے میں کرا دیا تھا ۔ ہم چاہتے ہیں کہ اس تعارف کا ایک حصہ قارئین کی یاد تازہ کرنے کے لئے یہاں بھی ذکر کریں ۔ رہی سورة اعراف تو اس کے آغاز میں اس کا مکمل تعارف دے دیا جائے گا ‘ انشاء اللہ تعالیٰ !
سورة انعام کا یہ حصہ بھی اسی پیٹرن (PAttern) پر آگے بڑھتا ہے جس کی وضاحت ہم نے سورة انعام کے آغاز میں کردی تھی ‘ یعنی ساتویں پارے میں ۔ یہاں چند…
Read the full tafseer →1 یعنی اگر ان کی فرمائش کے موافق بلکہ اس سے بھی بڑھ کر فرض کیجئے آسمان سے فرشتے اتر کر آپ کی تصدیق کریں اور مردے قبروں سے اٹھ کر ان سے باتیں کرنے لگیں اور تمام امتیں جو گزر چکی ہیں دوبارہ زندہ کر کے ان کے سامنے لا کھڑی کی جائیں تب بھی سوء استعداد اور تعنت وعناد کی وجہ سے یہ لوگ حق کو ماننے والے نہیں۔ بیشک اگر خدا چاہے تو زبردستی منوا سکتا ہے لیکن ایسا چاہنا اس کی حکمت اور تکوینی نظام کے خلاف ہے۔ جس کو ان میں کے اکثر لوگ اپنے جہل کی وجہ سے نہیں سمجھتے۔ اس کی تشریح پچھلے فوائد میں گزر چکی۔
Read the full tafseer →آیت 111 وَلَوْاَنَّنَا نَزَّلْنَآ اِلَیْہِمُ الْمَلآءِکَۃَ
یعنی ہم ان کے مطالبے کے مطابق ایک فرشتہ تو کیا فرشتوں کی فوجیں اتار سکتے ہیں ‘ ان فرشتوں کو آسمان سے اترتے ہوئے دکھا سکتے ہیں ‘ لیکن اگر ہم واقعتاً فرشتے اتار بھی دیتے اور ان کو دکھا بھی دیتے۔۔
وَکَلَّمَہُمُ الْمَوْتٰی وَحَشَرْنَا عَلَیْہِمْ کُلَّ شَیْءٍ قُبُلاً مَّا کَانُوْا لِیُؤْمِنُوْٓا اِلَّآ اَنْ یَّشَآء اللّٰہُ
اگر اللہ چاہے اور اگر کسی کے اندر حق کی طلب ہو تو اللہ تعالیٰ معجزوں کے بغیر بھی ایسے لوگوں کی آنکھیں کھول دیتا ہے۔ جو لوگ بھی محمد رسول اللہ ﷺ پر ایمان لائے تھے وہ معجزے دیکھ کر تو نہیں لائے تھے۔ وہ طالبانِ حق تھے لہٰذا…
Read the full tafseer →113 اس آیت میں بھی کفار کے کسی حسی معجزہ کے مطالبہ کا جواب دیا جا رہا ہے یعنی ان بدبختوں کا یہ حال ہے کہ اگر ہم فرشتے نازل کرتے جو ان کے سامنے گواہی دیتے کہ یہ پیغمبر واقعی اللہ کا رسول ہے اور یہ کتاب واقعی منزل من اللہ ہے۔ اور قبروں سے مردے اٹھ کر ان کو بتاتے کہ واقعی جو کچھ یہ پیغمبر کہتا ہے سچ کہتا ہے اور مرنے کے بعد کے حالات کچھ ہم دیکھ چکے ہیں بلکہ لاکھ معجزے ان کو دکھا دیتے تو صاف کہہ دیتے کہ یہ تو صاف جادو ہے اور ہماری نظر بندی کردی گئی ہے ایمان لانے کی طرف پھر بھی نہ آتے۔
114 ( اِنْ یَشَاِ اللّٰہُ ) 111 ۔ الانعام) کا ایک مطلب تو وہی ہے جو ترجمہ میں بیان کردیا گیا ہے یعنی کوئی ایک آدھ…
Read the full tafseer →161 ۔ (اس لیے کہ فرط شرارت اور شدت عناد سے یہ طلب حق کا قصدہی نہیں کرتے) بیان منکرین اسلام کی شدت عناد وقساوت قلب کا ہورہا ہے کہ بالفرض ان کی ساری فرمائشیں پوری کردی جائیں اور دنیا بھر کے خوارق انہیں دکھلادیئے جائیں، جب بھی چونکہ وہ اپنے میں طلب صادق پیدا ہی نہیں کرتے، اس لیے ہمیشہ کوئی نہ کوئی الٹی سیدھی تاویل کر ہی لیں گے۔ اور ایمان بہرحال نہ لائیں گے۔ (آیت) ” ولواننا نزلنا الیھم الملئکۃ “۔ جیسا کہ خود ان کی فرمائشیں ہیں۔ (آیت) ” لولا انزل علینا الملئکۃ۔ وکلمھم الموتی “۔ جیسا کہ خود ان کی فرمائشیں تھی۔ (آیت) ” فاتوا بابآینا۔ وحشرناعلیھم کل شیء قبلا “۔ یعنی ہر غیب ان پر مکشوف کردیتے۔ آیت سے…
Read the full tafseer →آیت نمبر 111 تا 121
ترجمہ : اور اگر ہم ان پر فرشتے نازل کردیتے اور ان کی تجویز کے مطبق مردے ان سے باتیں کرتے اور ہم ان کی آنکھوں کے سامنے (دنیا بھر کی) ہر قسم کی چیزیں جمع کردیتے قُبُلاً قاف اور باء کے ضمہ کے ساتھ قبیلٌ کی جمع ہے بمعنی گروہ، اور ایک قراءت میں قاف کے کسرہ اور باء کے فتحہ کے ساتھ ہے بمعنی روبرو (نظروں کے سامنے) اور وہ آپ کی صداقت کی شہادت دیتے تب بھی اللہ کے علم ازلی کے مطابق یہ ایمان لانے والے نہیں تھے، اِلاَّ یہ کہ مشئیت الہیٰ کا تقاضہ یہی ہو تو ایمان لاسکتے ہیں، لیکن ان میں سے زیادہ تر لوگ اس معاملہ میں جہالت کی باتیں کرتے ہیں جس طرح ہم نے ان لوگوں کو آپ کا دشمن بنادیا ہے…
Read the full tafseer →ولو اننا نزلنا الیہم الملئکۃ وکلمہم الموت وحشرنا علیہم کل شی قبلا ما کانوا لیومنوا الا ان یشآء اللہ . اور اگر ہم ان کے پاس فرشتوں کو بھیج دیتے اور ان سے مردے باتیں کرنے لگتے اور ہم تمام موجودات (غیبیہ) کو ان کی آنکھوں کے روبرو لا کر جمع کردیتے تب بھی یہ ایمان نہ لاتے ‘ ہاں اگر اللہ ہی چاہے تو اور بات ہے۔
مُردوں کے کلام کرنے سے یہ مراد ہے کہ مردے ان سے آپ کی نبوت کی تصدیق کردیں۔ قبلا یا مصدر ہے سامنے آیا یا قبیل کی جمع ہے اور قبیل یا قبیلۃ کی جمع ہے بمعنی جماعت۔ یا صفت مشبہ کا صیغہ ہے بمعنی کفیل یعنی جو کچھ ان کو (جنت کی) بشارت اور (دوزخ سے) تخویف کی گئی ہے اس سب کی کفیل اور ذمہ دار۔
ما کانوا…
Read the full tafseer →(111) اور اگر ہم ان منکریں کے پاس ان کے مطالبہ کے مطابق فرشتوں کو بھیج دیتے اور قبروں سے مردے نکل کر ان سے کہنے لگتے کہ محمد ﷺ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور قرآن حکیم کلام ربی ہے اور ہم تمام چرندوں اور پرندوں کو ان کے سامنے لا کر کھڑا کردیتے اور جس بات کے یہ منکر ہیں اس کی سچائی کی گواہی دیتے مگر اس کے باوجود بھی یہ لوگ ایمان نہ لاتے، ماسوا یہ کہ اللہ تعالیٰ چاہتا۔
Read the full tafseer →وَلَوْ اَنَّنَا نَزَّلْنَآ اِلَيْهِمُ الْمَلٰۗىِٕكَةَ۔۔ : پچھلی آیت : (وَمَا يُشْعِرُكُمْ ۙ اَنَّهَآ اِذَا جَاۗءَتْ لَا يُؤْمِنُوْنَ) میں جو بات مختصر بیان کی گئی تھی یہاں اسی کی تفصیل ہے، یعنی اگر ہم ان کے تمام مطالبات پورے کردیں، جیسے فرشتوں کو نازل کرنا اور مردوں کا کلام کرنا وغیرہ، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر ہم ہر چیز گروہ در گروہ یا آمنے سامنے لا کھڑی کردیں تو پھر بھی یہ ایمان نہیں لائیں گے۔ ہر چیز سے مراد ان کے مطالبات میں سے ہر چیز ہے، کیونکہ ”کل“ کے لفظ سے موقع کے مناسب ہر چیز ہوتا ہے، جیسا کہ ہدہد نے ملکۂ سبا سے متعلق کہا : (وَاُوْتِيَتْ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ) [ النمل : 23 ] ”اور اسے ہر چیز…
Read the full tafseer →آیت نمبر 111
قولہ تعالیٰ آیت : ولو اننا نزلنا الیھم الملٓئکۃ اور اگر ہم ان کی طرف فرشتے اتارتے اور وہ انہیں عیاں دیکھ لیتے۔ آیت : وکلمھم الموتی اور مردے ان سے باتیں کرنے لگتے ہمارے انہیںٰ زندہ کرنے کے ساتھ۔ آیت وحشرنا علیھم کل شیء نشانیوں میں سے جن کا انہوں نے مطالبہ کیا ( وہ ہر شی ہم ان کے لیے جمع کردیے) قبلا ان کے سامنے۔ حضرت ابن عباس، حضرت قتادہ اور حضرت ابن زید ؓ عنہھم سے مروی ہے اور یہ نافع اور ابن عامر کی قرأت ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کا معنی ہے معاینہ ان کے روبرو، تو وہ ایمان نہ لاتے۔
اور محمد بن یزید نے کہا ہے : قبلا بمعنی ناحیۃ ( طرف) ہوتا ہے، جیسا کہ آپ کہتے ہیں : لی قمل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–111
(1) امام ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ قریش کے بارے میں نازل ہوا لفظ آیت واقسموا باللہ جھد ایمانھم لئن جآء تھم ایۃ لیومنن بھا قل انما الایت عنداللہ وما یشعرکم اے مسلمانوں کی جماعت لفظ آیت انھا اذا جآءت لا یومنون تمہیں کیا خبر کہ جب یہ نشانی آجائے تب بھی یہ ایمان نہیں لائیں گے مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ جانے گا تو ان کو مجبور کردے گا اسلام پر۔
(2) امام ابن جریر نے محمد بن کعب قرظی ؓ سے روایت کیا کہ قریش نے رسول اللہ ﷺ سے یہ بات کی اور کہا اے محمد ﷺ آپ ہم کو بتاتے ہیں کہ موسیٰ کے پاس ایک لاٹھی تھی جس کو پتھر پر مارتے تھے اور عیسیٰ مردوں کو زندہ کردیتے تھے۔ اور شمود والوں کے لئے ایک اونٹنی…
Read the full tafseer →وَلَوْ [ اور اگر ] اَنَّنَا [ یہ کہ ہم ] نَزَّلْنَآ [ اتاریں ] اِلَيْهِمُ [ ان کی طرف ] الْمَلٰۗىِٕكَةَ [ فرشتوں کو ] وَكَلَّمَهُمُ [ اور بات کریں ان سے ] الْمَوْتٰى [ مردے ] وَحَشَرْنَا [ اور ہم اکٹھا کردیں ] عَلَيْهِمْ [ ان پر ] كُلَّ شَيْءٍ [ ہر چیز کو ] قُبُلًا [ سامنے ہوتے ہوئے ] مَّا كَانُوْا [ تو (بھی ) وہ لوگ نہیں ہیں ] لِيُؤْمِنُوْٓا [ کہ ایمان لائیں ] اِلَّآ اَنْ [ سوائے اس کے کہ ] يَّشَاۗءَ [ چاہے ] اللّٰهُ [ اللہ ] وَلٰكِنَّ [ اور لیکن ] اَكْثَرَهُمْ [ ان کے اکثر ] يَجْهَلُوْنَ [ غلط عقائد رکھتے ہیں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–111
آخر میں فرمایا
(وَ نُقَلِّبُ اَفْءِدَتَھُمْ وَ اَبْصَارَھُمْ ) اور ہم ان کے دلوں کو اور ان کی نگاہوں کو پلٹ دیں گے نہ حق کے طالب ہوں گے نہ حق پر نظریں کریں گے۔ (کَمَا لَمْ یُؤْمِنُوْا بِہٖٓ اَوَّلَ مَرَّۃٍ ) جیسا کہ یہ لوگ اس قرآن پر پہلی مرتبہ ایمان نہ لائے (وَّ نَذَرُھُمْ فِیْ طُغْیَانِھِمْ یَعْمَھُوْنَ ) اور ہم ان کو اس حال میں چھوڑے رہیں گے کہ وہ اپنی سر کشی میں اندھے بنے رہیں۔
قال القرطبی فی تفسیرہٖ 7 ص 65 ھذہٖ اٰیۃ مشکلۃ و لا سیما و فیھا ” وَنَذَرُھُمْ فِیْ طُغْیَانھِمْ یَعْمَھُوْنَ “ قیل المعنی و نُقَلِّبُ اَفْءِدَتَھُمْ وَاَنْظَارَ ھُمْ یوم القیمۃ علی لھب النار و حرّالجمر، کمالم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–113
بیان کیفیت عناد معاندین
قال اللہ تعالیٰ ولو اننا نزلنا الیھم الملئکۃ۔۔۔ الی۔۔۔ ولیقترفوا ما ھم مقترفون
(ربط) گزشۃ آیت وما یشعرکم انھا اذا جاءت لا یؤمنون میں معاندین کے عناد کو اجمالا ذکر فرمایا اب ان آیات میں ان کے عناد کی تفصیل فرماتے ہیں اور یہ بتلاتے ہیں کہ ان کے عناد کی کیا کیفیت ہے وہ یہ ہے کہ اگر ان کے فرمائشی معجزات سے بڑھ کر بھی ان کو معجزات دکھلا دئیے جائیں تب بھی یہ لوگ عناد اور ضد کی بناء پر حق کو ماننے والے نہیں اور ساتھ آنحضرت ﷺ کو تسلی بھی ہے کہ آپ ﷺ ان معاندین کے بیجا سوالات اور فرمائشی معجزات سے رنجیدہ اور غمگین نہ ہوں یہ بات کچھ آپ کے زمانہ کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ ہر نبی ﷺ کے…
Read the full tafseer →120 یہ ماقبل ہی کی تفصیل ہے۔ یعنی اگر ہم ان کے مطلوبہ معجزات ان کو دکھا دیں مثلاً ان پر فرشتے اتار دیں۔ لَوْلَا اُنْزِلَ عَلَیْنَا الْمَلَائِکۃ الخ اور مردے زندہ ہو کر ان سے باتیں کرنے لگیں۔ فَاتُوْا بِاٰبَائِنَا اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ اور ہر چیز جو وہ چاہیں اٹھا کر ان کے سامنے کردیں تو بھی وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ اِلَّا اَنْ یَّشَاءَ اللہُ اس میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کا بیان ہے۔ گمراہی کے تین درجات (1) سشیاطین انس و جنلب انابت الی اللہ۔ (2) ضلال اور (3) مہر جباریت میں سے تینوں ان میں موجود تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–113
یہ آیات بھی گذشتہ آیات کے ساتھ مربوط ہیں گذشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ مشرکین پختہ قسمیں کھا کر کہتے ہیں کہ اگر ہماری مرضی کے مطابق کوئی نشانی آجائے تو ہم مان جائیں اور تصدیق کردیں گے پہلے تو اللہ نے اس کا رد فرمایا کہ آپ کہ دیں کی نشانیاں لانا میرے بس کی بات نہیں ی تو اللہ کے اختیار میں ہے پھر اہل ایمان سے خطاب کیا کہ تمہیں کیا معلوم کہ نشانی آجانے پر یہ ضرور ہی ایمان لے آئیں گے۔ فرمایا جس طرح یہ پہلی دفعہ کلمہ حق سُن کر ایمان نہیں لائے ، اسی طرح آئندہ بھی ان سے ایمان لانے کی توقع نہ رکھیں۔ اللہ تعالیٰ دلوں کو پلٹتا ہے ، سرکشی کرنے والوں کو مہلت دیتا ہے مگر وہ اسی میں بھٹکتے رہیں ان…
Read the full tafseer →وَلَوْاَنَّنَا نَزَّلْنَآ اِلَيْہِمُ الْمَلٰۗىِٕكَۃَ وَكَلَّمَہُمُ الْمَوْتٰى وَحَشَرْنَا عَلَيْہِمْ كُلَّ شَيْءٍ قُبُلًا مَّا كَانُوْا لِيُؤْمِنُوْٓا اِلَّآ اَنْ يَّشَاۗءَ اللہُ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَہُمْ يَجْہَلُوْنَ 111
لو
لَوْ : قيل : هو لامتناع الشیء لامتناع غيره، ويتضمّن معنی الشرط نحو : قوله تعالی: قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ [ الإسراء/ 100] .
( لو ) لو ( حرف ) بعض نے کہا ہے کہ یہ امتناع الشئی لا متناع غیر ہ کے لئے آتا ہے ( یعنی ایک چیز کا دوسری کے امتناع کے سبب ناممکن ہونا اور معنی شرط کو متضمن ہوتا ہے چناچہ قرآن پاک میں ہے : ۔ قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ [ الإسراء/ 100] کہہ دو کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 108–113
ترکیب : فیسبوا منصوب ہے جواب نہی ہو کر عدوًا یہ منصوب اس لئے ہے یا تو مصدر ہے من غیر لفظ الفعل لان السب عدوان فی المعنی اور حال مؤکدہ بھی ہوسکتا ہے اور مفعول لہ بھی بغیر علم بھی حال ہے کذالک موضع نصب میں ہے صفت ہے مصدر محذوف کی اے کمازینا لکل امۃ عملھم زینا لھؤلاء علمھم وما یشعرکم ما مبتداء ویشعر کم خبر اور وہ دو مفعول کی طرف متعدی ہے اول انہا ثانی محذوف تقدیرہ وما یشعرکم ایمانھم اول مرۃ طرف زمان ہے وفذرھم بسکون الراء وضمھا ولتصغٰی جمہور کے نزدیک لام مکسور ہے معطوف ہے غرورًا پر اے لیغروا والتصغٰی بعض کہتے ہیں لام قسم ہے مکسور ہوگیا۔
تفسیر : مشرکین کے ان بیہودہ شبہات پر مسلمان ہنس کر ان کی…
Read the full tafseer →ارشاد ہوتا ہے :
وَلَوْ اَنَّنَا نَزَّلْنَآ اِلَیْھِمُ الْمَلٰٓئِکَۃَ وَ کَلَّمَھُمُ الْمَوْتٰی وَ حَشَرْنَا عَلَیْھِمْ کُلَّ شَیٔئٍ قُبُلًا مَّا کَانُوْا لِیُؤْمِنُوْٓا اِلَّآ اَنْ یَّشَآئَ اللہ ُ وَلٰکِنَّ اَکْثَرَھُمْ یَجْھَلُوْنَ ۔ (الانعام : 111)
(اور اگر ہم ان کی طرف فرشتے بھی اتار دیتے اور مردے بھی ان سے باتیں کرنے لگتے اور ساری چیزیں ان کے آگے گروہ در گروہ اکٹھی کردی جاتیں ‘ جب بھی یہ ایمان لانے والے نہ تھے الا آنکہ اللہ چاہے۔ لیکن ان کی اکثریت مبتلائے جہل ہے)
جن کے دل الٹ دئیے جائیں ‘ وہ کسی صورت میں بھی ایمان نہیں لائیں گے
اللہ کی طرف سے چونکہ ان کے طرز عمل کی وجہ سے ان کی ہدایت سے…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : منکرین حق کے لایعنی مطالبات کا دوسرا جواب اور ان کی حیثیت۔
جیسا کہ پہلی آیات کی تفسیر میں عرض کیا جا چکا ہے کہ منکرین حق رسول معظم ﷺ کو لاجواب اور مسلمانوں کو پھسلانے کے لیے مختلف ہتھکنڈے استعمال کرتے اور مطالبات کرتے رہتے تھے۔ اس کے جواب میں فرمایا گیا کہ دلائل اور معجزات تو بہت آچکے لیکن یہ لوگ اپنی باغیانہ فطرت کی وجہ سے انھیں تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ اب اسی بات کو کھول کر یوں بیان کیا گیا ہے کہ اگر ہم آسمان سے ملائکہ نازل کریں اور وہ آواز پر آواز دیں کہ لوگو یہ رسول سچا ہے اور پھر مردوں کو قبروں سے اٹھا کر ان کے سامنے لا کھڑا کیا جائے اور وہ دہائی دیتے ہوئے…
Read the full tafseer →ایمان والوں کے شاید کے جواب :
آیت 111: وَلَوْ اَنَّنَا نَزَّلْنَآ اِلَیْہِمُ الْمَلٰٓپکَۃَ ۔ جیسا کے وہ مطالبہ کرتے ہیں۔ لَوْ لَآ اُنْزِلَ عَلَیْنَا الْمَلٰٓپکَۃُ ۔ وَکَلَّمَہُمُ الْمَوْتٰی جیسا کہ وہ کہتے ہیں فأتوا باٰبائنا۔ وَحَشَرْنَا عَلَیْہِمْہم جمع کردیں۔ کُلَّ شَیْئٍ قُبُلًاجو ہم نے ان کو بشارت دی اس کی ذمہ دار اور جس سے ڈرایا اس کی کفیل۔ قبلا جمع قبیل بمعنی کفیل۔ قراءت : قبلا مصدر شامی اور مدنی نے پڑھا۔ اس کا معنی سامنے دونوں صورتوں میں حال کی وجہ سے منصوب ہے۔ مَّا کَانُوْا لِیُؤْمِنُوْٓا اِلَّآ اَنْ یَّشَآئَ اللّٰہُ ۔ ان کا ایمان پس وہ ایمان لائیں یہ ایمان والوں کی بات کا جواب ہے…
Read the full tafseer →تفسیر (111) (ولواننا نزلنا الیھم الملٓئکۃ) اور وہ ان کو اپنے سامنے دیکھ لیں (وکلمھم الموتی) ہم ان کو زندہ کردیں اور وہ آپ کی نبوت کی گواہی دیں جیسے ان کا مطالبہ ہے (وحشرنا علیھم کل شیء قبلاً ) اہل مدینہ اور ابن عامر رحمہما اللہ نے قبلا کو قاف کے کسرہ اور باء کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے یعنی آمنے سامنے اور باقی حضرات نے قاف اور باء کے پیش کے ساتھ اور بعض نے کہا یہ قبیل کی جمع ہے یعنی ” قبیلہ ای “ فوج اور بعض نے کہا مقابلہ کے معنی میں ہے ان کے قول اتیتک قبلاً لادبراً کی طرح ہے جب اس کے سامنے آئے۔ (ماکانوا لیومنوا الا ان یشآء اللہ ولکن اکثرھم یجھلون)
Read the full tafseer →اوپر کی آیتوں کے سلسلہ میں فرمایا کہ اگر ان مشرکوں کے روبرو فرشتے مرے ہوئے مردے اور جہاں بھر کی ہر ایک چیز اللہ کے رسول اور اللہ کے کلام کی گواہی دیوے تو بھی جب تک اللہ نہ چاہے اس وقت تک یہ لوگ راہ راست پر نہ آویں گے لیکن اللہ یہ نہیں چاہتا کہ اپنے علم ازلی کے برخلاف کسی کو مجبور کر کے راہ راست پر لادے اس لیے ایسے لوگوں کی قسما قسمی پر مسلمانوں کے معجزہ کی خواہش ایک انجان پنے کی خواہش ہے جو مسلمانوں کے حق میں مناسب نہیں ہے بلکہ ان کے حق میں یہ مناسب ہے کہ وہ ایسے انجان معاملہ کو اللہ کی مرضی پر چھوڑ دیں اس کے علم ازلی کے موافق جو مناسب ہوگا وہ وقت مقررہ پر خود ظہور میں آجاوے گا۔ اللہ سچا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–112
آیت 111
اسی طرح ان کا اپنے ایمان کو اپنے ارادے اور خود اپنی مشیت سے معلق کرنا اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ نہ کرنا، سب سے بڑی غلطی ہے۔ کیونکہ اگر ان کے پاس بڑی بڑی نشانیاں اور معجزات بھی آجائیں، فرشتے نازل ہو کر رسول کی رسالت کی شہادت دے دیں، ان کے ساتھ مردے باتیں کرنے لگیں اور خود ان کو مارنے کے بعد دوبارہ زندہ کردیا جائے (وحشر علیھم کل شیء) ” اور زندہ کردیں ہر چیز کو ان کے سامنے “ حتیٰ کہ وہ ان کے ساتھ باتیں کریں (قبلاً ) ” سامنے “ یعنی ان کے سامنے نظر آتے ہوئے اس چیز کی تصدیق کریں جسے لے کر رسول آیا ہے، تب بھی ان کے حصے میں ایمان نہیں آسکتا، اگر اللہ کی مشیت ان کے ایمان لانے کی نہ ہو۔ مگر ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 108–117
بُتوں کو بُرا بھلا نہ کہو
قول باری ہے ( ولا تسبوا الذین یدعون من دون اللہ فیسبوا اللہ عدواً بغیر علم اور ( اے ایمان والو) یہ لوگ اللہ کے سوا جن کو پکارتے ہیں ان کو گالیاں نہ دو کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ شرک سے آگے بڑھ کر جہالت کی بنا پر اللہ کو گالیاں دینے لگیں) سدی کا قول ہے کہ بتوں کو گالیاں نہ دو کہ پھر اس کے جواب میں مشرکین کو تمہارے لیے شریعت نازل کرنے والی ذات کے خلاف بدزبانی کا موقعہ ہاتھ آ جائے۔ ایک قول یہ ہے کہ تم بتوں کو برا بھلا نہ کہو کہ اس کے سبب پیدا ہونے والا غصہ اور جہالت ان مشرکین کو اس ذات کے خلاف بدزبانی کرنے پر نہ اکسا دے جس کی تم بندگی کرتے ہو۔ اس کے اندر اس بات کی دلیل موجود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–112
213 جبری ایمان نہ مفید ہے نہ مطلوب : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ ایمان نہیں لائیں گے مگر یہ کہ اللہ چاہے تو وہ اور بات ہے کہ وہ قادر مطلق تو سب کچھ کرسکتا ہے۔ مگر اس کا اپنا ارشاد و فرمان یہ ہے کہ وہ ایسا کوئی کام نہیں کرے گا جو اس کی حکمت اور عدل کے خلاف ہو۔ کیونکہ وہ حکیم مطلق ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اس لیے اس کی مشیت اس کی حکمت مطلقہ کے تابع ہے۔ اس لیے وہ جبری ایمان چاہتا ہی نہیں بلکہ وہ یہ چاہتا ہے کہ انسان اپنی مرضی اور اپنے ارادہ و اختیار سے ایمان لائے تاکہ وہ اس کی رحمتوں اور عنایتوں سے محظوظ ومالا مال ہوسکے۔ ورنہ وہ اگر چاہتا تو روئے زمین کے تمام انسان ایک لمحہ اور لحظہ کے اندر سب کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–113
کفار کی ضد اور بری عادات
تشریح : پچھلی آیات میں کفار کی ہٹ دھرمی اور نافرمانی کا ذکر کیا گیا ہے جہاں انہوں نے ایمان لانے کی شرط یہ رکھی کہ صفا کا پہاڑ سونے کا ہوجائے۔ اللہ رب العزت کفار کی اصلیت بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ انہوں نے اگر ایمان لانا ہوتا تو لا چکے ہوتے ان کا ایمان لانا ممکن نہیں نہ معجزہ دیکھ کر لائیں گے اور نہ ہی زبردستی کرنے سے ایمان لائیں گے۔ اگر یہ دونوں باتیں ہوتیں تو یہ بہت معجزے دیکھ چکے ہیں اور اگر زبردستی والی بات ہوتی تو ہم سے زیادہ کون زبردست ہے ہم ان سب کو ایمان والے بنا دیتے مگر یہ تو ان کے ارادے اور اختیار کا امتحان ہے کہ کون سیدھی راہ پر چلتا ہے۔ اور اللہ فرماتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–111
رکوع نمبر 13 ۔ آیات 102 تا 111:
اسرار و معارف :
وہ تو ارض و سما کا بنانے والا اور ایسا بنانے والا ہے جس نے تخلیق کی ابتدا فرمائی نہ یہ کہ پہلے کوئی چیز تھی اور دیکھ کر یا مختلف اشیاء کا وجود تھا انہیں جوڑ کر زمین آسمان بنا دئیے بلکہ کچھ بھی نہ تھا پردہ عدم سے اشیاء کو وجود میں لایا اور اس کی اپنی اکیلی عظیم ذات کے علاوہ جو کچھ بھی ہے وہ اس کی مخلوق ہے ہر چیز کو اس نے پیدا فرمایا ہے اور وہ اکیلا خالق ہے نادانو بیٹا تو باپ کی جنس اور انہیں صفات کا حامل ہوتا ہے۔ جیسے انسان کا بچہ کیسا بھی ہو انسان تو ضرور ہوگا جب بیٹا ہو ناممکن ہے تو وہ اپنی شان اور ذات میں اکیلا تو نہ رہا پھر تو اس کے لیے بیوی…
Read the full tafseer →ف 1 اوپر آیت وما یشعر کم انھا اذا جات لایو منو ن الخ میں جو مجملا بیان ہوا ہے یہاں اسی کی تفصیل ہے (رازی) یعنی اگر ہم نے کے تمام مطالبات پورے کردیں جیسے فرشتوں کو نازل کرنا اور مردوں کا کلام کرنا وغیرہ بلک مزید بر آں ہر چیز گروہ در گروہ یا آمنے سامنے لاکھڑی کردیں تو پھر بھی یہ ایمان نہیں لائیں گے،2 کہ ہر چیز اللہ تعالیٰ کی قضا وقدر کے ساتھ ہے۔
Read the full tafseer →(6:111) حشرنا۔ ہم نے اکٹھا کیا۔ ہم نے جمع کیا ۔ الحشر (نصر) کے معنی ۔ لوگوں کو ان کے ٹھکانے سے مجبور کرکے نکال کر لڑائی کی طرف لیجانے کے ہیں۔
ایک روایت میں ہے النساء لا یحشرون عورتوں کو جنگ کے لئے نہ نکالا جائے۔ اور یہ انسان اور غیر انسان سب کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ قرآن مجید میں ہے واذا الوحوش حشرت (81:5) اور جب وحشی جانور اکٹھے کئے جائیں گے قیامت کے دن کو بھی یوم الحشر کہا جاتا ہے کہ سب کو اس روز اکٹھا کیا جائے گا۔
قبلا۔ جمع قبیل واحد۔ جماعت درجمات۔ گروہ درگروہ۔ بعض کے نزدیک قابل کی جمع ۔ یعنی آنکھوں کے سامنے۔ آگے۔
یجھلون۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ جھل۔ جھالۃ مصدر (باب سمع) وہ انہیں جانتے ۔ وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–113
لغات القرآن : آیت نمبر 109 تا 113 :
اقسموا ( انہوں نے قسم کھائی) جھد ایمان (زبردست قسمیں۔ مضبوط قسمیں) ‘ ماشعرکم (تم نہیں سمجھتے) نقلب ( ہم پلٹ دیں گے) افئدۃ (فواد) دل ‘ اول مرۃ ( پہلی مرتبہ) یعمھون ( وہ سرگرداں ہیں۔ وہ بہک رہے ہیں) کلم (باتیں کیں۔ کلام کیا) ۔ الانس (انسان) زخرف (ظاہر۔ چمکدار چیز۔ بناوٹی) غرور ( دھوکہ) لتصغی (تاکہ جھکیں) لیرضوہ ( تاکہ وہ اس کو پسند کرلیں) لیقترفوا (تاکہ وہ کرتے رہیں) ۔
تشریح : آیت نمبر 109 تا 113 :
پچھلی آیات میں ذکر تھا کہ کفار و مشرکین ‘ نشانیوں ‘ معجزوں کے باوجود ایمان نہ لائے۔ اب ذکر ہے کہ انہوں نے اپنی سیاہ ضمیری میں ایک نیا روپ بدلا ہے یعنی حضور ﷺ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–113
مطلب یہ ہے کہ اگر ان مشرکوں کے روبرو فرشتے اور مرے ہوئے مردے اور جہان بھر کی ہر ایک چیز اللہ کے رسول اور اللہ کے کلام کی گواہی دیوے تو بھی جب تک اللہ نہ چاہے تو اس وقت تک یہ لوگ راہ رست پر نہ آویں گے۔
شان نزول : جس کا مطلب یہ ہے کہ مشرکین مکہ عداوت دینی کے سبب سے ایسی باتیں کہتے تھے کہ اللہ کی طرف سے ایک نوشتہ خاص ہم لوگوں کے نام اسلام کی تصدیق کا آوے گا تو ہم دین اسلام لادیں گے۔ کبھی قرآن شریف کو پچھلے لوگوں کی کہانیاں بتاتے تھے، کبھی قرآن شریف کے شان نزول اور اللہ تعالیٰ کی شان میں بےادبی کے لفظ سے نکالنے پر مستعد ہوجاتے تھے۔ غرضیکہ بہت سی ایسی باتیں کرتے تھے۔ ان لوگوں کی ایسی باتوں سے گھڑی…
Read the full tafseer →[40] یعنی پیغمبر کی اصل تعلیمات اور ایمان کے مقصد وغایت پر غور ہی نہیں کرتے اور اسے گویا ساحر یا شعبدہ باز سمجھتے ہیں۔
Read the full tafseer →(ف 1) غرض یہ ہے کہ اگر ان لوگوں کے تمام مطالبات کو پورا بھی کردیا جائے جب بھی یہ منکر ہی رہیں گے ۔
کیونکہ اسلام کو قبول کرلینے کے معنی یہ ہیں کہ وہ تمام اور نام و خرافات سے دستبردار ہوجائیں ، ایثار و تعاون کو شیوہ بنا لیں ذاتی وجاہتیں اور اعزاز چھوڑ دیں ، اللہ کے لئے جئیں اور اللہ کے لئے مریں ، دنیا کی بجائے دین نصب العین قرار دیں ، مادیت سے علیحدہ ہوجائیں ، دن رات روحانیت کے درپے ہیں ، ایمان ویقین کی دولت کو حاصل کرنے کے لئے آخری لمحہ حیات تک صرف کر ڈالیں ، اور یہ ان کے لئے ازحد مشکل ہے ، کیونکہ ان کے دلوں میں کفر سرایت کرچکا ہے اور ایمان کیلئے جگہ باقی نہیں رہی ۔
Read the full tafseer →-111 اور ان کے عناد اور ان کی سرکشی کی حالت یو یہاں تک پہونچ گئی ہے کہ اگر ہم ان کی خواہشات کے موافق ان پر فرشتے بھی نازل کردیں اور ان سے مردے بھی زندہ ہو کر باتیں کرنے لگیں اور ہم تمام موجودات مخفیہ اور غیبیہ کو ان کے روبرو لا کر جمع بھی کردیں تب بھی یہ ہرگز ایمان نہیں لائیں گے یعنی یہ سب کچھ دیکھ لیتے تب بھی ایمان نہ لاتے مگر ہاں اللہ تعالیٰ کی مشیت کا اگر تقاضا ہو تو دوسری بات ہے یعنی اگر اللہ کو منظور ہو تو ایمان لاسکتے ہیں لیکن ان میں سے اکثر نادان اور جاہل و بیخیر ہیں یعنی اللہ تعالیٰ کی مشیت سے جاہل ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–115
ف 5۔ لیومنن بھا میں کفار کے قول کی نقل کی ہے اور انما الاٰیات عنداللہ میں ان کا جواب ہے اور وما یشعرکم سے آخر تک مسلمانوں کو فہمائش ہے اور خطاب ہے جواب کا حاصل یہ ہوا کہ رسول مدعی نبوت ہیں اور آیات فارقہ اس دعوی کی دلیل ہے اور مدعی کے ذمہ حسب تصفیہ عقلیہ مطلق دلیل کا قائم کرنا ضروری ہے تعیین کسی خاص آیات جدیدہ کے طلب کا کوئی حق نہ تھا ہاں دلائل قائم کردہ پر جرح وقدح کریں تو اس کا جواب اصالة یانیابة مدعی کے ذمہ ہے جس کے لیے ہر مدعی حقانیت اسلام اب بھی آمادہ ہے۔
Read the full tafseer →فرشتے ان پر نازل ہوں ، مردے ان سے باتیں کرنے لگیں پھر بھی یہ لوگ ماننے کے نہیں :
168: سورة الانعام کی اس آیت ایک سو گیارہ سے آٹھواں پارہ شروع ہو رہا ہے۔ مضمون وہی جاری ہے جو پیچھے سے چلا آرہا ہے فرمایا جن کی ضلالت پسندی اور ہٹ دھرمی کے سبب سے اللہ نے ان پر ہدایت کے دروازے بند کردیئے ہوں اور جن کو اللہ ہی نے ان کی گمراہیوں کی طرف دھکیل دیا ہو جن کی طرف وہ جانا چاہتے تھے تو اب اور کون ہے جو ان کو راہ راست پر لاسکے ؟ جن لوگوں نے سچائی سے منہ موڑ کر جھوٹ پر مطمئن ہونا چاہا اور جن کی اس خباثت کے باعث اللہ نے بھی ان کے لئے وہ اسباب فراہم کردیئے جن سے سچائی کے خلاف ان کی نفرت میں اور جھوٹ پر ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–113
On Signs and Miracles
The previous verses had mentioned how obstinate people failed to benefit from clear signs of Allah and open miracles of His Messenger and kept on denying the message of truth. The present verses mention how they took a new turn, and demanded particular miracles from the Holy Prophet ﷺ . As reported by Ibn Jarir, the Quraysh chiefs asked that they be shown the miracle of turning the Mount of Safa into solid gold; if so, they would accept that he was a prophet and messenger, and that they would embrace Islam. The Holy Prophet ﷺ said: All right, make a solid agreement that,…
Read the full tafseer →78. The people under discussion are so perverse that they do not prefer to embrace the Truth in preference to falsehood by rightly exercising their choice and volition. The only way that is left for them to become lovers of the Truth is, therefore, that by His overpowering will God should render them truth-loving not by their choice and volition, but by metamorphizing their very nature. Such a course, however, goes against the wisdom which underlies the creation of man. Hence it is futile to expect God to intervene in the matter and to force those people to believe by the exercise of His will.
Read the full tafseer →