Al-An'aam 6:110

Al-An'aam · from ayah 110

6:110

وَنُقَلِّبُ اَفْـِٕدَتَهُمْ وَاَبْصَارَهُمْ كَمَا لَمْ یُؤْمِنُوْا بِهٖۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّنَذَرُهُمْ فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ ۟۠وَنُقَلِّبُ اَفۡــئِدَتَهُمۡ وَاَبۡصَارَهُمۡ كَمَا لَمۡ يُؤۡمِنُوۡا بِهٖۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّنَذَرُهُمۡ فِىۡ طُغۡيَانِهِمۡ يَعۡمَهُوۡنَ

اور ہم ان کے دلوں اور آنکھوں کو الٹ دیں گے (تو) جیسے یہ اس (قرآن) پر پہلی دفعہ ایمان نہیں لائے (ویسے پھر نہ لائیں گے) اور ان کو چھوڑ دیں گے کہ اپنی سرکشی میں بہکتے رہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And We will turn away their hearts and their eyes just as they refused to believe in it the first time. And We will leave them in their transgression, wandering blindly.

— Saheeh International

Juz 7 · Ruku 13 of surah · Ruku 19 of juzع

Read the whole surah · Surah Al-An'aam

All translations of 6:110

ہم اُسی طرح ان کے دلوں اور نگاہوں کو پھیر رہے ہیں جس طرح یہ پہلی مرتبہ اس پر ایمان نہیں لائے تھے ہم انہیں ان کی سرکشی ہی میں بھٹکنے کے لیے چھوڑے دیتے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ہم ان کے دلوں اور آنکھوں کو الٹ دیں گے (تو) جیسے یہ اس (قرآن) پر پہلی دفعہ ایمان نہیں لائے (ویسے پھر نہ لائیں گے) اور ان کو چھوڑ دیں گے کہ اپنی سرکشی میں بہکتے رہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور ہم بھی ان کے دلوں کو اور ان کی نگاہوں کو پھیر دیں گے جیسا کہ یہ لوگ اس پر پہلی دفعہ ایمان نہیں ﻻئے اور ہم ان کو ان کی سرکشی میں حیران رہنے دیں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

جس طرح یہ لوگ پہلی بار (قرآن جیسے معجزے پر) ایمان نہیں لائے، ہم بھی (ان کی ضد کی پاداش میں) ان کے دلوں اور نگاہوں کا رخ پھیر دیتے ہیں، اور ان کو اس حالت میں چھوڑ دیتے ہیں کہ یہ اپنی سرکشی میں بھٹکتے پھریں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور ہم پھیردیتے ہیں ان کے دلوں اور آنکھوں کو جیسا وہ پہلی بار ایمان نہ لائے تھے اور انہیں چھوڑ دیتے ہیں کہ اپنی سرکشی میں بھٹکا کریں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور ہم ان کے دلوں کو اور ان کی آنکھوں کو (ان کی اپنی بدنیتی کے باعث قبولِ حق) سے (اسی طرح) پھیر دیں گے جس طرح وہ اس (نبی) پر پہلی بار ایمان نہیں لائے (سو وہ نشانی دیکھ کر بھی ایمان نہیں لائیں گے) اور ہم انہیں ان کی سرکشی میں (ہی) چھوڑ دیں گے کہ وہ بھٹکتے پھریں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور ہم ان کے دلوں اور ان کی آنکھوں کو پھیر دیں گے، جیسے وہ اس پر پہلی بار ایمان نہیں لائے اور انھیں چھوڑ دیں گے، اپنی سر کشی میں بھٹکتے پھریں گے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور ہم ان کے دلوں کو اور ان کی آنکھوں کو ایسے ہی پھیر دیں گے جیسے وہ پہلی بار بھی اس (قرآن) پر ایمان نہیں لائے اور انہیں ان کی سرکشی میں ہی بھٹکتے چھوڑ دینگے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ہم ان کے دلوں اور ان کی نگاہوں کو الٹ دیں گے جس طرح وہ پہلی بار ایمان نہیں لائے اور ان کو ان کی سرکشی میں بھٹکتے ہوئے چھوڑ دیں گے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور ہم پھیر دیں گے ان کے دلوں کو اور ان کی نگاہوں کو (حق کے سمجھنے اور دیکھنے سے) جس طرح کہ یہ ایمان نہیں لائے اس (قرآن عظیم) پر پہلی مرتبہ اور انھیں چھوڑ دیں گے کہ یہ اپنی سرکشی میں پڑے بھٹکتے رہیں

— مولانا اسحاق مدنی

اور ہم بھی ان کے دلوں کو اور ان کی نظروں کو پھیردیں گے جیسا کہ یہ لوگ اس کے اوپر پہلی بار ایمان نہیں لائے اور ہم ان کو ان کی سرکشی میں بھٹکتا ہوا چھوڑے رہیں گے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور ہم ان کے دلوں اور ان کی نگاہوں کو الٹ دیں گے جس طرح وہ ایمان نہیں لائے تھے پہلی مرتبہ اور ہم ان کو چھوڑ دیں گے کہ اپنی سر کشی کے اندر بھٹکتے رہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ہم ان کے دلوں اور آنکھوں کو الٹ دیں گے تو جیسے یہ اس قرآن پر پہلی دفعہ ایمان نہیں لائے ویسے پھر بھی نہ لائیں گے اور ان کو چھوڑ دیں گے کہ اپنی سرکشی میں بہکتے رہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

We are turning their hearts and eyes away from the Truth even as they did not believe in the first instance - and We leave them in their insurgence to stumble blindly.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

We will upset their hearts and sights, as they did not believe in them at the first instance, and We will leave them wandering blindly in their rebellion.

— Muhammad Taqi Usmani

We will upset their hearts and sights, as they did not believe in them at the first instance, and We will leave them wandering blindly in their rebellion.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And We shall turn their hearts and their eyes away, as they refused to believe therein for the first time, and We shall leave them in their trespass to wander blindly.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

We confound their hearts and their eyes. As they believed not therein at the first, We let them wander blindly on in their contumacy.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And We will turn away their hearts and their eyes just as they refused to believe in it the first time. And We will leave them in their transgression, wandering blindly.

— Saheeh International

We will turn their hearts and vision away (from a miracle); they did not have faith (in miracles) at the first time, and We will leave them blind in their rebellion.

— Muhammad Sarwar

And We will turn their hearts and their sights, even as they did not believe in it the first time, and We will leave them in their inordinacy, blindly wandering on.

— Muhammad Habib Shakir

And We shall turn aside their hearts and their eyesights, even as they believed not therein for the first time and We shall let them wander in their exorbitance perplexed.

— Abdul Majid Daryabadi

We (too) shall turn to (confusion) their hearts and their eyes, even as they refused to believe in this in the first instance: We shall leave them in their trespasses, to wander in distraction.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 6:110

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 109–110

معجزوں کے طالب لوگ صرف مسلمانوں کو دھوکا دینے کیلئے اور اس لئے بھی کہ خود مسلمان شک شبہ میں پڑجائیں کافر لوگ قسمیں کھا کھا کر بڑے زور سے کہتے تھے کہ ہمارے طلب کردہ معجزے ہمیں دکھا دیئے جائیں تو واللہ ہم بھی مسلمان ہوجائیں۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو ہدایت فرماتا ہے کہ آپ کہہ دیں کہ معجزے میرے قبضے میں نہیں یہ اللہ کے ہاتھ میں ہیں وہ چاہے دکھائے چاہے نہ دکھائے ابن جریر میں ہے کہ مشرکین نے حضور سے کہا کہ آپ فرماتے ہیں حضرت موسیٰ ایک پتھر پر لکڑی مارتے تھے تو اس سے بارہ چشمے نکلے تھے اور حضرت عیسیٰ مردوں میں جان ڈال دیتے تھے اور حضرت ثمود نے اونٹنی کا معجزہ دکھایا تھا تو آپ بھی جو…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 109–110

سورة الْاَنْعَام 74 نشانی سے مراد کوئی ایسا صریح محسوس معجزہ ہے جسے دیکھ کر نبی ﷺ کی صداقت اور آپ ﷺ کے مامور مِنَ اللہ ہونے کو مان لینے کو سوا کوئی چارہ نہ رہے۔ سورة الْاَنْعَام 75 یعنی نشانیوں کے پیش کرنے اور بنا لانے کی قدرت مجھے حاصل نہیں ہے، ان کا اختیار تو اللہ کو ہے، چاہے دکھائے اور نہ چاہے نہ دکھائے۔ سورة الْاَنْعَام 76 یہ خطاب مسلمانوں سے ہے جو بےتاب ہو ہو کر تمنا کرتے تھے اور کبھی کبھی زبان سے بھی اس خواہش کا اظہار کردیتے تھے کہ کوئی ایسی نشانی ظاہر ہوجائے جس سے ان کے گمراہ بھائی راہ راست پر آجائیں ان کی اسی تمنا اور خواہش کے جواب میں ارشاد ہو رہا ہے کہ آخر تمہیں کس طرح سمجھایا جائے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 109–110

پچھلی آیات میں اس کا ذکر تھا کہ رسول کریم ﷺ کے کھلے ہوئے معجزات اور اللہ تعالیٰ کی روشن نشانیوں کے باجود ہٹ دھرم لوگوں نے ان سے فائدہ نہ اٹھایا، اپنے انکار اور ضد پر جمے رہے، اگلی آیات میں اس کا ذکر ہے کہ ان لوگوں نے اپنی ضد اور ہٹ دھرمی کا ایک نیا روپ یہ بدلا کہ آنحضرت ﷺ سے خاص خاص قسم کے معجزات دکھلانے کا مطالبہ کیا، جیسا کہ ابن جریر رحمة اللہ علیہ نے نقل کیا ہے کہ قریشی سرداروں نے مطالبہ کیا کہ اگر آپ ﷺ ہمیں یہ معجزہ دکھلا دیں کہ کوہ صفا پورا سونا ہوجائے تو ہم آپ ﷺ کی نبوت و رسالت کو مان لیں گے، اور مسلمان ہوجائیں گے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اچھا معاہدہ کرو کہ اگر یہ معجزہ ظاہر ہوگیا تو تم…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وَنُقَلِّبُ اَفْــــِٕدَتَهُمْ وَاَبْصَارَهُمْ كَمَا لَمْ يُؤْمِنُوْا بِهٖٓ اَوَّلَ مَرَّةٍ ، یہ اس سنت اللہ کا بیان ہے جس کے تحت کسی کو ایمان نصیب ہوتا ہے اور کوئی اس سے محروم رہتا ہے، اس سنت اللہ کی وضاحت اس کتاب میں مختلف مقامات میں ہوچکی ہے۔ اس کائنات میں بھی اور انسان کے اپنے وجود کے اندر بھی خالق کائنات نے اپنی جو ان گنت نشانیاں پھیلا دی ہیں جو لوگ ان پر غور کرتے اور اس غور و فکر سے جو بدیہی نتائج ان کے سامنے آتے ہیں ان کو حرز جاں بناتے ہیں، ان کو ایمان کی دولت نصیب ہوتی ہے۔ اس کے برعکس جو لوگ یہ تمام نشانیاں دیکھنے کے باوجود انھدے بہرے بنے اور اپنی خود پرستیوں میں مگن رہتے ہیں، قرآن…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

110۔ 1 اس کا مطلب ہے کہ جب پہلی مرتبہ ایمان نہیں لائے تو اس کا وبال ان پر اس طرح پڑا کہ آئندہ بھی ان کے ایمان لانے کا امکان ختم ہوگیا۔ دلوں اور نگاہوں کو پھیر دینے کا یہی مفہوم ہے (ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 109–110

48: تشریح کے لیے اسی سورت کی آیت نمبر 35 کا حاشیہ ملاحظہ فرمائیے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 109–110

(آیت) ” نمبر 109 تا 110۔ ” وہ دل جو اس کائنات میں بکھرے ہوئے شواہد و دلائل کو تسلیم نہیں کرتا ‘ خصوصا اس تبلیغ وبیان کے بعد جو اس کتاب نے بےمثال پیرائے میں پیش کیا اور اس کائنات اور خود انسان کے نفس کے اندر موجود آیات الہیہ اسے اپنی طرف متوجہ نہیں کرسکتیں اور وہ اپنے رب کی طرف دوڑ کر نہیں آتا تو ایسا دل یقینا لاعلاج دل ہے ۔ ان لوگوں نے ابتداء ہی سے ایمان کا انکار کردیا ہے تو جو مسلمان حضرت نبی کریم ﷺ سے درخواستیں کرتے ہیں کہ آپ اللہ تعالیٰ سے ایسے معجزات کے صدور کی دعا کریں تو ان کے پاس کی گارنٹی ہے کہ وہ صدور معجزہ کے بعد دوبارہ انکار نہ کریں گے ۔ اللہ ہی ان کے دلوں کا حال جانتا ہے اور خوب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

10 یعنی جب کفر و سرکشی میں تمادی ہوگی تو نتیجہ یہ ہوگا کہ ہم ان کے دل اور آنکھیں الٹ دیں گے۔ پھر حق کے سمجھنے اور دیکھنے کی توفیق نہ ملے گی۔ موضح القرآن میں ہے کہ " اللہ جن کو ہدایت دیتا ہے اوّل ہی حق سن کر انصاف سے قبول کرتے ہیں اور جس نے پہلے ہی ضد کی اگر نشانیاں بھی دیکھ لے تو کچھ حیلہ بنا لے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 110 وَنُقَلِّبُ اَفْءِدَتَہُمْ وَاَبْصَارَہُمْ کَمَا لَمْ یُؤْمِنُوْا بِہٖٓ اَوَّلَ مَرَّۃٍ اس قاعدے اور قانون کو اچھی طرح سمجھ لیں۔ اس فلسفہ کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو جو صلاحیتیں دی ہیں اگر وہ ان کو استعمال کرتا ہے تو ان میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔ آپ لوگوں کو علم سکھائیں گے تو آپ کے علم میں اضافہ ہوگا۔ آپ آنکھ کا استعمال کریں گے تو آنکھ صحت مند رہے گی ‘ اس کی بصارت برقرار رہے گی۔ اگر آنکھ پر پٹی باندھ دیں گے تو دو چار مہینے کے بعد بصارت زائل ہوجائے گی۔ انسانی جوڑوں کو حرکت کرنے کے لیے بنایا گیا ہے ‘ اگر آپ کسی جوڑ پر پلاسٹر چڑھا دیں گے تو کچھ مہینوں کے بعد اس کی حرکت ختم…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

112 یعنی اگر یہ لوگ معجزہ دیکھ کر ایمان لانے والے ہوتے تو قرآن بذات خود کیا کم معجزہ تھا جس کے کھلے کھلے چیلنج کے باوجود یہ سب مل کر بھی اس جیسی ایک سورة بھی پیش نہ کرسکے اور اب اگر مزید ہم انہیں کوئی معجزہ دکھائیں گے تو پھر بھی ان کی یہ کیفیت ہوگی۔ یہ پھر اسی طرح بصارت اور بصیرت کے لحاظ سے اندھے بن جائیں گے جس طرح پہلے سے بنے ہوئے ہیں۔ رہی یہ بات کہ اللہ نے ان کی گمراہی کی نسبت اپنی طرف کیوں کی کہ ہم انہیں ان کی سرکشی میں بھٹکتا چھوڑ دیں گے تو اس کے متعلق پہلے وضاحت کی جا چکی ہے کہ اسباب کا اختیار کرنا انسان کے اپنے اختیار میں ہے اور اسی اختیار پر انسان کا مواخذہ ہوگا۔ رہے ان اسباب کے نتائج…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

160 ۔ (ان کے ضد اور عناد کے نتیجہ کے طور پر) یعنی حق کی طلب و تلاش چونکہ ان میں سرے سے ہے ہی نہیں، اس لیے ہزار معجزات دیکھ لیں، ہدایت انہیں نصیب نہ ہوگی اور یہ یوں ہی بدستور بھٹکتے ہی رہیں گے، (آیت) ” نقلب افدتھم وابصارھم “۔ ان کی آنکھیں حق بینی کی طرف اور ان کے دل حق طلبی کے قصد کی طرف سے ہٹا دیئے جائیں گے۔ ضمیر جمع متکلم کا استعمال حق تعالیٰ کی طرف یہاں صرف تکوینی سلسلہ علل کے مسبب الاسباب کی حیثیت سے ہے۔ عن قبول الحق وعن رؤیۃ الحق عند الایۃ التی اقترحوھا (مدارک) (آیت) ” لم یؤمنوا بہ “۔ ضمیر قرآن مجید کی جانب ہے۔ (آیت) ” اول مرۃ “۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ خوارق کا طلب کرتے رہنا طریق…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 108–110

ولا تسبوا الذین الخ اس آیت میں مسلمانوں کو نصیحت کی گئی ہے کہ اپنی تبلیغ کے جوش میں وہ اتنے بےقابو ہوجائیں کہ معاملہ بحث و تکرار سے بڑھ کر گالی گلوچ تک پہنچ جائے، کیونکہ یہ چیز ان کو حق سے قریب کرنے کے بجائے اور زیادہ دور کر دے گی اور ضد میں وہ بھی تمہارے معبود اور پیشواؤں کی تحقیر و تذلیل پر اتر آئیں گے۔ شان نزول : واقسموا باللہ جھد ایمانھم الخ، تفسیر ابن جریر وغیرہ میں مجاہد کے قول کے مطابق ان آیتوں کا جو شان نزول بیان کیا گیا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ قریش آنحضرت ﷺ سے مختلف قسم کے معجزوں کا مطالبہ کیا کرتے تھے، اور قسمیں کھا کر یہ کہا کرتے تھے کہ ان معجزوں کو دیکھ لینے کے بعد وہ اسلام کے تابع…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ونقلب افئدتہم وابصارہم کما لم یومنوا بہ اول مرۃ ونذرہم فی طغیانہم یعمہون : اور ہم بھی ان کے دلوں کو (حق کو سمجھنے سے) اور ان کی آنکھوں کو (سبق اندوز نظروں سے دیکھنے سے) پھیر دیں گے (کہ آیات مطلوبہ سامنے آنے کے بعد بھی ایمان نہیں لائیں گے) جس طرح پہلی دفعہ (کھلے ہوئے محسوس) معجزات پر ایمان نہیں لائے (مثلاً معجزۂ شق القمر وغیرہ دیکھنے کے بعد بھی ایمان نہیں لائے) اور ہم ان کو ان کی سرکشی میں حیران پڑا رہنے دیں گے۔ راہ حق پر نہیں چلائیں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(110) اور ہم بھی ان کے ایمان نہ لانے کی وجہ سے ان کے دلوں اور ان کی نگاہوں کو پھیردیں گے جیسا کہ یہ قرآن کریم پر جو کہ پہلا عظیم الشان معجزہ ہے نبی اکرم ﷺ کے خبر دینے پر بھی ایمان نہیں لائے اور ہم ان کو ان کی سرکشی میں اندھے سرگرداں رہنے دیں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَنُقَلِّبُ اَفْــــِٕدَتَهُمْ۔۔ : یعنی اس سے پہلے معجزے دیکھ کر جب یہ ایمان نہیں لائے تو اب کیسے لائیں گے ؟ جو شخص حق واضح ہونے کے بعد ہٹ دھرمی سے ایک دفعہ انکار کردیتا ہے، پھر وہ مسلسل انکار ہی کرتا رہتا ہے۔ اس کے اس بد عمل کی وجہ سے آئندہ ایمان لانے کی توفیق اس سے چھین لی جاتی ہے۔ دیکھیے سورة یونس (74) اور سورة انفال (24) شاہ عبد القادر ؓ لکھتے ہیں، یعنی جن کو اللہ ہدایت دیتا ہے وہ پہلی دفعہ ہی حق کی بات سن کر انصاف سے قبول کرلیتے ہیں اور جس شخص نے پہلے ہی ضد سے ٹھان رکھی ہے کہ مانے گا ہی نہیں، وہ معجزہ دیکھ کر بھی کوئی حیلہ بنا لیتا ہے، مثلاً فرعون نے کتنے ہی معجزے دیکھے پر وہ ایمان نہ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 110 یہ آیت مشکل ہے، اور بالخصوص وہ (اشکال) اس میں ہے آیت : ونذرھم فی طغیانھم یعمھون کہا گیا ہے : اس کا معنی ہے اور ہم ان کے دلوں کو اور ان کی آنکھوں کی قیامت کے دن آگ کے شعلوں اور انگاروں کی حرارت کی طرف پھیر دیں گے، جس طرح کہ وہ دنیا میں ایمان نہیں لائے۔ آیت : ونذرھم اور ہم انہیں دنیا میں چھوڑ دیں گے یعنی ہم انہیں مہلت دیں گے اور ہم انہیں سزا نہیں دیں گے، پس آیت کا کچھ حصہ آخرت کے بارے میں ہے اور کچھ دنیا کے بارے میں۔ اور اس کی نظیر یہ آیت ہے۔ آیت : وجوہ یومئذ خاشعۃ (الغاشیہ) یہ آخرت میں ہوگا اور آیت : عاملۃ ناصبۃ (الغاشیہ) یہ دنیا میں ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : اور ہم دنیا میں…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 109–111

(1) امام ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ قریش کے بارے میں نازل ہوا لفظ آیت واقسموا باللہ جھد ایمانھم لئن جآء تھم ایۃ لیومنن بھا قل انما الایت عنداللہ وما یشعرکم اے مسلمانوں کی جماعت لفظ آیت انھا اذا جآءت لا یومنون تمہیں کیا خبر کہ جب یہ نشانی آجائے تب بھی یہ ایمان نہیں لائیں گے مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ جانے گا تو ان کو مجبور کردے گا اسلام پر۔ (2) امام ابن جریر نے محمد بن کعب قرظی ؓ سے روایت کیا کہ قریش نے رسول اللہ ﷺ سے یہ بات کی اور کہا اے محمد ﷺ آپ ہم کو بتاتے ہیں کہ موسیٰ کے پاس ایک لاٹھی تھی جس کو پتھر پر مارتے تھے اور عیسیٰ مردوں کو زندہ کردیتے تھے۔ اور شمود والوں کے لئے ایک اونٹنی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَنُقَلِّبُ [ اور ہم پلٹ دیتے ہیں ] اَفْــــِٕدَتَهُمْ [ ان کے دلوں کو ] وَاَبْصَارَهُمْ [ اور ان کی نگاہوں کو ] كَمَا [ جیسے کہ ] لَمْ يُؤْمِنُوْا [ یہ لوگ ایمان نہیں لائے ] بِهٖٓ اَوَّلَ مَرَّةٍ [ پہلی مرتبہ ] وَّنَذَرُهُمْ [ اور ہم چھوڑ دیتے ہیں ان کو ] فِيْ طُغْيَانِهِمْ [ ان کی سرکشی میں ] يَعْمَهُوْنَ ] [ بھٹکتے ہوئے ] نوٹ 1: قلب اور فؤاد۔ دونوں کے معنی دل ہی ہے ۔ لیکن فؤاد کا لفظ اس عضو کے لئے استعمال نہیں ہوتا جو سینے کے اندر دھڑکتا ہے، بلکہ اس مقام کے لیے استعمال ہوتا ہے جو انسان کے شعور و ادراک ، جذبات و خواہشات ، عقائد و افکار اور نیتوں اور ارادوں کا مقام ہے (تفہیم القرآن ۔ ج…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 110–111

آخر میں فرمایا (وَ نُقَلِّبُ اَفْءِدَتَھُمْ وَ اَبْصَارَھُمْ ) اور ہم ان کے دلوں کو اور ان کی نگاہوں کو پلٹ دیں گے نہ حق کے طالب ہوں گے نہ حق پر نظریں کریں گے۔ (کَمَا لَمْ یُؤْمِنُوْا بِہٖٓ اَوَّلَ مَرَّۃٍ ) جیسا کہ یہ لوگ اس قرآن پر پہلی مرتبہ ایمان نہ لائے (وَّ نَذَرُھُمْ فِیْ طُغْیَانِھِمْ یَعْمَھُوْنَ ) اور ہم ان کو اس حال میں چھوڑے رہیں گے کہ وہ اپنی سر کشی میں اندھے بنے رہیں۔ قال القرطبی فی تفسیرہٖ 7 ص 65 ھذہٖ اٰیۃ مشکلۃ و لا سیما و فیھا ” وَنَذَرُھُمْ فِیْ طُغْیَانھِمْ یَعْمَھُوْنَ “ قیل المعنی و نُقَلِّبُ اَفْءِدَتَھُمْ وَاَنْظَارَ ھُمْ یوم القیمۃ علی لھب النار و حرّالجمر، کمالم…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 101–110

ابطال عقیدہ ابنیت قال اللہ تعالیٰ بدیع السموات والارض انی یکون لہ ولد۔۔۔ الی۔۔۔ وھو اللطیف الخبیر (ربط) گذشتہ آیات میں جب توحید کی پانچ دلیلیں بیان کیں اور مشرکین کے عقائد شرکیہ کی تردید کی تو اب آئندہ آیات میں خاص طور پر نصاریٰ کے عقیدہ ابنیت کا ابطال فرماتے ہیں کہ خدا تعالیٰ اولاد سے پاک اور منزہ ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں وہ بغیر مادہ اور بغیر نمونہ کے آسمانوں اور زمین کا موجد ہے یعنی محض نیست سے ہست کرنے والا ہے یعنی یہ آسمان و زمین جو تمام عالم کو احاطہ کیے ہوئے ہیں سب اسی کا پیدا کیا ہوا اور بنایا ہوا ہے جس میں اھرمن بھی داخل ہے اور حضرت عزیر اور عیسیٰ (علیہما السلام) اور ان کی والدہ مریم…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

119 واؤ تعلیلیہ ہے اور یہ لَا یُؤمِنُوْنَ کی علت ہے۔ اور کما لم یؤمنوا۔ نُقَلِّبُ اَفْئِدَتَھُمْ کی تعلیل ہے یعنی جب پہلی بار ان کے پاس آیتیں آئیں تو انہوں نے ضد وعناد کی وجہ سے ان کا انکار کردیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر جباریت ثبت کردی اس لیے اب اگر وہ منہ مانگا معجزہ دیکھیں گے تو ہم ان کے دلوں اور ان کی آنکھوں کو پھیر دیں گے اور وہ ایمان نہیں لائیں گے اور ہم ان کو سرکشی میں سرگرداں چھوڑ دیں گے اور یہ پھیر دنیا تکوینی اسباب کے تحت ہوگا۔ ضد وعناد کی وجہ سے چونکہ ان کے دلوں پر مہر لگ چکی ہے اس لیے ان کی باطنی اور قلبی بصیرت دونوں ماؤف ہوچکی ہیں۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 108–110

گذشتہ دروس میں شرک کی تردید اور توحید کے اثبات میں عقلی اور نقلی دلائل پیش ہوئے۔ پھر فرمایا کہ ان دلائل کی وجہ سے انسان میں جو بصیرت پیدا ہوتی ہے وہ تمہارے پاس پہنچ چکی ہے جو اسے دیکھے گا تو اسی کی بہتری ہے اور جو خود آنکھیں بند کر کے اندھا بن جائے گا۔ اس کا وبال اسی پر پڑیگا۔ یہ اللہ کے پیغمبر کی ذمہ داری نہیں ہے کہ کسی کو بُرائی سے زبردستی منع کرے یا کسی کے دل میں لازماً ایمان ڈالے البتہ ا تمام حجت تمام انبیاء اور ان کے متبعین کی ذمہ داری میں شامل ہے انہوں نے تمام دلائل بیان کر کے ہدایت کا سامان کردیا ہے انہوں نے ہر یز کو وضاحت کے ساتھ بیان کردیا ہے ، اب اگر کوئی شخص نہیں مانتا تو وہ بُرے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَنُقَلِّبُ اَفْــــِٕدَتَہُمْ وَاَبْصَارَہُمْ كَـمَا لَمْ يُؤْمِنُوْا بِہٖٓ اَوَّلَ مَرَّۃٍ وَّنَذَرُہُمْ فِيْ طُغْيَانِہِمْ يَعْمَہُوْنَ۝ 110ۧ قلب قَلْبُ الشیء : تصریفه وصرفه عن وجه إلى وجه، کقلب الثّوب، وقلب الإنسان، أي : صرفه عن طریقته . قال تعالی: وَإِلَيْهِ تُقْلَبُونَ [ العنکبوت/ 21] . ( ق ل ب ) قلب الشئی کے معنی کسی چیز کو پھیر نے اور ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف پلٹنے کے ہیں جیسے قلب الثوب ( کپڑے کو الٹنا ) اور قلب الانسان کے معنی انسان کو اس کے راستہ سے پھیر دینے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : وَإِلَيْهِ تُقْلَبُونَ [ العنکبوت/ 21] اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے ۔ فأد الْفُؤَادُ کالقلب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 108–113

ترکیب : فیسبوا منصوب ہے جواب نہی ہو کر عدوًا یہ منصوب اس لئے ہے یا تو مصدر ہے من غیر لفظ الفعل لان السب عدوان فی المعنی اور حال مؤکدہ بھی ہوسکتا ہے اور مفعول لہ بھی بغیر علم بھی حال ہے کذالک موضع نصب میں ہے صفت ہے مصدر محذوف کی اے کمازینا لکل امۃ عملھم زینا لھؤلاء علمھم وما یشعرکم ما مبتداء ویشعر کم خبر اور وہ دو مفعول کی طرف متعدی ہے اول انہا ثانی محذوف تقدیرہ وما یشعرکم ایمانھم اول مرۃ طرف زمان ہے وفذرھم بسکون الراء وضمھا ولتصغٰی جمہور کے نزدیک لام مکسور ہے معطوف ہے غرورًا پر اے لیغروا والتصغٰی بعض کہتے ہیں لام قسم ہے مکسور ہوگیا۔ تفسیر : مشرکین کے ان بیہودہ شبہات پر مسلمان ہنس کر ان کی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

ارشاد فرمایا : وَ نُقَلِّبُ اَفْئِدَتَھُمْ وَ اَبْصَارَھُمْ کَمَا لَمْ یُؤْمِنُوْا بِہٖٓ اَوَّلَ مَرَّۃٍ وَّ نَذَرُھُمْ فِیْ طُغْیَانِہِمْ یَعْمَھُوْنَ ۔ (الانعام : 110) (اور ہم ان کے دلوں اور ان کی نگاہوں کو الٹ دیں گے ‘ جس طرح وہ پہلی بار ایمان نہیں لائے اور ان کو ان کی سرکشی میں بھٹکتے ہوئے چھوڑ دیں گے ‘) سرکشوں پر دعوت و تبلیغ کوئی اثر نہیں کرتی اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے ان کے ایمان نہ لانے کا حقیقی سبب بیان کیا ہے اور ساتھ ہی اپنی سنت اور قانون کو بھی بیان فرمایا ہے۔ حقیقی سبب کا ذکر اس آیت کے آخری جملے میں ہے اور سنت اللہ کا بیان آیت کے شروع میں۔ ہم پہلے اس حقیقی سبب کا ذکر کرتے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 109–110

فہم القرآن ربط کلام : مشرکین اور منکرین کے باطل نظریات اور یا وہ گوئی کے مقابلے میں مسلمانوں کو اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ کرنے کی تلقین کرنے کے بعد کفار کے لایعنی مطالبہ کا جواب اور اس کی حقیقت منکشف کی گئی ہے۔ یہود و نصاریٰ نبی اکرم ﷺ کو لاجواب کرنے اور مسلمانوں کو ورغلانے کے لیے یہ ہتھکنڈا بھی استعمال کیا کرتے تھے کہ جب مسلمانوں کی مجالس میں بیٹھتے تو اپنا اعتماد اور اخلاق ظاہر کرنے کے لیے قسمیں اٹھایا کرتے تھے کہ اگر یہ نشانیاں اور معجزات ہمارے سامنے پیش کیے جائیں تو ہم حلقہ بگوش اسلام ہوجائیں گے۔ ان کے ساتھ اہل مکہ کا یہ مطالبہ بھی تھا کہ صفا پہاڑ کو سونے کا بنا دیا جائے تاکہ ہماری معاشی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

یہ قبول حق سے عاری ہیں : آیت 110 : وَنُقَلِّبُ اَفْپدَتَہُمْ قبولیت حق سے وَاَبْصَارَہُمْ حق کے دیکھنے سے اس نشانی کے اترنے کے وقت جس کو وہ تجویز کر رہے ہیں۔ پس وہ اس پر ایمان نہ لائیں گے۔ کہا گیا کہ اس کا عطف لا یؤمنون اور وما یشعرکم پر کر کے حکم میں داخل ہے یعنی اور تمہیں کیا معلوم کہ وہ ایمان نہ لائیں گے۔ اور تمہیں کیا معلوم کہ ہم ان کے دل اور آنکھیں پلٹ دیں گے۔ پس وہ نہ سمجھیں گے اور نہ ہی حق کو دیکھیں گے۔ کَمَا لَمْ یُؤْمِنُوْا بِہٖٓ اَوَّلَ مَرَّۃٍ جیسا کہ وہ ہماری آیات اترنے کے وقت اولاً ایمان نہ لائے تھے۔ وَنَذَرُہُمْ فِیْ طُغْیَانِہِمْ یَعْمَہُوْنَکہا گیا تمہیں کیا معلوم کہ ہم ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر (110) (ونقلب افئدتھم وابصارھم کمالم یئومنوا بہ اول مرۃ) کفار مکہ کی مزید ہٹ دھرمیاں ابن عباس ؓ کہ یعنی ہم ان کے اور ایمان کے درمیان رکاوٹ ہیں۔ اگر ہم ان کی منہ مانی نشانیاں دے دیں تو بھی وہ ایمان نہ لائیں گے جیسے پہلی مرتبہ نہیں لائے یعنی اس سے پہلے چاند کے ٹکڑے ہوجانا اور بعض نے کہا کہ جس طرح یہ پہلی مرتبہ ایمان نہیں لائے یعنی موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات اور دیگر معجزات دیکھ کر ایمان نہیں لائے تو اب کیسے لاسکتے ہیں ؟ علی بن ابی طلحہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ پہلی مرتبہ سے مراد دنیا ہے یعنی اگر ان کو آخرت سے دنیا کی طرف لوٹا دیا جائے تو بھی ہم ان کے دل اور آنکھیں ایمان سے الٹ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 109–110

(109 ۔ 110) ۔ تفسیر ابن جریر وغیرہ میں مجاہد اور بعضے اور سلف کے قول کے موافق ان آیتوں کی شان نزول جو بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ قریش طرح طرح کے معجزے آنحضرت ﷺ سے چاہتے تھے اور قسمیں کھا کر یہ کہتے تھے کہ ان معجزوں کے دیکھ لینے کے بعد وہ اسلام کے تابع ہوجاویں گے۔ مشرکوں کی قسما قسمیں دیکھ کر مسلمان لوگوں کو بھی یہ خواہش تھی کہ ان معجزوں کا ظہور ہوجاوے تو خوب ہے تاکہ ان معجزوں کے دیکھنے کے بعد اپنی قسماقسمی کے موافق شاید ان مشرکوں میں سے کچھ لوگ اسلام کے تابع ہوجاویں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں حاصل معنے ان آیتوں کے یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی معرفت مشرکوں کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 109–110

آیت 109 یعنی محمد رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کرنے والے مشرکین قسمیں اٹھاتے ہیں (باللہ جھد ایمانھم) یعنی زور دار اور موکد قسمیں (لئن جآء تھم ایۃ) ” اگر ان کے پاس کوئی نشانی آگئی “ جو محمد مصطفیٰ ﷺ کی صداقت پر دلالت کرتی ہو (لیومنن بھا) ” تو وہ ضرور اس پر ایمان لے آئیں گے۔ “ یہ کلام جو ان سے صادر ہوا اس سے ان کا مقصد طلب ہدایت نہ تھا بلکہ ان کا مقصد تو محض دفع اعتراض اور اس چیز کو قطعی طور پر ٹھکرانا تھا جو انبیاء و رسل لے کر آئے ہیں۔ بلاشبہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کی آیات بینات اور واضح دلائل کے ساتھ تائید فرمائی۔ ان دلائل کی طرف التفات کرنے سے اس بات میں ادنیٰ سا شبہ اور اشکال باقی نہیں…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 108–117

بُتوں کو بُرا بھلا نہ کہو قول باری ہے ( ولا تسبوا الذین یدعون من دون اللہ فیسبوا اللہ عدواً بغیر علم اور ( اے ایمان والو) یہ لوگ اللہ کے سوا جن کو پکارتے ہیں ان کو گالیاں نہ دو کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ شرک سے آگے بڑھ کر جہالت کی بنا پر اللہ کو گالیاں دینے لگیں) سدی کا قول ہے کہ بتوں کو گالیاں نہ دو کہ پھر اس کے جواب میں مشرکین کو تمہارے لیے شریعت نازل کرنے والی ذات کے خلاف بدزبانی کا موقعہ ہاتھ آ جائے۔ ایک قول یہ ہے کہ تم بتوں کو برا بھلا نہ کہو کہ اس کے سبب پیدا ہونے والا غصہ اور جہالت ان مشرکین کو اس ذات کے خلاف بدزبانی کرنے پر نہ اکسا دے جس کی تم بندگی کرتے ہو۔ اس کے اندر اس بات کی دلیل موجود…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

211 خبث باطن کا نتیجہ محرومی ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہِ : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ دستور خداوندی یہی ہے کہ طلب صادق سے محروم انسان نور حق سے محروم رہتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم پھیر دیں گے ان لوگوں کے دلوں اور ان کی نگاہوں کو یعنی ہمارا قانون اور دستور یہی ہے کہ جو شخص طلب صادق سے محروم ہوتا ہے وہ قبول حق کی نعمت سے محروم ہوجاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ پس معلوم ہوا کہ ایمان و یقین کی دولت محض عطا و بخشش خدا وندی سے ملتی ہے جو کہ مترتب ہوتی ہے دل کی سچی تڑپ اور طلب صادق پر۔ جس کو اللہ پاک خوب خوب جانتا ہے۔ کیونکہ طلب اور عدم طلب کا تعلق دل سے ہوتا ہے۔ اور دلوں…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 108–110

مبلغ کے لیے ہدایت تشریح : ان آیات میں بہترین اخلاق کا، آپس کی رواداری کا سبق دیا گیا ہے۔ سب سے پہلے تو یہ حکم ہوا کہ بردباری، صبر اور سکون سے زندگی گزارو کسی کے مذہب کو یا اس کے معبود کو ہرگز برا نہ کہو اس کی وجہ یہ ہے کہ جواب میں وہ تمہارے حقیقی معبود کو برا کہے گا یا گالی دے گا۔ تو مطلب یہ ہوا کہ خود کو، اپنے ماں باپ کو، اپنے بزرگوں کو اور اپنے معبود رب العالمین کو بےادبی سے بچائو۔ کیونکہ کسی کو ادب سکھانے اور ایمان کی طرف بلانے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اپنے آپ کو تمام اخلاق حمیدہ (بہترین) سے مزین کرو۔ بہترین انسان بن کر رہو کہ جو تمہیں دیکھے اچھا انسان بن جانے کی کوشش کرے اور خودبخود نیکی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 102–111

رکوع نمبر 13 ۔ آیات 102 تا 111: اسرار و معارف : وہ تو ارض و سما کا بنانے والا اور ایسا بنانے والا ہے جس نے تخلیق کی ابتدا فرمائی نہ یہ کہ پہلے کوئی چیز تھی اور دیکھ کر یا مختلف اشیاء کا وجود تھا انہیں جوڑ کر زمین آسمان بنا دئیے بلکہ کچھ بھی نہ تھا پردہ عدم سے اشیاء کو وجود میں لایا اور اس کی اپنی اکیلی عظیم ذات کے علاوہ جو کچھ بھی ہے وہ اس کی مخلوق ہے ہر چیز کو اس نے پیدا فرمایا ہے اور وہ اکیلا خالق ہے نادانو بیٹا تو باپ کی جنس اور انہیں صفات کا حامل ہوتا ہے۔ جیسے انسان کا بچہ کیسا بھی ہو انسان تو ضرور ہوگا جب بیٹا ہو ناممکن ہے تو وہ اپنی شان اور ذات میں اکیلا تو نہ رہا پھر تو اس کے لیے بیوی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 14 یعنی جیسا کہ انہوں نے پہلی دفعہ چاند کے پھٹ جانے کی عظیم الشان نشانی دیکھی اور وہ ایمان نہیں لائے بہ کی ضمیر کامر جع آنحضرت ﷺ ہیں یا پھر قرآن۔15 یعنی جن کو اللہ تعالیٰ ہدایت دیتا ہے وہ پہلی دفعہ ہی حق کی بات سن کر انصاف سے قبول کرتے ہیں اور جس شخص نے پہلے ہی ضد سے یہ ٹھان رکھی ہے کہ زمانے کا ہی نہیں وہ معجزہ دیکھر کر بھی کچھ حیلہ بنالیتا ہے مثلا فرعون نے کتنے ہی معجزے دیکھے پر وہ ایمان نہ لایا۔ (از موضح)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

ونقلب افئدتھم وابصارھم ونذرھم فی طغیانھم یعمھون ۔ ۔۔ اور آپ کو کیسے سمجھایا جائے کہ جب یہ خاص نشانیاں (جن کا یہ لوگ مطالبہ کر رہے ہیں) آجائیں گے جب بھی یہ ایمان نہ لاویں گے جیسے کہ وہ ایمان نہ لائے تھے جب پہلی مرتبہ (جب اللہ کی طرف سے خاص نشانیاں اس کے انبیاء کی معرفت ظہور میں آئی تھیں) اور (اب ان کے ایمان نہ لانے کی وجہ سے) ہم ان کے دلوں کو (حق طلبی کے قصد سے) اور ان کی نگاہوں کو (حق بینی کی نظر سے) پھیر دیں گے۔ اور ان کو (ان کی) سرکشی (وکفر) میں حیران و سرگردان چھوڑ دیں گے۔ (ملاحظہ ہو بیان القرآن از مولٰنا اشرف علی تھانوی (رح) اور ضیاء القرآن از پیر کرم شاہ صاحب بھیروی)

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 109–113

لغات القرآن : آیت نمبر 109 تا 113 : اقسموا ( انہوں نے قسم کھائی) جھد ایمان (زبردست قسمیں۔ مضبوط قسمیں) ‘ ماشعرکم (تم نہیں سمجھتے) نقلب ( ہم پلٹ دیں گے) افئدۃ (فواد) دل ‘ اول مرۃ ( پہلی مرتبہ) یعمھون ( وہ سرگرداں ہیں۔ وہ بہک رہے ہیں) کلم (باتیں کیں۔ کلام کیا) ۔ الانس (انسان) زخرف (ظاہر۔ چمکدار چیز۔ بناوٹی) غرور ( دھوکہ) لتصغی (تاکہ جھکیں) لیرضوہ ( تاکہ وہ اس کو پسند کرلیں) لیقترفوا (تاکہ وہ کرتے رہیں) ۔ تشریح : آیت نمبر 109 تا 113 : پچھلی آیات میں ذکر تھا کہ کفار و مشرکین ‘ نشانیوں ‘ معجزوں کے باوجود ایمان نہ لائے۔ اب ذکر ہے کہ انہوں نے اپنی سیاہ ضمیری میں ایک نیا روپ بدلا ہے یعنی حضور ﷺ سے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 104–110

مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ اب جو کوئی ان آیتوں کو سن کر ان کی نصیحتوں کے موافق عمل کرے گا اس کی عقبیٰ درست ہوجائے گی، اور جو کوئی ان نصیحتوں کے بعد بھی کورا باطن رہے گا اس کا خمیازہ اس کو بھگتنا پڑے گا۔ پھر فرمایا :” اے رسول اللہ کے ! ﷺ تم ان لوگوں سے کہ دو کہ میں فقط اللہ کا حکم پہچانے والا ہوں، تمہاری بد اعمالی کی گرفت میرے ہاتھ میں نہیں ہے وہ تو اللہ کے اختیار میں ہے۔ وہ جب چاہے گا تمہاری بد اعمالی کا مواخذہ فرمادے گا۔ مشرکین مکہ قرآن شریف کی آیتوں کو جھٹلاتے اور کہتے تھے کہ ” اس کے وبال سے ہم پر کوئی آسمانی عذاب کیوں نہیں آتا “۔ اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی معرفت قرآن شریف میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 106–110

[39] یعنی حق کی طلب و تلاش چونکہ ان میں سرے سے ہے ہی نہیں اس لئے اللہ کے مقررہ قانون کے بموجب ان کی سمجھ اور ان کی نظر کام نہیں دے گی اور وہ بدستور بھٹکتے رہیں گے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 108–110

اسلام کی بےمثال روا داری : (ف 1) بست پرستی کی اسلام نے بیحد مذمت کی ہے اور اس عقیدہ کو بےدلیل اور جاہلانہ عقیدہ قرار دیا ہے ، مگر باوجود اس کے رواداری کا یہ عالم ہے کہ بتوں کو گالیاں دینے سے روکا ہے یعنی ایک غلط اور بےحقیقت عقیدہ کا احترام بھی اس حد تک ضروری ہے کہ اسے اشتعال انگیز صورت میں پیش نہ کیا جائے ۔ تاکہ ایسا نہ ہو کہ جاہل اور ناآشنائے تہذیب مشرک اللہ کو گالیاں دینا شروع کردیں ، یہ ایک واقعہ ہے کہ اسلام نے مسلمانوں کے دلوں کو بےوسیع بنا دیا ہے ، مسلمان اور تعصب کبھی ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتے ، وہ لوگ جو مخالفین کے صلحاء اور نیک انسانوں کو گالیاں دیتے ہیں وہ اسلام کے مخالف ہیں اور تمام…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-110 اور تمہیں کیا خبر ہے کہ اس وقت ہم ان کے قلوب کو حق کے فہم سے اور ان کی آنکھوں کو حق کی پہچان سے پلٹ دیں گے اور یہ ایمان نیں لائیں گے جیسے یہ لوگ پہلی مرتبہ سابقہ نشانات کو دیکھ کر ایمان نہیں لائے اور ہم ان کو ان کی سرکشی اور طغیان میں بھٹکتا چھوڑ دیں گے یعنی جب ان کی عادت ہی یہ ٹھری کہ نشان اور معجزہ دیکھتے جائیں اور ایمان سے انکار کرتے رہیں ۔ جیسے قرآن کریم جو سب سے بڑا معجزہ ان کے پاس آیا اور انہوں نے انکار کیا۔ نبی کریم ﷺ کے اور معجزات دیکھے اور انہوں نے انکار کیا اسی طرح جو نشان یہ طلب کر رہے ہیں اس کو بھی دیکھ کر انکار کریں گے نیز یہ کہ ان کی اس سرکشی کے باعث ہم سزاء ان کے قلوب اور…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 4۔ یہ شبہ نہ کیا جائے کہ اللہ ہی نے ان کو خراب کردیا ہے پھر مواخذہ تقلیب واقع ہو۔ حاشا وکلا۔ بلکہ توجہ کے ساتھ یہ وعدہ ہے کہ والذین جاھدوا فینا لنھدینھم سبلنا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ان کے دل حق طلبی کے قصد کی طرف سے ہٹا دیئے گئے وہ حق کو قبول نہیں کریں گے : 166: ہم نے ہدایت قبول کرنے کے لئے جو قانون بنا رکھا ہے اس سے انہوں نے اعراض کیا جس کا نتیجہ لازمی یہی نکلنا تھا کہ وہ جو قدم اٹھائیں حق اور ہدایت سے دور ہوتے جائیں اور یہی کچھ ہوا یعنی حق کی طلب و تلاش چونکہ ان میں سرے سے ہے ہی نہیں اس لئے یہ لوگ ہزار نشانات دیکھ لیں پھر بھی ہدایت انہیں نصیب نہیں ہوگی اور یہ لوگ یوں ہی بدستور بھٹکتے رہیں گے۔ ان کی آنکھیں حق بینی کی طرف سے اور ان کے دل حق طلبی کی طرف سے ہٹا دیئے گئے اور یہ سب کچھ ہمارے قانون تکوینی کے تحت ہوا اس لئے کہ ان کا دل پہلے روز ہی سے قرآن کریم کی ہدایت پر نہیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 109–113

On Signs and Miracles The previous verses had mentioned how obstinate people failed to benefit from clear signs of Allah and open miracles of His Messenger and kept on denying the message of truth. The present verses mention how they took a new turn, and demanded particular miracles from the Holy Prophet ﷺ . As reported by Ibn Jarir, the Quraysh chiefs asked that they be shown the miracle of turning the Mount of Safa into solid gold; if so, they would accept that he was a prophet and messenger, and that they would embrace Islam. The Holy Prophet ﷺ said: All right, make a solid agreement that,…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

77. This shows that they still suffer from the same mentality which had made them reject the call of the Prophet (peace be on him) at the outset. Their outlook has undergone no change. The same mental confusion, the same opacity of vision which had kept them from developing sound understanding and.a correct perspective still warps their understanding and clouds their vision.

Read the full tafseer →