Al-An'aam 6:109

Al-An'aam · from ayah 109

6:109

وَاَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ لَىِٕنْ جَآءَتْهُمْ اٰیَةٌ لَّیُؤْمِنُنَّ بِهَا ؕ— قُلْ اِنَّمَا الْاٰیٰتُ عِنْدَ اللّٰهِ وَمَا یُشْعِرُكُمْ ۙ— اَنَّهَاۤ اِذَا جَآءَتْ لَا یُؤْمِنُوْنَ ۟وَاَقۡسَمُوۡا بِاللّٰهِ جَهۡدَ اَيۡمَانِهِمۡ لَئِنۡ جَآءَتۡهُمۡ اٰيَةٌ لَّيُؤۡمِنُنَّ بِهَا‌ ؕ قُلۡ اِنَّمَا الۡاٰيٰتُ عِنۡدَ اللّٰهِ‌ وَمَا يُشۡعِرُكُمۙۡ اَنَّهَاۤ اِذَا جَآءَتۡ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ

اور یہ لوگ خدا کی سخت سخت قسمیں کھاتے ہیں کہ اگر ان کے پاس کوئی نشانی آئے تو وہ اس پر ضروری ایمان لے آئیں۔ کہہ دو کہ نشانیاں تو سب خدا ہی کے پاس ہیں۔ اور (مومنو!) تمہیں کیا معلوم ہے (یہ تو ایسے بدبخت ہیں کہ ان کے پاس) نشانیاں آ بھی جائیں تب بھی ایمان نہ لائیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And they swear by Allah their strongest oaths that if a sign came to them, they would surely believe in it. Say, "The signs are only with Allah." And what will make you perceive that even if a sign came, they would not believe.

— Saheeh International

Juz 7 · Ruku 13 of surah · Ruku 19 of juz

Read the whole surah · Surah Al-An'aam

All translations of 6:109

یہ لوگ کڑی کڑی قسمیں کھا کھا کر کہتے ہیں کہ اگر کوئی نشانی ہمارے سامنے آ جائے تو ہم اس پر ایمان لے آئیں گے اے محمدؐ! ان سے کہو کہ "نشانیاں تو اللہ کے پاس ہیں" اور تمہیں کیسے سمجھایا جائے کہ اگر نشانیاں آ بھی جائیں تو یہ ایمان لانے والے نہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور یہ لوگ خدا کی سخت سخت قسمیں کھاتے ہیں کہ اگر ان کے پاس کوئی نشانی آئے تو وہ اس پر ضروری ایمان لے آئیں۔ کہہ دو کہ نشانیاں تو سب خدا ہی کے پاس ہیں۔ اور (مومنو!) تمہیں کیا معلوم ہے (یہ تو ایسے بدبخت ہیں کہ ان کے پاس) نشانیاں آ بھی جائیں تب بھی ایمان نہ لائیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور ان لوگوں نے قسموں میں بڑا زور لگا کر اللہ تعالیٰ کی قسم کھائی کہ اگر ان کے پاس کوئی نشانی آ جائے تو وه ضرور ہی اس پر ایمان لے آئیں گے، آپ کہہ دیجئے کہ نشانیاں سب اللہ کے قبضے میں ہیں اور تم کو اس کی کیا خبر کہ وه نشانیاں جس وقت آجائیں گی یہ لوگ تب بھی ایمان نہ ﻻئیں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور ان لوگوں نے بڑی زور دار قسمیں کھائی ہیں کہ اگر ان کے پاس واقعی کوئی نشانی (یعنی ان کا مطلوب معجزہ) آگئی تو یہ یقینا ضرور اس پر ایمان لے آئیں گے (ان سے) کہو کہ : ساری نشانیاں اللہ کے قبضے میں ہیں۔ اور (مسلمانو) تمہیں کیا پتہ کہ اگر وہ (معجزے) آبھی گئے تب بھی یہ ایمان نہیں لائیں گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور انہوں نے اللہ کی قسم کھائی اپنے حلف میں پوری کوشش سے کہ اگر ان کے پاس کوئی نشانی آئی تو ضرور اس پر ایمان لائیں گے، م فرما دو کہ نشانیاں تو اللہ کے پاس ہیں اور تمہیں کیا خبر کہ جب وہ آئیں تو یہ ایمان نہ لائینگے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

وہ بڑے تاکیدی حلف کے ساتھ اللہ کی قَسم کھاتے ہیں کہ اگر ان کے پاس کوئی (کھلی) نشانی آجائے تو وہ اس پر ضرور ایمان لے آئیں گے۔ (ان سے) کہہ دو کہ نشانیاں توصرف اﷲ ہی کے پاس ہیں، اور (اے مسلمانو!) تمہیں کیا خبر کہ جب وہ نشانی آجائے گی (تو) وہ (پھر بھی) ایمان نہیں لائیں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور انھوں نے اپنی پختہ قسمیں کھاتے ہوئے اللہ کی قسم کھائی کہ بیشک اگر ان کے پاس کوئی نشانی آئی تو اس پر ضرور ہی ایمان لے آئیں گے۔ تو کہہ نشانیاں تو صرف اللہ کے پاس ہیں اور تمہیں کیا چیز معلوم کرواتی ہے کہ بیشک وہ جب آئیں گی تو یہ ایمان نہیں لائیں گے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

یہ لوگ اللہ کی پختہ قسمیں کھاتے ہیں کہ اگر ان کے پاس معجزہ آجائے تو وہ اس پر ضرور ایمان لے آئیں گے۔ آپ انہیں کہئے کہ معجزے تو اللہ کے پاس ہیں اور تمہیں کیسے سمجھایا جائے کہ اگر کوئی معجزہ آ بھی جائے تب بھی یہ ایمان نہیں لائیں گے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور وہ اللہ کی پکی قسمیں کھا کھا کر کہتے ہیں کہ اگر ان کے پاس کوئی نشانی آئی تو وہ ضرور اس پر ایمان لائیں گے۔ کہہ دو کہ نشانیاں تو اللہ ہی کے پاس ہیں۔ اور تمہیں کیا پتہ کہ جب وہ آجائے گی تو وہ ایمان نہیں لائیں گے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور یہ لوگ اللہ کے نام کی کڑی قسمیں کھا کر کہتے ہیں کہ اگر آجائے ان کے پاس کوئی نشانی (ان کی طلب و فرمائش کے مطابق) تو یہ ضرور بالضرور ایمان لے آئیں گے اس پر تو کہو کہ نشانیاں تو سب اللہ ہی کے اختیار میں ہیں اور تمہیں کیا پتہ (اے مسلمانو ! کہ اگر وہ نشانی آ بھی جائے تو بھی انہوں نے ایمان نہیں لانا

— مولانا اسحاق مدنی

اور انہوں نے اللہ کی قسم بڑے زور سے کھا کر کہا کہ اگر ان کے پاس کوئی نشان آجائے تو وہ ضرور ہی اس پر ایمان لے آئیں آپ کہہ دیجئے نشانیاں تو (سب) اللہ ہی کے پاس ہیں اور تم خبر نہیں رکھتے کہ جب وہ نشان آجائے گا (جب بھی) یہ ایمان نہیں لائیں گے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور وہ اللہ کی قسمیں کھا رہے ہیں شدو مد کے ساتھ کہ اگر ان کے پاس کوئی نشانی آجائے تو وہ لازماً ایمان لے آئیں گے کہہ دیجیے کہ نشانیاں تو سب اللہ کے اختیار میں ہیں اور (اے مسلمانو !) تمہیں کیا معلوم کہ جب وہ نشانی آجائے گی تب بھی یہ ایمان نہیں لائیں گے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور یہ لوگ اللہ کی پختہ قسمیں کھاتے ہیں کہ اگر ان کے پاس کوئی نشانی آئے تو وہ اس پر ضرور ایمان لے آئیں۔ کہہ دو کہ نشانیاں تو سب اللہ ہی کے پاس ہیں اور تمہیں کیا معلوم ہے یہ تو ایسے بدبخت ہیں کہ ان کے پاس نشانیاں آ بھی جائیں تب بھی ایمان نہ لائیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

They swear by Allah with their most solemn oaths that if a sign comes to them, they will certainly believe in it. Say: 'Signs are in Allah's power alone. What will make you realize that even if those signs were to come, they would still not believe?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

They have sworn forceful oaths by Allah that if a sign comes to them, they will surely believe in it. Say, :Signs are in Allah‘s power alone. What will make you realize that even when they (the signs) come, they will not believe?

— Muhammad Taqi Usmani

They have sworn forceful oaths by Allah that if a sign comes to them, they will surely believe in it. Say, :Signs are in Allah‘s power alone. What will make you realize that even when they (the signs) come, they will not believe?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And they swear their strongest oaths by Allah, that if there came to them a sign, they would surely believe therein. Say: "Signs are but with Allah and what will make you perceive that (even) if it came, they will not believe"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And they swear a solemn oath by Allah that if there come unto them a portent they will believe therein. Say; Portents are with Allah and (so is) that which telleth you that if such came unto them they would not believe.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And they swear by Allah their strongest oaths that if a sign came to them, they would surely believe in it. Say, "The signs are only with Allah." And what will make you perceive that even if a sign came, they would not believe.

— Saheeh International

The unbelievers solemnly swear by God that if they were to be shown some miracle, they would certainly believe. (Muhammad), tell them, "Only with God are all the miracles." Even if a miracle was to take place, they still would not believe.

— Muhammad Sarwar

And they swear by Allah with the strongest of their oaths, that if a sign came to them they would most certainly believe in it. Say: Signs are only with Allah; and what should make you know that when it comes they will not believe?

— Muhammad Habib Shakir

And they swear by God with thee their solemn oaths that if there came unto them a sign they would surely believe therein. Say thou: signs are but with Allah; and what will make ye perceive that even if it came they will not believe?

— Abdul Majid Daryabadi

They swear their strongest oaths by Allah, that if a (special) sign came to them, by it they would believe. Say: "Certainly (all) signs are in the power of Allah: but what will make you (Muslims) realise that (even) if (special) signs came, they will not believe."?

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 6:109

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 109–110

معجزوں کے طالب لوگ صرف مسلمانوں کو دھوکا دینے کیلئے اور اس لئے بھی کہ خود مسلمان شک شبہ میں پڑجائیں کافر لوگ قسمیں کھا کھا کر بڑے زور سے کہتے تھے کہ ہمارے طلب کردہ معجزے ہمیں دکھا دیئے جائیں تو واللہ ہم بھی مسلمان ہوجائیں۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو ہدایت فرماتا ہے کہ آپ کہہ دیں کہ معجزے میرے قبضے میں نہیں یہ اللہ کے ہاتھ میں ہیں وہ چاہے دکھائے چاہے نہ دکھائے ابن جریر میں ہے کہ مشرکین نے حضور سے کہا کہ آپ فرماتے ہیں حضرت موسیٰ ایک پتھر پر لکڑی مارتے تھے تو اس سے بارہ چشمے نکلے تھے اور حضرت عیسیٰ مردوں میں جان ڈال دیتے تھے اور حضرت ثمود نے اونٹنی کا معجزہ دکھایا تھا تو آپ بھی جو…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 109–110

سورة الْاَنْعَام 74 نشانی سے مراد کوئی ایسا صریح محسوس معجزہ ہے جسے دیکھ کر نبی ﷺ کی صداقت اور آپ ﷺ کے مامور مِنَ اللہ ہونے کو مان لینے کو سوا کوئی چارہ نہ رہے۔ سورة الْاَنْعَام 75 یعنی نشانیوں کے پیش کرنے اور بنا لانے کی قدرت مجھے حاصل نہیں ہے، ان کا اختیار تو اللہ کو ہے، چاہے دکھائے اور نہ چاہے نہ دکھائے۔ سورة الْاَنْعَام 76 یہ خطاب مسلمانوں سے ہے جو بےتاب ہو ہو کر تمنا کرتے تھے اور کبھی کبھی زبان سے بھی اس خواہش کا اظہار کردیتے تھے کہ کوئی ایسی نشانی ظاہر ہوجائے جس سے ان کے گمراہ بھائی راہ راست پر آجائیں ان کی اسی تمنا اور خواہش کے جواب میں ارشاد ہو رہا ہے کہ آخر تمہیں کس طرح سمجھایا جائے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 109–110

پچھلی آیات میں اس کا ذکر تھا کہ رسول کریم ﷺ کے کھلے ہوئے معجزات اور اللہ تعالیٰ کی روشن نشانیوں کے باجود ہٹ دھرم لوگوں نے ان سے فائدہ نہ اٹھایا، اپنے انکار اور ضد پر جمے رہے، اگلی آیات میں اس کا ذکر ہے کہ ان لوگوں نے اپنی ضد اور ہٹ دھرمی کا ایک نیا روپ یہ بدلا کہ آنحضرت ﷺ سے خاص خاص قسم کے معجزات دکھلانے کا مطالبہ کیا، جیسا کہ ابن جریر رحمة اللہ علیہ نے نقل کیا ہے کہ قریشی سرداروں نے مطالبہ کیا کہ اگر آپ ﷺ ہمیں یہ معجزہ دکھلا دیں کہ کوہ صفا پورا سونا ہوجائے تو ہم آپ ﷺ کی نبوت و رسالت کو مان لیں گے، اور مسلمان ہوجائیں گے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اچھا معاہدہ کرو کہ اگر یہ معجزہ ظاہر ہوگیا تو تم…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وَاَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَيْمَانِهِمْ لَىِٕنْ جَاۗءَتْهُمْ اٰيَةٌ لَّيُؤْمِنُنَّ بِهَا۔ ‘ جھد ’ کے معنی تاحد وسع کوشش، بھرپور جد و جہد کے ہیں۔ بَذلَ جہدہ، اس نے اپنی پوری کوشش صف کردی، پورا زور لگادیا، آنحضرت ﷺ کے خلاف کفار کا ایک پروپیگنڈا : اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَيْمَانِهِمْ ، یعنی وہ اللہ کی قسمیں قسمیں کھا کھا کر پیغمبر کو اور مسلمانوں کو یقین دلاتے ہیں کہ اگر ان کی طلب کے مطابق کوئی معجزہ دکھا دیا جائے تو وہ ضرور مان لیں گے کہ یہ معجزہ خدا کی طرف سے، اس کا دکھانے والا خدا کا رسول اور اس کی پیش کی ہوئی کتاب خدا کی کتاب ہے، ظاہر ہے کہ اس زور و شور کے ساتھ قسمیں کھا کھا کے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

19۔ 1 جھد ایمانہم، ای : حلفوا ایمانا مؤکدۃ بڑی تاکید سے قسمیں کھائیں۔ 19۔ 2 یعنی کوئی بڑا معجزہ جو ان کی خواہش کے مطابق ہو، جیسے عصائے موسیٰ علیہ السلام۔ احیائے موتی اور ناقہء خمود وغیرہ جیسا۔ 19۔ 3 ان کا یہ مطالبہ خرق عادت تعنت وعناد کے طور پر ہے، طلب ہدایت کی نیت سے نہیں ہے۔ تاہم ان نشانیوں کا ظہور تمام تر اللہ کے اختیار میں ہے، وہ چاہے تو ان کا مطالبہ پورا کردے۔ بعض مرسل روایات میں ہے کہ کفار نے مطالبہ کیا تھا کہ صفا پہاڑ سونے کا بنادیا جائے تو وہ ایمان لے آئیں گے، جس پر جبرائیل ؑ نے آکر کہا کہ اگر اس کے بعد بھی ایمان نہ لائے تو پھر انھیں ہلاک کردیا جائے گا جسے نبی ﷺ نے پسند نہ فرمایا۔…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 109–110

48: تشریح کے لیے اسی سورت کی آیت نمبر 35 کا حاشیہ ملاحظہ فرمائیے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 109–110

(آیت) ” نمبر 109 تا 110۔ ” وہ دل جو اس کائنات میں بکھرے ہوئے شواہد و دلائل کو تسلیم نہیں کرتا ‘ خصوصا اس تبلیغ وبیان کے بعد جو اس کتاب نے بےمثال پیرائے میں پیش کیا اور اس کائنات اور خود انسان کے نفس کے اندر موجود آیات الہیہ اسے اپنی طرف متوجہ نہیں کرسکتیں اور وہ اپنے رب کی طرف دوڑ کر نہیں آتا تو ایسا دل یقینا لاعلاج دل ہے ۔ ان لوگوں نے ابتداء ہی سے ایمان کا انکار کردیا ہے تو جو مسلمان حضرت نبی کریم ﷺ سے درخواستیں کرتے ہیں کہ آپ اللہ تعالیٰ سے ایسے معجزات کے صدور کی دعا کریں تو ان کے پاس کی گارنٹی ہے کہ وہ صدور معجزہ کے بعد دوبارہ انکار نہ کریں گے ۔ اللہ ہی ان کے دلوں کا حال جانتا ہے اور خوب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

8 یعنی بعض فرمائشی نشانیاں مثلا کوہ صفا خالص سونے کا بن جائے۔ 9 بعض مسلمانوں کو یہ خیال ہوا کہ اچھا ہو اگر ان کی یہ حجت بھی پوری کردی جائے اس پر فرما دیا کہ تمہیں کیا خبر ہے کہ یہ سرکش ضدی لوگ فرمائشی نشان دیکھ کر بھی ایمان نہیں لائیں گے پھر سنت اللہ کے موافق اس کے مستحق ہوں گے کہ فورا تباہ کردیئے جائیں۔ جیسا کہ اسی سورت کے شروع میں ہم مفصل لکھ چکے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 109 وَاَقْسَمُوْا باللّٰہِ جَہْدَ اَیْمَانِہِمْ لَءِنْ جَآءَ تْہُمْ اٰیَۃٌ لَّیُؤْمِنُنَّ بِہَا ط۔ پھر ان کے اسی مطالبے کا ذکر آگیا کہ کس طرح وہ اللہ کی قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ اگر انہیں معجزہ دکھا دیا جائے تو وہ لازماً ایمان لے آئیں گے۔ جیسا کہ پہلے بھی بتایا گیا ہے کہ یہ مضمون اس سورة مبارکہ کا عمود ہے۔ ان کا یہ مطالبہ تھا کہ جب آپ ﷺ نبوت و رسالت کا دعویٰ کرتے ہیں تو پھر معجزہ کیوں نہیں دکھاتے ؟ اس سے پہلے تمام انبیاء معجزات دکھاتے رہے ہیں۔ آپ خود کہتے ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام ٰ نے اپنی قوم کو معجزات دکھائے ‘ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بھی معجزات دکھائے ‘ حضرت صالح علیہ السلام…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

111 کفار مکہ کا معجزہ کا مطالبہ اور اس مطالبہ کے جواب :۔ کفار مکہ کہتے تھے کہ اگر کوہ صفا خالص سونے کا بن جائے تو ہم یقینا ایمان لے آئیں گے اور بعض مسلمانوں کو یہ خیال آگیا کہ اگر ان کی یہ حجت پوری ہوجائے تو اچھی بات ہوگی۔ اس آیت میں اس پس منظر کو ملحوظ رکھا گیا ہے اللہ نے اپنے نبی سے فرمایا کہ ان کفار کو ایسا معجزہ پیش کرنے سے صاف جواب دے دو ۔ اور کہہ دو کہ ایسا معجزہ دکھانا اللہ کے اختیار میں ہے، میرے اختیار میں کچھ نہیں اور مسلمانوں سے یوں خطاب فرمایا کہ تمہیں یہ کیسے معلوم ہوگیا کہ اگر انہیں ایسا معجزہ دکھا دیا جائے تو یہ لوگ ضرور ایمان لے ہی آئیں گی۔ یہ لوگ تو ایسے بدبخت ہیں کہ کوئی بھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

159 ۔ یہ پیش خبری عالم الغیب والشہادہ کی طرف سے ہے۔ اور اسی کو یہ کہنے کا حق بھی پہنچتا ہے کہ انکے فرمایشی معجزات بھی جتنے کے جتنے پورے ہوجائیں جب بھی غایت عناد سے یہ لوگ ایمان لانے کے نہیں۔ (آیت) ” جھدایمانہم “۔ محاورہ میں مراد بڑی سخت اور غلیظ قسموں سے ہے اور مشرکین عرب ایسی قسم اپنے خدائے اعظم اللہ ہی کے نام کی کھاتے تھے۔ ھذہ باغلظ الایمان عندھم (قرطبی) جھد الایمان اشدھا وھو باللہ (قرطبی) (آیت) ” لئن جآء تھم ایۃ لیؤمنن بھا “۔ یعنی ہمارے فرمائشی معجزات میں سے کوئی معجزہ دکھادیا جائے تو ہم اس پر ایمان لے آئیں اور صاحب معجزہ کی نبوت کے قائل ہوجائیں، کوئی معجزہ سے مراد فلاں متعین معجزہ تھا۔ ای…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 108–110

ولا تسبوا الذین الخ اس آیت میں مسلمانوں کو نصیحت کی گئی ہے کہ اپنی تبلیغ کے جوش میں وہ اتنے بےقابو ہوجائیں کہ معاملہ بحث و تکرار سے بڑھ کر گالی گلوچ تک پہنچ جائے، کیونکہ یہ چیز ان کو حق سے قریب کرنے کے بجائے اور زیادہ دور کر دے گی اور ضد میں وہ بھی تمہارے معبود اور پیشواؤں کی تحقیر و تذلیل پر اتر آئیں گے۔ شان نزول : واقسموا باللہ جھد ایمانھم الخ، تفسیر ابن جریر وغیرہ میں مجاہد کے قول کے مطابق ان آیتوں کا جو شان نزول بیان کیا گیا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ قریش آنحضرت ﷺ سے مختلف قسم کے معجزوں کا مطالبہ کیا کرتے تھے، اور قسمیں کھا کر یہ کہا کرتے تھے کہ ان معجزوں کو دیکھ لینے کے بعد وہ اسلام کے تابع…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

واقسموا باللہ جہد ایمانہم لئن جآء تہم ایۃ لیومنن بہا اور (کافروں نے) قسموں میں بڑا زور لگا کر اللہ کی قسم کھائی کہ اگر ان کے پاس کوئی نشانی (مطلوبہ معجزہ) آجائے تو وہ ضرور ہی اس پر ایمان لے آئیں گے یعنی جس قدر محکم ترین قسم کھاناان کے بس میں ہے اتنی مضبوط قسم کھانے کی کوشش کرتے ہوئے انہوں نے کہا اس ترجمہ پر جہد مصدر (بمعنی اسم فاعل) ترکیب عبارت میں حال ہوگا۔ یا جہد کو مفعول مطلق کہا جائے یعنی پختہ قسمیں کھا کر انہوں نے کہا۔ چونکہ پیش نظر معجزات کی ان کی نظر میں کوئی وقعت نہ تھی اور اپنے مطلوبہ معجزات پر ان کواڑ تھی اس لئے کلام کو پختہ قسموں کے ساتھ محکم کیا۔ ایۃً سے مراد ہے مطلوبہ معجزہ۔ قل…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(109) ان مشرکوں میں سے جب بھی کوئی قسم کھاتا ہے تو بڑا زور لگا کر قسم کھاتا ہے کہ اگر ہماری فرمایش کردہ نشانی میں سے کوئی نشانی آجائے تو ہم اس پر ضرور ایمان لے آئیں گے، محمد ﷺ آپ ان ہنسی اڑانے والوں سے فرما دیجیے کہ سب نشانیاں اللہ تعالیٰ کی طرف سے آتی ہیں اور اے ایمان والوں تم حقیقت کو نہیں جانتے ہمیں خبر ہے جب ان کی فرمایش کردہ نشانی بھی آجائے گی تب بھی یہ ایمان نہیں لائیں گے۔ شان نزول : (آیت) واقسموا باللہ جہد ایمانھم“۔ (الخ) ابن جریر ؒ نے محمد بن کعب قرظی ؓ سے روایت کیا ہے کہ قریش نے رسول اکرم ﷺ سے گفتگو کی اور بولے اے محمد ﷺ حضرت موسیٰ ؑ کے پاس عصا تھا جسے وہ پتھر پر مارتے تھے اور حضرت…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

لَىِٕنْ جَاۗءَتْهُمْ اٰيَةٌ۔۔ : مثلاً صفا پہاڑی کو سونے کا بنادیا جائے، یا ان مطالبوں کو پورا کیا جائے جو ان کی طرف سے اللہ تعالیٰ نے سورة بنی اسرائیل (90 تا 93) میں ذکر فرمائے ہیں۔ فرمایا ان سے کہہ دو کہ نشانیاں تو اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہیں، میرے اختیار میں نہیں اور تمہیں کیا خبر کہ نیا معجزہ یا نشانی آ بھی جائے تو یہ ایمان نہیں لائیں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 109 قولہ تعالیٰ آیت : واقسموا باللہ جھد ایمانھم لئن جآء تھم ایۃ لیؤمنن بھا اس میں دو مسئلے ہیں مسئلہ نمبر 1۔ قولہ تعالیٰ آیت : واقسموا یعنی انہوں نے قسمیں کھائیں۔ اور جھد الیمین کا معنی ہے قسم کو مضبوط اور پختہ کرنا اور وہ اللہ تعالیٰ کی قسم کھانا ہے۔ اور قولہ آیت : جھد ایمانھم یعنی ان کی قسموں کی وہ انتہائی کوشش جس تک ان کا علم پہنچا ہے، اور جہاں تک ان کی قدرت انتہا کو پہنچ جاتی ہے اور وہ اس لیے کہ وہ اعتقاد رکھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ہی الہ اعظم ہے اور یہ الٰہ جن کی وہ پرستش کرتے ہیں ان کا گمان ہے کہ یہ انہیں اللہ تعالیٰ کے بہت قریب کردیں گے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے اس قول میں ان کے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 109–111

(1) امام ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ قریش کے بارے میں نازل ہوا لفظ آیت واقسموا باللہ جھد ایمانھم لئن جآء تھم ایۃ لیومنن بھا قل انما الایت عنداللہ وما یشعرکم اے مسلمانوں کی جماعت لفظ آیت انھا اذا جآءت لا یومنون تمہیں کیا خبر کہ جب یہ نشانی آجائے تب بھی یہ ایمان نہیں لائیں گے مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ جانے گا تو ان کو مجبور کردے گا اسلام پر۔ (2) امام ابن جریر نے محمد بن کعب قرظی ؓ سے روایت کیا کہ قریش نے رسول اللہ ﷺ سے یہ بات کی اور کہا اے محمد ﷺ آپ ہم کو بتاتے ہیں کہ موسیٰ کے پاس ایک لاٹھی تھی جس کو پتھر پر مارتے تھے اور عیسیٰ مردوں کو زندہ کردیتے تھے۔ اور شمود والوں کے لئے ایک اونٹنی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَاَقْسَمُوْا [ اور انہوں نے قسم کھائی ] بِاللّٰهِ [ اللہ کی ] جَهْدَ اَيْمَانِهِمْ [ اپنی قسموں کا زور لگاتے ہوئے (یعنی پختہ کرتے ہوئے ) ] لَىِٕنْ [ کہ یقینا اگر ] جَاۗءَتْهُمْ [ آئے ان کے پاس ] اٰيَةٌ [ کوئی نشانی (یعنی معجزہ ) ] لَّيُؤْمِنُنَّ [ تو وہ لوگ لازما ایمان لائیں گے ] بِهَا ۭ [ اس سے ] قُلْ [ آپ کہئے ] اِنَّمَا [ کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] الْاٰيٰتُ [ نشانیاں ] عِنْدَ اللّٰهِ [ اللہ کے پاس ہیں ] وَمَا يُشْعِرُكُمْ ۙ [ اور تم کو کیا چیز شعور دیتی ہے (یعنی تم کو کیا خبر )] اَنَّهَآ [ کہ وہ ] اِذَا [ جب ] جَاۗءَتْ [ آئے ] لَا يُؤْمِنُوْنَ [ تو یہ لوگ ایمان نہ لائیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

کافروں کی جھوٹی قسمیں کہ فلاں معجزہ ظاہر ہوجائے تو ایمان لے آئیں گے اس کے بعد فرمایا (وَ اَقْسَمُوْا باللّٰہِ جَھْدَ اَیْمَانِھِمْ ) (اور انہوں نے بہت زور دار طریقہ پر اللہ کی قسم کھائی کہ ہمارے کہنے کے مطابق فرمائشی معجزہ ظاہر ہوجائے تو ہم ایمان لے آئیں گے) ان لوگوں کی یہ تاکیدی قسمیں سن کر مسلمانوں کو خیال ہوا کہ جن معجزات کی فرمائش کر رہے ہیں وہ ظاہر ہوجاتے تو اچھا تھا تاکہ یہ لوگ ایمان لے آتے لیکن انہیں تو ایمان لانا نہیں ہے معجزات کی فرمائش ایمان نہ لانے کا ایک بہانہ ہے۔ تفسیر ابن کثیر ج 2 ص 164 میں ہے کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ نے قریش مکہ سے ایمان لانے کے بارے میں بات کی تو کہنے لگے کہ اے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 101–110

ابطال عقیدہ ابنیت قال اللہ تعالیٰ بدیع السموات والارض انی یکون لہ ولد۔۔۔ الی۔۔۔ وھو اللطیف الخبیر (ربط) گذشتہ آیات میں جب توحید کی پانچ دلیلیں بیان کیں اور مشرکین کے عقائد شرکیہ کی تردید کی تو اب آئندہ آیات میں خاص طور پر نصاریٰ کے عقیدہ ابنیت کا ابطال فرماتے ہیں کہ خدا تعالیٰ اولاد سے پاک اور منزہ ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں وہ بغیر مادہ اور بغیر نمونہ کے آسمانوں اور زمین کا موجد ہے یعنی محض نیست سے ہست کرنے والا ہے یعنی یہ آسمان و زمین جو تمام عالم کو احاطہ کیے ہوئے ہیں سب اسی کا پیدا کیا ہوا اور بنایا ہوا ہے جس میں اھرمن بھی داخل ہے اور حضرت عزیر اور عیسیٰ (علیہما السلام) اور ان کی والدہ مریم…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

117 زجر بطور شکوی وہ بڑی پکی قسمیں کھاتے ہیں کہ اگر ان کو معجزہ دکھایا جائے تو وہ مان لیں گے۔ قُلْ اِنَّمَا الْاٰ یٰتُ عِنْدَ اللہِ الخ جواب شکوہ آپ فرمادیں معجزات تو اللہ کے اختیار میں ہیں میرے اختیار میں نہیں ہیں۔ انما الایت عند اللہ لا عندی فکیف اجیبکم الیھا واتیکم بھا او المعنی ھو القادر علیھا لا انا حتی اتیکم بھا (روح ج 7 ص 253) ۔ 118 چونکہ تمام صحابہ کرام ؓ کی بھی آرزو تھی کہ مشرکین کا مطلوبہ معجزہ آجائے تاکہ وہ ایمان لے آئیں اس لیے یہاں کُمْ ضمیر جمع سے خطاب میں ان کو بھی شامل فرمایا لیا اور فرمایا کہ تمہیں یہ بات معلوم نہیں لیکن میں جانتا ہوں کہ اگر ان کو مطلوبہ معجزہ دے بھی دیا جائے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 108–110

گذشتہ دروس میں شرک کی تردید اور توحید کے اثبات میں عقلی اور نقلی دلائل پیش ہوئے۔ پھر فرمایا کہ ان دلائل کی وجہ سے انسان میں جو بصیرت پیدا ہوتی ہے وہ تمہارے پاس پہنچ چکی ہے جو اسے دیکھے گا تو اسی کی بہتری ہے اور جو خود آنکھیں بند کر کے اندھا بن جائے گا۔ اس کا وبال اسی پر پڑیگا۔ یہ اللہ کے پیغمبر کی ذمہ داری نہیں ہے کہ کسی کو بُرائی سے زبردستی منع کرے یا کسی کے دل میں لازماً ایمان ڈالے البتہ ا تمام حجت تمام انبیاء اور ان کے متبعین کی ذمہ داری میں شامل ہے انہوں نے تمام دلائل بیان کر کے ہدایت کا سامان کردیا ہے انہوں نے ہر یز کو وضاحت کے ساتھ بیان کردیا ہے ، اب اگر کوئی شخص نہیں مانتا تو وہ بُرے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاَقْسَمُوْا بِاللہِ جَہْدَ اَيْمَانِہِمْ لَىِٕنْ جَاۗءَتْہُمْ اٰيَۃٌ لَّيُؤْمِنُنَّ بِہَا۝ 0ۭ قُلْ اِنَّمَا الْاٰيٰتُ عِنْدَ اللہِ وَمَا يُشْعِرُكُمْ۝ 0ۙ اَنَّہَآ اِذَا جَاۗءَتْ لَا يُؤْمِنُوْنَ۝ 109 قْسَمَ ( حلف) حلف، وأصله من الْقَسَامَةُ ، وهي أيمان تُقْسَمُ علی أولیاء المقتول، ثم صار اسما لكلّ حلف . قال : وَأَقْسَمُوا بِاللَّهِ جَهْدَ أَيْمانِهِمْ [ الأنعام/ 109] ، أَهؤُلاءِ الَّذِينَ أَقْسَمْتُمْ [ الأعراف/ 49] ، وقال : لا أُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيامَةِ وَلا أُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِ [ القیامة/ 1- 2] ، فَلا أُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشارِقِ وَالْمَغارِبِ [ المعارج/ 40] ، إِذْ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 108–113

ترکیب : فیسبوا منصوب ہے جواب نہی ہو کر عدوًا یہ منصوب اس لئے ہے یا تو مصدر ہے من غیر لفظ الفعل لان السب عدوان فی المعنی اور حال مؤکدہ بھی ہوسکتا ہے اور مفعول لہ بھی بغیر علم بھی حال ہے کذالک موضع نصب میں ہے صفت ہے مصدر محذوف کی اے کمازینا لکل امۃ عملھم زینا لھؤلاء علمھم وما یشعرکم ما مبتداء ویشعر کم خبر اور وہ دو مفعول کی طرف متعدی ہے اول انہا ثانی محذوف تقدیرہ وما یشعرکم ایمانھم اول مرۃ طرف زمان ہے وفذرھم بسکون الراء وضمھا ولتصغٰی جمہور کے نزدیک لام مکسور ہے معطوف ہے غرورًا پر اے لیغروا والتصغٰی بعض کہتے ہیں لام قسم ہے مکسور ہوگیا۔ تفسیر : مشرکین کے ان بیہودہ شبہات پر مسلمان ہنس کر ان کی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

چناچہ ارشاد ہوتا ہے : وَاَقْسَمُوْا بِ اللہ ِ جَھْدَ اَیْمَانِھِمْ لَئِنْ جَآئَتْھُمْ اٰیَۃٌلَّیُؤْمِنُنَّ بِھَا ط قُلْ اِنَّمَا الْاٰیٰتُ عِنْدَ اللہِ وَمَا یُشْعِرُکُمْ لا اَنَّھَآ اِذَا جَآئَتْ لَا یُؤْمِنُوْنَ ۔ (الانعام : 109) (اور وہ اللہ کی پکی قسمیں کھا کھا کر کہتے ہیں کہ اگر ان کے پاس کوئی نشانی آئی تو وہ ضرور اس پر ایمان لائیں گے۔ کہہ دو کہ نشانیاں تو اللہ ہی کے پاس ہیں اور (اے مسلمانو ! ) تمہیں کیا پتہ کہ جب وہ نشانی آجائے گی تو وہ ایمان نہیں لائیں گے) جہد کا معنی انتہائی کوشش اور بھرپور جدوجہد کے ہیں اور یہاں اس لفظ کا استعمال چونکہ قسم کے ساتھ ہوا ہے اس لیے اس کا مفہوم ہوگا پکی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 109–110

فہم القرآن ربط کلام : مشرکین اور منکرین کے باطل نظریات اور یا وہ گوئی کے مقابلے میں مسلمانوں کو اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ کرنے کی تلقین کرنے کے بعد کفار کے لایعنی مطالبہ کا جواب اور اس کی حقیقت منکشف کی گئی ہے۔ یہود و نصاریٰ نبی اکرم ﷺ کو لاجواب کرنے اور مسلمانوں کو ورغلانے کے لیے یہ ہتھکنڈا بھی استعمال کیا کرتے تھے کہ جب مسلمانوں کی مجالس میں بیٹھتے تو اپنا اعتماد اور اخلاق ظاہر کرنے کے لیے قسمیں اٹھایا کرتے تھے کہ اگر یہ نشانیاں اور معجزات ہمارے سامنے پیش کیے جائیں تو ہم حلقہ بگوش اسلام ہوجائیں گے۔ ان کے ساتھ اہل مکہ کا یہ مطالبہ بھی تھا کہ صفا پہاڑ کو سونے کا بنا دیا جائے تاکہ ہماری معاشی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

معاندین نشانی کے باوجود ایمان نہ لائیں گے : آیت 109 : وَاَقْسَمُوْا بِاللّٰہِ جَہْدَ اَیْمَانِہِمْ جہد مصدر ہے اور حال کے مقام پر واقع ہے۔ یعنی جاہدین فی الاتیان باوکد الایمان۔ اس حال میں کہ وہ پکی قسمیں اٹھانے والے ہیں۔ لَپنْ جَآئَ تْہُمْ ٰایَۃٌ ان کی منہ مانگی آیات سے لَّـیُؤْمِنُنَّ بِہَا قُلْ اِنَّمَا الْاٰیٰتُ عِنْدَ اللّٰہِوہ اس پر قدرت رکھتے ہیں۔ میں نہیں۔ پس کس طرح میں تمہارے پاس لائوں۔ وَمَا یُشْعِرُکُمْاور تمہیں معلوم نہیں۔ اَنَّہَامانگی تجویز کردہ نشانی۔ اِذَا جَآئَ تْ لَا یُؤْمِنُوْنَان پر یعنی میں جانتا ہوں کہ جب وہ آئے گی وہ ایمان نہیں لائیں گے اور تم اس کو جانتے نہیں۔ مسلمان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر 109 (واقسموا باللہ) آیت و اقسموا باللہ جھد ایمانھم کا شان نزول محمد بن قرظی اور کلبی رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ قریش کہنے لگے محمد ! (ﷺ ) آپ ہمیں خبر دیتے ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) کیپ اس ایک لاٹھی تھی اس کو پتھر پر مارا تو اس سے بارہ چشمے پھوٹ پڑیا ور یہ خبر دیتے ہیں کہ عیسیٰ (علیہ السلام) مردوں کو زندہ کردیتے تھے تو آپ ایسی کوئی نشانی ہمارے پاس لائیں تاکہ ہم آپ کی تصدیق کریں تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ تم کیا چیز پسند کرتے ہو ؟ انہوں نے کہا ہمارے لئے صفا پہاڑ کو سونا بنادیں اور ہمارے کچھ مردے زندہ کردیں تاکہ ان سے پوچھیں کہ آپ جو کہہ رہے ہیں وہ حق ہے یا باطل اور ہمیں فرشتے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 109–110

(109 ۔ 110) ۔ تفسیر ابن جریر وغیرہ میں مجاہد اور بعضے اور سلف کے قول کے موافق ان آیتوں کی شان نزول جو بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ قریش طرح طرح کے معجزے آنحضرت ﷺ سے چاہتے تھے اور قسمیں کھا کر یہ کہتے تھے کہ ان معجزوں کے دیکھ لینے کے بعد وہ اسلام کے تابع ہوجاویں گے۔ مشرکوں کی قسما قسمیں دیکھ کر مسلمان لوگوں کو بھی یہ خواہش تھی کہ ان معجزوں کا ظہور ہوجاوے تو خوب ہے تاکہ ان معجزوں کے دیکھنے کے بعد اپنی قسماقسمی کے موافق شاید ان مشرکوں میں سے کچھ لوگ اسلام کے تابع ہوجاویں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں حاصل معنے ان آیتوں کے یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی معرفت مشرکوں کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 109–110

آیت 109 یعنی محمد رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کرنے والے مشرکین قسمیں اٹھاتے ہیں (باللہ جھد ایمانھم) یعنی زور دار اور موکد قسمیں (لئن جآء تھم ایۃ) ” اگر ان کے پاس کوئی نشانی آگئی “ جو محمد مصطفیٰ ﷺ کی صداقت پر دلالت کرتی ہو (لیومنن بھا) ” تو وہ ضرور اس پر ایمان لے آئیں گے۔ “ یہ کلام جو ان سے صادر ہوا اس سے ان کا مقصد طلب ہدایت نہ تھا بلکہ ان کا مقصد تو محض دفع اعتراض اور اس چیز کو قطعی طور پر ٹھکرانا تھا جو انبیاء و رسل لے کر آئے ہیں۔ بلاشبہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کی آیات بینات اور واضح دلائل کے ساتھ تائید فرمائی۔ ان دلائل کی طرف التفات کرنے سے اس بات میں ادنیٰ سا شبہ اور اشکال باقی نہیں…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 108–117

بُتوں کو بُرا بھلا نہ کہو قول باری ہے ( ولا تسبوا الذین یدعون من دون اللہ فیسبوا اللہ عدواً بغیر علم اور ( اے ایمان والو) یہ لوگ اللہ کے سوا جن کو پکارتے ہیں ان کو گالیاں نہ دو کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ شرک سے آگے بڑھ کر جہالت کی بنا پر اللہ کو گالیاں دینے لگیں) سدی کا قول ہے کہ بتوں کو گالیاں نہ دو کہ پھر اس کے جواب میں مشرکین کو تمہارے لیے شریعت نازل کرنے والی ذات کے خلاف بدزبانی کا موقعہ ہاتھ آ جائے۔ ایک قول یہ ہے کہ تم بتوں کو برا بھلا نہ کہو کہ اس کے سبب پیدا ہونے والا غصہ اور جہالت ان مشرکین کو اس ذات کے خلاف بدزبانی کرنے پر نہ اکسا دے جس کی تم بندگی کرتے ہو۔ اس کے اندر اس بات کی دلیل موجود…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

209 معجزہ پیغمبر کے اختیار میں نہیں ہوتا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان سے کہو کہ نشانیاں تو سب اللہ تعالیٰ ہی کے اختیار میں ہیں نہ کہ میرے اختیار میں۔ اور وہ وحدہ لاشریک جب چاہے اور جیسے چاہے اور جو چاہے معجزہ ظاہر فرمائے۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ معجزہ پیغمبر کے اختیار میں نہیں ہوتا بلکہ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ ہی کے اختیار میں ہوتا ہے۔ جیسا کہ { اِنَّمَا } کے کلمہ حصر سے ظاہر ہو رہا ہے۔ اور جب معجزہ پیغمبر کے اختیار میں نہیں ہوتا تو کرامت ولی اور بزرگ کے اختیار میں کیسے ہوسکتی ہے ؟ نیز یہاں سے اہل بدعت کے مختار کل کے شرکیہ عقیدے کی بھی جڑ کٹ جاتی ہے ۔ والحمد اللہ ۔ روایات کے مطابق کفار و مشرکین…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 108–110

مبلغ کے لیے ہدایت تشریح : ان آیات میں بہترین اخلاق کا، آپس کی رواداری کا سبق دیا گیا ہے۔ سب سے پہلے تو یہ حکم ہوا کہ بردباری، صبر اور سکون سے زندگی گزارو کسی کے مذہب کو یا اس کے معبود کو ہرگز برا نہ کہو اس کی وجہ یہ ہے کہ جواب میں وہ تمہارے حقیقی معبود کو برا کہے گا یا گالی دے گا۔ تو مطلب یہ ہوا کہ خود کو، اپنے ماں باپ کو، اپنے بزرگوں کو اور اپنے معبود رب العالمین کو بےادبی سے بچائو۔ کیونکہ کسی کو ادب سکھانے اور ایمان کی طرف بلانے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اپنے آپ کو تمام اخلاق حمیدہ (بہترین) سے مزین کرو۔ بہترین انسان بن کر رہو کہ جو تمہیں دیکھے اچھا انسان بن جانے کی کوشش کرے اور خودبخود نیکی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 102–111

رکوع نمبر 13 ۔ آیات 102 تا 111: اسرار و معارف : وہ تو ارض و سما کا بنانے والا اور ایسا بنانے والا ہے جس نے تخلیق کی ابتدا فرمائی نہ یہ کہ پہلے کوئی چیز تھی اور دیکھ کر یا مختلف اشیاء کا وجود تھا انہیں جوڑ کر زمین آسمان بنا دئیے بلکہ کچھ بھی نہ تھا پردہ عدم سے اشیاء کو وجود میں لایا اور اس کی اپنی اکیلی عظیم ذات کے علاوہ جو کچھ بھی ہے وہ اس کی مخلوق ہے ہر چیز کو اس نے پیدا فرمایا ہے اور وہ اکیلا خالق ہے نادانو بیٹا تو باپ کی جنس اور انہیں صفات کا حامل ہوتا ہے۔ جیسے انسان کا بچہ کیسا بھی ہو انسان تو ضرور ہوگا جب بیٹا ہو ناممکن ہے تو وہ اپنی شان اور ذات میں اکیلا تو نہ رہا پھر تو اس کے لیے بیوی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 12 جیسے صفا کی پہاڑی کو سونے کا بنا دینادیا جائے13 یا یہ ایمان نہ لائیں گے، کیونکہ ان مقصد حق کی تلاش و جستجو نہیں بلکہ محض دل لگی ہے

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(6:109) جھد۔ تاکید۔ پوری کوشش، مشقت۔ جھد یجھد کا مصدر ہے۔ اقسموا باللہ جھد ایمانھم۔ وہ پوری کوشش سے اللہ کی قسمیں کھاتے ہیں۔ ایۃ۔ نشانی۔ یہاں نشانی سے مشرکین کی مراد کوئی خاص نشانی ہے جیسے عصا موسیٰ (علیہ السلام) حضرت عیسیٰ کا مردوں کو اللہ کے حکم سے زندہ کرنا۔ کوڑھیوں کو تندرست کرنا وغیرہ۔ محمد بن کعب القرضی اور الکلبی نے کہا ہے کہ مشرکین نے بطور خاص نشانی کے یہ مطالبہ کیا تھا کہ کوہ صفا سونا ہوجائے۔ ہمارے کچھ مرے ہوئے لوگ زندہ ہوجائیں کہ آپ کی تصدیق کریں مابعد الممات کے متعلق اور ہمیں فرشتے دکھائیے کہ ہم ان سے آپ کی صداقت کے متعلق دریافت کریں۔ انما الایات عند اللہ۔ کہ نشانیاں تو صرف اللہ ہی…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 109–113

لغات القرآن : آیت نمبر 109 تا 113 : اقسموا ( انہوں نے قسم کھائی) جھد ایمان (زبردست قسمیں۔ مضبوط قسمیں) ‘ ماشعرکم (تم نہیں سمجھتے) نقلب ( ہم پلٹ دیں گے) افئدۃ (فواد) دل ‘ اول مرۃ ( پہلی مرتبہ) یعمھون ( وہ سرگرداں ہیں۔ وہ بہک رہے ہیں) کلم (باتیں کیں۔ کلام کیا) ۔ الانس (انسان) زخرف (ظاہر۔ چمکدار چیز۔ بناوٹی) غرور ( دھوکہ) لتصغی (تاکہ جھکیں) لیرضوہ ( تاکہ وہ اس کو پسند کرلیں) لیقترفوا (تاکہ وہ کرتے رہیں) ۔ تشریح : آیت نمبر 109 تا 113 : پچھلی آیات میں ذکر تھا کہ کفار و مشرکین ‘ نشانیوں ‘ معجزوں کے باوجود ایمان نہ لائے۔ اب ذکر ہے کہ انہوں نے اپنی سیاہ ضمیری میں ایک نیا روپ بدلا ہے یعنی حضور ﷺ سے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 104–110

مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ اب جو کوئی ان آیتوں کو سن کر ان کی نصیحتوں کے موافق عمل کرے گا اس کی عقبیٰ درست ہوجائے گی، اور جو کوئی ان نصیحتوں کے بعد بھی کورا باطن رہے گا اس کا خمیازہ اس کو بھگتنا پڑے گا۔ پھر فرمایا :” اے رسول اللہ کے ! ﷺ تم ان لوگوں سے کہ دو کہ میں فقط اللہ کا حکم پہچانے والا ہوں، تمہاری بد اعمالی کی گرفت میرے ہاتھ میں نہیں ہے وہ تو اللہ کے اختیار میں ہے۔ وہ جب چاہے گا تمہاری بد اعمالی کا مواخذہ فرمادے گا۔ مشرکین مکہ قرآن شریف کی آیتوں کو جھٹلاتے اور کہتے تھے کہ ” اس کے وبال سے ہم پر کوئی آسمانی عذاب کیوں نہیں آتا “۔ اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی معرفت قرآن شریف میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 106–110

[39] یعنی حق کی طلب و تلاش چونکہ ان میں سرے سے ہے ہی نہیں اس لئے اللہ کے مقررہ قانون کے بموجب ان کی سمجھ اور ان کی نظر کام نہیں دے گی اور وہ بدستور بھٹکتے رہیں گے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 108–110

اسلام کی بےمثال روا داری : (ف 1) بست پرستی کی اسلام نے بیحد مذمت کی ہے اور اس عقیدہ کو بےدلیل اور جاہلانہ عقیدہ قرار دیا ہے ، مگر باوجود اس کے رواداری کا یہ عالم ہے کہ بتوں کو گالیاں دینے سے روکا ہے یعنی ایک غلط اور بےحقیقت عقیدہ کا احترام بھی اس حد تک ضروری ہے کہ اسے اشتعال انگیز صورت میں پیش نہ کیا جائے ۔ تاکہ ایسا نہ ہو کہ جاہل اور ناآشنائے تہذیب مشرک اللہ کو گالیاں دینا شروع کردیں ، یہ ایک واقعہ ہے کہ اسلام نے مسلمانوں کے دلوں کو بےوسیع بنا دیا ہے ، مسلمان اور تعصب کبھی ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتے ، وہ لوگ جو مخالفین کے صلحاء اور نیک انسانوں کو گالیاں دیتے ہیں وہ اسلام کے مخالف ہیں اور تمام…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-109 اور یہ منکر بڑی تاکید اور بڑے مبالغہ کے ساتھ اس بات پر اللہ تعالیٰ کی قسمیں کھاتے ہیں کہ اگر حسب منشاء اور ہماری فرمائش کے موافق کوئی نشانی اور معجزہ ہمارے پاس آجائے اور کوئی نشانی ان کو پہونچ جائے تو یقینا یہ اس پر ایمان لے آئیں گے اے پیغمبر ! آپ فرما دیجیے کہ ہر قسم کی نشانیاں بس اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہیں اور صرف اسی کے قبضے ہیں اور مسلمانو ! تم کو کیا خبر کہ جس وقت نشان آجائے گا اور ان کی فرمائش کے موافق معجزہ نمایاں ہوجائے گا تب بھی یہ لوگ ایمان نہیں لائیں گے یعنی باوجود قسموں کے نشان دیکھ کر بھی ایمان لانے سے انکار کریں گے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 108–109

ف 2۔ یعنی ایسے اسباب جمع ہوجاتے ہیں کہ ہر ایک کو اپنا طریقہ پسند ہے اس سے معلوم ہوا کہ یہ عالم اصل میں ابتلاء کا ہے پس اس میں سزا ضروری نہیں۔ 3۔ بتوں کو براکہنا فی نفسہ مباح ہے مگر جب وہ ذریعہ بن جائے ایک امرحرام یعنی گستاخی بجناب باری تعالیٰ کا تو وہ بھی منہی عنہ اوقبیح ہوجائے گا اس سے ایک قاعدہ شرعیہ ثابت ہوا کہ مباح جب حرام کا سبب بن جائے تو وہ حرام ہوجاتا ہے اور قرآن مجید کی بعض آیات میں جو معبودان باطلہ کی تحقیر مذکور ہوئی ہے وہ بقصد سب وشتم نہیں بلکہ مناظرہ میں بطورتحقیق مطلوب و استدلال والزام خصم کے ہے جو مناظرات میں مستعمل ہے اور قرائن سے مخاطب کو معلوم ہوجاتا ہے کہ تحقیق مقصود ہے…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

وہ قسمیں کھا کھا کر کہتے ہیں کہ اگر ان کے پاس نسانی آجائے تو وہ ایمان لے آئیں گے : 164: بات بات پر قسمیں کھانے والے آدمی ہمیشہ وہی ہوتے ہیں جو حقیر و ذلیل اور گھٹیا قسم کے ہوتے ہیں۔ وہ بات بات پر اس لئے قسمیں کھاتے ہیں کہ ان کو خود یہ احساس ہوتا ہے کہ لوگ ان کو جھوٹا سمجھتے ہیں اور ان کی بات پر لوگ اس وقت تک یقین نہیں کریں گے جب تک وہ اپنی بات کو قسمیں کھا کر موکد نہ کریں اسلئے وہ یقیناً اپنی نگاہوں میں خود بھی ذلیل ہوتے ہیں اور معاشرے میں بھی ان کی کوئی وقعت نہیں ہوتی۔ قرآن کریم میں مختلف مقامات پر ان کی صفات بیان کی گئی ہیں اور انہیں قسمیں کھانے والوں کا ذکر اس آیت میں کیا گیا ہے۔ یہ وہی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 109–113

On Signs and Miracles The previous verses had mentioned how obstinate people failed to benefit from clear signs of Allah and open miracles of His Messenger and kept on denying the message of truth. The present verses mention how they took a new turn, and demanded particular miracles from the Holy Prophet ﷺ . As reported by Ibn Jarir, the Quraysh chiefs asked that they be shown the miracle of turning the Mount of Safa into solid gold; if so, they would accept that he was a prophet and messenger, and that they would embrace Islam. The Holy Prophet ﷺ said: All right, make a solid agreement that,…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

74. 'Sign' in this context signifies a tangible miracle which is so impressive that it leaves people with no alternative but to believe in the veracity of the Prophet (peace be on him) and the truth of his claim to have been appointed by God. 75. The Prophet (peace be on him) denies his ability to perform miracles. That power lies with God alone. If God wants a miracle to take place, He has the power; if He does not want miracles to take place, none will. And so indeed does every Prophet of God - Ed. 76. These words are addressed to the Muslims. Driven by the restless yearning to see people…

Read the full tafseer →