Explained with ayahs 114–115
اللہ کے فیصلے اٹل ہیں
حکم ہوتا ہے کہ مشرک جو کہ اللہ کے سوا دوسروں کی پرستش کر رہے ہیں ان سے کہہ دیجئے کہ کیا میں آپس میں فیصلہ کرنے والا بجز اللہ تعالیٰ کے کسی اور کو تلاش کروں ؟ اسی نے صاف کھلے فیصلے کرنے والی کتاب نازل فرما دی ہے یہود و نصاری جو صاحب کتاب ہیں اور جن کے پاس اگلے نبیوں کی بشارتیں ہیں وہ بخوبی جانتے ہیں کہ یہ قرآن کریم اللہ کی طرف سے حق کے ساتھ نازل شدہ ہے تجھے شکی لوگوں میں نہ ملنا چاہیے، جیسے فرمان ہے (فَاِنْ كُنْتَ فِيْ شَكٍّ مِّمَّآ اَنْزَلْنَآ اِلَيْكَ فَسْــــَٔـلِ الَّذِيْنَ يَقْرَءُوْنَ الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكَ ۚ لَقَدْ جَاۗءَكَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–115
سورة الْاَنْعَام 81
اس فقرہ میں متکلم نبی ﷺ ہیں اور خطاب مسلمانوں سے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب اللہ نے اپنی کتاب میں صاف صاف یہ تمام حقیقتیں بیان کردی ہیں اور یہ بھی فیصلہ کردیا ہے کہ فوق الفطری مداخلت کے بغیر حق پرستوں کو فطری طریقوں ہی سے غلبہ حق کی جدوجہد کرنی ہوگی، تو کیا اب میں اللہ کے سوا کوئی اور ایسا صاحب امر تلاش کروں جو اللہ کے اس فیصلہ پر نظر ثانی کرے اور ایسا کوئی معجزہ بھیجے جس سے یہ لوگ ایمان لانے پر مجبور ہوجائیں ؟
سورة الْاَنْعَام 82
یعنی یہ کوئی نئی بات نہیں ہے جو واقعات کی توجیہ میں آج گھڑی گئی ہو۔ تمام وہ لوگ جو کتب آسمانی کا علم رکھتے ہیں اور جنہیں انبیاء (علیہم السلام) کے مشن…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
(آپ ﷺ کہہ دیجئے کہ میرے تمہارے درمیان جو مقدمہ رسالت میں اختلاف ہے کہ میں بحکم سرکاری اس کا مدعی ہوں اور تم منکر اور یہ مقدمہ اجلاس احکم الحاکمین سے میرے حق میں اس طرح طے اور فیصل ہوچکا ہے کہ میرے اس دعوے پر کافی ثبوت اور دلیل، یعنی قرآن معجز خود قائم فرما دیا ہے اور تم پھر بھی نہیں مانتے) تو کیا (تم یہ چاہتے ہو کہ اس خدائی فیصلہ کو کافی نہ قرار دوں اور) اللہ کے سوا کسی اور فیصلہ کرنے والے کو تلاش کروں، حالانکہ وہ ایسا (کامل فیصلہ کرچکا) ہے کہ اس نے ایک کتاب (جو اپنے اعجاز میں) کامل (ہے) تمہارے پاس بھیج دی ہے (جو اپنے اعجاز کی وجہ سے دلالة علی النبوة میں کافی ہے، پس اس کے دو کمال…
Read the full tafseer →اَفَغَيْرَ اللّٰهِ اَبْتَغِيْ حَكَمًا وَّهُوَ الَّذِيْٓ اَنْزَلَ اِلَيْكُمُ الْكِتٰبَ مُفَصَّلًا، یہ مشرکین کے مجادلہ کا پیغمبر کی طرف سے جواب ہے کہ تم مجھ سے شرک و توحید اور حلال و حرام کے بارے میں جھگڑ رہے ہو۔ سوال یہ ہے کہ اس جھگڑے میں کہ خدا کی خدائی میں کچھ اور بھی شریک ہیں یا وہی تنہا حکمران ہےَ اس نے کیا چیزیں حرام ٹھہرائی ہیں، کیا جائز رکھی ہیں، آخر حکم بننے کا حق کس کو حاصل ہے ؟ خدا ہی کو یا کسی اور کو ؟ اگر خدا ہی کو یہ حق حاصل ہے اور لاریب اسی کو حاصل ہے تو میرے لیے یہ بات کس طرح جائز ہے کہ میں اس کے سوا کسی اور کو اس معاملے میں حکم مانوں جب کہ اس نے اس جھگڑے کے چکانے کے لیے ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–114
113۔ 1 یعنی شیطانی وسوسہ کا شکار وہی لوگ ہوتے ہیں اور وہی اس کو پسند کرتے ہیں اور اس کے مطابق عمل کرتے ہیں جو آخرت میں ایمان نہیں رکھتے۔ اور یہ حقیقت ہے کی جس حساب سے لوگوں کے اندر عقیدء آخرت کے بارے میں ضعف پیدا ہو رہا ہے، اسی حساب سے لوگ شیطانی جال میں پھنس رہے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–117
51: یہاں پھر وہی بات فرمائی جا رہی ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو شیاطین کو یہ قدرت نہ دیتا اور لوگوں کو زبردستی ایمان پر مجبور کردیتا لیکن چونکہ مقصد امتحان ہے، اس لئے زبردستی کا ایمان معتبر نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–117
(آیت) ” نمبر 114 تا 117۔
یہ اہم تمہیدی امور یہاں اس لئے لائے گئے ہیں کہ اصل موضوع پر کلام کیا جاسکے ۔ اس کے بعد اس تمہید اور موضوع دونوں کو مسئلہ کفرو ایمان کے ساتھ مربوط کردیا جاتا ہے ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–115
5 یعنی " شیاطین الانس والجن " کی تلبیس و تلمیع پر بدعقیدہ اور جاہل ہی کان دھر سکتے ہیں۔ ایک پیغمبر یا اس کے متبعین جو ہر مسئلہ اور ہر معاملہ میں خدائے واحد ہی کو اپنا منصف اور حکم مان چکے ہیں کیا ان سے یہ ممکن ہے کہ وہ خدا کو چھوڑ کر کسی دوسرے کی چکنی چپڑی باتوں کی طرف کان لگائیں۔ یا معاذاللہ غیر اللہ کے فیصلہ کے آگے گردن جھکا دیں، حالانکہ ان کے پاس خدا کی طرف سے ایسی معجز اور کامل کتاب آچکی جس میں تمام اصولی چیزوں کی ضروری توضیح و تفصیل موجود ہے۔ جس کی نسبت علمائے اہل کتاب بھی کتب سابقہ کی بشارات کی بناء پر خوب جانتے ہیں کہ یقیناً یہ آسمانی کتاب ہے جس کی تمام خبریں سچی اور تمام احکام معتدل…
Read the full tafseer →آیت 114 اَفَغَیْرَ اللّٰہِ اَبْتَغِیْ حَکَمًا
اب پھر یہ متجسسانہ سوال searching question اسی پس منظر میں کیا گیا ہے کہ مشرکین مکہ اللہ کو مانتے تھے۔ چناچہ ان سے پوچھا جا رہا ہے کہ وہ اللہ جس کو تم مانتے ہو ‘ میں نے بھی اسی کو اپنا رب مانا ہے۔ تو کیا اب تم چاہتے ہو کہ میں اس معبود حقیقی کو چھوڑ کر کسی اور کو اپنا حکم تسلیم کرلوں ‘ اور وہ بھی ان میں سے جن کو تم لوگوں نے اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے ‘ جن کے بارے میں اللہ نے کوئی سند یا دلیل نازل نہیں کی ہے۔ سورة الزخرف میں اسی نکتہ کو اس انداز میں پیش کیا گیا ہے : قُلْ اِنْ کَان للرَّحْمٰنِ وَلَدٌق فَاَنَا اَوَّلُ الْعٰبِدِیْنَ آپ ﷺ کہیے کہ اگر اللہ…
Read the full tafseer →118 اہل کتاب کی ثالثی ؟ یہ رسول اللہ کا خطاب مشرکین مکہ کو ہے جنہوں نے کہا تھا کہ یہود اور نصاریٰ دونوں اہل کتاب بھی ہیں اور عالم بھی ہیں لہذا آپ ان میں سے کسی کو ثالث تسلیم کرلیں۔ جو ہم میں فیصلہ کر دے کہ ہم میں کون حق پر ہے یا وہ صلح یا سمجھوتہ کی کوئی راہ نکال دیں۔ ان کی اس تجویز کا جواب یہ ہے کہ میرا حکم صرف اللہ تعالیٰ ہے جس نے ایسی کتاب نازل فرمائی ہے جس میں ہدایت کی وہ ساری باتیں آگئی ہیں جو تورات اور انجیل میں ہیں۔ علاوہ ازیں وہ یہ بھی بتاتی ہے کہ ان لوگوں نے اپنی کتابوں سے کیا سلوک کیا کن کن آیات کی وہ لفظی اور معنوی تحریف کرچکے ہیں اور کون کون سی آیات کو چھپا رہے ہیں۔ تو کیا میں…
Read the full tafseer →166 ۔ (جس کی ہدایات وتعلیمات دنیا وآخرت کے ہر معاملہ، ہر مرحلہ سے متعلق جامع، واضح اور مکمل ہیں) یہ قول رسول اللہ ﷺ کی زبان سے ادا کرایا جارہا ہے۔ (آیت) ” حکما “۔ یعنی میرے اور تمہارے درمیان فیصلہ صادر کرنے والا حاکم۔ (آیت) ” المعنی افغیر اللہ اطلب لکم حاکم وھو الذی کفاکم مؤنۃ المسالۃ فی الایات بما انزلہ الیکم (قرطبی) ای قل لھم یا محمد افغیر اللہ اطلب من یحکم بینی وبینکم (بیضاوی)
167 ۔ یعنی شک وتردد اس باب میں کرنے لگیں کہ اہل کتاب پر وضوح حق پوری طرح ہو بھی چکا ہے یا نہیں۔ یاد رکھیے ان پر خوب اچھی طرح ہوچکا ہے۔ ای من الشاکین فی انھم یعلمون انہ منزل من عند اللہ (قرطبی) فی ان اھل الکتاب یعلمون…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–121
شان نزول : اَفَغیر اللہ ابتغی حَکَمًا، مشرکین مکہ آنحضرت ﷺ سے یہ کہا کرتے تھے کہ اہل کتاب میں سے کسی کو ثالث قرار دیا جائے اگر وہ قرآن کا کلم الہیٰ کہہ دے تو ہم لوگ آپ کے نبی برحق اور قرآن کے کلام الہیٰ ہونے کے قائل ہوجائیں گے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں، اس آیت کا حاصل یہ ہے کہ میرے اور تمہارے درمیان مقدمہ نبوت و رسالت میں اختلاف و نزاع ہے میں اس کا مدعی ہوں اور تم منکر اور اس نزع و اختلاف کا فیصلہ احکم الحاکمین کی عدالت سے میرے حق میں اس طرح ہوچکا ہے کہ میرے اس دعوے پر کافی ثبوت اور دلائل موجود ہیں خود قرآن کا اعجاز ہے جس نے نہ صرف عالم عرب کو بلکہ اقوام عالم کو چیلنچ کیا کہ…
Read the full tafseer →افغیر اللہ ابتغی حکما وہو الذی انزل الیکم الکتب مفصلا .(آپ کہہ دیجئے) کیا اللہ کے سوا کسی اور فیصلہ کرنے والوں کو تلاش کروں حالانکہ اللہ ہی نے تو تمہارے پاس ایک کامل کتاب بھیج دی ہے جو تفصیل وار ہے افغیر : میں فاء عطف کے لئے ہے اور معطوف علیہ محذوف ہے یعنی کیا میں تمہاری بات مان لوں اور اپنے تمہارے درمیان اللہ کے اور اپنے تمہارے درمیان اللہ کے سوا کسی اور حکم بنا لوں جو فیصلہ کرے کہ ہم میں سے حق پر کون ہے اور باطل پر کون ہے حالانکہ اللہ نے قرآن تمہارے پاس بھیج دیا ہے جو بجائے خود معجزہ ہے کتب سابقہ کے مطابق غیبی امور کی خبریں دے رہا ہے اور حق و باطل کو اس میں کھول کر بیان کردیا گیا ہے کہ اب…
Read the full tafseer →(114) جو مقدمہ رسالت میں اختلاف ہے تو کیا میں اس میں اللہ تعالیٰ کے فیصلہ کے علاوہ اور کسی کا فیصلہ تلاش کروں حالانکہ اس نے تمہارے نبی پر ایک کامل کتاب جو حلال و حرام کو بیان کرنے والی ہے اور ایک ایک آیت جدا ہے نازل کردی ہے۔
اور جن حضرات کو ہم نے توریت کا علم دیا ہے وہ اپنی کتاب میں اس بات کو اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ قرآن کریم آپ کے پروردگار کی طرف سے اوامرو نواہی کے ساتھ نازل کیا گیا ہے یا یہ کہ بذریعہ جبریل امین ؑ آپ کے پروردگار کی طرف سے آپ پر قرآن کریم واقعیت کے ساتھ بھیجا گیا ہے، سو آپ اس چیز کا ہرگز شک نہ کریں کہ یہ اس کی سچائی سے بیخبر ہیں۔
Read the full tafseer →اَفَغَيْرَ اللّٰهِ اَبْتَغِيْ حَكَمًا۔۔ : اوپر کی آیات میں یہ بتادیا کہ یہ کفار کسی صورت ایمان نہیں لائیں گے، لہٰذا ان کے لیے آیات کا نازل کرنا بےفائدہ ہے۔ اب یہاں بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے جو مفصل کتاب نازل فرمائی ہے وہ آپ کی نبوت کے سچا ہونے پر دلیل کے لیے کافی ہے۔ کفار مکہ یہ چاہتے تھے کہ ان کے اور نبی ﷺ کے درمیان جو مخالفت ہے اس کے بارے میں اہل کتاب یا کسی اور کو حکم بنا لیا جائے، پھر جو فیصلہ وہ دیں اسے تسلیم کرلیا جائے، اس آیت میں ان کی اس تجویز کا جواب دیا جا رہا ہے کہ کیا میں اللہ کے علاوہ کوئی اور منصف تلاش کروں۔
يَعْلَمُوْنَ اَنَّهٗ مُنَزَّلٌ مِّنْ رَّبِّكَ بالْحَقِّ : کیونکہ ان کے…
Read the full tafseer →آیت نمبر 114
قولہ تعالیٰ : آیت : افغیر اللہ ابتغی حکما اس میں غیر کو ابتغی کے ساتھ نصب دی گئی ہے۔ اور حکما بیان ہونے کی بنا پر منصوب ہے، اور اگر چاہے تو حال بنا لے۔ اور معنی یہ ہے : کیا میں تمہارے لیے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی حاکم تلاش کروں حالانکہ وہ وہ ہے جو تمہیں آیات کے بارے سوال کی مشقت اور بوجھ کے وقت کافی ہوا ( کہ) اس نے تمہاری طرف کتاب مفصل نازل فرما دی، اس میں مفصل بمعنی مبین ( وضاحت کرنے والی) ہے۔ پھر کہا گیا ہے : حکم، حاکم سے زیادہ بلیغ ہے، کیونکہ حکم نام رکھنے کا کوئی مستحق نہیں ہے مگر وہی جو حق کے ساتھ فیصلے کرتا ہے، کیونکہ یہ مدح میں بہت عظیم صفت ہے اور حاکم ایسی صفت ہے جو فعل پر…
Read the full tafseer →(1) امام عبد الرزاق، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت وھوالذی انزل الیکم الکتب مفصلا سے مراد ہے لفظ آیت مبینا یعنی انتہائی واضح۔
(2) امام ابن ابی حاتم نے مالک بن انس کے طریق سے ربیعہ (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے کتاب کو نازل فرمایا اور اس میں سنت کے لئے جگہ چھوڑ دی اور رسول اللہ ﷺ نے سنت بیان فرمائی اور اس میں ایک جگہ رائے کے لئے چھوڑ دی۔
Read the full tafseer →اَفَغَيْرَ اللّٰهِ [ تو کیا اللہ کے علاوہ (کسی ) کو ] اَبْتَغِيْ [ میں چاہوں ] حَكَمًا [ بطور منصف کے ] وَّ [ حالانکہ ] هُوَ [ وہ ] الَّذِيْٓ [ وہ ہے جس نے ] اَنْزَلَ [ اتارا ] اِلَيْكُمُ [ تم لوگوں کی طرف ] الْكِتٰبَ [ کتاب ] مُفَصَّلًا ۭ [ تفصیل سے بیان کی ہوئی ] وَالَّذِيْنَ [ اور وہ لوگ ] اٰتَيْنٰهُمُ [ ہم نے دی جن کو ] الْكِتٰبَ کتاب ] يَعْلَمُوْنَ [ وہ لوگ جانتے ہیں ] اَنَّهٗ [ کہ یہ ] مُنَزَّلٌ [ اتاری ہوئی ہے ] مِّنْ رَّبِّكَ [ آپ کے رب (کی طرف) سے ] بِالْحَقِّ [ حق کے ساتھ ] فَلَا تَكُوْنَنَّ [ تو آپ ہرگز نہ ہوں ] مِنَ الْمُمْتَرِيْنَ [ شک کرنے والوں میں سے ]
خ رص : (ن) خرصا ۔ کسی…
Read the full tafseer →اللہ کی کتاب مفصل ہے اور اس کے کلمات کامل ہیں
رسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ کی آیات سناتے تھے اور اس کے احکام بتاتے تھے۔ اس کی ذات وصفات کے متعلق عقائد کی تلقین فرماتے تھے کہ وہ خالق ہے مالک ہے قادر مطلق ہے سمیع بصیر ہے علیم خبیر ہے اس کا ہر فیصلہ حق ہے لیکن مشرکین چاہتے تھے کہ آپ ان باتوں کو چھوڑ دیں اور وہ خود اپنے باطل معبودوں کو چھوڑنے کو تیار نہ تھے اور آپ کو بھی اپنی گمراہی کی طرف کھینچنا چاہتے تھے اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا کہ آپ ان سے یوں فرمائیں کہ میں اللہ کو چھوڑ کر اور کس کو فیصلہ کرنے والا مان لوں۔ اس کی ذات تمام صفات کمالیہ سے متصف ہے جب اس جیسا کوئی ہے ہی نہیں تو میں اسے چھوڑ کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–121
تتمۂ توبیخ معاندین وتحذیر از اتباع مضلین ومجادلین
قال اللہ تعالیٰ افغیر اللہ ابتغی حکما۔۔۔ الی۔۔۔ وان اطعتموھم انکم لمشرکین
(ربط) گذشتہ آیات میں یہ بیان ہوچکا کہ یہ کافر جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں اور ایسے ضدی اور عنادی ہیں کہ جن معجزات کی وہ خواہش رکھتے ہیں ان کے ظاہر ہونے پر بھی ایمان نہیں لائیں گے اگر دل میں کچ بھی قبول حق کا مادہ ہوتا تو پہلے ہی مرتبہ آیات بینات دیکھ کر ایمان لے آتے اس لے کہ اول تو قرآن کریم آپ ﷺ کا عظیم ترین معجزہ ہے اور آپ ﷺ کی نبوت و رسالت کی روشن دلیل ہے اس کی طرف رجوع کرلینا کافی ہے ؎
آفتاب آمد دلیل آفتاب گر دلیلے باید ازدے رومتاب
ایسی روشن دلیل کے بعد کسی اور فیصلہ کرنے…
Read the full tafseer →123 یعنی اللہ تعالیٰ کا فیصلہ بیان ہوگیا اور اس نے اپنی کتاب بھی اتار دی جس میں صاف صاف فرما دیا کہ سب کچھ جاننے والا اور سب کرنے والا صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ اس لیے صرف اسی کو پکارو اور اس کے سوا کسی اور کو مت پکارو۔ اب میں اللہ کے سوا کسی دوسرے کا فیصلہ قبول نہیں کرسکتا۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ مشرکین قریش نے آنحضرت ﷺ سے کہا کہ آپ اپنے اور ہمارے درمیان یہود یا نصاریٰ کے کسی بہت بڑے عالم کو حکم (ج ج) مقرر کرلیں تاکہ وہ آپ کے بارے میں اور آپ کے دین کے بارے میں اپنی کتاب کا فیصلہ سنا دے اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور آپ کو یہ اعلان کرنے کا حکم ہوا کہ میں اللہ کے سوا کسی اور کو حَکَم نہیں مان سکتا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–117
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے شرک اور مشرکین کی تردید کے ساتھ ساتھ رسالت کا ذکر بھی کیا ۔ اس کے ساتھ توحید کا ذخر بھی مختلف انداز میں کیا اور انسانی اور جناتی شیطانوں کا بیان بھی فرمایا اور یہ بھی کہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رک تھے وہ شرکیہ باتوں میں ملوث ہوجاتے ہیں اور اللہ کی وحدانیت کا انکار کردیتے ہیں اور پھر اللہ کے انبیاء کے متعلق بھی بیہودہ باتیں کرتے ہیں۔ اللہ نے ان سب کی تردید فرمائی اور اب آج کے درس میں مشرکین کے ایک سوال کا جواب دیا ہے۔ قریش مکہ حضور علیہ اسلام کی رسالت کے منکر تھے اور آپ پر نازل ہونے والی کتاب کا بھی انکار کرتے تھے۔ بعض لوگ کہتے تھے کہ اگر آپ اللہ کے رسول ہیں تو…
Read the full tafseer →اَفَغَيْرَ اللہِ اَبْتَغِيْ حَكَمًا وَّہُوَالَّذِيْٓ اَنْزَلَ اِلَيْكُمُ الْكِتٰبَ مُفَصَّلًا 0 ۭ وَالَّذِيْنَ اٰتَيْنٰہُمُ الْكِتٰبَ يَعْلَمُوْنَ اَنَّہٗ مُنَزَّلٌ مِّنْ رَّبِّكَ بِالْحَقِّ فَلَاتَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِيْنَ 114
غير
أن تکون للنّفي المجرّد من غير إثبات معنی به، نحو : مررت برجل غير قائم . أي : لا قائم، قال : وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَواهُ بِغَيْرِ هُدىً مِنَ اللَّهِ [ القصص/ 50] ،
( غ ی ر ) غیر
اور محض نفی کے لئے یعنی اس سے کسی دوسرے معنی کا اثبات مقصود نہیں ہوتا جیسے مررت برجل غیر قائم یعنی میں ایسے آدمی کے پاس سے گزرا جو کھڑا نہیں تھا ۔ قرآن میں ہے : وَمَنْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–118
ترکیب : افغیر اللّٰہ ابتغی کا مفعول حکماء اس سے حال ویجوزالعکس مفصلا الکتب سے حال ہے اور بالحق ضمیر مرفوع منزل سے۔ صدقا وعدلا تمیز ہیں اور مفعول لہ بھی اور حال بھی ہوسکتی ہیں۔ ھوا اعلم خبر ان من بمعنی الذی یانکرہ موصوفہ موضع نصب میں فعل محذوف سے جس پر اعلم دلالت کرتا ہے ای یعلم من یضل یا من استفہامیہ مبتداء ویضل خبر اور جملہ یعلم محذوف سے محل نصب میں۔
تفسیر : چونکہ پہلی آیتوں میں کفار کے اعتقادِ بد کو اور انکار نبوت اور شبہات بےجا کو رد فرما کر آنحضرت ﷺ اور جملہ ایمانداروں کی تسلی کے لئے فرما دیا تھا کہ ان کی یہ سب باتیں ملمع کاری ہے (زخرف القول) جو ان کے مادہ فاسدہ سے ابخرات کی طرح اٹھتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–115
ارشاد ہوتا ہے :
اَفَغَیْرَ اللہِ اَبْتَغِیْ حَکَمًا وَّ ھُوَ الَّذِیْٓ اَنْزَلَ اِلَیْکُمُ الْکِتٰبَ مُفَصَّلاً ط وَالَّذِیْنَ اٰتَیْنٰھُمُ الْکِتٰبَ یَعْلَمُوْنَ اَنَّہٗ مُنَزَّلٌمِّنْ رَّبِّکَ بِالْحَقِّ فَلَا تَکُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَ ۔ وَتَمَّتْ کَلِمَتُ رَبِّکَ صِدْقًا وَّ عَدْلًا ط لَا مُبَدِّلَ لِکَلِمٰتِہٖ ج وَھُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ ۔ (الانعام : 114۔ 115)
(کیا میں اللہ کے سوا کوئی اور منصف ڈھونڈوں ‘ درآنحالیکہ وہی ہے ‘ جس نے تمہاری طرف کتاب اتاری مفصل اور جن کو ہم نے کتاب عطا کی وہ جانتے ہیں یہ تیرے رب کی طرف سے اتاری گئی ہے ‘ حق کے ساتھ۔ تو تم ہرگز شک میں پڑنے والوں میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–115
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ انسان کا فرض ہے کہ وہ من ساختہ بات کے پیچھے چلنے کے بجائے اللہ تعالیٰ کے حکم کی پیروی کرے جس کے لیے اس نے مفصل کتاب نازل فرمائی ہے۔
انسان پر شیطان کا تسلط قائم ہوجائے تو وہ اللہ کا بندہ بننے کے بجائے اپنے نفس اور شیطان کا غلام بن کر رہ جاتا ہے۔ قرآن کے الفاظ میں ایسا شخص اپنے نفس کا بندہ بن جاتا ہے اور وہ آخرت سے بےپروا ہو کر اپنے نظریات کو شریعت کا متبادل سمجھتے ہوئے اس کی پیروی کرتا ہے اس سوچ اور طرز عمل کی مذمت کرتے ہوئے رسول محترم ﷺ کی زبان سے کہلوایا گیا ہے کہ کیا میں اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر کسی اور کو اپنا حاکم تصور کرلوں حالانکہ فیصلہ کرنے والا تو…
Read the full tafseer →قرآن کی حقانیت کے لئے اللہ کا فیصلہ کافی ہے :
آیت 114 : اَفَغَیْرَ اللّٰہِ اَبْتَغِیْ حَکَمًا یعنی کہہ دیں اے محمد ﷺ کیا میں اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی حکم و فیصل تلاش کروں جو میرے اور تمہارے درمیان فیصلہ کرے۔ اور حق پرست اور باطل پرست کو الگ کر دے۔ وَّہُوَ الَّذِیْٓ اَنْزَلَ اِلَیْکُمُ الْکِتٰبَ مُفَصَّلًا یہ کتاب سے حال ہے اس میں حق و باطل کا الگ الگ امتیاز کیا گیا۔ اور میری صداقت کی گواہی دی گئی اور تمہارے متعلق افتراء کی گواہی موجود ہے۔ پھر اس کی مزید تاکید اس طرح کی کہ قرآن کی حقانیت کا علم تو اہل کتاب کو بھی ہے کیونکہ قرآن تورات و انجیل کی تصدیق کر رہا ہے۔ اور بنیادی مضامین میں ان کے…
Read the full tafseer →تفسیر (114) (افغیر اللہ ابتغی حکماً ) اس میں عبارت محذوف ہے یعنی اے محمد آپ ان کو کہیں کیا اللہ کے سوا کسی اور کو منصف بنائوں) جو میرے اور تمہارے درمیان فیصلہ کرے کیونکہ وہ نبی کریم ﷺ کو کہتے تھے کہ آپ ہمارے اور اپنے درمیان کوئی منصف بنائیں تو ﷺ نے ان کو یہ جواب دیا (وھو الذی انزل الیکم الکتب مفصلاً ) اس میں امر اور نہی واضح ہیں اور بعض نے کہا مفصلاً کا معنی ہے پانچ پانچ اور دس دس آیتیں نازل کیں (والذین اتینھم الکتب) یعنی یہود اور نصاریٰ کے علماء جن کو ہم نے تو رات اور انجیل دی ہے اور بعض نے کہا ہے کہ اہل کتاب میں سے ایمان لانے والے مراد ہیں اور عطاء (رح) فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کے صحابہ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–115
(114 ۔ 115) ۔ مشرکین مکہ آنحضرت ﷺ سے یہ کہتے تھے کہ اہل کتاب میں سے کوئی شخص منصف قرار دیا جاوے کہ وہ قرآن کو کلام الٰہی کہہ دیوے تو پھر ہم لوگ آپ کے نبی برحق اور قرآن کے کلام الٰہی ہونے کے قائل ہوجاویں گے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا اے رسول اللہ کے ان مشرکوں سے کہہ دیا جاوے کہ میرے اور تمہارے مابین اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر کون اس بات کا منصف قرار پاسکتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں اور قرآن کلام الٰہی ہے اور اللہ تعالیٰ کے منصف ہونے کی یہ نشانی ہے کہ قرآن میں جہاں اور باتوں کی تفصیل ہے وہاں یہ بات بھی میں تم کو سنا چکا ہوں کو جو شخص اللہ پر کوئی چھوٹ بناوے تو اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–114
آیت 113
اللہ تبارک و تعالیٰ رسول اللہ ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے جس طرح ہم نے آپ کے دشمن بنا دیئے جو آپ کی دعوت کو ٹھکراتے ہیں اور آپ سے حسد کرتے ہیں، تو یہ ہماری سنت ہے، ہم ہر نبی کے، جس کو ہم مخلوق کی طرف مبعوث کرتے ہیں، جنوں اور انسانوں میں سے دشمن مقرر کردیتے ہیں وہ ان تمام امور کی مخالفت کرتے ہیں جنہیں رسول لے کر آئے ہیں۔ (یو حی بعضھم الی بعض زخرف القول غرورا) ” سکھلاتے ہیں وہ ایک دوسرے کو ملمع کی ہوئی باتیں، فریب دینے کے لئے “ یعنی وہ ایک دوسرے کو ان باطل امور کو سجا کر اور مزین کر کے پیش کرتے ہیں جن کی طرف وہ دعوت دیتے ہیں اور وہ اس کی تعبیرات کو آراستہ کر کے بہترین اسلوب میں پیش…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 108–117
بُتوں کو بُرا بھلا نہ کہو
قول باری ہے ( ولا تسبوا الذین یدعون من دون اللہ فیسبوا اللہ عدواً بغیر علم اور ( اے ایمان والو) یہ لوگ اللہ کے سوا جن کو پکارتے ہیں ان کو گالیاں نہ دو کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ شرک سے آگے بڑھ کر جہالت کی بنا پر اللہ کو گالیاں دینے لگیں) سدی کا قول ہے کہ بتوں کو گالیاں نہ دو کہ پھر اس کے جواب میں مشرکین کو تمہارے لیے شریعت نازل کرنے والی ذات کے خلاف بدزبانی کا موقعہ ہاتھ آ جائے۔ ایک قول یہ ہے کہ تم بتوں کو برا بھلا نہ کہو کہ اس کے سبب پیدا ہونے والا غصہ اور جہالت ان مشرکین کو اس ذات کے خلاف بدزبانی کرنے پر نہ اکسا دے جس کی تم بندگی کرتے ہو۔ اس کے اندر اس بات کی دلیل موجود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–115
220 اللہ کے سوا اور کسی کو اپنا حکم اور منصف بنانا ظلم ہے ۔ والعیاذ باللہ : سو استفہام انکاری کے طور پر اللہ کے رسول کی زبان سے ارشاد فرمایا گیا کہ کیا میں اللہ کے سوا کوئی اور حکم اور منصف تلاش کروں۔ جبکہ اس نے یہ کتاب مفصل اتار دی جس میں حق و باطل، نیک و بد، صحیح و غلط اور اسباب سعادت و شقاوت کو اس طرح کھول کر بیان کردیا گیا کہ کسی شک و شبہ کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی ۔ فَلِلّٰہِ الْحَمْدُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ سو استفہام یہاں پر انکاری ہے۔ یعنی ایسے نہیں ہوسکتا کہ میں اس کتاب مفصل کے اتارے جانے کے بعد اور اس کے ہوتے ہوئے اللہ کے سوا اور کسی کو اپنا حکم اور منصف تلاش کروں کہ ایسا کرنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–117
شریعت اللہ کی تکمیل، اکثریت کی حیثیت
تشریح : پچھلی آیات میں کفار و مشرکین کی فطرت اور بدعملی کا ذکر کیا گیا ہے تو ان آیات میں اللہ رب العزت حضرت محمد ﷺ کو فرما رہے ہیں کہ آپ صاف طور اور دو ٹوک الفاظ میں ان لوگوں کو بتا دیں کہ عقل سے کام لو تو کچھ مشکل نہیں کیونکہ اللہ سے بڑا اور کون گواہ ہوسکتا ہے جس نے انسانوں کی ہدایت کے لئے حکمت اور ہدایت سے بھری ہوئی کتاب (قرآن مجید) نازل فرمائی اور اس میں کوئی شک و شبہ کی گنجائش نہیں اور پھر اس کتاب کے بارے میں اہل کتاب کو تورات اور انجیل میں صاف صاف بتا دیا گیا ہے کہ آخری نبی محمد رسول اللہ ﷺ ان نشانیوں کے ساتھ آئیں گے جو سب نشانیاں ان میں موجود ہیں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–122
رکوع نمبر 14 آیات نمبر 112 تا 122:
اسرار و معارف :
ایمان کا مدار در اصل اس قلبی کیفیت پر ہے جو انسان کو رب العلمین سے نصیب ہوتی ہے جس کی بنیاد تو انسانی مزاج میں رکھ دی گئی ہے مگر اسے نور نبوت ہی سے جلا ملتی ہے اور یہ جذبہ دل میں سر اٹھاتا ہے کہ مجھے اپنے رب کی رضا کو حاصل کرنا چاہئے اور اس کا قرب پانا چاہئے۔ انسانی کردار اس کے ضمیر کو متاثر کرتا رہتا ہے حتی کہ بعض مظالم ایسے ہوتے ہیں جو دل میں اس جذبے پر تہ در تہ تاریکیاں مسلط کردیتے ہیں ایسے ہی بدنصیب تھے وہ لوگ جو آقائے نامدار ﷺ کے مبارک عہد میں آپ کے رخ انور سے بھی کوئی کرن تک حاصل نہ کرسکے کچھ خوش نصیب اگرچہ نور ایمان کو بعض وجوہ کی بنا…
Read the full tafseer →ف 9 ا پر کی آیات میں یہ بتادیا کہ یہ کفار کسی صورت ایمان نہیں لائیں گے لہذا ان کے لیے آیات کا نازل کرنا بےفائدہ ہے اب یہاں بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے جو مفصل کتاب نازل فرمائی ہے ہو آپ ﷺ کی نبوت کو صداقت پر دلیل کے لے کافی ہے (کبیر) کفار مکہ یہ چاہتے تھے کہ ان کے اور نبی ﷺ کے درمیان جو مخالفت ہے ان کی بارے میں اہل کتاب کو حکم بنالیا جائے پھر جو فیصلہ وہ دیں اسے تسلیم کرلیا جائے، اس میں ان کی اس تجویز کا جواب دیا جا رہا ہے۔10 کیونکہ ان کے انبیا بھی انہی نبی ﷺ بشارت دیتے رہے ہیں اور ان کی کتابوں میں بھی آپ ﷺ کی علامات موجود ہیں۔11 یعنی اس بارے میں اہل کتبا کے دلوں میں قرآن کے سچاہو نے کا یقین ہے…
Read the full tafseer →(6:114) افغیر اللہ انتغی ۔۔ مفصلا سے قبل قل یا محمد ﷺ لھؤلاء المشرکین محذوف ہے
ابتغی۔ مضارع واحد متکلم ۔ میں تلاش کروں۔ میں چاہوں ابتغاء (افتعال) سے۔
حکما۔ منصف ۔ فیصلہ کرنے والا۔ حکم سے صفت مشبہ کا صیغہ واحد اور جمع سب کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ خصوصی فیصلہ کرنے والے کو حکم کہتے ہیں اس لئے یہ حاکم سے زیادہ بلیغ ہے۔
مفصلا۔ اسم مفعول تفصیل وار۔ یعنی اوامر ونواہی کو الگ الگ کیا گیا ہے۔
(6:114) الممترین۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ الممتری واحد امتراء (افتعال) مصدر شک میں پڑنے والے ۔ تردد کرنے والے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–117
لغات القرآن : آیت نمبر 114 تا 117 :
ابتغی (میں تلاش کرتا ہوں) حکم (انصاف کرنے والا) ‘ تمت (پوری ہوئی) صدق (سچائی) عدل ( حق و انصاف) ان تطع ( اگر تو پیروی کرے گا) الظن ( گمان ۔ خیال) یخرصون ( اندازے کے تیر چلاتے ہیں۔ اٹکل کے تیر چلاتے ہیں) ۔
تشریح : آیت نمبر 114 تا 117 :
چند لفظوں میں قرآن کے برحق ہونے کے بہترین دلائل سے دریا کو کو زے میں بند کردیا ہے نصیحتیں بھی ہیں ‘ خوف سزا بھی اور وعدہ جزا بھی۔
پچھلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین مکہ کے منہ مانگے معجزات عطا کرنے سے انکار کردیا کہ وہ ایمان لانے والے نہیں ہیں خواہ کوئی بھی معجزہ انہیں دکھادیا جائے۔
اگر منہ مانگا معجزہ انہیں دکھا دیا جائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–115
مطلب یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ سے مشرکین کہا کرتے تھے کہ آپ ہمارے اور اپنے درمیان منصف مقرر کیجئے۔ ان کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی جس کا مطلب یہ ہے کہ اے رسول اللہ کے ! ان سے کہہ دو کہ میرے اور تمہارے مابین اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر کون اس بات کا منصف قرار پاسکتا ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا :” جس نے میری پیروی سے انکار کیا اس نے گویا جنت میں جانے سے انکار کیا “۔
Read the full tafseer →[42] یعنی قرآن مجید جس کی تعلیمات دنیا اور آخرت کے ہر معاملے سے متعلق جامع اور واضح ہیں۔
[43] یعنی یہود و نصاریٰ ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–115
حکم صرف خدا ہے :
(ف 1) دنیا میں کوئی شخصیت ایسی نہیں جس کی ہر بات براہ راست حجت وسند ہو ، انبیاء (علیہم السلام) کا منصب یہ ہے کہ وہ اللہ کی اجازت سے لوگوں کو رشد وہدایت کی دعوت دیتے ہیں ، اور دراصل اللہ کی جانب بلاتے ہیں ، اس لئے براہ راست حکم اور سند صرف اللہ ہی کی ذات ہے ۔
مفصلا : سے غرض یہ ہے کہ قرآن میں حضور ﷺ کی نبوت کے دلائل تفصیل سے موجود ہیں ، چناچہ اہل کتاب کا حق شناس طبقہ کھلے طور پر حضور ﷺ کی صداقت کا اعتراف کرتا ہے ۔
تفصیل کا لفظ قرآن عظیم میں جہاں جہاں آیا ہے اس سے غرض دلائل نبوت یا دلائل اسلام کی تفصیل ہے اور اس کا تعلق غیر مسلموں سے ہے یعنی وہ اس نقطہ نگاہ سے جب قرآن کو دیکھیں…
Read the full tafseer →-114 یہ منکر جو آپ کی رسالت کے متعلق بعض متعصب یہود کو پنچ بنا کر فیصلہ کرانا چاہتے ہیں تو آپ ان سے کہیے کیا میں اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور فیصلہ کرنے والے کو تلاش کروں اور خدا کے سوا کسی اور حکم کو ڈھونڈتا پھروں حالانکہ اس نے تمہارے لئے ایک مفصل اور واضح کتاب نازل فرمائی ہے یعنی اللہ تعالیٰ وہ ہے جس نے تمہاری طرف قرآن کریم اتارا ہے جس میں تفصیلی طور سے میری رسالت کے دلائل موجود ہیں اور جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے یعنی اہل کتاب وہ اس بات کو خوب جانتے ہیں کہ یہ قرآن کریم آپ کے رب ہی کی جانب سے یقینا نازل کیا گیا ہے یعنی حق دراستی اور واقعیت کے ساتھ نازل کیا گیا ہے لہٰذا آپ کسی قسم کا شک و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–115
ف 5۔ لیومنن بھا میں کفار کے قول کی نقل کی ہے اور انما الاٰیات عنداللہ میں ان کا جواب ہے اور وما یشعرکم سے آخر تک مسلمانوں کو فہمائش ہے اور خطاب ہے جواب کا حاصل یہ ہوا کہ رسول مدعی نبوت ہیں اور آیات فارقہ اس دعوی کی دلیل ہے اور مدعی کے ذمہ حسب تصفیہ عقلیہ مطلق دلیل کا قائم کرنا ضروری ہے تعیین کسی خاص آیات جدیدہ کے طلب کا کوئی حق نہ تھا ہاں دلائل قائم کردہ پر جرح وقدح کریں تو اس کا جواب اصالة یانیابة مدعی کے ذمہ ہے جس کے لیے ہر مدعی حقانیت اسلام اب بھی آمادہ ہے۔
Read the full tafseer →کیا میں اللہ کے سوا کوئی دوسرا منصف تلاش کروں ؟
172: غور کرو کہ مقدمہ کیا ہے ؟ نبی اعظم و آخر ﷺ نبوت و رسالت کے مدعی ہیں اور معاندین و مخالفین اس کے منکر۔ اب اس کا فیصلہ کہاں ہوگا اور کون کریگا ؟ ظاہر ہے کہ یہ مقدسہ اس احکم الحاکمین کے اجلاس میں فصیل ہو سکتا ہے اور وہاں سے یہ فیصلہ محمد رسول اللہ ﷺ کے حق میں ہوچکا وہ اس طرح کہ اس دعویٰ پر جو دلیل دی گئی وہ قرآن کریم ہے اس نے تمام اقوام عالم کو چیلنج کیا کہ اگر اس کے کلام الٰہی ہونے میں کسی کو شبہ ہے تو اس جیسی ایک چھوٹی سی سورت خواہ وہ تین ہی آیتوں پر مشتمل ہو بنا کرلے آؤ اور جس جس کو تم چاہتے ہو اللہ کے سوا اس میں شریک بھی کرلو اور پھر یہ…
Read the full tafseer →Commentary
Mentioned in previous verses was the obstinate attitude of the disbelievers of Makkah against the veracity of the Qur'an and the Prophet of Islam ﷺ . Despite having seen signs and miracles proving their truth, they remained adamant, event went on to demand miracles of their choice before they could believe. The Qur'an answered this illogical argumentation by saying that the manifestation of miracles they demanded was easy for Allah, but those who were demanding them were obstinate people who would see them yet continue in their wickedness. When they do so, Divine Law will take…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 114–115
81. The implied speaker in this sentence is the Prophet (peace be on him) and the words are addressed to the Muslims. The purpose of the sentence is to impress upon the Muslims that God has elucidated the relevant truths, and has also proclaimed that in their endeavour to make the Truth prevail they will have to follow the path of striving and struggle. The devotees of the Truth should, therefore, resort to those means which human beings normally employ for the successful achievement of their objectives rather than wait for any supernatural intervention that would enable them to achieve their…
Read the full tafseer →