Al-An'aam 6:106

Al-An'aam · from ayah 106

6:106

اِتَّبِعْ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ ۚ— لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ۚ— وَاَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِیْنَ ۟اِتَّبِعۡ مَاۤ اُوۡحِىَ اِلَيۡكَ مِنۡ رَّبِّكَ‌‌ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ‌ۚ وَاَعۡرِضۡ عَنِ الۡمُشۡرِكِيۡنَ

اور جو حکم تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس آتا ہے اسی کی پیروی کرو۔ اس (پروردگار) کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اور مشرکوں سے کنارہ کرلو

— Fateh Muhammad Jalandhari

Follow, [O Muhammad], what has been revealed to you from your Lord - there is no deity except Him - and turn away from those who associate others with Allah.

— Saheeh International

Juz 7 · Ruku 13 of surah · Ruku 19 of juz

Read the whole surah · Surah Al-An'aam

All translations of 6:106

اے محمدؐ! اُس وحی کی پیروی کیے جاؤ جو تم پر تمہارے رب کی طرف سے نازل ہوئی ہے کیونکہ اُس ایک رب کے سوا کوئی اور خدا نہیں ہے اور ان مشرکین کے پیچھے نہ پڑو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جو حکم تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس آتا ہے اسی کی پیروی کرو۔ اس (پروردگار) کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اور مشرکوں سے کنارہ کرلو

— مولانا فتح محمد جالندہری

آپ خود اس طریق پر چلتے رہئے جس کی وحی آپ کے رب تعالیٰ کی طرف سے آپ کے پاس آئی ہے، اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی ﻻئق عبادت نہیں اور مشرکین کی طرف خیال نہ کیجئے

— مولانا محمد جوناگڑہی

(اے پیغبر) تم پر تمہارے پروردگار کی طرف سے جو وحی بھیجی گئی ہے، تم اسی کی پیروی کرو، اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، اور جو لوگ اللہ کے ساتھ شرک کرتے ہیں ان سے بےپرواہ ہوجاؤ۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اس پر چلو جو تمہیں تمہارے رب کی طرف سے وحی ہوتی ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور مشرکوں سے منہ پھیر لو

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

آپ اس (قرآن) کی پیروی کیجئے جو آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے وحی کیا گیا ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اور آپ مشرکوں سے کنارہ کشی کر لیجئے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اس کی پیروی کر جو تیری طرف تیرے رب کی جانب سے وحی کی گئی ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور مشرکوں سے کنارا کر۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

آپ اس وحی کی پیروی کیجئے جو آپ کی طرف آپ کے پروردگار کی طرف سے (نازل) ہوئی ہے کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں اور مشرکوں سے کنارہ کیجئے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تم بس اس چیز کی پیروی کرو جو تمہارے رب کی طرف سے تم پر وحی کی جا رہی ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، اور مشرکوں سے اعراض کرو

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پیروی کرتے رہو آپ اس وحی کی جو بھیجی گئی ہے آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے (اے پیغمبر) کوئی بھی عبادت کے لائق نہیں سوائے اس کے، اور منہ موڑ لو تم ان مشرکوں سے

— مولانا اسحاق مدنی

ان لوگون کے لئے علم رکھتے ہیں۔ پیروی کئے جائیے اس کی جو آپ کے پروردگار کی جانب سے وحی کیا گیا ہے کوئی خدا نہیں ہے بجز اس کے اور مشرکوں کی جانب سے بےالتفات رہیے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

آپ ﷺ پیروی کیے جائیں اس کی جو وحی کیا جا رہا ہے آپ ﷺ پر آپ ﷺ کے رب کی طرف سے اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور ان مشرکوں سے کنارہ کشی کر لیجیے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جو حکم تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس آتا ہے اسی کی پیروی کرو۔ اس (اللہ رب العزت) کے سوا کوئی معبود نہیں اور مشرکوں سے دور رہو۔

— محترمہ رفعت اعجاز

(O Muhammad!) Follow the revelation which has come to you from your Lord, other than Whom there is no god, and turn away from those who associate others with Allah in His divinity.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Follow what has been revealed to you from your Lord. There is no god but He; and turn away from those who associate partners with Allah.

— Muhammad Taqi Usmani

Follow what has been revealed to you from your Lord. There is no god but He; and turn away from those who associate partners with Allah.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Follow what has been inspired (revealed) to you from your Lord, none has the right to be worshipped but He, and turn aside from the idolators.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Follow that which is inspired in thee from thy Lord; there is no Allah save Him; and turn away from the idolaters.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Follow, [O Muhammad], what has been revealed to you from your Lord - there is no deity except Him - and turn away from those who associate others with Allah.

— Saheeh International

(Muhammad), follow what has been revealed to you from your Lord; there is no God but He, and stay away from pagans.

— Muhammad Sarwar

Follow what is revealed to you from your Lord; there is no god but He; and withdraw from the polytheists.

— Muhammad Habib Shakir

Follow thou that which hath been revealed unto thee from thy Lord: no god is there but He; and turn thou away from the associaters.

— Abdul Majid Daryabadi

Follow what thou art taught by inspiration from thy Lord: there is no god but He: and turn aside from those who join gods with Allah.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 6:106

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 106–107

وحی کے مطابق عمل کرو حضور کو اور آپ کی امت کو حکم ہو رہا ہے کہ وحی الہی کی اتباع اور اسی کے مطابق عمل کرو جو وحی اللہ کی جانب سے اترتی ہے وہ سراسر حق ہے اس کے حق ہونے میں زرا سا بھی شبہ نہیں۔ معبود برحق صرف وہی ہے، مشرکین سے درگزر کر، ان کی ایذاء دہی پر صبر کر، ان کی بد زبانی برداشت کرلے، ان کی بد زبانی سن لے، یقین مان کر تیری فتح کا تیرے غلبہ کا تیری طاقت و قوت کا وقت دور نہیں۔ اللہ کی مصلحتوں کو کوئی نہیں جانتا دیر گو ہو لیکن اندھیرا نہیں۔ اگر اللہ چاہتا تو سب کو ہدایت دیتا اس کی مشیت اس کی حکمت وہی جانتا ہے نہ کوئی اس سے باز پرس کرسکے نہ اس کا ہاتھ تھام سکے وہ سب کا حاکم اور سب سے سوال…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 105–106

سورة الْاَنْعَام 70 یہ وہی بات ہے جو سورة بقرہ رکوع 3 میں فرما دی گئی ہے کہ مچھر اور مکڑی وغیرہ چیزوں کی تمثیلیں سن کر حق کے طالب تو اس صداقت کو پالیتے ہیں جو ان تمثیلوں کے پیرایہ میں بیان ہوئی ہے، مگر جن پر انکار کا تعصب مسلط ہے وہ طنز سے کہتے ہیں کہ بھلا اللہ کے کلام میں ان حقیر چیزوں کے ذکر کا کیا کام ہوسکتا ہے۔ اسی مضمون کو یہاں ایک دوسرے پیرایہ میں بیان کیا گیا ہے۔ کہنے کا مدعا یہ ہے کہ یہ کلام لوگوں کے لیے آزمائش بن گیا ہے جس سے کھوٹے اور کھرے انسان ممیز ہوجاتے ہیں۔ ایک طرح کے انسان وہ ہیں جو اس کلام کو سن کر یا پڑھ کر اس کے مقصد و مدعا پر غور کرتے ہیں اور جو حکمت و نصیحت کی باتیں اس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

چوتھی آیت میں رسول کریم ﷺ کو ہدایت ہے کہ آپ یہ نہ دیکھیے کہ کون مانتا ہے اور کون نہیں مانتا، آپ خود اس طریق پر چلتے رہئے جس طریق پر چلنے کے لئے آپ کے پاس آپ کے رب کی طرف سے وحی نازل ہوئی ہے، جس میں بڑی چیز یہ اعتقاد ہے کہ اللہ کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں، نیز اس وحی میں تبلیغ کا حکم بھی داخل ہے، اس پر قائم رہ کر مشرکین کی طرف خیال نہ کیجئے کہ افسوس ! انہوں نے کیوں قبول نہ کیا۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 106–107

106 تا 167: یہ پیغمبر کی طرف التفات ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تم وحی الٰہی پر جمے اور اپنے موقف حق پر ڈٹے رہو۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور ان مشرکین کی مخالفت کی کوئی پروا نہ کرو۔ ان سے اعراض کرو اور یہ بات یاد رکھو کہ اگر اللہ اپنے دین کے معاملہ میں جبر کو پسند کرتا ہوتا تو ان میں سے کوئی بھی شرک پر قائم نہ رہ سکتا۔ وہ سب کو توحید و اسلام کی صراط مستقیم پر چلا دیتا لیکن اس کی حکمت کا تقاضا یہی ہوا کہ وہ لوگوں کو اس معاملے میں اختیار دے کر آزمائے کہ کون توحید کی راہ اختیار کرتا ہے، کون شرک کی ؟ تو جب حکمت الٰہی نے یہ چاہا ہے تو تم ان کے معاملے میں کیوں پریشان ہو ؟ تمہاری ذمہ داری حق کو واضح…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 105–106

15۔ 1 یعنی ہم توحید اور اس کے دلائل کو اس طرح کھول کھول کر اور مختلف انداز سے بیان کرتے ہیں کہ مشرکین یہ کہنے لگتے ہیں کہ محمد ﷺ کہیں سے پڑھ کر اور سیکھ کر آیا ہے۔ جس طرح دوسرے مقام پر فرمایا۔ (وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اِنْ ھٰذَآ اِلَّآ اِفْكُۨ افْتَرٰىهُ وَاَعَانَهٗ عَلَيْهِ قَوْمٌ اٰخَرُوْنَ ڔ فَقَدْ جَاۗءُوْ ظُلْمًا وَّزُوْرًا ۝ڔ وَقَالُوْٓا اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ اكْتَتَبَهَا فَهِيَ تُمْلٰى عَلَيْهِ بُكْرَةً وَّاَصِيْلًا ۝) 25۔ الفرقان :5-4) کافروں نے کہا، یہ قرآن تو اس کا اپنا گھڑا ہوا ہے، جس پر دوسروں نے بھی اس کی مدد کی ہے۔ یہ لوگ ایسا دعوٰی کر کے ظلم اور جھوٹ پر اتر آئے ہیں۔…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 105–106

43: ہٹ دھرم قسم کے کافروں کو بھی یہ کہتے ہوئے شرم آتی تھی کہ یہ کلام خو آنحضرت ﷺ نے گھڑلیا ہے کیونکہ وہ آپ کے اسلوب سے اچھی طرح واقف تھے اور یہ بھی جانتے تھے کہ آپ امی ہیں، اور کسی کتاب سے خود ٖپڑھ کر یہ کلام نہیں بناسکتے، لہذا وہ قرآن کریم کے بارے میں یہ کہا کرتے تھے کہ آنحضرت ﷺ نے یہ کلام کسی سے سیکھا ہے اور اسے اللہ کا کلام قرار دے کر لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہیں ؛ لیکن کس سے سیکھا ہے وہ بھی نہیں بتاسکتے تھے، کبھی کبھی وہ ایک لوہار کا نام لیتے تھے جس کی تردید سورة نحل میں آنے والی ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 106–107

(آیت) ” اتَّبِعْ مَا أُوحِیَ إِلَیْْکَ مِن رَّبِّکَ لا إِلَـہَ إِلاَّ ہُوَ وَأَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِکِیْنَ (106) ” اے نبی ﷺ اس وحی کی پیروی کئے جاؤ ‘ جو تم پر تمہارے رب کی طرف سے نازل ہوئی ہے کیونکہ اس ایک رب کے سوا کوئی اور خدا نہیں ہے ۔ اور ان مشرکین کے نہ پڑو۔ “ اگر اللہ کی مشیت یہ ہوتی کہ ان پر ہدایت لازم کردے تو اللہ نے لازم کردی ہوتی ۔ اگر اللہ یہ چاہتا کہ ان کو آغاز ہی سے فرشتوں کی طرح ہدایت پر پیدا کرتا تو وہ ایسا کردیتا ‘ لیکن اللہ نے انسان کو اس طرح پیدا کیا اور اس کے اندر ہدایت وضلالت دونون کی طاقت ودیعت کردی اور اسے آزاد چھوڑ دیا کہ وہ ہدایت اختیار کرتا ہے یا ضلالت ۔ پھر جو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 105–106

2 یعنی اپنی آیتوں کو مختلف پہلوؤں اور عجیب و غریب انداز سے اس لئے سمجھاتے ہیں کہ آپ سب لوگوں کو پہنچا دیں۔ اور ان میں استعداد و احوال کے اختلاف سے دو فریق ہوجائیں۔ ضدی اور بد فہم تو یہ کہیں کہ ایسے علوم و معارف اور موثر مضامین ایک اُمّی سے کیسے بن پڑتے تو ضرور مختلف اوقات میں کسی سے سیکھتے رہے ہوں گے۔ پھر پڑھ پڑھا کر ہمارے سامنے پیش کر دئیے۔ لیکن سمجھ دار اور انصاف پسند لوگوں پر حق واضح ہوجائے گا۔ اور شیطانی شکوک و شبہات زائل ہوجائیں گے۔ 3 آپ خدائے واحد پر بھرسہ کر کے اسکے حکم پر چلتے رہیں اور مشرکین کے جہل وعناد کی طرف خیال نہ فرمائیں کہ ایسے روشن دلائل و بیانات سننے کے بعد بھی راہ راست پر…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 106 اِتَّبِعْ مَآ اُوْحِیَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ ج۔ اس سورة میں آپ دیکھ رہے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کو بار بار مخاطب کیا جا رہا ہے۔ لیکن جیسا کہ پہلے بتایا گیا ہے یہ خطاب دراصل حضور ﷺ کی وساطت سے امت کے لیے بھی ہے۔ مکی سورتوں دو تہائی قرآن میں مسلمانوں سے براہ راست خطاب بہت کم ملتا ہے۔ اس کی حکمت یہ ہے کہ مکی دور میں مسلمان باقاعدہ ایک امت نہیں تھے۔ امت کی تشکیل تو تحویل قبلہ کے بعد ہوئی۔ اسی لیے تحویل قبلہ کے حکم کے فوراً بعد یہ آیت نازل ہوئی ہے : وَکَذٰلِکَ جَعَلْنٰکُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا لِّتَکُوْنُوْا شُہَدَآءَ عَلَی النَّاسِ وَیَکُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْکُمْ شَہِیْدًا ط البقرۃ : 143 اب جبکہ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 106–107

108 پہلے بتایا جا چکا ہے کہ یہ سورة ہجرت سے تقریباً ایک سال پہلے نازل ہوئی تھی (ماسوائے چھ آیات کے) اور اس وقت مسلمانوں پر سخت آزمائش کا دور تھا۔ اس وقت یہی حکم تھا کہ مشرکوں سے کنارہ کش رہا جائے۔ لیکن جب فتح مکہ کے بعد اسلام کو غلبہ حاصل ہوگیا۔ تو پھر یہ حکم نہ رہا بلکہ ان کے ساتھ جنگ وجدال کا حکم ہوا۔ اور کعبہ میں ان کا داخلہ ممنوع قرار دیا گیا۔ جیسا کہ سورة توبہ کے آغاز میں مشرکین کے لیے احکام بیان ہوئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

154 ۔ (آیت) ” ولنبینہ “۔ ضمیر قرآن کی تعلیم وہدایت کی جانب ہے۔ (آیت) ” لقوم یعلمون “۔ یعنی اس سے پورا فائدہ وہی اٹھائیں گے جو اپنی فہم و دانش سے کام لیں گے۔ 155 ۔ یعنی فرط شفقت سے ان بدبختوں کے حال پر بہت زیادہ غم وحزن نہ کیجئے اور اپنے التفات کا مرکز قرآن ووحی الہی کو رکھیے، مشکین کی طرف کچھ زیادہ توجہ ہی نہ کیجئے۔ ای لاتشغل قلبک وخاطرک بھم بل اشتغل بعبادۃ اللہ (قرطبی)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 105–107

وکذلک نصرف الآیات، یعنی ہم توحید اور اس کے دلائل کو اس طرح کھول کھول کر اور مختلف انداز سے بیان کرتے ہیں کہ مشرکین یہ کہنے لگتے ہیں کہ محمد ﷺ کسی سے بڑھ کر اور سیکھ کر آتا ہے حالانکہ حقیقت ایسی نہیں ہے۔ وما انت علیھم بوکیل، مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ کو صرف داعی اور مبلغ بنا کر بھیجا گیا ہے کو توال نہیں، آپ کا کام صرف اتنا ہے کہ لوگوں کے سامنے اظہار حق کردیں اور اظہار حق میں اپنی حد تک کوئی کسر نہ اٹھا رکھیں، اب اگر کوئی قبول نہیں کرتا تو نہ کرے، اس کا بار آپ کے اوپر نہیں اور نہ آپ کی یہ ذمہ داری، اگر فی الواقع حکمت الہیٰ کا تقاضہ یہ ہوتا کہ دنیا میں کوئی باطل پرست نہ رہے تو اس کا ایک ہی تکوینی اشارہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

اتبع ما اوحی الیک من ربک لا الہ الا ہو آپ اسی کا اتباع کریں جو آپ کے رب کی طرف سے آپ کے پاس وحی کے ذریعہ سے بھیجا گیا ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ یعنی قرآن پر آپ عمل کریں۔ لاَ اٰلِہَ الاَّ ہُوَیا تو رب سے حال مؤکد ہے یعنی الوہیت میں تنہا یا مستقل علیحدہ جملہ ہے اتباع قرآن کے وجوبی حکم کی تاکید کے لئے اس کو ذکر کیا گیا ہے۔ واعرض عن المشرکین اور مشرکوں کی طرف التفات نہ کریں یعنی مشرکوں سے جھگڑا نہ کرو ان کی بات نہ سنو ان کے خیالات کی طرف توجہ نہ دو ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(106) آپ اس طریقہ پر چلتے رہیے جو آپ کے پروردگار کی طرف سے آپ پر نازل کیا گیا ہے یعنی قرآن حکیم کے حلال حرام پر عمل کرتے رہیے، اللہ تعالیٰ کے علاوہ نہ کوئی خالق ہے اور نہ رازق ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اِتَّبِعْ مَآ اُوْحِيَ۔۔ : یعنی ان کے اس قسم کے بےبنیاد شبہات سے متاثر ہو کر دعوت و تبلیغ ترک نہ کرو۔ اس سے مقصود آپ ﷺ کو تسلی دینا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 106 قولہ تعالیٰ آیت : اتبع مآ اوحی الیک من ربک یعنی قرآن کی اتباع کیجئے، یعنی اپنے دل اور طبیعت کو ان کے ساتھ مشغول نہ رکھیے، بلکہ اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مشغول رکھیے۔ آیت : لا الہ الا ھو واعرض عن المشرکین یہ منسو ہوچکا ہے۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 104–106

(1) امام عبد بن حمید، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت قد جآء کم بصائر یعنی دلائل لفظ آیت فمن ابصر فلنفسہ یعنی جو شخص ہدایت حاصل کرے تو اس نے اپنی ذات کے لئے ہدایت حاصل کی اور لفظ آیت ومن عمی یعنی جو گمراہ ہو لفظ آیت فعیلیھا تو وہ اسی پر ہے واللہ اعلم۔ قولہ تعالیٰ : لفظ آیت ولیقولوا درست (2) امام سعید بن منصور، عبد بن حمید، ابن منذر، ابن مردویہ اور ضیاء نے المختارہ میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس حرف کو یوں پڑھا لفظ آیت دارست یعنی دال کے بعد الف ہے سین ساکن اور تا پر نصب ہے۔ (3) امام فریابی، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اِتَّبِعْ [ آپ پیروی کریں ] مَآ [ اس کی جو ] اُوْحِيَ [ وحی کی گئی ] اِلَيْكَ [ آپ کی طرف ] مِنْ رَّبِّكَ ۚ [ آپ کے رب (کی جانب) سے ] لَآ اِلٰهَ [ کوئی الہ نہیں ہے ] اِلَّا [ سوائے اس کے کہ ] هُوَ ۚ [ وہ (ہی ) ] وَاَعْرِضْ [ اور آپ بےرخی برتیں ] عَنِ الْمُشْرِكِيْنَ [ شرک کرنے والوں سے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 106–107

پھر فرمایا (اِتَّبِعْ مَآ اُوْحِیَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ ) کہ آپ اس کا اتباع کیجیے جس کی آپ کے رب کی طرف سے آپ کو وحی کی گئی۔ اس کا آپ فکر نہ کیجیے کہ کون راہ راست پر آتا ہے تکوینی طور پر کچھ لوگ ایسے ہیں جو نہیں مانیں گے اور کچھ ایسے ہیں جو مان لیں گے یہ تکوینی فیصلے اللہ تعالیٰ کی حکمت کے موافق ہیں اگر اللہ چاہتا تو یہ شرک نہ کرتے لیکن سب کچھ اس کی مشیت اور ارادہ و حکمت کے موافق ہے آپ اپنا کام کریں یعنی پہنچا دیں۔ (وَ مَا جَعَلْنٰکَ عَلَیْھِمْ حَفِیْظًا) اور ہم نے آپ کو ان کا نگران نہیں بنایا عمل کریں نہ کریں یہ جانیں۔ (وَ مَآ اَنْتَ عَلَیْھِمْ بِوَکِیْلٍ ) آپ ان پر داروغہ بنا کر مسلط نہیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 101–110

ابطال عقیدہ ابنیت قال اللہ تعالیٰ بدیع السموات والارض انی یکون لہ ولد۔۔۔ الی۔۔۔ وھو اللطیف الخبیر (ربط) گذشتہ آیات میں جب توحید کی پانچ دلیلیں بیان کیں اور مشرکین کے عقائد شرکیہ کی تردید کی تو اب آئندہ آیات میں خاص طور پر نصاریٰ کے عقیدہ ابنیت کا ابطال فرماتے ہیں کہ خدا تعالیٰ اولاد سے پاک اور منزہ ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں وہ بغیر مادہ اور بغیر نمونہ کے آسمانوں اور زمین کا موجد ہے یعنی محض نیست سے ہست کرنے والا ہے یعنی یہ آسمان و زمین جو تمام عالم کو احاطہ کیے ہوئے ہیں سب اسی کا پیدا کیا ہوا اور بنایا ہوا ہے جس میں اھرمن بھی داخل ہے اور حضرت عزیر اور عیسیٰ (علیہما السلام) اور ان کی والدہ مریم…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

113 یہ دوسری دلیل وحی ہے یعنی آپ کی طرف اللہ کی جانب سے یہ وحی آچکی ہے کہ اللہ کے سوا کارساز اور غیب دان کوئی نہیں۔ لہذا اسی کو پکارو۔ اس لیے آپ وحی ربانی کے پابند رہیں اور مشرین کے عقائد باطلہ اوراقوال فاسدہ سے اعراض کریں اور ان کی پروا نہ کریں۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 104–107

گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے شرک کے رد میں عقلی اور نقلی دونوں قسم کے دلائل بیان فرمائے اور ان کا ذکر آگے بھی آئے گا سابقہ کتب کا ذکر بھی ہوچکا ہے اور اللہ تعالیٰ نے انسانوں پر جو مختلف قسم کے انعامات فرمائے ہیں ان کا ذکر بھی ہوچکا ہے کائنات کی تخلیق اور اس کے چلانے والے نظاموں کے متعلق بیان ہوچکا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ دلائل قدرت بیان کر کے اپنی ذات وصفات کو سمجھنے کی تعلیم دی ہے۔ اس سے پہلے انسان کی تخلیق ، رات دن کے اختلاف ، چاند اور سورج کی مسافرت ، ستاروں اور سیاروں پر مربوط نظام ۔ آسمان سے بارش کے نزول اور اس کے ذریعہ سبز ، اناج اور پھلوں کی فراوانی خاص طور پر کھجور ، انگور ، زیتون ،…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِتَّبِعْ مَآ اُوْحِيَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ۝ 0ۚ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ۝ 0ۚ وَاَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِيْنَ۝ 106 تبع يقال : تَبِعَهُ واتَّبَعَهُ : قفا أثره، وذلک تارة بالجسم، وتارة بالارتسام والائتمار، وعلی ذلک قوله تعالی: فَمَنْ تَبِعَ هُدايَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ البقرة/ 38] ( ت ب ع) تبعہ واتبعہ کے معنی کے نقش قدم پر چلنا کے ہیں یہ کبھی اطاعت اور فرمانبرداری سے ہوتا ہے جیسے فرمایا ؛ فَمَنْ تَبِعَ هُدايَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ البقرة/ 38] تو جنہوں نے میری ہدایت کی پیروی کی ان کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ غمناک ہونگے وحی أصل الوحي : الإشارة…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 104–107

ترکیب : من ربکم جاء سے متعلق ہے۔ فمن شرط یا مبتداء ابصر جواب یا خبر وکذالک کاف موضع نصب میں صفت ہے مصدر محذوف کی اے نصرف الآیات تصریفا مثل ماتلونا ولیقولوا لام عاقبت ولیقولوا معطوف ہے محذوف برائے کذلک نصرف الآیات لتلزمھم الحجۃ ولیقولوا ولنبینہ معطوف ہے لیقولوا پر واللام علی الاصل والضمیر للآیات باعتبار المعنی او للقرآن۔ تفسیر : اپنی ذات وصفات و توحید پر دلائل بیان کرکے مشرکین کو ان کی نادانی پر کہ وہ اور چیزوں کو اس کے ساتھ شریک کرتے تھے الزام دے کر ایک اعلان عام دیتا ہے کہ یہ جو کچھ بیان ہوا ہے خدا کی طرف سے بصائر (جمع بصیرۃ ای الا ادراک التام) یعنی سوجھ و بوجھ ہے کہ جس سے انسان کی آنکھیں…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 106–107

اِتَّبِعْ مَآ اُوْحِیَ اَلَیْکَ مِنْ رّبِّکَ ج لَآ اِلٰہَ اِلَّاھُوَ ج وَاَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِکِیْنَ ۔ وَلَوْ شَآئَ اللہ ُ مَآ اَشْرَکُوْا ط وَمَا جَعَلْنٰکَ عَلَیْھِمْ حَفِیْظًا ج وَمَآ اَنْتَ عَلَیْھِمْ بِوَکِیْلٍ ۔ (الانعام : 106۔ 107) (تم بس اس چیز کی پیروی کرو جو تمہارے رب کی طرف سے تم پر وحی کی جا رہی ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور مشرکوں سے اعراض کرو اور اگر اللہ چاہتا تو یہ شرک نہ کر پاتے اور ہم نے تم کو ان پر نگران نہیں مقرر کیا ہے اور نہ تم ان کے ضامن ہو) اللہ کا رسول اسی کی پیروی کرتا ہے جو اس پر نازل ہوتا ہے آنحضرت ﷺ سے فرمایا جا رہا ہے کہ مشرکین مکہ کا رویہ کچھ بھی ہو مخالفت…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 105–106

فہم القرآن ربط کلام : پہلے خطاب کا تتمّہ۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے منکرین رسالت کا ایک بہانہ بیان کیا ہے اس کی تمہید یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک ایک آیت کرکے قرآن نازل کرتا اور ایک مضمون کو مختلف اسالیب سے بیان فرماتا ہے تاکہ اہل علم پر اللہ تعالیٰ کی مراد منکشف ہوجائے اور ان کے ذہنوں میں صحیح مفہوم مستقر ہوجائے جو اللہ تعالیٰ کے فرمان کا منشا ہے۔ لیکن کفار کو اس سے یہ شبہ ہوا کہ نبی اکرم ﷺ یہود و نصاریٰ کے علماء سے مذاکرہ اور مباحثہ کرتے ہیں۔ جو اس بحث و تمحیص سے حاصل ہوتا ہے۔ اسے مختلف فقروں اور جملوں میں ڈھال کر ہمارے سامنے پڑھتے ہوئے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ یہ آپ پر وحی نازل ہوئی ہے۔ حالانکہ یہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

وحی پر چلتے رہیں : آیت 106 : اِتَّبِعْ مَآ اُوْحِیَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَان کی خواہشات کی اتباع نہ کر۔ لَآ اِلٰہَ اِلاَّ ہُوَیہ جملہ معترضہ لا کر اتباع وحی کو واجب کردیا۔ اس کا کوئی محل اعراب نہیں۔ دوسری تفسیر من ربک سے حال مؤکد ہے۔ وَاَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِکِیْنَفی الحال یہاں تک کہ قتال کا حکم وارد ہو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر (106) (اتبع ما اوحی الیک من ربک) یعنی قرآن پر عمل کریں (لا الہ الا ھو و اعرض عن المشرکین) ان سے نہ جھگڑیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 104–107

(104 ۔ 107) ۔ آنکھوں میں ہر چیز کے دیکھنے کی جو قوت ہے اس کو بصارت کہتے ہیں اور دل میں ہر چیز کے سمجھنے کی جو قوت ہے اس کو بصیرت کہتے ہیں بصائر بصیرت کی جمع ہے۔ شروع سورة سے توحید الٰہی اور قدرت الٰہی کو جو آیت قرآنی گذریں ان کو بصائر فرمایا مطلب یہ ہے کہ شروع سورة سے یہاں تک جو آیتیں گذریں وہ سمجھ دار آدمی کے دل میں قدرت نے ان کو بصائر فرمایا مطلب یہ ہے کہ شروع سورة سے یہاں تک جو آیتیں گذریں وہ سمجھ دار آدمی کے دل میں قدرت الٰہی کا اثر ڈالنے کے لیے اور اس اثر سے توحید الٰہی اس کے دل میں پیدا ہوجانے کے لیے کافی ہیں اب جو کوئی ان آیتوں کو سن کر ان کی نصیحتوں کے موافق عمل کرے گا اس کے عقبی درست…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 105–108

آیت 105 اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو ایک ایسے کام سے روکا ہے جو بنیادی طور پر جائز بلکہ مشروع ہے اور وہ ہے مشرکین کے معبودوں کو سب و شتم کرنا۔ جن کے بت بنائے گئے اور جن کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ معبود بنا لیا گیا ہے، ان کی اہانت اور سب و شتم سے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہوتا ہے، لیکن چونکہ یہ سب و شتم مشرکین کے لئے اللہ رب العالمین کو سب و شتم کرنے کا ذریعہ بن جاتا ہے جس عظیم ذات کی، ہر عیب و آفت اور سب و شتم سے تنزیہہ واجب ہے، اس لئے مشرکین کے معبودوں کو برا بھلا کہنے سے روک دیا گیا ہے، کیونکہ وہ اپنے دین میں متعصب ہیں اور اپنے دین کے لئے جوش میں آجاتے ہیں، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر قوم کے اعمال…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 103–107

رئویت باری تعالیٰ قول باری ہے ( لا تدرکہ الابصارو ھو یدرک الابصار۔ نگاہیں اس کو نہیں پا سکتیں اور وہ نگاہوں کو پا لیتا ہے) کہا جاتا ہے کہ ادراک کے اصل معنی لحقو یعنی پالینے اور جا لینے کے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ مثلاً آپ کہتے ہیں ” ادرک زمان المنصور “ یا ” ادرک ابا حنیفۃ “ ( اس نے خلیفہ منصور کا زمانہ پایا تھا یا اس اس نے امام ابوحنیفہ کو پایا تھا) نیز ” ادرک الطعام “ یا ” ادرک الزرع و الثمرۃ “ ( طعام پک کر تیار ہونے کے مرحلے کو پہنچ گیا یا فصل پک گئی پھل پک گئے) اسی طرح کہا جاتا ہے ” ادرک الغلام “ ( لڑکا بالغ ہوگیا) یعنی بالغ مردوں کی حالت کو پہنچ گیا۔ آنکھوں کا کسی چیز کو ادراک کرلینے کے معنی ہیں کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

203 پیغمبر کو وحی خداوندی کی پیروی کا حکم و ارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا کہ آپ پیروی کرتے رہو اس وحی کی جو بھیجی گئی ہے آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے کہ راہ بہرحال وہی ہے جسکی ہدایت آپکو کی گئی ہے۔ امن وامان اور صحت و سلامتی کی ضامن اور دارین کی سعادت و سرخروئی اور فوز و فلاح کی کفیل یہی اور صرف یہی راہ ہے۔ کوئی مانے یا نہ مانے، تسلیم کرے یا نہ کرے۔ حق و حقیقت بہرحال یہی اور صرف یہی ہے۔ اور جو اس حق اور حقیقت کو تسلیم کرکے صدق دل سے اس کو اپنا لیں گے وہ اپنا بھلا کریں گے اور جو اس سے منہ موڑیں گے وہ اپنا ہی نقصان کریں گے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف آیت کریمہ میں پیغمبر کو خطاب کر کے ارشاد…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 104–107

کامیابی کا راستہ تشریح : اللہ جل شانہ کی تمام تخلیقات کو بڑی وضاحت سے بیان کرنے کے بعد اس کے واحد ہونے کا یقین دلا دیا گیا تو اب فرمایا کہ جو لوگ قرآن کو سوچ سمجھ کر پوری توجہ اور عقل و فہم کو کام میں لاتے ہوئے پڑھتے ہیں تو ظاہر ہے ایسے ہی لوگوں کا ایمان مضبوط ہوتا ہے اور وہ بیشمار حکمت کی باتیں قرآن میں سے حاصل کر کے اپنی زندگیاں سنوارتے ہیں اللہ کے نیک بندے ایسے ہی ہوتے ہیں اور جو وہ نیکی کی راہ اختیار کرتے ہیں تو اپنا ہی بھلا کرتے ہیں اور جو آنکھیں بند کر کے بےسوچے سمجھے پڑھ جاتے ہیں تو وہ اپنا ہی نقصان کرتے ہیں کیونکہ وہ ایمان کے نور سے محروم رہ کر ذلیل و خوار ہوتے ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 102–111

رکوع نمبر 13 ۔ آیات 102 تا 111: اسرار و معارف : وہ تو ارض و سما کا بنانے والا اور ایسا بنانے والا ہے جس نے تخلیق کی ابتدا فرمائی نہ یہ کہ پہلے کوئی چیز تھی اور دیکھ کر یا مختلف اشیاء کا وجود تھا انہیں جوڑ کر زمین آسمان بنا دئیے بلکہ کچھ بھی نہ تھا پردہ عدم سے اشیاء کو وجود میں لایا اور اس کی اپنی اکیلی عظیم ذات کے علاوہ جو کچھ بھی ہے وہ اس کی مخلوق ہے ہر چیز کو اس نے پیدا فرمایا ہے اور وہ اکیلا خالق ہے نادانو بیٹا تو باپ کی جنس اور انہیں صفات کا حامل ہوتا ہے۔ جیسے انسان کا بچہ کیسا بھی ہو انسان تو ضرور ہوگا جب بیٹا ہو ناممکن ہے تو وہ اپنی شان اور ذات میں اکیلا تو نہ رہا پھر تو اس کے لیے بیوی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 8 یعنی ان کے اس قسم کے لیے بنیاد سے متاثر ہو کر دعوت وتبلغ کر ترک نہ کرو اس سے مقصد آنحضرت ﷺ کو تسلی دینا ہے۔ (کبیر )

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 106–107

(6:106) لا الہ الا ھو۔ جملہ معترضہ ہے جو معطوف اور معطوف علیہ کے درمیان آگیا ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 105–107

لغات القرآن : آیت نمبر 105 تا 107 : درست ( تو نے کسی سے) پڑھا ہے۔ تشریح : آیت نمبر 105 تا 107 : توحید و رسالت پر واضح دلائل پچھلی آیات میں پیش کئے گئے۔ ان میں بصارت اور بصیرت دونوں کو جھنجوڑا گیا جس کے نتیجے میں لوگوں کی دو واضح قسمیں سامنے آئیں۔ ایک وہ جو دین اسلام سے متاثر ہوئے اور کفر و شرک چھوڑ کر اسلام میں داخل ہوگئے۔ لیکن وہ ضدی ہٹ دھرم بر خود غلط طبقہ جسے نہ ماننا تھا نہ مانا اور نہ ماننے کا جو بہانہ ڈھونڈا وہ بھی بھونڈا یعنی اے نبی ﷺ ! یہ قرآن جو آپ پیش کررہے ہیں۔ یہ وحی الٰہی نہیں ہے۔ یہ تو آپ ﷺ کسی سے سن کر اور سیکھ کر لائے ہیں ‘ اور ہم لوگوں پر رعب ڈال رہے ہیں۔ (نعوذ باللہ) مگر وہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 104–110

مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ اب جو کوئی ان آیتوں کو سن کر ان کی نصیحتوں کے موافق عمل کرے گا اس کی عقبیٰ درست ہوجائے گی، اور جو کوئی ان نصیحتوں کے بعد بھی کورا باطن رہے گا اس کا خمیازہ اس کو بھگتنا پڑے گا۔ پھر فرمایا :” اے رسول اللہ کے ! ﷺ تم ان لوگوں سے کہ دو کہ میں فقط اللہ کا حکم پہچانے والا ہوں، تمہاری بد اعمالی کی گرفت میرے ہاتھ میں نہیں ہے وہ تو اللہ کے اختیار میں ہے۔ وہ جب چاہے گا تمہاری بد اعمالی کا مواخذہ فرمادے گا۔ مشرکین مکہ قرآن شریف کی آیتوں کو جھٹلاتے اور کہتے تھے کہ ” اس کے وبال سے ہم پر کوئی آسمانی عذاب کیوں نہیں آتا “۔ اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی معرفت قرآن شریف میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 106–110

[39] یعنی حق کی طلب و تلاش چونکہ ان میں سرے سے ہے ہی نہیں اس لئے اللہ کے مقررہ قانون کے بموجب ان کی سمجھ اور ان کی نظر کام نہیں دے گی اور وہ بدستور بھٹکتے رہیں گے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

(ف 4) یعنی ان لوگوں کے اعتراضات بالکل سطحی ہیں آپ بلا تاسف کے احکام الہی کو دوسروں تک پہنچاتے رہیں ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-106 اور اے پیغمبر ! آپ اس کی پروا کئے بغیر کہ قرآن کریم پر کوئی عمل کرتا ہے یا نہیں کرتا آپ خود اس راہ پر چلتے رہئے جو آپ کے پروردگار کی جانب سے آپ کی طرف وحی کی گئی ہے دیکھو اس اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں ہے اور آپ مشرکوں سے اعراض کیجیے اور ان کی جانب کوئی التفات نہ کیجیے اور نہ ان کی باتوں کا کچھ خیال کیجیے یعنی آپ قرآنی احکام کی پیروی کیجیے اور مشرکوں کی پروا نہ کیجیے خواہ وہ مانیں یا نہ مانیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 102–106

ف 4۔ غرض خالق بھی وہی علیم بھی وہی۔ وکیل بھی وہی اور یہ سب امور مقتضی ہیں کہ معبود بھی وہی ہو۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

مشرکوں کو ان کے حال پر چھوڑ کر آپ ﷺ اپنا کام کرتے جائیں : 159: مشرک کیوں مشرک ہیں ؟ اس لئے کہ کوئی ان کو سمجھانے والا نہیں ؟ آپ ﷺ کا تو کام ہی ان کو سمجھانا ہے اور آپ ﷺ نے سمجھانے کا حق بھی ادا کردیا اور آپ ﷺ سے زیادہ بہتر کوئی ان کو کیا سمجھائے گا ؟ اصل بات یہ ہے کہ مشرک محض اسلئے مشرک ہیں کہ وہ سنی کو ان سنی کر جاتے ہیں اور وہ کسی کی سننے کے لئے تیار نہیں۔ یہی لوگ ہیں جو بہرے ، گونگے اور اندھے ہیں اور حق کو سننے ، سمجھنے اور دیکھنے کے لئے تیار ہی نہیں۔ اس لئے آپ ﷺ ان کو ان کے حال پر چھوڑ کر اپنا کام کئے جائیں اور یقین جانیں کہ انہی بہروں ، گونگوں اور اندھوں میں وہ بھی ہیں جو باذن اللہ سننے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

In the fourth verse (106), the Holy Prophet ﷺ at has been guided to a specific course of action. He has been asked not to worry about the acceptance or non-acceptance of the call. For him, the best course was to keep following the way revealed to him through Wahy from his Rabb, the major element of which is the belief that no one is worthy of worship but Allah. That he should continue preaching with his message of truth is part of what has been revealed. So, believing in Allah and remaining steadfast on the way ordained for him, he should avoid feeling concerned about disbelievers and their…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 105–106

70. The same has been said earlier, viz. that genuine seekers after the Truth arrive at it even when it is couched in parables about such apparently trivial things as flies and gnats see (surah al-Baqarah 2:24). As for those who have been seized by a biased negativism, they are prone to ask, sarcastically: What have these trivial things to do with the Book of God? The same idea is expressed here in a slightly different form. The import of the statement is that the Book of God has become a touchstone, which helps mark off the true from the false. These include the sort of people who, once they…

Read the full tafseer →