Explained with ayahs 104–105
ہدایت و شفا قرآن و حدیث میں ہے
بصائر سے مراد دلیلیں اور حجتیں ہیں جو قرآن و حدیث میں موجود ہیں جو انہیں دیکھے اور ان سے نفع حاصل کرے وہ اپنا ہی بھلا کرتا ہے جیسے فرمان ہے کہ راہ پانے والا اپنے لئے راہ پاتا ہے اور گمراہ ہونے والا اپنا ہی بگاڑتا ہے۔ یہاں بھی فرمایا اندھا اپنا ہی نقصان کرتا ہے کیونکہ آخر گمراہی کا اسی پر اثر پڑتا ہے جیسے ارشاد ہے آنکھیں اندھی نہیں ہوتی بلکہ سینوں کے اندر دل اندھے ہوجاتے ہیں، میں تم پر نگہبان حافظ چوکیدار نہیں بلکہ میں تو صرف مبلغ ہوں ہدایت اللہ کے ہاتھ ہے، جس طرح توحید کے دلائل واضح فرمائے اسی طرح اپنی آیتوں کو کھول کھول کر تفسیر اور وضاحت کے ساتھ بیان فرمایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–106
سورة الْاَنْعَام 70
یہ وہی بات ہے جو سورة بقرہ رکوع 3 میں فرما دی گئی ہے کہ مچھر اور مکڑی وغیرہ چیزوں کی تمثیلیں سن کر حق کے طالب تو اس صداقت کو پالیتے ہیں جو ان تمثیلوں کے پیرایہ میں بیان ہوئی ہے، مگر جن پر انکار کا تعصب مسلط ہے وہ طنز سے کہتے ہیں کہ بھلا اللہ کے کلام میں ان حقیر چیزوں کے ذکر کا کیا کام ہوسکتا ہے۔ اسی مضمون کو یہاں ایک دوسرے پیرایہ میں بیان کیا گیا ہے۔ کہنے کا مدعا یہ ہے کہ یہ کلام لوگوں کے لیے آزمائش بن گیا ہے جس سے کھوٹے اور کھرے انسان ممیز ہوجاتے ہیں۔ ایک طرح کے انسان وہ ہیں جو اس کلام کو سن کر یا پڑھ کر اس کے مقصد و مدعا پر غور کرتے ہیں اور جو حکمت و نصیحت کی باتیں اس…
Read the full tafseer →توحید و رسالت پر جو واضح دلائل پچھلی آیت میں بیان ہوچکے ہیں، تیسری آیت میں ان کی طرف اشارہ کرکے فرمایا گیا(آیت) وَكَذٰلِكَ نُصَرِّفُ الْاٰيٰتِ یعنی ہم اسی طرح دلائل کو مختلف پہلووں سے بیان کرتے ہیں۔
اس کے بعد فرمایا گیا(آیت) وَلِيَقُوْلُوْا دَرَسْتَ جس کا حاصل یہ ہے کہ سارا ہدایت کا سامان معجزات اور دلائل بےمثل کتاب قرآن اور ایک اُمّی محض کی زبان مبارک سے ایسے علوم و حقائق کا اظہار جن سے ساری دنیا کے فلاسفر اور حکماء عاجز ہیں، ایسا بلیغ کلام جس میں قیامت تک آنے والے جن و بشر کو چیلنج کیا گیا کہ اس کی ایک چھوٹی سی سورت جیسا کلام کوئی بنا سکے تو لائے اور ساری دنیا اس سے عاجز رہی، یہ سب حق بینی…
Read the full tafseer →وَكَذٰلِكَ نُصَرِّفُ الْاٰيٰتِ۔ تصریف آیات کی وضاحت مختلف مقامات میں ہوچکی ہے یعنی اللہ کی نشانیوں کو مختلف پہلووں اور گوناگوں اسلوبوں سے واضح کرنا، یہاں کذالک کا اشارہ توحید، معاد اور رسالت کے انہی دلائل کی طرف ہے جو اوپر تفصیل سے بیان ہوئے ہیں۔ وَلِيَقُوْلُوْا دَرَسْتَ۔ دَرَس، کے اصل معنی تو گھنے اور ہٹانے کے ہیں۔ دَرَسَ الرَّسو کے معنی ہوں گے، محاہ، نشان کو مٹا دیا۔ آدمی جب کسی چیز کو کثرت سے بار بار پڑھتا ہے، بالخصوص جب اس پر انگلی رکھ کے ایک ایک حرف کو متعین کرتے ہوئے پڑھتا ہے جیسا کہ مذہبی صحیفوں کی تلاوت کے لیے رواج ہے تو بالعموم وہ نسخے گھس جاتے ہیں۔ اس وجہ سے لفظ درس کی کتاب کو اچھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–106
15۔ 1 یعنی ہم توحید اور اس کے دلائل کو اس طرح کھول کھول کر اور مختلف انداز سے بیان کرتے ہیں کہ مشرکین یہ کہنے لگتے ہیں کہ محمد ﷺ کہیں سے پڑھ کر اور سیکھ کر آیا ہے۔ جس طرح دوسرے مقام پر فرمایا۔ (وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اِنْ ھٰذَآ اِلَّآ اِفْكُۨ افْتَرٰىهُ وَاَعَانَهٗ عَلَيْهِ قَوْمٌ اٰخَرُوْنَ ڔ فَقَدْ جَاۗءُوْ ظُلْمًا وَّزُوْرًا ڔ وَقَالُوْٓا اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ اكْتَتَبَهَا فَهِيَ تُمْلٰى عَلَيْهِ بُكْرَةً وَّاَصِيْلًا ) 25۔ الفرقان :5-4) کافروں نے کہا، یہ قرآن تو اس کا اپنا گھڑا ہوا ہے، جس پر دوسروں نے بھی اس کی مدد کی ہے۔ یہ لوگ ایسا دعوٰی کر کے ظلم اور جھوٹ پر اتر آئے ہیں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–106
43: ہٹ دھرم قسم کے کافروں کو بھی یہ کہتے ہوئے شرم آتی تھی کہ یہ کلام خو آنحضرت ﷺ نے گھڑلیا ہے کیونکہ وہ آپ کے اسلوب سے اچھی طرح واقف تھے اور یہ بھی جانتے تھے کہ آپ امی ہیں، اور کسی کتاب سے خود ٖپڑھ کر یہ کلام نہیں بناسکتے، لہذا وہ قرآن کریم کے بارے میں یہ کہا کرتے تھے کہ آنحضرت ﷺ نے یہ کلام کسی سے سیکھا ہے اور اسے اللہ کا کلام قرار دے کر لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہیں ؛ لیکن کس سے سیکھا ہے وہ بھی نہیں بتاسکتے تھے، کبھی کبھی وہ ایک لوہار کا نام لیتے تھے جس کی تردید سورة نحل میں آنے والی ہے۔
Read the full tafseer →(آیت) ” نمبر 105 تا 107۔
اللہ اپنی آیات اس انداز میں بیان کرتے ہیں کہ عربوں کے اندر نہ یہ اسلوب تھا اور نہ وہ اس پر قادر تھے کیونکہ یہ ان کے معاشرے سے ماخوذ نہ تھا ۔ یہ پیغام اور یہ کلام پوری انسانیت کے پاس بھی اس وقت نہ تھا ‘ اس لئے اس کلام کے دو نتائج برآمد ہوئے ۔
” جو لوگ ہدایت چاہتے ہی نہ تھے ‘ جن کو اس پیغام اور علم سے دلچسپی ہی نہ تھی وہ حقیقت تک پہنچنے کی سعی ہی نہ کرتے تھے ۔ حضرت محمد ﷺ جس بلند مقام سے ان سے ہمکلام ہوتے تھے اسے وہ اس انکار اور عدم دلچسپی کا جواز بنا کر پیش کرتے تھے اس لئے کہ حضرت محمد ﷺ کو وہ خوب جانتے تھے ‘ یہ بات ان کے بھی سامنے تھی کہ محمد جو اونچا کلام پیش کرتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–106
2 یعنی اپنی آیتوں کو مختلف پہلوؤں اور عجیب و غریب انداز سے اس لئے سمجھاتے ہیں کہ آپ سب لوگوں کو پہنچا دیں۔ اور ان میں استعداد و احوال کے اختلاف سے دو فریق ہوجائیں۔ ضدی اور بد فہم تو یہ کہیں کہ ایسے علوم و معارف اور موثر مضامین ایک اُمّی سے کیسے بن پڑتے تو ضرور مختلف اوقات میں کسی سے سیکھتے رہے ہوں گے۔ پھر پڑھ پڑھا کر ہمارے سامنے پیش کر دئیے۔ لیکن سمجھ دار اور انصاف پسند لوگوں پر حق واضح ہوجائے گا۔ اور شیطانی شکوک و شبہات زائل ہوجائیں گے۔
3 آپ خدائے واحد پر بھرسہ کر کے اسکے حکم پر چلتے رہیں اور مشرکین کے جہل وعناد کی طرف خیال نہ فرمائیں کہ ایسے روشن دلائل و بیانات سننے کے بعد بھی راہ راست پر…
Read the full tafseer →آیت 105 وَکَذٰلِکَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ وَلِیَقُوْلُوْا دَرَسْتَ
ہم اپنی آیات بار بار مختلف طریقوں سے بیان کرتے ہیں ‘ اپنی دلیلیں مختلف اسالیب سے پیش کرتے ہیں تاکہ ان پر حجت قائم ہو اور یہ تسلیم کریں کہ آپ ﷺ نے سمجھانے کا حق ادا کردیا ہے۔ دَرَسَ ‘ یَدْرُسُ کے معنی ہیں لکھنا اور لکھنے کے بعد مٹانا ‘ پھر لکھنا ‘ پھر مٹانا۔ جیسے بچے شروع میں جب لکھنا سیکھتے ہیں تو مشق کے لیے بار بار لکھتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے ہمارے ہاں تختی استعمال ہوتی تھی جو اب متروک ہوگئی ہے۔ یہاں تدریجاً بار بار پڑھانے کے معنی میں یہ لفظ دَرَسْتَ استعمال ہوا ہے۔
Read the full tafseer →107 قرآن میں ایسی آیات الٰہی بہت سے مقامات پر مذکور ہیں جو مختلف اوقات میں، مختلف ماحول میں اور مختلف انداز بیان سے نازل ہوتی رہیں۔ اگرچہ ان میں حقائق وہی ہیں جو پہلے بھی بیان ہوچکے ہیں۔ اس طرح نئے نئے پیرایہ میں دلائل بیان کرنے کے دو بڑے فائدے ہیں ایک یہ کہ آیات الٰہی میں غور و فکر کرنے والوں کو کسی وقت بھی ہدایت نصیب ہوسکتی ہے اور دوسرے یہ کہ متعصب اور معاند لوگوں کی کج فہمی کھل کر سامنے آجائے جو یہ بات تو کسی صورت ماننے کو تیار نہیں کہ یہ کلام اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہے بلکہ اس کے علاوہ ہر غیر معقول صورت بتانے پر آمادہ ہوجاتے ہیں۔ اور ایسی کڑیاں ملانے کی کوشش کرتے ہیں جن سے یہ ثابت کرسکیں…
Read the full tafseer →153 ۔ (ان مضامین کو کسی صاحب علم سے) چناچہ یہی ہوا، ایک امی کی زبان سے بلند پایہ علوم، معارف وحقائق کو صحیح وشستہ پیرایہ بیان میں سن کر ظالموں نے یہ کہنا شروع کیا کہ یقیناً یہ مضامین عالی انہوں نے کسی نصرانی یا یہودی سے خوب پڑھ کریاد کرلئے ہیں اور جاہلیت کے انہیں لال بجھکڑوں کی نقل آج بڑے بڑے مستشرقین اور فضلائے یورپ کرکے قرآن مجید کی اس پیش خبری کی توثیق مزید کررہے ہیں۔ (آیت) ” لیقولوا “۔ میں، ل، عاقبت کا ہے لام ہے۔ لام علت کا نہیں۔ اللام لام العاقبۃ (بیضاوی) یعنی اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے نہ یہ کہ یہ نتیجہ ہونا چاہیے۔ لام عاقبت جس کلام پر لایا جائے، اس سے مراد ایسی چیز ہوتی ہے جو بہ طور نتیجہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–107
وکذلک نصرف الآیات، یعنی ہم توحید اور اس کے دلائل کو اس طرح کھول کھول کر اور مختلف انداز سے بیان کرتے ہیں کہ مشرکین یہ کہنے لگتے ہیں کہ محمد ﷺ کسی سے بڑھ کر اور سیکھ کر آتا ہے حالانکہ حقیقت ایسی نہیں ہے۔
وما انت علیھم بوکیل، مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ کو صرف داعی اور مبلغ بنا کر بھیجا گیا ہے کو توال نہیں، آپ کا کام صرف اتنا ہے کہ لوگوں کے سامنے اظہار حق کردیں اور اظہار حق میں اپنی حد تک کوئی کسر نہ اٹھا رکھیں، اب اگر کوئی قبول نہیں کرتا تو نہ کرے، اس کا بار آپ کے اوپر نہیں اور نہ آپ کی یہ ذمہ داری، اگر فی الواقع حکمت الہیٰ کا تقاضہ یہ ہوتا کہ دنیا میں کوئی باطل پرست نہ رہے تو اس کا ایک ہی تکوینی اشارہ…
Read the full tafseer →وکذلک نصرف الایت ہم اسی طرح آیات کی تفصیل کرتے ہیں یا کھول کر بیان کرتے ہیں صُرْفٌکا لغوی معنی ہے کسی چیز کو ایک حال سے دوسرے حال کی جانب منتقل کرنا (تبدیل حالت تغییر وغیرہ کا مفہوم صرف کے مفہوم کے قریب ہے) کسی معنی کی تفصیل بھی اسی طرح ہوتی ہے کہ ایک عبارت سے دوسری عبارت کی طرف اداء معنی کے لئے انتقال کیا جاتا ہے تاکہ مخاطب سمجھ لے۔ قاموس میں ہے صرف الحدیث کا معنی ہے بات میں کچھ بڑھانا اور اس کو خوبصورت بنا دینا۔ یہ لفظ صرف فی الدراہم کے محاورہ سے ماخوذ ہے جس کا معنی ہے بعض دراہم کی قیمت کا بعض دراہم سے زیادہ ہونا۔ صرف الکلام کا معنی بھی صرف الحدیث کی طرح ہے لَہ ( علیہ السلام) عَلَیْہِ…
Read the full tafseer →(105) ہم ان لوگوں کے لیے توحید کے دلائل طریقہ سے بیان کرتے ہیں تاکہ منکرین یہ نہ کہہ سکیں کہ آپ نے کسی سے پڑھ لیا ہے یا منکرین یہ نہ کہہ سکیں کہ ان باتوں کو آپ نے خود بنا لیا ہے یا ابی فکیھتہ مولی قریش سے پڑھ لیا ہے کہ یہ منکریہ نہ کہہ سکیں کہ جبر ویسار مولی قریش سے انہوں نے سیکھ لیا ہے اور اگر درست تاء کے سکون کے ساتھ پڑھا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ یہ دلائل مختلف پہلوؤں سے بیان کرتے ہیں تاکہ ہم ان دلائل کو ان حضرات کے لیے جو منجانب اللہ ہونے کی تصدیق کرتے ہیں خوب ظاہر کردیں۔
Read the full tafseer →وَكَذٰلِكَ نُصَرِّفُ الْاٰيٰتِ : یہاں تک اللہ تعالیٰ کے معبود برحق ہونے کا اثبات تھا، اب نبوت کو ثابت کرنے کا بیان شروع ہوتا ہے۔ اس آیت میں فرمایا کہ ہم ایسے ہی مختلف طریقوں کے ساتھ بار بار دھراتے ہیں، کبھی مومنوں کو خوش خبری، کبھی کافروں کو تنبیہ، کبھی گزشتہ قوموں کے واقعات کے ذریعے سے نصیحت اور کبھی کوئی کام کرنے یا نہ کرنے کے احکام، تاکہ جو لوگ عقل و فہم رکھتے ہیں، وہ ان کے ذریعے سے راہ ہدایت پائیں اور مخالفین پر حجت ہو۔
وَلِيَقُوْلُوْا دَرَسْتَ : یعنی ہم آیات کو پھیر پھیر کر اس لیے بیان فرماتے ہیں کہ اگر ایک طرف ان آیات کے ذریعے سے عقل و فہم والے راہ ہدایت پائیں گے تو دوسری طرف ضدی اور…
Read the full tafseer →آیت نمبر 105
قولہ تعالیٰ آیت : وکذلک نصرف الایٰت، کذلک میں کاف محل نصب میں ہے۔ یعنی نصرف الآیات مثل ما تلونا علیک ( یعنی ہم دلائل طرح طرح سیب یان کرتے ہیں جیسا کہ ہم نے آپ پر انہیں تلاوت فرمایا ہے) یعنی جیسا کہ ہم نے اس سورت میں وعدہ، وعید، وعظ اور تبیہ کے بارے مختلف دلائل بیان کیے ہیں اسی طرح ہم انہیں دوسری سورتوں میں بھی بیان کریں گے۔ آیت : ولیقولوا درست اس میں واؤ فعل مضمر پر عطف کے لیے ہے تقدیر کلام یہ ہے : ای نصرف الآیات لتقوم الحجۃ ولیقولوا درست ( ہم دلائل بیان کرتے ہیں تاکہ حجت قائم ہوجائے اور تاکہ بول اٹھیں یہ لوگ کہ آپ نے خوب پڑھ سنایا ہے)
اور یہ بھی کہا گیا ہے : آیت : ولیقولوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–106
(1) امام عبد بن حمید، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت قد جآء کم بصائر یعنی دلائل لفظ آیت فمن ابصر فلنفسہ یعنی جو شخص ہدایت حاصل کرے تو اس نے اپنی ذات کے لئے ہدایت حاصل کی اور لفظ آیت ومن عمی یعنی جو گمراہ ہو لفظ آیت فعیلیھا تو وہ اسی پر ہے واللہ اعلم۔
قولہ تعالیٰ : لفظ آیت ولیقولوا درست
(2) امام سعید بن منصور، عبد بن حمید، ابن منذر، ابن مردویہ اور ضیاء نے المختارہ میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس حرف کو یوں پڑھا لفظ آیت دارست یعنی دال کے بعد الف ہے سین ساکن اور تا پر نصب ہے۔
(3) امام فریابی، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ…
Read the full tafseer →وَكَذٰلِكَ [ اور اس طرح ] نُصَرِّفُ [ ہم پھیر بدل کر بیان کرتے ہیں ] الْاٰيٰتِ [ نشانیوں کو ] وَلِيَقُوْلُوْا [ اور نتیجتا وہ کہتے ہیں ] دَرَسْتَ [ تو نے سبق پڑھا ] وَلِنُبَيِّنَهٗ [ اور تاکہ ہم واضح کریں اس کو ] لِقَوْمٍ [ ایسے لوگوں کے لئے ] يَّعْلَمُوْنَ [ جو علم رکھتے ہیں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–105
اللہ تعالیٰ کی طرف سے بصیرت کی چیزیں آچکی ہیں
توحید کے دلائل اور اللہ تعالیٰ کی صفات جلیلہ بیان فرمانے کے بعد اب دلائل میں غور کرنے کی طرف توجہ دلائی جا رہی ہے۔ اولاً ارشاد فرمایا کہ تمہارے پاس بصیرت کی چیزیں آچکی ہیں اگر اپنی عقل کو متوجہ کرو گے اور ان بصیرت کی چیزوں میں غور و فکر کرو گے تو حقائق کو پہنچ جاؤ گے۔ دلائل توحید بھی سمجھ میں آجائیں گے اور توحید بھی سمجھ میں آجائے گی۔
جو شخص غور و فکر کرے گا بینا بنے گا تو اس کا نفع اسی کی جان کو ہوگا۔ اور جو شخص اندھا بنا رہے گا دلائل و بصائر میں غور کرنے سے گریز کرے گا تو اس کا نقصان اسی کو ہوگا، پھر رسول اللہ ﷺ سے فرمایا کہ آپ کی ذمہ داری صرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–110
ابطال عقیدہ ابنیت
قال اللہ تعالیٰ بدیع السموات والارض انی یکون لہ ولد۔۔۔ الی۔۔۔ وھو اللطیف الخبیر
(ربط) گذشتہ آیات میں جب توحید کی پانچ دلیلیں بیان کیں اور مشرکین کے عقائد شرکیہ کی تردید کی تو اب آئندہ آیات میں خاص طور پر نصاریٰ کے عقیدہ ابنیت کا ابطال فرماتے ہیں کہ خدا تعالیٰ اولاد سے پاک اور منزہ ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں وہ بغیر مادہ اور بغیر نمونہ کے آسمانوں اور زمین کا موجد ہے یعنی محض نیست سے ہست کرنے والا ہے یعنی یہ آسمان و زمین جو تمام عالم کو احاطہ کیے ہوئے ہیں سب اسی کا پیدا کیا ہوا اور بنایا ہوا ہے جس میں اھرمن بھی داخل ہے اور حضرت عزیر اور عیسیٰ (علیہما السلام) اور ان کی والدہ مریم…
Read the full tafseer →112 یہ نہ مانے کی تیسری وجہ ہے یعنی ہم آیات کو کھول کر بیان کرتے ہیں اور یہ مشرکین ان سے اعراض کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ پیغمبر کسی سے سیکھ کر آیا ہے وَ لِیَقُوْلُوْا سے پہلے معطوف علیہ محذوف ہے ای لیسعد بھا قوم و یشقی بہا اخرون و لیقولون الخ و معنی (درست) قرات و تعلمت (روح) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–107
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے شرک کے رد میں عقلی اور نقلی دونوں قسم کے دلائل بیان فرمائے اور ان کا ذکر آگے بھی آئے گا سابقہ کتب کا ذکر بھی ہوچکا ہے اور اللہ تعالیٰ نے انسانوں پر جو مختلف قسم کے انعامات فرمائے ہیں ان کا ذکر بھی ہوچکا ہے کائنات کی تخلیق اور اس کے چلانے والے نظاموں کے متعلق بیان ہوچکا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ دلائل قدرت بیان کر کے اپنی ذات وصفات کو سمجھنے کی تعلیم دی ہے۔
اس سے پہلے انسان کی تخلیق ، رات دن کے اختلاف ، چاند اور سورج کی مسافرت ، ستاروں اور سیاروں پر مربوط نظام ۔ آسمان سے بارش کے نزول اور اس کے ذریعہ سبز ، اناج اور پھلوں کی فراوانی خاص طور پر کھجور ، انگور ، زیتون ،…
Read the full tafseer →وَكَذٰلِكَ نُصَرِّفُ الْاٰيٰتِ وَلِيَقُوْلُوْا دَرَسْتَ وَلِنُبَيِّنَہٗ لِقَوْمٍ يَّعْلَمُوْنَ 105
تَّصْرِيفُ
والتَّصْرِيفُ کالصّرف إلّا في التّكثير، وأكثر ما يقال في صرف الشیء من حالة إلى حالة، ومن أمر إلى أمر . وتَصْرِيفُ الرّياح هو صرفها من حال إلى حال . قال تعالی: وَصَرَّفْنَا الْآياتِ [ الأحقاف/ 27] ، وَصَرَّفْنا فِيهِ مِنَ الْوَعِيدِ [ طه/ 113] التصریف بمعنی صرف ہے لیکن اس میں تکثیر کے معنی پائے جاتے ہیں اور عام طور پر یہ کسی چیز کو ایک حالت سے دوسری حالت کی کی طرف پھیرنے یا ایک امر سے دوسرے امر کی طرف تبدیل کرنے کے لئے آتا ہے اور ( تصریف الریاح ) کے معنی ہیں ہواؤں کے رخ کو ایک طرف سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–107
ترکیب : من ربکم جاء سے متعلق ہے۔ فمن شرط یا مبتداء ابصر جواب یا خبر وکذالک کاف موضع نصب میں صفت ہے مصدر محذوف کی اے نصرف الآیات تصریفا مثل ماتلونا ولیقولوا لام عاقبت ولیقولوا معطوف ہے محذوف برائے کذلک نصرف الآیات لتلزمھم الحجۃ ولیقولوا ولنبینہ معطوف ہے لیقولوا پر واللام علی الاصل والضمیر للآیات باعتبار المعنی او للقرآن۔
تفسیر : اپنی ذات وصفات و توحید پر دلائل بیان کرکے مشرکین کو ان کی نادانی پر کہ وہ اور چیزوں کو اس کے ساتھ شریک کرتے تھے الزام دے کر ایک اعلان عام دیتا ہے کہ یہ جو کچھ بیان ہوا ہے خدا کی طرف سے بصائر (جمع بصیرۃ ای الا ادراک التام) یعنی سوجھ و بوجھ ہے کہ جس سے انسان کی آنکھیں…
Read the full tafseer →اسی بات کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے ارشاد فرمایا :
وَ کَذٰلِکَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ وَلِیَقُوْلُوْا دَرَسْتَ وَلِنُبَیِّنَہٗ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ ۔ (الانعام : 105)
(اور اسی طرح ہم اپنی دلیلیں مختلف اسلوبوں سے پیش کرتے ہیں تاکہ ان پر حجت قائم ہو اور تاکہ وہ بول اٹھیں کہ تم نے اچھی طرح پڑھ کر سنا دیا اور تاکہ ہم اس کو اچھی طرح واضح کردیں ان لوگوں کے لیے جو جاننا چاہیں )
اللہ تعالیٰ اپنی دلیلیں کھول کھول کر بیان کرتا ہے
یعنی جس طرح ہم نے گزشتہ کئی آیات میں اپنی نشانیاں جو کائنات میں پھیلی ہوئی ہیں اور جس کا تعلق انسانی زندگی سے ہے۔ جن میں سے بعض کے رشتے خود انسانی ضمیر کے اندر پیوست ہیں اور بعض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–106
فہم القرآن
ربط کلام : پہلے خطاب کا تتمّہ۔
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے منکرین رسالت کا ایک بہانہ بیان کیا ہے اس کی تمہید یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک ایک آیت کرکے قرآن نازل کرتا اور ایک مضمون کو مختلف اسالیب سے بیان فرماتا ہے تاکہ اہل علم پر اللہ تعالیٰ کی مراد منکشف ہوجائے اور ان کے ذہنوں میں صحیح مفہوم مستقر ہوجائے جو اللہ تعالیٰ کے فرمان کا منشا ہے۔ لیکن کفار کو اس سے یہ شبہ ہوا کہ نبی اکرم ﷺ یہود و نصاریٰ کے علماء سے مذاکرہ اور مباحثہ کرتے ہیں۔ جو اس بحث و تمحیص سے حاصل ہوتا ہے۔ اسے مختلف فقروں اور جملوں میں ڈھال کر ہمارے سامنے پڑھتے ہوئے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ یہ آپ پر وحی نازل ہوئی ہے۔ حالانکہ یہ…
Read the full tafseer →آیات سمجھانے کیلئے مختلف پہلوئوں سے لائے مگر یہ کہنے لگے کہ انکو اہل کتاب سے پڑھ کر بیان کردیتا ہے :
آیت 105 : وَکَذٰلِکَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ ۔ کذلک میں کاف موضع نصب میں ہے کیونکہ یہ مصدر محذوف کی صفت ہے۔ یعنی ہم آیات کو بار بار بیان کرتے ہیں۔ جیسا کہ ہم نے تم پر پڑھی ہیں۔ وَلِیَقُوْلُوْا اس کا جواب محذوف ہے یعنی وَلِیَقُوْلُوْا دَرَسْتَ تاکہ وہ کہیں تو نے پڑھ لیا ہے۔ نصرف کا معنی درست۔ قرأ ت کتب اہل الکتاب تو نے اہل کتاب کی کتابوں کو پڑھ لیا ہے۔ قراءت : مکی اور ابوعمرو نے درست پڑھا ہے یعنی اہل کتاب سے پڑھ پڑھا لیا ہے۔ شامی نے دَرَسَتْ یعنی یہ آیت پہلے گزر چکی اور ہوچکی جیسا کہ انہوں نے کہا…
Read the full tafseer →(105) وکذلک نصرف الایت) ہم ان کی تفصیل کرتے اور ہر صورت میں بیان کرتے ہیں تاکہ وہ کہیں) بعض نے کہا اس کا معنی یہ ہے کہ تاکہ وہ نہ کہیں (ولیقولوا) اور بعض نے کہا ہے لام لام عاقبت ہے یعنی ان کے معاملہ کا انجام یہ ہوگا کہ وہ کہیں گے (درست) یعنی آپ نے کسی سے پڑھا ہے اور بعض نے کہا ہے کہ آپ نے اہل کتاب کی کتابوں کو پڑھا ہے۔ جیسے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔ (فالتقطہ آل فرعون لیکون لھم عدوا وحزنا) اور یہ بات معلوم ہے کہ آل فرعون نے اس کو اس لئے نہیں اٹھایا تھا لیکن ان کے اٹھانے کا انجام یہ ہوا۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ تاکہ اہل مکہ کہیں جب آپ ان پر قرآن پڑھیں کہ آپ نے اس کو یسار اور جبر سے سیکھا ہے یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–107
(104 ۔ 107) ۔ آنکھوں میں ہر چیز کے دیکھنے کی جو قوت ہے اس کو بصارت کہتے ہیں اور دل میں ہر چیز کے سمجھنے کی جو قوت ہے اس کو بصیرت کہتے ہیں بصائر بصیرت کی جمع ہے۔ شروع سورة سے توحید الٰہی اور قدرت الٰہی کو جو آیت قرآنی گذریں ان کو بصائر فرمایا مطلب یہ ہے کہ شروع سورة سے یہاں تک جو آیتیں گذریں وہ سمجھ دار آدمی کے دل میں قدرت نے ان کو بصائر فرمایا مطلب یہ ہے کہ شروع سورة سے یہاں تک جو آیتیں گذریں وہ سمجھ دار آدمی کے دل میں قدرت الٰہی کا اثر ڈالنے کے لیے اور اس اثر سے توحید الٰہی اس کے دل میں پیدا ہوجانے کے لیے کافی ہیں اب جو کوئی ان آیتوں کو سن کر ان کی نصیحتوں کے موافق عمل کرے گا اس کے عقبی درست…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–108
آیت 105
اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو ایک ایسے کام سے روکا ہے جو بنیادی طور پر جائز بلکہ مشروع ہے اور وہ ہے مشرکین کے معبودوں کو سب و شتم کرنا۔ جن کے بت بنائے گئے اور جن کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ معبود بنا لیا گیا ہے، ان کی اہانت اور سب و شتم سے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہوتا ہے، لیکن چونکہ یہ سب و شتم مشرکین کے لئے اللہ رب العالمین کو سب و شتم کرنے کا ذریعہ بن جاتا ہے جس عظیم ذات کی، ہر عیب و آفت اور سب و شتم سے تنزیہہ واجب ہے، اس لئے مشرکین کے معبودوں کو برا بھلا کہنے سے روک دیا گیا ہے، کیونکہ وہ اپنے دین میں متعصب ہیں اور اپنے دین کے لئے جوش میں آجاتے ہیں، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر قوم کے اعمال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–107
رئویت باری تعالیٰ
قول باری ہے ( لا تدرکہ الابصارو ھو یدرک الابصار۔ نگاہیں اس کو نہیں پا سکتیں اور وہ نگاہوں کو پا لیتا ہے) کہا جاتا ہے کہ ادراک کے اصل معنی لحقو یعنی پالینے اور جا لینے کے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ مثلاً آپ کہتے ہیں ” ادرک زمان المنصور “ یا ” ادرک ابا حنیفۃ “ ( اس نے خلیفہ منصور کا زمانہ پایا تھا یا اس اس نے امام ابوحنیفہ کو پایا تھا) نیز ” ادرک الطعام “ یا ” ادرک الزرع و الثمرۃ “ ( طعام پک کر تیار ہونے کے مرحلے کو پہنچ گیا یا فصل پک گئی پھل پک گئے) اسی طرح کہا جاتا ہے ” ادرک الغلام “ ( لڑکا بالغ ہوگیا) یعنی بالغ مردوں کی حالت کو پہنچ گیا۔ آنکھوں کا کسی چیز کو ادراک کرلینے کے معنی ہیں کہ…
Read the full tafseer →202 اہل کتاب کا ایک بیہودہ الزام و اعتراض : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تاکہ وہ کہیں کہ تم نے پڑھ لیا ہے اہل کتاب سے اور دعویٰ کرتے ہو کہ یہ اللہ کی طرف سے مجھ پر نازل ہوا ہے۔ (جامع البیان، المراغی وغیرہ) ۔ سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ جو لوگ نور ایمان سے محروم اور خوف خدا سے عاری ہوتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ وہ کس قدر ڈھیٹ اور کتنے بےشرم ہوجاتے ہیں۔ اور وہ کتنی بڑی پاکیزہ ہستی پر کیسے کیسے بےہودہ الزام عائد کرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف حق اور حقیقت کا علم ہی وہ علم ہے جو کہ انسان کی سوچ اور اس کے زاویہ نگاہ کو درست کرسکتا ہے ورنہ انسان جاہل کا جاہل اور کو را ہی رہتا ہے۔ خواہ دنیاوی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–107
کامیابی کا راستہ
تشریح : اللہ جل شانہ کی تمام تخلیقات کو بڑی وضاحت سے بیان کرنے کے بعد اس کے واحد ہونے کا یقین دلا دیا گیا تو اب فرمایا کہ جو لوگ قرآن کو سوچ سمجھ کر پوری توجہ اور عقل و فہم کو کام میں لاتے ہوئے پڑھتے ہیں تو ظاہر ہے ایسے ہی لوگوں کا ایمان مضبوط ہوتا ہے اور وہ بیشمار حکمت کی باتیں قرآن میں سے حاصل کر کے اپنی زندگیاں سنوارتے ہیں اللہ کے نیک بندے ایسے ہی ہوتے ہیں اور جو وہ نیکی کی راہ اختیار کرتے ہیں تو اپنا ہی بھلا کرتے ہیں اور جو آنکھیں بند کر کے بےسوچے سمجھے پڑھ جاتے ہیں تو وہ اپنا ہی نقصان کرتے ہیں کیونکہ وہ ایمان کے نور سے محروم رہ کر ذلیل و خوار ہوتے ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–111
رکوع نمبر 13 ۔ آیات 102 تا 111:
اسرار و معارف :
وہ تو ارض و سما کا بنانے والا اور ایسا بنانے والا ہے جس نے تخلیق کی ابتدا فرمائی نہ یہ کہ پہلے کوئی چیز تھی اور دیکھ کر یا مختلف اشیاء کا وجود تھا انہیں جوڑ کر زمین آسمان بنا دئیے بلکہ کچھ بھی نہ تھا پردہ عدم سے اشیاء کو وجود میں لایا اور اس کی اپنی اکیلی عظیم ذات کے علاوہ جو کچھ بھی ہے وہ اس کی مخلوق ہے ہر چیز کو اس نے پیدا فرمایا ہے اور وہ اکیلا خالق ہے نادانو بیٹا تو باپ کی جنس اور انہیں صفات کا حامل ہوتا ہے۔ جیسے انسان کا بچہ کیسا بھی ہو انسان تو ضرور ہوگا جب بیٹا ہو ناممکن ہے تو وہ اپنی شان اور ذات میں اکیلا تو نہ رہا پھر تو اس کے لیے بیوی…
Read the full tafseer →ف 5 یہاں تک الوہیت میں آنحضرت ﷺ کی نبوت پر شبہات کو بیان کیا ہے کبھی مومنوں کو خوش خبری کبھی کافروں کو تنبیہ کبھی گزشتہ قوموں کے وقعات کے ذریعے نصیحت اور کبھی اوامر ونواہی کا بیان تاکہ جو لگ عقل و فہم رکھتے ہیں وہ ان کے ذریعے راہ ہدایت پائیں اور مخالفین پر حجت قائم ہو6 یعنی ہم تصرف آیات یعنی پھیر پھیر کر اس لیے بیان فرماتے ہیں کہ اگر ایک طرف آیات کے ذریعہ عقل وفہم والے راہ ہدایت پائیں گے تو دوسری طرف ضدی اور آباو اجداد کے رسم وراج سے چمٹے رہنے والے کا فرو مشرک آپ ﷺ سے یہ کہہ کر کمر ہوں گے کہ یہ قرآن جسے تم ہمارے سامنے بڑھ رہے ہو تم پر اللہ تعالیٰ کی جانب سے نازل نہیں ہوا بلکہ تم نے اسے کسی سے…
Read the full tafseer →(6:105) نصرف الایات۔ ہم پھیر پھیر کر۔ طرح طرح سے آیات (توحید) کو بیان کرتے ہیں ۔
درست۔ درس اور دراسۃ سے ماضی کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ تو نے پڑھا۔ تو نے پڑھ سنایا۔ درس۔ القراء ۃ علی الغیر۔ دوسرے کو پڑھ کر سنانا۔
نبینہ۔ مضارع صیغہ جمع متکلم۔ تبیین (تفعیل) مصدر ۔ ہم ظاہر کردیں۔ ہم کھول دیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–107
لغات القرآن : آیت نمبر 105 تا 107 :
درست ( تو نے کسی سے) پڑھا ہے۔
تشریح : آیت نمبر 105 تا 107 :
توحید و رسالت پر واضح دلائل پچھلی آیات میں پیش کئے گئے۔ ان میں بصارت اور بصیرت دونوں کو جھنجوڑا گیا جس کے نتیجے میں لوگوں کی دو واضح قسمیں سامنے آئیں۔ ایک وہ جو دین اسلام سے متاثر ہوئے اور کفر و شرک چھوڑ کر اسلام میں داخل ہوگئے۔ لیکن وہ ضدی ہٹ دھرم بر خود غلط طبقہ جسے نہ ماننا تھا نہ مانا اور نہ ماننے کا جو بہانہ ڈھونڈا وہ بھی بھونڈا یعنی اے نبی ﷺ ! یہ قرآن جو آپ پیش کررہے ہیں۔ یہ وحی الٰہی نہیں ہے۔ یہ تو آپ ﷺ کسی سے سن کر اور سیکھ کر لائے ہیں ‘ اور ہم لوگوں پر رعب ڈال رہے ہیں۔ (نعوذ باللہ)
مگر وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–110
مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ اب جو کوئی ان آیتوں کو سن کر ان کی نصیحتوں کے موافق عمل کرے گا اس کی عقبیٰ درست ہوجائے گی، اور جو کوئی ان نصیحتوں کے بعد بھی کورا باطن رہے گا اس کا خمیازہ اس کو بھگتنا پڑے گا۔ پھر فرمایا :” اے رسول اللہ کے ! ﷺ تم ان لوگوں سے کہ دو کہ میں فقط اللہ کا حکم پہچانے والا ہوں، تمہاری بد اعمالی کی گرفت میرے ہاتھ میں نہیں ہے وہ تو اللہ کے اختیار میں ہے۔ وہ جب چاہے گا تمہاری بد اعمالی کا مواخذہ فرمادے گا۔ مشرکین مکہ قرآن شریف کی آیتوں کو جھٹلاتے اور کہتے تھے کہ ” اس کے وبال سے ہم پر کوئی آسمانی عذاب کیوں نہیں آتا “۔ اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی معرفت قرآن شریف میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–105
[38] چناچہ یہی ہوا کہ اُمّی کی زبان سے بلند پایہ علوم، معارف و حقائق کو فصیح وبلیغ پیرایہ بیان میں سن کر ظالموں نے یہ کہنا شروع کیا کہ یقینا یہ مضامین عالی آپ نے کسی نصرانی یا یہودی سے پڑھ کر یاد کر لئے ہیں۔ اور جاہلیت کے انہی لال بجھکڑوں کی نقل بڑے بڑے مستشرقین کر کے قرآن مجید کی اس پیش خبری کی مزید توثیق کر رہے ہیں۔
Read the full tafseer →(ف 3) ” ولقولوا درست “ غرض یہ ہے حضور ﷺ پڑھے لکھے تو تھے نہیں مگر قرآن کو پیش کیا ہے تو معارف وحقائق سے معمور اس لئے لامحالہ یہی کہیں گے ، قرآن کسی دوسرے شخص کی تصنیف ہے ، بیوقوف یہ نہیں سوچتے کہ اس تسلسل اور پاکبازی کے ساتھ اس تفصیل اور استقلال کے ساتھ کہیں دوسروں کی باتوں کو پیش کیا جاسکتا ہے ،
Read the full tafseer →-105 اور اے پیغمبر ! جس طرح ہم نے یہ بات بیان کی اسی طرح ہم اپنے دلائل کو مختلف طریقوں اور مختلف پہلوئوں سے بیان کرتے ہیں تاکہ یہ لوگ عبرت حاصل کریں اور ان پر حجت قائم ہوجانے اور انجام کار یہ عناد اور تعصب سے یوں کہیں کہ اے محمد ! ﷺ تو نے یہ کلام کسی سے سیکھ لیا ہے کیونکہ ایک امی اور ان پڑھ ایسا مدلل اور فصیح وبلیغ کلام پیش نہیں کرسکتا اور تاکہ ہم صاحبان علم کے لئے اس قرآن کے مضامین کو خوب واضح اور ظاہر کردیں یعنی مختلف پہلوئوں سے دلائل کا بیان کرنا اس لئے کہ لوگ عبرت پکڑیں اور ایمان لے آئیں نیز منکروں پر حجت قائم ہوجائے اور یہ منکر آخر کار عاجز ہو کر یہ کہہ دیں کہ تو دوسروں سے سیکھ سیکھ کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–106
ف 4۔ غرض خالق بھی وہی علیم بھی وہی۔ وکیل بھی وہی اور یہ سب امور مقتضی ہیں کہ معبود بھی وہی ہو۔
Read the full tafseer →تصریف آیات کے ذریعہ تو نے ان کو پڑھسنایا ، ماننا نہ ماننا ان کا کام ہے :
158: ایک ہی بات کو سو سو طریقوں سے بیان کیا گیا اور پھر مثالیں دے دے کر ان کو سمجھایا گیا اور ان لوگوں کو چاروں طرف سے دلائل و آیات بینات نے اسطرح گھیر لیا کہ وہ چار وناچار یہ کہنے پر مجبور ہوگئے اور بول اٹھے کہ ” آپ ﷺ نے خوب پڑھ سنایا۔ “ اگر ہم ان توحید کی دلیلوں کو ایک ہی بار بیان کر کے چھوڑ دیتے اور کوئی ان کو سن سکتا اور اور کوئی نہ سن سکتا ، کوئی سمجھ سکتا اور کوئی نہ سمجھ سکتا اور اگر ایک ہی آیت کا باربار تکرار کرتے تو شاید یہ لوگ اکتا جاتے۔ اس لئے ہم نے ایک ہی بات کو مختلف دلائل وبراہین میں اور مختلف رنگوں اور…
Read the full tafseer →It will be recalled that many clear arguments in favour of Tauhid (Oneness of Allah) and Risalah (The Veracity of Prophethood) had appeared in previous verses. It is to these that reference has been made in the third verse (105) here where it has been said: كَذَٰلِكَ نُصَرِّفُ الْآيَاتِ (And this is how We bring forth a variety of verses [ where arguments are presented from different angles ]).
After that, it was said: لِيَقُولُوا دَرَسْتَ وَلِنُبَيِّنَهُ لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ (so that they may say, "you have been tutored" and so that We may explain it to the people who have knowledge).…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–106
70. The same has been said earlier, viz. that genuine seekers after the Truth arrive at it even when it is couched in parables about such apparently trivial things as flies and gnats see (surah al-Baqarah 2:24). As for those who have been seized by a biased negativism, they are prone to ask, sarcastically: What have these trivial things to do with the Book of God? The same idea is expressed here in a slightly different form. The import of the statement is that the Book of God has become a touchstone, which helps mark off the true from the false. These include the sort of people who, once they…
Read the full tafseer →