Explained with ayahs 106–107
وحی کے مطابق عمل کرو
حضور کو اور آپ کی امت کو حکم ہو رہا ہے کہ وحی الہی کی اتباع اور اسی کے مطابق عمل کرو جو وحی اللہ کی جانب سے اترتی ہے وہ سراسر حق ہے اس کے حق ہونے میں زرا سا بھی شبہ نہیں۔ معبود برحق صرف وہی ہے، مشرکین سے درگزر کر، ان کی ایذاء دہی پر صبر کر، ان کی بد زبانی برداشت کرلے، ان کی بد زبانی سن لے، یقین مان کر تیری فتح کا تیرے غلبہ کا تیری طاقت و قوت کا وقت دور نہیں۔ اللہ کی مصلحتوں کو کوئی نہیں جانتا دیر گو ہو لیکن اندھیرا نہیں۔ اگر اللہ چاہتا تو سب کو ہدایت دیتا اس کی مشیت اس کی حکمت وہی جانتا ہے نہ کوئی اس سے باز پرس کرسکے نہ اس کا ہاتھ تھام سکے وہ سب کا حاکم اور سب سے سوال…
Read the full tafseer →سورة الْاَنْعَام 71
مطلب یہ ہے کہ تمہیں داعی اور مبلغ بنایا گیا ہے، کو توال نہیں بنایا گیا۔ تمہارا کام صرف یہ ہے کہ لوگوں کے سامنے اس روشنی کو پیش کردو اور اظہار حق کا حق ادا کرنے میں اپنی حد تک کوئی کسر اٹھا نہ رکھو۔ اب اگر کوئی اس حق کو قبول نہیں کرتا تو نہ کرے۔ تم کو نہ اس کام پر مامور کیا گیا ہے کہ لوگوں کو حق پرست بنا کر ہی رہو، اور نہ تمہاری ذمہ داری و جواب دہی میں یہ بات شامل ہے کہ تمہارے حلقہ نبوت میں کوئی شخص باطل پرست نہ رہ جائے۔ لہٰذا اس فکر میں خواہ مخواہ اپنے ذہن کو پریشان نہ کرو کہ اندھوں کو کس طرح بینا بنایا جائے اور جو آنکھیں کھول کر نہیں دیکھنا چاہتے انہیں کیسے دکھایا جائے۔…
Read the full tafseer →پانچویں آیت میں اس کی وجہ یہ بتلائی گئی کہ اگر اللہ تعالیٰ کو تکوینی طور پر یہ منظور ہوتا کہ سب انسان مسلمان ہوجائیں تو یہ شرک نہ کرسکتے، لیکن ان کی بدعنوانیوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کو یہ منظور تھا کہ ان کو سزا ملے تو ایسا ہی سامان جمع کردیا، پھر آپ ان کو کیسے مسلمان بنا سکتے ہیں، اور آپ اس فکر میں پڑیں کیوں، ہم نے آپ کو ان کے اعمال کا نگران نہیں بنایا، اور نہ آپ ﷺ ان اعمال پر عذاب دینے کے ہماری طرف سے مختار ہیں، اس لئے آپ کو ان کے اعمال سے تشویش نہ ہونی چاہئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–107
106 تا 167: یہ پیغمبر کی طرف التفات ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تم وحی الٰہی پر جمے اور اپنے موقف حق پر ڈٹے رہو۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور ان مشرکین کی مخالفت کی کوئی پروا نہ کرو۔ ان سے اعراض کرو اور یہ بات یاد رکھو کہ اگر اللہ اپنے دین کے معاملہ میں جبر کو پسند کرتا ہوتا تو ان میں سے کوئی بھی شرک پر قائم نہ رہ سکتا۔ وہ سب کو توحید و اسلام کی صراط مستقیم پر چلا دیتا لیکن اس کی حکمت کا تقاضا یہی ہوا کہ وہ لوگوں کو اس معاملے میں اختیار دے کر آزمائے کہ کون توحید کی راہ اختیار کرتا ہے، کون شرک کی ؟ تو جب حکمت الٰہی نے یہ چاہا ہے تو تم ان کے معاملے میں کیوں پریشان ہو ؟ تمہاری ذمہ داری حق کو واضح…
Read the full tafseer →17۔ 1 اس نکتے کی وضاحت پہلے کی جا چکی ہے کہ اللہ کی مشیت اور چیز ہے اور اس کی رضا تو اسی میں ہے کہ اس کے ساتھ شرک نہ کیا جائے۔ تاہم اس نے اس پر انسانوں کو مجبور نہیں کیا کیونکہ جبر کی صورت میں انسان کی آزمائش نہ ہوتی، ورنہ اللہ تعالیٰ کے پاس تو ایسے اختیارات ہیں کہ وہ چاہے تو کوئی انسان شرک کرنے پر قادر ہی نہ ہو سکے (مزید دیکھئے سورة بقرہ آیت 253 اور سورة الانعام آیت 35 کا حاشیہ)۔
17۔ 2 یہ مضمون بھی قرآن مجید میں متعدد جگہ بیان کیا گیا ہے مقصد نبی ﷺ کی داعیانہ اور مبلغانہ حیثیت کی وضاحت ہے جو منصب رسالت کا تقاضا ہے اور آپ صرف اسی حد تک مکلف تھے اس سے زیادہ آپ کے پاس اگر اختیارات ہوتے تو آپ…
Read the full tafseer →44: پیچھے آیت نمبر 35 میں بھی یہ مضمون آچکا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اگر چاہتا تو سارے انسانوں کو زبردستی ایک ہی دین کا پابند بنا دیتا، لیکن درحقیقت انسان کو دنیا میں بھیجنے کا بنیادی مقصد امتحان ہے، اور اس امتحان کا تقاضا یہ ہے کہ انسان زور زبردستی سے نہیں، بلکہ خود اپنی سمجھ سے کام لے کر ان دلائل پر غور کرے جو پوری کائنات میں بکھرے پڑے ہیں، اور پھر اپنی مرضی سے توحید، رسالت اور آخرت پر ایمان لائے، انبیائے کرام ان دلائل کی طرف متوجہ کرنے کے لیے بھیجے جاتے ہیں، اور آسمانی کتابیں اس امتحان کو آسان کرنے کے لیے نازل کی جاتی ہیں، مگر ان سے فائدہ وہی اٹھاسکتے ہیں جن کے دل میں حق کی طلب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–107
(آیت) ” اتَّبِعْ مَا أُوحِیَ إِلَیْْکَ مِن رَّبِّکَ لا إِلَـہَ إِلاَّ ہُوَ وَأَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِکِیْنَ (106)
” اے نبی ﷺ اس وحی کی پیروی کئے جاؤ ‘ جو تم پر تمہارے رب کی طرف سے نازل ہوئی ہے کیونکہ اس ایک رب کے سوا کوئی اور خدا نہیں ہے ۔ اور ان مشرکین کے نہ پڑو۔ “
اگر اللہ کی مشیت یہ ہوتی کہ ان پر ہدایت لازم کردے تو اللہ نے لازم کردی ہوتی ۔ اگر اللہ یہ چاہتا کہ ان کو آغاز ہی سے فرشتوں کی طرح ہدایت پر پیدا کرتا تو وہ ایسا کردیتا ‘ لیکن اللہ نے انسان کو اس طرح پیدا کیا اور اس کے اندر ہدایت وضلالت دونون کی طاقت ودیعت کردی اور اسے آزاد چھوڑ دیا کہ وہ ہدایت اختیار کرتا ہے یا ضلالت ۔ پھر جو…
Read the full tafseer →4 یعنی حق تعالیٰ کی تکوینی حکمت اس کو متقضی نہیں ہوئی کہ وہ ساری دنیا کو زبردستی مومن بنا دے بیشک وہ چاہتا تو روئے زمین پر ایک مشرک کو باقی نہ چھوڑتا۔ لیکن شروع سے اس نے انسانی فطرت کا نظام ہی ایسا رکھا ہے کہ آدمی کوشش کرے تو یقیناً ہدایت قبول کرسکے تاہم قبول کرنے میں بالکل مجبور و مضطر نہ ہو پہلے اس مسئلہ کی تقریر گزر چکی۔
5 آپ کا فرض تبلیغ احکام الٰہی کا اتباع ہے ان کے اعمال کے ذمہ دار اور جوابدہ آپ نہیں ہیں۔
Read the full tafseer →آیت 107 وَلَوْ شَآء اللّٰہُ مَآ اَشْرَکُوْاط وَمَا جَعَلْنٰکَ عَلَیْہِمْ حَفِیْظًا ج
اگر اللہ کو اپنا جبر ہی نافذ کرنا ہوتا اور با لجبر ان سب کو ایمان پر لانا ہوتا تو اللہ کے لیے یہ کچھ مشکل نہیں تھا۔ اس سلسلے میں آپ ﷺ پر ان کی ذمہ داری ڈالی ہی نہیں گئی۔ آپ ﷺ کو ان پر داروغہ یا نگران مقرر نہیں کیا گیا۔ آپ ﷺ کا کام ہے حق کو واضح کردینا۔ آپ ﷺ اس قرآن کے ذریعے انہیں خبردار کرتے رہیے ‘ اس کے ذریعے انہیں تذکیر کرتے رہیے ‘ اس کے ذریعے انہیں خوشخبریاں دیتے رہیے۔ آپ ﷺ کی بس یہ ذمہ داری ہے : فَذَکِّرْقف اِنَّمَآ اَنْتَ مُذَکِّرٌ۔ لَسْتَ عَلَیْہِمْ بِمُصَیْطِرٍ الغاشیہ پس آپ ﷺ انہیں یاد دہانی کرائیے ‘…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–107
108 پہلے بتایا جا چکا ہے کہ یہ سورة ہجرت سے تقریباً ایک سال پہلے نازل ہوئی تھی (ماسوائے چھ آیات کے) اور اس وقت مسلمانوں پر سخت آزمائش کا دور تھا۔ اس وقت یہی حکم تھا کہ مشرکوں سے کنارہ کش رہا جائے۔ لیکن جب فتح مکہ کے بعد اسلام کو غلبہ حاصل ہوگیا۔ تو پھر یہ حکم نہ رہا بلکہ ان کے ساتھ جنگ وجدال کا حکم ہوا۔ اور کعبہ میں ان کا داخلہ ممنوع قرار دیا گیا۔ جیسا کہ سورة توبہ کے آغاز میں مشرکین کے لیے احکام بیان ہوئے ہیں۔
Read the full tafseer →156 ۔ (ہماری طرف ہے کہ جب چاہیں ان پر عذاب نازل کردیں یا قبول ہدایت پر انہیں مجبور کردیں) اے قیم بامورھم فی مصالحھم لدینھم اودنیاھم حتی تلطف لھم فی تناول مایجب لھم (قرطبی) (آیت) ” ولوشآء اللہ ما اشرکوا “۔ یعنی اگر مشیت تکوینی یہی ہوتی تو خلقت قبول ہدایت پر مجبور ومضطر ہوتی اور اپنا کوئی اختیار و ارادہ بھی اس باب میں نہ پاتی، لیکن مشیت تکوینی نے یہ نظام ہی سرے سے نہیں رکھا ہے۔ بلکہ ہر شخص کو قبول ہدایت میں انتخاب واختیار کی آزادی دے رکھی ہے۔ شرک بھی مشیت تکوینی سے باہر نہیں، جیسا کہ بعض گمراہ فرقوں نے سمجھ رکھا ہے بلکہ اس کے تحت ہی میں ہے۔ نص علی ان الشرک بمشیتہ وھو ابطلال لمذھب القدریۃ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–107
وکذلک نصرف الآیات، یعنی ہم توحید اور اس کے دلائل کو اس طرح کھول کھول کر اور مختلف انداز سے بیان کرتے ہیں کہ مشرکین یہ کہنے لگتے ہیں کہ محمد ﷺ کسی سے بڑھ کر اور سیکھ کر آتا ہے حالانکہ حقیقت ایسی نہیں ہے۔
وما انت علیھم بوکیل، مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ کو صرف داعی اور مبلغ بنا کر بھیجا گیا ہے کو توال نہیں، آپ کا کام صرف اتنا ہے کہ لوگوں کے سامنے اظہار حق کردیں اور اظہار حق میں اپنی حد تک کوئی کسر نہ اٹھا رکھیں، اب اگر کوئی قبول نہیں کرتا تو نہ کرے، اس کا بار آپ کے اوپر نہیں اور نہ آپ کی یہ ذمہ داری، اگر فی الواقع حکمت الہیٰ کا تقاضہ یہ ہوتا کہ دنیا میں کوئی باطل پرست نہ رہے تو اس کا ایک ہی تکوینی اشارہ…
Read the full tafseer →ولو شآء اللہ ما اشرکوا اور اگر (ان کو مؤمن بنانا) چاہتا تو وہ شرک نہ کرتے۔ مگر اللہ کی بات تو پوری ہونی ہے کہ میں جہنم کو جن و انس سے بھر دوں گا۔ یہ آیت بتارہی ہے کہ کفر و ایمان ہر ایک اللہ کے ارادہ کے تحت ہوتا ہے اور اللہ کے ارادہ کا پورا ہونا ضروری ہے۔ فرقۂ معتزلہ کی رائے اس کے خلاف ہے (ان کا قول ہے کہ اللہ کفر کا ارادہ نہیں کرتا بندہ خود کفر کا ارادہ کرتا ہے)
وما جعلنک علیہم حفیظا اور ہم نے آپ کو ان کا نگراں نہیں بنایا کہ آپ ان کے اعمال کی چوکیداری کریں اور ان کے جرم کا آپ سے مؤاخذہ ہو۔ عطاء نے اس طرح تشریح کی ہے ہم نے آپ کو ان کا نگہبان و محافظ نہیں بنایا کہ اللہ کے عذاب سے آپ ان کو بچا…
Read the full tafseer →(107) اور ان مذاق اڑانے والوں کا خیال نہ کیجیے ان میں ولید بن مغیرہ، عاص بن وائل، اسود بن عبد یغوث، اسود بن حارث اور حارث بن قیس اگر اللہ تعالیٰ کو منظور ہوتا تو یہ شرک نہ کرتے اور آپ ان کے نگران اور مختار نہیں ہیں۔
Read the full tafseer →وَلَوْ شَاۗءَ اللّٰهُ مَآ اَشْرَكُوْا ۭ۔۔ : یعنی آپ ان کی حماقتوں اور کفر سے متاثر نہ ہوں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے اندر ایمان و کفر دونوں کی استعداد رکھی ہے اور اس سے ان کا امتحان مقصود ہے کہ شکر گزار بنتے ہیں یا کفر اختیار کرتے ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو ان کو فرشتوں کی طرح بھی بنا سکتا تھا کہ وہ فطری طور پر مومن ہونے کے ساتھ کفر یا نافرمانی کر ہی نہیں سکتے، بلکہ ہر طرح فرماں بردار ہیں، لیکن یہ اس کی حکمت کے خلاف ہے۔
Read the full tafseer →آیت نمبر 107
قولہ تعالیٰ آیت : ولو شاء اللہ ما اشرکوا یہ اس پر نص ہے کہ شرک اس کی مشیت کے ساتھ ہوتا ہے، اور یہ مذہب قدریہ کا بطلان ہے جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے۔ آیت : وما جعلناک علیھم حفیظا یعنی اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ان کی حفاظت اور نگہبانی کرنا آپ کے لیے ممکن نہیں ہے۔
آیت : وما انت علیھم بوکیل یعنی آپ ان کے امور اور معاملات کو ان کے دین یا ان کی دنیا کے مصالح اور منافع میں مضبوط اور پختہ کیجیے، یہاں تک کہ ان کے لیے اسے پانا آسان ہوجائے جو ان کے لیے واجب اور ضرور ہے۔ پس اس بارے میں نہ آپ نگہبان ہیں اور نہ ہی ذمہ دار ہیں، بلاشبہ آپ تو صرف مبلغ ( اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے والے ہیں) اور یہ جنگ…
Read the full tafseer →(1) ابن ابی حاتم اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ولوشاء اللہ ما اشرکوا کہ اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتے ہیں اگر میں چاہتا تو ان سب کو ہدایت پر جمع کردیتا۔
(2) امام ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت وماانت علیھم بوکیل میں وکیل کا معنی ہے حفیظ یعنی حفاظت کرنے والا۔
Read the full tafseer →وَلَوْ [ اور اگر ] شَاۗءَ [ چاہتا ] اللّٰهُ [ اللہ ] [ مَآ اَشْرَكُوْا ۭ] تو یہ لوگ شرک نہ کرتے ] وَمَا جَعَلْنٰكَ [ اور ہم نے نہیں بنایا آپ کو ] عَلَيْهِمْ [ ان پر ] حَفِيْظًا ۚ [ کوئی نگرانی کرنے والا ] وَمَآ اَنْتَ [ اور آپ نہیں ہیں ] عَلَيْهِمْ [ ان کے ] بِوَكِيْلٍ [ کوئی کارساز ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–107
پھر فرمایا (اِتَّبِعْ مَآ اُوْحِیَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ ) کہ آپ اس کا اتباع کیجیے جس کی آپ کے رب کی طرف سے آپ کو وحی کی گئی۔ اس کا آپ فکر نہ کیجیے کہ کون راہ راست پر آتا ہے تکوینی طور پر کچھ لوگ ایسے ہیں جو نہیں مانیں گے اور کچھ ایسے ہیں جو مان لیں گے یہ تکوینی فیصلے اللہ تعالیٰ کی حکمت کے موافق ہیں اگر اللہ چاہتا تو یہ شرک نہ کرتے لیکن سب کچھ اس کی مشیت اور ارادہ و حکمت کے موافق ہے آپ اپنا کام کریں یعنی پہنچا دیں۔ (وَ مَا جَعَلْنٰکَ عَلَیْھِمْ حَفِیْظًا) اور ہم نے آپ کو ان کا نگران نہیں بنایا عمل کریں نہ کریں یہ جانیں۔ (وَ مَآ اَنْتَ عَلَیْھِمْ بِوَکِیْلٍ ) آپ ان پر داروغہ بنا کر مسلط نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–110
ابطال عقیدہ ابنیت
قال اللہ تعالیٰ بدیع السموات والارض انی یکون لہ ولد۔۔۔ الی۔۔۔ وھو اللطیف الخبیر
(ربط) گذشتہ آیات میں جب توحید کی پانچ دلیلیں بیان کیں اور مشرکین کے عقائد شرکیہ کی تردید کی تو اب آئندہ آیات میں خاص طور پر نصاریٰ کے عقیدہ ابنیت کا ابطال فرماتے ہیں کہ خدا تعالیٰ اولاد سے پاک اور منزہ ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں وہ بغیر مادہ اور بغیر نمونہ کے آسمانوں اور زمین کا موجد ہے یعنی محض نیست سے ہست کرنے والا ہے یعنی یہ آسمان و زمین جو تمام عالم کو احاطہ کیے ہوئے ہیں سب اسی کا پیدا کیا ہوا اور بنایا ہوا ہے جس میں اھرمن بھی داخل ہے اور حضرت عزیر اور عیسیٰ (علیہما السلام) اور ان کی والدہ مریم…
Read the full tafseer →114 اس کے بعد وَلٰکِنْ لِّیَبْلُوَکُم مقدر ہے بقرینہ وَ لَوْ شَاء اللہُ لَجَعَلَکُمْ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً وَّ لٰکِنْ لِّیَبْلُوَکُمْ فِی مَا اٰتٰکُمْ (مائدہ) یعنی اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو سب کو جبرًا ایمان کی توفیق دے دیتا اور اس طرح ابتلاء و امتحان کی حکمت مفقود ہوجاتی۔ حفیظا ذمہ دار، وکیل داروغہ، آپ کے ذمہ صرف تبلیغ ہے اگر وہ نہ مانیں تو اس کی ذمہ داری آپ پر نہیں اور نہ آپ کو اس لیے بھیجا گیا ہے کہ آپ ان کو ماننے پر مجبور کریں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–107
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے شرک کے رد میں عقلی اور نقلی دونوں قسم کے دلائل بیان فرمائے اور ان کا ذکر آگے بھی آئے گا سابقہ کتب کا ذکر بھی ہوچکا ہے اور اللہ تعالیٰ نے انسانوں پر جو مختلف قسم کے انعامات فرمائے ہیں ان کا ذکر بھی ہوچکا ہے کائنات کی تخلیق اور اس کے چلانے والے نظاموں کے متعلق بیان ہوچکا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ دلائل قدرت بیان کر کے اپنی ذات وصفات کو سمجھنے کی تعلیم دی ہے۔
اس سے پہلے انسان کی تخلیق ، رات دن کے اختلاف ، چاند اور سورج کی مسافرت ، ستاروں اور سیاروں پر مربوط نظام ۔ آسمان سے بارش کے نزول اور اس کے ذریعہ سبز ، اناج اور پھلوں کی فراوانی خاص طور پر کھجور ، انگور ، زیتون ،…
Read the full tafseer →وَلَوْ شَاۗءَ اللہُ مَآ اَشْرَكُوْا 0ۭ وَمَا جَعَلْنٰكَ عَلَيْہِمْ حَفِيْظًا 0ۚ وَمَآ اَنْتَ عَلَيْہِمْ بِوَكِيْلٍ 107
لو
لَوْ : قيل : هو لامتناع الشیء لامتناع غيره، ويتضمّن معنی الشرط نحو : قوله تعالی: قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ [ الإسراء/ 100] .
( لو ) لو ( حرف ) بعض نے کہا ہے کہ یہ امتناع الشئی لا متناع غیر ہ کے لئے آتا ہے ( یعنی ایک چیز کا دوسری کے امتناع کے سبب ناممکن ہونا اور معنی شرط کو متضمن ہوتا ہے چناچہ قرآن پاک میں ہے : ۔ قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ [ الإسراء/ 100] کہہ دو کہ اگر میرے پروردگار کی رحمت کے خزانے تمہارے ہاتھ میں ہوتے ۔
شاء
والْمَشِيئَةُ عند أكثر المتکلّمين…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–107
ترکیب : من ربکم جاء سے متعلق ہے۔ فمن شرط یا مبتداء ابصر جواب یا خبر وکذالک کاف موضع نصب میں صفت ہے مصدر محذوف کی اے نصرف الآیات تصریفا مثل ماتلونا ولیقولوا لام عاقبت ولیقولوا معطوف ہے محذوف برائے کذلک نصرف الآیات لتلزمھم الحجۃ ولیقولوا ولنبینہ معطوف ہے لیقولوا پر واللام علی الاصل والضمیر للآیات باعتبار المعنی او للقرآن۔
تفسیر : اپنی ذات وصفات و توحید پر دلائل بیان کرکے مشرکین کو ان کی نادانی پر کہ وہ اور چیزوں کو اس کے ساتھ شریک کرتے تھے الزام دے کر ایک اعلان عام دیتا ہے کہ یہ جو کچھ بیان ہوا ہے خدا کی طرف سے بصائر (جمع بصیرۃ ای الا ادراک التام) یعنی سوجھ و بوجھ ہے کہ جس سے انسان کی آنکھیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–107
اِتَّبِعْ مَآ اُوْحِیَ اَلَیْکَ مِنْ رّبِّکَ ج لَآ اِلٰہَ اِلَّاھُوَ ج وَاَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِکِیْنَ ۔ وَلَوْ شَآئَ اللہ ُ مَآ اَشْرَکُوْا ط وَمَا جَعَلْنٰکَ عَلَیْھِمْ حَفِیْظًا ج وَمَآ اَنْتَ عَلَیْھِمْ بِوَکِیْلٍ ۔
(الانعام : 106۔ 107)
(تم بس اس چیز کی پیروی کرو جو تمہارے رب کی طرف سے تم پر وحی کی جا رہی ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور مشرکوں سے اعراض کرو اور اگر اللہ چاہتا تو یہ شرک نہ کر پاتے اور ہم نے تم کو ان پر نگران نہیں مقرر کیا ہے اور نہ تم ان کے ضامن ہو)
اللہ کا رسول اسی کی پیروی کرتا ہے جو اس پر نازل ہوتا ہے
آنحضرت ﷺ سے فرمایا جا رہا ہے کہ مشرکین مکہ کا رویہ کچھ بھی ہو مخالفت…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : پچھلی آیات کے آخر میں مختلف الفاظ اور انداز میں نبی کریم ﷺ کو ڈھارس اور تسلی دی گئی ہے کہ آپ اپنا کام جاری رکھیں، توحید کے عقیدہ پر پکے رہ کر اللہ کی عبادت کرتے رہیں اور مخالفوں کو خاطر میں نہ لائیں۔
یہاں کھول کر بیان کردیا گیا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو یہ لوگ اللہ کی ذات کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنا سکتے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی مشیت یہ ہے کہ یہ لوگ شرک کی ضلالت میں مبتلا رہیں۔ اس بات کی پہلے بھی دلائل کی روشنی میں صراحت کی جا چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے کسی کو ہدایت پر گامزن نہ کرنے یا گمراہی میں مبتلا رکھنے کا یہ معنیٰ نہیں کہ رب ذوالجلال انھیں خود ہدایت سے محروم اور شرک…
Read the full tafseer →اگر زبردستی ایمان دینا ہوتا تو یہ شرک نہ کرتے مگر…:
آیت 107 : وَلَوْ شَآئَ اللّٰہُ مَآ اَشْرَکُوْا ان کا ایمان یہاں مفعول محذوف ہے۔ مَآ اَشْرَکُوْا اس سے واضح کردیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی مشیّت کے بغیر شرک نہیں کرتے۔ اگر اللہ ان میں ایمان اختیار کرنا جانتے تو ان کو ہدایت دیتے۔ لیکن ان کا شرک اختیار کرنا اس کو معلوم ہے پس ان کا شرک پھیل گیا۔ پس اس کی مشیّت سے انہوں نے شرک کیا۔ وَمَا جَعَلْنٰکَ عَلَیْہِمْ حَفِیْظًاہم نے آپ کو ان پر ان کے اعمال کی نگرانی کرنے والا بنا کر نہیں بھیجا۔ کہ کل ان کے جرائم میں آپ کو پکڑا جائے۔ وَمَآ اَنْتَ عَلَیْہِمْ بِوَکِیْلٍنہ ہی آپ ان پر مسلّط ہیں۔
Read the full tafseer →107 (ولو شآء اللہ ما اشرکوا) یعنی اگر چاہتا تو سب مئومن ہوتے (وما جعلنک علیھم حفیظاً ) عطاء (رح) فرماتے ہیں کہ آپ کو اس لئے نہیں بھیجا گیا کہ مشرکین کی اللہ کی عذاب سے حفاظت کریں آپ تو صرف مبلغ بنا کر بھیجے گئے ہیں (وما انت علیھم بوکیل )
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–107
(104 ۔ 107) ۔ آنکھوں میں ہر چیز کے دیکھنے کی جو قوت ہے اس کو بصارت کہتے ہیں اور دل میں ہر چیز کے سمجھنے کی جو قوت ہے اس کو بصیرت کہتے ہیں بصائر بصیرت کی جمع ہے۔ شروع سورة سے توحید الٰہی اور قدرت الٰہی کو جو آیت قرآنی گذریں ان کو بصائر فرمایا مطلب یہ ہے کہ شروع سورة سے یہاں تک جو آیتیں گذریں وہ سمجھ دار آدمی کے دل میں قدرت نے ان کو بصائر فرمایا مطلب یہ ہے کہ شروع سورة سے یہاں تک جو آیتیں گذریں وہ سمجھ دار آدمی کے دل میں قدرت الٰہی کا اثر ڈالنے کے لیے اور اس اثر سے توحید الٰہی اس کے دل میں پیدا ہوجانے کے لیے کافی ہیں اب جو کوئی ان آیتوں کو سن کر ان کی نصیحتوں کے موافق عمل کرے گا اس کے عقبی درست…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–108
آیت 105
اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو ایک ایسے کام سے روکا ہے جو بنیادی طور پر جائز بلکہ مشروع ہے اور وہ ہے مشرکین کے معبودوں کو سب و شتم کرنا۔ جن کے بت بنائے گئے اور جن کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ معبود بنا لیا گیا ہے، ان کی اہانت اور سب و شتم سے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہوتا ہے، لیکن چونکہ یہ سب و شتم مشرکین کے لئے اللہ رب العالمین کو سب و شتم کرنے کا ذریعہ بن جاتا ہے جس عظیم ذات کی، ہر عیب و آفت اور سب و شتم سے تنزیہہ واجب ہے، اس لئے مشرکین کے معبودوں کو برا بھلا کہنے سے روک دیا گیا ہے، کیونکہ وہ اپنے دین میں متعصب ہیں اور اپنے دین کے لئے جوش میں آجاتے ہیں، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر قوم کے اعمال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–107
رئویت باری تعالیٰ
قول باری ہے ( لا تدرکہ الابصارو ھو یدرک الابصار۔ نگاہیں اس کو نہیں پا سکتیں اور وہ نگاہوں کو پا لیتا ہے) کہا جاتا ہے کہ ادراک کے اصل معنی لحقو یعنی پالینے اور جا لینے کے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ مثلاً آپ کہتے ہیں ” ادرک زمان المنصور “ یا ” ادرک ابا حنیفۃ “ ( اس نے خلیفہ منصور کا زمانہ پایا تھا یا اس اس نے امام ابوحنیفہ کو پایا تھا) نیز ” ادرک الطعام “ یا ” ادرک الزرع و الثمرۃ “ ( طعام پک کر تیار ہونے کے مرحلے کو پہنچ گیا یا فصل پک گئی پھل پک گئے) اسی طرح کہا جاتا ہے ” ادرک الغلام “ ( لڑکا بالغ ہوگیا) یعنی بالغ مردوں کی حالت کو پہنچ گیا۔ آنکھوں کا کسی چیز کو ادراک کرلینے کے معنی ہیں کہ…
Read the full tafseer →204 جبری ایمان نہ مطلوب ہے نہ معتبر : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ جبری ایمان نہ مطلوب ہے نہ معتبر ورنہ اگر اللہ چاہتا تو یہ لوگ کبھی شرک نہ کرتے کہ ان کو طبعی اور جبری طور پر ایسا بنادیا جاتا کہ یہ اس کی مشیت کے خلاف کچھ کر ہی نہ سکتے، جیسا کہ کائنات کی ہر چیز اس کی مشیت وتکوین کی پابند ہے۔ مگر ایسا جبری ایمان تو اسے منظور ہی نہیں کہ یہ ابتلاء و آزمائش کے مقتضیٰ کے خلاف ہے۔ اور اس کے یہاں منظور و معتبر و ہی ایمان ہے جو اپنی مرضی و اختیار سے ہو کہ ثواب و عقاب اور جزا و سزا کا دارومدار اسی پر ہے۔ پس جو اپنی مرضی اور سچے دل سے ایمان لائے گا وہی انعام کا مستحق قرار پائے گا۔ اور جو اس سے منہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–107
کامیابی کا راستہ
تشریح : اللہ جل شانہ کی تمام تخلیقات کو بڑی وضاحت سے بیان کرنے کے بعد اس کے واحد ہونے کا یقین دلا دیا گیا تو اب فرمایا کہ جو لوگ قرآن کو سوچ سمجھ کر پوری توجہ اور عقل و فہم کو کام میں لاتے ہوئے پڑھتے ہیں تو ظاہر ہے ایسے ہی لوگوں کا ایمان مضبوط ہوتا ہے اور وہ بیشمار حکمت کی باتیں قرآن میں سے حاصل کر کے اپنی زندگیاں سنوارتے ہیں اللہ کے نیک بندے ایسے ہی ہوتے ہیں اور جو وہ نیکی کی راہ اختیار کرتے ہیں تو اپنا ہی بھلا کرتے ہیں اور جو آنکھیں بند کر کے بےسوچے سمجھے پڑھ جاتے ہیں تو وہ اپنا ہی نقصان کرتے ہیں کیونکہ وہ ایمان کے نور سے محروم رہ کر ذلیل و خوار ہوتے ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–111
رکوع نمبر 13 ۔ آیات 102 تا 111:
اسرار و معارف :
وہ تو ارض و سما کا بنانے والا اور ایسا بنانے والا ہے جس نے تخلیق کی ابتدا فرمائی نہ یہ کہ پہلے کوئی چیز تھی اور دیکھ کر یا مختلف اشیاء کا وجود تھا انہیں جوڑ کر زمین آسمان بنا دئیے بلکہ کچھ بھی نہ تھا پردہ عدم سے اشیاء کو وجود میں لایا اور اس کی اپنی اکیلی عظیم ذات کے علاوہ جو کچھ بھی ہے وہ اس کی مخلوق ہے ہر چیز کو اس نے پیدا فرمایا ہے اور وہ اکیلا خالق ہے نادانو بیٹا تو باپ کی جنس اور انہیں صفات کا حامل ہوتا ہے۔ جیسے انسان کا بچہ کیسا بھی ہو انسان تو ضرور ہوگا جب بیٹا ہو ناممکن ہے تو وہ اپنی شان اور ذات میں اکیلا تو نہ رہا پھر تو اس کے لیے بیوی…
Read the full tafseer →ف 9 یعنی آپ ﷺ ان کی حماقتوں اور کفر سے متاثر نہ ہوں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے اندر ایمان وکفر دونوں کی استعداد رکھی ہے اور اس سے ان کا امتحان مقصود ہے کہ شکر گزار بنتے ہیں یا کفر اختیار کرتے ہیں اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو ان کو فرشتوں کی طرح بھی بنا سکتا تھا کہ فطری طور پر مومن اور تابعدار ہیں لیکن یہ اسکی حکمت کے خلاف تھا
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–107
(6:106) لا الہ الا ھو۔ جملہ معترضہ ہے جو معطوف اور معطوف علیہ کے درمیان آگیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–107
لغات القرآن : آیت نمبر 105 تا 107 :
درست ( تو نے کسی سے) پڑھا ہے۔
تشریح : آیت نمبر 105 تا 107 :
توحید و رسالت پر واضح دلائل پچھلی آیات میں پیش کئے گئے۔ ان میں بصارت اور بصیرت دونوں کو جھنجوڑا گیا جس کے نتیجے میں لوگوں کی دو واضح قسمیں سامنے آئیں۔ ایک وہ جو دین اسلام سے متاثر ہوئے اور کفر و شرک چھوڑ کر اسلام میں داخل ہوگئے۔ لیکن وہ ضدی ہٹ دھرم بر خود غلط طبقہ جسے نہ ماننا تھا نہ مانا اور نہ ماننے کا جو بہانہ ڈھونڈا وہ بھی بھونڈا یعنی اے نبی ﷺ ! یہ قرآن جو آپ پیش کررہے ہیں۔ یہ وحی الٰہی نہیں ہے۔ یہ تو آپ ﷺ کسی سے سن کر اور سیکھ کر لائے ہیں ‘ اور ہم لوگوں پر رعب ڈال رہے ہیں۔ (نعوذ باللہ)
مگر وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–110
مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ اب جو کوئی ان آیتوں کو سن کر ان کی نصیحتوں کے موافق عمل کرے گا اس کی عقبیٰ درست ہوجائے گی، اور جو کوئی ان نصیحتوں کے بعد بھی کورا باطن رہے گا اس کا خمیازہ اس کو بھگتنا پڑے گا۔ پھر فرمایا :” اے رسول اللہ کے ! ﷺ تم ان لوگوں سے کہ دو کہ میں فقط اللہ کا حکم پہچانے والا ہوں، تمہاری بد اعمالی کی گرفت میرے ہاتھ میں نہیں ہے وہ تو اللہ کے اختیار میں ہے۔ وہ جب چاہے گا تمہاری بد اعمالی کا مواخذہ فرمادے گا۔ مشرکین مکہ قرآن شریف کی آیتوں کو جھٹلاتے اور کہتے تھے کہ ” اس کے وبال سے ہم پر کوئی آسمانی عذاب کیوں نہیں آتا “۔ اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی معرفت قرآن شریف میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–110
[39] یعنی حق کی طلب و تلاش چونکہ ان میں سرے سے ہے ہی نہیں اس لئے اللہ کے مقررہ قانون کے بموجب ان کی سمجھ اور ان کی نظر کام نہیں دے گی اور وہ بدستور بھٹکتے رہیں گے۔
Read the full tafseer →(ف 5) غرض یہ ہے کی اختلاف ناگزیر ہے اللہ چاہتا ہے حق و باطل میں امتیاز رہے ، دن اور رات میں تفاوت رہے ، تاکہ موحدین کو اجر دیا جائے اور وہ جو شرک کی تاریکیوں میں گرفتار ہیں ، انہیں سزا دے ،
مقصد یہ نہیں کہ خدا شرک وبت پرستی سے خوش ہے ، بلکہ اس کی مشیت تکوینی کا اقتضاء یہی ہے کہ حق کے ساتھ ساتھ باطل کو بھی رکھا جائے ۔
مشیت تشریعی اور مشیت تکوینی میں یہی مابہ الامتیاز ہے ۔
Read the full tafseer →-107 اور اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو یہ لوگ شرک نہ کرتے اور ہم نے آپ کو ان پر نگہبان اور نگراں مقرر نہیں کیا ہے اور نہ آپ ان پر مختار کار ہیں کہ آپ ان کو ایمان پر مجبور کریں یعنی اگر اللہ تعالیٰ کو منظور ہوتا تو یہ لوگ شرک نہ کرتے لیکن حضرت حق جل مجدہ، ان کی بعض شرارتوں کے باعث ان کو سزا دینا چاہتا ہے اس لئے آپ ان پر افسوس نہ کیجیے اور آپ ان پر کوء نگراں نہیں مقرر ہوئے ہیں اور نہ آپ ان کے مختار کار ہیں کہ ان کو مسلمان کرنے پر مجبور کریں بلکہ آپ تو صرف پہونچانے الے ہیں سو ان کو تبلیغ کرتے رہئیے۔
Read the full tafseer →ف 1۔ اوپر کے مضامین میں طریق مشرکین کا ابطال اور نیز مضامین مذکورہ کے ساتھ اس کی تبلیغ کا امر بھی کیا گیا ہے آگے مشرکین کے معبودات باطلہ کو سب وشتم کرنے سے مسلمانوں کو ممانعت فرما کر تبلیغ دین کے حدود قائم کرتے ہیں جس حاصل یہ ہے کہ غیر قوم سے مناظرہ کرنا تو جزو تبلیغ ہے لیکن دشنامی اور دل خراش الفاظ ان کے معظمین کے حق میں کہنا ممنوع لغیرہ ہے کہ وہ ہمارے معبود یارسل کی شان میں گستاخی کریں گے تو گویا اس کے باعث ہم ہوئے۔
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ لوگوں کو شرک نہ کرنے پر مجبور کرسکتا تھا ، آپ ﷺ ان کے ذمہ دار نہیں :
160: غور کریں کہ مخلوق خداوندی کی کتنی اقسام ہیں جو شمار کرنے سے شمار نہیں کی جاسکتی پھر ان سب کو مجبور محض پیدا کرنا مشیت الٰہی میں طے تھا اور وہی کچھ ہوا۔ کتنے کتنے بڑے حیوانات و نباتات آپ دیکھتے ہیں کیا ان سب میں کوئی شرک کا مرتکب ہوتا ہے ؟ نہیں۔ کیوں ؟ اس لئے کہ قانون قدرت نے انکو اختیار نہیں دیا لیکن اللہ کی مشیت انسان کے بارے میں یہ نہیں ہے کہ وہ حیوانات ونباتات اور ایسی ہی دوسری مخلوقات کی طرح اس کو بھی جبلی طور پر ایک لگے بندھے راستے کا پابند بنا دیتا ہے جس سے ہٹ کر وہ چل ہی نہ سکتا۔ اگر یہ اس کی مشیت…
Read the full tafseer →The reason for this has been given in the fifth verse (107). There it has been said: If Allah Ta` ala had willed - in consideration of His own creational imperative - that the whole human race should become Muslim in faith, then, it would have become impossible for them to associate partners in the Divinity of Allah (Shirk). But, it was because of their misdeeds that Allah willed that they be punished. So, He created the necessary conditions for that end. Now, how could he make them Muslims under these circumstances? In fact, why should he worry about what they choose to do with their lives?…
Read the full tafseer →71. It is emphasized that the Prophet (peace be on him) is only required to preach the Truth and try to call people to embrace it. His responsibility ends at that for he is, after all, not their warden. His task is to present this guidance and spare no effort in elucidating the Truth. Anyone who still rejects it does so on his own responsibility. It is not part of the Prophet's task to compel anybody to follow the Truth, and he will not be held accountable for not having been able to bring an individual out of the fold of falsehood. Hence he should not overstrain his mind by his desire to…
Read the full tafseer →