Explained with ayahs 22–24
تنگی اور آسانی کی طرف سے ہے
اللہ تعالیٰ اپنی اس قدرت کی خبر دے رہا ہے جو اس نے مخلوقات کی پیدائش سے پہلے ہی اپنی مخلوق کی تقدیر مقرر کی تھی، فرمایا کہ زمین کے جس حصے میں کوئی برائی آئے یا جس کسی شخص کی جان پر کچھ آپڑے اسے یقین رکھنا چاہئے کہ خلق کی پیدائش سے پہلے ہے، لیکن زیادہ ٹھیک بات یہ ہے کہ مخلوق کی پیدائش سے پہلے ہے، امام حسن سے اس آیت کی بابت سوال ہوا تو فرمانے لگے سبحان اللہ ہر مصیبت جو آسمان و زمین میں ہے وہ نفس کی پیدائش سے پہلے ہی رب کی کتاب میں موجود ہے اس میں کیا شک ہے ؟ زمین کی مصیبتوں سے مراد خشک سالی، قحط وغیرہ ہے اور جانوں کی مصیبت درد دکھ اور بیماری ہے، جس کسی کو کوئی خراش…
Read the full tafseer →سورة الْحَدِیْد 43
یہ اشارہ ہے اس سیرت کی طرف جو خود مسلم معاشرے کے منافقین میں اس وقت سب کو نظر آ رہی تھی۔ ظاہری اقرار ایمان کے لحاظ سے ان میں اور مخلص مسلمانوں میں کوئی فرق نہ تھا۔ لیکن اخلاص کے فقدان کی وجہ سے وہ اس تربیت میں شامل نہ ہوئے تھے جو مخلصین کو دی جا رہی تھی، اس لیے ان کا حال یہ تھا کہ جو ذرا سی خوشحالی اور مشیخت ان کو عرب کے ایک معمولی قصبے میں میسر آئی ہوئی تھی وہی ان کے چھوٹے سے ظرف کو پھلائے دے رہی تھی، اسی پر وہ پھٹے پڑتے تھے، اور دل کی تنگی اس درجے کی تھی کہ جس خدا پر ایمان لانے اور جس رسول کے پیرو ہونے اور جس دین کو ماننے کا دعویٰ کرتے تھے اس کے لیے خود ایک پیسہ تو کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
(آیت) لِّكَيْلَا تَاْسَوْا عَلٰي مَا فَاتَكُمْ وَلَا تَفْرَحُوْا بِمَآ اٰتٰىكُمْ ، مطلب اس آیت کا یہ ہے کہ دنیا میں جو کچھ مصیبت یا راحت، خوشی یا غم انسان کو پیش آتا ہے وہ سب حق تعالیٰ نے لوح محفوظ میں انسان کے پیدا ہونے سے پہلے ہی لکھ رکھا ہے، اس کی اطلاع تمہیں اس لئے دی گئی تاکہ تم دنیا کے اچھے برے حالات پر زیادہ دھیان نہ دو ، نہ یہاں کی تکلیف و مصیبت یا نقصان و فقدان کچھ زیادہ حسرت و افسوس کرنے کی چیز ہے اور نہ یہاں کی راحت و عیش یا مال و متاع اتنا زیادہ خوش اور مست ہونے کی چیز ہے جس میں مشغول ہو کر اللہ کی یاد اور آخرت سے غافل ہوجاؤ۔
حضرت عبداللہ بن عباس نے فرمایا کہ ہر انسان طبعی طور پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
(لکیلا تا سوا علی ما قد تکم ولا تفرحوا بما اتکم واللہ لا یحب کل مختال فخور الذین یبخلون و یامرون الناس بالبخل ومن یتول فان اللہ ھو الغنی الحمید) (23، 24)
(تقدیر کا فلسفہ)۔ یہاں لگی سے پہلے کچھ حذف ہے۔ اس کو کھول دیجیے تو پوری بات یوں ہوگی کہ اس موقع پر تمہیں اس حقیقت کی یاددہانی اس لیے کرائی جا رہی ہے کہ نہ تم کسی چیز کے قوت ہونے پر غور کرو اور نہ کسی چیز پر جو تمہیں ملے اترائو اور فخر کرو، بلکہ اس عقیدے کی روشنی میں تمہارا کردار یہ ہونا چاہیے کہ تمہیں کوئی جانی یا مالی نقصان پہنچے تو اس پر صبر کرو کہ یہ نوشتہ تقدیر کے مطابق پہنچا ہے اور اسی میں اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے اور اگر کوئی نفع پہنچے…
Read the full tafseer →24-1یعنی انفاق فی سبیل اللہ سے، کیونکہ اصل بخل یہی ہے۔
Read the full tafseer →19: چونکہ اس سورت میں لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے راستے میں اپنا مال خرچ کرنے کی ترغیب دی گئی ہے، اس لئے یہاں فرمایا جارہا ہے کہ جو لوگ تقدیر پر ایمان نہیں رکھتے، وہ اپنے مال کو تنہا اپنی کوشش کا پھل سمجھ کر شیخی بگھارتے ہیں اور نیک کاموں کے لئے کچھ خرچ کرنے میں کنجوسی سے کام لیتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
لکیلا .................... اتاکم (64 : 32) ” تاکہ جو کچھ بھی نقصان تمہیں ہو اس پر تم دل شکستہ نہ ہو ، اور جو کچھ اللہ تمہیں عطا فرمائے اس پر پھول نہ جاؤ۔ “
لہٰذا نظر کا آفاقی ہوجانا اور اپنا معاملہ عظیم کائنات سے کرنا ، ازل اور ابد سوچنا ، اور جو کچھ پیش آتا ہے اسے کتاب تقدیر کا فیصلہ سمجھنا ، ان سب چیزوں سے نفس انسانی وسعت اختیار کرلیتی ہے انسان بڑا ہوتا ہے ، ثابت قدم ہوتا ہے ، اور واقعات وحادثات کا ڈٹ کر فیصلہ کرتا ہے اور حرکت کائنات کے دوران اسے جو کچھ پیش آتا ہے نفس انسانی اس سے کامیابی سے گزرتا ہے۔
جب انسان اپنے آپ کو اس عظیم کائنات سے علیحدہ کرلیتا ہے تو اسے پیش آنے والے واقعات کے نتیجے…
Read the full tafseer →8 اکثر متکبر مالداروں کی حالت یہ ہوتی ہے کہ بڑائی اور شیخی تو بہت ماریں گے مگر خرچ کرنے کے نام پیسہ جیب سے نہ نکلے گا۔ کسی اچھے کام میں خود دینے کی توفیق نہ ہوگی اور اپنے قول و فعل سے دوسروں کو بھی یہ ہی سبق پڑھائیں گے۔ موقع پر بڑھ کر خرچ کرنا متوکلوں اور ہمت والوں کا کام ہے جو پیسہ سے محبت نہیں کرتے اور جانتے ہیں کہ سختی اور نرمی سب اسی مالک علی الاطلاق کی طرف سے ہے۔
9 یعنی تمہارے خرچ کرنے یا نہ کرنے سے اس کو کوئی فائدہ یا نقصان نہیں پہنچتا۔ وہ تو بےنیاز اور بےپروا ذات ہے۔ تمام خوبیاں علیٰ وجہ الکمال اس کی ذات میں جمع ہیں۔ تمہارے کسی فعل سے اس کی کسی خوبی میں اضافہ نہیں ہوتا۔ جو کچھ نفع…
Read the full tafseer →آیت 24{ الَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ وَیَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْـبُخْلِ } ”جو لوگ بخل سے کام لیتے ہیں اور لوگوں کو بھی بخل کا مشورہ دیتے ہیں۔“
جو شخص اپنی دولت پر اتراتا ہے وہ اسے بہت سنبھال سنبھال کر بھی رکھتا ہے ‘ کیونکہ اسی دولت کے بل پر تو اس کی اکڑ قائم ہوتی ہے۔ چناچہ وہ اس دولت کو بچا بچا کر رکھتا ہے اور نہ صرف خود بخل سے کام لیتا ہے بلکہ دوسروں کو بھی اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے روکتا ہے۔ دراصل اسے یہ اندیشہ لاحق ہوتا ہے کہ جب دوسرے لوگ اللہ کی راہ میں بڑھ چڑھ کر خرچ کریں گے تو اس کے بخل کا بھانڈا پھوٹ جائے گا۔ اس لیے وہ دوسروں کو بڑے مخلصانہ انداز میں سمجھاتا ہے کہ میاں ذرا اپنی ضروریات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
40 مسئلہ تقدیر کی مصلحت :۔ تقدیر کے اس مسئلے سے تمہیں اس لیے مطلع کرنا ضروری ہے کہ تمہیں جو بھی دکھ پہنچتا ہے وہ اللہ کے علم میں ہوتا ہے اور دنیا کی کوئی طاقت اسے روک نہیں سکتی۔ لہذا ایسے حالات میں تمہیں صبر و تحمل سے کام لینا چاہئے اور اگر نقصان ہوجائے تو اس کا غم نہ کرنا چاہئے۔ اور جب کوئی بھلائی پہنچے تو بھی تمہیں یہ سمجھنا چاہئے کہ یہ تمہاری اپنی حسن تدبیر یا تمہارے فعل کا نتیجہ نہ تھی بلکہ اللہ نے اسے تمہارے لئے مقدر کر رکھا تھا۔ لہذا تمہیں اس پر اترانے، پھولنے یا شیخیاں بگھارنے کے بجائے اللہ کا شکریہ ادا کرنا چاہئے۔ واضح رہے کہ بعض لوگ اپنی غلطیوں اور کمزوریوں پر پردہ ڈالنے کے لیے تقدیر…
Read the full tafseer →34۔ یہ وعید ہے اتراہٹ پر۔ (آیت) ” مختال فخور۔ مختال “۔ اور فخور “۔ دو لفظ آئے ہیں۔ اختیال کی بنیاد کمالات داخلی پر ہوتی ہے۔ مثلا علم عبادت وغیرہ اور فخر کی بنیاد کمالات خارجی پر مثلا مال وجاہ وغیرہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
لکیلا تاسوا علی مافاتکم (الآیۃ) یہاں جس حزن و فرح سے روکا یا ہے، وہ وہ غم اور خوشی ہے جو انسانوں کو ناجائز کاموں تک پہنچادیتی ہے، ورنہ تکلیف پر رنجیدہ اور راحت پر خوش ہونا یہ ایک فطری عمل ہے، اور اسلام دنیا فطرت ہے اس میں خالق فطرت نے انسانی فطرت کا پورا پورا لحاظ رکھا ہے، لیکن مومن تکلیف پر صبر کرتا ہے کہ یہی اللہ کی مشیت اور تقدیر ہے جزع فزع کرنے سے اس میں تبدیلی نہیں ہوسکتی اور راحت پر اتراتا نہیں ہے بلکہ اللہ کا شکر ادا کرتا ہے کہ یہ صرف اس کی اپنی سعی کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ اللہ کا فضل و کرم ہے اور اس کا احسان ہے۔
Read the full tafseer →” وہ ایسے ہیں کہ خود بھی بخل کرتے ہیں اور دوسرے لوگوں کو بخل کرنے کی تعلیم دیتے ہیں اور جو شخص روگردانی کرے گا تو اللہ بےنیاز اور سزاوار حمد ہے (اس کا کچھ نہیں بگڑے گا) ۔
وَمَنْ یَّتَوَلَّ : یعنی جو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے اعراض کرے گا ‘ کترائے گا۔
فَاِنَّ اللہ ھُوَ الْغَنِیُّ : اس سے یعنی اس کے اعراض سے اور راہ خدا میں خرچ نہ سے اللہ بےپرواہ ہے اور شکر نعمت جو موجب تقرب ہے اس سے بھی اللہ غنی ہے ‘ نہ اوّل سے اللہ کو کوئی ضرر پہنچتا ہے نہ دوسرے سے اس کو کوئی فائدہ ہے۔
اَلْحَمِیْدُ : یعنی اللہ بذاتہ ٖ مستحق حمد ہے (کوئی اس کی حمد کرے یا نہ کرے ‘ مترجم)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
(23۔ 24) مگر پھر بھی اس نے لوح محفوظ میں ان تمام چیزوں کو درج کردیا ہے تاکہ رزق و عافیت میں سے جو چیز تم سے جاتی رہے تم اس پر اتنا غم نہ کرو اور کہو کہ ہمارے بارے میں یہ چیز نہیں لکھی ہے اور تاکہ جو چیز تمہیں عطا کی ہے اس پر اتراؤ نہیں کہ کہنے لگو کہ اس نے ہمیں دی ہے۔
اور اللہ تعالیٰ کسی اترانے والے اور نعمت خداوندی پر شیخی بگھارنے والے کو پسند نہیں کرتا یا یہ کہ کفر میں اترانے والے اور شرک میں شیخی کرنے والے کو اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتا اور یہ یہودی لوگ ہیں کہ رسول اکرم کی نعت و صفت جو توریت میں موجود ہے اسے چھپاتے ہیں اور یہ حرکت کر کے دوسروں کو بھی بخل کی تعلیم دیتے ہیں۔
باقی جو ایمان سے…
Read the full tafseer →1۔ نِالَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ وَیَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ ط : مراد اس سے منافقین ہیں جو کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوچکے تھے ، مگر جب جہاد کا موقع آتا تو جنگ میں شرکت سے گریز کرتے اور خرچ کرنے سے بخل کرتے ، بلکہ اپنے ہم نواؤں کو بھی خرچ کرنے سے منع کرتے تھے ، جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا :(ھُمُ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ لَا تُنْفِقُوْا عَلٰی مَنْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللہ ِ حَتّٰی یَنْفَضُّوْاط وَ ِﷲِ خَزَآئِنُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَلٰـکِنَّ الْمُنٰـفِقِیْنَ لَا یَفْقَھُوْنَ (المنافقون : 7)”یہ وہی ہیں جو کہتے ہیں کہ ان لوگوں پر خرچ نہ کرو جو اللہ تعالیٰ کے رسول کے پاس ہیں ، یہاں تک کہ وہ منتشر…
Read the full tafseer →الذین یبخلون یعنی وہ مختال کو پسند نہیں کرتا جو بخل کرتے ہیں۔ الذبن محل جر میں ہے اور یہ مختال کی صفت ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا : یہ مبتدا ہونے کی حیثیت سے مرفوع ہے تقدیر کلام یہ ہے الذین یبخلون فاللہ غنی عنھم ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد یہودیوں کے رئیس ہیں جو نبی کریم ﷺ کی ایسی صافت کو بیان کرنے سے بخل کرتے تھے جو صفات ان کی کتابوں میں موجود تھیں تاکہ لوگ آپ کی ذات پر ایمان نہ لے آئیں تاکہ ان کا کھاجہ ختم نہ ہوجائے، یہ سدی اور کلبی کا قول ہے۔ سعید بن جبیر نے کہا، جو علم کے بارے میں بخل کرتے ویامرون الناس بالبحل اور لوگوں کو بھی یہ کہتے کہ وہ لوگوں کو کسی شی کی تعلیم نہ دیں۔
زید بن اسلم نے کہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
1۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ما اصاب من مصیبۃ فی الارض ولا فی انفسکم (کوئی مصیبت نہ زمین میں آتی ہے اور نہ تمہاری جانوں میں) یعنی نہ دنیا میں اور نہ دین میں آیت الا فی کتب من قبل ان نبرأہا۔ مگر وہ ایک کتاب میں کھی ہوئی ہے قبل اس کے کہ ہم ان کو پیدا کریں۔ آیت لکیلا تاسوا علی مافاتک یہ اس لیے ہے کہ جو چیز تم سے جاتی رہے تم اس پر غمگین نہ ہو۔ یعنی دنیا میں سے آیت ولاتفرحوا بما اٰتیکم۔ اور یعنی جو چیز تم کو دنیا میں مل جائے اس پر اترانے نہ لگو۔
2۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے آیت ما اصاب من مصیبۃ الایۃ کے بارے میں روایت کیا کہ یہ وہ چیز ہے جس سے فراغت ہوچکی…
Read the full tafseer →الَّذِيْنَ يَبْخَلُوْنَ : وہ لوگ جو کنجوسی کرتے ہیں ][ وَيَاْمُرُوْنَ النَّاسَ : اور ترغیب دیتے ہیں لوگوں کو ][ بِالْبُخْلِ : کنجوسی کی ][ ۭ وَمَنْ يَّتَوَلَّ : اور جو روگردانی کرتا ہے ][ فَاِنَّ اللّٰهَ : تو یقینا اللہ ][ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيْدُ : ہی بےنیاز ہے حمد کیا ہوا ہے ]
Read the full tafseer →چونکہ مال پر فخر کرنے والے مال سے محبت بھی کرتے ہیں اور یہ محبت ان کو کنجوسی پر آمادہ کرتی ہے اس لیے ﴿ا۟لَّذِيْنَ يَبْخَلُوْنَ ﴾ بھی فرمایا کہ یہ لوگ بخل کرتے ہیں (جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مبغوض چیز ہے) ﴿وَ يَاْمُرُوْنَ النَّاس بالْبُخْلِ 1ؕ﴾ (اور یہی نہیں کہ خود بخل کرتے ہیں بلکہ لوگوں کو بھی خرچ نہیں کرنے دیتے انکو بھی خیر کے کاموں میں خرچ کرنے سے منع کرتے ہیں دوسرے لوگ اگر اپنا مال اللہ کی رضا کے لیے خرچ کریں تو اس سے بھی کنجوس آدمی کا دل دکھتا ہے اور یہ جانتے ہوئے کہ اس کا مال مجھے نہیں مل جائے گا پھر بھی خیر کے کاموں میں خرچ کرنے سے روکتے ہیں بعض اہل خیر کو دیکھا گیا ہے کہ ہ اپنے کیشیئر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–24
تمثیل بےثباتی دنیا و عظمت خداوند خالق کائنات وتعلیم صبر و قناعت وتاکید فکر آخرت :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” اعلموا انما الحیوۃ الدنیا ...... الی ...... ھو الغنی الحمید “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں انسان کا دنیوی نعمتوں اور راحتوں میں لگ کریاد خدا اور فکر آخرت سے غلفت و لاپرواہی برتنے پر تنبیہ فرمائی گئی تھی اور یہ کہ یہ طریقہ اہل کتاب کا تھا اہل ایمان کو یہ بات زیب نہیں دیتی اب ان آیات میں دنیا اور دنیا کی لذتوں کی ناپائیداری بیان فرمائی جارہی ہے اور اسکی بےثباتی کا ایک نقشہ پیش کیا جارہا ہے تاکہ دنیا کی حقیقت سمجھی جاسکے، فرمایا ،
جان لو اس کے سوا کچھ نہیں کہ دنیا کی زندگی بس ایک کھیل اور تماشا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
26:۔ ” واللہ لا یحب “ یہ متکبروں اور بخیلوں کے لیے زجر و تہدید ہے۔ ” مختال “ اکڑ کر چلنے والا۔ ” فخور “ ڈینگیں مارنے والا۔ اللہ تعالیٰ کبر و بڑائی سے اکڑنے والوں اور ڈینگیں مارنے والوں کو پسند نہیں کرتا جو نہ خود نیکی کے راستے میں اپنا مال خرچ کرتے ہیں اور نہ دوسروں کو خرچ کرنے دیتے ہیں۔ بلکہ ان کو بخل کرنے تلقین کرتے ہیں۔ اصل میں بخل یہی ہے کہ آدمی اللہ کے دین اور توحید کی اشاعت میں خرچ نہ کرتے۔ ” ومن یتول “ یہ مذکورہ بالا پانچ وجوہ انفاق سے متعلق ہے۔ شرط کی جزاء مقدر ہے اور ” فان اللہ ھو الغنی الحمدی “ جزائے محذوف کی علت ہے مثلا ” ومن یتول فاف لہ “ قالہ الشیخ (رح) تعالی۔ یعنی جو شخص اس قد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
ربط آیات :
گزشتہ آیات میں انفاق فی سبیل اللہ کا ذکر ہوا ، دنیا کی لہو ولعب زیب وزینت اور مال واولاد کی کثرت طلب کو مہلک قرار دیا گیا۔ دنیا کی بےثباتی کا ذکر کرکے خدا تعالیٰ کی بخشش ومغفرت اور وسیع وعرویض جنت کی طرف سبقت کرنے کی ترغیب دی گئی پھر فرمایا کہ یہ جنت ان لوگوں کے لئے تیار کی گئی ہے جو اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے اور جنہوں نے اللہ کی آخری کتاب قرآن کریم کے نظام کے قیام کے لئے مال صرف کیا۔ جس کا معاوضہ اللہ کے ہاں ملنے والا ہے۔
اندرونی اور بیرونی مصائب :
بعض لوگ مال کو اللہ کے راستے میں اس لئے خرچ نہیں کرتے کہ یہ مال ان کی مصیبت میں کام آئے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس نظریہ کی…
Read the full tafseer →الَّذِيْنَ يَبْخَلُوْنَ وَيَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ 0 ۭ وَمَنْ يَّتَوَلَّ فَاِنَّ اللہَ ہُوَالْغَنِيُّ الْحَمِيْدُ 24
بخل
البُخْلُ : إمساک المقتنیات عمّا لا يحق حبسها عنه، ويقابله الجود، يقال : بَخِلَ فهو بَاخِلٌ ، وأمّا البَخِيل فالذي يكثر منه البخل، کالرحیم من الراحم .
والبُخْلُ ضربان : بخل بقنیات نفسه، وبخل بقنیات غيره، وهو أكثرها ذمّا، دلیلنا علی ذلک قوله تعالی: الَّذِينَ يَبْخَلُونَ وَيَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ [ النساء/ 37] .
( ب خ ل ) البخل ( دس ) اپنے جمع کردہ ذخائر کو ان جگہوں سے روک لینا جہاں پر خرچ کرنے سے اسے روکنا نہیں چاہیئے ۔ اس کے بالمقابل الجواد ہے بخل اس نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–24
ترکیب : عرضہا متبداء کعرض السماء الخ خبرہ والجملۃ صفۃ جنۃ۔ اعدت صفۃ اخری۔ فی الارض الجار یتعلق بمصیبۃ لانھا مصدرہ یجوزان تکون صفۃ لہا علی اللفظ اوالحل۔ و مثلہ ولافی انفسکم الافی کتاب حال ای مکتوبۃ۔ من قبل لغت اومتعلق بہ لکیلا کے ناصبۃ للفصل بمعنی ان (آسی) اندوہ و اندوہگیں شدن یسمع یسمع یقال آسی علی مصیبۃ ای حزن و آسیت لفاں اے حزنت لہ صراح۔
تفسیر : دنیا کی بےثباتی اور بےقدری بیان فرما کر کردارِ آخرت کی طرف توجہ دلاتا ہے جس کے لیے انسان اس فانی گھر میں چند روزہ مہمان بنایا گیا ہے فقال سابقوا الی مغقرۃ من ربکم الخ کہ ان کاموں کی طرف دوڑو اور جلد حاصل کرو کہ جو اللہ کی مغفرت اور حصول جنت کا باعث…
Read the full tafseer →الَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ وَیَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ ط وَمَنْ یَّتَوَلَّ فَاِنَّ اللّٰہَ ھُوَالْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ ۔ (الحدید : 24)
(جو خود بخل کرتے ہیں اور دوسروں کو بخل کا مشورہ دیتے ہیں، اور جو اعراض کرتے ہیں وہ یاد رکھیں کہ اللہ بےنیاز و ستودہ صفات ہے۔ )
مال و دولت پر اترانے والوں کو تنبیہ
خود پسند، اترانے والے اور فخر کرنے والے وہ لوگ نہیں ہوتے جن کے اعمال واطوار کا نقشہ گزشتہ آیات میں دیا گیا ہے۔ اور جن کی خصوصی حیثیت کے حوالے سے انھیں خصوصی ہدایات سے نوازا گیا ہے بلکہ یہ بیماریاں ان لوگوں میں پیدا ہوتی ہیں جو مال و دولت کو اپنی محنت کا ثمرہ اور اپنی کوششوں کا حاصل سمجھتے ہیں۔…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : جو لوگ کوئی چیز کھو بیٹھنے پر حد سے زیادہ افسوس کرتے ہیں اور جب انہیں کچھ میسر آتا ہے تو اس پر اتراتے ہیں ایسے لوگوں کی اکثریت بخل میں مبتلا ہوا کرتی ہے۔ اس لیے یہاں بخل کی مذمت کی گئی ہے۔
مال کے چھن جانے پر حد سے زیادہ دل گرفتہ ہونا اور اس کے حاصل ہونے پر اپنے آپ سے باہر ہوجانا اخلاقی کمزوریاں ہیں، ان کمزوریوں میں ایک کمزوری بخل ہے جس کا پہلا تعلق دل کے ساتھ ہوتا ہے دل میں استغنٰی اور اللہ پر توکل ختم ہوجائے تو آدمی نہ صرف خود بخل کا شکار ہوتا ہے بلکہ دوسروں کو بھی اچھے کاموں پر خرچ کرتے ہوئے دیکھ نہیں سکتا۔ یہاں تک اس کا بس چلتا ہے وہ عزیز و اقارب اور اپنے احباب کو…
Read the full tafseer →24 : الَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ (وہ ایسے ہیں کہ خود بھی بخل کرتے ہیں) یہ مبتدأ محذوف کی خبر ہے۔ نمبر 2۔ کل مختال فخور کا بدل ہے۔ گویا کلام اس طرح ہے لا یحب الذین یبخلون (اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو پسند نہیں کرتے جو بخل کرتے ہیں) وہ لوگ جو سرکشی والی خوشی میں مبتلا ہیں وہ یہ چاہتے ہیں جب ان کو مال ملے وہ اور دنیا کا حصہ پائیں تو وہ اس مال کی محبت کی وجہ سے اور ان کے نزدیک اس کی بڑائی کی وجہ سے وہ اللہ تعالیٰ کے حقوق سے منہ موڑتے اور اس میں بخل کرتے ہیں۔ وَیَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ (اور وہ دوسرے لوگوں کو بخل کرنے کی تعلیم دیتے ہیں) اور دوسروں کو بخل پر آمادہ کرتے ہیں۔ اور مال کے روک رکھنے کی…
Read the full tafseer →23 ۔” لکیلا تاسوا “ غم نہ کرو۔ ” علی مافاتکم “ دنیا سے۔ ” ولا تفرحوا بھا آتاکم “ ابوعمرو نے الف کے قصر کے ساتھ پڑھا ہے اللہ تعالیٰ کے فرمان ” فاتکم “ کی وجہ سے۔ پس فعل اس کے لئے بنادیا ہے اور دیگر حضرات نے ” اتاکم “ الف کی مد کے ساتھ پڑھا ہے۔ یعنی تم کو عطاء کیا۔ عکرمہ (رح) فرماتے ہیں ہر شخص کو خوشی وغمی آتی ہے لیکن تم اپنی خوشی کو شکر اور غم کو صبر بنائو۔” واللہ لا یحب کل مختال “ متکبر اس پر جو دنیا میں دیا گیا۔
” فخور “ اس کے ذریعے لوگوں پر فخر کرتا ہے۔ جعفر بن محمد صادق (رح) فرماتے ہیں اے ابن آدم ! تجھے کیا ہوگیا ہے تو مفقود چیز پر افسوس کرتا ہے اس کو تیرا فوت ہوجانا واپس نہیں کرسکتا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
22۔ 24۔ اس آیت کی تفسیر میں علماء مفسرین 3 ؎ کے چار قول ہیں پہلا قول تو یہ ہے کہ جو جانی یا مالی کوئی آفت یا مصیبت لوگوں پر دنیا میں آتی ہے اس مصیبت کے پیدا کرنے سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ نے اس مصیبت کے پہنچنے کا سارا حال لوح محفوظ میں لکھ لیا ہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ جن لوگوں پر وہ مصیبت اور آفت آتی ہے ان کے پیدا کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اس مصیبت کا حال لوح محفوظ میں لکھ لیا ہے۔ تیسرا قول یہ ہے کہ زمین کے پیدا کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اس مصیبت کا حال لوح محفوظ میں لکھ لیا ہے چوتھا قول یہ ہے کہ اس مصیبت کے اور مصیبت والوں کے اور تمام دنیا کے پیدا کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اس مصیبتیں کا حال…
Read the full tafseer →(الَّذِيْنَ يَبْخَلُوْنَ وَيَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ ) جو لوگ خود بخل کرتے ہیں اور لوگوں کو بھی بخل کا حکم دیتے ہیں، یعنی دونوں مذموم کاموں کو اکٹھا کرلیتے ہیں جن میں سے ہر ایک شے کے لیے کافی ہے۔ ایک تو بخل ہے جس سے مراد حقوق واجبہ کی ادائیگی سے باز رہنا ہے اور دوسرا وہ لوگوں کو بخل کا حکم دیتے ہیں۔ انہوں نے بخل ہی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ انہوں نے دیگر لوگوں کو بھی بخل کا حکم دیا اور اپنے قول و فعل سے انہیں مذموم صفت کو اختیار کرنے کی ترغیب دی۔ اور یہ ان کا اپنے رب کی اطاعت سے اعراض کرنا اور منہ موڑنا ہے۔ (وَمَنْ يَّتَوَلَّ ) ور جو کوئی اللہ کی اطاعت سے منہ موڑتا ہے تو وہ صرف اپنے آپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–26
آیا ہر مومن شہیدہوتا ہے ؟
قول باری ہے (والذین امنوا باللہ ورسلہ اولئک ھم الصدیقون والشھدآء عند ربھم، اور جو لوگ اللہ اور رسولوں پر (پورا) ایمان رکھتے ہیں وہی اپنے پروردگار کے ہاں صدیق اور شہید ہیں) ۔
اس آیت کی بنا پر حضرت براء بن عازب ؓ نے حضور ﷺ سے روایت کی ہے کہ ” ہر مومن شہید ہے۔ “ اس صورت میں قول باری (والشھدآء ) ان مومنین کی صفت ہے جن کا ذکر پہلے گزر چکا ہے۔
حضرت عبداللہ ؓ اور مجاہد کا بھی یہی قول ہے ۔ حضرت ابن عباس ؓ ، مسروق، ابو الضحیٰ اور ضحاک کا قول ہے کہ یہاں سے کلام کی ابتداء ہوئی ہے اور اس کی خبر یہ قول باری ہے (لھم اجرھم و نورھم ان کے لئے ان کا (خاص) اجر ہوگا اور ان کا (خاص) نور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
[ 96] بخیلوں کی نفسیات کے ایک خاص پہلو کا ذکر وبیان :
یعنی یہ کہ ایسے لوگ دوسروں کو بھی بخیل کی تعلیم و تلقین گرتے ہیں تاکہ اس طرح خود ان کے بخل پر پردہ پڑا ہے، چناچہ ان کی اس صفت کاشفہ کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ جو دوسرے لوگوں کو بھی بخل کی دعوت دیتے ہیں۔ تاکہ اس طرح خود ان کے بخل و کنجوسی پر پردہ پڑا رہے، جیسا کہ کئی لوگ خیر خواہ اور سمجھدار بن کر کہا کرتے تھے، کہ صاحب مال جوڑ کر رکھو کہ آڑے وقت میں کام آئے گا، آئندہ اولاد و آرام و راحت سے کھائے گی، کبھی بھی مشکل وقت پیش آسکتا ہے، اس وقت یہ کام مال دے گا اگر اس کو یونہی غریبوں مسکینوں میں بانٹتے رہے تو آئندہ کیا کرو گے، وغیرہ وغیرہ، سو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–25
ﷲ نے لوح محفوظ میں سب لکھ رکھا ہے۔ نہ گھبراؤ نہ اتراؤ
تشریح : ان آیات میں رب کائنات کے بڑے زبردست کمالات اور بہترین اصول و ضوابط کا ذکر کیا گیا ہے جو کہ ہمیں کائنات کے ذرے ذرے میں چاہے وہ انسان ہو، حیوان ہو، نباتات ہو، جمادات ہو یا فرشتے ہوں یا پھر اجرام فلکی ہوں یا ہوا پانی اور آگ ہوں غرض ہر چیز میں دکھائی دیتے ہیں سب چیزیں اللہ کے پہلے بنائے ہوئے ڈیزائن کے مطابق چل رہی ہیں اور وہ ڈیزائن اور ان کے اصول اللہ کے پاس لکھے ہوئے محفوظ پڑے ہیں اور جہاں محفوظ کئے گئے ہیں اس کو رب العزت لوح محفوظ کا نام دیتے ہیں۔ ہم اس کو یوں سمجھ سکتے ہیں کہ جیسے انسان ایک کمپیوٹر میں پورا پروگرام بنا کر رکھ دیتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–25
آیات 20 تا 25۔
اسرار ومعارف۔
یہ جان رکھو کہ حیات دنیا محض کھیل ہے بچپن کے کام خود انسان کو جوانی میں محض فضول نظر آتے ہیں اور جوانی کی حرکات بڑھاپے میں اسی طرح موت کے بعد سب فضول لگیں گے کہ یہ محض ذاتی نمائش میں رجھا لینے والی چیزوں میں سے جیسے کہ بارش ہوا اور کھیتیاں سرسبز ہوں تو کافر کو خوش کرتی ہیں اور انہیں میں الجھ جاتا ہے یعنی خوش مومن بھی ہوتا ہے مگر اس کی خوشی اللہ کا شکر ادا کرنے کا سبب بنتی ہے جبکہ کافر کے لی باعث غفلت پھر اس پر جوبن آتا ہے پھر زردی مائل ہو کر آخر سوکھ کر گھاس پھوس کی طرح تنکے بکھر جاتے ہیں جبکہ ان اعمال کے نتائج آخرت میں ظاہر ہوں گے کہ کفر پر بہت سخت عذاب ہے اور…
Read the full tafseer →ف 9 کیونکہ انہیں اللہ تعالیٰ پر نہیں بلکہ اپنی کوشش اور تدبیر پر بھروسا ہوتا ہے اس لئے سمجھتے ہیں کہ اگر ہمارے ہاتھ سے کوئی چیز چلی گی تو معلوم نہیں وہ ہمیں دوبارہ مل سکے گی یا نہیں اس کے برعکس جن لوگوں کو خدا پر اعتماد ہوتا ہے وہ دنیا کی چیزوں سے ایسی محبت نہیں کرتے کہ ان کا جدا ہونا ان پر شاق گزرتا ہو بلکہ وہ انہیں دل کھول کر اللہ تعالیٰ کی یوں میں صرف کرتے ہیں۔10 یعنی اس یکسی کی تعریف پامال و دولت کی ضرورت نہیں ہے تم اگر اس کی راہ میں خرچ کرو گے تو اپنے ہی بھلے کے لئے کرو گے اور اگر نہیں کرو گے تو اپنا نقصان آپ کرو گے۔
Read the full tafseer →(57:24) الذین ۔۔ بالبخل۔ یہ مختال فخور کی لغت میں ہے۔ یبخلون مضارع کا صیغہ جمع مذکر غائب۔ بخل (باب سمع) مصدر سے جو بخل کرتے ہیں۔ بخل کے معنی۔ بخل کرنا۔ کنجوسی کرنا۔ مال و متاع کو ایسی جگہ خرچ کرنے سے روک رکھنا جہاں خرچ کرنا چاہیے۔ بخل کی دو قسمیں ہیں :۔
(1) ایک یہ کہ خود مناسب جگہ خرچ نہ کرنا۔
(2) دوسرے یہ کہ دوسروں کو اس خرچ کرنے سے بھی روک دینا۔ یہ اور بھی زیادہ قابل مذمت ہے۔
آیت ہذا میں دونوں قسم کے بخل مذکور ہیں۔ بخل سے باخل بخل کرنے والا۔ اور بخیل مبالغہ کا صیغہ ہے بہت بخل کرنے والا جیسے الراحم (رحم کرنے والا) اور الرحیم (بہت رحم کرنے والا) ۔
ومن یتول : واؤ عاطفہ من شرطیہ۔ یتول مضارع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
لغات القرآن۔ سابقوا۔ دوڑو۔ عرض۔ پھیلائو۔ ان نبرا۔ یہ کہ ہم پیدا کریں۔ یسیر۔ آسان۔ لیکیلا۔ تاکہ نہ ہو۔ مختال۔ اترانے والا۔ فخور۔ بہت زیادہ گھمنڈ کرنے والا۔
تشریح : اس زمین پر یا کسی انسان پر جو بھی راحت و آرام اور مصیبت و عذاب آتا ہے وہ تقدیر الٰہی اور اللہ کے لکھے ہوئے فیصلے کے مطابق ہی آتا ہے۔ زمین مصیبت سے مراد مال و دولت کا ضائع ہوجانا، تجارت اور لین دین میں گھاٹا اور نقصان ہوجانا، زلزلہ ، قحط اور کھیت کی تباہی وغیرہ زمینی مصیبت ہے اور کوئی اتفاقی حادثہ، زخم، چوٹ، بیماری بےآرامی، باہمی اختلافات، فتح اور شکست وغیرہ یہ انسانی نقصانات ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ یہ سب کا سب لوح محفوظ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
(ف 1) مفسرین نے لکھا ہے کہ اس آیت سے فرقہ قدریہ کے مذہب کی پوری غلطی ثابت ہوتی ہے کیونکہ اس آیت سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ لوح محفوظ میں علم ازلی الٰہی کے موافق پہلے سب کچھ لکھاجاچکا ہے اب دنیا میں جو کچھ ہوتا ہے اسی کے موافق ہوتا ہے تمام ملک کی آفت جیسے عام قحط یا عام وبا، جان کی آفت جیسے عزیزوقارب اولاد کامرجانا، انسان کو آئندہ کا حال معلوم نہیں کہ کیا ہونے والا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں انسان کو سمجھایا ہے کہ اللہ کا علم ایسا نہیں ہے اس کے علم میں حال کی موجودچیزیں اور آئندہ کی موجود ہونے والی چیزیں دونوں برابر ہیں اس واسطے اس کو دنیا کے پیدا کرنے سے پہلے تمام دنیا کا حال لوح…
Read the full tafseer →[31] یہ اترانے والوں اور فخر کرنے والوں کے دوسرے پہلو کی طرف اشارہ ہے کہ اس طرح کے لوگ چونکہ اس خبط میں مبتلا ہوتے ہیں کہ انہیں جو کچھ حاصل ہوتا ہے خود ان کی اپنی تدبیر سے حاصل ہوتا ہے اس وجہ سے وہ اپنی ظاہری ٹیپ ٹاپ اور فخر جتانے کے سوا دین و ملت کی راہ میں خرچ کرنے کو خسارہ اور تاوان سمجھتے ہیں۔ اس طرح کے کاموں میں وہ خود بھی بخل کرتے ہیں اور لوگوں کو بھی بخل پر اکساتے ہیں تاکہ ان کے بخل پر پردہ پڑا رہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–26
مسئلہ تقدیر کی بالکل آسان صورت
2: ہر وہ شخص جو خدا پر ایمان رکھتا ہے ۔ اور جہ یہ مانتا ہے ۔ کہ اس کو ذرہ وزرہ باتفصیلی علم ہے ۔ وہ لازم طور پر اس بات کا قائل ہے ۔ کہ کوئی چیز بھی اس کی گرفت سے باہر نہیں ۔ وہ چھپی ڈھکی سب اشیاء سے واقف ہے اور ہر بات کو وقوع سے پہلے جانتا ہے ۔ اسلام اس باب میں صرف یہ اضافہ کرتا ہے ۔ کہ یہ علم لوح محفوظ میں منضبط ہے ۔ اور فرشتوں کی سہولت کے لئے ایک کتاب میں لکھا رکھا ہے اور ظاہر ہے ۔ کہ اتنے سے اضافہ سے نفس مسئلہ کے سمجھنے میں کوئی نئی دلنوازی ہونا ضروری ہے ۔ اب قرآن بھی یہ کہتا ہے ۔ کہ علم غیب ضبط تحریر میں بھی آچکا ہے ۔ کے لئے اس میں کیا استحالہ ہے ۔ یہی تدیر…
Read the full tafseer →(24) جو ایسے ہیں کہ خود بھی بخل کرتے ہیں اور دوسرے لوگوں کو بھی بخل کرنے کی تعلیم دیتے ہیں اور جو کوئی روگردانی کرے گا تو بیشک اللہ تعالیٰ بےنیاز اور سب خوبیوں سے متصف ہے۔ چونکہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا تقاضہ یہ تھا کہ مخلوق کی آگے جھکتا یعنی تواضع کرتا اور مخلوق کی خدمت کرتا لیکن کسی نے اگر بخل کیا اور اللہ تعالیٰ کے شکر سے روگردانی کی اور دین حق کے قبول کرنے سے پھر تو اللہ تعالیٰ کا کوئی ضرر اور نقصان نہ ہوگا کیونکہ وہ غنی بھی ہے اور حمید بھی ہے یعنی غیر محتاج اور سب صفات کمالیہ سے متصف اگر نقصان ہوگا تو اس روگردانی کرنے اور پھر کر چلے جانے والے ہی کا ہوگا۔
Read the full tafseer →ف 2۔ اوپر اعملوا سے حمید تک دنیا کا غیر مہتم بالشان ہونا اور اس کے درمیان میں وفی الاخرات سے آخرت کا مہتم بالشان ہونا ارشاد ہوا ہے، آگے بھی اس کے اہتمام شان کو اس طرح بیان فرماتے ہیں کہ اصل میں ہم نے اسی آخرت کو درست کرنے کے لئے رسولوں کو بھیجا اور احکام مقرر کیئے اور نصرت دین کے لئے بالخصوص حدید پیدا کیا اور تبعا ان چیزوں میں تمہارے دنیوی منافع بھی رکھ دیئے، پس دنیا مقصود بالعرض اور آخرت مقصود بالذات ہوئی۔
Read the full tafseer →جو لوگ بخل کرتے اور بخل کا حکم دیتے ہیں ان کو سمجھ لینا چاہئے کہ اللہ غنی ، تعریف کیا گیا ہے
24 ؎ ( بخل) کیا ہے ؟ بخل رذائل میں سے ہے اور ہر رذالت بد اخلاقی ہے۔ گویا بخل بھی اساسی بد اخلاقیوں میں سے ایک بد اخلاقی ہے اور ایسی بد اخلاقی ہے جو بہت سی بد اخلاقیوں کی جڑ ہے۔ خیانت ، بد دیانتی ، بےمروتی ، بےرحمی ، بد سلوکی اور دنائت اس کی اولاد ہیں۔ حرص ، طمع ، لالچ ، تنگ نظری ، کم ہمتی ، پست ہمتی اور اس طرح کی بہت سی بد اخلاقیاں اس کی جڑیں اور شاخیں ہیں ۔ اسلام نے جھوٹ کے بعد اس نامراد بیماری کا قلع قمع کیا ہے اس کی وہ مذمت کی ہے کہ اس کو اسلام کے اندر کہیں جگہ نہیں ملی اور جہاں یہ نامراد بیماری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
Patience and Gratitude
لِّكَيْلَا تَأْسَوْا عَلَىٰ مَا فَاتَكُمْ وَلَا تَفْرَحُوا بِمَا آتَاكُمْ (...so that you may neither grieve on what has escaped you, nor over-exult on what He has given you ...57:23) This means that Allah has informed us of His encompassing knowledge, recording all things before they occur and creating all things in due measure known to Him, so that we may know that what has met us would never have missed us, and what has missed us would never have met us. Therefore, we are commanded not to over-grieve on the good things we have missed, nor to over-exult on the…
Read the full tafseer →43 The allusion is to the trait of character that everyone could experience among the hypocrites in the Muslim society itself. As regards the outward affirmation of the Faith, they could not be distinguished from the true Muslims. But owing to lack of sincerity they were not receiving the sort of training that was being given to the sincere Muslims. Therefore, the little prosperity and leadership that they were enjoying in an ordinary town of Arabia, was causing them to be swollen with pride. As for their stinginess, not only were they fhcmsc1vee unwilling to give away a penny in the cause of…
Read the full tafseer →