Explained with ayahs 22–24
تنگی اور آسانی کی طرف سے ہے
اللہ تعالیٰ اپنی اس قدرت کی خبر دے رہا ہے جو اس نے مخلوقات کی پیدائش سے پہلے ہی اپنی مخلوق کی تقدیر مقرر کی تھی، فرمایا کہ زمین کے جس حصے میں کوئی برائی آئے یا جس کسی شخص کی جان پر کچھ آپڑے اسے یقین رکھنا چاہئے کہ خلق کی پیدائش سے پہلے ہے، لیکن زیادہ ٹھیک بات یہ ہے کہ مخلوق کی پیدائش سے پہلے ہے، امام حسن سے اس آیت کی بابت سوال ہوا تو فرمانے لگے سبحان اللہ ہر مصیبت جو آسمان و زمین میں ہے وہ نفس کی پیدائش سے پہلے ہی رب کی کتاب میں موجود ہے اس میں کیا شک ہے ؟ زمین کی مصیبتوں سے مراد خشک سالی، قحط وغیرہ ہے اور جانوں کی مصیبت درد دکھ اور بیماری ہے، جس کسی کو کوئی خراش…
Read the full tafseer →سورة الْحَدِیْد 42
اس سلسلہ بیان میں یہ بات جس غرض کے لیے فرمائی گئی ہے اسے سمجھنے کے لیے ان حالات کو نگاہ میں رکھنا چاہیے جو اس سورت کے نزول کے وقت اہل ایمان کو پیش آ رہے تھے۔ ہر وقت دشمنوں کے حملے کا خطرہ، پے در پے لڑائیاں دائماً محاصرہ کی سی کیفیت، کفار کے معاشی مقاطعہ کی وجہ سے سخت بد حالی، عرب کے گوشے گوشے میں ایمان لانے والوں پر کفار کا ظلم و ستم، یہ کیفیات تھیں جن سے مسلمان اس وقت گزر رہے تھے۔ کفار ان کو مسلمانوں کے مخذول اور راندۂ درگاہ ہونے کی دلیل قرار دیتے تھے۔ منافقین انہیں اپنے شکوک و شبہات کی تائید میں استعمال کرتے تھے۔ اور مخلص اہل ایمان اگرچہ بڑی ثابت قدمی کے ساتھ ان حالات کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
(آیت) لِّكَيْلَا تَاْسَوْا عَلٰي مَا فَاتَكُمْ وَلَا تَفْرَحُوْا بِمَآ اٰتٰىكُمْ ، مطلب اس آیت کا یہ ہے کہ دنیا میں جو کچھ مصیبت یا راحت، خوشی یا غم انسان کو پیش آتا ہے وہ سب حق تعالیٰ نے لوح محفوظ میں انسان کے پیدا ہونے سے پہلے ہی لکھ رکھا ہے، اس کی اطلاع تمہیں اس لئے دی گئی تاکہ تم دنیا کے اچھے برے حالات پر زیادہ دھیان نہ دو ، نہ یہاں کی تکلیف و مصیبت یا نقصان و فقدان کچھ زیادہ حسرت و افسوس کرنے کی چیز ہے اور نہ یہاں کی راحت و عیش یا مال و متاع اتنا زیادہ خوش اور مست ہونے کی چیز ہے جس میں مشغول ہو کر اللہ کی یاد اور آخرت سے غافل ہوجاؤ۔
حضرت عبداللہ بن عباس نے فرمایا کہ ہر انسان طبعی طور پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
(لکیلا تا سوا علی ما قد تکم ولا تفرحوا بما اتکم واللہ لا یحب کل مختال فخور الذین یبخلون و یامرون الناس بالبخل ومن یتول فان اللہ ھو الغنی الحمید) (23، 24)
(تقدیر کا فلسفہ)۔ یہاں لگی سے پہلے کچھ حذف ہے۔ اس کو کھول دیجیے تو پوری بات یوں ہوگی کہ اس موقع پر تمہیں اس حقیقت کی یاددہانی اس لیے کرائی جا رہی ہے کہ نہ تم کسی چیز کے قوت ہونے پر غور کرو اور نہ کسی چیز پر جو تمہیں ملے اترائو اور فخر کرو، بلکہ اس عقیدے کی روشنی میں تمہارا کردار یہ ہونا چاہیے کہ تمہیں کوئی جانی یا مالی نقصان پہنچے تو اس پر صبر کرو کہ یہ نوشتہ تقدیر کے مطابق پہنچا ہے اور اسی میں اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے اور اگر کوئی نفع پہنچے…
Read the full tafseer →23-1یہاں جس حزن اور فرح سے روکا گیا ہے وہ غم اور خوشی ہے جو انسان کو ناجائز کاموں تک پہنچا دیتی ہے ورنہ تکلیف پر رنجیدہ اور راحت پر خوش ہونا یہ ایک فطری عمل ہے لیکن مومن تکلیف پر صبر کرتا ہے کہ اللہ کی مشیت اور تقدیر ہے جزع فزع کرنے سے کوئی اس میں تبدیلی نہیں آسکتی اور راحت پر اتراتا نہیں اللہ کا شکر ادا کرتا ہے۔
Read the full tafseer →18: جس شخص کا اس بات پر ایمان ہو کہ دنیا میں جو کچھ ہورہا ہے، وہ اسی تقدیر کے مطابق ہورہا ہے، جو لوح محفوظ میں پہلے سے لکھی ہوئی ہے، اسے کسی ناگوار واقعے پر اتنا صدمہ نہیں ہوتا جو اسے دائمی پریشانی اور حسرت میں مبتلا رکھے ؛ بلکہ یہ چیز اس کی تسلی کا باعث ہوتی ہے کہ جو کچھ تقدیر میں لکھا تھا وہی ہوا، اور یہ کہ اس دنیا کی تکلیفیں آخرت کی نعمتوں کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتیں، اس طرح اگر کوئی خوشی کا واقعہ پیش آتا ہے تو انسان اس پر اتراکر تکبر میں مبتلا نہیں ہوتا، اس لئے کہ وہ جانتا ہے کہ یہ واقعہ اللہ تعالیٰ کی تخلیق اور تقدیر کے مطابق ہے، اور اس پر انسان کو اترانے کے بجائے اللہ تعالیٰ کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
لکیلا .................... اتاکم (64 : 32) ” تاکہ جو کچھ بھی نقصان تمہیں ہو اس پر تم دل شکستہ نہ ہو ، اور جو کچھ اللہ تمہیں عطا فرمائے اس پر پھول نہ جاؤ۔ “
لہٰذا نظر کا آفاقی ہوجانا اور اپنا معاملہ عظیم کائنات سے کرنا ، ازل اور ابد سوچنا ، اور جو کچھ پیش آتا ہے اسے کتاب تقدیر کا فیصلہ سمجھنا ، ان سب چیزوں سے نفس انسانی وسعت اختیار کرلیتی ہے انسان بڑا ہوتا ہے ، ثابت قدم ہوتا ہے ، اور واقعات وحادثات کا ڈٹ کر فیصلہ کرتا ہے اور حرکت کائنات کے دوران اسے جو کچھ پیش آتا ہے نفس انسانی اس سے کامیابی سے گزرتا ہے۔
جب انسان اپنے آپ کو اس عظیم کائنات سے علیحدہ کرلیتا ہے تو اسے پیش آنے والے واقعات کے نتیجے…
Read the full tafseer →7 یعنی اس حقیقت پر اس لیے مطلع کردیا کہ تم خوب سمجھ لو کہ جو بھلائی تمہارے لیے مقدر ہے ضرور پہنچ کر رہے گی اور جو مقدر نہیں وہ کبھی ہاتھ نہیں آسکتی۔ جو کچھ اللہ تعالیٰ کے علم قدیم میں ٹھہرچکا ہے، ویسا ہی ہو کر رہے گا۔ لہذا جو فائدہ کی چیز ہاتھ نہ لگے اس پر غمگین و مضطرب ہو کر پریشان نہ ہو اور جو قسمت سے ہاتھ لگ جائے اس پر اکڑو اور اتراؤ نہیں بلکہ مصیبت و ناکامی کے وقت صبرو و تسلیم اور راحت و کامیابی کے وقت شکرو تحمید سے کام لو۔ (تنبیہ) پہلے (اِعْلَمُوْٓا اَنَّمَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَّلَهْوٌ وَّزِيْنَةٌ وَّتَفَاخُرٌۢ بَيْنَكُمْ وَتَكَاثُرٌ فِي الْاَمْوَالِ وَالْاَوْلَادِ ) 57 ۔…
Read the full tafseer →آیت 23{ لِّکَیْلَا تَاْسَوْا عَلٰی مَا فَاتَکُمْ } ”تاکہ تم افسوس نہ کیا کرو اس پر جو تمہارے ہاتھ سے جاتا رہے“
کوئی اچھا موقع ہاتھ سے نکل جانے پر انسان رہ رہ کر افسوس کرتا اور پچھتاتا ہے کہ اگر میں اس وقت یوں کرلیتا تو میرا یہ کام ہوجاتا ‘ اگر فلاں شخص فلاں وقت فلاں رکاوٹ کھڑی نہ کردیتا تو میں فلاں نقصان سے بچ جاتا وغیرہ وغیرہ۔ ایسے پچھتاوے بعض اوقات زندگی کا روگ بن جاتے ہیں۔ لیکن اگر اللہ اور اس کے فیصلوں پر انسان کا ایمان مضبوط ہو تو وہ اپنے بڑے سے بڑے نقصان کو بھی یہ کہہ کر بھلا دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو میرے حق میں ایسا ہی منظور تھا اور اس چیز کے میرے ہاتھ سے نکل جانے میں ہی خیر تھی ‘…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
40 مسئلہ تقدیر کی مصلحت :۔ تقدیر کے اس مسئلے سے تمہیں اس لیے مطلع کرنا ضروری ہے کہ تمہیں جو بھی دکھ پہنچتا ہے وہ اللہ کے علم میں ہوتا ہے اور دنیا کی کوئی طاقت اسے روک نہیں سکتی۔ لہذا ایسے حالات میں تمہیں صبر و تحمل سے کام لینا چاہئے اور اگر نقصان ہوجائے تو اس کا غم نہ کرنا چاہئے۔ اور جب کوئی بھلائی پہنچے تو بھی تمہیں یہ سمجھنا چاہئے کہ یہ تمہاری اپنی حسن تدبیر یا تمہارے فعل کا نتیجہ نہ تھی بلکہ اللہ نے اسے تمہارے لئے مقدر کر رکھا تھا۔ لہذا تمہیں اس پر اترانے، پھولنے یا شیخیاں بگھارنے کے بجائے اللہ کا شکریہ ادا کرنا چاہئے۔ واضح رہے کہ بعض لوگ اپنی غلطیوں اور کمزوریوں پر پردہ ڈالنے کے لیے تقدیر…
Read the full tafseer →33۔ یعنی کوئی نعمت یا عطیہ الہی تمہارے دلوں میں اتراہٹ یا فخر کے جذبات نہ پیدا کرنے پائے جو طاعت الہی سے مانع ہوجاتا ہے۔ باقی رہی طبعی مسرت تو وہ تو جائز ہی نہیں بلکہ مستحسن ہے۔ اتراہٹ تو اس وقت پیدا ہوتی ہے۔ جب انسان کسی خوبی کو اپنی ذاتی استحقاق کا نتیجہ سمجھتا ہے۔ قرآن مجید نے اس کی جڑ کاٹ دی، جب نعمت کے لیے محض حق تعالیٰ کے حکم ومشیت کا استحضار ہوگیا تو اب اتراہٹ ہونے ہی کیوں لگی ؟ (آیت) ” علی مافاتکم “۔ جو چیز تم سے جاتی رہے تمہارے محبوبات ومرغوبات میں سے مثلا مال یا اولاد یا صحت و عافیت یا حسن وشباب یا کوئی عزیز یا دوست۔ ل کے اس کا عامل اخبرنا کم مقدر ہے۔ ) (آیت) ” لاتاسوا “۔ یعنی رنج…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
لکیلا تاسوا علی مافاتکم (الآیۃ) یہاں جس حزن و فرح سے روکا یا ہے، وہ وہ غم اور خوشی ہے جو انسانوں کو ناجائز کاموں تک پہنچادیتی ہے، ورنہ تکلیف پر رنجیدہ اور راحت پر خوش ہونا یہ ایک فطری عمل ہے، اور اسلام دنیا فطرت ہے اس میں خالق فطرت نے انسانی فطرت کا پورا پورا لحاظ رکھا ہے، لیکن مومن تکلیف پر صبر کرتا ہے کہ یہی اللہ کی مشیت اور تقدیر ہے جزع فزع کرنے سے اس میں تبدیلی نہیں ہوسکتی اور راحت پر اتراتا نہیں ہے بلکہ اللہ کا شکر ادا کرتا ہے کہ یہ صرف اس کی اپنی سعی کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ اللہ کا فضل و کرم ہے اور اس کا احسان ہے۔
Read the full tafseer →یہ بات اسلئے ہے کہ جو چیز تم سے جاتی رہے تم اس پر غمگین نہ ہو اور جو چیز تم کو عطا فرمائی ہے اس پر اترا نہ جاؤ۔ “
لِکَیْلَا تَاْسَوْا : یعنی دنیوی نعمتیں جو فوت ہوجائیں ان کا غم نہ کرو اور جو نعمتیں اللہ نے تم کو عطا فرمائی ہیں ان پر اترا نہ جاؤ کیونکہ جب یہ معلوم ہوگیا کہ ہر چیز مقدر ہے ‘ بدلی نہیں جاسکتی تو پھر کسی نعمت کے زوال کا افسوس و غم اور ملنے والی نعمت پر غرور جائز نہیں۔
(اس آیت سے یہ بات مترشح ہو رہی ہے کہ فوت نعمت کسی علّت و سبب پر مبنی نہیں ہے کیونکہ فوت نعمت کا معنی ہے عدم نعمت اور عدم اصل ہے۔ ہاں وجود نعمت اور بقاء وجود بغیر علت کے نہیں ہوسکتا اور اس کی علت محض عطاء خداوندی ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
(23۔ 24) مگر پھر بھی اس نے لوح محفوظ میں ان تمام چیزوں کو درج کردیا ہے تاکہ رزق و عافیت میں سے جو چیز تم سے جاتی رہے تم اس پر اتنا غم نہ کرو اور کہو کہ ہمارے بارے میں یہ چیز نہیں لکھی ہے اور تاکہ جو چیز تمہیں عطا کی ہے اس پر اتراؤ نہیں کہ کہنے لگو کہ اس نے ہمیں دی ہے۔
اور اللہ تعالیٰ کسی اترانے والے اور نعمت خداوندی پر شیخی بگھارنے والے کو پسند نہیں کرتا یا یہ کہ کفر میں اترانے والے اور شرک میں شیخی کرنے والے کو اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتا اور یہ یہودی لوگ ہیں کہ رسول اکرم کی نعت و صفت جو توریت میں موجود ہے اسے چھپاتے ہیں اور یہ حرکت کر کے دوسروں کو بھی بخل کی تعلیم دیتے ہیں۔
باقی جو ایمان سے…
Read the full tafseer →1۔ لِّکَیْلَا تَاْسَوْا عَلٰی مَا فَاتَکُمْ۔۔۔۔:”لا تاسوا“ ‘”اسی یا سی اسی“ (خشیی یخشی) (غمگین ہونا) سے نفی مضارع معلوم ہے ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ ؑ سے فرمایا :(فَـلَا تَاْسَ عَلَی الْقَوْمِ الْفٰـسِقِیْنَ) (المائدہ : 26)”پس تو ان نافرمان لوگوں پر غم نہ کرو“۔ اور شعیب ؑ نے اپنی قوم کو ہلاک ہونے پر فرمایا :(فَکَیْفَ اٰسٰی عَلٰی قَوْمٍ کٰـفِرِیْنَ) (الاعراف : 93)”تو میں نہ ماننے والے لوگوں پر کیسے غم کروں“”اتکم“”اتی یاتی اتینا“ (ض) آنا اور ”آتی یوتی ایتائ“ (الاعراف : 93)“ تو میں نے نہ ماننے والے لوگوں پر کیسے غم کروں۔“”اتکم“ ”اتی اتیانا“ (ض) آنا اور ”آتی یوتی ایتائ“ (افعال) دینا۔ یعنی ہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
ما اصاب من مصیبۃ فی الارض مقاتل نے کہا، مصیبت سے مراد قحط، نباتات اور پھلوں کی قلت ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : کھیتی میں آفات ہیں۔ ولا فی انفسکم مراد جو تمہیں ب یماریاں لاحق ہوتی ہیں، یہ قتادہ کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد حدود کا قائم کرنا ہے، یہ ابن حبان کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد معاش کی تنگی ہے۔ یہ وہ معنی ہے جسے ابن جریج نے روایت کیا ہے۔ الا فی کتب مراد لوح محفوظ ہے۔ من قبل ان نبراھا ھا ضمیر نفوس، الارض، المصائب یا سب کی طرف لوٹ رہی ہے۔ حضرت ابن عباس نے کہا : معنی ہے قبل اس کے کہ وہ مصیبت کو پیدا کرے۔ سعید بن جبیر نے کہا : اس سے قبل کہ وہ زمین اور نفس کو پیدا کرے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
1۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ما اصاب من مصیبۃ فی الارض ولا فی انفسکم (کوئی مصیبت نہ زمین میں آتی ہے اور نہ تمہاری جانوں میں) یعنی نہ دنیا میں اور نہ دین میں آیت الا فی کتب من قبل ان نبرأہا۔ مگر وہ ایک کتاب میں کھی ہوئی ہے قبل اس کے کہ ہم ان کو پیدا کریں۔ آیت لکیلا تاسوا علی مافاتک یہ اس لیے ہے کہ جو چیز تم سے جاتی رہے تم اس پر غمگین نہ ہو۔ یعنی دنیا میں سے آیت ولاتفرحوا بما اٰتیکم۔ اور یعنی جو چیز تم کو دنیا میں مل جائے اس پر اترانے نہ لگو۔
2۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے آیت ما اصاب من مصیبۃ الایۃ کے بارے میں روایت کیا کہ یہ وہ چیز ہے جس سے فراغت ہوچکی…
Read the full tafseer →[ لِّكَيْلَا تَاْسَوْا : تاکہ تم لوگ مایوس نہ ہو ][ عَلٰي مَا : اس پر جو ][ فَاتَكُمْ : نکل گیا تم سے ][ وَلَا تَفْرَحُوْا : اور نہ اتراؤ ][ بِمَآ اٰتٰىكُمْ ۭ: اس پر جو اس نے دیا تم کو ][ وَاللّٰهُ لَا يُحِبُّ : اور اللہ پسند نہیں کرتا ][ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُـــوْرِۨ: سب اکڑنے والے فخر کرنے والوں کو ]
Read the full tafseer →جو کچھ فوت ہوگیا اس پر رنج نہ کرو :
﴿لِّكَيْلَا تَاْسَوْا عَلٰى مَا فَاتَكُمْ ﴾ ای اخبرنالکم بذلک لا تاسوا (الخ) یعنی تمہیں اس بات کی خبر دے دی گئی ہے تاکہ تم یہاں تکلیف اور مصیبت اور نقصان و خسران پر توجہ نہ دو اور حسرت اور افسوس میں مبتلا نہ ہو جو اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہونے سے روک دے اور اعمال آخرت سے ہٹا دے جو مصیبت آتی ہے وہ آنی ہی تھی اس کا یقین ہو تو طبعی رنج ہوسکتا ہے عقلی طور پر رنج نہ ہو (طبعی رنج پر مواخذہ نہیں) اپنے اختیار سے اس میں لگا رہنا اور اس کو بڑھاتے چلے جانا اور ایسی باتیں کرنا جن سے اللہ تعالیٰ کی ناراضگی ہو یہ ممنوع ہے۔
جو کچھ مل گیا اس پر اتراؤ مت :
﴿وَ لَا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–24
تمثیل بےثباتی دنیا و عظمت خداوند خالق کائنات وتعلیم صبر و قناعت وتاکید فکر آخرت :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” اعلموا انما الحیوۃ الدنیا ...... الی ...... ھو الغنی الحمید “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں انسان کا دنیوی نعمتوں اور راحتوں میں لگ کریاد خدا اور فکر آخرت سے غلفت و لاپرواہی برتنے پر تنبیہ فرمائی گئی تھی اور یہ کہ یہ طریقہ اہل کتاب کا تھا اہل ایمان کو یہ بات زیب نہیں دیتی اب ان آیات میں دنیا اور دنیا کی لذتوں کی ناپائیداری بیان فرمائی جارہی ہے اور اسکی بےثباتی کا ایک نقشہ پیش کیا جارہا ہے تاکہ دنیا کی حقیقت سمجھی جاسکے، فرمایا ،
جان لو اس کے سوا کچھ نہیں کہ دنیا کی زندگی بس ایک کھیل اور تماشا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
26:۔ ” واللہ لا یحب “ یہ متکبروں اور بخیلوں کے لیے زجر و تہدید ہے۔ ” مختال “ اکڑ کر چلنے والا۔ ” فخور “ ڈینگیں مارنے والا۔ اللہ تعالیٰ کبر و بڑائی سے اکڑنے والوں اور ڈینگیں مارنے والوں کو پسند نہیں کرتا جو نہ خود نیکی کے راستے میں اپنا مال خرچ کرتے ہیں اور نہ دوسروں کو خرچ کرنے دیتے ہیں۔ بلکہ ان کو بخل کرنے تلقین کرتے ہیں۔ اصل میں بخل یہی ہے کہ آدمی اللہ کے دین اور توحید کی اشاعت میں خرچ نہ کرتے۔ ” ومن یتول “ یہ مذکورہ بالا پانچ وجوہ انفاق سے متعلق ہے۔ شرط کی جزاء مقدر ہے اور ” فان اللہ ھو الغنی الحمدی “ جزائے محذوف کی علت ہے مثلا ” ومن یتول فاف لہ “ قالہ الشیخ (رح) تعالی۔ یعنی جو شخص اس قد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
ربط آیات :
گزشتہ آیات میں انفاق فی سبیل اللہ کا ذکر ہوا ، دنیا کی لہو ولعب زیب وزینت اور مال واولاد کی کثرت طلب کو مہلک قرار دیا گیا۔ دنیا کی بےثباتی کا ذکر کرکے خدا تعالیٰ کی بخشش ومغفرت اور وسیع وعرویض جنت کی طرف سبقت کرنے کی ترغیب دی گئی پھر فرمایا کہ یہ جنت ان لوگوں کے لئے تیار کی گئی ہے جو اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے اور جنہوں نے اللہ کی آخری کتاب قرآن کریم کے نظام کے قیام کے لئے مال صرف کیا۔ جس کا معاوضہ اللہ کے ہاں ملنے والا ہے۔
اندرونی اور بیرونی مصائب :
بعض لوگ مال کو اللہ کے راستے میں اس لئے خرچ نہیں کرتے کہ یہ مال ان کی مصیبت میں کام آئے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس نظریہ کی…
Read the full tafseer →لِّكَيْلَا تَاْسَوْا عَلٰي مَا فَاتَكُمْ وَلَا تَفْرَحُوْا بِمَآ اٰتٰىكُمْ 0 ۭ وَاللہُ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُـــوْرِۨ 23 ۙ
يأس
اليَأْسُ : انتفاءُ الطّمعِ ، يقال : يَئِسَ واسْتَيْأَسَ مثل : عجب واستعجب، وسخر واستسخر . قال تعالی: فَلَمَّا اسْتَيْأَسُوا مِنْهُ خَلَصُوا نَجِيًّا[يوسف/ 80] ، حَتَّى إِذَا اسْتَيْأَسَ الرُّسُلُ [يوسف/ 110] ،
( ی ء س ) یأس
( مصدرس ) کے معنی ناامید ہونیکے ہیں اور یئس ( مجرد) واستیئاس ( استفعال ) دونوں ہم معنی ہیں جیسے ۔ عجب فاستعجب وسخرو استسخر۔ قرآن میں ہے : فَلَمَّا اسْتَيْأَسُوا مِنْهُ خَلَصُوا نَجِيًّا[يوسف/ 80] جب وہ اس سے ناامید ہوگئے تو الگ ہوکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–24
ترکیب : عرضہا متبداء کعرض السماء الخ خبرہ والجملۃ صفۃ جنۃ۔ اعدت صفۃ اخری۔ فی الارض الجار یتعلق بمصیبۃ لانھا مصدرہ یجوزان تکون صفۃ لہا علی اللفظ اوالحل۔ و مثلہ ولافی انفسکم الافی کتاب حال ای مکتوبۃ۔ من قبل لغت اومتعلق بہ لکیلا کے ناصبۃ للفصل بمعنی ان (آسی) اندوہ و اندوہگیں شدن یسمع یسمع یقال آسی علی مصیبۃ ای حزن و آسیت لفاں اے حزنت لہ صراح۔
تفسیر : دنیا کی بےثباتی اور بےقدری بیان فرما کر کردارِ آخرت کی طرف توجہ دلاتا ہے جس کے لیے انسان اس فانی گھر میں چند روزہ مہمان بنایا گیا ہے فقال سابقوا الی مغقرۃ من ربکم الخ کہ ان کاموں کی طرف دوڑو اور جلد حاصل کرو کہ جو اللہ کی مغفرت اور حصول جنت کا باعث…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
مَا اَصَابَ مِنْ مُّصِیْبَۃٍ فِی الْاَرْضِ وَلاَ فِیْٓ اَنْفُسِکُمْ اِلاَّ فِیْ کِتٰبٍ مِّنْ قَبْلِ اَنْ نَّبْرَاَھَا ط اِنَّ ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ یَسِیْرٌ۔ لِّـکَیْلاَ تَاسَوْا عَلٰی مَافَاتَـکُمْ وَلاَ تَفْرَحُوْا بِمَآ اٰ تٰـکُمْ ط وَاللّٰہُ لاَ یُحِبُّ کُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرِ نِ ۔ (الحدید : 22، 23)
(اور تمہیں کوئی مصیبت نہیں پہنچتی نہ زمینی پیداوار میں اور نہ تمہارے اپنے نفوس میں، مگر یہ کہ وہ ایک کتاب میں اس سے پہلے کہ ہم اس کو وجود دیں، لکھی ہوئی ہے، یہ اللہ پر بہت آسان ہے۔ (یہ سب کچھ اس لیے ہے) تاکہ جو چیز جاتی رہے اس پر غم نہ کرو، اور جو کچھ تمہیں اللہ عطا فرمائے اس پر مت اترائو، اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
فہم القرآن
ربط کلام : جنت کا حصول مشکلات کا سامنا کیے بغیر ممکن نہیں اس لیے مشکلات کی حقیقت کا ذکر کیا جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو حقیقت حال بتانے اور اسے تسلی دینے کے لیے ارشاد فرمایا ہے کہ تم پر اور زمین پر کوئی مصیبت نازل نہیں ہوتی مگر ” اللہ “ ہی اسے بھیجنے والا ہے۔ جسے اس نے اپنے ہاں لوح محفوظ پر ثبت کر رکھا ہے۔ مصیبت نازل کرنا اور اسے ٹالنا صرف اور صرف ” اللہ “ کے اختیار میں ہے اور اس نے انسان کی تخلیق سے پہلے اس کے مقدر میں لکھ رکھا ہے۔ مصیبت نازل کرنا اور اس کو ٹالنا اللہ تعالیٰ کے لیے مشکل نہیں اس کے لیے کسی کام کو مشکل خیال کرنا ہی بہت بڑا کفر ہے۔ کسی کو مصیبت میں مبتلا کرنے…
Read the full tafseer →23 : : پھر اس کا سبب اور حکمت کو واضح کیا۔ فرمایا لِّکَیْلَا تَاْسَوْا (یہ بات اس لئے کہ تم غمگین نہ ہو) ایسا غم نہ کرو جو تمہیں سرکشی میں مبتلا کر دے۔ عَلٰی مَا فَاتَکُمْ (جوچیز تم سے جاتی رہے) جیسے دنیا کی خوشحالی نمبر 2۔ عافیت و صحت۔ وَلَا تَفْرَحُوْا (اور نہ اترانے لگو) جیسے متکبر فخر والے کرتے ہیں۔ بِمَآ اٰتٰکُمْ (جو چیز تم کو عطاء فرمائی) یہ اعطاء کے معنی میں ہے یا الایتاء مصدر سے ہے۔
قراءت : ابوعمرو نے اتاکم پڑھا یعنی جو آئے تمہارے پاس۔
ہر چیز مقدر سے ملے گی :
یہ الاتیان سے ہے مطلب یہ ہے جب تمہیں یہ معلوم ہوگا کہ ہر چیز مقدر اور اللہ تعالیٰ کے ہاں لکھی ہوئی ہے۔ تو فوت شدہ چیز پر تمہیں…
Read the full tafseer →22 ۔” مااصاب من مصیبۃ فی الارض “ یعنی بارش کا قحط اور پودوں کا کم ہوجانا اور پھلوں کا کم ہوجانا۔ ” ولافی انفسکم “ یعنی امراض اور اولاد کا فقدان۔ ” الافی کتاب “ یعنی لوح محفوظ ” من قبل ان نبراھا “ اس سے پہلے کہ ہم زمین اور ان کے نفسوں کو پیدا کریں۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں مصیبت سے بری ہونے سے پہلے اور ابوالعالیہ (رح) فرماتے ہیں یعنی جان۔ ” ان ذلک علی اللہ یسیر “ یعنی اس کی کثرت کے باوجود اس کی ثابت کرنا اللہ تعالیٰ پر آسان ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
22۔ 24۔ اس آیت کی تفسیر میں علماء مفسرین 3 ؎ کے چار قول ہیں پہلا قول تو یہ ہے کہ جو جانی یا مالی کوئی آفت یا مصیبت لوگوں پر دنیا میں آتی ہے اس مصیبت کے پیدا کرنے سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ نے اس مصیبت کے پہنچنے کا سارا حال لوح محفوظ میں لکھ لیا ہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ جن لوگوں پر وہ مصیبت اور آفت آتی ہے ان کے پیدا کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اس مصیبت کا حال لوح محفوظ میں لکھ لیا ہے۔ تیسرا قول یہ ہے کہ زمین کے پیدا کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اس مصیبت کا حال لوح محفوظ میں لکھ لیا ہے چوتھا قول یہ ہے کہ اس مصیبت کے اور مصیبت والوں کے اور تمام دنیا کے پیدا کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اس مصیبتیں کا حال…
Read the full tafseer →(لِّكَيْلَا تَاْسَوْا عَلٰي مَا فَاتَكُمْ وَلَا تَفْرَحُوْا بِمَآ اٰتٰىكُمْ ) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو اس کے بارے میں آگاہ فرمایا ہے تاکہ ان کے سامنے یہ قاعدہ متحقق ہوجائے اور ان پر جو خیر و شر نازل ہوتا ہے اس کی بنا پر اس قاعدہ پر رکھیں۔ پس جس چیز کو ان کے دل چاہتے تھے اور اس کا اشتیاق رکھتے تھے، اس کے فوت ہونے پر مایوس اور غمگین نہ ہوں گے کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ یہ سب کچھ لوح محفوظ میں درج تھا جس کا نافذ اور واقع ہونا ایک لازمی امر تھا اور اس نوشتے کو روکنے کا کوئی راستہ نہیں تھا۔
اللہ تعالیٰ نے جو کچھ ان کو عطا کیا ہے وہ اس پر تکبر اور اتراہٹ کے ساتھ فرحت کا اظہار نہ کریں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–26
آیا ہر مومن شہیدہوتا ہے ؟
قول باری ہے (والذین امنوا باللہ ورسلہ اولئک ھم الصدیقون والشھدآء عند ربھم، اور جو لوگ اللہ اور رسولوں پر (پورا) ایمان رکھتے ہیں وہی اپنے پروردگار کے ہاں صدیق اور شہید ہیں) ۔
اس آیت کی بنا پر حضرت براء بن عازب ؓ نے حضور ﷺ سے روایت کی ہے کہ ” ہر مومن شہید ہے۔ “ اس صورت میں قول باری (والشھدآء ) ان مومنین کی صفت ہے جن کا ذکر پہلے گزر چکا ہے۔
حضرت عبداللہ ؓ اور مجاہد کا بھی یہی قول ہے ۔ حضرت ابن عباس ؓ ، مسروق، ابو الضحیٰ اور ضحاک کا قول ہے کہ یہاں سے کلام کی ابتداء ہوئی ہے اور اس کی خبر یہ قول باری ہے (لھم اجرھم و نورھم ان کے لئے ان کا (خاص) اجر ہوگا اور ان کا (خاص) نور…
Read the full tafseer →[ 93] تقدیر کا فلسفہ اور اس کا فائدہ :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگوں کو یہ حقیقت بتادی کہ تاکہ نہ تو تم لوگ کسی فوت شدہ چیز پر غم کھاؤ، اور نہ ہی اس کے ملنے پر اتراؤ، کیونکہ جو کچھ تمہارے ہاتھ سے نکل گیا وہ تمہارے نصیب میں تھا ہی نہیں، اور جو تمہیں ملا وہ اس نے تمہارے لئے پہلے سے ہی لکھ رکھا تھا جو اس نے اپنے فضل و کرم سے تمہیں عطا فرمایا۔ سبحانہ وتعالیٰ ، سو نہ تم کو ماضی کا غم اور نہ مستقبل کا خوف، اور نہ اترانا اور نہ تکبر کرنا، سو تقدیر کے اس عقیدہء صافیہ کی بناء پر انسان میں کبر و غرور، فتنہ، اور جزع اور غم والم کی بجائے صبر و شکر کی وہ پاکیزہ صفات نشوونما پاتی ہیں، جن سے وہ خیر اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–25
ﷲ نے لوح محفوظ میں سب لکھ رکھا ہے۔ نہ گھبراؤ نہ اتراؤ
تشریح : ان آیات میں رب کائنات کے بڑے زبردست کمالات اور بہترین اصول و ضوابط کا ذکر کیا گیا ہے جو کہ ہمیں کائنات کے ذرے ذرے میں چاہے وہ انسان ہو، حیوان ہو، نباتات ہو، جمادات ہو یا فرشتے ہوں یا پھر اجرام فلکی ہوں یا ہوا پانی اور آگ ہوں غرض ہر چیز میں دکھائی دیتے ہیں سب چیزیں اللہ کے پہلے بنائے ہوئے ڈیزائن کے مطابق چل رہی ہیں اور وہ ڈیزائن اور ان کے اصول اللہ کے پاس لکھے ہوئے محفوظ پڑے ہیں اور جہاں محفوظ کئے گئے ہیں اس کو رب العزت لوح محفوظ کا نام دیتے ہیں۔ ہم اس کو یوں سمجھ سکتے ہیں کہ جیسے انسان ایک کمپیوٹر میں پورا پروگرام بنا کر رکھ دیتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–25
آیات 20 تا 25۔
اسرار ومعارف۔
یہ جان رکھو کہ حیات دنیا محض کھیل ہے بچپن کے کام خود انسان کو جوانی میں محض فضول نظر آتے ہیں اور جوانی کی حرکات بڑھاپے میں اسی طرح موت کے بعد سب فضول لگیں گے کہ یہ محض ذاتی نمائش میں رجھا لینے والی چیزوں میں سے جیسے کہ بارش ہوا اور کھیتیاں سرسبز ہوں تو کافر کو خوش کرتی ہیں اور انہیں میں الجھ جاتا ہے یعنی خوش مومن بھی ہوتا ہے مگر اس کی خوشی اللہ کا شکر ادا کرنے کا سبب بنتی ہے جبکہ کافر کے لی باعث غفلت پھر اس پر جوبن آتا ہے پھر زردی مائل ہو کر آخر سوکھ کر گھاس پھوس کی طرح تنکے بکھر جاتے ہیں جبکہ ان اعمال کے نتائج آخرت میں ظاہر ہوں گے کہ کفر پر بہت سخت عذاب ہے اور…
Read the full tafseer →ف 6 یا ” تمہیں نہ ملے “7 ” بلکہ یہ سمجھ کر صبر کرو کہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر پانی تھی۔ اگر اس نے یہ چیز ہماری قسمت میں لکھی ہوئی تو ہمیں ہر صورت مل کر رہتی “ اور اس نے جو ہماری قستم حق میں بہتر نہ تھا۔ اگر بہتر ہوتا تو وہ ضرور ہماری قسمت میں لکھتا۔8 بلکہ یہ سمجھ لو کہ یہ اللہ تعالیٰ کی دین ہے ہماری اپنی کوشش کا نتیجہ نہیں ہے۔ اس آیت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کسی چیز کے حاصل کرنے کے لئے آدمی کو کوشش بھی نہیں کرنی چاہیے۔ بلکہ مطلب یہ کہ کوشش کے بعد اگر ناکامی ہو تو غم نہیں بلکہ صبر کرنا چاہیے اور بصورت کا میابی غرور کرتا نہیں بلکہ شکر بجا لانا چاہیے۔ اسی کو اللہ تعالیٰ تقدیر ایمان کا فائدہ قرار دے…
Read the full tafseer →(57:23) لکیلا تاسوا۔ لام تعلیل کا۔ کی ناصف فعل بمعنی ان : کہ۔ لاتا سوا مضارع منفی (منصوب بو کہ عمل ان) جمع مذکر حاضر۔ اسی (باب سمع) مصدر سے تاکہ تم غم نہ کرو۔
علیٰ ما فاتکم : ما موصولہ ہے فات ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ فوت (باب نصر) مصدر۔ فاتہ الامر۔ کسی کام کا نہ ہونا۔ اور ساتھ سے نکل جانا۔ مافاتکم جو تمہارے ہاتھ سے نکل جائے۔ جو تمہارے ہاتھ نہ آئے ۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔
ولا تفرحوا : واؤ عاطفہ، لاتفرحوا مضارع منفی منصوب بوجہ عمل ان ۔ تاکہ تم نہ اتراؤ۔ جمع مذکر حاضر، اس جملہ کا عطف سابقہ پر ہے۔ بما اتکم : ب حرف جر۔ ما موصولہ اتی ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ ایتاء (افعال) مصدر۔ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
لغات القرآن۔ سابقوا۔ دوڑو۔ عرض۔ پھیلائو۔ ان نبرا۔ یہ کہ ہم پیدا کریں۔ یسیر۔ آسان۔ لیکیلا۔ تاکہ نہ ہو۔ مختال۔ اترانے والا۔ فخور۔ بہت زیادہ گھمنڈ کرنے والا۔
تشریح : اس زمین پر یا کسی انسان پر جو بھی راحت و آرام اور مصیبت و عذاب آتا ہے وہ تقدیر الٰہی اور اللہ کے لکھے ہوئے فیصلے کے مطابق ہی آتا ہے۔ زمین مصیبت سے مراد مال و دولت کا ضائع ہوجانا، تجارت اور لین دین میں گھاٹا اور نقصان ہوجانا، زلزلہ ، قحط اور کھیت کی تباہی وغیرہ زمینی مصیبت ہے اور کوئی اتفاقی حادثہ، زخم، چوٹ، بیماری بےآرامی، باہمی اختلافات، فتح اور شکست وغیرہ یہ انسانی نقصانات ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ یہ سب کا سب لوح محفوظ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
(ف 1) مفسرین نے لکھا ہے کہ اس آیت سے فرقہ قدریہ کے مذہب کی پوری غلطی ثابت ہوتی ہے کیونکہ اس آیت سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ لوح محفوظ میں علم ازلی الٰہی کے موافق پہلے سب کچھ لکھاجاچکا ہے اب دنیا میں جو کچھ ہوتا ہے اسی کے موافق ہوتا ہے تمام ملک کی آفت جیسے عام قحط یا عام وبا، جان کی آفت جیسے عزیزوقارب اولاد کامرجانا، انسان کو آئندہ کا حال معلوم نہیں کہ کیا ہونے والا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں انسان کو سمجھایا ہے کہ اللہ کا علم ایسا نہیں ہے اس کے علم میں حال کی موجودچیزیں اور آئندہ کی موجود ہونے والی چیزیں دونوں برابر ہیں اس واسطے اس کو دنیا کے پیدا کرنے سے پہلے تمام دنیا کا حال لوح…
Read the full tafseer →[30] یعنی کوئی چیز جاتی رہی تو وہ تقدیری بات ہے اور اگر کوئی نعمت حاصل ہوگئی تو محض اللہ کی دین ہے سعی و کوشش کا نتیجہ نہیں، پھر اترانے کا کیا محل ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–26
مسئلہ تقدیر کی بالکل آسان صورت
2: ہر وہ شخص جو خدا پر ایمان رکھتا ہے ۔ اور جہ یہ مانتا ہے ۔ کہ اس کو ذرہ وزرہ باتفصیلی علم ہے ۔ وہ لازم طور پر اس بات کا قائل ہے ۔ کہ کوئی چیز بھی اس کی گرفت سے باہر نہیں ۔ وہ چھپی ڈھکی سب اشیاء سے واقف ہے اور ہر بات کو وقوع سے پہلے جانتا ہے ۔ اسلام اس باب میں صرف یہ اضافہ کرتا ہے ۔ کہ یہ علم لوح محفوظ میں منضبط ہے ۔ اور فرشتوں کی سہولت کے لئے ایک کتاب میں لکھا رکھا ہے اور ظاہر ہے ۔ کہ اتنے سے اضافہ سے نفس مسئلہ کے سمجھنے میں کوئی نئی دلنوازی ہونا ضروری ہے ۔ اب قرآن بھی یہ کہتا ہے ۔ کہ علم غیب ضبط تحریر میں بھی آچکا ہے ۔ کے لئے اس میں کیا استحالہ ہے ۔ یہی تدیر…
Read the full tafseer →(23) اور تم کو اس لئے بتایا دیا اور سکھا دیا تاکہ جو چیز تم سے فوت ہوجائے اور تمہارے ہاتھ نہ لگے تم اس پر رنجیدہ نہ ہوا کرو اور وہ جو تم کو دیوے اور عطا کردے تم اس پر اترایا نہ کرو اور یہ سمجھا نہ کرو اور اللہ تعالیٰ کسی اترانے والے اور خود ستائی کرنے والے اور شیخی مارنے والے کو پسند نہیں کرتا۔ یعنی ہاتھ نہ آنے والی چیز پر رنجیدہ تو اس لئے نہ ہو کہ ایسا ہی لکھا ہوا تھا کہ فلاں چیز مجھے نہ ملے اور اترایا اس لئے نہ کیا کرو کہ ملنے والی چیز بھی لکھے کے موافق ملی اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ملی وہ لوح محفوظ میں نہ لکھتا تو کیسے ملتی اختیال اور فخر دونوں میں تھوڑا سا فرق ہے لیکن دونوں مذموم ہیں خواہ…
Read the full tafseer →ف 1۔ اختیال اکثر فضائل داخلیہ پر اترانے میں اور فخر اکثر اشیاء خارجہ مال و جاہ وغیرہ پر اترانے میں مستعمل ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →تم سے جو چیز چلی جائے اس پر زیادہ افسردہ اور چیز مل جائے اس پر زیادہ خوش نہ ہو
23 ؎ گزشتہ آیت میں جو تم کو بتایا گیا ہے وہ اس لیے بتایا گیا ہے کہ زندگی میں سے جو چیز چلی جائے تم اس پر اس قدر غمگین نہ ہو کہ اس کے غم واندوہ میں تم بھی ہلاک ہونے لگو اور نہ اس چیز پر جو تم کو ملی ہے اترانے لگے اور فخر کرنے لگو کہ اپنے آپ سے باہر نکلنے لگو ۔ ہر بات میں اعتدال کرو اس لیے جو تم سے چلا گیا اس کو ہر حال میں جانا ہی تھا اور جو چیز تم کو دی گئی اس کو ہر حال میں دیا ہی جانا تھا۔ عام انسانوں کا وطیرا کیا ہے ؟ یہی کہ جب کوئی مصیبت ان پر پڑی تو وہ دل شکستہ اور مایوس ہو کر بیٹھ گئے اور اپنی قسمت کو کو سنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
Patience and Gratitude
لِّكَيْلَا تَأْسَوْا عَلَىٰ مَا فَاتَكُمْ وَلَا تَفْرَحُوا بِمَا آتَاكُمْ (...so that you may neither grieve on what has escaped you, nor over-exult on what He has given you ...57:23) This means that Allah has informed us of His encompassing knowledge, recording all things before they occur and creating all things in due measure known to Him, so that we may know that what has met us would never have missed us, and what has missed us would never have met us. Therefore, we are commanded not to over-grieve on the good things we have missed, nor to over-exult on the…
Read the full tafseer →42 In order to understand why this has been said in that context, one should keep in mind the conditions through which the Muslims were passing at the time this Surah was revealed. 'An ever present danger of attack by the enemy, battles in quick succession, a state of constant siege, hardships caused by economic boycott by the disbelievers, persecution of the converts to Islam everywhere in Arabia, these were the conditions that the Muslims were confronted with at that time. The disbelievers looked upon these as a proof of the Muslims having been forsaken and rejected, and the hypocrites took…
Read the full tafseer →