Explained with ayahs 22–24
تنگی اور آسانی کی طرف سے ہے
اللہ تعالیٰ اپنی اس قدرت کی خبر دے رہا ہے جو اس نے مخلوقات کی پیدائش سے پہلے ہی اپنی مخلوق کی تقدیر مقرر کی تھی، فرمایا کہ زمین کے جس حصے میں کوئی برائی آئے یا جس کسی شخص کی جان پر کچھ آپڑے اسے یقین رکھنا چاہئے کہ خلق کی پیدائش سے پہلے ہے، لیکن زیادہ ٹھیک بات یہ ہے کہ مخلوق کی پیدائش سے پہلے ہے، امام حسن سے اس آیت کی بابت سوال ہوا تو فرمانے لگے سبحان اللہ ہر مصیبت جو آسمان و زمین میں ہے وہ نفس کی پیدائش سے پہلے ہی رب کی کتاب میں موجود ہے اس میں کیا شک ہے ؟ زمین کی مصیبتوں سے مراد خشک سالی، قحط وغیرہ ہے اور جانوں کی مصیبت درد دکھ اور بیماری ہے، جس کسی کو کوئی خراش…
Read the full tafseer →سورة الْحَدِیْد 39
" اس کو " کا شارہ مصیبت کی طرف بھی ہوسکتا ہے، زمین کی طرف بھی، نفس کی طرف بھی، اور فحوائے کلام کے لحاظ سے مخلوقات کی طرف بھی۔
سورة الْحَدِیْد 40
کتاب سے مراد ہے نوشتہ تقدیر۔
سورة الْحَدِیْد 41
یعنی اپنی مخلوقات میں سے ایک ایک کی تقدیر پہلے سے لکھ دینا اللہ کے لیے کوئی مشکل کام نہیں ہے۔
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
کوئی مصیبت نہ دنیا میں آتی ہے اور نہ خاص تمہاری جانوں میں مگر وہ (سب) ایک کتاب میں (یعنی لوح محفوظ میں) لکھی ہیں قبل اس کے کہ ہم ان جانوں کو پیدا کریں (یعنی تمام مصیبتیں خارجی ہوں یا داخلی، وہ سب مقدر ہیں اور) یہ اللہ کے نزدیک آسان کام ہے (کہ واقع ہونے سے پہلے لکھ دیا کیونکہ اس کو علم غیب حاصل ہے اور ہم نے یہ بات اس واسطے بتلا دی ہے) تاکہ جو چیز تم سے جاتی رہے (تندرستی یا اولاد یا مال) تم اس پر (اتنا) رنج نہ کرو (جو حق تعالیٰ کی مرضی کے طلب کرنے اور آخرت کے امور میں مشغول ہونے میں رکاوٹ ہوجاوے اور طبعی تکلیف کا مضائقہ نہیں) اور تاکہ جو چیز تم کو عطا فرمائی ہے (اس کی نسبت بھی یہی…
Read the full tafseer →(ما اصاب من مصیبۃ فی الارض ولا فی انفسکم الا فی کتب من قبل ان نبراھا ان ذلک علی اللہ یسیر) (22)۔
(تقدیر کا نوشتہ اٹل ہے) یعنی یہ حقیقت بھی ہمیشہ پیش نظر رکھو کہ جو مالی یا جانی مصیبت بھی تمہیں پیش آنی ہے وہ پیش آ کے رہے گی، تم اس سے بچنے کے کتنے ہی جتن کرو لیکن اس سے بھاگ نہیں سکتے، ہر دکھ اور سکھ اللہ تعالیٰ نے پہلے سے ایک کتاب میں لکھ رکھا ہے اور یہ کسی کے امکان میں نہیں ہے کہ وہ نوشتہ تقدی کو بدل سکے۔ اللہ تعالیٰ کا علم حاضر و مستقبل سب پر محیط ہے اس وجہ سے اس کے لیے یہ کام ذرا بھی مشکل نہیں ہے۔ تم اپنے محدود علم پر قیاس کر کے اس کو بعید از امکان خیال کرتے ہو لیکن اللہ تعالیٰ ہر چیز کا…
Read the full tafseer →22-1مثلاً قحط، سیلاب اور دیگر آفات زمینی اور آسمانی۔
22-2مثلاً بیماریاں، تعب و تکان اور تنگ دستی وغیرہ۔
22-3یعنی اللہ نے اپنے علم کے مطابق تمام مخلوقات کی پیدائش سے پہلے ہی باتیں لکھ دی ہیں جیسے حدیث میں آتا ہے کہ اللہ نے آسمان و زمین کی تخلیق سے پچاس ہزار پہلے ہی ساری تقدیریں لکھ دی تھیں۔
Read the full tafseer →17: کتاب سے مراد یہاں لوح محفوظ ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے قیامت تک ہونے والے تمام واقعات پہلے سے لکھے ہوئے ہیں۔
Read the full tafseer →ما اصاب .................... الحمید (42) (75 : 22 تا 42)
” کوئی مصیبت ایسی نہیں جو زمین میں یا تمہارے اپنے نفس پر نازل ہوتی ہو اور ہم نے اس کو پیدا کرنے سے پہلے ایک کتاب ” یعنی نوشتہ تقدیر “ میں لکھ نہ رکھا ہو۔ ایسا کرنا اللہ کے لئے بہت آسان کام ہے۔ یہ سب کچھ اس لئے ہے تاکہ جو کچھ بھی نقصان تمہیں ہو اس پر تم دل شکستہ نہ ہو اور جو کچھ اللہ تمہیں عطا فرمائے اس پر پھول نہ جاؤ۔ اللہ ایسے لوگوں کو پسند نہیں کرتا جو اپنے آپ کو بڑی چیز سمجھتے ہیں اور فخر جتاتے ہیں ، جو خود بخل کرتے ہیں اور دوسروں کو بخل کرنے پر اکساتے ہیں۔ اب اگر کوئی روگردانی کرتا ہے تو اللہ بےنیاز اور ستودہ صفات ہے۔ “
اس کائنات…
Read the full tafseer →5 ملک میں جو عام آفت آئے مثلاً قحط، زلزلہ وغیرہ اور خود تم کو جو مصیبت لاحق ہو مثلاً مرض وغیرہ وہ سب اللہ کے علم میں قدیم سے طے شدہ ہے اور لوح محفوظ میں لکھی ہوئی ہے۔ اسی کے موافق دنیا میں ظہور ہو کر رہے گا۔ ایک ذرہ بھر کم و بیش یا پس و پیش نہیں ہوسکتا۔
6 یعنی اللہ کو ہر چیز کا علم ذاتی ہے کچھ محنت سے حاصل کرنا نہیں پڑا پھر اپنے علم محیط کے موافق تمام واقعات و حوادث کو قبل از وقوع کتاب (لوح محفوظ) میں درج کردینا اس کے لیے کیا مشکل ہے۔
Read the full tafseer →آیت 22{ مَـآ اَصَابَ مِنْ مُّصِیْبَۃٍ فِی الْاَرْضِ وَلَا فِیْٓ اَنْفُسِکُمْ اِلاَّ فِیْ کِتٰبٍ مِّنْ قَـبْلِ اَنْ نَّــبْرَاَھَا } ”نہیں پڑتی کوئی پڑنے والی مصیبت زمین میں اور نہ تمہاری اپنی جانوں میں مگر یہ کہ وہ ایک کتاب میں درج ہے ‘ اس سے پہلے کہ ہم اسے ظاہر کریں۔“
اَصَابَ یُصِیْبُ آپڑنا ‘ نازل ہونا سے اسم الفاعل ”مُصِیْب“ ہے اور اس کی مونث ”مُصِیْبَۃ“ ہے ‘ جس کے معنی ہیں نازل ہونے یا آپڑنے والی شے۔ چناچہ لغوی اعتبار سے تمام حوادث ‘ واقعات ‘ کیفیات جو ہم پر وارد ہوتی ہیں ‘ وہ سب کی سب اس میں شامل ہوجائیں گی ‘ لیکن عام طور پر یہ لفظ تکلیف دہ ‘ ناگوار اور ناپسندیدہ چیزوں کے لیے استعمال ہوتا…
Read the full tafseer →38 جن حالات میں یہ سورت نازل ہوئی وہ مخلص مسلمانوں کے لیے بڑے صبر آزما تھے۔ چار قسم کے دشمن مسلمانوں کی نوزائیدہ ریاست کو صفحہ ہستی سے نیست و نابود کرنے پر تلے بیٹھے تھے ایک قریش مکہ، دوسرے مدینہ کے اردگرد کے مشرک قبائل۔ تیسرے یہود مدینہ اور چوتھے منافقین جو ہر دشمن اسلام قوت سے اندرونی ساز باز رکھتے تھے اور مسلمانوں کے لیے مار آستین بنے ہوئے تھے ان حالات میں جو ذہنی اور ظاہری پریشانیاں مسلمانوں کو لاحق ہوسکتی تھیں۔ ان کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ ان حالات میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ تم یہ نہ سمجھو کہ ہم تمہاری ان مشکلات و مصائب سے بیخبر ہیں۔ بلکہ زمین میں جو…
Read the full tafseer →32۔ (کیونکہ اس کے علم میں حال ومستقبل سب یکساں ہے) ما ..... نبراھا “۔ یعنی جتنی بھی مصبیتیں انسان کے لیے ممکن ہیں خواہ داخلی ہوں یاخارجی۔ سب ازل سے مقدر ہیں۔ (آیت) ’ کتب “۔ مراد لوح محفوظ ہے۔ وھو اللوح المحفوظ اے مکتوبۃ فیہ (بحر) یعنی اللوح المحفوظ (معالم) (آیت) ” ذلک “۔ یعنی قبل وقوع ان کا لکھ دینا۔ اے تقدیر ذلک واتیانہ فی کتاب (مدارک) ( آیت) ” نبراھا “۔ ضمیرھا، انفس کے لیے ہے۔ والضمیر علی ما روی عن ابن عباس وقتادۃ والحسن وجماعۃ للانفس (روح)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
سابقو الی مغفرۃ من ربکم، سابقوا، مسابقۃ سے ماخوذ ہے یعنی اپنے ہمعصروں سے مغفرت یعنی اسباب مغفرت کی جانب آگے بڑھنے کی کوشش کرو، یعنی جس طرح تم دنیا کی دولت و لذتیں اور فائدے سمیٹنے میں ایک دوسرے سے بڑھ جانے کی جو کوشش کر رہے ہو اسے چھوڑ کر یا اس کے ساتھ ساتھ اس چیز کو ہدف اور مقصود بنائو اور اس طرف دوڑنے میں بازی لے جانے کی کوشش کرو۔
ذلک فضل اللہ یوتیہ من یشاء واللہ ذوالفضل العظیم اس سے پہلی آیت میں جنت اور اس کی نعمتوں کے لئے مسابقت اور کوشش کا حکم تھا اس سے کسی کو یہ خیال پیدا ہوسکتا تھا کہ جنت اور اس کی لازوال نعمتیں ہمارے عمل کا ثمرہ ہیں اس آیت میں حق تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا کہ تمہارے…
Read the full tafseer →کوئی مصیبت نہ دنیا
میں آتی ہے ‘ نہ تمہاری جانوں میں مگر وہ ایک کتاب میں لکھی ہوئی ہے قبل اس کے کہ ہم ان کو پیدا کردیں ‘ یہ اللہ کے نزدیک آسان کام ہے ‘
مِنْ مُّصِیْبَۃٍ : کوئی مصیبت جیسے قحط اور دوسری (ارضی) آفات۔
وَلاَ فِیْ اَنْفُسِکُمْ : جیسے بیماری اور احباب کی موت۔
فِیْ کِتٰبٍ : یعنی لوح محفوظ میں لکھی ہوئی اور اللہ کے علم میں پہلے سے موجود ہے۔
مِنْ قَبْلِ اَنْ نَّبْرَاَھَا : یعنی مصائب کو یا زمین کو یا نفوس کو پیدا کرنے سے پہلے۔
اِنَّ ذٰلِکَ : یعنی باوجود کثرت مصائب کے ان کو (تفصیل کے ساتھ) لوح محفوظ میں لکھ دینا اللہ کے لیے آسان ہے۔
Read the full tafseer →کوئی مصیبت قحط خشکی بھوک گرانی وغیرہ جو دنیا میں آتی ہے اور نہ مرض و تکالیف اور اہل و عیال کے مرنے اور مال کے ختم ہونے جیسی مصیبیں خاص تمہاری جانوں میں آتی ہیں مگر ان سب چیزوں کا ہونا لوح محفوظ میں لکھا ہے قبل اس کے کہ ہم ان جانوں اور اس زمین کو پیدا کریں اور بغیر کسی کتاب کے ان تمام باتوں کی نگہداشت اللہ تعالیٰ کے نزدیک آسان کام ہے۔
Read the full tafseer →1۔ مَآ اَصَابَ مِنْ مُّصِیْبَۃٍ۔۔۔۔۔:”اصاب“ کا مفعول بہ محذوف ہے : ”ای ما اصابکم او ما اصاب اخذ من مصیبۃ۔۔۔۔“ ”یعنی تمہیں یا کسی کو جو بھی مصیبت پہنچتی ہے خواہ زمین میں ہو یا تمہاری جانوں میں۔۔۔۔۔“ سورت کی ابتداء سے جہاد میں مال و جان خرچ کرنے کی تاکیدآ رہی ہے ، چونکہ اس راہ میں کئی طرح کی جسمانی و ذہنی اور مالی و جانی مصیبتیں پیش آتی ہیں ، مثلاً بھوک ، پیاس ، فقر ، خوف ، غم ، تھکاوٹ ، بیماری ، زخم ، چوٹ ، گرفتاری اور قتل وغیرہ ، اس لیے آدمی جہاد پر جانے سے گریز کرتا ہے اور اپنے آپ کو ان مصیبتوں سے بچانے کی کوشش کرتا ہے اور اگر جہاد کے لیے چلا جائے تو ان مصائب کے پیش آنے پر پریشان ہوتا ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
ما اصاب من مصیبۃ فی الارض مقاتل نے کہا، مصیبت سے مراد قحط، نباتات اور پھلوں کی قلت ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : کھیتی میں آفات ہیں۔ ولا فی انفسکم مراد جو تمہیں ب یماریاں لاحق ہوتی ہیں، یہ قتادہ کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد حدود کا قائم کرنا ہے، یہ ابن حبان کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد معاش کی تنگی ہے۔ یہ وہ معنی ہے جسے ابن جریج نے روایت کیا ہے۔ الا فی کتب مراد لوح محفوظ ہے۔ من قبل ان نبراھا ھا ضمیر نفوس، الارض، المصائب یا سب کی طرف لوٹ رہی ہے۔ حضرت ابن عباس نے کہا : معنی ہے قبل اس کے کہ وہ مصیبت کو پیدا کرے۔ سعید بن جبیر نے کہا : اس سے قبل کہ وہ زمین اور نفس کو پیدا کرے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
1۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ما اصاب من مصیبۃ فی الارض ولا فی انفسکم (کوئی مصیبت نہ زمین میں آتی ہے اور نہ تمہاری جانوں میں) یعنی نہ دنیا میں اور نہ دین میں آیت الا فی کتب من قبل ان نبرأہا۔ مگر وہ ایک کتاب میں کھی ہوئی ہے قبل اس کے کہ ہم ان کو پیدا کریں۔ آیت لکیلا تاسوا علی مافاتک یہ اس لیے ہے کہ جو چیز تم سے جاتی رہے تم اس پر غمگین نہ ہو۔ یعنی دنیا میں سے آیت ولاتفرحوا بما اٰتیکم۔ اور یعنی جو چیز تم کو دنیا میں مل جائے اس پر اترانے نہ لگو۔
2۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے آیت ما اصاب من مصیبۃ الایۃ کے بارے میں روایت کیا کہ یہ وہ چیز ہے جس سے فراغت ہوچکی…
Read the full tafseer →[مَآ اَصَابَ : نہیں آ لگتی ][ مِنْ مُّصِيْبَةٍ : کوئی بھی آ لگنے والی ][ فِي الْاَرْضِ وَلَا فِيْٓ اَنْفُسِكُمْ : زمین میں اور نہ تمہاری جانوں میں ][ اِلَّا فِيْ كِتٰبٍ : سوائے اس کے کہ وہ ایک کتاب میں ہے ][ مِّنْ قَبْلِ اَنْ : اس سے پہلے کہ ][ نَّبْرَاَهَا ۭ: ہم وجود بخشتے ہیں اس کو ][ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَي اللّٰهِ : بیشک یہ اللہ پر ][ يَسِيْرٌ: آسان ]
نوٹ۔ 1: آیت ۔ 22 ۔ میں ایک حقیقت کی یاد دہانی کرائی گئی ہے کہ ہر انسان پر اچھے یا برے ، جو بھی حالات وارد ہوتے ہیں وہ سب اللہ کے اذن سے ہوتے ہیں ۔ اس کے اذن کے بغیر پتہ بھی جنبش نہیں کرسکتا ۔ پھر اگلی آیت میں بتایا کہ تم سے کوئی چیز جاتی رہے تو…
Read the full tafseer →جو بھی کوئی مصیبت پیش آتی ہے اس کا وجود میں آنا پہلے سے لکھا ہوا ہے
دنیا میں انسان آیا ہے محض زندگی گزارنے کے لیے نہیں آیا بلکہ وہ امتحان اور ابتلاء میں ڈالا گیا، سورة الملک میں فرمایا ﴿ا۟لَّذِيْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَ الْحَيٰوةَ لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا﴾ (اللہ تعالیٰ نے زندگی اور موت کو پیدا فرمایا تاکہ تمہیں آزمائے کہ تم میں کون اچھے عمل والا ہے) جب امتحان میں ڈالے گئے ہیں تو ان چیزوں کا پیش آنا بھی ضروری ہے جو امتحان کا ذریعہ بن سکیں امتحان والی دو چیزیں ہیں۔
اول دولت اور نعمت اور آرام و راحت دوم مشکلات و مصائب اور ناگوار چیزیں، جب پہلی چیز یعنی خوش عیش زندگی ملتی ہے تو بہت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–24
تمثیل بےثباتی دنیا و عظمت خداوند خالق کائنات وتعلیم صبر و قناعت وتاکید فکر آخرت :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” اعلموا انما الحیوۃ الدنیا ...... الی ...... ھو الغنی الحمید “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں انسان کا دنیوی نعمتوں اور راحتوں میں لگ کریاد خدا اور فکر آخرت سے غلفت و لاپرواہی برتنے پر تنبیہ فرمائی گئی تھی اور یہ کہ یہ طریقہ اہل کتاب کا تھا اہل ایمان کو یہ بات زیب نہیں دیتی اب ان آیات میں دنیا اور دنیا کی لذتوں کی ناپائیداری بیان فرمائی جارہی ہے اور اسکی بےثباتی کا ایک نقشہ پیش کیا جارہا ہے تاکہ دنیا کی حقیقت سمجھی جاسکے، فرمایا ،
جان لو اس کے سوا کچھ نہیں کہ دنیا کی زندگی بس ایک کھیل اور تماشا…
Read the full tafseer →25:۔ ” ما اصاب “ یہ ترغیب انفاق کا پانچواں طریق ہے۔ یعنی اگر تم مال اس لیے خرچ نہیں کرتے ہو کہ مصیبتوں اور تکلیفوں میں کام آئے تو یہ بھی خام خیالی ہے۔ کیونکہ جو آفتیں زمین پر آنے والی ہیں مثلا قحط سالی، کھیتوں کی تباہی، زلزلے وغیرہ یا جو مصیبتیں انسانوں پر آنے ہیں مثلا بیماری تنگدستی وغیرہ یہ سب روز ازل میں مقدر ہوچکی ہیں۔ اور واقع ہونے سے پہلے ہی لوح محفوظ میں ثبت اور علم الٰہی میں موجود ہیں، اس لیے ان حوادث و بلیات کو مال و دولت یا کسی دوسرے وسائل سے روکنا ناممکن ہے اور ہر چیز کو مقدر کرلینا اللہ تعالیٰ کے لیے نہایت آسان ہے۔ کیونکہ اس کا علم کان ومایکون پر حاوی اور محیط ہے۔ ” لکیلا تاسوا “…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
ربط آیات :
گزشتہ آیات میں انفاق فی سبیل اللہ کا ذکر ہوا ، دنیا کی لہو ولعب زیب وزینت اور مال واولاد کی کثرت طلب کو مہلک قرار دیا گیا۔ دنیا کی بےثباتی کا ذکر کرکے خدا تعالیٰ کی بخشش ومغفرت اور وسیع وعرویض جنت کی طرف سبقت کرنے کی ترغیب دی گئی پھر فرمایا کہ یہ جنت ان لوگوں کے لئے تیار کی گئی ہے جو اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے اور جنہوں نے اللہ کی آخری کتاب قرآن کریم کے نظام کے قیام کے لئے مال صرف کیا۔ جس کا معاوضہ اللہ کے ہاں ملنے والا ہے۔
اندرونی اور بیرونی مصائب :
بعض لوگ مال کو اللہ کے راستے میں اس لئے خرچ نہیں کرتے کہ یہ مال ان کی مصیبت میں کام آئے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس نظریہ کی…
Read the full tafseer →مَآ اَصَابَ مِنْ مُّصِيْبَۃٍ فِي الْاَرْضِ وَلَا فِيْٓ اَنْفُسِكُمْ اِلَّا فِيْ كِتٰبٍ مِّنْ قَبْلِ اَنْ نَّبْرَاَہَا 0 ۭ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَي اللہِ يَسِيْرٌ 22 ۚ ۖ
ما
مَا في کلامهم عشرةٌ: خمسة أسماء، وخمسة حروف .
فإذا کان اسما فيقال للواحد والجمع والمؤنَّث علی حدّ واحد، ويصحّ أن يعتبر في الضّمير لفظُه مفردا، وأن يعتبر معناه للجمع .
فالأوّل من الأسماء بمعنی الذي
نحو : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَضُرُّهُمْ [يونس/ 18] ثمّ قال : هؤُلاءِ شُفَعاؤُنا عِنْدَ اللَّهِ [يونس/ 18] لمّا أراد الجمع، وقوله : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقاً ... الآية [ النحل/…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–24
ترکیب : عرضہا متبداء کعرض السماء الخ خبرہ والجملۃ صفۃ جنۃ۔ اعدت صفۃ اخری۔ فی الارض الجار یتعلق بمصیبۃ لانھا مصدرہ یجوزان تکون صفۃ لہا علی اللفظ اوالحل۔ و مثلہ ولافی انفسکم الافی کتاب حال ای مکتوبۃ۔ من قبل لغت اومتعلق بہ لکیلا کے ناصبۃ للفصل بمعنی ان (آسی) اندوہ و اندوہگیں شدن یسمع یسمع یقال آسی علی مصیبۃ ای حزن و آسیت لفاں اے حزنت لہ صراح۔
تفسیر : دنیا کی بےثباتی اور بےقدری بیان فرما کر کردارِ آخرت کی طرف توجہ دلاتا ہے جس کے لیے انسان اس فانی گھر میں چند روزہ مہمان بنایا گیا ہے فقال سابقوا الی مغقرۃ من ربکم الخ کہ ان کاموں کی طرف دوڑو اور جلد حاصل کرو کہ جو اللہ کی مغفرت اور حصول جنت کا باعث…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
مَا اَصَابَ مِنْ مُّصِیْبَۃٍ فِی الْاَرْضِ وَلاَ فِیْٓ اَنْفُسِکُمْ اِلاَّ فِیْ کِتٰبٍ مِّنْ قَبْلِ اَنْ نَّبْرَاَھَا ط اِنَّ ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ یَسِیْرٌ۔ لِّـکَیْلاَ تَاسَوْا عَلٰی مَافَاتَـکُمْ وَلاَ تَفْرَحُوْا بِمَآ اٰ تٰـکُمْ ط وَاللّٰہُ لاَ یُحِبُّ کُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرِ نِ ۔ (الحدید : 22، 23)
(اور تمہیں کوئی مصیبت نہیں پہنچتی نہ زمینی پیداوار میں اور نہ تمہارے اپنے نفوس میں، مگر یہ کہ وہ ایک کتاب میں اس سے پہلے کہ ہم اس کو وجود دیں، لکھی ہوئی ہے، یہ اللہ پر بہت آسان ہے۔ (یہ سب کچھ اس لیے ہے) تاکہ جو چیز جاتی رہے اس پر غم نہ کرو، اور جو کچھ تمہیں اللہ عطا فرمائے اس پر مت اترائو، اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
فہم القرآن
ربط کلام : جنت کا حصول مشکلات کا سامنا کیے بغیر ممکن نہیں اس لیے مشکلات کی حقیقت کا ذکر کیا جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو حقیقت حال بتانے اور اسے تسلی دینے کے لیے ارشاد فرمایا ہے کہ تم پر اور زمین پر کوئی مصیبت نازل نہیں ہوتی مگر ” اللہ “ ہی اسے بھیجنے والا ہے۔ جسے اس نے اپنے ہاں لوح محفوظ پر ثبت کر رکھا ہے۔ مصیبت نازل کرنا اور اسے ٹالنا صرف اور صرف ” اللہ “ کے اختیار میں ہے اور اس نے انسان کی تخلیق سے پہلے اس کے مقدر میں لکھ رکھا ہے۔ مصیبت نازل کرنا اور اس کو ٹالنا اللہ تعالیٰ کے لیے مشکل نہیں اس کے لیے کسی کام کو مشکل خیال کرنا ہی بہت بڑا کفر ہے۔ کسی کو مصیبت میں مبتلا کرنے…
Read the full tafseer →22 : : پھر بیان فرمایا کہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے قضاء و قدر سے ہوتا ہے۔ فرمایا :
مَآ اَصَابَ مِنْ مُّصِیْبَۃٍ فِی الْاَرْضِ (کوئی مصیبت نہ دنیا میں آتی ہے) مصیبت سے مراد قحط، کھیتوں اور پھلوں پر اترنے والی آفات۔
نحو : فی الارض یہ موضع جر میں ہے۔ تقدیر کلام اس طرح ہے ما اصاب من مصیبۃ ثابتۃ فی الارض۔ وَلَا فِیْ اَنْفُسِکُمْ (اور نہ تمہاری جانوں میں) جیسے امر اض، تکالیف اور موت ِاولاد وغیرہ۔
اِلَّا فِیْ کِتٰبٍ (مگر وہ ایک کتاب میں لکھی ہوئی ہے) کتابؔ لوح محفوظ میں ہے۔
نحو : یہ موضع حال میں ہے ای الا مکتوبًا۔
مِّنْ قَبْلِ اَنْ نَّبْرَاَھَا (اس سے قبل کہ ہم ان کو پیدا کردیں) اس سے پہلے کہ ہم نفوس…
Read the full tafseer →21 ۔” سابقوا “ تم دوڑو۔ ” الی مغفرۃ من ربکم وجنۃ عرضھا کعرض السماء والارض “ اگر اس میں سے بعض کو بعض کے ساتھ ملا دیا جائے۔ ” اعدت للذین امنوا باللہ ورسولہ ذلک فضل اللہ یوتیہ من یشاء واللہ ذوالفضل العظیم “ پس بیان کیا کہ کوئی شخص جنت میں داخل نہ ہوگا مگر اللہ کے فضل کے ساتھ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
22۔ 24۔ اس آیت کی تفسیر میں علماء مفسرین 3 ؎ کے چار قول ہیں پہلا قول تو یہ ہے کہ جو جانی یا مالی کوئی آفت یا مصیبت لوگوں پر دنیا میں آتی ہے اس مصیبت کے پیدا کرنے سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ نے اس مصیبت کے پہنچنے کا سارا حال لوح محفوظ میں لکھ لیا ہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ جن لوگوں پر وہ مصیبت اور آفت آتی ہے ان کے پیدا کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اس مصیبت کا حال لوح محفوظ میں لکھ لیا ہے۔ تیسرا قول یہ ہے کہ زمین کے پیدا کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اس مصیبت کا حال لوح محفوظ میں لکھ لیا ہے چوتھا قول یہ ہے کہ اس مصیبت کے اور مصیبت والوں کے اور تمام دنیا کے پیدا کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اس مصیبتیں کا حال…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ اپنی قضا و قدر کی عمومیت کے بارے میں خبر دیتے ہوئے فرماتا ہے : (مَآ اَصَابَ مِنْ مُّصِيْبَةٍ فِي الْاَرْضِ وَلَا فِيْٓ اَنْفُسِكُمْ ) یہ آیت کریمہ خیر و شر پر مبنی ان تمام مصائب کو شامل ہے جو مخلوق پر نازل ہوتی ہیں ہر چھوٹی بڑٰ تقدیر لوح محفوظ کو درج ہے۔ یہ ایک بہت بڑا معاملہ ہے عقل جس کا احاطہ نہیں کرسکتی اور اس مقام پر بڑے بڑے خرد مند ہ کے بکے رہ جاتے ہیں مگر یہ اللہ تعالیٰ کے لیے بہت آسان ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–26
آیا ہر مومن شہیدہوتا ہے ؟
قول باری ہے (والذین امنوا باللہ ورسلہ اولئک ھم الصدیقون والشھدآء عند ربھم، اور جو لوگ اللہ اور رسولوں پر (پورا) ایمان رکھتے ہیں وہی اپنے پروردگار کے ہاں صدیق اور شہید ہیں) ۔
اس آیت کی بنا پر حضرت براء بن عازب ؓ نے حضور ﷺ سے روایت کی ہے کہ ” ہر مومن شہید ہے۔ “ اس صورت میں قول باری (والشھدآء ) ان مومنین کی صفت ہے جن کا ذکر پہلے گزر چکا ہے۔
حضرت عبداللہ ؓ اور مجاہد کا بھی یہی قول ہے ۔ حضرت ابن عباس ؓ ، مسروق، ابو الضحیٰ اور ضحاک کا قول ہے کہ یہاں سے کلام کی ابتداء ہوئی ہے اور اس کی خبر یہ قول باری ہے (لھم اجرھم و نورھم ان کے لئے ان کا (خاص) اجر ہوگا اور ان کا (خاص) نور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
[ 83] اصل میدان مسابقہ کی نشاندہی کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ لوگو دوڑ وتم سب اپنے رب کی بخشش کی طرف یعنی ان اعمال کی طرف جو کہ تمہارے رب کی بخشش کا ذریعہ اور اس کی جنت کا سبب ہیں، کہ باہمی مسابقے اور مقابلے کا اصل میدان اور اصل چیز دراصل یہی ہے، نہ کہ دنیا کا وہ متاع فانی و زائل جس کو ابناء دنیانے سب کچھ رکھا ہے، والعیاذ باللّٰہ، سو اہل کفر و باطل کے سامنے تو دنیا ہی دنیا اور اس کے وقت مفادات اور عارضی منافع و ملذات ہیں، لیکن اہل ایمان کا مقصد اور نصب العین جنت اور آخرت ہی ہونا چاہئے، وباللہ التوفیق۔ سو آخرت سے منہ موڑ کر اور اس کے تقاضوں سے آنکھیں بند کرکے صرف دنیا کے وقتی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–25
ﷲ نے لوح محفوظ میں سب لکھ رکھا ہے۔ نہ گھبراؤ نہ اتراؤ
تشریح : ان آیات میں رب کائنات کے بڑے زبردست کمالات اور بہترین اصول و ضوابط کا ذکر کیا گیا ہے جو کہ ہمیں کائنات کے ذرے ذرے میں چاہے وہ انسان ہو، حیوان ہو، نباتات ہو، جمادات ہو یا فرشتے ہوں یا پھر اجرام فلکی ہوں یا ہوا پانی اور آگ ہوں غرض ہر چیز میں دکھائی دیتے ہیں سب چیزیں اللہ کے پہلے بنائے ہوئے ڈیزائن کے مطابق چل رہی ہیں اور وہ ڈیزائن اور ان کے اصول اللہ کے پاس لکھے ہوئے محفوظ پڑے ہیں اور جہاں محفوظ کئے گئے ہیں اس کو رب العزت لوح محفوظ کا نام دیتے ہیں۔ ہم اس کو یوں سمجھ سکتے ہیں کہ جیسے انسان ایک کمپیوٹر میں پورا پروگرام بنا کر رکھ دیتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–25
آیات 20 تا 25۔
اسرار ومعارف۔
یہ جان رکھو کہ حیات دنیا محض کھیل ہے بچپن کے کام خود انسان کو جوانی میں محض فضول نظر آتے ہیں اور جوانی کی حرکات بڑھاپے میں اسی طرح موت کے بعد سب فضول لگیں گے کہ یہ محض ذاتی نمائش میں رجھا لینے والی چیزوں میں سے جیسے کہ بارش ہوا اور کھیتیاں سرسبز ہوں تو کافر کو خوش کرتی ہیں اور انہیں میں الجھ جاتا ہے یعنی خوش مومن بھی ہوتا ہے مگر اس کی خوشی اللہ کا شکر ادا کرنے کا سبب بنتی ہے جبکہ کافر کے لی باعث غفلت پھر اس پر جوبن آتا ہے پھر زردی مائل ہو کر آخر سوکھ کر گھاس پھوس کی طرح تنکے بکھر جاتے ہیں جبکہ ان اعمال کے نتائج آخرت میں ظاہر ہوں گے کہ کفر پر بہت سخت عذاب ہے اور…
Read the full tafseer →ف 4 یا زمین اور لم لوگوں کی پیدائش سے پہلے۔ “5 حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا۔ “ اللہ تعالیٰ نے مخلوقات کی تقدیر زمین و آسمان کی پیدائش ہے پچاس ہزا رسال پہلے لکھ دی تھی۔ (ابن کثیر بحو (صحیح مسلم)
Read the full tafseer →(57:22) ما اصاب من مصیبۃ : ما نافیہ۔ من تبعیضیہ ہے۔ اصاب ماضی واحد مذکر غائب اصابۃ (افعال) مصدر۔ بمعنی وہ آپڑا وہ آپہنچا۔ اس نے پالیا۔ مصیبۃ اسم فاعل واحد مؤنث۔ آپہنچنے والی۔ تکلیف۔ غم۔ مصیبت اس کی جمع مصائب ہے۔ ترجمہ : نہیں پہنچتی کوئی مصیبت۔۔
فی الارض زمین میں۔ زمین میں مصیبت مثلاً قحط یا کوئی دوسری آفت۔
ولا فی انفسکم۔ اس جملہ کا عطف جملہ سابقہ پر ہے اور نہ پڑتی ہے کوئی مصیبت تمہاری اپنی جانوں میں مثلا بیماری وغیرہ۔
ولا فی کتب : مگر وہ ایک میں لکھی ہوتی ہے۔ کتب سے مراد لوح محفوظ ہے۔
من قبل ان نبراھا : من حرف جار قبل اسم ظرف زمان۔ مجرور، مضاف، ان مصدریہ۔ نبراھا ماضی جمع متکلم۔ برء (باب نصر)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
لغات القرآن۔ سابقوا۔ دوڑو۔ عرض۔ پھیلائو۔ ان نبرا۔ یہ کہ ہم پیدا کریں۔ یسیر۔ آسان۔ لیکیلا۔ تاکہ نہ ہو۔ مختال۔ اترانے والا۔ فخور۔ بہت زیادہ گھمنڈ کرنے والا۔
تشریح : اس زمین پر یا کسی انسان پر جو بھی راحت و آرام اور مصیبت و عذاب آتا ہے وہ تقدیر الٰہی اور اللہ کے لکھے ہوئے فیصلے کے مطابق ہی آتا ہے۔ زمین مصیبت سے مراد مال و دولت کا ضائع ہوجانا، تجارت اور لین دین میں گھاٹا اور نقصان ہوجانا، زلزلہ ، قحط اور کھیت کی تباہی وغیرہ زمینی مصیبت ہے اور کوئی اتفاقی حادثہ، زخم، چوٹ، بیماری بےآرامی، باہمی اختلافات، فتح اور شکست وغیرہ یہ انسانی نقصانات ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ یہ سب کا سب لوح محفوظ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
(ف 1) مفسرین نے لکھا ہے کہ اس آیت سے فرقہ قدریہ کے مذہب کی پوری غلطی ثابت ہوتی ہے کیونکہ اس آیت سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ لوح محفوظ میں علم ازلی الٰہی کے موافق پہلے سب کچھ لکھاجاچکا ہے اب دنیا میں جو کچھ ہوتا ہے اسی کے موافق ہوتا ہے تمام ملک کی آفت جیسے عام قحط یا عام وبا، جان کی آفت جیسے عزیزوقارب اولاد کامرجانا، انسان کو آئندہ کا حال معلوم نہیں کہ کیا ہونے والا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں انسان کو سمجھایا ہے کہ اللہ کا علم ایسا نہیں ہے اس کے علم میں حال کی موجودچیزیں اور آئندہ کی موجود ہونے والی چیزیں دونوں برابر ہیں اس واسطے اس کو دنیا کے پیدا کرنے سے پہلے تمام دنیا کا حال لوح…
Read the full tafseer →[29] یعنی لوح محفوظ میں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–26
مسئلہ تقدیر کی بالکل آسان صورت
2: ہر وہ شخص جو خدا پر ایمان رکھتا ہے ۔ اور جہ یہ مانتا ہے ۔ کہ اس کو ذرہ وزرہ باتفصیلی علم ہے ۔ وہ لازم طور پر اس بات کا قائل ہے ۔ کہ کوئی چیز بھی اس کی گرفت سے باہر نہیں ۔ وہ چھپی ڈھکی سب اشیاء سے واقف ہے اور ہر بات کو وقوع سے پہلے جانتا ہے ۔ اسلام اس باب میں صرف یہ اضافہ کرتا ہے ۔ کہ یہ علم لوح محفوظ میں منضبط ہے ۔ اور فرشتوں کی سہولت کے لئے ایک کتاب میں لکھا رکھا ہے اور ظاہر ہے ۔ کہ اتنے سے اضافہ سے نفس مسئلہ کے سمجھنے میں کوئی نئی دلنوازی ہونا ضروری ہے ۔ اب قرآن بھی یہ کہتا ہے ۔ کہ علم غیب ضبط تحریر میں بھی آچکا ہے ۔ کے لئے اس میں کیا استحالہ ہے ۔ یہی تدیر…
Read the full tafseer →(22) کوئی آفت و مصیبت خواہ وہ دنیا میں واقع ہو یا خاص طور پر تم کو پہنچے الا یہ کہ وہ اس سے پہلے کہ ہم اس مصیبت کو پیدا کریں وہ ایک کتاب یعنی لوح محفوظ میں لکھی ہوئی ہے بیشک یہ قبل از وقوع کتاب میں لکھ دینا اللہ تعالیٰ پر بہت آسان ہے۔ یعنی مصیبت کوئی داخلی ہو یا خارجی ہو عام ہو یا خاص ہو وہ دنیا میں واقع ہونے اور ظاہر ہونے سے پہلے لوح محفوظ میں لکھی ہوئی ہوتی ہے اور یہ ہم پر لوح محفوظ کا انداراج بہت آسان ہے کیونکہ وہ علم غیب رکھتا ہے اور اس کا علم سب کو محیط ہے۔
Read the full tafseer →ف 8۔ یعنی تمام مصیبتیں خارجی ہوں یا داخلی وہ سب مقدر ہیں۔
Read the full tafseer →رب کریم کے قانون کی وضاحت اور علم الٰہی کی وسعت کا بیان
22 ؎ ( اصاب) کی اصل ص و ب ہے جس کا معنی پہنچنے کے ہیں ( اصاب) وہ پہنچا ، وہ آ پڑا ، اس نے پا لیا ۔ ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب (مصیبۃ) بھی اسی مادہ ص و ب ہی سے ہے۔ اسم فاعل واحد مؤنث مرفوع نکرہ اصابۃ مصدر غم ، تکلیف ، دکھ ، سختی پہنچانے والی ہرچیز کو مصیبت کہتے ہیں دراصل ( مصیبۃ) صفت کا صیغہ ہے اور اسی کے معنی میں بہت وسعت ہے ۔ صیب جس کے منی بارش کے ہیں اور وہ بھی مادہ سے ہے یعنی ص و ب (نبراھا) جمع متکلم مضارع برء مصدر ہے اور اصل اس کی ب ر ا ہے۔ ہم ان کو پیدا کریں ۔ باری پیدا کرنے والا الذی خلق الخلق اس دنیوی زندگی میں انسان کو کیسے کیسے…
Read the full tafseer →Factors affecting Mankind are duly measured and destined
There are two sets of factors that make man unmindful of Allah and the Hereafter: [ 1] wealth, comfort and other luxuries of this world; one's over-involvement in such luxuries makes him neglectful of Allah. The previous verses have warned against it. [ 2] calamities, problems and other hardships that cause one to be hopeless and in turn neglectful towards Allah. The current set of verses deal with this second cause of negligence.
مَا أَصَابَ مِن مُّصِيبَةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي أَنفُسِكُمْ إِلَّا فِي كِتَابٍ مِّن قَبْلِ أَن…
Read the full tafseer →39 "A Book": the Writ of destiny,
40 Here, "it" may be referring to the affliction as well as to the earth, or the self of man, or in view of the context, to all the creatures.
41 That is, it is not at all difficult for Allah to pre-ordain the destiny of each and every one of His creatures.
Read the full tafseer →