Explained with ayahs 20–21
دنیا کی زندگی صرف کھیل تماشا ہے
امر دنیا کی تحقیر و توہین بیان ہو رہی ہے کہ اہل دنیا کو سوائے لہو و لعب زینت و فخر اور اولاد و مال کی کثرت کی چاہت کے اور ہے بھی کیا ؟ جیسے اور آیت میں ہے (زُيِّنَ للنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوٰتِ مِنَ النِّسَاۗءِ وَالْبَنِيْنَ وَالْقَنَاطِيْرِ الْمُقَنْطَرَةِ مِنَ الذَّھَبِ وَالْفِضَّةِ وَالْخَيْلِ الْمُسَوَّمَةِ وَالْاَنْعَامِ وَالْحَرْثِ ۭ ذٰلِكَ مَتَاعُ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا ۚ وَاللّٰهُ عِنْدَهٗ حُسْنُ الْمَاٰبِ 14) 3۔ آل عمران :14) ، یعنی لوگوں کے لئے ان کی خواہش کی چیزوں کو مزین کردیا گیا ہے جیسے عورتیں بچے وغیرہ پھر حیات دنیا کی مثال بیان ہو رہی ہے کہ اس کی…
Read the full tafseer →سورة الْحَدِیْد 37
اصل میں لفظ سابِقُوْا استعمال ہوا ہے جس کا مفہوم محض " دوڑو " کے لفظ سے ادا نہیں ہوتا۔ مسابقت کے معنی مقابلے میں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش کرنے کے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ تم دنیا کی دولت اور لذتیں اور فائدے سمیٹنے میں ایک دوسرے سے بڑھ جانے کی جو کوشش کر رہے ہو اسے چھوڑ کر اس چیز کو ہدف مقصود بناؤ اور اس کی طرف دوڑنے میں بازی جیت لے جانے کی کوشش کرو۔
سورة الْحَدِیْد 38
اصل الفاظ ہیں عَرْضُھَا کَعَرْضِ السَّمَآءِ وَالْاَرْضِ۔ بعض مفسرین نے عرض کو چوڑائی کے معنی میں لیا ہے۔ لیکن دراصل یہاں یہ لفظ وسعت و پہنائی کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ عربی زبان میں لفظ عرض صرف چوڑائی ہی کے…
Read the full tafseer →(آیت) سَابِقُوْٓا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ ، یعنی مسابقت کرو اپنے رب کی مغفرت اور اس جنت کی طرف جس کا عرض آسمان و زمین کے عرض کے برابر ہے۔
مسابقت کرنے سے یہ مراد بھی ہو سکتی ہے کہ عمر اور صحت وقدرت کا کچھ بھروسہ نہیں، نیک اعمال میں سستی اور ٹال مٹول نہ کرو ایسا نہ ہو کہ پھر کوئی بیماری یا عذر آ کر تمہیں اس کام کے قابل نہ چھوڑے، یا موت ہی آجائے تو حاصل مسابقت کا یہ ہے کہ عجز و ضعف اور موت سے مسابقت کرو کہ ان کے آنے سے پہلے پہلے ایسے اعمال کا ذخیرہ کرلو جو جنت تک پہنچانے کا ذریعہ بن سکیں۔
اور مسابقت کے معنی یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ نیک…
Read the full tafseer →(سابقوا ا لی مغفرۃ من ربکم وجنۃ عومھا لعرض السماء والارض، اعدت للذین امنوا باللہ ورسلہ ذلک فضل اللہ یوقیہ من یشا واللہ ذوالفضل العظیم) (21)۔
(اصل میدان مسابقت)۔ اوپر کی آیت میں بتایا کہ اہل کفر کی بھاگ دوڑ اور ان کا تکاثر و تفاخر تو بس اسی دنیا کی عارضی وفائی مطلوبات و مرغوبات کی راہ میں ہے۔ وہ ان سے آگے جانے کا حوصلہ اپنے اندر نہیں رکھتے لیکن اہل ایمان کا نصب العین اپنے رب کی مغفرت اور اس کی خوشنودی ہونا چاہیے اور اس دنیا کی تنگ نائے کی جگہ انہیں اس جنت کے حصول کے لیے ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کرنی چاہیے جس کا طول و عرض آسمانوں اور زمین کے طول و عرض کے برابر ہے اور جو ان مومنین…
Read the full tafseer →21-1یعنی اعمال صالحہ اور توبۃ النصوح کی طرف کیونکہ یہی چیزیں مغفرت رب کا ذریعہ ہیں۔
21-2اور جس کا عرض اتنا ہو، اس کا طول کتنا ہوگا ؟ کیونکہ طول عرض سے زیادہ ہی ہوتا ہے
21-3ظاہر ہے اس کی چاہت اسی کے لیے ہوتی ہے جو کفر و معصیت سے توبہ کر کے ایمان وعمل صالح کی زندگی اختیار کرلیتا ہے اسی لیے وہ ایسے لوگوں کو ایمان صالحہ کی توفیق سے بھی نوازتا دیتا ہے۔
21-4وہ جس پر چاہتا ہے اپنا فضل فرماتا ہے جس کو وہ کچھ دے کوئی روک نہیں سکتا اور جس سے روک لے اسے کوئی نہیں دے سکتا۔ تمام خیر اسی کے ہاتھ میں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
16: یہاں اللہ تعالیٰ نے ان دلچسپیوں کا ذکر فرمایا ہے، جن سے انسان اپنی زندگی کے مختلف مرحلوں میں دل لگاتا ہے، بچپن میں ساری دلچسپی کھیل کود سے ہوتی ہے، اور جوانی کے دور میں زیب وزینت اور سجاوٹ کا شوق پیدا ہوتا ہے، اور اس زیب وزینت اور دنیا کے ساز و سامان میں ایک دوسرے کے سامنے اپنی برتری جتانے اور اس پر فخر کرنے کا ذوق ہوتا ہے، پھر بڑھاپے میں مال اور اولاد میں ایک دوسرے سے بڑھ جانے کو ہی انسان دلچسپی کا مرکز بنالیتا ہے، اور ہر مرحلے میں انسان جس چیز کو اپنی دلچسپی کی معراج سمجھتا ہے اگلے مرحلے میں وہ بےحقیقت معلوم ہونے لگتی ہے ؛ بلکہ بعض اوقات انسان اس پر ہنستا ہے کہ میں نے کس چیز کو اپنی…
Read the full tafseer →سابقو الی ................ العظیم (75 : 12) ” دوڑو اور ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو اپنے رب کی مغفرت اور اس جنت کی طرف جس کی وسعت آسمان و زمین جیسی ہے ، جو مہیا کی گئی ہے ان لوگوں کے لئے جو اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے ہوں۔ یہ اللہ کا فضل ہے ، جسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے ، اور اللہ بڑے فضل والا ہے “۔
یہ مقابلہ سامان لہو ولعب جمع کرنے میں نہیں ہے ، یہ بہت سا مال جمع کرنے کا بھی نہیں ہے یہ ان لوگوں کا مقابلہ ہے جنہوں نے اپنی گردن سے دنیا کی غلامی کا طوق اتار پھینکا ہے ، اور انہوں نے لہو ولعب کا میدان بچوں کے لئے چھوڑ دیا ہے۔ اور ان کی نظریں کسی اونچے افق پر ہیں۔ اور ان کا ہدف اس…
Read the full tafseer →2 یعنی موت سے پہلے وہ سامان کرلو جس سے کو تاہیاں معاف ہوں اور بہشت ملے۔ اس کام میں سستی اور دیر کرنا مناسب نہیں۔
3 یعنی آسمان اور زمین دونوں کو اگر ملا کر رکھا جائے تو اس کے برابر جنت کا عرض ہوگا۔ طول کتنا ہوگا ؟ یہ اللہ ہی جانے۔
4 یعنی ایمان و عمل بیشک حصول جنت کے اسباب ہیں۔ لیکن حقیقت میں ملتی ہے اللہ کے فضل سے۔ اس کا فضل نہ ہو تو سزا سے چھوٹنا ہی مشکل ہے۔ جنت ملنے کا تو ذکر کیا۔
Read the full tafseer →آیت 21{ سَابِقُوْٓا اِلٰی مَغْفِرَۃٍ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَجَنَّۃٍ عَرْضُھَا کَعَرْضِ السَّمَآئِ وَالْاَرْضِ } ”ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو اپنے رب کی مغفرت اور اس جنت کی طرف جس کی وسعت آسمان اور زمین جیسی ہے۔“
دنیا کمانے میں تو تم لوگ خوب مسابقت کر رہے ہو۔ اس میدان میں تو تم ہر وقت ع ”ہے جستجو کہ خوب سے ہے خوب تر کہاں !“ کی فکر میں لگے رہتے ہو۔ عارضی دنیا کی اس مسابقت کو چھوڑو ‘ اپنی یہی صلاحیتیں اللہ کی رضا اور جنت کے حصول کے لیے صرف کرو۔ اس ہدف کو حاصل کرنے کے لیے محنت کرو اور اس منزل میں بہتر سے بہتر مقام پانے کے لیے دوسروں سے آگے نکلنے کی کوشش کرو۔
جنت کی وسعت کی مثال کے لیے یہاں…
Read the full tafseer →36 جنت کی وسعت :۔ یہاں یہ فرمایا کہ جنت کا عرض آسمان اور زمین کے عرض کے برابر ہے اور سورة آل عمران کی آیت نمبر 133 میں فرمایا کہ جنت کا عرض تمام آسمانوں اور زمین کے عرض کے برابر ہے۔ حالانکہ ہر آسمان سے دوسرے آسمان تک بھی لاکھوں میل کا فاصلہ ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ یہاں جنت کا رقبہ بتانا مقصود نہیں ہے بلکہ یہ الفاظ مح اور تاً استعمال ہوئے ہیں اور اس سے مقصود صرف جنت کی وسعت کا تصور دلانا ہے۔ جو یہ ہے کہ زمین و آسمان کو تو تم دیکھ ہی رہے ہو جنت ان سب آسمانوں اور زمین سے بھی بہت بڑی ہوگی۔ لہذا تم دنیا کے بجائے اسے حاصل کرنے کی کوشش کرو۔ اور اگر تم سچے دل سے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو گے…
Read the full tafseer →30۔ یعنی بےانتہاء وسیع، قرآن محاورۂ انسانی میں ہے اور محاورۂ انسانی میں زمین و آسمان کی سی وسیع کے معنی ہی بےانتہاء وسیع کے ہیں۔ قرآن مجید کی بلاغت ملاحظہ ہوجونہی اس متاع دنیا کے فانی اور ہیچ ہونے اور دولت آخرت کے باقی وقائم ہونے کا نقش دل میں بیٹھا، معا جنت کی طرف دوڑ کرنے کا پیام پہنچا دیا (آیت) ” سارعوا الی مغفرۃ “۔ الخ۔
31۔ (وہ صرف خواص اور مجاہدین یا عاشقین ہی کو نہیں، ہر عامی مومن کو بھی اپنے فضل وکرم کے بحر بیکراں سے سیراب کرے گا) (آیت) ” اعدت ..... رسلہ “۔ اس میں جتا دیا کہ جنت تو ہر مومن کا مستقر اصلی ہے ہی۔ (آیت) ” ذلک ..... یشآء “۔ اس میں یہ اشارہ کردیا کہ کوئی اپنے اعمال پر مغرور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
سابقو الی مغفرۃ من ربکم، سابقوا، مسابقۃ سے ماخوذ ہے یعنی اپنے ہمعصروں سے مغفرت یعنی اسباب مغفرت کی جانب آگے بڑھنے کی کوشش کرو، یعنی جس طرح تم دنیا کی دولت و لذتیں اور فائدے سمیٹنے میں ایک دوسرے سے بڑھ جانے کی جو کوشش کر رہے ہو اسے چھوڑ کر یا اس کے ساتھ ساتھ اس چیز کو ہدف اور مقصود بنائو اور اس طرف دوڑنے میں بازی لے جانے کی کوشش کرو۔
ذلک فضل اللہ یوتیہ من یشاء واللہ ذوالفضل العظیم اس سے پہلی آیت میں جنت اور اس کی نعمتوں کے لئے مسابقت اور کوشش کا حکم تھا اس سے کسی کو یہ خیال پیدا ہوسکتا تھا کہ جنت اور اس کی لازوال نعمتیں ہمارے عمل کا ثمرہ ہیں اس آیت میں حق تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا کہ تمہارے…
Read the full tafseer →تیزی سے بڑھو ‘ اپنے رب کی مغفرت اور اس جنت کی طرف جس کی وسعت آسمان و زمین کی وسعت کے برابر ہے وہ ان لوگوں کے لیے تیار کی گئی ہے جو اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان رکھتے ہیں۔ یہ اللہ کا فضل ہے وہ اپنا فضل جس کو چاہے عنایت کرے۔ “
سَابِقُوْٓا .... یعنی ایمان ‘ خوف ‘ اُمید اور اعمال صالحہ کے ساتھ مغفرتِ ربّ اور جنت کی طرف تیزی سے بڑھو۔
عَرْضُھَا : یعنی جنت کا پھیلاؤ ‘ آسمان و زمین کے پھیلاؤ کی طرح ہے۔ سدی نے کہا : عرض سے مراد ہے چوڑائی جو طول کے مخالف جہت کو ہوتی ہے ‘ یعنی سات آسمانوں اور سات زمینوں کو اگر برابر برابر کر کے ملا دیا جائے تو جنت کا عرض اس کے برابر ہوگا۔ جب جنت کا عرض اتنا ہے تو اس…
Read the full tafseer →اب سب کو اللہ تعالیٰ خطاب کر کے فرماتا ہے کہ اپنے گناہوں سے توبہ کر کے تم اپنے پروردگار کی مغفرت کی طرف دوڑو اور نیز اعمال صالحہ کر کے ایسی جنت کی طرف دوڑو جس کی وسعت آسمان و زمین کو اگر ملا دیا جائے تو اس کی وسعت کے برابر ہے اور وہ تمام امتوں میں سے اہل ایمان کے لیے تیار کی گئی ہے۔
اور یہ مغفرت و خوشنودی اور جنت اللہ کا فضل ہے وہ جو اس کا اہل ہوتا ہے اس کو عنایت کرتے ہیں اور اللہ بڑے فضل والے ہیں کہ صلہ میں جنت عطا کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →سَابِقُوْٓا اِلٰی مَغْفِرَۃٍ مِّنْ رَّبِّکُمْ :’ سابقوا“ ”سبق یسبق سبقا“ (ض، ن) سے باب مفاعلہ کا امر حاضر ہے۔ اس میں مقابلے کا مفہوم پایا جاتا ہے ، یعنی ایک دوسرے کے مقابلے میں ایسے اعمال کی طرف آگے بڑھو جن سے تم مغفرت اور جنت کے مستحق بن سکو۔ مثلاً میدان قتال کی پہلی صفت میں ہونا ، امام کے ساتھ تکبیر تحریمہ میں شامل ہونا اور اللہ کی راہ میں دوسروں سے بڑھ چڑھ کر خرچ کرنا وغیرہ۔ یہ آیت سورة ٔ آل عمران کی آیت (133) سے ملتی جلتی ہے ، اس کی تفسیر پر بھی نظر ڈال لیں۔
2۔ وَجَنَّۃٍ عَرْضُہَا کَعَرْضِ السَّمَآئِ وَالْاَرْضِ :”السمائ“ کا لفظ یہاں بطور جنس استعمال ہوا ہے ، مراد تمام آسمان ہیں۔ دلیل اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
اعلموآ انما الحیوۃ الدنیا لعب ولھو اتصال کی صورت یہ ہے کہ انسان بعض اوقات قتل اور موت کے خوف سے جہاد ترک کردیتا ہے۔ اس امر کو بیان کیا کہ دنیاوی زندگی حقیر چیز ہے اس لئے مناسب نہیں کہ جو چیز باقی رہنے والی نہیں اس کے خوف سے اللہ تعالیٰ کے امر کو ترک کردیا جائے۔ مازائد ہے تقدیر کلام یہ ہے جان لو دنیاوی زندگی باطل، کھیل اور وشی کا لہو ہے پھر یہ ختم ہوجائے گا۔ قتادہ نے ہا، لعب و لہو کا معنی ہے کھانا اور پینا۔
مجاہد نے کہا : یہ لعب لہو ہے۔ سورة الانعام میں یہ معنی گزر چکا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : لعب م سے مراد ہے جو دنیا میں رغبت پیدا کرے اور لہو سے مراد ہے جو آخرت سے غاقل کر دے۔ ایک قول یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
1۔ ابن مردویہ نے ابو درداء ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص اپنے دین کی خاطر یعنی اپنے دین کو بچانے کے لیے ایک جگہ سے دوسری جگہ کی طرف منتقل ہوتا رہے تو اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس کو صدیق لکھدیا جائے گا جب وہ مرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کو شہید قرار دے گا۔ پر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ آیت والذین اٰمنوا بللہ ورسلہ اولئک ہم الصدیقون والشہداء عند ربہم۔ اور جو لوگ اللہ پر اور اسکے رسولوں پر ایمان رکھتے ہیں ایسے ہی لوگ اپنے رب کے نزدیک صدیق اور شہید ہیں۔ پھر فرمایا اور جدا ہوانے والا اپنے دین کو بچانے کے لیے ایک زمین سے دوسری زمین کی طرف منتقل ہونے والا قیامت کے دن عیسیٰ بن مریم (علیہ…
Read the full tafseer →سَابِقُوْٓا : تم لوگ ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش کرو ] [ اِلٰى مَغْفِرَةٍ : ایک ایسی مغفرت کی طرف جو ] [ مِّنْ رَّبِّكُمْ : تمہارے رب ( کی طرف ) سے ہے ] [ وَجَنَّةٍ : اور ایک ایسی جنت کی طرف ][ عَرْضُهَا : جس کی وسعت ][ كَعَرْضِ السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ ۙ: زمین و آسمان کی وسعت کی طرح ][ اُعِدَّتْ لِلَّذِيْنَ : جو تیار کی گئی ان کے لیے جو ][ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَرُسُلِهٖ ۭ: ایمان لائے اللہ پر اور اس کے رسولوں پر ][ ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ : یہ اللہ کا فضل ہے ][ يُؤْتِيْهِ : وہ دیتا ہے اسے ][ مَنْ يَّشَاۗءُ ۭ: اس کو جسے وہ چاہتا ہے ][ وَاللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيْمِ : اور اللہ بڑے فضل والا…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور جنت کی طرف مسابقت کرنے کا حکم :
پھر جب یہ دنیا فانی بھی ہے اور دنیاوی مال ومتاع دھوکہ کا سامان بھی ہے تو سمجھداری اسی میں ہے کہ اللہ کی مغفرت کی طرف دوڑیں اور اس کی رضا مندی کے لیے عمل کریں۔
ارشاد فرمایا ﴿ سَابِقُوْۤا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ جَنَّةٍ عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ ﴾ (اپنے رب کی مغفرت کی طرف اور اس جنت کی طرف دوڑو جس کی وسعت آسان و زمین کی وسعت کے برابر ہے) ۔
﴿ اُعِدَّتْ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا باللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ 1ؕ﴾ (یہ جنت ان لوگوں کے لیے تیار کی گئی ہے جو اللہ پر اور ان کے رسولوں پر ایمان لے آئے) ۔ ﴿ ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–24
تمثیل بےثباتی دنیا و عظمت خداوند خالق کائنات وتعلیم صبر و قناعت وتاکید فکر آخرت :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” اعلموا انما الحیوۃ الدنیا ...... الی ...... ھو الغنی الحمید “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں انسان کا دنیوی نعمتوں اور راحتوں میں لگ کریاد خدا اور فکر آخرت سے غلفت و لاپرواہی برتنے پر تنبیہ فرمائی گئی تھی اور یہ کہ یہ طریقہ اہل کتاب کا تھا اہل ایمان کو یہ بات زیب نہیں دیتی اب ان آیات میں دنیا اور دنیا کی لذتوں کی ناپائیداری بیان فرمائی جارہی ہے اور اسکی بےثباتی کا ایک نقشہ پیش کیا جارہا ہے تاکہ دنیا کی حقیقت سمجھی جاسکے، فرمایا ،
جان لو اس کے سوا کچھ نہیں کہ دنیا کی زندگی بس ایک کھیل اور تماشا…
Read the full tafseer →24:۔ ” سابقوا الی مغفرۃ “ انفاق فی سبیل اللہ کی مزید ترغیب ہے۔ اگر اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا عوض تمہیں دنیا میں نہیں ملا تو کیا ہوا، اللہ تعالیٰ آخرت میں تمہیں اس کا اجر دے گا، تمہارے گناہ معاف فرمائیگا اور جنت میں تمہیں مربعے عطا فرمائیگا۔ تمہیں اتنا وسیع و عریض جنت عطا ہوگا جس کی صرف چوڑائی زمین و آسمان کی مجموعی وسعت کے برابر ہوگی۔ یہ ان لوگوں کے لیے ہے جو اللہ پر اور اس کے رسول صلی اللہ علی ہو سلم پر ایمان لائیں۔ اور ان کے احکام کی دل و جان سے تعمیل کریں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل و احسان ہے وہ جسے چاہے اس سے نواز دے اور بڑے فضل و کرم کا مالک ہے اس کے یہاں کوئی کمی نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
ربط آیات :
گزشتہ آیات میں اللہ کے راستے میں خرچ کرنے والوں اور ایمان لانے والے مردوں اور عورتوں کی فضیلت بیان ہوئی ، اور ساتھ ہی کافروں اور مکذبین کے جہنم میں ٹھکانے کا بھی ذکر ہوا۔ اب آج کی آیات کا تعلق بھی انفاق فی سبیل اللہ ہی سے ہے۔ اللہ نے اس سلسلہ میں دنیا کی بےثباتی کا تذکر کرکے اس کے لوازمات کو کھیل تماشہ قرار دیا اور اس میں انہماک سے منع کیا گیا ہے ، اس کی بجائے اللہ تعالیٰ کی بخشش اور اس کی تیار کردہ جنت کی طرف سبقت کرنے کی ترغیب دی گئی ہے اور اسے اپنا فضل قرار دیا ہے۔ مطلب یہی ہے کہ اللہ کے راستے میں زیادہ سے زیادہ خرچ کرکے اپنے لئے دائمی زندگی کا سامان پیدا کرلو۔
دنیا کی زندگی کی…
Read the full tafseer →سَابِقُوْٓا اِلٰى مَغْفِرَۃٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَجَنَّۃٍ عَرْضُہَا كَعَرْضِ السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ 0 ۙ اُعِدَّتْ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِاللہِ وَرُسُلِہٖ 0 ۭ ذٰلِكَ فَضْلُ اللہِ يُؤْتِيْہِ مَنْ يَّشَاۗءُ 0 ۭ وَاللہُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيْمِ 21
سبق
أصل السَّبْقِ : التّقدّم في السّير، نحو : فَالسَّابِقاتِ سَبْقاً [ النازعات/ 4] ، والِاسْتِبَاقُ : التَّسَابُقُ. قال : إِنَّا ذَهَبْنا نَسْتَبِقُ [يوسف/ 17] ، وَاسْتَبَقَا الْبابَ [يوسف/ 25] ، ثم يتجوّز به في غيره من التّقدّم، قال : ما سَبَقُونا إِلَيْهِ [ الأحقاف/ 11] ،
( س ب ق) السبق
اس کے اصل معنی چلنے میں آگے بڑھ جانا کے ہیں ۔ قرآن میں ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–24
ترکیب : عرضہا متبداء کعرض السماء الخ خبرہ والجملۃ صفۃ جنۃ۔ اعدت صفۃ اخری۔ فی الارض الجار یتعلق بمصیبۃ لانھا مصدرہ یجوزان تکون صفۃ لہا علی اللفظ اوالحل۔ و مثلہ ولافی انفسکم الافی کتاب حال ای مکتوبۃ۔ من قبل لغت اومتعلق بہ لکیلا کے ناصبۃ للفصل بمعنی ان (آسی) اندوہ و اندوہگیں شدن یسمع یسمع یقال آسی علی مصیبۃ ای حزن و آسیت لفاں اے حزنت لہ صراح۔
تفسیر : دنیا کی بےثباتی اور بےقدری بیان فرما کر کردارِ آخرت کی طرف توجہ دلاتا ہے جس کے لیے انسان اس فانی گھر میں چند روزہ مہمان بنایا گیا ہے فقال سابقوا الی مغقرۃ من ربکم الخ کہ ان کاموں کی طرف دوڑو اور جلد حاصل کرو کہ جو اللہ کی مغفرت اور حصول جنت کا باعث…
Read the full tafseer →سَابِقُوْٓا اِلٰی مَغْفِرَۃٍ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَجَنَّۃٍ عَرْضُھَا کَعَرْضِ السَّمَـآئِ وَالْاَرْضِلا اُعِدَّتْ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰہِ وَرُسُلِہٖ ط ذٰلِکَ فَضْلُ اللّٰہِ یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَآئُ ط وَاللّٰہُ ذُوالْفَضْلِ الْعَظِیْمِ ۔ (الحدید : 21)
(مسابقت کرو اپنے رب کی مغفرت اور ایک ایسی جنت کی طرف جس کی وسعت آسمان و زمین جیسی ہے، وہ تیار کی گئی ہے ان لوگوں کے لیے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے جسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔ )
اصل میدانِ مسابقت
گزشتہ آیت کریمہ میں فرمایا کہ اہل کفر کی بھاگ دوڑ اور ان کا تکاثر و تفاخر تو…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : دنیا کے مال پر فخر کرنے اور اس کی طلب میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی بجائے اپنے رب کی بخشش اور جنت میں آگے بڑھنے کی کوشش کیجیے۔
یہ بات سورة آل عمران کی آیت 133 میں بیان ہوچکی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو صرف نیکی کرنے کا حکم نہیں دیا بلکہ نیکیوں میں آگے بڑھنے اور جنت کی طرف سبقت لے جانے کا حکم دیا ہے۔ جس قوم اور معاشرے میں نیکی اور اپنے مقصد کے لیے آگے بڑھنے کا جذبہ ختم ہوجائے بالآخر وہ قوم مردگی کا شکار ہوجاتی ہے۔ زندہ اور بیدار قومیں اپنی منزل کے حصول کے لیے نئے جذبوں اور تازہ ولولوں کے ساتھ آگے بڑھنے کے لیے مسلسل منصوبہ بندی کرتی ہیں۔ مسلمانوں کی زندگی کا مقصد اللہ…
Read the full tafseer →21 : مسئلہ : جب دنیا کی تحقیر اور تذلیل ذکر کردی اور آخرت کی عظمت شان بتلا دی۔ اب اپنے بندوں کو اس بات پر آمادہ کیا کہ میں نے آخرت میں جو وعدہائے حسنہ کیے ہیں ان کو پانے کیلئے مسارعت کریں۔ وہ وعدہ مغفرت اور سخت عذاب سے نجات پانا ہے۔ اور ہمیشہ کی کامرانی جنت کے داخلہ کی صورت میں پالینا ہے۔ فرمایا سَابِقُوْٓا اِلٰی مَغْفِرَۃٍ مِّنْ رَّبِّکُمْ (اور تم تیزی سے بڑھو اپنے رب کی مغفرت) اعمال صالحہ کے ذریعہ ایک قول سارعوا مسارعۃ المسابقین۔ تم مقابلہ کے میدان میں دوڑ میں مقابلہ کرنے والوں کی طرح جلدی کرو۔
عرضِ جنت :
وَجَنَّۃٍ عَرْضُھَا کَعَرْضِ السَّمَآ ئِ وَالْاَرْضِ (اور اس جنت کی طرف جس کی وسعت…
Read the full tafseer →20 ۔” اعلموا انما الحیوۃ الدنیا “ یعنی بیشک دنیا کی زندگی اور ” ما “ صلہ ہے یعنی بیشک اس گھر میں میں ” لعب “ باطل ہے اس کا کوئی حاصل نہیں۔ ” ولھو “ خوشی ہے پھر ختم ہوجائے گی۔ ” وزینۃ “ منظر جس کے ذریعے تم زینت حاصل کرتے ہو۔ ” وتفاجر بینکم “ اس کے ذریعے وہ آپس میں فخر کرتے ہیں۔ ” وتکاثر فی الاموال والاولاد “ یعنی مال اور اولاد کی کثرت پر فخر کرنا۔ پھر اس کے لئے مثال بیان کرتے ہوئے فرمایا ” کمثل غیث اعجب الکفار “ یعنی کاشتکاروں کو ” نباتہ “ جو اس بارش سے اگا۔ ” ثم بھیج “ خشک ہوجائے۔ ” فتراہ مصفرا “ اس کے سرسبز ہونے اور پک جانے کے بعد ” ثم یکون حطاما “ خشک ہونے کے بعد کاٹا جائے، توڑا جائے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
20۔ 21۔ اوپر کی آیتوں میں دنیا کی زندگی پر فریفتہ ہو کر ہنسی مذاق میں پڑجانے کی ممانعت بھی ہے اور صدقہ خیرات کی رغبت ان آیتوں میں کھیتی کی مثال دے کر دنیا کی زندگی کی ناپائیداری کا حال سمجایا گیا ہے کہ جس طرح مینہ کے برس جانے سے اول اول کھیتی خوب سر سبز ہوتی ہے۔ جس سے کاشت کاروں کا دل بہت خوش ہوتا ہے پر چند روز میں وہ سب سر سبزی جا کر ان سرسبز پیڑوں پر زردی چھا جاتی ہے آخر کو وہ سب پیڑ کٹ جاتے ہیں۔ اور ان کا نام و نشان بھی زمین پر کہیں باقی نہیں رہتا۔ یہی حال انسان کی زندگی کا ہے کہ بچپنے سے اخیر جوانی تک قوت جسمانی بڑھتی جاتی ہے اور مال اور اولاد کی زیادتی کا آپس میں فخر دن بدن زیادہ ہوتا…
Read the full tafseer →(وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ ۙ اُعِدَّتْ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَرُسُلِهٖ ) اور جنت جس کا عرض آسمان اور زمین کے عرض کا سا ہے، جو ان لوگوں کے لیے تیار کی گئی ہے جو اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لائے ہی، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں پر ایمان میں دین کے تمام اصول و فروع داخل ہیں۔
(ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ يُؤْتِيْهِ مَنْ يَّشَاۗءُ ) یعنی ہم نے تمہارے سامنے جو کچھ بیان کیا ہے اور جنت تک پہنچانے والے طریقوں اور جہنم میں گرانے والے جن راستوں کی نشاندہی کی ہے، وہ سب اللہ کا فضل ہے، نیز اللہ تعالیٰ کا اجر عظیم اور ثواب جمیل، اس کا اپنے بندوں پر سب سے بڑا احسان اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–26
آیا ہر مومن شہیدہوتا ہے ؟
قول باری ہے (والذین امنوا باللہ ورسلہ اولئک ھم الصدیقون والشھدآء عند ربھم، اور جو لوگ اللہ اور رسولوں پر (پورا) ایمان رکھتے ہیں وہی اپنے پروردگار کے ہاں صدیق اور شہید ہیں) ۔
اس آیت کی بنا پر حضرت براء بن عازب ؓ نے حضور ﷺ سے روایت کی ہے کہ ” ہر مومن شہید ہے۔ “ اس صورت میں قول باری (والشھدآء ) ان مومنین کی صفت ہے جن کا ذکر پہلے گزر چکا ہے۔
حضرت عبداللہ ؓ اور مجاہد کا بھی یہی قول ہے ۔ حضرت ابن عباس ؓ ، مسروق، ابو الضحیٰ اور ضحاک کا قول ہے کہ یہاں سے کلام کی ابتداء ہوئی ہے اور اس کی خبر یہ قول باری ہے (لھم اجرھم و نورھم ان کے لئے ان کا (خاص) اجر ہوگا اور ان کا (خاص) نور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
[ 83] اصل میدان مسابقہ کی نشاندہی کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ لوگو دوڑ وتم سب اپنے رب کی بخشش کی طرف یعنی ان اعمال کی طرف جو کہ تمہارے رب کی بخشش کا ذریعہ اور اس کی جنت کا سبب ہیں، کہ باہمی مسابقے اور مقابلے کا اصل میدان اور اصل چیز دراصل یہی ہے، نہ کہ دنیا کا وہ متاع فانی و زائل جس کو ابناء دنیانے سب کچھ رکھا ہے، والعیاذ باللّٰہ، سو اہل کفر و باطل کے سامنے تو دنیا ہی دنیا اور اس کے وقت مفادات اور عارضی منافع و ملذات ہیں، لیکن اہل ایمان کا مقصد اور نصب العین جنت اور آخرت ہی ہونا چاہئے، وباللہ التوفیق۔ سو آخرت سے منہ موڑ کر اور اس کے تقاضوں سے آنکھیں بند کرکے صرف دنیا کے وقتی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–21
نیک لوگوں کے فرائض اور ان کے درجات
تشریح : الحمد اللہ ہم خوب اچھی طرح جانتے ہیں اور ہمارا پکا یقین ہے اللہ کے خالق مطلق ہونے پر یعنی توحید پر یقین ہے۔ آخرت پر یقین ہے سزاء و جزاء پر پورا یقین ہے اسی لیے اللہ وحدہ لاشریک کی ہی عبادت کرتے ہیں اسی سے مدد مانگتے ہیں، اسی سے ڈرتے ہیں اور نیک کام کرتے ہیں اور اسی لیے اللہ کے مقبول بندوں میں شامل کیے جائیں گے انشاء اللہ ورنہ تو صرف دنیا کے عیش و آرام میں گم ہو کر زندگی گزارنے والے لوگ آخرت کے عیش و آرام سے بالکل دور رہیں گے اور ان کا ٹھکانا بہت برا ہوگا آخرت میں۔ اللہ کی کتاب اور رسول بندوں کے لیے فضل اور رحمت کی نشانی ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–25
آیات 20 تا 25۔
اسرار ومعارف۔
یہ جان رکھو کہ حیات دنیا محض کھیل ہے بچپن کے کام خود انسان کو جوانی میں محض فضول نظر آتے ہیں اور جوانی کی حرکات بڑھاپے میں اسی طرح موت کے بعد سب فضول لگیں گے کہ یہ محض ذاتی نمائش میں رجھا لینے والی چیزوں میں سے جیسے کہ بارش ہوا اور کھیتیاں سرسبز ہوں تو کافر کو خوش کرتی ہیں اور انہیں میں الجھ جاتا ہے یعنی خوش مومن بھی ہوتا ہے مگر اس کی خوشی اللہ کا شکر ادا کرنے کا سبب بنتی ہے جبکہ کافر کے لی باعث غفلت پھر اس پر جوبن آتا ہے پھر زردی مائل ہو کر آخر سوکھ کر گھاس پھوس کی طرح تنکے بکھر جاتے ہیں جبکہ ان اعمال کے نتائج آخرت میں ظاہر ہوں گے کہ کفر پر بہت سخت عذاب ہے اور…
Read the full tafseer →ف 2 یعنی وہ نیک کام کرو جن سے تمہیں اپنے مالک کی خوشنودی اور معافی نصیب ہو۔3 جب جنت کا عرض اس قدر ہے تو اس کے طول کے کیا کہنے
Read the full tafseer →(57:21) سابقوا۔ امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ سباق ومسابقۃ (مفاعلۃ) مصدر دوڑ میں ایک دوسرے سے آگے بڑھ جانا۔ یہاں خطاب جمیع الناس سے ہے ، یعنی اے لوگو ! ایمان خوف اور امید اور اعمال صالحہ کے ساتھ اپنے رب کی مغفرت اور جنت کی تیزی سے بڑھو
وجنۃ۔ واؤ عاطفہ جنۃ معطوف جس کا عطف مغفرۃ پر ہے۔
عرضھامضاف مضاف الیہ ۔ ھا ضمیر واحد مؤنث کا مرجع جنۃ ہے۔ جس کا عرض (طول کی ضد) یا عرض بمعنی وسعت ہے۔ مبتدا
کعرض السماء والارض : ک تشبیہ کا ہے۔ آسمان اور زمین کے عرض کی مانند مبتداء کی خبر۔ جملہ عرضھا کعرض السماء والارض صفت ہے جنۃ کی ۔ ارشاد ہے : کہ جنت کا پھیلاؤ آسمان اور زمین کی طرح ہے۔
سدی نے کہا ہے کہ :۔ اس سے…
Read the full tafseer →لغات القرآن : لعب۔ کھیل کود۔ لھو۔ کھیل تماشا۔ تفاخر۔ آپس میں فخر کرنا۔ اپنی بڑائیاں کرنا۔ تکاثر۔ ایک دوسرے سے کثرت میں آگے بڑھنا۔ غیث۔ بارش۔ یھیج۔ زور پکڑتا ہے۔ مصفر۔ زرد۔ حطام۔ چورہ چورہ۔
تشریح : فرمایا کہ اگر غور کیا جائے تو آدمی کی زندگی کے انقلابات اور تبدیلیاں اس بات کی گواہ ہیں کہ اس دنیا میں اس کا قیام عارضی اور وقتی ہے اس کی کسی حالت کو بھی قرار نہیں ہے۔ ہر چیز فنا ہوتی رہتی ہے کسی چیز اور کسی حالت کو ہمیشگی حاصل نہیں ہے مثلاً آدمی بچپن میں ایسی بےمقصد، فضول اور بیکار چیزوں سے کھیلتا ہے کہ جوانی میں قدم رکھتے ہی اس کو اندازہ ہوجاتا ہے کہ بچپن میں اس کی باتیں کس قدر بےربط اور اس کے کام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
کھیتی کی مثال سے دنیا کے ناپائدار ہونے کا ثبوت۔
(ف 1) ان آیتوں میں کھیتی کی مثال دے کر دنیا کی زندگی کی ناپائداری کا حال سمجھایا گیا ہے کہ جس طرح مینہ کے برس جانے سے اول اول کھیتی خوب سرسبز ہوتی ہے جس سے کاشتکاروں کا دل بہت خوش ہوتا ہے پھر چند روز میں وہ سب سرسبزی جاکر ان سرسبز پیڑوں پر زردی چھاجاتی ہے آخر وہ سب پیڑ کٹ جاتے ہیں اور ان کا نام ونشان بھی نہیں رہتا، یہی حال انسان کی زندگی کا ہے کہ بچہ کے بچپنے سے آخیر جوانی تک قوت جسمانی بڑھتی جاتی ہے اور مال واولاد کی زیادتی کا آپس کا فخر دن بدن زیادہ ہوتا ہے مگر اس سب کی وہی حالت ہے جس طرح بچے کھیل کی کوئی چیز بناتے ہیں اور وہ دم بھر میں اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–21
[28] یہاں اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے لئے صدقہ اور قرض کے دو لفظ استعمال ہوئے ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک خرچ تو وہ ہے جس کا مطالبہ ہر ذی استطاعت مسلمان سے عام حالات میں ہے۔ دوسرا خرچ وہ ہے جس کا مطالبہ کسی ناگہانی ضرورت کے موقع پر ملت کے تحفظ کے لئے کیا جاتا ہے۔ پہلے کو یہاں صدقہ کے لفظ سے تعبیر فرمایا ہے اور اس کے لئے فاعل اور صفت کے صیغے استعمال ہوئے ہیں اس لئے کہ وہ دواماً مطلوب ہے، دوسرے کو قرض سے تعبیر فرمایا ہے جو عندالضرورت دیا جاتا ہے اسی لئے اس کے لئے فعل کا صیغہ استعمال ہوا ہے۔
Read the full tafseer →استحقاق اور تفضل کی بحث
اس حیثیت سے کہ جنت صلہ ہے اعمال صالحہ کا ۔ اور ایمان کامل کا ۔ یہ استحقاق ہے ۔ اور اس جہت سے کہ خود اعمال صالحہ کی توفیق رحمت ہوتی ہے ۔ رب کریم کی جانب سے فضل اور کرم گستری ہے ۔ اور پھر ہمارے ناچیز اعمال کو اس درجہ اہمیت دیتا ۔ جن میں پہلو ریاکاری اور خود غرضی کے پنہاں ہیں ۔ واقعہ یہ ہے کہ یہ محض فضل اور نوزش ملتی ہے ۔ ورنہ کون شخص ہے جو دعویٰ کے ساتھ کہہ سکے کہ وہ اللہ کے احکام کی بجاآوری میں مرتبہ احسان پر فائز ہے ۔ اور اس سے نیت وعمل کی کوئی کوتاہی استوار نہیں ہوئی ۔ اور پھر اگر یہ فرض بھی کرلیا جائے ۔ کہ کسی اللہ کے بندے کو اعمال صالحہ کی پوری توفیق ہوئی ہے ۔ تب…
Read the full tafseer →(21) تم اپنے پروردگار کی بخشش و مغفرت اور اس جنت کی طرف لپکو اور بڑھے چلو اور بڑھنے میں جلدی کرو جس جنت کا عرض ایسا ہے جیسا آسمان و زمین کا پھیلائو اور جس کی وسعت ایسی ہے جیسے آسمان و زمین کی وسعت وہ جنت ان لوگوں کے لئے تیار کی گئی ہے جو اللہ تعالیٰ پر اس کے رسولوں پر ایمان رکھتے ہیں یہ مغفرت اور جنت اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کا احسان ہے وہ اپنا فضل جس کو چاہتا ہے دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ بڑے فضل والا ہے اور بڑے فضل و احسان کا مالک ہے۔
اوپر کی آیت میں مغفرت اور رضوان کا ذکر فرمایا تھا اس آیت میں اس کی طرف بڑھے چلنے کا ذکر ہے۔ یعنی بھلائیوں میں سبقت کرو اور قدم بڑھائے چلو۔ یہ مغفرت اور جنت کی…
Read the full tafseer →ف 6۔ یعنی اس سے کم کی نفی ہے زیادہ کی نفی نہیں۔
7۔ اس میں اشارہ ہے کہ اپنے اعمال پر کوئی مغرور نہ ہو اور اپنے اعمال پر استحقاق جنت کا مدعی نہ ہو، یہ محض فضل ہے جس کا مدار مشیت پر ہے، مگر ہم نے اپنی رحمتوں سے ان عملوں کے کرنے والوں کے ساتھ مشیت متعلق کرلی ہے، اگر ہم چاہتے تو مشیت نہ کرتے۔
Read the full tafseer →اپنے رب کی مغفرت چاہتے ہو تو نیکیوں کے ساتھ آگے بڑھنے کی کوشش کرو
21 ؎ سنت اللہ یہی ہے کہ ہر وہ شخص جو تلاش کرتا ہے پا لیتا ہے بشرطیکہ وہ تلاش کرنے میں سچاہو ۔ کیا پاتا ہے ؟ وہی چیز جس کا وہ متلاشی ہو۔ اگر آخرت کا متلاشی ہے تو اس کی تلاش کا طریقہ بتایا جا رہا ہے کہ تلاش آسان ہوجائے اور یہ بھی کہ معلوم ہوجائے کیا فی الواقع ہم آخرت کی تلاش میں مصروف ہی ہیں یا نام آخرت کالے کر دنیا کی تلاش میں مصروف ہیں فرمایا اگر تم کو آخرت کی تلاش ہے تو نیکیوں میں سبقت لے جائو ۔ شاید کوئی صاحب پوچھ لیں کہ اس آیت میں تو صرف ( سابقوا الی مغفرۃ من ربکم) کے الفاظ ہیں کہ ” اپنے رب کی مغفرت کی طرف دوڑو “ ہاں ! لاریب…
Read the full tafseer →سَابِقُوا إِلَىٰ مَغْفِرَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ (Compete each other in proceeding towards forgiveness from your Lord and to Paradise, the width of which is like the width of the sky and the earth ...57:21) The competition or race referred to in this verse may have either of the two meanings: [ 1] No one has a guarantee for the continuance of his life, health and strength. One should not procrastinate, delay, defer, or put off performing righteous deeds for future, because the time might not come on account of illness, any inability or even…
Read the full tafseer →37 Musabagat (from which sabiqu of the original is derived) means to compete and vie with each other in order to excel. The meaning is: "Give up your rivalries with one another for amassing wealth, and pleasures and benefits, of the world and instead make the forgiveness of your Lord and Paradise the object of your struggle and rivalries.'
38 Some commentators have taken the word ard in 'arduha ka- 'ard-is- sama '-I wal-ard in the sense of breadth, but actually this word has been used here in the meaning of spaciousness and extensiveness. In Arabic the word ard is not only used for breadth,…
Read the full tafseer →