Explained with ayahs 20–21
دنیا کی زندگی صرف کھیل تماشا ہے
امر دنیا کی تحقیر و توہین بیان ہو رہی ہے کہ اہل دنیا کو سوائے لہو و لعب زینت و فخر اور اولاد و مال کی کثرت کی چاہت کے اور ہے بھی کیا ؟ جیسے اور آیت میں ہے (زُيِّنَ للنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوٰتِ مِنَ النِّسَاۗءِ وَالْبَنِيْنَ وَالْقَنَاطِيْرِ الْمُقَنْطَرَةِ مِنَ الذَّھَبِ وَالْفِضَّةِ وَالْخَيْلِ الْمُسَوَّمَةِ وَالْاَنْعَامِ وَالْحَرْثِ ۭ ذٰلِكَ مَتَاعُ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا ۚ وَاللّٰهُ عِنْدَهٗ حُسْنُ الْمَاٰبِ 14) 3۔ آل عمران :14) ، یعنی لوگوں کے لئے ان کی خواہش کی چیزوں کو مزین کردیا گیا ہے جیسے عورتیں بچے وغیرہ پھر حیات دنیا کی مثال بیان ہو رہی ہے کہ اس کی…
Read the full tafseer →سورة الْحَدِیْد 36
اس مضمون کو پوری طرح سمجھنے کے لیے قرآن مجید کے حسب ذیل مقامات کو نگاہ میں رکھنا چاہیے۔ سورة آل عمران، آیات 14۔ 15۔ یونس، 24۔ 25۔ ابراہیم، 18۔ الکہف، 45۔ 46۔ النور، 39۔ ان سب مقامات پر جو بات انسان کے ذہن نشین کرانے کی کوشش کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ یہ دنیا کی زندگی دراصل ایک عارضی زندگی ہے۔ یہاں کی بہار بھی عارضی ہے اور خزاں بھی عارضی۔ دل بہلانے کا سامان یہاں بہت کچھ ہے، مگر در حقیقت وہ نہایت حقیر اور چھوٹی چھوٹی چیزیں ہیں جنہیں اپنی کم ظرفی کی وجہ سے آدمی بڑی چیز سمجھتا ہے اور اس دھوکے میں پڑجاتا ہے کہ انہی کو پالینا گویا کامیابی کے منتہیٰ تک پہنچ جانا ہے۔ حالانکہ جو بڑے سے…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
تم خوب جان لو کہ (آخرت کے مقابلہ میں) دنیوی حیات (ہرگز قابل اشتغال چیز نہیں کیونکہ) محض لہو و لعب اور (ایک ظاہری) زینت اور باہم ایک دوسرے پر فخر کرنا (قوت و جمال اور دنیوی ہنر و کمال میں) اور اموال اور اولاد میں ایک کا دوسرے سے اپنے کو زیادہ بتلانا ہے (یعنی مقاصد دنیا کے یہ ہیں کہ بچپن میں لہو و لعب کا غلبہ رہتا ہے اور جوانی میں زینت و تفاخر کا اور بڑھاپے میں مال و دولت آل واولاد کو گنوانا اور یہ سب مقاصد فانی اور خوب و خیال محض ہیں جس کی مثال ایسی ہے) جیسے مینہ (برستا) ہے کہ اس کی پیداوار (کھیتی) کاشتکاروں کو اچھی معلوم ہوتی ہے پھر وہ (کھیتی) خشک ہوجاتی ہے سو اس کو تو زرد دیکھتا…
Read the full tafseer →(اعلموا انما الحیوۃ الدنیا لعب ولھو وزینۃ و تفاخر بینکم و تکا ثرفی الاموال والاولاد، کمثل غیث اعجب الکفار نباتہٗ ثم یھیج فترہ مصفرا ثم یکون حطاما و فی الاخرۃ عذاب شدید و مغفرۃ من اللہ ورضوان و ما الحیوۃ الدنیا الا متاع الغرور) (20)۔
(زیر پرستوں کو تنبیہ)۔ یہ ان مال پرست منافقین کو تذکیر و تنبیہ ہے کہ اس دنیا کی زندگی، یعنی لہو و لہب، زینت و آرائش کا شوق، مال و اولاد کی تکثیر کی بھاگ دوڑ اور معیار زندگی اونچا کرنے کا باہم مقابلہ، جن میں جو تم ہر وقت ڈوبے ہوئے ہو، یہ کوئی خوش انجام سرگرمی نہیں ہے۔ اس کی مثال بالکل ایسی ہے کہ بارش اچھی ہوجائے جس سے فصل لہلہا اٹھے اور اس کو دیکھ کرنا شکرے لوگ…
Read the full tafseer →20-1یعنی اہل کفر کے لئے جو دنیا کے کھیل کود میں ہی مصروف رہے اور اسی کو انہوں نے حاصل زندگی سمجھا۔
20-2یعنی اہل ایمان وطاعت کے لئے، جنہوں نے دنیا کو ہی سب کچھ نہیں سمجھا، بلکہ اسے عارضی، فانی اور دارالا متحان سمجھتے ہوئے اللہ کی ہدایات کے مطابق اس میں زندگی گزاری۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
16: یہاں اللہ تعالیٰ نے ان دلچسپیوں کا ذکر فرمایا ہے، جن سے انسان اپنی زندگی کے مختلف مرحلوں میں دل لگاتا ہے، بچپن میں ساری دلچسپی کھیل کود سے ہوتی ہے، اور جوانی کے دور میں زیب وزینت اور سجاوٹ کا شوق پیدا ہوتا ہے، اور اس زیب وزینت اور دنیا کے ساز و سامان میں ایک دوسرے کے سامنے اپنی برتری جتانے اور اس پر فخر کرنے کا ذوق ہوتا ہے، پھر بڑھاپے میں مال اور اولاد میں ایک دوسرے سے بڑھ جانے کو ہی انسان دلچسپی کا مرکز بنالیتا ہے، اور ہر مرحلے میں انسان جس چیز کو اپنی دلچسپی کی معراج سمجھتا ہے اگلے مرحلے میں وہ بےحقیقت معلوم ہونے لگتی ہے ؛ بلکہ بعض اوقات انسان اس پر ہنستا ہے کہ میں نے کس چیز کو اپنی…
Read the full tafseer →اعلموا ................ متاع الغرور (75 : 02) ” خوب جان لو یہ دنیا کی زندگی اس کے سو کچھ نہیں کہ ایک کھیل اور دل لگی اور ظاہری ٹیپ ٹاپ اور تمہارا آپس میں ایک دوسرے پر فخر جتانا اور مال واولاد میں ایک دوسری سے بڑھ جانے کی کوشش کرنا ہے۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک بارش ہوگئی تو اس سے پیدا ہونے والی نباتات کو دیکھ کر کاشت کار خوش ہوگئے۔ پھر وہی کھیتی پک جاتی ہے اور تم دیکھتے ہو کہ وہ زرد ہوگئی۔ پھر وہ بھس بن کر رہ جاتی ہے۔ اس کی برعکس آخرت وہ جگہ ہے جہاں سخت عذاب ہے اور اللہ کی مغفرت اور اس کی خوشنودی ہے۔ دنیا کی زندگی ایک دھوکے کی ٹٹی کے سوا کچھ نہیں “۔
اس دنیا کی زندگی کو اگر دنیا کے پیمانوں…
Read the full tafseer →1 آدمی کو اول عمر میں کھیل چاہیے، پھر تماشا، پھر بناؤ سنگار (اور فیشن) پھر ساکھ بڑھانا، اور نام و نمود حاصل کرنا، پھر موت کے دن قریب آئیں تو مال و اولاد کی فکر کہ پیچھے میرا گھر بار بنا رہے اور اولاد آسودگی سے بسر کرے۔ مگر یہ سب ٹھاٹھ سامان فانی اور زائل ہیں۔ جیسے کھیتی کی رونق و بہار چند روزہ ہوتی ہے اور پھر زرد پڑجاتی ہے اور آدمی اور جانور اس کو روند کر چورا کردیتے ہیں۔ اس شادابی اور خوبصورتی کا نام و نشان نہیں رہتا۔ یہ ہی حال دنیا کی زندگانی اور اس کے سازو سامان کا سمجھو کہ وہ فی الحقیقت ایک دغا کی پونجی اور دھوکے کی ٹٹی ہے۔ آدمی اس کی عارضی بہار سے فریب کھا کر اپنا انجام تباہ کرلیتا ہے۔…
Read the full tafseer →آیت 20{ اِعْلَمُوْٓا اَنَّـمَا الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا لَعِبٌ وَّلَھْوٌ وَّزِیْنَۃٌ وَّتَفَاخُرٌ بَیْنَـکُمْ وَتَـکَاثُرٌ فِی الْاَمْوَالِ وَالْاَوْلَادِ } ”خوب جان لو کہ یہ دنیا کی زندگی اس کے سوا کچھ نہیں کہ ایک کھیل ‘ دل لگی کا سامان اور ظاہری ٹیپ ٹاپ ہے اور تمہارا آپس میں ایک دوسرے پر فخر جتانا اور مال و اولاد میں ایک دوسرے سے بڑھ جانے کی کوشش ہے۔“
گزشتہ سطور میں دنیا کی محبت کو گاڑی کی بریک سے تشبیہہ دی گئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ُ حب ِدنیا انسان کو اللہ کے راستے پر چلنے سے ایسے روک دیتی ہے جیسے ایک گاڑی کو اس کی بریک جامد و ساکت کردیتی ہے۔ اب اس آیت میں اس بریک یعنی حب دنیا کی اصل حقیقت…
Read the full tafseer →35 انسانی اور نباتاتی زندگی کا تقابل :۔ اس آیت میں انسان کی دنیاوی زندگی کا نباتات کی زندگی سے تقابل پیش کیا گیا ہے اور بعض مفسرین نے اس زندگی کو چار مراحل میں تقسیم کرکے ان دونوں قسم کی زندگی کا تقابل بتایا ہے۔ مثلاً یہ کہ انسان اپنا بچپن کھیل کود میں گزار دیتا ہے۔ پھر جب اس پر جوانی آتی ہے تو اس کا محبوب مشغلہ اپنے آپ کو بن سنور کر پیش کرنا ہوتا ہے تاکہ اگر وہ مرد ہے تو وہ عورتوں کی توجہ کا مرکز بنے اور عورت ہے تو مردوں کے لیے دلکشی کا باعث ہو۔ پھر جب اس عمر سے گزرتا ہے تو اس کو ہمچو ما دیگرے نیست قسم کی چیز بننے کی خواہش لاحق ہوتی ہے اور آخری عمر میں اس کی ہوس میں ترقی ہوتی جاتی ہے۔ وہ…
Read the full tafseer →27۔ (اس لیے بحیثیت مقصود کے ہرگز قابل توجہ والتفات نہیں) یہاں یہ بتادیا ہے کہ مقاصد سب کے سب فانی وسریع الزوال ہوتے ہیں اور اہل دنیا عمر کے ہر دور میں انہیں کے الٹ پھیر میں رہتے ہیں۔ لڑکپن کا زمانہ کھیل کود کی نذر ہوجاتا ہے۔ سن اور بڑھا تو حسن وعشق کے جھمیلے میں پڑگئے، یا تجارت، ملازمت وغیرہ زرکشی کے پیشوں میں لگ گئے، سن کہولت آنے آنے لگا تو اب ایک دوسرے کے مقابلہ میں فخر ومسابقت مال وجاہ و شرافت خاندانی وغیرہ کی بنیادوں پر ہونے لگا۔ غرض ساری عمر انہیں بےبنیاد وبے ثبات مقصدوں کے پیچھے دوڑتے رہنے میں گزر جاتی ہے۔ اور آخرت جو مقصود اصلی ہے اور حیات لافانی ہے وہ عمر کے کسی حصہ میں خیال میں نہیں…
Read the full tafseer →ترجمہ : خوب جان لو دنیا کی زندگی صرف کھیل تماشا زینت اور اپس میں فخر (غرور) اور مال و اولاد کو ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر جتلانا ہے یعنی ان میں مشغول ہوجانا ہے، لیکن طاعت اور وہ چیزیں جو اس میں معاون ہوں (مثلاً ) توبہ، امور آخرت سے ہیں (مذکورہ چیزوں کی مثال) ان چیزوں کی مثال تیرے لئے تعجب خیز ہونے میں اور (جلدی) مضمحل ہونے میں ایسے ہے جیسے بارش سے پیدا ہونے والی کھیتی کسانوں کو خوش کرتی ہے پھر جب وہ خشک ہوجاتی ہے تو تم اس کو زرد دیکھتے ہو پھر وہ چورہ چورہ ہوجاتی ہے پھر ہوا کے ذریعہ نیست و نابود ہوجاتی ہے اور آخرت میں اس کے لئے سخت عذاب ہے جو آخرت پر دنیا کو ترجیح دیتا ہے اور اللہ کی طرف سے نصرت…
Read the full tafseer →” تم خوب جان لو کہ (آخرت کے مقابلہ میں) دُنیوی زندگی محض لہو و لعب اور ایک (ظاہری) زینت اور باہم ایک دوسرے پر فخر کرنا اور مال و اولاد کی کثرت پر بعض سے مقابلہ کرنا ہے۔ “
اَلْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا : یعنی حیات دنیا کی وہ مرغوبات جو منافع آخرت کے حصول کا ذریعہ نہیں ہیں۔
لَعِبٌ : یعنی بےفائدہ ہیں۔ منافع آخرت کے مقابلہ میں ہیچ ہیں ‘ جلد فنا ہوجانے والی ہیں ‘ گویا کھیل ہیں۔
وَلَھْوٌ : اور دل کا بہلاوا ہیں اہم امور اخرویہ سے روکنے اور غافل کرنے والی ہیں۔
وَزِیْنَۃٌ : اور ظاہری سجاوٹ ہیں جیسے خوبصورت بڑھیا لباس ‘ اعلیٰ سواریاں اور اونچے مکان وغیرہ۔
وَ تَفَاخُرٌ بَیْنَکُمْ : نسب (طاقت ‘ مال وغیرہ) پر…
Read the full tafseer →خوب سمجھ لو کہ جو کچھ دنیوی زندگی میں ہے وہ محض لہو و لعب ہے نمائش وزینت اور حسب و نسب میں ایک دوسرے پر فخر کرنا اور اموال و اولاد میں خود کو ایک دوسرے سے زیادہ بتانا مگر یہ سب چیزیں فانی اور خواب خیال ہیں جیسا کہ بارش برستی ہے کہ اس کی پیداوار کاشت کروں کا اچھی معلوم ہوتی ہے۔ چند روز میں رنگت تبدیل ہو کر سوکھ کر چورا ہوجاتی ہے، یہی دنیا کا حال ہے کہ وہ بھی گھاس کی طرح باقی نہیں رہے گی۔
باقی جو اطاعت خداوندی کو چھوڑے اور حقوق اللہ سے منع کرے اس کے لیے آخرت میں شدید عذاب ہے اور جو اطاعت خداوندی کی تکمیل کرے اور اپنے مال میں سے اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرے اس کے لیے تو پھر مغفرت اور رضا مندی ہے…
Read the full tafseer →1۔ اِعْلَمُوْٓا : پچھلی آیات سے اس آیت کی مناسبت یہ ہے کہ نفاق کا سبب اور اللہ کی راہ میں جہاد سے گریز اور مال خرچ کرنے سے دریغ کا باعث دنیا کی زندگی کی محبت ہے ، اس لیے اللہ تعالیٰ نے دنیا کی زندگی کی حقیقت بیان فرمائی۔
2۔ اَنَّمَا الْحَیٰـوۃُ الدُّنْیَا :”الحیوۃ الدنیا“ سے مراد انسان کے وہ کام ہیں جو وہ اس زندگی میں صرف دنیا میں حاصل ہونے والے فوائد کے لیے کرتا ہے ، ورنہ اس زندگی میں وہ آخرت کے لیے اعمال صالحہ کے ذریعے سے ہمیشہ کی سعادت بھی حاصل کرسکتا ہے ، جیسا کہ فرمایا :(مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَکَرٍ اَوْ اُنْثٰی وَہُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْیِیَنَّہٗ حَیٰوۃً طَیِّبَۃًج…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
اعلموآ انما الحیوۃ الدنیا لعب ولھو اتصال کی صورت یہ ہے کہ انسان بعض اوقات قتل اور موت کے خوف سے جہاد ترک کردیتا ہے۔ اس امر کو بیان کیا کہ دنیاوی زندگی حقیر چیز ہے اس لئے مناسب نہیں کہ جو چیز باقی رہنے والی نہیں اس کے خوف سے اللہ تعالیٰ کے امر کو ترک کردیا جائے۔ مازائد ہے تقدیر کلام یہ ہے جان لو دنیاوی زندگی باطل، کھیل اور وشی کا لہو ہے پھر یہ ختم ہوجائے گا۔ قتادہ نے ہا، لعب و لہو کا معنی ہے کھانا اور پینا۔
مجاہد نے کہا : یہ لعب لہو ہے۔ سورة الانعام میں یہ معنی گزر چکا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : لعب م سے مراد ہے جو دنیا میں رغبت پیدا کرے اور لہو سے مراد ہے جو آخرت سے غاقل کر دے۔ ایک قول یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
1۔ ابن مردویہ نے ابو درداء ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص اپنے دین کی خاطر یعنی اپنے دین کو بچانے کے لیے ایک جگہ سے دوسری جگہ کی طرف منتقل ہوتا رہے تو اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس کو صدیق لکھدیا جائے گا جب وہ مرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کو شہید قرار دے گا۔ پر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ آیت والذین اٰمنوا بللہ ورسلہ اولئک ہم الصدیقون والشہداء عند ربہم۔ اور جو لوگ اللہ پر اور اسکے رسولوں پر ایمان رکھتے ہیں ایسے ہی لوگ اپنے رب کے نزدیک صدیق اور شہید ہیں۔ پھر فرمایا اور جدا ہوانے والا اپنے دین کو بچانے کے لیے ایک زمین سے دوسری زمین کی طرف منتقل ہونے والا قیامت کے دن عیسیٰ بن مریم (علیہ…
Read the full tafseer →[اِعْلَمُوْٓا : تم لوگ جان لو ] [ اَنَّمَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا : کہ دنیوی زندگی تو بس ] [ لَعِبٌ وَّلَهْوٌ وَّزِيْنَةٌ: کھیل کود ہے اور تماشہ ہے اور زینت ہے ] [ وَّتَفَاخُرٌۢ بَيْنَكُمْ : اور فخر کرنا ہے آپس میں ] [ وَتَكَاثُرٌ: اور ایک دوسرے پر کثرت حاصل کرنا ہے ] [ فِي الْاَمْوَالِ وَالْاَوْلَادِ ۭ : مال اور اولاد میں ] [كَمَثَلِ غَيْثٍ : (نیز دنیوی زندگی) کسی بارش کی مثال کی طرح ہے ] [ اَعْجَبَ : دلکش لگا ] [ الْكُفَّارَ : کسان کو ] [ نَبَاتُهٗ : جس کا سبزہ ] [ ثُمَّ يَهِيْجُ : پھر وہ زور پر آتا ہے ] [ فَتَرٰىهُ : تو تو دیکھتا ہے اس کو ] [ مُصْفَرًّا : پیلا پڑتے ہوئے ] [ ثُمَّ يَكُوْنُ…
Read the full tafseer →دنیاوی زندگی لہو ولعب ہے، اور آخرت میں عذاب شدید اور اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور رضا مندی ہے
ان آیات میں دنیا کی حالت بیان فرمائی ہے۔ ارشاد فرمایا کہ دنیا والی زندگی لہو ولعب ہے اور ظاہری زینت ہے، ٹیپ ٹاپ کی وجہ سے نظروں کو بھاتی ہے اور نفوس کو بھلی لگتی ہے، جن کے پاس زیادہ دنیا ہو وہ آپس میں ایک دوسرے کے مقابلے میں فخر کرتے ہیں اور اموال واولاد کی کثرت پر مقابلہ کرتے ہیں، تفاخر اور تکاثر ان چیزوں کے خالق ومالک کی طرف متوجہ ہونے نہیں دیتا جسے سورة تکاثر میں بیان فرمایا ہے : ﴿اَلْهٰىكُمُ التَّكَاثُرُۙ001 حَتّٰى زُرْتُمُ الْمَقَابِرَؕ002﴾ کثرت پر مقابلہ کرنا تم کو غافل رکھتا ہے یہاں تک کہ قبرستان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–24
تمثیل بےثباتی دنیا و عظمت خداوند خالق کائنات وتعلیم صبر و قناعت وتاکید فکر آخرت :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” اعلموا انما الحیوۃ الدنیا ...... الی ...... ھو الغنی الحمید “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں انسان کا دنیوی نعمتوں اور راحتوں میں لگ کریاد خدا اور فکر آخرت سے غلفت و لاپرواہی برتنے پر تنبیہ فرمائی گئی تھی اور یہ کہ یہ طریقہ اہل کتاب کا تھا اہل ایمان کو یہ بات زیب نہیں دیتی اب ان آیات میں دنیا اور دنیا کی لذتوں کی ناپائیداری بیان فرمائی جارہی ہے اور اسکی بےثباتی کا ایک نقشہ پیش کیا جارہا ہے تاکہ دنیا کی حقیقت سمجھی جاسکے، فرمایا ،
جان لو اس کے سوا کچھ نہیں کہ دنیا کی زندگی بس ایک کھیل اور تماشا…
Read the full tafseer →22:۔ ” اعلموا انما الحیوۃ “ یہ ترغیب انفاق کا چوتھا طریق ہے۔ مصدروں پر تنوین تنکیر، ان افعال کی حقارت اور قلت کے اظہار کے لیے ہے۔ تائید : متاع قلیل ثم ماواھم جہنم (آل عمران رکوع 20) ۔ تنوین تنکیر تحقیر و تقلیل کے لیے کلام میں اکثر آتی ہے (رضی) اللہ کی راہ میں خرچ کی ہوئی دولت کا معاوضہ اگر دنیا میں بصورت اضافہ دولت نہ ملا تو بھی مضائقہ نہیں۔ یہ دنیا چیز ہی کیا ہے۔ محض چند روزہ کھیل تماشا ہے، وقتی زینت و آرائش ہے اور یہاں حسب و نسب کی شرافت اور مال و اولاد کی کثرت و فراوانی پر ایک دوسرے کے مقابلے میں اپنی برتری ثابت کرنے اور اپنی بڑائی پر فخر کے سوا کیا ہے ؟ اگر تمہیں دنیا ہی میں اس کا عوض مل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
ربط آیات :
گزشتہ آیات میں اللہ کے راستے میں خرچ کرنے والوں اور ایمان لانے والے مردوں اور عورتوں کی فضیلت بیان ہوئی ، اور ساتھ ہی کافروں اور مکذبین کے جہنم میں ٹھکانے کا بھی ذکر ہوا۔ اب آج کی آیات کا تعلق بھی انفاق فی سبیل اللہ ہی سے ہے۔ اللہ نے اس سلسلہ میں دنیا کی بےثباتی کا تذکر کرکے اس کے لوازمات کو کھیل تماشہ قرار دیا اور اس میں انہماک سے منع کیا گیا ہے ، اس کی بجائے اللہ تعالیٰ کی بخشش اور اس کی تیار کردہ جنت کی طرف سبقت کرنے کی ترغیب دی گئی ہے اور اسے اپنا فضل قرار دیا ہے۔ مطلب یہی ہے کہ اللہ کے راستے میں زیادہ سے زیادہ خرچ کرکے اپنے لئے دائمی زندگی کا سامان پیدا کرلو۔
دنیا کی زندگی کی…
Read the full tafseer →اِعْلَمُوْٓا اَنَّمَا الْحَيٰوۃُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَّلَہْوٌ وَّزِيْنَۃٌ وَّتَفَاخُرٌۢ بَيْنَكُمْ وَتَكَاثُرٌ فِي الْاَمْوَالِ وَالْاَوْلَادِ 0 ۭ كَمَثَلِ غَيْثٍ اَعْجَبَ الْكُفَّارَ نَبَاتُہٗ ثُمَّ يَہِيْجُ فَتَرٰىہُ مُصْفَرًّا ثُمَّ يَكُوْنُ حُطَامًا 0 ۭ وَفِي الْاٰخِرَۃِ عَذَابٌ شَدِيْدٌ 0 ۙ وَّمَغْفِرَۃٌ مِّنَ اللہِ وَرِضْوَانٌ 0 ۭ وَمَا الْحَيٰوۃُ الدُّنْيَآ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ 20
علم
العِلْمُ : إدراک الشیء بحقیقته،
( ع ل م ) العلم
کسی چیز کی حقیقت کا ادراک کرنا
حيى
الحیاة تستعمل علی أوجه :
الأوّل : للقوّة النّامية الموجودة في النّبات والحیوان، ومنه قيل : نبات حَيٌّ ، قال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
ترکیب : والذین مبتداء باللّٰہ متعلق بآمنوا ورسلہ معطوف علیہ اولئک مبتداء ھم الصدیقون الخ خبرہ والجملۃ والذین عندربہم ظرف للشہداء کمثل الکاف فی موضع نصب من معنٰی ماتقدم ای یثبت لہاھذہ الصفات مسبھۃ بغیث ویمکن ان تکون فی موضع رفع ای مثلہا کمثل غیث۔
تفسیر : پہلے فرمایا تھا کہ ایک دن آنے والا ہے کہ جہاں ایمانداروں کا نور ان کے آگے دوڑتا ہوا ان کی رہبری کرے گا اور منافق نور نہ ہونے کی وجہ سے حسرت کرے گا۔ اس کے بعد فرمایا تھا کہ کیا اب وہ وقت نہیں آن پہنچا کہ ایماندار ڈریں اور غافل نہ ہوجائیں اور صدقہ و خیرات و ذکر و تلاوت عمل میں لائیں اور صدقہ و خیرات دینے والوں کے لیے دو چند ملنے اور اجر عظیم…
Read the full tafseer →اِعْلَمُوْٓا اَنَّمَا الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا لَعِبٌ وَّلَھْوٌ وَّزِیْنَۃٌ وَّتَفَاخُرٌ م بَیْنَکُمْ وَتَکَاثُرٌ فِی الْاَمْوَالِ وَالْاَوْلاَدِ ط کَمَثَلِ غَیْثٍ اَعْجَبَ الْـکُفَّارَ نَبَاتُـہٗ ثُمَّ یَھِیْجُ فَتَرٰ ہُ مُصْفَرًّا ثُمَّ یَـکُوْنُ خُطَامًا ط وَفِی الْاٰخِرَۃِ عَذَابٌ شَدِیْدٌ لا وَّمُغْفِرَۃٌ مِّنَ اللّٰہِ وَرِضْوَانٌ ط وَمَا الْحَیٰوۃُ الدُّنْـیَـآ اِلاَّ مَتَاعُ الْغُرُوْرِ ۔ (الحدید : 20)
(خوب جان لو کہ دنیا کی زندگی اس کے ٹسوا کچھ نہیں کہ ایک کھیل اور دل لگی اور زیب وزینت اور تمہارا آپس میں ایک دوسرے پر فخر جتانا اور مال و اولا میں ایک دوسرے سے بڑھ جانے کی کوشش کرنا ہے، اس…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : لوگ جس دنیا کی خاطر اپنے رب کے ارشادات کا انکار اور ان کی تکذیب کرتے ہیں اس دنیا کی حیثیت اور حقیقت۔
اے لوگو ! یہ حقیقت اچھی طرح جان لو کہ دنیا کی زندگی کھیل، تماشا، زیب وزینت، فخر و غرور، مال اور اولاد میں تقابل اور تفاخر کے سوا کچھ نہیں ہے۔ اس دنیا کی مثال بارش کی طرح ہے جب بارش ہوتی ہے تو اس سے فصلیں اگتی اور لہلہا اٹھتی ہیں جس سے زمیندار خوش ہوتا ہے۔ اس کے سامنے کھیتی پروان چڑھتی ہے، رنگ پکڑتی ہے پھر اس کا رنگ زرد ہوجاتا ہے پھر وہ ریزہ ریزہ ہوجاتی ہے یہی مثال دنیا دار شخص کی ہے کہ وہ زندگی بھر کماتا رہتا ہے لیکن موت کے وقت اس کے پاس حسرت کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ وہ بڑی…
Read the full tafseer →20 : اِعْلَمُوْا اَنَّمَا الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا لَعِبٌ (تم خوب جان لو، کہ بیشک دنیا کی زندگی محض لعب) جیسا بچوں کا کھیل ہوتا ہے۔ وَّلَھْوٌ (اور لہو ہے) جیسے نوجوانوں کا بہلاوا ہوتا ہے۔ وَّزِیْنَۃٌ ( اور زینت و سجاوٹ ہے) جیسا عورتوں کی زینت وَّ تَفَاخُرٌم بَیْنَکُمْ ( اور ایک دوسرے پر فخر کرنا ہے) جیسا ہم جو لی ایک دوسرے پر بےجا تفاخر کرتے ہیں۔ وَتَکَاثُرٌ (اور کثرت میں مقابلہ ہے) جیسا کسان کثرت میں مقابلہ کرتے ہیں۔ فِی الْاَمْوَالِ وَالْاَ وْلَادِ (مال و اولاد میں) ان کے ذریعہ فخر و مباہات ہے التکاثر۔ کثرت کا مدعی بننا۔ کَمَثَلِ غَیْثٍ اَعْجَبَ الْکُفَّارَ نَبَاتُہٗ ثُمَّ یَھِیْجُ (جیسے بارش…
Read the full tafseer →اولئک ھم الصدیقون کی تفسیر
19 ۔” والذین امنوا باللہ ورسلہ اولئک ھم الصدیقون “ اور صدیق کثرت سے سچ بولنے والا۔ مجاہد (رح) فرماتے ہیں ہر شخص جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان لایا وہ صدیق ہے اور یہ آیت تلاوت کی۔ ضحاک (رح) فرماتے ہیں یہ اس امت کے آٹھ افراد ہیں جنہوں نے اہل ارض سے اپنے زمانہ میں اسلام کی طرف سبقت کی۔ ابوبکر، علی ، زید، عثمان، طلحہ، زبیر، سعد، حمزہ اور نویں عمر بن خطاب رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین میں۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت عمر ؓ کو بھی ان کے ساتھ ملادیا، ان کی صدق نیت کو پہچاننے کی وجہ سے۔
” والشھداء عند ربھم “ اس آیت کی ترتیب میں اختلاف ہوا ہے، ان میں سے بعض نے کہا ہے کہ یہ اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
20۔ 21۔ اوپر کی آیتوں میں دنیا کی زندگی پر فریفتہ ہو کر ہنسی مذاق میں پڑجانے کی ممانعت بھی ہے اور صدقہ خیرات کی رغبت ان آیتوں میں کھیتی کی مثال دے کر دنیا کی زندگی کی ناپائیداری کا حال سمجایا گیا ہے کہ جس طرح مینہ کے برس جانے سے اول اول کھیتی خوب سر سبز ہوتی ہے۔ جس سے کاشت کاروں کا دل بہت خوش ہوتا ہے پر چند روز میں وہ سب سر سبزی جا کر ان سرسبز پیڑوں پر زردی چھا جاتی ہے آخر کو وہ سب پیڑ کٹ جاتے ہیں۔ اور ان کا نام و نشان بھی زمین پر کہیں باقی نہیں رہتا۔ یہی حال انسان کی زندگی کا ہے کہ بچپنے سے اخیر جوانی تک قوت جسمانی بڑھتی جاتی ہے اور مال اور اولاد کی زیادتی کا آپس میں فخر دن بدن زیادہ ہوتا…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ دنیا اور ان امور کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جن پر دنیا کا دارومدار ہے، نیز دنیا اور دنیا والوں کی غایت و انتہا بیان فرماتا ہے دنیا بس لہو ولعب ہے جس کے ساتھ بدن کھیلتے ہیں اور اس کی وجہ سے قلب غافل ہوتے ہیں۔ جو کچھ دنیا میں موجود ہے اور ابنائے دنیا سے جو کچھ واقع ہوتا ہے وہ اس کا مصداق ہے، آپ ابنائے دنیا کو پائیں گے کہ انہوں نے اپنی عمر کے اوقات کو غفلت قلب میں صرف کیا اور وہ ذکر الہی اور آئندہ پیش آنے والے وعد و وعید سے غافل رہے، آپ اہل بیدار اور آخرت کے لیے عمل کرنے والوں کو ان کے برعکس دیکھیں گے کیونکہ ان کے دل اللہ تعالیٰ کے ذکر، اس کی معرفت اور اس کی محبت سے معمور ہیں۔ وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–26
آیا ہر مومن شہیدہوتا ہے ؟
قول باری ہے (والذین امنوا باللہ ورسلہ اولئک ھم الصدیقون والشھدآء عند ربھم، اور جو لوگ اللہ اور رسولوں پر (پورا) ایمان رکھتے ہیں وہی اپنے پروردگار کے ہاں صدیق اور شہید ہیں) ۔
اس آیت کی بنا پر حضرت براء بن عازب ؓ نے حضور ﷺ سے روایت کی ہے کہ ” ہر مومن شہید ہے۔ “ اس صورت میں قول باری (والشھدآء ) ان مومنین کی صفت ہے جن کا ذکر پہلے گزر چکا ہے۔
حضرت عبداللہ ؓ اور مجاہد کا بھی یہی قول ہے ۔ حضرت ابن عباس ؓ ، مسروق، ابو الضحیٰ اور ضحاک کا قول ہے کہ یہاں سے کلام کی ابتداء ہوئی ہے اور اس کی خبر یہ قول باری ہے (لھم اجرھم و نورھم ان کے لئے ان کا (خاص) اجر ہوگا اور ان کا (خاص) نور…
Read the full tafseer →[ 75] دنیاوی زندگی محض ایک کھیل، والعیاذ باللّٰہ جل وعلا :
سو ارشاد فرمایا گیا اور " انما " کے کلمہء حصر کے ساتھ ارشاد فرمایا کہ دنیاوی زندگی محض، ایک کھیل اور تماشہ ہے۔ لعب [ کھیل ] اصل میں اس عمل کو کہتے ہیں جس میں انسان کو اپنی تھکاوٹ کے سوا کچھ حاصل نہ ہو [ خازن، مدارک، صفوہ اور مراعی وغیرہ ] جیسے چھوٹے بچے مختلف قسم کے کھیل کھیلتے ہیں جن سے وقت کے ضیاع اور جسمانی تھکان کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا، سو اسی طرح ابناء دنیا جو دنیا ہی کے لئے جیتے ہیں وہ دنیا جوڑنے اور جمع کرنے کے لئے دن رات محنت کرتے ہیں، مگر آخر کار جب یہ یہاں سے جائیں گے تو خالی ہاتھ جائیں گے، سب کیا کرایا، اور جوڑا بنایا،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–21
نیک لوگوں کے فرائض اور ان کے درجات
تشریح : الحمد اللہ ہم خوب اچھی طرح جانتے ہیں اور ہمارا پکا یقین ہے اللہ کے خالق مطلق ہونے پر یعنی توحید پر یقین ہے۔ آخرت پر یقین ہے سزاء و جزاء پر پورا یقین ہے اسی لیے اللہ وحدہ لاشریک کی ہی عبادت کرتے ہیں اسی سے مدد مانگتے ہیں، اسی سے ڈرتے ہیں اور نیک کام کرتے ہیں اور اسی لیے اللہ کے مقبول بندوں میں شامل کیے جائیں گے انشاء اللہ ورنہ تو صرف دنیا کے عیش و آرام میں گم ہو کر زندگی گزارنے والے لوگ آخرت کے عیش و آرام سے بالکل دور رہیں گے اور ان کا ٹھکانا بہت برا ہوگا آخرت میں۔ اللہ کی کتاب اور رسول بندوں کے لیے فضل اور رحمت کی نشانی ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–25
آیات 20 تا 25۔
اسرار ومعارف۔
یہ جان رکھو کہ حیات دنیا محض کھیل ہے بچپن کے کام خود انسان کو جوانی میں محض فضول نظر آتے ہیں اور جوانی کی حرکات بڑھاپے میں اسی طرح موت کے بعد سب فضول لگیں گے کہ یہ محض ذاتی نمائش میں رجھا لینے والی چیزوں میں سے جیسے کہ بارش ہوا اور کھیتیاں سرسبز ہوں تو کافر کو خوش کرتی ہیں اور انہیں میں الجھ جاتا ہے یعنی خوش مومن بھی ہوتا ہے مگر اس کی خوشی اللہ کا شکر ادا کرنے کا سبب بنتی ہے جبکہ کافر کے لی باعث غفلت پھر اس پر جوبن آتا ہے پھر زردی مائل ہو کر آخر سوکھ کر گھاس پھوس کی طرح تنکے بکھر جاتے ہیں جبکہ ان اعمال کے نتائج آخرت میں ظاہر ہوں گے کہ کفر پر بہت سخت عذاب ہے اور…
Read the full tafseer →ف 5 یہ سچے اور مخلص اہل ایمان کے مقابلے میں دنیا دار لوگوں کا حال ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی تمام خواہشوں اور دلچسپیوں کا ذکر ان پانچ باتوں میں فرمایا دیا ہے۔ شاہ صاحب فرماتے ہیں ” آدمی کو اول عمر میں کھیل چاہیے پھر تماشا پھر بنائو درست کرنا (یعنی بنئاو سنگھار کی فکر) پھر ساکھے کرنے اور نام حاصل کرنا (یعنی ساکھ بڑھانا اور نام و نمود حاصل کرنا اور جب مرنا قریب آوے تب فکر مال اور اولاد کا کہ پیچھے میرا گھر بنا رہے آسودہ یہ سب دغا کی جنس سے آگے کام آئے گا کچھ اور یعنی ایمان اور عمل صالح یہ کچھ کام نہ آوے گا۔ “6 جیسے دنیا داروں کو ان کی جوانی اور مالداری خوش کرتی ہے۔7 یہی حال دنیا کی زندگی کا ہے۔…
Read the full tafseer →(57:20) اعلموا امر جمع مذکر حاضر، علم (باب سمع) مصدر۔ تم (اچھی طرح) جان لو ۔
انما : بےشک، تحقیق، بجز اس کے نہیں۔ ان حرف مشبہ بالفعل۔ ما کافہ ہے حصر کے معنی دیتا ہے اور ان کو عمل سے روکتا ہے۔
خوب جان لو کہ دنیاوی زندگی بجز لعب و لہو ۔۔ کے کچھ نہیں۔ لعب : کھیل ، کود۔ بازی، باب سمع سے مصدر ہے اس کا ماخذ لعاب ہے بمعنی بہتا ہوا تھوک۔ یعنی رال۔ لعب کے معنی ہیں رال کا ٹپک پڑنا۔ اکثر کھیلنے کودنے والے اور بےشعور بچوں کی رال بہا کرتی ہے۔ نیز رال بہنے میں قصد اور ارادہ کو دخ (رح) نہیں ہوتا۔ اس لئے بیہودہ کام۔ بےمقصد حرکت اور کھیل کود پر لعب کا اطلاق کیا جاتا ہے۔
لہوکھیل۔ غفلت باب نصر سے مصدر ہے لہوہر…
Read the full tafseer →1
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
کھیتی کی مثال سے دنیا کے ناپائدار ہونے کا ثبوت۔
(ف 1) ان آیتوں میں کھیتی کی مثال دے کر دنیا کی زندگی کی ناپائداری کا حال سمجھایا گیا ہے کہ جس طرح مینہ کے برس جانے سے اول اول کھیتی خوب سرسبز ہوتی ہے جس سے کاشتکاروں کا دل بہت خوش ہوتا ہے پھر چند روز میں وہ سب سرسبزی جاکر ان سرسبز پیڑوں پر زردی چھاجاتی ہے آخر وہ سب پیڑ کٹ جاتے ہیں اور ان کا نام ونشان بھی نہیں رہتا، یہی حال انسان کی زندگی کا ہے کہ بچہ کے بچپنے سے آخیر جوانی تک قوت جسمانی بڑھتی جاتی ہے اور مال واولاد کی زیادتی کا آپس کا فخر دن بدن زیادہ ہوتا ہے مگر اس سب کی وہی حالت ہے جس طرح بچے کھیل کی کوئی چیز بناتے ہیں اور وہ دم بھر میں اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–21
[28] یہاں اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے لئے صدقہ اور قرض کے دو لفظ استعمال ہوئے ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک خرچ تو وہ ہے جس کا مطالبہ ہر ذی استطاعت مسلمان سے عام حالات میں ہے۔ دوسرا خرچ وہ ہے جس کا مطالبہ کسی ناگہانی ضرورت کے موقع پر ملت کے تحفظ کے لئے کیا جاتا ہے۔ پہلے کو یہاں صدقہ کے لفظ سے تعبیر فرمایا ہے اور اس کے لئے فاعل اور صفت کے صیغے استعمال ہوئے ہیں اس لئے کہ وہ دواماً مطلوب ہے، دوسرے کو قرض سے تعبیر فرمایا ہے جو عندالضرورت دیا جاتا ہے اسی لئے اس کے لئے فعل کا صیغہ استعمال ہوا ہے۔
Read the full tafseer →قرآن حکیم کی ان آیات میں دنیا کی صحیح قدروقیمت واضح کی گئی ہے ۔ اور ان لوگوں کو جو مادیات میں پھنسے ہوئے ہیں ۔ اور جو زندگی کا نصب العین ہی یہ سمجھتے ہیں ۔ کہ ان عارضی اور فانی مسرتوں کو ابدی اور دائمی حقیقتوں پر ترجیح دی جائے متنبہ کیا ہے ۔ اور فرمایا ہے ۔ تمہار سامنے حیات انسانی کا صرف ایک رخ ہے ۔ تم اس کو محض دل کشی اور بدہدایت کی حیثیت سے دیکھتے ہو ۔ اور وہ پہلو جو اس کے سارے حسن کو ضائع کردیتا ۔ اور جس کے تصور سے پوری زندگی مکدر ہوجاتی ہے ۔ تمہاری آنکھوں سے اوجھل ہے ۔ تم صرف یہ چاہتے ہو ۔ کہ یہاں دلچسپی ہے ۔ دل بہلانے کا وافر سامان ہے ۔ زینت و تفاخر کی کرشمہ سازیاں ہیں ۔ مال واولاد میں…
Read the full tafseer →(20) خوب جان لو کہ دنیا کی زندگی تو بس یہی ایک جی کا بہلانا اور کھیل ہے اور ظاہری آرائش اور آپس میں ایک دوسرے پر فخر کرنا اور اموال اور اولاد میں ایک کا دوسرے سے اپنے کو زیادہ بتلانا اور مال و اولاد کی زیادہ طلبی اس کی مثال ایسی ہے جیسے بارش اور برکھا کہ اس کی نباتات کاشت کاروں کو خوش کرتی ہے۔ پھر وہ خشک ہوجاتی ہے پھر اے مخاطب تو اس کو دیکھتا ہے کہ وہ زرد پڑگئی پھر وہ چوراچورا ہوجاتی ہے اور آخرت کی کیفیت یہ ہے کہ اس میں سخت عذاب اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے بخشش اور رضامندی و خوشنودی ہے اور دنیا کی زندگی نہیں ہے مگر ایک سرمایہ فریب اور دھوکے کی ٹٹی۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں آدمی کو اول عمر…
Read the full tafseer →ف 4۔ یعنی مقاصد دنیا کے یہ ہیں کہ بچپن میں لہو ولعب کا غلبہ رہتا ہے، اور جوانی میں ذہنیت و تفاخر کا اور بڑھاپے میں مال و دولت و آل اولاد کو گنوانا اور یہ سب مقاصد فانی اور خواب و خیال محض ہیں۔
5۔ اسی طرح دنیا چند روزہ بہار ہے، پھر زوال و اضمحلال۔
Read the full tafseer →دنیا کی زندگی اور اس کی مصروفیات کی مثال اور انجام
20 ؎ (لعب) حاصل مصدر ہے جس کے معنی کھیل کے ہیں لعب لعب لعب لعبۃ سب کے معنی کھیل ہی کے ہیں اور کھلاڑی کو بھی کہا جاتا ہے اور اس کا استعمال قرآن کریم میں چار بار ہوا ہے اور اسی طرح ( لھو) کا لفظ ہے اور یہ بھی اسم مصدر ، سنجیدگی چھوڑ کر مزاح کی طرف میلان اور جھکائو ( لھو) کہلاتا ہے اور کسی ایسے غیر مفید کام میں مشغول ہونا جس کے شغل میں مفید کام ترک ہوجائے ( لھو) کہتے ہیں اور بعض نے اس حالت کو ( لعب ) سے بھی تعبیر کیا ہے اور دراصل (لھو) جماع کو کہتے ہیں اور اسی سے بعد میں خود عورت ہی کو (لھو) کہنے لگے اور پھر ہر غیر دانشمندانہ تفریح کا نام بھی…
Read the full tafseer →The Life of this World is Fleeting Enjoyment
The preceding verses described the conditions of the inmates of Paradise and those of the inhabitants of Hell, which will materialize in the Hereafter and will be permanent and eternal. Since the basic cause for one's deprivation of the bounties of the Hereafter and his being seized by the divine punishment is his involvement in the temporary pleasures of this worldly life that tempt him to forget the life to come, the verse under comment describes the reality of the worldly life and its being unreliable. The verse depicts the involvements of a…
Read the full tafseer →36 To understand this theme fully one should keep the following verses of the Qur'an in mind: Imran; 14- 15, Yunus: 24-25, ibrahim: 18, AI-Kahf: 45-46, An-Nur: 39. In aII those verses the truth that has been impressed on the mind is: The life of this world is a temporary life: its spring as well as its autumn is temporary, Them is much here to allure man. but this, in fact, consists of base and insignificant things which man because of his shallowness of mind regards as great and splendid and is deluded into thinking that in attaining them lies supreme success, The truth however is that the…
Read the full tafseer →