لوہے کے فوائد
اللہ عزوجل فرماتا ہے کہ ہم نے اپنے پیغمبروں کو ظاہر حجتیں اور بھرپور دلائل دے کر دنیا میں مبعوث فرمایا، پھر ساتھ ہی انہیں کتاب بھی دی جو کھری اور صاف سچی ہے اور عدل و حق دیا جس سے ہر عقل مند انسان ان کی باتوں کے قبول کرلینے پر فطرتاً مجبور ہوجاتا ہے، ہاں بیمار رائے والے اور خلاف عقل والے اس سے محروم رہ جاتے ہیں، جیسے اور جگہ ہے آیت (اَفَمَنْ كَانَ عَلٰي بَيِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ وَيَتْلُوْهُ شَاهِدٌ مِّنْهُ وَمِنْ قَبْلِهٖ كِتٰبُ مُوْسٰٓى اِمَامًا وَّرَحْمَةً 17) 11۔ ھود :17) جو شخص اپنے رب کی طرف دلیل پر ہو اور ساتھ ہی اس کے شاہد بھی ہو۔ ایک اور جگہ ہے اللہ کی یہ فطرت ہے جس پر…
Read the full tafseer →سورة الْحَدِیْد 45
اس مختصر سے فقرے میں انبیاء (علیہم السلام) کے مشن کا پورا لب لباب بیان کردیا گیا ہے جسے اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ دنیا میں خدا کے جتنے رسول بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئے وہ سب تین چیزیں لے کر آئے تھے
(1) بینات، یعنی کھلی کھلی نشانیاں جو واضح کر رہی تھیں کہ یہ واقعی اللہ کے رسول ہیں، بنے ہوئے لوگ نہیں ہیں۔ روشن دلائل جو اس بات کو ثابت کرنے کے لیے بالکل کافی تھے کہ جس چیز کو وہ حق کہہ رہے ہیں وہ واقعی حق ہے اور جس چیز کو وہ باطل قرار دے رہے ہیں وہ واقعی باطل ہے۔ واضح ہدایات جن میں کسی اشتباہ کے بغیر صاف صاف بتادیا گیا تھا کہ عقائد، اخلاق، عبادات اور…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
ہم نے (اسی اصلاح آخرت کے لئے) اپنے پیغمبروں کو کھلے کھلے احکام دے کر بھیجا اور ہم نے ان کے ساتھ کتاب کو اور (اس کتاب میں بالخصوص) انصاف کرنے (کے حکم) کو (جس کا تعلق حقوق العباد سے ہے) نازل کیا تاکہ لوگ (حقوق اللہ اور حقوق العباد میں) اعتدال پر قائم رہیں (اس میں ساری شریعت آگئی جو معتدل یعنی بین الافراط والتفریط ہے) اور ہم نے لوہے کو پیدا کیا جس میں شدید ہیبت ہے (تاکہ اس کے ذریعہ سے عالم کا انتظام رہے کہ ڈر سے بہت سی بےانتظامیاں بند ہوجاتی ہیں) اور (اس کے علاوہ) لوگوں کے اور بھی طرح طرح کے فائدے ہیں (چنانچہ اکثر آلات لوہے سے بنتے ہیں) اور (اس لئے لوہا پیدا کیا) تاکہ اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →6۔ آگے آیات 25۔ 29 کا مضمون
آگے خاتمہ سورة کی آیات ہیں جن میں اہل کتاب بالخصوص نصاریٰ کے اٹھائے ہوئے ایک اعتراض کا بر محل جواب دیا گیا ہے۔ اوپر کی آیات میں اہل ایمان کو جس انفاق کی دعوت دی گئی ہے۔ اس کا تعلق جیسا کہ سیاق وسباق سے واضح ہے، جہاد سے ہے۔ مسلمان جب تک مکہ میں مظلوم و مغلوب رہے اس وقت تک تو اہل کتاب اور قریش نے ان کی کمزوری اور بےبسی کو ان کے خلاف دلیل کے طور پر استعمال کیا لیکن جب انہوں نے مدینہ میں ایک منظم جمعیت کی شکل اختیار کرلی یہاں تک کہ انہوں نے قلت تعداد کے باوجود قریش کو بعض جنگوں میں نہایت کھلی ہوئی شکست بھی دے دی تو قریش اور اہل کتاب دونوں نے مل کر ان کے جوش جہاد کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
25-1میزان سے مراد انصاف ہے اور مطلب ہے کہ ہم نے لوگوں کو انصاف کرنے کا حکم دیا ہے۔ بعض نے اس کا ترجمہ ترازو کیا ہے ترازو کے اتارنے کا مطلب ہے کہ ہم نے ترازو کی طرف لوگوں کی رہنمائی کی کہ اس کے ذریعے سے لوگوں کو تول کر پورا پورا حق دو۔
25-2یہاں بھی اتارا، پیدا کرنے اور اس کی صنعت سکھانے کے معنی میں ہے۔ لوہے سے بیشمار چیزیں بنتی ہیں یہ سب اللہ کے الہام وارشاد کا نتیجہ ہے جو اس نے انسان کو کیا ہے۔
25-3یعنی لوہے سے جنگی ہتھیار بنتے ہیں جیسے تلوار، نیزہ، بندوق وغیرہ جن سے دشمن پر وار کیا جاسکتا ہے اور اپنا دفاع بھی۔
25-4یعنی جنگی ہتھیاروں کے علاوہ بھی لوہے سے اور بھی بہت سی چیزیں بنتی ہیں جو گھروں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
20: ترازو اصل میں اس آلے کو کہتے ہیں جس سے کوئی چیز تولی جائے، اس کو اتارنے کے مفہوم میں یہ بات بھی داخل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ترازو پیدا کی ہے اور یہ بھی کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے مطابق انصاف سے کام لینے کا حکم دیا ہے۔ اور درحقیقت انبیائے کرام اور اللہ تعالیٰ کی کتاب کے ساتھ ترازو کا ذکر کرنے سے اشارہ یہ ہے کہ انسان کو چاہیے کہ اپنی زندگی کے ہر مرحلے پر توازن اور اعتدال سے کام لے، اور یہی توازن اور اعتدال انبیائے کرام اور آسمانی کتابوں کی تعلیمات میں پایا جاتا ہے۔
21: لوہا ان دھاتوں میں سے ہے جس کی ہر صنعت میں ضرورت پڑتی ہے، اس لیے اس کی تخلیق بذات خود اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے، لیکن انبیائے…
Read the full tafseer →رسالت کی حقیقت ایک ہی ہے ، تمام رسالتوں کا پیغام ایک تھا جسے رسول مختلف ادوار میں لے کر آئے۔ اکثر رسولوں کو معجزات دیئے گئے بعض رسولوں کو کتابیں دی گئیں قرآن کہتا ہے۔
وانزلنا معھم الکتب (75 : 52) ” ان کے ساتھ کتاب نازل کی “ رسول بھی ایک تھے اور کتاب بھی ایک تھی۔ اور دعوت بھی ایک تھی لہٰذا رسالت کی نوعیت ایک ہی ہے۔
یہ کتاب کے ساتھ المیزان کیا ہے ؟ ہر نبی اس لئے آیا کہ انسانوں کو ایک میزان دے جس پر وہ اپنے حسن وقبح کو تولیں۔ اور اپنے اعمال کو اس میزان کے مطابق درست کریں اعمال ، واقعات اور انسانوں کا وزن اس میزان پر ہو۔ اس کے مطابق لوگوں کی زندگی درست ہو ، مختلف خواہشات کی سمت درست ہو ، اور…
Read the full tafseer →10 کتاب اور ترازو۔ شاید اسی تو لنے کی ترازو کو کہا کہ اس کے ذریعہ سے بھی حقوق ادا کرنے اور لین دین میں انصاف ہوتا ہے۔ یعنی کتاب اللہ اس لیے اتاری کہ لوگ عقائد اور اخلاق و اعمال میں سیدھے انصاف کی راہ چلیں۔ افراط وتفریط کے راستہ پر قدم نہ ڈالیں اور ترازو اس لیے پیدا کی کہ بیع و شراء وغیرہ معاملات میں انصاف کا پلہ کسی طرف اٹھا، یا جھکا نہ رہے۔ اور ممکن ہے " ترازو " شریعت کو فرمایا ہو۔ جو تمام اعمال قلبیہ و قالبیہ کے حسن و قبح کو ٹھیک جانچ تول کر بتلاتی ہے۔ واللہ اعلم۔
1 یعنی اپنی قدرت سے پیدا کیا اور زمین میں اس کی کانیں رکھ دیں۔
2 یعنی لوہے سے لڑائی کے سامان (اسلحہ وغیرہ) تیار ہوتے ہیں۔ اور…
Read the full tafseer →اب آرہی ہے وہ آیت جو اس پوری سورة مبارکہ کا نقطہ عروج یاذروئہ سنام climax ہے۔ اس آیت کا مضمون خصوصی طور پر آج کے مسلمانوں کے لیے بہت اہم ہے۔ اس لیے کہ آج ہمارے ہاں دین کا اصل تصور مسخ ہوچکا ہے اور یہ آیت دین کے درست تصور کو اجاگر کرتی ہے۔ دراصل انگریزوں کی غلامی کے دور میں ہم مسلمانوں کے ذہنوں میں دین کا عام تصور یہی تھا کہ حکومت انگریز کی ہے تو ہوتی رہے ‘ ہمیں کیا ! ہم نے تو نمازیں پڑھنی ہیں اور روزے رکھنے ہیں۔ اس دور میں برصغیر کے ایک بہت بڑے عالم نے کہا تھا کہ ہمیں کوئی ایسا کام نہیں کرنا چاہیے جس سے انگریزوں کو ہماری طرف سے کوئی تشویش لاحق ہو ‘ اس لیے کہ انہوں نے ہمیں مذہبی آزادی دے رکھی…
Read the full tafseer →42 فتنہ و فساد کی روک تھام دین کے غلبہ اور نظام عدل کے قیام کے لئے تین چیزوں کی ضرورت قوانین الٰہیہ میزان اور قوت نافذہ :۔ دنیا میں فتنہ و فساد کو روکنے کے لیے تین باتوں کی ضرورت ہوتی ہے جو اس آیت میں بیان کردی گئی ہیں۔ واضح نشاننوں سے مراد ایسے دلائل ہیں جن سے یہ ثابت ہوجائے کہ واقعی یہ رسول برحق اور اس پر نازل شدہ کتاب واقعی اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہے اور واضح نشانات بھی اسی کتاب میں مذکور و موجود ہیں۔ یعنی اس کتاب میں پرامن زندگی، فتنہ و فساد کی روک تھام اور اللہ کے دین کے غلبہ کے لیے قوانین بیان کیے ہیں۔ میزان سے مراد ناپ تول کے پیمانے بھی ہیں۔ تاکہ لوگوں کو ان کے حقوق پورے پورے ادا کیے…
Read the full tafseer →35۔ (حب دنیا کی بنیاد پر) (آیت) ” یبخلون “۔ البخل۔ بخل کے عام ووسیع معنی ہیں، حق اللہ وحق العباد کو ضائع کردینے اور انہیں اداء نہ کرنے کے۔ یہاں خصوصیت کے ساتھ اشارہ ہے طاعات ضروری میں خرچ کرنے سے رک جانے پر۔ آیت سے اشارہ اس طرف ہوگیا کہ حب دنیا ایسی چیز ہے کہ جس سے اکثر صفات ذمیمہ پیدا ہوجاتے ہیں۔ مثلا اختیال اور افتخار اور بخل وغیرہ ذلک (تھانوی (رح))
36۔ یعنی حکم انفاق کے بعد بھی بخل کرتے رہو گے تو اس میں ضرر صرف تمہارا ہی ہے۔ حق تعالیٰ کا اس میں کیا نقصان، وہ ذات پاک تو اپنی ذات وصفات دونوں کے لحاظ سے خود ہی ہر طرح کامل واکمل ہے بلکہ استکمال بالغیر تو اس کے لیے محال ہی ہے۔ آیت سے اس عقیدہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
لقد ارسلنا رسلنا بالبینات (الآیۃ) میزان سے مراد انصاف ہے مطلب یہ ہے کہ ہم نے لوگوں کو انصاف کرنے کا حکم دیا ہے، بعض نے اس کے معنی ترازو کئے ہیں، ترازو کے اتارنے کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے ترازو کی طرف لوگوں کی رہنمائی کی، تاکہ اس کے ذریعہ لوگوں کو پورا پورا ان کا حق دیں وانزلنا الحدید یہاں بھی انزلنا خلقناہ اور اس کی صنعت سکھانے کے معنی میں ہے لوہے سے بیشمار اشیاء تیار ہوتی ہیں، جنگلی ضرورت کی بھی اور غیر جنگی ضرورت کی بھی۔
Read the full tafseer →ہم نے اپنے پیغمبروں کو کھلے کھلے احکام دے کر بھیجا اور ہم نے ان
کے ساتھ کتاب اور انصاف (کرنے کا حکم) اتارا تاکہ لوگ (حقوق اللہ اور حقوق العباد میں) اعتدال پر قائم رہیں اور ہم نے لوہے کو پیدا کیا جس میں شدید ہیبت ہے اور لوگوں کے طرح طرح کے فائدے ہیں۔
رُسُلَنَا : یعنی ملائکہ کو انبیاء کے پاس اور انبیاء کو ان کی امتوں کے پاس ہم نے بھیجا۔
بِالْبَیِّنٰتِ : دلائل اور معجزات کے ساتھ۔
وَاَنْزَلْنَا مَعَھُمُ الْکِتٰبَ : اور ان کے ساتھ کتاب اتاری تاکہ حق کا باطل سے عمل صالح کا عمل فاسد سے اور حلال کا حرام سے امتیاز ہوجائے۔
وَالْمِیْزَانَ : میزان سے مراد ہے عدل۔ مقاتل بن سلیمان نے کہا میزان سے مراد یہی…
Read the full tafseer →ہم نے اپنے پیغمبروں کو اوامرو نواہی اور معجزات دے کر بھیجا ہے اور ہم نے ان پر بذریعہ جبریل امین کتاب نازل کی ہے اور اس کتاب میں عدل و انصاف کرنے کا حکم دیا ہے تاکہ لوگ عدل پر قائم رہیں۔
اور ہم نے لوہا پیدا کیا جس میں سخت قوت ہے کہ آگ کے علاوہ اور کوئی چیز اس کو نرم نہیں کرسکتی یا یہ کہ جس میں لڑائی و قتال کے لیے شدید ہیبت ہے۔
اور لوگوں کے سازو سامان کے اور بھی فائدے ہیں جیسا کہ چاقو کلہاڑی وغیرہ تاکہ اللہ تعالیٰ جان لے کہ ان ہتھیاروں سے بغیر دیکھے اس کی اور اس کے رسولوں کی کون مدد کرتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کی مدد کرنے میں قوت والا اور اپنے دشمنوں سے انتقام لینے میں زبردست ہے۔
Read the full tafseer →1۔ لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَیِّنٰتِ۔۔۔۔: اوپر کی آیات میں جس خرچ کی تاکید کی گئی ہے اس کا تعلق جہاد سے ہے۔ کفار اور اہل کتاب کو جب بدر اور دوسرے مقامات پر شکستوں پر شکستیں ہوئیں تو انہوں نے پروپیگنڈا شروع کردیا جو آج تک جاری ہے کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول اور اسلام اللہ کا دین کیسے ہوسکتے ہیں ؟ ان کے نزدیک تو سب سے بڑی نیکی جنگ اور خون ریزی ہے ، بھلا اللہ کے رسولوں اور اس کے نیک بندوں کا خون ریزی سے کیا تعلق ہے ؟ وہ تو امن و سلامتی والے ہوتے ہیں اور دنیا کے دھندوں سے الگ تھلگ رہبانیت کی زندگی بسر کرتے ہیں۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں تین باتیں واضح فرمائیں ، ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
بینات سے مردا واضح معجزات اور ظاہر شرائع ہیں ایک قول یہ کیا گیا ہے : عبادت میں اللہ تعالیٰ کے لئے اخلاص، نماز قائم کرنا اور زکوۃ دینا ہے رسولوں نے اس امر کی دعوت دی یہ سلسلہ حضرت نوح (علیہ السلام) سے حضرت محمد ﷺ تک جاری رہا۔
کتاب سے مراد کتب ہے یعنی ہم نے ان کی طرف ان سے پہلوں کی خبریں وحی کیں ابن زید نے کہا : اس سے مراد وہ چیز ہے جس کے ساتھ وزن کیا جاتا ہے اور معاملہ کیا جاتا ہے یعنی معاملات میں عدل کریں اس کا فرمان اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ مراد معروف میزان ہے ایک قوم نے کہا : مراد عدل ہے : قشیری نے کہا : جب ہم نے اسے معروف میزان پر محمول کیا تو معنی ہوگا ہم نے کتاب کو نازل کیا اور میزان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
1۔ عبدالرزاق وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت وانزلنا معہم الکتب والمیزان۔ اور ہم نے ان کے ساتھ کتاب اور ترازو کو نازل کیا۔ اس میں میزان سے مراد عدل ہے۔
2۔ فریابی وعبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت وانزلنا الحدید فیہ باس شدید و منافع للناس اور ہم نے لوہے کو پیدا کیا جس میں شدید ہیبت ہے۔ اس میں لوگوں کی نفع کی چیزوں میں ڈھال اور دوسرے ہتھیار مراد ہیں جو لوہے سے بنائے جاتے ہیں۔
3۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت وانزلنا الحدید الآیۃ سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے لوہے میں سے سب سے پہلے لوہار کا زنبور نازل فرمایا جس پر لوہے کو کاٹا جاتا ہے
پیر کے…
Read the full tafseer →[لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا : بیشک ہم بھیج چکے اپنے رسولوں کو ][ بِالْبَيِّنٰتِ : واضح نشانیوں کے ساتھ ][ وَاَنْزَلْنَا مَعَهُمُ : اور ہم نے اتارا ان کے ساتھ ][ الْكِتٰبَ وَالْمِيْزَانَ : الکتاب اور وزن کرنے کا پیمانہ ][ لِيَقُوْمَ النَّاسُ : تاکہ قائم رہیں ][ بِالْقِسْطِ ۚ: انصاف پر ][ وَاَنْزَلْنَا الْحَدِيْدَ : اور ہم نے اتارا لوہا ][ فِيْهِ بَاْسٌ شَدِيْدٌ: جس میں شدید سختی ہے ][ وَّمَنَافِعُ لِلنَّاسِ : اور فائدے ہیں لوگوں کے لیے ][ وَلِيَعْلَمَ اللّٰهُ : اور تاکہ جان لے اللہ ][ مَنْ يَّنْصُرُهٗ وَرُسُلَهٗ : کون مدد کرتا ہے اس کی اور اس کے رسولوں کی ][ بِالْغَيْبِ ۭ: غائبانہ ][ اِنَّ…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ نے پیغمبروں کو واضح احکام دے کر بھیجا، ان پر کتابیں نازل فرمائیں اور لوگوں کو انصاف کا حکم دیا
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے رسولوں کی بعثت کا اور انہیں واضح احکام کے ساتھ بھیجنے کا اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان نازل فرمانے کا تذکرہ فرمایا ہے الکتاب جنس ہے جس سے اللہ تعالیٰ کی نازل کی ہوئی تمام کتابیں مراد ہیں اور عربی میں المیزان ترازو کو کہتے ہیں بعض حضرات نے اس کا ترجمہ ترازو ہی کیا ہے کیونکہ اس کے ذریعے صحیح ناپ تول کی جاتی ہے اور وہ آلہ عدل و انصاف ہے اور بعض حضرات نے اس کا ترجمہ ” انصاف “ کیا ہے دونوں صورتوں کا مطلب اور مآل ایک ہی ہے، ارسال رسل اور انزال کتاب اور انز ال میزان کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–29
بعثت انبیاء (علیہم السلام) برائے ہدایت عالم وعطاء اسباب رشد و فلاح :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” لقد ارسلنا رسلنا بالبینت ...... الی ..... واللہ ذوالفضل العظیم “۔
(ربط) سابقہ آیات میں دنیا اور دنیا کی ہر راحت ونعمت کی ناپائیداری اور بےثباتی کا ذکر تھا اور یہ کہ انسان کو چاہئے کہ آخرت کی فکر کرے دنیا سر اسر دھوکہ ہے اس سے غرور وتکبر اور غفلت میں پڑجانا سب سے بڑی اور مہلک غلطی ہے تو اب ان آیات میں فرمایا جارہا ہے کہ اللہ رب العزت نے تو ہمیشہ ہی تخلیق عالم کے بعد سے اپنے رسولوں اور پیغمبروں کو بھیجا، ان پر کتابیں نازل کیں اور بینات و دلائل بھی دئیے تاکہ انسان کو رشد و فلاح کی منزل حاصل کرنے میں…
Read the full tafseer →27:۔ ” لقد ارسلنا “ یہاں سے سورت کے دوسرے مضمون یعنی جہاد فی سبیل اللہ کا بیان شروع ہوتا ہے۔ البینات، معجزات واضحہ۔ الکتاب سے جنس مراد ہے اور تمام کتب سماویہ کو شامل ہے۔ المیزان کا عطف الکتاب پر تفسیری ہے از قبیل عطف الاسم علی الاسم۔ یعنی یہ دنوں ایک ہی چیز کے نام ہیں اور تغایر محض لفظی اور اعتبار ہے جیسا کہ امام طحاوی نے فرمایا ہے کہ حافظوا علی الصلوات والصلوۃ الوسطی اور ایک قراءت میں اس کے بعد وصلوۃ العصر وارد ہے۔ امام طحاوی اسے عطف الاسم علی الاسم قرار دیتے ہیں۔ حاصل یہ کہ یہ عطف تفسیری ہے ایک ہی چیز کے دو ناموں میں سے ایک کو دوسرے پر معطوف کیا گیا ہے کتب سماویہ چونکہ حق و باطل اور شرائع…
Read the full tafseer →ربط آیات :
اس سورة مبارکہ میں بنیادی عقائد توحید ، رسالت اور قرآن کریم کی ہدیات سے مستفید ہونے والے اور محروم رہنے والے لوگوں کا انجام بیان ہوا ہے۔ دنیا کی بےثباتی کے پیش نظر آخرت میں کامیابی کے لئے ترغیب دی گئی ہے اللہ نے انسانوں پر آنے والے مصائب کے متعلق فرمایا کہ یہ سب لوح محفوظ میں درج ہیں ، پھر تکبر اور غرور کی تردید فرمائی کہ جس شخص کو آسودگی حاصل ہو اسے اترانا نہیں چاہیے۔ پھر اللہ نے بخل سے بچنے کی تلقین فرمائی کہ نہ خود بخل کا ارتکاب کرو اور نہ دوسروں کو اس کی ترغیب دو ۔
مقصد بعثت انبیائ :
آج کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے رسولوں کی بعثت اور کتابوں کے نزول ، اور پھر لوہے جیسی قیمتی دھات…
Read the full tafseer →لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنٰتِ وَاَنْزَلْنَا مَعَہُمُ الْكِتٰبَ وَالْمِيْزَانَ لِيَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ 0 ۚ وَاَنْزَلْنَا الْحَدِيْدَ فِيْہِ بَاْسٌ شَدِيْدٌ وَّمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَلِيَعْلَمَ اللہُ مَنْ يَّنْصُرُہٗ وَرُسُلَہٗ بِالْغَيْبِ 0 ۭ اِنَّ اللہَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ 25 ۧ
( قَدْ )
: حرف يختصّ بالفعل، والنّحويّون يقولون : هو للتّوقّع . وحقیقته أنه إذا دخل علی فعل ماض فإنما يدخل علی كلّ فعل متجدّد، نحو قوله : قَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْنا [يوسف/ 90] ، قَدْ كانَ لَكُمْ آيَةٌ فِي فِئَتَيْنِ [ آل عمران/ 13] ، قَدْ سَمِعَ اللَّهُ [ المجادلة/ 1] ، لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
ترکیب : فیہ باس الخ الجملۃ حال من حدید و منافع معطوف علی باس ولیعلم معطوف علیٰ مخذوف وھو یستعملوہ وقیل عطف علی قولہ لقیوم الناس بالغیب حال من فاعل ینصرا ومفعولہ ای غائبا عنھم اوغائبین عنہ رھبانیۃ منصوب بفعل مضمر یفسرہ مابعدہ وھو ابتدعوھادقیل بالعطف علی ماقبلہ ای جعلنا فی قلوبھم رہبانیۃ مبتدعۃ من عندھم وابتد عوھا علیٰ ھذا التقدیر صفۃ لھا۔ الرھبانیۃ الفعلۃ المنسوبۃ الی الراھب و قریٔ بضم الراء کانھا نسبۃ الی الرہبان جمع راھب۔
تفسیر : پہلے بخل کی برائی بیان فرمائی تھی اب یہ ذکر دیا کہ بخل پر کیا منحصر ہے جمیع نیک و بد امور بتلانے کے لیے ہم نے رسول بھیجے۔ معجزات و نشانیاں دے کر تاکہ بنی آدم کی…
Read the full tafseer →لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَیِّنٰتِ وَاَنْزَلْنَا مَعَھُمُ الْـکِتٰبَ وَالْمِیْزَانَ لِیَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ ج وَاَنْزَلْنَا الْحَدِیْدَ فِیْہِ بَاْسٌ شَدِیْدٌ وَّمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَلِیَعْلَمَ اللّٰہُ مَنْ یَّنْصُرُہٗ وَرُسُلَـہٗ بِالْغَیْبِ طاِنَّ اللّٰہَ قَوِیٌّ عَزِیْزٌ۔ (الحدید : 25)
(ہم نے اپنے رسولوں کو واضح دلائل کے ساتھ بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان نازل کی تاکہ لوگ عدل پر قائم ہوں، اور لوہا اتارا جس میں بڑی قوت ہے اور لوگوں کے لیے فوائد ہیں، یہ اس لیے کیا گیا تاکہ وہ ان لوگوں کو ممیز کردے جو اس کو دیکھے بغیر اس کی اور اس کے رسولوں کی مدد کرتے ہیں، بیشک اللہ…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : ” اللہ “ غنی ہے، وہی لوگوں کو سب کچھ عطا کرنے والا ہے یہ اس کی سب سے بڑی عطا ہے کہ اس نے لوگوں کی ہدایت کے لیے انبیاء مبعوث فرمائے۔
ان آیات کا پس منظر یہ ہے کہ غزوہ تبوک تمام غزوات سے مشکل ترین غزوہ تھا۔ سفر کے مسائل اور دشمن کے ساتھ مقابلے کرنے مزید یہ کہ عرب کی گرمی اپنی انتہا پر تھی اور لوگوں کی فصلیں پکی ہوئی تھیں ان حالات میں نبی معظم ﷺ نے صحابہ کو تبوک کے لیے تیاری کا حکم دیا۔ اس موقعہ پر منافقین نے اپنے رشتہ دار مخلص مسلمانوں کو ناصرف تبوک کی طرف جانے سے روکا بلکہ انہیں مال خرچ کرنے سے بھی منع کیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ فرمان نازل فرمایا کہ یقیناً ہم نے رسولوں…
Read the full tafseer →رسل سے مراد :
25 : لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا (ہم نے اپنے پیغمبروں کو بھیجا) ہم نے ملائکہ کو اپنے انبیاء (علیہم السلام) کے پاس بھیجا۔ بِالْبَیِّنٰتِ (دلائل و معجزات کے ساتھ) وَاَنْزَلْنَا مَعَہُمُ الْکِتٰبَ (اور ہم نے ان کے ساتھ کتاب اتاری) الکتاب سے مراد وحی۔ ایک قول الرسل سے انبیاء مراد ہیں۔ مگر قول اول اولیٰ ہے اس لئے کہ معھمؔ کا لفظ اس کی تائید کرتا ہے۔ انبیاء (علیہم السلام) پر کتاب نازل ہوتی ہے۔ ان کے ساتھ نہیں۔ وَالْمِیْزَانَ (اور انصاف کا حکم اتارا) روایت میں ہے کہ جبرئیل (علیہ السلام) میزان لے کر اترے اور نوح (علیہ السلام) کے اس کو سپرد کیا اور کہا اپنی قوم کو اس کے ساتھ وزن کا حکم…
Read the full tafseer →24 ۔” الذین یبخلون “ کہا گیا ہے یہ محل جر میں ہے۔ ” المختال “ کی صفت ہونے کی وجہ سے اور کہا گیا ہے یہ ۔۔۔ ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے اور اس اس کی خبر اس کا مابعد ہے۔ ” ویامرون الناس بالبخل ومن یتول “ یعنی ایمان سے اعراض کرے۔ ” فان اللہ ھوالغنی الحمید “ اہل مدینہ اور شام نے ” فان اللہ الغنی “ پڑھا ہے ھوکو ساقط کرنے کے ساتھ اور اسی طرح یہ ان کے مصاحف میں ہے۔
Read the full tafseer →25۔ اوپر جنت کے لئے دوڑ دھوپ کرنے کا ذکر تھا ان آیتوں میں اس دوڑ دھوپ کا طریقہ سمجھانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ نوح (علیہ السلام) سے لے کر محمد ﷺ تک ہم نے رسول بھیجے جن کی تصدیق کے لئے ان کو طرح طرح کے معجزے دیئے ان پر اسلامی کتابیں نازل فرمائیں۔ پھر ہر زمانہ کے لوگوں میں سے جنہوں نے اللہ کے رسولوں کی نصحیت کو مانا ‘ اور اللہ کے حکم کے موافق عمل کیا۔ وہ جنت کی دوڑ دھوپ کے طریقہ میں کامیاب ہوئے اور جو اسی طریقے کے رہے وہ دنیا میں طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک ہوئے اور عقبیٰ میں ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے۔ حاصل یہ ہے کہ نبی آخر الزمان کے عہد کے لوگوں کا انجام بھی اسی عادت الٰہی کے موافق ہوگا۔…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنٰتِ ) یقینا ہم نے اپنے رسولوں کو کھلی دلیلیں دے کر بھیجا اس سے مراد وہ دلائل شواہد اور علامات ہیں جو اس چیز کی صداقت اور حقیقت پر دلالت کرتی ہیں جسے انبیائے کرام لے کر آئے ہیں۔ (وَاَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتٰبَ ) اور ہم نے ان پر کتاب اتاری (الکتب) اسم جنس ہے جو ان تمام کتابوں کو شامل ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے مخلوق کی ہدایت اور ان امور کی طرف راہنمائی کے لیے نازل فرمایا ہے جو ان کے دین و دنیا میں فائدہ مند ہیں۔ (وَالْمِيْزَانَ ) اور میزان۔ اور وہ اقوال و افعال میں عدل کا نام ہے، وہ دین جو تمام رسول لے کر آئے وہ اوامرو نواہی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–26
آیا ہر مومن شہیدہوتا ہے ؟
قول باری ہے (والذین امنوا باللہ ورسلہ اولئک ھم الصدیقون والشھدآء عند ربھم، اور جو لوگ اللہ اور رسولوں پر (پورا) ایمان رکھتے ہیں وہی اپنے پروردگار کے ہاں صدیق اور شہید ہیں) ۔
اس آیت کی بنا پر حضرت براء بن عازب ؓ نے حضور ﷺ سے روایت کی ہے کہ ” ہر مومن شہید ہے۔ “ اس صورت میں قول باری (والشھدآء ) ان مومنین کی صفت ہے جن کا ذکر پہلے گزر چکا ہے۔
حضرت عبداللہ ؓ اور مجاہد کا بھی یہی قول ہے ۔ حضرت ابن عباس ؓ ، مسروق، ابو الضحیٰ اور ضحاک کا قول ہے کہ یہاں سے کلام کی ابتداء ہوئی ہے اور اس کی خبر یہ قول باری ہے (لھم اجرھم و نورھم ان کے لئے ان کا (خاص) اجر ہوگا اور ان کا (خاص) نور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
[ 96] بخیلوں کی نفسیات کے ایک خاص پہلو کا ذکر وبیان :
یعنی یہ کہ ایسے لوگ دوسروں کو بھی بخیل کی تعلیم و تلقین گرتے ہیں تاکہ اس طرح خود ان کے بخل پر پردہ پڑا ہے، چناچہ ان کی اس صفت کاشفہ کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ جو دوسرے لوگوں کو بھی بخل کی دعوت دیتے ہیں۔ تاکہ اس طرح خود ان کے بخل و کنجوسی پر پردہ پڑا رہے، جیسا کہ کئی لوگ خیر خواہ اور سمجھدار بن کر کہا کرتے تھے، کہ صاحب مال جوڑ کر رکھو کہ آڑے وقت میں کام آئے گا، آئندہ اولاد و آرام و راحت سے کھائے گی، کبھی بھی مشکل وقت پیش آسکتا ہے، اس وقت یہ کام مال دے گا اگر اس کو یونہی غریبوں مسکینوں میں بانٹتے رہے تو آئندہ کیا کرو گے، وغیرہ وغیرہ، سو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–25
ﷲ نے لوح محفوظ میں سب لکھ رکھا ہے۔ نہ گھبراؤ نہ اتراؤ
تشریح : ان آیات میں رب کائنات کے بڑے زبردست کمالات اور بہترین اصول و ضوابط کا ذکر کیا گیا ہے جو کہ ہمیں کائنات کے ذرے ذرے میں چاہے وہ انسان ہو، حیوان ہو، نباتات ہو، جمادات ہو یا فرشتے ہوں یا پھر اجرام فلکی ہوں یا ہوا پانی اور آگ ہوں غرض ہر چیز میں دکھائی دیتے ہیں سب چیزیں اللہ کے پہلے بنائے ہوئے ڈیزائن کے مطابق چل رہی ہیں اور وہ ڈیزائن اور ان کے اصول اللہ کے پاس لکھے ہوئے محفوظ پڑے ہیں اور جہاں محفوظ کئے گئے ہیں اس کو رب العزت لوح محفوظ کا نام دیتے ہیں۔ ہم اس کو یوں سمجھ سکتے ہیں کہ جیسے انسان ایک کمپیوٹر میں پورا پروگرام بنا کر رکھ دیتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–25
آیات 20 تا 25۔
اسرار ومعارف۔
یہ جان رکھو کہ حیات دنیا محض کھیل ہے بچپن کے کام خود انسان کو جوانی میں محض فضول نظر آتے ہیں اور جوانی کی حرکات بڑھاپے میں اسی طرح موت کے بعد سب فضول لگیں گے کہ یہ محض ذاتی نمائش میں رجھا لینے والی چیزوں میں سے جیسے کہ بارش ہوا اور کھیتیاں سرسبز ہوں تو کافر کو خوش کرتی ہیں اور انہیں میں الجھ جاتا ہے یعنی خوش مومن بھی ہوتا ہے مگر اس کی خوشی اللہ کا شکر ادا کرنے کا سبب بنتی ہے جبکہ کافر کے لی باعث غفلت پھر اس پر جوبن آتا ہے پھر زردی مائل ہو کر آخر سوکھ کر گھاس پھوس کی طرح تنکے بکھر جاتے ہیں جبکہ ان اعمال کے نتائج آخرت میں ظاہر ہوں گے کہ کفر پر بہت سخت عذاب ہے اور…
Read the full tafseer →ف 11 یعنی عدل و انصاف کا حکم دیا۔12 اخلقنا کے معنی اتارنا بھی ہیں اور پیدا کرنا بھی یہاں پیدا کرنا مراد ہے اور بعض نے کہا ہے کہ لوہے کے کالوں سے نکالنا اور اس کی صفت کی تعلیم دینا مراد ہے۔ نیز دیکھیے سورة انعام آیت 43)3 ۃ جیسے تلوار بندوق اور دوسرے جنگی ہتھیار اس میں اشارہ ہے کہ دنیا میں امن وامان قائم کرنے کیلئے کتاب و قانون عدل و انصاف کے علاوہ اس شخص کی بھی ضرورت ہے جو ہاتھ میں تلوار رکھتا ہو۔ انصاف پھیلانے کے لئے ہے ایک روایت ہے کہ آنحضرت نے فرمایا ! مجھے قیامت سے پہلے تلوار دے کر بھیجا گیا ہے تاکہ صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کی جائے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ گردانا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →(57:25) بالبینت : روشن دلیلوں کے ساتھ۔ دلائل و معجزات کے ساتھ۔
وانزلنا معھم الکتب : اور ان کے ساتھ کتاب نازل کی تاکہ حق کا باطل سے۔ عمل صالح کا عمل فاسد سے اور حلال کا حرام سے امتیاز ہوجائے۔
والمیزان : اس کا عطف الکتب پر ہے۔ یعنی ہم نے ان رسولوں کے ساتھ میزان بھی اتارا۔ عدل و انصاف کے لئے۔
لیقوم الناس : لام تعلیل کا ہے یہ جملہ علت ہے کتاب اللہ اور میزان کے نازل کرنے کی۔ قسط بمعنی عدل و انصاف۔ والمعنی : لتقوم حیاتھم فیما بینہم علی اساس العدل۔ (السیر التفاسیر) تاکہ ان کی باہمی زندگی عدل و انصاف کی بنیادوں پر قائم ہوسکے۔ تاکہ لوگ عدل کریں اور کوئی کسی کی حق تلفی نہ کرے۔ (تفسیر مظہری)
والنزلنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–29
لغات القرآن۔ الحدید۔ لوہا۔ باس شدید۔ زبردست قوت اور ہیبت۔ قفینا ۔ ہم نے پے در پے بھیجے۔ رافۃ ۔ نرمی۔ رھبانیۃ ۔ ترک دنیا۔ دنیا کو چھوڑ دینا۔ ابتدعوا۔ انہوں نے نئی بات نکالی۔ انہوں نے خود ہی گھڑ لیا۔ کفلین۔ دو حصے۔
تشریح : سونے اور چاندی کو پرکھنے کے لئے کسوٹی، کسی چیز کی کمی یا زیادتی کو تولنے کے لئے (میزان) ترازو ہوا کرتی ہے۔ کسوٹی یہ بتا دیتی ہے کہ سونے اور چاندی میں ملاوٹ کتنی ہے اور اصلی سونا اور چاندی کس مقدار میں ہے۔ اسی طرح ترازو کے ذریعہ اس بارت کا یقینی علم حاصل ہوجاتا ہے کہ کون سی چیز وزن میں کتنی زیادہ اور کتنی کم ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ہم نے اپنے پاکیزہ نفس پیغمبروں کو…
Read the full tafseer →رسولوں کا سلسلہ۔
(ف 1) اوپر جنت کے لیے دوڑدھوپ کرنے کا ذکر تھا ان آیتوں میں اس دوڑ دھوپ کا طریقہ سمجھانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ نوح (علیہ السلام) سے لے کر محمد ﷺ تک ہم نے رسول بھیجے جن کی تصدیق کے لیے ان کو طرح طرح کے معجزے دیے ان پر آسمانی کتابیں نازل فرمائیں پھر ہر زمانہ کے لوگوں میں سے جنہوں نے اللہ کے رسولوں کی نصیحت کو مانا اور اللہ کے حکم کے موافق عمل کیا وہ جنت کی دوڑ دھوپ کے طریقہ میں کامیاب ہوئے اور جو اس طریقہ کے برخلاف رہے وہ دنیا میں طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک ہوئے اور عقبی میں ان کاٹھکانہ دوزخ ہے حاصل یہ ہے کہ نبی آخرالزمان کے عہد کے لوگوں کا انجام بھی اسی عادت الٰہی کے…
Read the full tafseer →[32] دنیا میں اللہ کے جتنے رسول آئے تھے وہ سب تین چیزیں لے کر آئے تھے۔ (1) بینات یعنی کھلی کھلی نشانیاں جو واضح کر رہی تھیں کہ یہ لوگ واقعی اللہ کے رسول اور جس چیز کو وہ حق کہہ رہے ہیں وہ واقعی حق ہے اور جس چیز کو وہ باطل کہہ رہے ہیں وہ واقعی باطل ہے۔ (2) کتاب، جس میں ساری تعلیمات دی گئی تھیں جو انسان کو ہدایت کے لئے درکار تھیں۔ (3) میزان، یعنی عدل و انصاف کا نظام۔
[33] لوہا اگرچہ نکلتا تو زمین ہی سے ہے لیکن اس کے لئے انزلنا (ہم نے اتارا) استعمال ہوا ہے۔ یہ اسی طرح کا استعمال ہے جس طرح چوپایوں کے پیدا کئے جانے کے لئے یہ لفظ سورة زمر آیت 6 صفحہ 1098 میں استعمال ہوا ہے۔ مقصود اس سے ایک طرف تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–26
مسئلہ تقدیر کی بالکل آسان صورت
2: ہر وہ شخص جو خدا پر ایمان رکھتا ہے ۔ اور جہ یہ مانتا ہے ۔ کہ اس کو ذرہ وزرہ باتفصیلی علم ہے ۔ وہ لازم طور پر اس بات کا قائل ہے ۔ کہ کوئی چیز بھی اس کی گرفت سے باہر نہیں ۔ وہ چھپی ڈھکی سب اشیاء سے واقف ہے اور ہر بات کو وقوع سے پہلے جانتا ہے ۔ اسلام اس باب میں صرف یہ اضافہ کرتا ہے ۔ کہ یہ علم لوح محفوظ میں منضبط ہے ۔ اور فرشتوں کی سہولت کے لئے ایک کتاب میں لکھا رکھا ہے اور ظاہر ہے ۔ کہ اتنے سے اضافہ سے نفس مسئلہ کے سمجھنے میں کوئی نئی دلنوازی ہونا ضروری ہے ۔ اب قرآن بھی یہ کہتا ہے ۔ کہ علم غیب ضبط تحریر میں بھی آچکا ہے ۔ کے لئے اس میں کیا استحالہ ہے ۔ یہی تدیر…
Read the full tafseer →(25) بلا شبہ ہم نے اپنے رسولوں کو واضح دلائل واحکامات دے کر بھیجا اور ہم نے ان کے ہمراہ اور ان کی معرفت کتابیں اور ترازو یعنی طریقہ ، عدل نازل کیا تاکہ لوگ انصاف و اعتدال پر قائم رہیں اور ہم نے لوہا نازل کیا……………یعنی پیدا کیا اس میں سخت لڑائی کا سامان اور لوگوں کے اور منافع بھی اس سے وابستہ ہیں تاکہ اللہ تعالیٰ اس امر کو ظاہر کردے کہ اس کو بن دیکھے اس کی اور اس کے رسولوں کی کون مدد کرتا ہے بلاشبہ اللہ تعالیٰ نہایت قوی اور زبردست ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو ہدایت کے لئے اپنے پیغمبروں کو کھلے کھلے دلائل یعنی صاف صاف احکام بھیجے اور اس نے رسولوں کے ساتھ کتابیں بھی نازل کیں اور ترازو اتاری…
Read the full tafseer →ف 3۔ اوپر ارسال رسل بغرض اصلاح خلق کے اجمالا مذکور تھا، آگے بعض خاص رسل کا ارسال بغرض اصلاح امم اور ان امم میں بعض کا اصلاح پذیر ہونا اور بعض کا نہ ہونا اور موجودین کو قبول اصلاح کا امر ارشاد ہے۔
Read the full tafseer →آیات 25 ۔ 26
رسولوں کی آمد اور ان کی آمد کا اصل مقصد اس آیت میں واضح کیا جارہا ہے
25 ؎ عدل الٰہی کے خلاف ہے کہ ایک گروہ اپنے اعمال بدلے کے لیے جوابدہ ٹھہرایا جائے لیکن اس کی ہدایت کے لیے کوئی رسول نہ بھیجا گیا ہو۔ اس اصول کے تحت رسولوں کی آمد جاری کیا گیا ہے اور اس کی وضاحت ہم نیعروۃ الوثقیٰ جلد چہارم سورة الرعد کی آیت 9 ، جلد پنجم سورة الاسراء کی آیت 16 ، جلد ششم سورة القصص کی آیت 59 میں کردی ہے ۔ جب رسولوں کا سلسلہ جاری ہوا تو ان کی رسالت کی تصدیق کے لیے روشن دلائل نازل کیے جن کا انحصار عقل و فکر پر رکھا گیا جو سارے گروپوں کے لیے یکساں ہدایت مہیا کرتے تھے اور انہی دلائل کو قرآن کریم نے جگہ…
Read the full tafseer →Establishing Justice: The Real Purpose of sending Prophets and Divine Books
لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَأَنزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتَابَ وَالْمِيزَانَ لِيَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ ۖ وَأَنزَلْنَا الْحَدِيدَ فِيهِ بَأْسٌ شَدِيدٌ
We have indeed sent Our messengers with clear proofs, and sent down with them the Book and the Balance, so that people may uphold justice. And We sent down iron in which there is strong power, and benefits for the people; and [ We did it ] so that Allah knows the one who helps Him and His messengers without seeing [ Him ]. Surely Allah is Strong,…
Read the full tafseer →45 In this brief sentence the whole essence of the mission of the Prophets bas been compressed, which one should clearly understand. It says that all the Messengers who came to the world from AIIah, brought three things:
(1) Bauuomatat: manifest signs which clearly showed that they were really Allah's Messengers, and were not impostors; convincing arguments which made it evident that what they tore presenting as Truth was really the Truth, and what they condemned as falsehood was really falsehood clear instructions which told without any ambiguity what was the. right way for the people in…
Read the full tafseer →