فَنُزُلٌ مِّنْ حَمِیْمٍ ۟ۙفَنُزُلٌ مِّنۡ حَمِيۡمٍۙ
تو (اس کے لئے) کھولتے پانی کی ضیافت ہے
— Fateh Muhammad Jalandhari
Then [for him is] accommodation of scalding water
— Saheeh International
Juz 27 · Ruku 3 of surah · Ruku 16 of juz
فَنُزُلٌ مِّنْ حَمِیْمٍ ۟ۙفَنُزُلٌ مِّنۡ حَمِيۡمٍۙ
تو (اس کے لئے) کھولتے پانی کی ضیافت ہے
— Fateh Muhammad Jalandhari
Then [for him is] accommodation of scalding water
— Saheeh International
Juz 27 · Ruku 3 of surah · Ruku 16 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Waaqia
تو اس کی تواضع کے لیے کھولتا ہوا پانی ہے
تو (اس کے لئے) کھولتے پانی کی ضیافت ہے
تو کھولتے ہوئے گرم پانی کی مہمانی ہے
تو (اس کے لیے) کھولتے ہوئے پانی کی مہمانی ہے۔
تو اس کی مہمانی کھولتا پانی،
تو (اس کی) سخت کھولتے ہوئے پانی سے ضیافت ہوگی،
تو اس کے لیے کھولتے ہوئے پانی کی مہمانی ہے۔
تو کھولتا پانی اس کی مہمانی ہوگی
تو اس کے لیے گرم پانی کی ضیافت
تو اس کے لئے مہمانی ہوگی ایک کھولتے ہوئے ہولناک پانی سے
تو اس کی مہمانی کھولتے ہوئے پانی سے ہوگی
تو اس کے لیے مہمانی ہے کھولتے پانی سے۔
تو اس کے لیے کھولتے پانی کی ضیافت ہے
then he will be served boiling water,
then (for him) there is entertainment from boiling water,
then (for him) there is entertainment from boiling water,
Then for him is an entertainment with Hamim.
Then the welcome will be boiling water
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
Then [for him is] accommodation of scalding water
its dwelling will be boiling water
He shall have an entertainment of boiling water,
Then an entertainment of boiling water.
For him is Entertainment with Boiling Water.
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 88–96
احوال موت یہاں وہ احوال بیان ہو رہے ہیں جو موت کے وقت سکرات کے وقت دنیا کی آخری ساعت میں انسانوں کے ہوتے ہیں کہ یا تو وہ اعلیٰ درجہ کا اللہ کا مرقب ہے یا اس سے کم درج کا ہے جن کے داہنے ہاتھ میں نامہ اعمال دیا جائے گا۔ یا بالکل بدنصیب ہے جو اللہ سے جاہل رہا اور راہ حق سے غافل رہا۔ فرماتا ہے کہ جو مقربین بارگاہ الٰہی ہیں، جو احکام کے عامل تھے، نافرمانیوں کے تارک تھے انہیں تو فرشتے طرح طرح کی خوشخبریاں سناتے ہیں۔ جیسے کہ پہلے براء کی حدیث گذری کہ رحمت کے فرشتے اس سے کہتے ہیں اے پاک روح پاک جسم والی روح چل راحت و آرام کی طرف چل کبھی نہ ناراض ہونے والے رحمن کی طرف۔ روح سے مرد راحت ہے اور ریحان سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–96
سورة الْوَاقِعَة 42 حضرت عقبہ بن عامر جہنی کی روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ اس کو تم لوگ اپنے رکوع میں رکھ دو ، یعنی رکوع میں سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْم کہا کرو۔ اور جب آیت سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلیٰ نازل ہوئی تو آپ نے فرمایا اسے اپنے سجدے میں رکھو، یعنی سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلیٰ کہا کرو (مسند احمد، ابوداؤد، ابن ماجہ، ابن حبان، حاکم)۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نماز کا جو طریقہ مقرر فرمایا ہے اس کے چھوٹے سے چھوٹے اجزاء تک قرآن پاک کے اشاروں سے ماخوذ ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–94
فَاَمَّآ اِنْ كَانَ مِنَ الْمُقَرَّبِيْنَ ، سابقہ آیات میں مختلف دلائل اور مختلف عنوانات سے یہ واضح کردیا گیا کہ دنیا کی موجودہ زندگی کا ایک روز ختم ہوجانا اور مرنے کے وقت سب عزیزوں، دوستوں، طبیبوں کا عاجز ہوجانا روز مشاہدہ میں آتا ہے اسی طرح اس کو بھی یقینی سمجھو کہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہو کر اپنے اعمال کا حساب بھی دینا ہے اور حساب کے بعد جزا و سزا بھی یقینی ہے اور جزا و سزا میں کل مخلوق کا تین گروہوں میں تقسیم ہوجانا اور ہر ایک کی جزا الگ الگ ہونا جو شروع سورت میں بیان ہوچکا ہے، اس کا اجمال پھر یہاں ذکر کردیا گیا کہ مرنے کے بعد اگر یہ شخص مقربین یعنی سابقین کے گروہ میں سے ہے تو راحت ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–94
(واما ان کان من المکذبین الضالین فنزل من حمیم وتصلیۃ حجیم) (92، 94) یہ اصحاب شمال کا انجام بیان ہو رہا ہے لیکن یہاں ان کا ذکر اصحاب شمال کے بجائے انکے اصل جرم کے حوالے سے (المکذبین الضالین) کے الفاظ سے ہوا ہے تاکہ ان کے انجام کے ساتھ ساتھ انکے جرم کی نوعیت بھی واضح ہوجائے اور قریش کے مکذبین ضالین پر یہ پوری طرح منطبق بھی ہوجائے۔ اوپر آیت 51، 54 میں قریش کو مخاطب کر کے فرمایا ہے (ثم انکم ایھا الضالون المکذبون لا کلون من شجر من زقوم فما لون منھا البطون فشربون علیہ من الحمیم) (وہی یہاں اختصار کے ساتھ فرمادیا ہے (ضالون) اور مکذبون میں جو فرق ہے اس کی وضاحت ہم اوپر کرچکے ہیں۔ (فنزل من حمیم وتصلیۃ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–95
92-1یہ تیسری قسم ہے جنہیں آغاز سورت میں کہا گیا تھا، بائیں ہاتھ والے یا حاملین نحوست۔ یہ اپنے کفر و نفاق کی سزا یاس اس کی نحوست عذاب جہنم کی صورت میں بھگتیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–96
24: کافر لوگ قرآن کریم پر ایمان لانے سے جو انکار کرتے تھے، اس کا ایک بڑا حصہ ان کا یہ دعوی تھا کہ ہم مرنے کے بعد دوبارہ زندہ نہیں ہوں گے، جیسا کہ اسی سورت کی آیت نمبر 45 میں گزرا ہے، اللہ تعالیٰ اب اس طرف توجہ دلا رہے ہیں کہ اتنی بات تو تم بھی مانتے ہو کہ اس دنیا میں جو کوئی آتا ہے ایک نہ ایک دن اسے موت ضرور آتی ہے، اور ایسی حالت میں آتی ہے کہ اس کے عزیز رشتہ دار، دوست احباب اور اس کے معالج ہر قسم کے جتن کر گزرتے ہیں کہ کسی طرح وہ موت سے بچ جائے، لیکن موت اس طرح آجاتی ہے کہ وہ سب دیکھتے رہ جاتے ہیں، سوال یہ ہے کہ اگر مرنے کے بعد دوسری زندگی میں حساب و کتاب ہونا نہیں ہے تو آخر ہر انسان کسی نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–94
واما ان ............ جحیم (6 5:4 9) ” اگر وہ جھٹلانے والے گمراہ لوگوں سے ہو تو اس کی تواضح کے لئے کھولتا ہوا پانی ہے اور جہنم میں جھونکا جاتا ہے۔ “ کیا ہی بری تواضع ہے۔ گرم پانی اور عذاب جہنم۔ وہ دور سے دیکھ رہا ہے کہ اسے اس جہنم میں جانا ہے۔ روح قبض ہونے کے ساتھ ہی۔ اب بات انتہا کو پہنچ گئی ہے۔ خاتمہ نہایت ہی نرم دھیمے آواز میں۔ نہایت نیچی سروں میں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–94
3 یعنی اس کا انجام یہ ہوگا کہ مرنے سے پہلے خبر سنا دی جائے گی۔
Read the full tafseer →آیت 93{ فَنُزُلٌ مِّنْ حَمِیْمٍ۔ } ”تو اس کے لیے مہمانی ہے کھولتے پانی سے۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–95
43 یعنی جس طرح موت ایک اٹل حقیقت ہے اور تم اس حقیقت کو غیر حقیقت بنانے پر قادر نہیں ہوسکتے۔ اسی طرح مُقَّرَبِیْنَ ، أصْحَابُ الْیَمِیْنِ اور أصْحَاب الشِّمَالِ ۔ کا بتایا ہوا انجام بھی ایک ٹھوس حقیقت ہے۔ اگر تم اسے جھٹلاتے بھی ہو تو اس طرح نہ وہ ٹل سکتی ہے نہ بدل سکتی ہے۔ لہذا خواہ مخواہ شبہات پیدا کرکے اپنے آپ کو دھوکا نہ دو ۔ بلکہ آنے والے وقت کی تیاری کرو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–94
37۔ (جس کے شدائد کی تفصیل بارہا پشتر گزر چکی ہے) (آیت) ” تصلیۃ جحیم “۔ کے معنی علاوہ ادخال نار کے، آگ سے ہر طرف سے گھر جانے کے بھی کیے گئے ہیں۔ اے وتقریر لہ فی النار التی تغمرہ من جمیع جھاتہ (ابن کثیر) یہ (آیت) ” المکذبین الضآلین “۔ وہی آیت 9 والے (آیت) ” اصحب المشئمۃ “۔ آیت 41 والے (آیت) ” اصحب الشمال “۔ اور آیت 51 والے (آیت) ” الضآلون المکذبون “۔ ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–96
واما ان کان من المکذبین الضالین یہ تیسری قسم ہے جن کو آغاز سورت میں اصحاب المشئمۃ کہا گیا تھا، بائیں ہاتھ والے یا حاملین نحوست یہ اپنے کفر کی سزا عذاب جہنم کی صورت میں بھگتیں گے۔
Read the full tafseer →تو کھولتے ہوئے پانی سے اسکی دعوت ہوگی
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–94
(92۔ 94) اور جو شخص اللہ تعالیٰ اور رسول اور کتاب کو جھٹلانے والوں اور گمراہوں میں سے ہوگا تو اس کو کھانے میں درخت زقوم اور پینے کے لیے کھولتا ہوا پانی ملے گا اور اس کو دوزخ میں داخل ہونا ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–94
وَ اَمَّآ اِنْ کَانَ مِنَ الْمُکَذِّبِیْنَ الضََّآلِّیْنَ۔۔۔۔۔:”نزل“ مہمانی۔ (دیکھئے کہف : 102)”تصلیۃ“ ”صلی یصلی“ (ع) سے با ب تفعیل کا مصدر ہے ، داخل کرنا۔ ابوہریرہ ؓ سے مروی حدیث کا ایک حصہ آیت (88، 89) کی تفسیر میں گزر چکا ہے ، اس میں کفار کی موت کا بھی حال بیان ہوا ہے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(واذا کان لرجل السوء قال اخرجی ایتھا النفس الخبیثۃ ! کانت فی الجسد الخبیث ، اخرجی ذمیمۃ وابشری بحمیم وغساق وآخر من شکلہ ازواج فلا یزال یقال لھا ذلک حتیٰ تخرج ثم یعرج بھا الی السماء فلا یفتح لھا فیقال من ھذا ؟ فیقال فلان، فیقال لا مرحبا ًبالنفس الخبیثۃ کانت فی الجسد الخبیث ارجعی ذمیمۃ قولھا لا تفتح لک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–94
واما ان گان من المکذبین الضالین۔ یعنی بعث کا انکار کرنے والے اور ہدایت اور حق کے راستہ سے گمراہ فنزل من حمیم۔ یعنی ان کے لیے کھولتے ہوئے پانی کا رزق ہے، جس طرح فرمایا :” ثم انکم ایھا الضالون المکذبون۔ لا کلون جس طرح فرمایا : ثم ان لھم علیھا الشوبا من حمیم۔ ( الصافات) وتصلیۃ حجیم۔ جہنم میں داخل کرنا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : جہنم میں رہنا اور مختلف قسم کے عذابوں کو برداشت کرنا۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے اضلاہ النار وصلاہ مراد ہے اسے بنا دیا کہ وہ اسے تاپے۔ یہاں مصدر، مفعول کی طرف مضاف ہے جس طرح یہ جملہ بولا جاتا ہے لغلان اعطاء ما فلاں کو مال دیا جاتا ہے۔ اسے وتصلیۃ تاء کے کسرہ کے ساتھ بھی پڑھا گیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–94
30۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” واما ان کان من المکذبین الضالین۔ فنزل من حمیم (اور جو شخص تکذیب کرنے والے لوگوں میں سے ہوگا۔ تو کھولتے ہوئے پانی سے اس کی دعوت ہوگی) یعنی کافر دنیا کے گھ رکی طرف نہیں نکلے گا یہاں تک کہ کو لتے ہوئے پانی کا پیالہ پئیے گا۔ 31۔ ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ جو شخص مرگیا اور وہ شراب پیتا تھا تو اس کا چہرہ جہنم کے انگاروں سے زخمی ہوگا۔ 32۔ احمد وابن المنذر وابن مردویہ نے عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ (رح) سے روایت کیا اور انہوں نے نبی ﷺ کے بعض اصحاب (رح) سے نقل کیا کہ آیت ” فاما ان کان من القربین فروح وریحان “ یعنی یہ حکم…
Read the full tafseer →فَنُزُلٌ: تو ابتدائی مہمان نوازی ہے ][ مِّنْ حَمِيْمٍ : دائمی گرم پانی سے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–95
مکذبین اور ضالین کا عذاب : پھر کافروں و مشرکوں کا عذاب بیان فرمایا ﴿وَ اَمَّاۤ اِنْ كَانَ مِنَ الْمُكَذِّبِيْنَ۠ الضَّآلِّيْنَۙ0092 فَنُزُلٌ مِّنْ حَمِيْمٍۙ0093 وَّ تَصْلِيَةُ جَحِيْمٍ 0094﴾ اور جو شخص جھٹلانے والے گمراہوں میں سے ہوگا (یہ اصحاب الشمال میں سے ہوگا) اس کے لیے سخت کھولتا ہوا گرم پانی ہوگا، جس کا دوسرے رکوع میں ذکر ہوا اور دہکتی ہوئی آگ میں داخل ہوگا۔ ﴿ اِنَّ هٰذَا لَهُوَ حَقُّ الْيَقِيْنِۚ0095﴾ (بےشک یہ تحقیقی بات ہے) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–96
حقانیت قرآن کریم و اثبات وقوع یوم عظیم : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” فلااقسم بمواقع النجوم ....... الی ...... فسبح باسم رب العظیم “۔ (ربط) اس سے قبل حق تعالیٰ شانہ نے اپنی قدرت وخالقیت کے عظیم دلائل و شواہد ذکر فرماتے اور ان انعامات عظیمہ کو ظاہر فرمایا جو اس نے دنیا کی انسانوں پر فائض فرماتے اور ان عظیم نعمتوں کو انکی زندگی کا مدار بنایا اب اس کے بعد قرآن کریم کی حقانیت بیان کرتے ہوتے یہ ذکر فرمایا کہ روز ان عظیم نعمتوں کو انکی زندگی کا مداربنایا اب اسکے بعد کریم کی حقانیت بیان کرتے ہوتے یہ ذکر فرمایا کہ روز قیامت کیسا عظیم دن ہے اور قیامت کے احوال کیسے ہولناک ہوں گے اور یہ کہ قیامت کے روز کس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–95
32:۔ ” واما ان کان من الخ “ یہ دوسری جماعت کے حال کا اعادہ ہے۔ اگر وہ جھٹلانے والوں اور گمراہوں میں سے ہوگا تو کھولتے ہوئے پانی سے اس کی تواضع کی جائیگی اور اسے جہنم میں داخلہ ملے جس میں وہ ہمیشہ کیلئے رہے گا اور اس سے اس کو کبھی نکلنا نصیب نہ ہوگا۔ ” ان ھذا لھو حق الیقین “ یہ سب کچھ برحق اور یقینی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–96
ربط آیات : ساتویں منزل کے آغاز یعنی سورة قٓ سے لے کر سورة الواقعہ تک زیادہ تر جزائے عمل ہی کا بیان ہورہا ہے۔ تاہم ان سورتوں میں دین کے چاروں بنیادی اصول آگئے ہیں۔ کسی سورة میں ایک اصول نمایاں ہے تو دوسری میں دوسرا نمایاں ہے مثلاً کسی سورت میں توحید کے اثبات اور شرک کی تردید کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے تو کسی میں رسالت کا تذکرہ وضاحت کے ساتھ آگیا ہے۔ کہیں قرآن کی حقانیت و عظمت کا بیان زیادہ ہے تو کہیں وقوع قیامت اور جزائے عمل کا مضمون وضاحت کے ساتھ بیان ہوا ہے۔ گزشتہ درس میں قرآن کی صداقت وحقانیت کے متعلق فرمایا کہ یہ قرآن کریم ہے جو لوح محفوظ میں درج ہے اور اس کو صرف ظاہری اور باطنی طور…
Read the full tafseer →فَنُزُلٌ مِّنْ حَمِيْمٍ 93 ۙ نزل ( ضيافت) النُّزُولُ في الأصل هو انحِطَاطٌ من عُلْوّ. والنُّزُلُ : ما يُعَدُّ للنَّازل من الزَّاد، قال : فَلَهُمْ جَنَّاتُ الْمَأْوى نُزُلًا [ السجدة/ 19] وأَنْزَلْتُ فلانا : أَضَفْتُهُ. ( ن ز ل ) النزول ( ض ) اصل میں اس کے معنی بلند جگہ سے نیچے اترنا کے ہیں النزل ( طعام مہمانی ) وہ کھان جو آنے والے مہمان کے لئے تیار کیا جائے ۔ چناچہ قرآن میں ہے ۔ فَلَهُمْ جَنَّاتُ الْمَأْوى نُزُلًا[ السجدة/ 19] ان کے رہنے کے لئے باغ میں یہ مہمانی ۔ انزلت فلانا کے معنی کسی کی مہمانی کرنے کے ہیں حم الحمیم : الماء الشدید الحرارة، قال تعالی: وَسُقُوا ماءً حَمِيماً [ محمد/ 15] ،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–96
ترکیب : فروح جواب فاما جواب ان مستغنی عنہ بجواب اما وا التقدیر فلہ روح قراء الجمہور بفتح الراء وقریٔ بالضم فالفتح مصدر والضم اسم لہ وقیل بالفتح معناہ الراحۃ بالضم معناہ الرحمۃ مجازاً العلاقۃ السببیۃ لانھا کالسبب لحیوۃ المرحوم ریحاناصلہ ریوحان علیٰ فیعلان قلبت الواویاء وادغم ثم خفف مثل سیدو سیدوقیل ھو فعلان قلبت الواویاء دان سکنت والفتح ماقبلھا۔ (ابن الصائغ) تصلیۃ بالرفع عطفا علی نزل وبالجر عطفا علی صمیم حق الیقین ای حق خبرالیقین فالموصوف محذوف الصفۃ قائمۃ مقامہ۔ تفسیر : تینوں گروہوں کا بعد موت کے جو حال ہوتا ہے اس کو بیان فرماتا ہے یعنی جب کہ روح جسم کو چھوڑ کر دوسرے عالم میں جاتی ہے نیست و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–94
وَاَمَّـآ اِنْ کَانَ مِنَ الْمُـکَذِّبِیْنَ الضَّآلِّیْن۔ فَنُزُلٌ مِّنْ حَمِیْمٍ ۔ وَّتَصْلِیَۃُ جَحِیْمٍ ۔ (الواقعۃ : 92 تا 94) (اور اگر وہ جھٹلانے والے گمراہ لوگوں میں سے ہوا۔ تو اس کے لیے کھولتے ہوئے پانی کی ضیافت ہے۔ اور جہنم میں جھونکا جانا ہے۔ ) اصحابُ الشمال کا انجام یہاں سے تیسرے گروہ اصحابُ الشمال کا انجام بیان ہورہا ہے۔ لیکن ان کا ذکر اصحابُ الشمال کی بجائے ان کے اصل جرم کے حوالہ سے کیا جارہا ہے۔ یعنی یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسول کی تکذیب کی، آخرت کی خبر کو جھٹلایا۔ اور ان پر عذاب کے حوالے جو عالم غیب کی خبریں دی گئیں انھیں گمراہی قرار دیا۔ ان کی اولین ضیافت جو ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–96
فہم القرآن ربط کلام : قیامت پر ایمان لانے اور اس کے تقاضے پورے کرنے والے مقربین میں شامل ہوں گے۔ مرنے والا قیامت پر یقین رکھنے اور اس کے تقاضے پورے کرنے والا ہوگا تو وہ اپنے رب کے مقرب بندوں میں شامل ہوگا، اس کے لیے ہر قسم کی راحت، ذائقہ دار خوراک اور نعمتوں والی جنت ہوگی اور یہ اصحاب الیمین میں ہوگا اور اس پر اس کے رب کی طرف سے ہمیشہ ہمیش کے لیے سلامتی ہوگی۔ اگر وہ قیامت کو جھٹلانے والوں اور گمراہ لوگوں میں ہوا تو اس کی کھولتے ہوئے پانی سے مہمان نوازی کی جائے گی اور اسے جہنم میں جھونکا جائے گا۔ ” اَصْحَابَ الْیَمِیْنِ “ کا انعامات پانا اور ” اَصَحَاب الشِّمَالِ “ کا جہنم میں جھونکا جانا برحق…
Read the full tafseer →93 : فَنُزُلٌ مِّنْ حَمِیْمٍ (تو کھولتے ہوئے پانی سے اس کی دعوت ہوگی)
Read the full tafseer →92 ۔” واما ان کان من المکذبین “ بعث کا۔ ” الضالین “ ہدایت سے اور یہ اصحاب ” مشئمۃ “ ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–96
83۔ 96۔ اوپر ذکر تھا کہ جن لوگوں نے محض عقل سے حشر کا انکار کیا ہے اور اس انکار کے سبب سے عقبیٰ کا کچھ سامان وہ لوگ نہیں کرتے ‘ یہ ان لوگوں کی کمی عقل اور ان کی سمجھ کا فتور ہے کیونکہ عقلی تجربہ سے تو یہ بات ثابت ہوتی ہے ‘ کہ اللہ تعالیٰ کے لیے دوسری دفعہ کا پیدا کرنا بہ نسبت پہلی دفعہ کے پیدا کرنے سے زیادہ آسان ہے ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اور طرح ان لوگوں کو سمجھایا ہے کہ عقلی تجربہ سے حشر کے ہونے میں شک باقی نہ رہنے کے بعد اگر ان کے دل میں یہ وہم بس گیا ہے کہ یہ انتظام الٰہی جو ان لوگوں کو جتلایا اور بتایا گیا ہے کہ مرنے کے بعد پھر جینا ہوگا۔ اور سزا اور جزا ہوگی۔ اس انتظام میں جو بات ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–94
(فَنُزُلٌ مِّنْ حَمِيْمٍ 93ۙوَّتَصْلِيَةُ جَحِــيْمٍ 94 ) تو جس روز وہ اپنے رب کی خدمت میں حاضر ہوں گے اس روز ان کی ضیافت یہ ہوگی کہ ان کو جہنم کی آگ میں جھونک دیا جائے گا جو ان کو گھیرے گی اور ان کے دلوں تک پہنچ جائے گی اور جب وہ پیاس کی شدت سے پانی مانگیں گے۔ (یغاثوا بمآء کلمھل۔۔۔ تا۔۔ مرتفقا۔ الکھف 29) تو انہیں ایسا کھولتا ہوا پانی دیا جائے گا جو پگھلے ہوئے تانبے کے مانند گرم ہو جو ان کے چہروں کو بھون ڈالے گا ان کا مشروب کتناب را اور ان کی آرام گاہ کتنی بری ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–96
قرآن کو پاکبازوں کے علاوہ کوئی ہاتھ نہیں لگا سکتا قول باری ہے (انہ لقراٰن کریم فی کتاب مکنون لا یمسہ الا المطھرون یہ ایک بلند پایہ قرآن ہے ایک محفوظ کتاب میں ثبت جسے کوئی ہاتھ نہیں لگا سکتا بجز پاک لوگوں کے) حضرت سلیمان ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا۔ قرآن کو پاک لوگوں کے سوا کوئی ہاتھ نہ لگائے۔ “ پھر انہوں نے قرآن کی تلاوت کی لیکن مصحف کو ہاتھ نہیں لگایا کیونکہ وہ باوضو نہیں تھے۔ حضرت انس ؓ بن مالک نے حضرت عمر ؓ کے اسلام لانے کے واقعہ کے سلسلے میں روایت ہے کہ حضرت عمر ؓ نے اپنی بہن سے کہا کہ ” مجھے وہ کتاب دو جسے تم لوگ پڑھتے ہو۔ “ بہن نے جواب دیا : ” عمر ! تم ناپاک ہو اور اس کتاب کو پاک…
Read the full tafseer →[ 79] اصحاب شمال کی اولین ضیافت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جھٹلانے والوں کیلئے کھولتے پانی کی ضیافت ہوگی۔ جو اس کو زقوم کے کھانے کے بعد پینا ہوگا، سو جس کافر و منکر کا انجام آخرت کے اس حقیقی اور ابدی جہان میں یہ ہونے والا ہے، اس کو اگر دنیا جہان کی ساری دولت بھی مل جائے تو بھی اس کو کیا ملا ؟ اور وہ کس قدر محروم اور بدنصیب ہے، والعیاذ باللّٰہ، سو تکذیب و انکار حق کا جرم بہت بڑا جرم ہے اور اس کا نتیجہ و انجام بڑا ہی ہولناک انجام ہوگا لیکن یہاں پر ان کا ذکر اصحاب شمال کے عنوان کی بجائے " المکذبین الضالین " کے الفاظ سے فرمایا گیا ہے تاکہ ان کے انجام کے ساتھ ساتھ اس کے اصل سبب اور باعث…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–96
زندگی کا فائدہ اٹھاؤ اور آخرت کماؤ تشریح : پورا قرآن پاک ہی حکمت و دانائی سے بھرا پڑا ہے۔ اسی طرح یہ آیات بھی معرفت الہٰی کو واضح کرنے اور توحید کے مطلب کو واضح کرنے کے لیے دلیل دے رہی ہیں۔ اللہ کی حاکمیت، وحدانیت، عظمت و طاقت اس وقت ہر جاہل و عالم پر پوری طرح عیاں ہوجاتی ہے جب وہ اپنے سامنے اپنے عزیز رشتہ دار اور دوست احباب کو مرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ اس وقت بالکل بےبس ہوتے ہیں کیونکہ یہ معاملہ صرف اس بندے اور اس کے خالق کا ہوتا ہے۔ پھر اس کے مرجانے کے بعد کا تمام معاملہ بھی خالق اور اس کے درمیان ہوتا ہے جیسا کہ آیات 88 سے 96 تک بیان کیا گیا ہے۔ اللہ کی وحدانیت اور اللہ کی قربت حاصل کرنے کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–96
آیات 75 تا 96 اسرار ومعارف۔ قسم ہے ستاروں کے ڈوبنے کی اور اگر غورفکر کروتویہ سارانظام اس بات پر گواہ ہے کہ جس قادر مطلق نے ان کا غروب نئے طلوع کے لیے اور انہیں راہنمائی کا باعث بنادیا ہے اور دنیا کی آبادی کا باعث بن رہے ہیں اسی نظام کے بنانے والے نے ایمان وعمل میں ہدایت کے لیے قرآن نازل فرمایا ہے اور یہ قرآن بہت ہی عزت والا ہے جو ایک خزانے جیسے کتاب یعنی لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے جسے سوائے پاکیزہ لاگوں کے کوئی ہاتھ نہیں لگاتا اس کے مضامین پڑھ نہیں سکتا یعنی اللہ کے پاک فرشتے اس کے مضامین سے مطلع ہوتے ہیں اور فرشتہ وحی لاتا ہے شیطان اس کے مضامین کے قریب بھی نہیں جاسکتا۔ مس قرآن اور طہارت۔ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–96
ف 7 حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ پر آیت فسبح باسم ربک العظیم نازل ہوئی تو آپ نے فرمایا :” اسے اپنے رکوع میں پڑھا کرو۔ “ اور جب ’ دسبح اسم ربک الاعلیٰ نازل ہوئی تو آپ نے فرمایا ” اسے اپنے سجدہ میں پڑھا کرو۔ “ (شوکانی)
Read the full tafseer →(56:93) فنزل من حمیم : ای فلہ نزل :جواب شرط کے لئے نزل مہمانی کا کھانا۔ طعام ضیافت۔ حمیم نہایت گرم پانی من حمیم ای کائن من حمیم جو کھولتے ہوئے سخت گرم پانی پر مشتمل ہوگا۔ (نیز ملاحظہ ہو آیت 54 متذکرہ بالا) ۔ مطلب ہے ان مکذبین ضالین کے لئے نہایت سخت گرم پانی پینے کو ملے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–96
لغات القرآن آیت نمبر 75 تا 96 لا اقسم نہیں، میں قسم کھاتا ہوں۔ مکنون محفوظ المطھرون پاک و صاف رہنے والے۔ مدھنون سستی کرنے والے غیر مدینین حساب ہونے والا نہیں۔ روح راحت و آرام ریحان عیش و آرام کا سامان۔ تصلیہ ڈال دینا۔ حق الیقین سچائی کا پورا یقین۔ تشریح :- آیت نمبر 75 تا 96 کفار قریش اس بات کو خوب اچھی طرح جانتے اور پہچانتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ کی مقناطیسی اور مقبول و محبوب شخصیت اور قرآن کریم کے ابدی اصولوں کی سچئای اور کلام کی عظمت ایک ناقابل انکار حقیقت ہے لیکن کفار مکہ رسول دشمنی میں اس حد تک آگے بڑھ چکے تھے کہ آپ کو اور آپ کی سیرت کو زندگی بھر بہت قریب سے دیکھنے اور اس کا اعتراف کرنے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–96
روح نکلنے کا ذکر۔ (ف 1) اوپر ذکر تھا کہ جن لوگوں نے محض عقل سے حشر کا انکار کیا ہے اور اس کا انکار کے سبب سے عقبی کا کچھ سامان وہ لوگ نہیں کرتے یہ ان لوگوں کی کم عقلی اور ان کی سمجھ کا فتور ہے۔ کیونکہ عقلی تجربہ سے تو یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کو دوسری دفعہ کا پیدا کرنا بہ نسبت پہلی دفعہ پیدا کرنے کے زیادہ آسان ہے ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اور طرح ان لوگوں کو سمجھایا کہ عقلی تجربہ سے حشر کے ہونے میں شک باقی نہ رہنے کے بعد ، اگر ان کے دل میں یہ وہم بس گیا ہے کہ یہ انتظام الٰہی جو ان لوگوں کو جتلایا اور بتلایا گیا ہے کہ مرنے کے بعد پھر جینا ہوگا اور سزا اور جزا ہوگی، اس انتظام میں جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–96
[20] کہ یہی آخرت کی بڑی تیاری ہے اور اس نیک مشغلے میں لگ کر مکذبین کی دل آزار بیہودگیوں سے بھی یکسوئی رہتی ہے اور ان کے باطل خیالات کا رد بھی ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–94
جب ظاہر کی آنکھیں بند ہونگی 1: یعنی گو یہ اس وقت حقائق کی بلاتکلیف جھٹلادیتے ہیں ۔ اور نہایت ڈھٹائی اور بےشرمی سے واقعات کو ٹھکرادیتے ہیں ۔ مگر جب یہ زندگی کے لمحات ختم ہونے کے ہوتے ہیں ۔ جب روح اس کسوت میں گھبراجاتی ہے ۔ اور تہمیۃ پرواز کرلیتی ہے ۔ جب حیات کی آرزوئیں منقطع ہوتی ہیں ۔ اور جب سکرات موت طاری ہوتا ہے ۔ اس وقت یہ محسوس کرتے ہیں ۔ کہ ہم اللہ کے نزدیک ہیں ۔ اور وہ سب باتیں درست ثابت ہیں ۔ جن کا اظہار غریب کی زبان سے ہوا کرتا تھا ۔ تو اس وقت یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے متعلق ایک مضبوط اور مستحکم عقیدہ رکھیں گے ۔ جس میں شک وشبہ کی گنجائش نہ ہوگی ۔ مگر یہ ایمان جو دیکھ کر اور محسوس کرکے…
Read the full tafseer →(93) تو کھولتے ہوئے گرم پانی سے اس کی مہمانی ہوگی۔ یعنی گرم پانی پلایا جائے گا یا سر پر ڈالا جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–96
ف 5۔ مطلب یہ کہ قرآن صادق ہے، اور وہ وقوع بع کا ناطق ہے، پس مقتضی وقوع متحقق ہوا، اور مانع کوئی امر ہے نہیں، پس وقوع ثابت ہوگیا، اور اس پر بھی تمہارا انکار اور نفی کئے چلا جانا بدلالت حال اس کو مستلزم ہے، کہ گویا تم روح کو اپنے بس میں سمجھتے ہو کہ گو قیامت میں خدا دوبارہ روح ڈالنا چاہئے جیسا مقتضا قرآن کا ہے، مگر ہم نہ ڈالنے دیں گے اور بعض نہ ہونے دیں گے جب ہی تو ایسی زور سے نفی کرتے ہو، ورنہ جو اپنے کو عاجز جانے وہ دلائل وقوع کے بعد ایسے زور کی بات کیوں کہے۔
Read the full tafseer →کھولتے ہوئے پانی سے ان کی مہمانی ہو گی 39۔ اس جگہ ان کا انجام بتایا جا رہا ہے کہ ان کی وہاں کیسی خاطر مدارت ہوگی کہ ان کے لیے کھولتا ہوا پانی تیار رکھا گیا ہے اس طرح اس ایک چیز کی طرف اشارہ فرما کر باقی باتوں کی توثیق کردی ہے کہ وہ سب کچھ ان کو ملے گا جس کا ذکر پیچھے آیت 14 تا 65 میں کردیا گیا ہے اور اسی ایک اشارہ سے باقی چیزوں کو سمجھ لو کہ وہ کیا کیا ہوں گی تفصیل کے لیے محولہ بالا آیات کی تفسیر پر ایک بار پھر نگاہ ڈال لیں اور اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اس عذاب سے بچائے اور ان کھانوں اور مشروبات اور بچھونے کے قریب بھی نہ لے جائے جو عذاب میں ایک سے ایک بڑھ کر ہیں یہ تو گویا ایک پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–94
فَأَمَّا إِن كَانَ مِنَ الْمُقَرَّبِينَ (So, in case he [ the dying person ] is from among those blessed with nearness...56:88). In the foregoing verses, it was made clear that one day the present world will come to an end. It was also testified that at the time of death the near and dear ones, friends and relatives, and doctors all stand helplessly around the dying person. Likewise, resurrection, reckoning, and reward and punishment, after account of deeds, are all a reality and certainty of the highest degree. At the commencement of the Surah, it was mentioned that there will be three…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–96
42 Hadrat `Uqbah bin `Amir Juhni relates that when this verse was sent down the Holy Prophet (upon whom be Allah's peace) commanded that the people put it in their ruku`, i.e. they should recite Subhana Rabbi -yal-`Azim in ruku ' position in the Prayer. And when the verse Sabbih-ismi-Rabb-i- kal-A'la was Sent down, he enjoined that they put it in their sajdah, i.e. they should recite Subhana Rabb-i -yal-A 7a in sajdah. (Musnad Ahmad, Abu Da'ud, Ibn Majah, Ibn Hibban, Hakim). This show that even the most minor details of the procedure enjoined by the Holy Prophet (upon whom be Allah's peace)…
Read the full tafseer →