Explained with ayahs 88–96
احوال موت
یہاں وہ احوال بیان ہو رہے ہیں جو موت کے وقت سکرات کے وقت دنیا کی آخری ساعت میں انسانوں کے ہوتے ہیں کہ یا تو وہ اعلیٰ درجہ کا اللہ کا مرقب ہے یا اس سے کم درج کا ہے جن کے داہنے ہاتھ میں نامہ اعمال دیا جائے گا۔ یا بالکل بدنصیب ہے جو اللہ سے جاہل رہا اور راہ حق سے غافل رہا۔ فرماتا ہے کہ جو مقربین بارگاہ الٰہی ہیں، جو احکام کے عامل تھے، نافرمانیوں کے تارک تھے انہیں تو فرشتے طرح طرح کی خوشخبریاں سناتے ہیں۔ جیسے کہ پہلے براء کی حدیث گذری کہ رحمت کے فرشتے اس سے کہتے ہیں اے پاک روح پاک جسم والی روح چل راحت و آرام کی طرف چل کبھی نہ ناراض ہونے والے رحمن کی طرف۔ روح سے مرد راحت ہے اور ریحان سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–96
سورة الْوَاقِعَة 42
حضرت عقبہ بن عامر جہنی کی روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ اس کو تم لوگ اپنے رکوع میں رکھ دو ، یعنی رکوع میں سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْم کہا کرو۔ اور جب آیت سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلیٰ نازل ہوئی تو آپ نے فرمایا اسے اپنے سجدے میں رکھو، یعنی سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلیٰ کہا کرو (مسند احمد، ابوداؤد، ابن ماجہ، ابن حبان، حاکم)۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نماز کا جو طریقہ مقرر فرمایا ہے اس کے چھوٹے سے چھوٹے اجزاء تک قرآن پاک کے اشاروں سے ماخوذ ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–94
فَاَمَّآ اِنْ كَانَ مِنَ الْمُقَرَّبِيْنَ ، سابقہ آیات میں مختلف دلائل اور مختلف عنوانات سے یہ واضح کردیا گیا کہ دنیا کی موجودہ زندگی کا ایک روز ختم ہوجانا اور مرنے کے وقت سب عزیزوں، دوستوں، طبیبوں کا عاجز ہوجانا روز مشاہدہ میں آتا ہے اسی طرح اس کو بھی یقینی سمجھو کہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہو کر اپنے اعمال کا حساب بھی دینا ہے اور حساب کے بعد جزا و سزا بھی یقینی ہے اور جزا و سزا میں کل مخلوق کا تین گروہوں میں تقسیم ہوجانا اور ہر ایک کی جزا الگ الگ ہونا جو شروع سورت میں بیان ہوچکا ہے، اس کا اجمال پھر یہاں ذکر کردیا گیا کہ مرنے کے بعد اگر یہ شخص مقربین یعنی سابقین کے گروہ میں سے ہے تو راحت ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–91
(واما ان گان من اصحب الیمین فسلم لک من اصحب الیمین) (90، 91) اور اگر وہ اصحاب یمین میں سے ہوا تو اس کو اللہ تعالیٰ اور اسکے فرشتوں کی طرف سے داد ملے گی کہ اے صاحب یمین، تیرے لیے سلامتی اور مبارکی ہے۔
(فلسم لک من اصحب الیمین) میں من سلام کے صلہ کے طور پر نہیں آیا ہے، جیسا کہ عام طور پر مفسرین نے سمجھا ہے، بلکہ ضمیر خطاب کے بیان کے لیے آیا ہے اس وجہ سے میرے نزدیک اس ٹکڑے کا یہ ترجمہ صحیح نہیں ہوگا کہ تیرے لیے اصحاب یمین کی جانب سے سلام پہنچے بلکہ عربیت کے صحیح قاعدے سے اس کا ترجمہ یہ ہوگا کہ اے صاحب یمین تیرے لیے سلامتی ہو۔ اسی سلام و سلامتی کے اندر وہ سب کچھ ہے جو اوپر اصحاب یمین کے مرتبہ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–91
90-1یہ دوسری قسم ہے، عام مومنین۔ یہ بھی جہنم سے بچ کر جنت میں جائیں گے، تاہم درجات میں سابقین سے کمتر ہوں گے۔ موت کا فرشتے ان کو بھی سلامتی کی خوشخبری دیتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–96
24: کافر لوگ قرآن کریم پر ایمان لانے سے جو انکار کرتے تھے، اس کا ایک بڑا حصہ ان کا یہ دعوی تھا کہ ہم مرنے کے بعد دوبارہ زندہ نہیں ہوں گے، جیسا کہ اسی سورت کی آیت نمبر 45 میں گزرا ہے، اللہ تعالیٰ اب اس طرف توجہ دلا رہے ہیں کہ اتنی بات تو تم بھی مانتے ہو کہ اس دنیا میں جو کوئی آتا ہے ایک نہ ایک دن اسے موت ضرور آتی ہے، اور ایسی حالت میں آتی ہے کہ اس کے عزیز رشتہ دار، دوست احباب اور اس کے معالج ہر قسم کے جتن کر گزرتے ہیں کہ کسی طرح وہ موت سے بچ جائے، لیکن موت اس طرح آجاتی ہے کہ وہ سب دیکھتے رہ جاتے ہیں، سوال یہ ہے کہ اگر مرنے کے بعد دوسری زندگی میں حساب و کتاب ہونا نہیں ہے تو آخر ہر انسان کسی نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–91
واما ان ............ الیمین (6 5: 09) ” اگر وہ اصحاب یمین میں سے ہو۔ “ تو ان کی طرف روئے سخن براہ راست ہوتا ہے۔ اصحاب الیمین اسے خوش آمدید کہتے ہیں اور اس وقت یہ سلام کس قدر خوبصورت ہوگا۔ اس کی روح ابھی نکلی ہی نہیں کہ سلام سنائی دیتا ہے۔ ایسا جانے والا مطمئن ہوکر جاتا ہے اور آنے والے زمانہ کی طرف مشتاق ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–91
2 یعنی تم ایک منٹ کے لیے نہیں روک سکتے۔ اس کو اپنے ٹھکانے پر پہنچنا ضروری ہے۔ اگر وہ مردہ مقربین میں سے ہوگا تو اعلیٰ درجہ کی روحانی و جسمانی راحت و عیش کے سامانوں میں پہنچ جائے گا۔ اور " اصحاب یمین " میں سے ہو تب بھی کچھ کھٹکا نہیں۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " یعنی خاطر جمع رکھ ان کی طرف سے۔ " یا یہ مطلب ہے کہ اصحاب یمین کی طرف سے اس کو سلام پہنچنے گا۔ یا اس کو کہا جائے گا کہ تیرے لیے آئندہ سلامتی ہی سلامتی ہے، اور تو " اصحاب یمین " میں شامل ہے۔ بعض احادیث میں ہے کہ موت سے پہلے ہی مرنے والے کو یہ بشارتیں مل جاتی ہیں۔ اور اسی طرح مجرموں کو ان کی بدحالی کی اطلاع دے دی جاتی ہے۔
Read the full tafseer →آیت 91{ فَسَلٰمٌ لَّکَ مِنْ اَصْحٰبِ الْیَمِیْنِ۔ } ”تو سلامتی پہنچے آپ کو اصحاب الیمین کی طرف سے۔“
اے نبی ﷺ ! آپ اطمینان رکھیں کہ آپ کی امت کے اصحاب الیمین بھی عیش میں ہوں گے اور جنت کی ان نعمتوں سے لطف اندوز ہوں گے جن کا ذکر سورة کے آغاز میں ہوچکا ہے۔ 1 1 اس آیت کا ایک مفہوم یہ بھی لیا گیا ہے کہ اصحاب یمین کی طرف سے اس کا استقبال کیا جائے گا اور اسے سلام کہا جائے گا۔ جب کہ بعض مفسرین نے اس جملے میں اَنْتَ محذوف مانا ہے۔ یعنی تقدیر عبارت یوں ہے : فسلام لک انت من اصحٰب الیمین کہ تیرے لیے اب سلامتی ہی سلامتی ہے ‘ تو اصحاب یمین میں شامل ہے ! حاشیہ از مرتب
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–91
42 اس آیت کے بھی دو مطلب ہوسکتے ہیں۔ اگر مخاطب دائیں ہاتھ والا سمجھا جائے تو اس کا مطلب وہی ہے جو ترجمہ سے ظاہر ہے اور اگر مخاطب عام لوگ ہوں تو مطلب یہ ہوگا کہ اصحاب الیمین کی طرف سے تم لوگ مطمئن رہو اور خاطر جمع رکھو۔ وہ یقیناً محفوظ و مامون رہیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–91
36۔ (ہر آفت اور خطرہ سے) یہ (آیت) ” اصحب الیمین “ وہی آیت 27 والے (آیت) ” اصحب الیمین “۔ اور آیت 8 والے (آیت) ” اصحب المیمنۃ ہیں۔ (آیت) ” اما ان کان “۔ یہ فقرہ ان تینوں آیتوں میں جہاں جہاں آیا ہے، مراد اس سے متوفی یا محتضر سے ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–91
واما ان کان من اصحب الیمین یہ دوسری قسم ہے، یہ عام مومنین ہیں یہ بھی جہنم سے بچ جائیں گے اور جنت میں جائیں گے تاہم درجات میں سابقین سے کم ہوں گے موت کے وقت ان کو بھی سلامتی کی خوشخبری دیتے ہیں۔
Read the full tafseer →(اس سے کہا جائیگا کہ) تیرے لیے امن وامان ہے کہ تو دائیں طرف والوں میں سے ہے
فَسَلٰمٌ لَّکَ مِنْ اَصْحٰبِ الْیَمِیْنِ : یعنی اے دائیں طرف والے تجھ پر تیرے بھائیوں کی طرف سے یعنی اصحاب الیمین کی جانب سے سلام ہو ‘ مطلب یہ ہے کہ دائیں طرف والے تجھے سلام کہتے ہیں۔ بغوی نے سَلَامٌ لَّکَ مِنْ اَصْحٰبِ الْیَمِیْنِ کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ اے محمد ! آپ ﷺ کو اصحاب الیمین کی طرف سے اطمینان رہے۔ آپ ﷺ ان کی کوئی فکر نہ کریں۔ وہ اللہ کے عذاب سے محفوظ ہیں۔ آپ ﷺ ان کی سلامتی کو دیکھ کر خوش اور راضی ہوں گے۔
مقاتل نے کہا : اللہ ان کے قصوروں سے درگزر فرمائے گا اور نیکیوں کو قبول کرے گا۔ فراء وغیرہ نے یہ مطلب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–91
(88۔ 91) پھر جو شخص جنت عدن والوں میں سے ہوگا تو ان کے لیے تو قبر میں بھی راحت ہے یا یہ کہ رحمت ہے اور جس وقت قبر سے نکلیں گے تب بھی راحت ہے یا یہ کہ رزق کا سامان ہے اور قیامت کے دن ایسی جنت ہے جس کی نعمتیں فنا نہیں ہوں گی اور جو شخص داہنے والوں میں سے ہوگا اور سب کے سب جنتی داہنے والے ہیں تو اس سے کہا جائے گا کہ تیرے لیے سلامتی اور امن وامان ہے یا یہ کہ جنتی اس کو سلام کریں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–91
وَ اَمَّآ اِنْ کَانَ مِنْ اَصْحٰبِ الْیَمِیْنِ۔۔۔۔۔: مفسرین نے ان دونوں آیات کی ترکیب کئی طرح سے فرمائی ہے ، ایک سادہ سی ترکیب یہ ہے کہ پوری عبادت اس طرح ہے :”واما ان کان من اصحاب الیمین فیقال لہ سلام لک لکونک من اصحاب الیمین“ اور لیکن اگر وہ دائیں ہاتھ والوں سے ہوا تو اسے کہا جائے گا کہ تجھ پر سلام ہے ، کیونکہ تو اصحاب الیمین سے ہے۔“ مطلب یہ ہے کہ اصحاب الیمین کو فوت کرتے وقت فرشتے سلام کہتے ہیں اور بشارت دیتے ہیں کہ اب تم ہر رنج و غم اور ہر خوف سے سلامت رہو گے ، کیوت کہ تم اصحاب الیمین میں سے ہو۔ یعنی فرشتے اسے اصحاب الیمین میں سے ہونے کی بشارت دے کر سلام کہیں گے۔ یہی بات تفصیل کے ساتھ سورة…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–91
واما ان کان من اصحب الیمین۔ یعنی اگر فوت ہونے والا اصحاب یمین میں سے ہو فسلم لک من اصحب لیمین۔ تو ان میں سے کسی کو نہیں دیکھے گا مگر یہ کہ جو تو سلامتی سے محبت رکھتا ہے اس لیے ان کے بارے میں تو غمگین نہ ہو وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے محفوظ ہیں۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے ان کی جانب سے تیرے لیے سلامتی ہے یعنی تو ان کے لیے غمگین ہونے سے سلامت ہے۔ معنی ایک ہی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اصحاب یمین آپ کے لیے دعا کرتے ہیں اے محمد ﷺ ! اللہ تعالیٰ تجھ پر رحمتیں نازل فرمائے اور تجھ پر سلام بھیجے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے اے محمد ﷺ ! وہ تجھ پر سلام بھیجتے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے…
Read the full tafseer →مومن کا استقبال جنت کی نعمتوں میں سے
27۔ ابن ابی الدنیا نے ذکر الموت میں ابراہیم نخعی (رح) سے روایت کیا ہے کہ ہم کو یہ بات پہنچی ہے کہ مومن کا اس کی موت کے وقت جنت کی خوشبؤوں میں سے خوشبو اور جنت کے پھولوں میں سے خاص پھول کے ساتھ استقبال کیا جاتا ہے۔ پھر اس کی روح قبض کی جاتی ہے۔ اور اس کو جنت کے ریشم میں رکھ دیا جاتا ہے۔ پھر اس خوشبوکو (اس کے اوپر) چھڑکا جاتا ہے اور پھر اس (روح) کو ریحان میں لپیٹ دیا جاتا ہے۔ پھر رحمت کے فرشتے اس کو وپر لے جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ اس کو علیین میں رکھ دیتے ہیں۔
28۔ ابن جریروابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” فسلم لک من اصحب الیمین “ (تیرے لیے امن…
Read the full tafseer →[فَسَلٰمٌ لَّكَ : تو سلامتی ہے تیرے لیے ][ مِنْ اَصْحٰبِ الْيَمِيْنِ : داہنی طرف والوں میں سے ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–91
مقربین اور صالحین کا انعام :
اس کے بعد فرمایا ﴿ فَاَمَّاۤ اِنْ كَانَ مِنَ الْمُقَرَّبِيْنَ۠ۙ0088 فَرَوْحٌ وَّ رَيْحَانٌ1ۙ۬ وَّ جَنَّتُ نَعِيْمٍ 0089﴾ کہ قیامت کے دن حاضر ہونے والے بندوں میں جو مقربین ہوں گے وہ بڑے آرام میں ہوں گے ان کو رزق ملتا رہے گا اور نعمتوں والی جنت میں داخلہ ہوگا ﴿ وَ اَمَّاۤ اِنْ كَانَ مِنْ اَصْحٰبِ الْيَمِيْنِۙ0090﴾ اور جو بندے اصحاب یمین ہوں گے ان سے کہا جائے گا کہ اے اصحاب یمین ! تمہارے لیے سلامتی ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–96
حقانیت قرآن کریم و اثبات وقوع یوم عظیم :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” فلااقسم بمواقع النجوم ....... الی ...... فسبح باسم رب العظیم “۔
(ربط) اس سے قبل حق تعالیٰ شانہ نے اپنی قدرت وخالقیت کے عظیم دلائل و شواہد ذکر فرماتے اور ان انعامات عظیمہ کو ظاہر فرمایا جو اس نے دنیا کی انسانوں پر فائض فرماتے اور ان عظیم نعمتوں کو انکی زندگی کا مدار بنایا اب اس کے بعد قرآن کریم کی حقانیت بیان کرتے ہوتے یہ ذکر فرمایا کہ روز ان عظیم نعمتوں کو انکی زندگی کا مداربنایا اب اسکے بعد کریم کی حقانیت بیان کرتے ہوتے یہ ذکر فرمایا کہ روز قیامت کیسا عظیم دن ہے اور قیامت کے احوال کیسے ہولناک ہوں گے اور یہ کہ قیامت کے روز کس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–91
31:۔ ” واما ان کان من اصحاب الیمین “ یہ پہلی جماعت کے حال کا اعادہ ہے۔ ” فسلام “ سے پہلے یقال مقدر ہے اور من ابتدائیہ ہے یعنی جب کوئی اصحاب الیمین کا آدمی فوت ہوتا ہے تو اسے کہا جاتا ہے کہ اصحاب الیمین کی طرف سے تجھے سلام ہو۔ ای فیقال لذلک المتوفی منہم سلام لک یا صاحب الیمین من اخوانک اصحاب الیمن ای یسلمون علیک (روح ج 27 ص 160) ۔ یا من اصحاب الیمین مبتدا محذوف کی خبر ہے یعنی اسے فرشتوں کی طرف سے سلام کا تحفہ ملتا ہے اور اسے یہ خوشخبری بھی سناتے ہیں کہ تو اصحاب الیمین میں سے ہے معناہ فسلام لک، انت من اصحاب الیمین (طبری) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–96
ربط آیات :
ساتویں منزل کے آغاز یعنی سورة قٓ سے لے کر سورة الواقعہ تک زیادہ تر جزائے عمل ہی کا بیان ہورہا ہے۔ تاہم ان سورتوں میں دین کے چاروں بنیادی اصول آگئے ہیں۔ کسی سورة میں ایک اصول نمایاں ہے تو دوسری میں دوسرا نمایاں ہے مثلاً کسی سورت میں توحید کے اثبات اور شرک کی تردید کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے تو کسی میں رسالت کا تذکرہ وضاحت کے ساتھ آگیا ہے۔ کہیں قرآن کی حقانیت و عظمت کا بیان زیادہ ہے تو کہیں وقوع قیامت اور جزائے عمل کا مضمون وضاحت کے ساتھ بیان ہوا ہے۔ گزشتہ درس میں قرآن کی صداقت وحقانیت کے متعلق فرمایا کہ یہ قرآن کریم ہے جو لوح محفوظ میں درج ہے اور اس کو صرف ظاہری اور باطنی طور…
Read the full tafseer →فَسَلٰمٌ لَّكَ مِنْ اَصْحٰبِ الْيَمِيْنِ 91 ۭ
سلام
السِّلْمُ والسَّلَامَةُ : التّعرّي من الآفات الظاهرة والباطنة، قال : بِقَلْبٍ سَلِيمٍ
[ الشعراء/ 89] ، أي : متعرّ من الدّغل، فهذا في الباطن، وقال تعالی: مُسَلَّمَةٌ لا شِيَةَ فِيها
[ البقرة/ 71] ، فهذا في الظاهر، وقد سَلِمَ يَسْلَمُ سَلَامَةً ، وسَلَاماً ، وسَلَّمَهُ الله، قال تعالی: وَلكِنَّ اللَّهَ سَلَّمَ [ الأنفال/ 43] ، وقال : ادْخُلُوها بِسَلامٍ آمِنِينَ [ الحجر/ 46] ، أي : سلامة، وکذا قوله : اهْبِطْ بِسَلامٍ مِنَّا[هود/ 48] . والسّلامة الحقیقيّة ليست إلّا في الجنّة، إذ فيها بقاء بلا فناء، وغنی بلا فقر، وعزّ بلا ذلّ ، وصحّة بلا سقم،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–96
ترکیب : فروح جواب فاما جواب ان مستغنی عنہ بجواب اما وا التقدیر فلہ روح قراء الجمہور بفتح الراء وقریٔ بالضم فالفتح مصدر والضم اسم لہ وقیل بالفتح معناہ الراحۃ بالضم معناہ الرحمۃ مجازاً العلاقۃ السببیۃ لانھا کالسبب لحیوۃ المرحوم ریحاناصلہ ریوحان علیٰ فیعلان قلبت الواویاء وادغم ثم خفف مثل سیدو سیدوقیل ھو فعلان قلبت الواویاء دان سکنت والفتح ماقبلھا۔ (ابن الصائغ) تصلیۃ بالرفع عطفا علی نزل وبالجر عطفا علی صمیم حق الیقین ای حق خبرالیقین فالموصوف محذوف الصفۃ قائمۃ مقامہ۔
تفسیر : تینوں گروہوں کا بعد موت کے جو حال ہوتا ہے اس کو بیان فرماتا ہے یعنی جب کہ روح جسم کو چھوڑ کر دوسرے عالم میں جاتی ہے نیست و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–91
وَاَمَّـآ اِنْ کَانَ مِنْ اَصْحٰبِ الْیَمِیْنِ ۔ فَسَلٰـمٌ لَّـکَ مِنْ اَصْحٰبِ الْیَمِیْنِ ۔ (الواقعۃ : 90، 91)
(اور اگر وہ اصحاب الیمین میں سے ہوا۔ تو تیرے لیے سلامتی ہے اے صاحب یمین۔ )
آیت میں مِنْسلام کے صلے کے طور پر نہیں، بلکہ ضمیرخطاب کے بیان کے لیے آیا ہے۔ اس لیے اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اے صاحب یمین تیرے لیے سلامتی ہو۔ یعنی تیرے ساتھ وہ معاملہ کیا جائے گا جس میں ہر قدم پر سلامتی تیرے انتظار میں ہوگی۔ اور تجھے ان نعمتوں سے نوازا جائے گا جن کا ذکر اسی سورة میں پہلے ہوچکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–96
فہم القرآن
ربط کلام : قیامت پر ایمان لانے اور اس کے تقاضے پورے کرنے والے مقربین میں شامل ہوں گے۔
مرنے والا قیامت پر یقین رکھنے اور اس کے تقاضے پورے کرنے والا ہوگا تو وہ اپنے رب کے مقرب بندوں میں شامل ہوگا، اس کے لیے ہر قسم کی راحت، ذائقہ دار خوراک اور نعمتوں والی جنت ہوگی اور یہ اصحاب الیمین میں ہوگا اور اس پر اس کے رب کی طرف سے ہمیشہ ہمیش کے لیے سلامتی ہوگی۔ اگر وہ قیامت کو جھٹلانے والوں اور گمراہ لوگوں میں ہوا تو اس کی کھولتے ہوئے پانی سے مہمان نوازی کی جائے گی اور اسے جہنم میں جھونکا جائے گا۔ ” اَصْحَابَ الْیَمِیْنِ “ کا انعامات پانا اور ” اَصَحَاب الشِّمَالِ “ کا جہنم میں جھونکا جانا برحق…
Read the full tafseer →91 : فَسَلٰمٌ لَّکَ مِنْ اَصْحٰبِ الْیَمِیْنِ (تو اس کو کہا جائے گا) تیرے لئے امن وامان ہے کہ تو دائیں طرف والوں میں سے ہے) پس تیرے لئے اے صاحب الیمین۔ دوسرے اصحاب یمین کی طرف سے سلام ہو۔ یعنی وہ تمہیں سلام کہتے ہیں۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا : الاَّ قیلا سلامًا سلامًا ] الواقعہ : 26 [
Read the full tafseer →90 ۔” واما ان کان “ وفات پانے والے۔ ” من اصحاب الیمین۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–96
83۔ 96۔ اوپر ذکر تھا کہ جن لوگوں نے محض عقل سے حشر کا انکار کیا ہے اور اس انکار کے سبب سے عقبیٰ کا کچھ سامان وہ لوگ نہیں کرتے ‘ یہ ان لوگوں کی کمی عقل اور ان کی سمجھ کا فتور ہے کیونکہ عقلی تجربہ سے تو یہ بات ثابت ہوتی ہے ‘ کہ اللہ تعالیٰ کے لیے دوسری دفعہ کا پیدا کرنا بہ نسبت پہلی دفعہ کے پیدا کرنے سے زیادہ آسان ہے ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اور طرح ان لوگوں کو سمجھایا ہے کہ عقلی تجربہ سے حشر کے ہونے میں شک باقی نہ رہنے کے بعد اگر ان کے دل میں یہ وہم بس گیا ہے کہ یہ انتظام الٰہی جو ان لوگوں کو جتلایا اور بتایا گیا ہے کہ مرنے کے بعد پھر جینا ہوگا۔ اور سزا اور جزا ہوگی۔ اس انتظام میں جو بات ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–91
(وَاَمَّآ اِنْ كَانَ مِنْ اَصْحٰبِ الْيَمِيْنِ ) اور اگر وہ داہنے ہاتھ والے میں سے ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے واجبات کو ادا کیا اور محرمات کو ترک کیا۔ اگرچہ ان سے بعض ایسے حقوق کے بارے میں کوتاہی سرزد ہوئی جن سے ان کے ایمان اور توحید میں خلل واقع نہیں ہوا۔ تو ان میں سے ہر ایک سے کہا جائے گا (فَسَلٰمٌ لَّكَ مِنْ اَصْحٰبِ الْيَمِيْنِ ) تمہارے اصحاب یمین بھائیوں کی طرف سے تمہیں سلامتی حاصل ہے یعنی جب وہ ان کے پاس پہنچے گا اور ان سے ملاقات کرے گا تو وہ اسے سلام اور خوش آمدید کہیں گے یا اس سے کہا جائے گا کہ دنیا کیا آفات، مصائب اور عذاب سے تم سلامت ہو کیونکہ تم اصحاب یمین میں سے ہو جو ہلاک کرنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–96
قرآن کو پاکبازوں کے علاوہ کوئی ہاتھ نہیں لگا سکتا
قول باری ہے (انہ لقراٰن کریم فی کتاب مکنون لا یمسہ الا المطھرون یہ ایک بلند پایہ قرآن ہے ایک محفوظ کتاب میں ثبت جسے کوئی ہاتھ نہیں لگا سکتا بجز پاک لوگوں کے) حضرت سلیمان ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا۔ قرآن کو پاک لوگوں کے سوا کوئی ہاتھ نہ لگائے۔ “ پھر انہوں نے قرآن کی تلاوت کی لیکن مصحف کو ہاتھ نہیں لگایا کیونکہ وہ باوضو نہیں تھے۔
حضرت انس ؓ بن مالک نے حضرت عمر ؓ کے اسلام لانے کے واقعہ کے سلسلے میں روایت ہے کہ حضرت عمر ؓ نے اپنی بہن سے کہا کہ ” مجھے وہ کتاب دو جسے تم لوگ پڑھتے ہو۔ “ بہن نے جواب دیا : ” عمر ! تم ناپاک ہو اور اس کتاب کو پاک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–92
[ 78] اصحاب یمین کیلئے سلام ہی سلام کی خوشخبری کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر وہ اصحاب یمین میں سے ہوگا تو اس سے کہا جائے گا سلام تمہارے لیے یعنی تمہارے بھائیوں کی جانب سے، نیز یہ کہ تمہارے لئے عذاب سے نجات و سلامتی ہے، اور تیسرا مطلب یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ سلام ہو آپ کو اے محمد ﷺ ، اصحاب یمین کی طرف سے کہ وہ عذاب سے بچ گئے اور نجات و سلامتی کی نعمت سے سرفراز ہوگئے، لہٰذا آپ ان کی فکر نہ کریں تو اس طرح آپ ﷺ کو خوشی نصیب ہوگی [ کبیر، محاسن، جامع، صفوۃ وغیرہ ] فصلوات اللّٰہ وسلامہ علیہ وعلیٰ الہٖ وصحبہ وسلم اور اس کا ایک اور مطلب جو بعض اہل علم نے بیان کیا ہے اور جو دل کو زیادہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–96
زندگی کا فائدہ اٹھاؤ اور آخرت کماؤ
تشریح : پورا قرآن پاک ہی حکمت و دانائی سے بھرا پڑا ہے۔ اسی طرح یہ آیات بھی معرفت الہٰی کو واضح کرنے اور توحید کے مطلب کو واضح کرنے کے لیے دلیل دے رہی ہیں۔ اللہ کی حاکمیت، وحدانیت، عظمت و طاقت اس وقت ہر جاہل و عالم پر پوری طرح عیاں ہوجاتی ہے جب وہ اپنے سامنے اپنے عزیز رشتہ دار اور دوست احباب کو مرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ اس وقت بالکل بےبس ہوتے ہیں کیونکہ یہ معاملہ صرف اس بندے اور اس کے خالق کا ہوتا ہے۔ پھر اس کے مرجانے کے بعد کا تمام معاملہ بھی خالق اور اس کے درمیان ہوتا ہے جیسا کہ آیات 88 سے 96 تک بیان کیا گیا ہے۔ اللہ کی وحدانیت اور اللہ کی قربت حاصل کرنے کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–96
آیات 75 تا 96
اسرار ومعارف۔
قسم ہے ستاروں کے ڈوبنے کی اور اگر غورفکر کروتویہ سارانظام اس بات پر گواہ ہے کہ جس قادر مطلق نے ان کا غروب نئے طلوع کے لیے اور انہیں راہنمائی کا باعث بنادیا ہے اور دنیا کی آبادی کا باعث بن رہے ہیں اسی نظام کے بنانے والے نے ایمان وعمل میں ہدایت کے لیے قرآن نازل فرمایا ہے اور یہ قرآن بہت ہی عزت والا ہے جو ایک خزانے جیسے کتاب یعنی لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے جسے سوائے پاکیزہ لاگوں کے کوئی ہاتھ نہیں لگاتا اس کے مضامین پڑھ نہیں سکتا یعنی اللہ کے پاک فرشتے اس کے مضامین سے مطلع ہوتے ہیں اور فرشتہ وحی لاتا ہے شیطان اس کے مضامین کے قریب بھی نہیں جاسکتا۔
مس قرآن اور طہارت۔
اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–91
ف 6 دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ تجھے اپنے داہنے ہاتھ والوں کی طرف سے سلام ہو اور تیسرا مطلب یہ بھی کہ تو داہنے ہاتھ والوں کی طرف سے خاطر جمع کر۔ “
Read the full tafseer →(56:91) فسلم لک من اصحب الیمین :جواب شرط کے لئے ہے۔کے بعد یقال محذوف ہے۔ لفظی ترجمہ ہوگا :۔ اصحاب الیمین کی طرف سے تجھ پر سلامتی ہو۔ اس کی مختلف صورتیں ہیں :۔
(1) اس متوفی سے کہا جائے گا تیرے دوسرے بھائیوں (اصحاب الیمین) کی طرف سے تجھ پر سلامتی ہو۔
(2) حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ فرشتہ اللہ کی طرف سے اس کو سلام کہے گا۔ اور خبر دے گا کہ تو اصحب الیمین میں سے ہے ۔ اس صورت میں انت مبتداء محذوف ہے اور من اصحب الیمین اس کی خبر ہے۔
(3) یا خطاب حضرت محمد ﷺ سے ہے کہ اے محمد ﷺ ان کی طرف سے (یعنی اصحاب الیمین کی طرف) رنج و غم سے سلامتی ہے۔ ان کا ایسا عمدہ حال ہوگا کہ جس کو دیکھ کر آپ کو رنج و غم نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–96
لغات القرآن آیت نمبر 75 تا 96
لا اقسم نہیں، میں قسم کھاتا ہوں۔ مکنون محفوظ المطھرون پاک و صاف رہنے والے۔ مدھنون سستی کرنے والے غیر مدینین حساب ہونے والا نہیں۔ روح راحت و آرام ریحان عیش و آرام کا سامان۔ تصلیہ ڈال دینا۔ حق الیقین سچائی کا پورا یقین۔
تشریح :- آیت نمبر 75 تا 96
کفار قریش اس بات کو خوب اچھی طرح جانتے اور پہچانتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ کی مقناطیسی اور مقبول و محبوب شخصیت اور قرآن کریم کے ابدی اصولوں کی سچئای اور کلام کی عظمت ایک ناقابل انکار حقیقت ہے لیکن کفار مکہ رسول دشمنی میں اس حد تک آگے بڑھ چکے تھے کہ آپ کو اور آپ کی سیرت کو زندگی بھر بہت قریب سے دیکھنے اور اس کا اعتراف کرنے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–96
روح نکلنے کا ذکر۔
(ف 1) اوپر ذکر تھا کہ جن لوگوں نے محض عقل سے حشر کا انکار کیا ہے اور اس کا انکار کے سبب سے عقبی کا کچھ سامان وہ لوگ نہیں کرتے یہ ان لوگوں کی کم عقلی اور ان کی سمجھ کا فتور ہے۔ کیونکہ عقلی تجربہ سے تو یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کو دوسری دفعہ کا پیدا کرنا بہ نسبت پہلی دفعہ پیدا کرنے کے زیادہ آسان ہے ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اور طرح ان لوگوں کو سمجھایا کہ عقلی تجربہ سے حشر کے ہونے میں شک باقی نہ رہنے کے بعد ، اگر ان کے دل میں یہ وہم بس گیا ہے کہ یہ انتظام الٰہی جو ان لوگوں کو جتلایا اور بتلایا گیا ہے کہ مرنے کے بعد پھر جینا ہوگا اور سزا اور جزا ہوگی، اس انتظام میں جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–96
[20] کہ یہی آخرت کی بڑی تیاری ہے اور اس نیک مشغلے میں لگ کر مکذبین کی دل آزار بیہودگیوں سے بھی یکسوئی رہتی ہے اور ان کے باطل خیالات کا رد بھی ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–94
جب ظاہر کی آنکھیں بند ہونگی
1: یعنی گو یہ اس وقت حقائق کی بلاتکلیف جھٹلادیتے ہیں ۔ اور نہایت ڈھٹائی اور بےشرمی سے واقعات کو ٹھکرادیتے ہیں ۔ مگر جب یہ زندگی کے لمحات ختم ہونے کے ہوتے ہیں ۔ جب روح اس کسوت میں گھبراجاتی ہے ۔ اور تہمیۃ پرواز کرلیتی ہے ۔ جب حیات کی آرزوئیں منقطع ہوتی ہیں ۔ اور جب سکرات موت طاری ہوتا ہے ۔ اس وقت یہ محسوس کرتے ہیں ۔ کہ ہم اللہ کے نزدیک ہیں ۔ اور وہ سب باتیں درست ثابت ہیں ۔ جن کا اظہار غریب کی زبان سے ہوا کرتا تھا ۔ تو اس وقت یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے متعلق ایک مضبوط اور مستحکم عقیدہ رکھیں گے ۔ جس میں شک وشبہ کی گنجائش نہ ہوگی ۔ مگر یہ ایمان جو دیکھ کر اور محسوس کرکے…
Read the full tafseer →(91) تو اس کو کہا جائے گا تیرے لئے سلامتی اور امن وامان ہے کہ تو اصحاب یمین سے ہے۔ یعنی اگر اہل سعادت سے ہے تو اس کو امن و سلامتی کا پیغام ہے کہ تو اصحاب یمین اور اہل سعادت سے ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی خاطر جمع رکھ ان کی طرف سے۔ یعنی اصحاب یمین کی جانب سے کوئی تشویس نہ ہونی چاہیے ہم نے اصحاب یمین کو ہی مخاطب کیا ہے اور شاہ صاحب (رح) کا خطاب عام ہے جیسا کہ ان کے منہیہ سے معلوم ہوتا ہے۔
بعض نے خطاب نبی کریم ﷺ کے لئے بیان کیا ہے یعنی اصحاب یمین کی جانب سے حضور ﷺ کو اطمینان دلایا ہے کہ ان کو سلامتی ہے آپ ان کا فکر نہ کریں بہرحال ہمارے ترجمے کا مطلب یہ ہے کہ مرنے والے سے کہا جائے گا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–96
ف 5۔ مطلب یہ کہ قرآن صادق ہے، اور وہ وقوع بع کا ناطق ہے، پس مقتضی وقوع متحقق ہوا، اور مانع کوئی امر ہے نہیں، پس وقوع ثابت ہوگیا، اور اس پر بھی تمہارا انکار اور نفی کئے چلا جانا بدلالت حال اس کو مستلزم ہے، کہ گویا تم روح کو اپنے بس میں سمجھتے ہو کہ گو قیامت میں خدا دوبارہ روح ڈالنا چاہئے جیسا مقتضا قرآن کا ہے، مگر ہم نہ ڈالنے دیں گے اور بعض نہ ہونے دیں گے جب ہی تو ایسی زور سے نفی کرتے ہو، ورنہ جو اپنے کو عاجز جانے وہ دلائل وقوع کے بعد ایسے زور کی بات کیوں کہے۔
Read the full tafseer →تیرے لیے سلامتی اور امن ہے کہ تو داہنی طرف والوں سے ہو گا
19۔ یہ فرشتوں اور دوسری نیک ارواح کی طرف سے جو اہلا سہلا مرحبا کی صدائیں بلند ہوں گی ان کی مزید وضاحت کی جا رہی ہے کہ ان کو مخاطب کر کے کہا جائے گا اے اہل یمین تمہارے لیے سلامتی ہی سلامتی ہے۔ یہ گویا اختصار ہے اہل یمین کے انعامات و احسانات کا جن کا ذکر پیچھے اسی سورت کی آیات 72 تا 04 میں گزر چکا ہے اور جن کا ماحصل سلامتی ہی سلامتی ہے کہ اس میں سب کچھ داخل ہے اور یہ بھی کہ وہانعامات تو ان کو جنت میں ملیں گے جب میدان حشر میں فیصلہ کے بعد براہ راست سیدھا جنت میں داخلہ ہوگا اس وقت تو سلامتی کی خوشخبری پیش کی جا رہی ہے تاکہ پھول اپنی خوشبو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–94
فَأَمَّا إِن كَانَ مِنَ الْمُقَرَّبِينَ (So, in case he [ the dying person ] is from among those blessed with nearness...56:88). In the foregoing verses, it was made clear that one day the present world will come to an end. It was also testified that at the time of death the near and dear ones, friends and relatives, and doctors all stand helplessly around the dying person. Likewise, resurrection, reckoning, and reward and punishment, after account of deeds, are all a reality and certainty of the highest degree. At the commencement of the Surah, it was mentioned that there will be three…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–96
42 Hadrat `Uqbah bin `Amir Juhni relates that when this verse was sent down the Holy Prophet (upon whom be Allah's peace) commanded that the people put it in their ruku`, i.e. they should recite Subhana Rabbi -yal-`Azim in ruku ' position in the Prayer. And when the verse Sabbih-ismi-Rabb-i- kal-A'la was Sent down, he enjoined that they put it in their sajdah, i.e. they should recite Subhana Rabb-i -yal-A 7a in sajdah. (Musnad Ahmad, Abu Da'ud, Ibn Majah, Ibn Hibban, Hakim). This show that even the most minor details of the procedure enjoined by the Holy Prophet (upon whom be Allah's peace)…
Read the full tafseer →