Explained with ayahs 83–87
عالم نزع کی بےبسی
اسی مضمون کی آیتیں سورة قیامہ میں بھی ہیں۔ فرماتا ہے کہ ایک شخص اپنے آخری وقت میں ہے نزع کا عالم ہے روح پرواز کر رہی ہے تم سب پاس بیٹھے دیکھ رہے ہو کوئی کچھ نہیں کرسکتا ہمارے فرشتے جنہیں تم دیکھ نہیں سکتے تم سے بھی زیادہ قریب اس مرنے والے سے ہیں۔ جیسے اور جگہ ہے آیت (وَهُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهٖ وَيُرْسِلُ عَلَيْكُمْ حَفَظَةً 61) 6۔ الانعام :61) اللہ اپنے بندوں پر غالب ہے وہ تم پر اپنے پاس سے محافظ بھیجتا ہے جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت آجاتا ہے تو ہمارے بھیجے ہوئے اسے ٹھیک طور پر فوت کرلیتے ہیں پھر وہ سب کے سب اللہ تعالیٰ مولائے حق کی طرف بازگشت کرائے جائیں گے جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–96
سورة الْوَاقِعَة 42
حضرت عقبہ بن عامر جہنی کی روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ اس کو تم لوگ اپنے رکوع میں رکھ دو ، یعنی رکوع میں سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْم کہا کرو۔ اور جب آیت سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلیٰ نازل ہوئی تو آپ نے فرمایا اسے اپنے سجدے میں رکھو، یعنی سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلیٰ کہا کرو (مسند احمد، ابوداؤد، ابن ماجہ، ابن حبان، حاکم)۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نماز کا جو طریقہ مقرر فرمایا ہے اس کے چھوٹے سے چھوٹے اجزاء تک قرآن پاک کے اشاروں سے ماخوذ ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–87
سابقہ آیات میں پہلے عقلی دلائل سے پھر حق تعالیٰ کی طرف سے ستاروں کی قسم کھا کر اور ان کے مقہور و مغلوب ہونے کی کیفیت کی طرف اشارہ کر کے دو باتیں ثابت کی گئی ہیں، اول یہ کہ قرآن اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اس میں کسی شیطان و جن وغیرہ کا کوئی تصرف نہیں ہو سکتا، جو کچھ اس میں ہے وہ حق ہے، دوسرا مسئلہ جو قرآن کے مسائل میں خاص اہمیت رکھتا ہے، وہ قیامت کا آنا اور سب مردوں کا زندہ ہو کر رب العزت کے سامنے حساب کے لئے پیش ہونا ہے اور اس کے آخر میں کفار و مشرکین کا ان سب دلائل واضحہ کے خلاف قرآن کی حقانیت اور قیامت میں مردوں کے زندہ ہونے سے انکار کا ذکر کیا گیا تھا۔
قیامت اور مرنے کے بعد زندہ ہونے سے انکار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–87
(فلولا اذا بلغت لحلقوم وانتم حینئذ تنظرون ونحن اقرب الیہ منکم ولکن لا تبصرون فلولا ان کنتم غیر مدینین ترجعونھا ان کنتم صدقین) (84، 87)
(خدا کے قبضہ قدرت سے کوئی باہر نہیں ہے)۔ یعنی اس ڈھٹائی سے تم قرآن کا جو مذاق اڑا رہے ہو اور سمجھتے ہو کہ جس جزاء و سزا سے یہ تمہیں آگاہ کر رہا ہے وہ محض ایک ڈراوا ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں ہے، نہ تم کسی کے محکوم ہو ورنہ تمہیں کسی کے آگے اپنے کسی قول و فعل سے متعلق کوئی جواب دہی کرنی ہے تو اپنے آپ کو یا اپنے کسی محبوب سے محبوب کو موت کے پنجہ سے کیوں نہ بچا لیتے ؟ جب تم میں سے کسی کی موت آتی ہے تو اس وقت تو تم اپنے آپ کو بالکل ہی بےبس پاتے ہو اور جان فرشتہ اجل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–89
87-1یعنی اگر تم اس بات میں سچے ہو کہ کوئی تمہارا آقا اور مالک نہیں جس کے تم زیر فرمان اور ما تحت ہو یا کوئی جزا سزا کا دن نہیں آئے گا، تو اس قبض کی ہوئی روح کو اپنی جگہ پر واپس لوٹا کر دکھاؤ اور اگر تم ایسا نہیں کرسکتے اس کا مطلب تمہارا گمان باطل ہے۔ یقینا تمہارا ایک آقا ہے اور یقینا ایک دن آئے گا جس میں وہ آقا ہر ایک کو اسکے عمل کی جزا دے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–96
24: کافر لوگ قرآن کریم پر ایمان لانے سے جو انکار کرتے تھے، اس کا ایک بڑا حصہ ان کا یہ دعوی تھا کہ ہم مرنے کے بعد دوبارہ زندہ نہیں ہوں گے، جیسا کہ اسی سورت کی آیت نمبر 45 میں گزرا ہے، اللہ تعالیٰ اب اس طرف توجہ دلا رہے ہیں کہ اتنی بات تو تم بھی مانتے ہو کہ اس دنیا میں جو کوئی آتا ہے ایک نہ ایک دن اسے موت ضرور آتی ہے، اور ایسی حالت میں آتی ہے کہ اس کے عزیز رشتہ دار، دوست احباب اور اس کے معالج ہر قسم کے جتن کر گزرتے ہیں کہ کسی طرح وہ موت سے بچ جائے، لیکن موت اس طرح آجاتی ہے کہ وہ سب دیکھتے رہ جاتے ہیں، سوال یہ ہے کہ اگر مرنے کے بعد دوسری زندگی میں حساب و کتاب ہونا نہیں ہے تو آخر ہر انسان کسی نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–87
فلو لا ............ صدقین (78) (6 5: 68۔ 78) ” اب اگر تم کسی کے محوم نہیں اور اپنے خیال میں سچے ہو تو اس وقت اس کی نکلتی ہوئی جان کو واپس کیوں نہیں لاتے۔ “ اگر بات اس طرح ہے جس طرح تم کہتے ہو ، کہ کوئی جزا وسزا نہیں ہے اور تم آزاد ہو تو روح جب حلقوم کو آجائے تو وہاں سے لوٹا دو کیونکہ وہ تو حساب و کتاب دینے جارہی ہے اور تمہارے ہوتے ہوئے جارہی ہے تم بےبس کھڑے کے کھڑے رہ جاتے ہو وہ تو ایک بڑی ذمہ داری کا جواب دینے جارہی ہے اور تم خاموش اور بےبس کھڑے ہو۔
اب تمام صحبتیں ختم ہوجاتی ہیں۔ ہر دلیل رد ہوجاتی ہے۔ ہر حیلہ اور ہر بہانہ ختم ہوتا ہے اور اس حقیقت کا دباؤ انسانی جسم اور عقل پر اور زیادہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–87
1 یعنی ایسی بےفکری اور بےخوفی سے اللہ کی باتوں کو جھٹلاتے ہو، گویا تم کسی دوسرے کے حکم اور اختیار میں نہیں، یا کبھی مرنا اور خدا کے ہاں جانا ہی نہیں۔ اچھا جس وقت تمہارے کسی عزیز و محبوب کی جان نکلنے والی ہو، سانس حلق میں اٹک جائے، موت کی سختیاں گزر رہی ہوں اور تم پاس بیٹھے اس کی بےبسی اور درماندگی کا تماشا دیکھتے ہو، اور دوسری طرف خدا یا اس کے فرشتے تم سے زیادہ اس کے نزدیک ہیں جو تمہیں نظر نہیں آتے اگر تم کسی دوسرے کے قابو میں نہیں تو اس وقت کیوں اپنے پیارے کی جان کو اپنی طرف نہیں پھیر لیتے اور کیوں بادل نخواستہ اپنے سے جدا ہونے دیتے ہو دنیا کی طرف واپس لا کر اسے آنے والی سزا سے کیوں بچا نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–87
آیت 86 ‘ 87{ فَلَوْلَآ اِنْ کُنْتُمْ غَیْرَ مَدِیْنِیْنَ رض تَرْجِعُوْنَہَآ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ۔ } ”تو اگر تم کسی کے اختیار میں نہیں ہو تو اس جان کو لوٹا کیوں نہیں لیتے اگر تم سچے ہو ؟“
یہاں الفاظ کی ترتیب اس طرح ہے کہ ان دونوں آیات کو ملانے سے ایک فقرہ مکمل ہوتا ہے۔ قرآن کے خصوصی اسلوب کی وجہ سے لَوْلَا پہلی آیت کے شروع میں آگیا ہے ‘ لیکن اس کا مفہوم دوسری آیت کے ساتھ ملنے سے واضح ہوتا ہے۔ چناچہ مفہوم کی وضاحت کے لیے یوں سمجھیں کہ ان دونوں آیات میں الفاظ کی اصل ترتیب یوں ہے : فَاِنْ کُنْتُمْ غَیْرَ مَدِیْنِیْنَ ‘ لَوْلَا تَرْجِعُوْنَہَا اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ؟ کہ تم لوگ آئے دن اپنے…
Read the full tafseer →41 سورت کے آخر میں یاددہانی کے طور پر انہیں تین گروہوں کا اجمالاً انجام ذکر کیا جارہا ہے جن کا بیان ابتدا میں تفصیل سے گزر چکا ہے۔ یعنی مُقَّرَبِیْنَ ، أصْحَابُ الْیَمِیْنِ اور أصْحَاب الشِّمَالِ ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–87
34۔ (اپنے دعوی انکار بعث میں) مطلب یہ ہوا کہ جس وقت تمہارے کسی عزیز قریب کی جان نکلنے لگتی ہے تو کیا یہ ممکن ہے کہ تم کسی حکمت، کسی تدبیر کسی کوشش و کاوش سے اس کی جان روک لو ؟ اور جب تم پر اپنی بےبسی، قانون موت وحیات کے باب میں یوں عیاں و روشن ہوگئی تو یہ کیسے ممکن سمجھتے ہو کہ حشر میں اللہ تعالیٰ کو مردو وں کو اٹھانے سے روک سکوگے ؟ (آیت) ” ترجعونھا “۔ ضمیر ھانفس یا روح کی طرف ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–87
فلولا ان کنتم غیر مدینین، مدینین دان یدین سے ہے، اس کے ایک معنی ہیں ماتحت ہونا، دوسرے عنی ہیں بدلہ دینا یعنی اگر تم اس بات میں سچے ہو کہ کوئی تمہارا آقا اور مالک نہیں جس کے تم زیر فرمان اور ماتحت ہو یا کوئی جزا سزا کا دن نہیں آئے گا تو اس قبض کی ہوئی روح کو اپنی جگہ پر واپس لوٹا کر دکھائو اور اگر تم ایسا نہیں کرسکتے تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ تمہارا گمان باطل ہے، یقینا تمہارا ایک آقا ہے اور یقینا ایک دن آئے گا جس میں وہ آقا ہر ایک کو اس کے عمل کی جزا دے گا۔
Read the full tafseer →تو پھر اس روح کو (بدن کی طرف) نہیں لوٹاتے ہو اگر تم سچے ہو۔
تَرْجِعُوْنَ : یعنی جان کو اس کی قرار گاہ تک کیوں نہیں لوٹا دیتے کہ اس کے مقام تک موت کی رسائی نہ ہو سکے یا یہ معنی ہے کہ تم جب مجبور و مقہور نہ ہو تو پھر جان کو (بدن کے اندر) لوٹا کیوں نہیں لیتے۔
اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ : یعنی اگر غیر مقہور ہونے کے دعوے میں تم سچے ہو تو جان کو اس کی قرار گاہ تک لوٹا کیوں نہیں دیتے (غیر مقہور اور عاجز نہ ہونے کا اگرچہ انہوں نے دعویٰ نہیں کیا تھا لیکن تصرفات خداوندی کا ان کو انکار تھا اور آیات الٰہیہ کی وہ تکذیب کرتے تھے ‘ اس سے معلوم ہوتا تھا کہ وہ اپنے غیر مقہور ہونے کے مدعی تھے) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–87
(86۔ 87) سو اگر تمہارا حساب و کتاب ہونے والا نہیں ہے جیسا کہ تمہارا خیال ہے تو پھر تم اس روح کو بدن کی طرف کیوں نہیں لوٹاتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–87
فَلَوْلَآ اِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُوْمَ۔۔۔۔۔۔”مدینین“ ”دان یدین دینا“ (جزادینا ، مالک ہونا ، حساب لینا ، حاکم ہونا) سے اسم مفعول ”مدین“ کی جمع ہے جو اصل میں ”مدیون“ تھا ، بدلا دیے گئے ، محاسبہ کیے گئے ، محکوم ، مملوک ، ان آیات میں ”فلولا“ دو دفعہ آیا ہے اور دونوں کی جزائ ”ترجعونھا ان کنتم صدقین“ ہے۔ ان آیات میں نزع کے عالم کا نقشہ کھینچ کر قیامت کے منکروں سے کہا گیا ہے کہ ایسا کیوں نہیں کہ مرتے وقت جب جان حلق تک آپہنچتی ہے اور تم پاس بیٹھے مرنے والے کو دیکھ رہے ہوتے ہو اور ہم تم سے زیادہ اس مرنے والے کے قریب ہوتے ہیں ، تو پھر اگر تم کسی کے محکوم نہیں اور نہ تم سے کوئی محاسبہ کرنے والا ہے اور…
Read the full tafseer →ترجعونھا تم روح کو جسم کی طرف لوٹاتے۔ ان کنتم صدقین۔ اگر تم سچے ہو یعنی تم اسے ہر گز نہیں لوٹائو گے تو تمہارا گمان باطل ہوگیا کہ مملوک نہیں اور تمہارا محاسبہ نہیں ہوگا۔ ترجعونھا یہ اللہ تعالیٰ کے فرمان فلولا اذا بکغت الحلقوم۔ اور فلولا ان کنتم غیر مدینین۔ کا جواب ہے دونوں کا ایک ہی جواب ہے : یہ فراء کا قول ہے۔ بعض اوقات عرب دو حرفوں کا اعادہ کرتے ہیں اور ان کا معنی ایک ہی ہوتا ہے اس معنی میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :” فَاِمَّا یَاْتِیَنَّکُمْ مِّنِّیْ ھُدًی فَمَنْ تَبِعَ ھُدَایَ فَـلَا خَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَلاَھُمْ یَحْزَنُوْنَ ۔ “ ( البقرہ : 38) دونوں کا ایک جواب دیا گیا جب کہ یہ دونوں شرطیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–87
1۔ ابن جریر وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” غیر مدینین “ (تمہارا حساب ہونے والا نہیں ہے) سے مراد ہے غیر محاسبین یعنی جن کا محاسبہ نہ ہو۔
2۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” فلولا ان کنتم غیر مدینین “ (اگر فی الواقع تمہارا حساب ہونے وال انہیں) یعنی تمہارا حساب فہمی نہیں ہوگی آیت ترجعونہا “ (پھر اس روح کو بدن کی طرف نہیں لوٹاتے ہو) یعنی تو پھر نفس یعنی روح کیوں نہیں لوٹا دیتے۔
3۔ عبد بن حمید نے سعید بن جبیر، حسن اور قتادہ رحمہم اللہ نے اسی طرح روایت کیا۔
4۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” فلولا ان کنتم غیر مدینین “ سے مراد ہے…
Read the full tafseer →[تَرْجِعُوْنَهَآ : تم لوگ لوٹا لیتے ہو اس جان کو ][ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ : اگر تم لوگ سچ کہنے والے ہو ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–87
اگر تمہیں جزا ملنی نہیں ہے نہیں ہے تو موت کے وقت روح کو کیوں واپس نہیں لوٹا دیتے
ان آیات میں اولاً انسانوں کی بےبسی ظاہر فرمائی ہے جو موت کے وقت ظاہر ہوتی ہے، ثانیاً انسانوں کی انہیں تینوں جماعتوں کا عذاب وثواب بیان فرمایا ہے جن کا پہلے رکوع میں تذکرہ فرمایا تھا۔
اللہ تعالیٰ شانہٗ نے انسانوں کو پیدا فرمایا اور انہیں بہت سے اعمال کرنے کا حکم دیا اور بہت سے اعمال سے منع فرمایا تاکہ بندوں کی فرمانبرداری اور نافرمانی کا امتحان لیا جائے، سورة الملک میں فرمایا ﴿خَلَقَ الْمَوْتَ وَ الْحَيٰوةَ لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ﴾ (موت اور حیات کو پیدا فرمایا تاکہ وہ آزمائے کہ تم میں اچھے عمل والا کون…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–96
حقانیت قرآن کریم و اثبات وقوع یوم عظیم :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” فلااقسم بمواقع النجوم ....... الی ...... فسبح باسم رب العظیم “۔
(ربط) اس سے قبل حق تعالیٰ شانہ نے اپنی قدرت وخالقیت کے عظیم دلائل و شواہد ذکر فرماتے اور ان انعامات عظیمہ کو ظاہر فرمایا جو اس نے دنیا کی انسانوں پر فائض فرماتے اور ان عظیم نعمتوں کو انکی زندگی کا مدار بنایا اب اس کے بعد قرآن کریم کی حقانیت بیان کرتے ہوتے یہ ذکر فرمایا کہ روز ان عظیم نعمتوں کو انکی زندگی کا مداربنایا اب اسکے بعد کریم کی حقانیت بیان کرتے ہوتے یہ ذکر فرمایا کہ روز قیامت کیسا عظیم دن ہے اور قیامت کے احوال کیسے ہولناک ہوں گے اور یہ کہ قیامت کے روز کس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–87
29:۔ ” فلولا اذا بلغت الحلقوم “ یہ معاندین پر زجر ہے۔ اذا، ترجعون، مؤخر سے متعلق ہے اور یہی لولا کا جواب ہے۔ حینئذ تنظرون اور ونحن اقرب الیہ منکم ولکن لا تبصرون۔ دونوں جملہ سابقہ کے مضمون سے حال ہیں۔ اور فلولا ثانی، بعد عہد کی وجہ سے لولا اول کا اعادہ ہے۔ اور ان کنتم صدقین، ان کنتم غیرمدینین کا اعادہ ہے۔ غیرمدینین ای غیر مملوکین ولا مقہورین (قرطبی ج 17 ص 231) ۔ غیر مجزیین (روح) ۔ وترجعونہا جواب لقولہ تعالیٰ فلولا اذا بلغت الحلقوم الخ، (ایضا) ۔ اب ترتیب عبارت یوں ہوگی۔ فلولا ترجعونہا اذا بلغت الحلقوم، ان کنتم غیر مدینین (کشاف) ۔ حاصل معنی یہ ہوا کہ اگر تم اس دعوے میں سچے ہو کہ تم اللہ کے مملوک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–96
ربط آیات :
ساتویں منزل کے آغاز یعنی سورة قٓ سے لے کر سورة الواقعہ تک زیادہ تر جزائے عمل ہی کا بیان ہورہا ہے۔ تاہم ان سورتوں میں دین کے چاروں بنیادی اصول آگئے ہیں۔ کسی سورة میں ایک اصول نمایاں ہے تو دوسری میں دوسرا نمایاں ہے مثلاً کسی سورت میں توحید کے اثبات اور شرک کی تردید کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے تو کسی میں رسالت کا تذکرہ وضاحت کے ساتھ آگیا ہے۔ کہیں قرآن کی حقانیت و عظمت کا بیان زیادہ ہے تو کہیں وقوع قیامت اور جزائے عمل کا مضمون وضاحت کے ساتھ بیان ہوا ہے۔ گزشتہ درس میں قرآن کی صداقت وحقانیت کے متعلق فرمایا کہ یہ قرآن کریم ہے جو لوح محفوظ میں درج ہے اور اس کو صرف ظاہری اور باطنی طور…
Read the full tafseer →تَرْجِعُوْنَہَآ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ 87
رجع
الرُّجُوعُ : العود إلى ما کان منه البدء، أو تقدیر البدء مکانا کان أو فعلا، أو قولا، وبذاته کان رجوعه، أو بجزء من أجزائه، أو بفعل من أفعاله . فَالرُّجُوعُ : العود،
( ر ج ع ) الرجوع
اس کے اصل معنی کسی چیز کے اپنے میدا حقیقی یا تقدیر ی کی طرف لوٹنے کے ہیں خواہ وہ کوئی مکان ہو یا فعل ہو یا قول اور خواہ وہ رجوع بذاتہ ہو یا باعتبار جز کے اور یا باعتبار فعل کے ہو الغرض رجوع کے معنی عود کرنے اور لوٹنے کے ہیں اور رجع کے معنی لوٹا نے کے
صدق
الصِّدْقُ والکذب أصلهما في القول، ماضیا کان أو مستقبلا، وعدا کان أو غيره، ولا يکونان بالقصد الأوّل إلّا في القول،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–87
1 ؎ کس لیے کہ نفی کی صورت میں مخاطب کو خیال ہوتا ہے کہ غلاف کرنے میں امر کی تکذیب لازم آئے گی اس کو وہ گوارہ نہیں رکھتا (مثال نہی) تم نہ کرو اور نفی یہ کہ تم نہ کرو گے دوسری بات میں تاکید ہے۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–87
فَلَوْلَآ اِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُوْمَ ۔ وَاَنْتُمْ حِیْنَئِذٍ تَنْظُرُوْنَ ۔ وَنَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْہِ مِنْـکُمْ وَلٰـکِنْ لاَّ تُبْصِرُوْنَ ۔ فَلَوْلَآ اِنْ کُنْتُمْ غَیْرَمَدِیْـنِیْنَ ۔ تَرْجِعُوْنَھَآ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ۔ (الواقعۃ : 83 تا 87)
(پھر کیوں نہیں، جب جان حلق تک جا پہنچی۔ اور تم اس وقت دیکھ رہے ہو۔ اور ہم اس (مبتلائے نزع) شخص سے تمہاری نسبت زیادہ قریب ہوتے ہیں، لیکن تم دیکھ نہیں پاتے۔ پس کیوں نہیں، اگر تم غیرمحکوم ہو۔ تو اس جان کو واپس کیوں نہیں لے آتے، اگر تم سچے ہو۔ )
اللہ تعالیٰ کی قدرت سب پر حاوی ہے
ان آیات کریمہ میں نفسیاتی پہلو سے مخالفین کو یہ بات یاد دلائی گئی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–87
فہم القرآن
ربط کلام : قرآن مجید کو جھٹلانے والوں کو ان کی موت یاد کروائی گئی ہے تاکہ وہ ہوش کے ناخن لیں اور اپنے آپ کو سیدھی راہ پر ڈال کر اصحاب الیمین میں شامل ہوجائیں۔
اس سورت کا آغاز قیامت کی ہولناکیوں کے بیان سے ہوا۔ جس میں بتلایا گیا کہ قیامت کے دن لوگ ” اَصْحَابَ الْیَمِیْنِ ، اَصَحَاب الشِّمَالِ “ اور ” سَابِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ “ کی تقسیم کے مطابق ہوں گے لیکن بنیادی طور پر لوگ دو ہی گروہوں میں منقسم ہوں گے۔ ایک جنتی اور دوسرے جہنمی ہوں گے
الواقعہ کا اختتام بھی اسی مضمون پر کیا جارہا ہے کیونکہ قیامت کے انعام اور اس کی سزاؤں کا آغاز انسان کی موت کے ساتھ ہی شروع ہوجاتا ہے۔ اس لیے پہلے…
Read the full tafseer →تم ہر چیز کے انکار پر اترتے ہو
87 : تَرْجِعُوْنَھَآ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ (تو پھر اس روح کو بدن کی طرف نہیں لوٹاتے ہو۔ اگر تم سچے ہو) ترجعونؔ روح کو لوٹائو جسم میں حلق تک پہنچ جانے کے بعد اگر بقول تمہارے تم مغلوب و غلام نہیں ہو۔ لولاان دونوں آیات میں لولا تحضیصکیلئے ہے اور ایک فعل کا طالب ہے اور ترجعونھا اس کو دو مرتبہ لانے کی بجائے ایک بار پر اکتفاء کرلیا۔ پس آیت کی ترتیب معنوی اس طرح ہوگی۔ فلولا ترجعونھا اذا بلغت الحلقوم ان کنتم غیر مدینین۔ دوسرا لولاؔ تاکید کیلئے لایا گیا ہے۔ ونحن اقرب الیہ منکم اور ہم تمہاری نسبت اس کے قریب تر ہیں۔ اے میت کے گھر والو ! ہم اپنی قدرت و علم سے قریب ہیں یا…
Read the full tafseer →86 ۔” فلولا “ پس کیوں نہیں۔” ان کنتم غیر مدینین “ مملوک اور اکثر نے کہا ہے محاسبہ کرنے والے اور بدلہ پانے والے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–96
83۔ 96۔ اوپر ذکر تھا کہ جن لوگوں نے محض عقل سے حشر کا انکار کیا ہے اور اس انکار کے سبب سے عقبیٰ کا کچھ سامان وہ لوگ نہیں کرتے ‘ یہ ان لوگوں کی کمی عقل اور ان کی سمجھ کا فتور ہے کیونکہ عقلی تجربہ سے تو یہ بات ثابت ہوتی ہے ‘ کہ اللہ تعالیٰ کے لیے دوسری دفعہ کا پیدا کرنا بہ نسبت پہلی دفعہ کے پیدا کرنے سے زیادہ آسان ہے ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اور طرح ان لوگوں کو سمجھایا ہے کہ عقلی تجربہ سے حشر کے ہونے میں شک باقی نہ رہنے کے بعد اگر ان کے دل میں یہ وہم بس گیا ہے کہ یہ انتظام الٰہی جو ان لوگوں کو جتلایا اور بتایا گیا ہے کہ مرنے کے بعد پھر جینا ہوگا۔ اور سزا اور جزا ہوگی۔ اس انتظام میں جو بات ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–87
(فَلَوْلَآ اِنْ كُنْتُمْ غَيْرَ مَدِيْنِيْنَ ) پس اگر تم کسی کے زیرفرمان نہیں تو تو کیوں نہیں اس روح کو پھیر لیتے۔ یعن بھلا جب تم اس زعم باطل میں مبتلا ہو کہ تمہیں دوبارہ زندہ کیا جائے گا نہ تمہارا حساب کتاب کرکے تمہیں جزا وسزا دی جائے گی تو تم روح کو بدن میں واپس لانے سے عاجز ہو تب تمہیں یا تو اس حق کا اقرار کرنا ہوگا جو محمد کریم لے کر آئے ہیں یا تم عناد رکھو گے پس تمہارا حال اور تمہارا برا انجام معلوم ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–96
قرآن کو پاکبازوں کے علاوہ کوئی ہاتھ نہیں لگا سکتا
قول باری ہے (انہ لقراٰن کریم فی کتاب مکنون لا یمسہ الا المطھرون یہ ایک بلند پایہ قرآن ہے ایک محفوظ کتاب میں ثبت جسے کوئی ہاتھ نہیں لگا سکتا بجز پاک لوگوں کے) حضرت سلیمان ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا۔ قرآن کو پاک لوگوں کے سوا کوئی ہاتھ نہ لگائے۔ “ پھر انہوں نے قرآن کی تلاوت کی لیکن مصحف کو ہاتھ نہیں لگایا کیونکہ وہ باوضو نہیں تھے۔
حضرت انس ؓ بن مالک نے حضرت عمر ؓ کے اسلام لانے کے واقعہ کے سلسلے میں روایت ہے کہ حضرت عمر ؓ نے اپنی بہن سے کہا کہ ” مجھے وہ کتاب دو جسے تم لوگ پڑھتے ہو۔ “ بہن نے جواب دیا : ” عمر ! تم ناپاک ہو اور اس کتاب کو پاک…
Read the full tafseer →[ 74] منکرین کے عجز اور ان کی بےبسی کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا اور ان کے عجز اور بےبسی کے اظہار وبیان کے لیے ارشاد فرمایا گیا کہ تملوگ اس جان کو لوٹا کیوں نہیں دیتے اگر تم سچے ہو ؟ یعنی اپنی اس بات میں کہ نہ تم کسی کے محکوم ہو، اور نہ تمہیں مرنے کے بعد دوبارہ اٹھتا ہے اور نہ کوئی حساب کتاب ہونا ہے، اور جب تم اتنے عاجز اور اس قدر بےبس ہو تو یقین جان لو کہ تمہارے اوپر ایک ایسی قادر مطلق ہستی موجود ہے، جس کے قبضہ قدرت و اختیار میں تمہاری ہر چیز کی باگ ڈور ہے، پس اس پر ایمان لا کر تم اس کی پکڑ سے بچنے کی فکر کرو، اسی میں تمہاری خیر اور تمہارا بھلا ہے، دنیا کی اس عارضی اور فانی زندگی میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–96
زندگی کا فائدہ اٹھاؤ اور آخرت کماؤ
تشریح : پورا قرآن پاک ہی حکمت و دانائی سے بھرا پڑا ہے۔ اسی طرح یہ آیات بھی معرفت الہٰی کو واضح کرنے اور توحید کے مطلب کو واضح کرنے کے لیے دلیل دے رہی ہیں۔ اللہ کی حاکمیت، وحدانیت، عظمت و طاقت اس وقت ہر جاہل و عالم پر پوری طرح عیاں ہوجاتی ہے جب وہ اپنے سامنے اپنے عزیز رشتہ دار اور دوست احباب کو مرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ اس وقت بالکل بےبس ہوتے ہیں کیونکہ یہ معاملہ صرف اس بندے اور اس کے خالق کا ہوتا ہے۔ پھر اس کے مرجانے کے بعد کا تمام معاملہ بھی خالق اور اس کے درمیان ہوتا ہے جیسا کہ آیات 88 سے 96 تک بیان کیا گیا ہے۔ اللہ کی وحدانیت اور اللہ کی قربت حاصل کرنے کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–96
آیات 75 تا 96
اسرار ومعارف۔
قسم ہے ستاروں کے ڈوبنے کی اور اگر غورفکر کروتویہ سارانظام اس بات پر گواہ ہے کہ جس قادر مطلق نے ان کا غروب نئے طلوع کے لیے اور انہیں راہنمائی کا باعث بنادیا ہے اور دنیا کی آبادی کا باعث بن رہے ہیں اسی نظام کے بنانے والے نے ایمان وعمل میں ہدایت کے لیے قرآن نازل فرمایا ہے اور یہ قرآن بہت ہی عزت والا ہے جو ایک خزانے جیسے کتاب یعنی لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے جسے سوائے پاکیزہ لاگوں کے کوئی ہاتھ نہیں لگاتا اس کے مضامین پڑھ نہیں سکتا یعنی اللہ کے پاک فرشتے اس کے مضامین سے مطلع ہوتے ہیں اور فرشتہ وحی لاتا ہے شیطان اس کے مضامین کے قریب بھی نہیں جاسکتا۔
مس قرآن اور طہارت۔
اس…
Read the full tafseer →ف 3 یعنی اسے بدن میں لوٹا کر بیمار کو موت کے ہاتھوں سے کیوں نہیں بچا لیتے ؟
4 یعنی اگر اپنی ناشکری کی موجود ہر وش کو صحیح سمجھتے ہو
Read the full tafseer →(56:87) ترجعونھا : ترجعون مضارع جمع مذکر حاضر رجع (باب ضرب) مصدر ھا ضمیر مفعول واحد مؤنث غائب ۔ کا مرجع النفس الروح ہے۔ تم اس کو لوٹا دیتے ہو۔ تم اس کو پھیر لاتے ہو۔
آیات کی ترتیب کچھ یوں ہوگی : ان کنتم غیر مدینین (و) ان کنتم (فی ذلک) صدقین فلولا اذا بلغت الروح الحلقوم ترجعونھا۔ اگر تم کسی کے تابع فرمان نہیں ہو کسی کا تم پر حکم نہیں چلتا تم اپنی من مانی کرسکتے ہو اور تم یہ ایمان رکھتے ہو کہ مرنے کے بعد نہ تمہارا حساب ہوگا اور نہ تمہیں تمہارے کئے کی سزاو جزاء ملے گی اور اگر تم اس میں حق پر ہو تو پھر ایک قریب المرگ (ساتھی) جس کی جان حلق تک آگئی ہو تو کیوں اس کی جان کو واپس اس کے جسم میں لوٹا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–96
لغات القرآن آیت نمبر 75 تا 96
لا اقسم نہیں، میں قسم کھاتا ہوں۔ مکنون محفوظ المطھرون پاک و صاف رہنے والے۔ مدھنون سستی کرنے والے غیر مدینین حساب ہونے والا نہیں۔ روح راحت و آرام ریحان عیش و آرام کا سامان۔ تصلیہ ڈال دینا۔ حق الیقین سچائی کا پورا یقین۔
تشریح :- آیت نمبر 75 تا 96
کفار قریش اس بات کو خوب اچھی طرح جانتے اور پہچانتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ کی مقناطیسی اور مقبول و محبوب شخصیت اور قرآن کریم کے ابدی اصولوں کی سچئای اور کلام کی عظمت ایک ناقابل انکار حقیقت ہے لیکن کفار مکہ رسول دشمنی میں اس حد تک آگے بڑھ چکے تھے کہ آپ کو اور آپ کی سیرت کو زندگی بھر بہت قریب سے دیکھنے اور اس کا اعتراف کرنے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–96
روح نکلنے کا ذکر۔
(ف 1) اوپر ذکر تھا کہ جن لوگوں نے محض عقل سے حشر کا انکار کیا ہے اور اس کا انکار کے سبب سے عقبی کا کچھ سامان وہ لوگ نہیں کرتے یہ ان لوگوں کی کم عقلی اور ان کی سمجھ کا فتور ہے۔ کیونکہ عقلی تجربہ سے تو یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کو دوسری دفعہ کا پیدا کرنا بہ نسبت پہلی دفعہ پیدا کرنے کے زیادہ آسان ہے ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اور طرح ان لوگوں کو سمجھایا کہ عقلی تجربہ سے حشر کے ہونے میں شک باقی نہ رہنے کے بعد ، اگر ان کے دل میں یہ وہم بس گیا ہے کہ یہ انتظام الٰہی جو ان لوگوں کو جتلایا اور بتلایا گیا ہے کہ مرنے کے بعد پھر جینا ہوگا اور سزا اور جزا ہوگی، اس انتظام میں جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–96
[20] کہ یہی آخرت کی بڑی تیاری ہے اور اس نیک مشغلے میں لگ کر مکذبین کی دل آزار بیہودگیوں سے بھی یکسوئی رہتی ہے اور ان کے باطل خیالات کا رد بھی ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–94
جب ظاہر کی آنکھیں بند ہونگی
1: یعنی گو یہ اس وقت حقائق کی بلاتکلیف جھٹلادیتے ہیں ۔ اور نہایت ڈھٹائی اور بےشرمی سے واقعات کو ٹھکرادیتے ہیں ۔ مگر جب یہ زندگی کے لمحات ختم ہونے کے ہوتے ہیں ۔ جب روح اس کسوت میں گھبراجاتی ہے ۔ اور تہمیۃ پرواز کرلیتی ہے ۔ جب حیات کی آرزوئیں منقطع ہوتی ہیں ۔ اور جب سکرات موت طاری ہوتا ہے ۔ اس وقت یہ محسوس کرتے ہیں ۔ کہ ہم اللہ کے نزدیک ہیں ۔ اور وہ سب باتیں درست ثابت ہیں ۔ جن کا اظہار غریب کی زبان سے ہوا کرتا تھا ۔ تو اس وقت یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے متعلق ایک مضبوط اور مستحکم عقیدہ رکھیں گے ۔ جس میں شک وشبہ کی گنجائش نہ ہوگی ۔ مگر یہ ایمان جو دیکھ کر اور محسوس کرکے…
Read the full tafseer →(87) اور تم خود مختاری کے دعوے میں سچے ہو تو اس روح کو گلے میں آئے پیچھے بدن میں لوٹا کیوں نہیں دیتے - یعنی اگر تم کسی کے حکم میں نہیں ہو اور کسی کے زیر فرمان اور زیر اختیار نہیں ہو اور تمہارا حساب کتاب ہونا ہے نہ تم کو خدا کے حضور میں پیش ہونا ہے بلکہ تم خود مختار ہو اور تم اپنے ا س دعوے میں سچے ہو تو اس جان کو جو حلقوم میں پہنچ گئی ہے اس کو پھر واپس جسم میں کیوں نہیں پھیر لاتے اور واپس کیوں نہیں کردیتے یعنی وقوع قیامت اور بعث لعدالموت حق ہے جیسا کہ قرآن ناطق ہے اور دلائل عقل ونقلی سے ثابت ہے لیکن تم نہیں مانتے اور انکار کئے جاتے ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ روح پر اپنا قابو مانتے ہو یا تمہارے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–96
ف 5۔ مطلب یہ کہ قرآن صادق ہے، اور وہ وقوع بع کا ناطق ہے، پس مقتضی وقوع متحقق ہوا، اور مانع کوئی امر ہے نہیں، پس وقوع ثابت ہوگیا، اور اس پر بھی تمہارا انکار اور نفی کئے چلا جانا بدلالت حال اس کو مستلزم ہے، کہ گویا تم روح کو اپنے بس میں سمجھتے ہو کہ گو قیامت میں خدا دوبارہ روح ڈالنا چاہئے جیسا مقتضا قرآن کا ہے، مگر ہم نہ ڈالنے دیں گے اور بعض نہ ہونے دیں گے جب ہی تو ایسی زور سے نفی کرتے ہو، ورنہ جو اپنے کو عاجز جانے وہ دلائل وقوع کے بعد ایسے زور کی بات کیوں کہے۔
Read the full tafseer →تم اس کو لوٹا کیوں نہیں لیتے اگر تم سچے ہو ؟
78۔ غور کرو کہ یہ کس کو لوٹائے جانے کا کہا جا رہا ہے اس مرنے والے کے جسم کو یا جان کو ؟ اگر جسم اور جان ایک ہی چیز ہیں تو جسم تو تمہاری آنکھوں کے سامنے پڑا ہے یہ تو کہیں گیا ہی نہیں اور نہ ہی کہیں جاسکتا ہے اور نہ ہی اس کے جانے کا کوئی ارادہ ہے اس کو تو تم خود ہی کہیں لے جائو گے جدھر بھی لے جائو گے۔ اس کو ممی (Mumme) بنانا چاہتے ہو تو بنالو ‘ اس کو جلانا چاہتے ہو تو جلالو ‘ اس کو دفن کرنا چاہتے ہو تو کرلو ‘ اس کو بوٹی بوٹی اور بیرہ بیرہ کرنا چاہتے ہو تو کرلو یعنی اس کے ساتھ جو کچھ کرو گے خود ہی کرو گے یہ تو کہیں نھی نہیں جائے گا اور نہ ہی جاسکے گا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–87
In the current verse the word is used in the sense of hypocrisy and rejection of Allah's verses carelessly.
لَوْلَا إِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُومَ ﴿83﴾ وَأَنتُمْ حِينَئِذٍ تَنظُرُونَ ﴿84﴾ وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنكُمْ وَلَـٰكِن لَّا تُبْصِرُونَ ﴿85﴾ فَلَوْلَا إِن كُنتُمْ غَيْرَ مَدِينِينَ ﴿86﴾ تَرْجِعُونَهَا إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ ﴿87﴾
(So why [ do you ] not [ interfere ] when the soul [ of a dying person ] reaches the throat, and you are watching? And We are closer to him than you, but you do not perceive. So, if you are not going to be recompensed [ in the Hereafter for your deeds…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–96
42 Hadrat `Uqbah bin `Amir Juhni relates that when this verse was sent down the Holy Prophet (upon whom be Allah's peace) commanded that the people put it in their ruku`, i.e. they should recite Subhana Rabbi -yal-`Azim in ruku ' position in the Prayer. And when the verse Sabbih-ismi-Rabb-i- kal-A'la was Sent down, he enjoined that they put it in their sajdah, i.e. they should recite Subhana Rabb-i -yal-A 7a in sajdah. (Musnad Ahmad, Abu Da'ud, Ibn Majah, Ibn Hibban, Hakim). This show that even the most minor details of the procedure enjoined by the Holy Prophet (upon whom be Allah's peace)…
Read the full tafseer →