Explained with ayahs 83–87
عالم نزع کی بےبسی
اسی مضمون کی آیتیں سورة قیامہ میں بھی ہیں۔ فرماتا ہے کہ ایک شخص اپنے آخری وقت میں ہے نزع کا عالم ہے روح پرواز کر رہی ہے تم سب پاس بیٹھے دیکھ رہے ہو کوئی کچھ نہیں کرسکتا ہمارے فرشتے جنہیں تم دیکھ نہیں سکتے تم سے بھی زیادہ قریب اس مرنے والے سے ہیں۔ جیسے اور جگہ ہے آیت (وَهُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهٖ وَيُرْسِلُ عَلَيْكُمْ حَفَظَةً 61) 6۔ الانعام :61) اللہ اپنے بندوں پر غالب ہے وہ تم پر اپنے پاس سے محافظ بھیجتا ہے جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت آجاتا ہے تو ہمارے بھیجے ہوئے اسے ٹھیک طور پر فوت کرلیتے ہیں پھر وہ سب کے سب اللہ تعالیٰ مولائے حق کی طرف بازگشت کرائے جائیں گے جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–96
سورة الْوَاقِعَة 42
حضرت عقبہ بن عامر جہنی کی روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ اس کو تم لوگ اپنے رکوع میں رکھ دو ، یعنی رکوع میں سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْم کہا کرو۔ اور جب آیت سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلیٰ نازل ہوئی تو آپ نے فرمایا اسے اپنے سجدے میں رکھو، یعنی سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلیٰ کہا کرو (مسند احمد، ابوداؤد، ابن ماجہ، ابن حبان، حاکم)۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نماز کا جو طریقہ مقرر فرمایا ہے اس کے چھوٹے سے چھوٹے اجزاء تک قرآن پاک کے اشاروں سے ماخوذ ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–87
سابقہ آیات میں پہلے عقلی دلائل سے پھر حق تعالیٰ کی طرف سے ستاروں کی قسم کھا کر اور ان کے مقہور و مغلوب ہونے کی کیفیت کی طرف اشارہ کر کے دو باتیں ثابت کی گئی ہیں، اول یہ کہ قرآن اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اس میں کسی شیطان و جن وغیرہ کا کوئی تصرف نہیں ہو سکتا، جو کچھ اس میں ہے وہ حق ہے، دوسرا مسئلہ جو قرآن کے مسائل میں خاص اہمیت رکھتا ہے، وہ قیامت کا آنا اور سب مردوں کا زندہ ہو کر رب العزت کے سامنے حساب کے لئے پیش ہونا ہے اور اس کے آخر میں کفار و مشرکین کا ان سب دلائل واضحہ کے خلاف قرآن کی حقانیت اور قیامت میں مردوں کے زندہ ہونے سے انکار کا ذکر کیا گیا تھا۔
قیامت اور مرنے کے بعد زندہ ہونے سے انکار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–87
(فلولا اذا بلغت لحلقوم وانتم حینئذ تنظرون ونحن اقرب الیہ منکم ولکن لا تبصرون فلولا ان کنتم غیر مدینین ترجعونھا ان کنتم صدقین) (84، 87)
(خدا کے قبضہ قدرت سے کوئی باہر نہیں ہے)۔ یعنی اس ڈھٹائی سے تم قرآن کا جو مذاق اڑا رہے ہو اور سمجھتے ہو کہ جس جزاء و سزا سے یہ تمہیں آگاہ کر رہا ہے وہ محض ایک ڈراوا ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں ہے، نہ تم کسی کے محکوم ہو ورنہ تمہیں کسی کے آگے اپنے کسی قول و فعل سے متعلق کوئی جواب دہی کرنی ہے تو اپنے آپ کو یا اپنے کسی محبوب سے محبوب کو موت کے پنجہ سے کیوں نہ بچا لیتے ؟ جب تم میں سے کسی کی موت آتی ہے تو اس وقت تو تم اپنے آپ کو بالکل ہی بےبس پاتے ہو اور جان فرشتہ اجل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–86
85-1یعنی مرنے والے کے ہم، تم سے زیادہ قریب ہوتے ہیں۔ اپنے علم، قدرت کے اعتبار سے۔ یا ہم سے مراد اللہ کے کارندے یعنی موت کے فرشتے ہیں جو اس کی روح قبض کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–86
23: راجح تفسیر کے مطابق اس سے مراد فرشتے ہیں، اور کافروں کے اس اشکال کا جواب دیا جارہا ہے کہ ہم یہ کیسے یقین کرلیں کہ اللہ تعالیٰ کا کلام کسی کمی زیادتی کے بغیر اپنی اصلی صورت میں ہمارے پاس پہنچ رہا ہے اور کسی شیطان وغیرہ نے اس میں کوئی تصرف نہیں کیا ؟ اس کا یہ جواب دیا گیا ہے کہ قرآن کریم لوح محفوظ میں درج ہے اور اسے پاک فرشتوں کے سوا کوئی اور چھو بھی نہیں سکتا، اگرچہ یہاں خوب پاک سے مراد فرشتے ہیں، لیکن اس میں ایک اشارہ اس طرف بھی معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح عالم بالا میں پاک فرشتے ہی اسے چھوتے ہیں، اسی طرح دنیا میں بھی انہی لوگوں کو چھونا چاہیے جو پاک حالت میں ہوں، چنانچہ احادیث میں قرآن کریم…
Read the full tafseer →ونحن ............ تبصرون (6 5:5 8) ” اس وقت تمہاری بہ نسبت ہم اس کے قریب ہوتے ہیں لیکن تم نہیں دیکھ سکتے۔ “ یہاں اب منظر پر شان باری ہے۔ اللہ کا خوف چھا جاتا ہے۔ اللہ تو ہر وقت حاضروناظر ہے لیکن قرآن کا یہ کمال ہے کہ وہ انسان کے خوابیدہ شعور کو جگا دیتا ہے چناچہ مجلس موت پر اللہ کے شعوری حضور سے فضا زیادہ ہولناک ہوجاتی ہے جبکہ تمام لوگ ڈرے ہوئے سہمے ہوئے اور عاجز ہیں اور الوداع الوداع کا ماحول ہے۔
ایسی فضا میں ایک چیلنج آتا ہے نہایت ہی کپکپانے والی ، پر تاسف ، پر فغاں محفل میں اور سخت حسر تناک ماحول میں اللہ کی طرف سے ایک چیلنج آتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–87
1 یعنی ایسی بےفکری اور بےخوفی سے اللہ کی باتوں کو جھٹلاتے ہو، گویا تم کسی دوسرے کے حکم اور اختیار میں نہیں، یا کبھی مرنا اور خدا کے ہاں جانا ہی نہیں۔ اچھا جس وقت تمہارے کسی عزیز و محبوب کی جان نکلنے والی ہو، سانس حلق میں اٹک جائے، موت کی سختیاں گزر رہی ہوں اور تم پاس بیٹھے اس کی بےبسی اور درماندگی کا تماشا دیکھتے ہو، اور دوسری طرف خدا یا اس کے فرشتے تم سے زیادہ اس کے نزدیک ہیں جو تمہیں نظر نہیں آتے اگر تم کسی دوسرے کے قابو میں نہیں تو اس وقت کیوں اپنے پیارے کی جان کو اپنی طرف نہیں پھیر لیتے اور کیوں بادل نخواستہ اپنے سے جدا ہونے دیتے ہو دنیا کی طرف واپس لا کر اسے آنے والی سزا سے کیوں بچا نہیں…
Read the full tafseer →آیت 85{ وَنَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْہِ مِنْکُمْ وَلٰکِنْ لَّا تُبْصِرُوْنَ۔ } ”اور ہم تمہارے مقابلے میں اس سے قریب تر ہوتے ہیں لیکن تم دیکھ نہیں پاتے۔“
یہ تو تخصیص کے ساتھ عالم نزع کی کیفیت کا ذکر ہے لیکن اس کے علاوہ بھی اللہ تعالیٰ ہر وقت ہر بندے کے ساتھ ہوتا ہے ‘ جیسا کہ سورة قٓ میں فرمایا گیا ہے : { وَنَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْہِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ۔ } ”اور ہم تو انسان کی رگِ جان سے بھی زیادہ اس کے قریب ہوتے ہیں۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–86
40 موت کا منظر اور انسان کی بےبسی :۔ غَیْرَ مَدِیْنِیْنَ ۔ دین کا ایک معنی قانون جزا و سزا بھی ہے اور اس قانون کے مطابق اچھے اور برے اعمال کی جزا اور سزا دینا بھی۔ ان چند آیات میں مرنے والے اور اس کے عزیز و اقارب سب کی انتہائی بےبسی کا منظر پیش کیا گیا ہے۔ ایک طرف مرنے والا ہے جسے اپنی جان بچانا سب باتوں سے زیادہ عزیز ہے۔ پھر اس کے ساتھ اس کے عزیز و اقارب ہیں جنہوں نے اس کے علاج معالجہ میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی اور چاہتے ہیں کہ اس کی جان بچ جائے۔ دوسری طرف اللہ یا اس کے فرشتے ہوتے ہیں جو اس کی روح قبض کرنے آتے ہیں۔ پھر دیکھ لو غالب کون رہتا ہے اور مغلوب کون ؟ اللہ تعالیٰ کا ان منکرین آخرت…
Read the full tafseer →33۔ یعنی اس کے حالات ظاہری وباطنی سے تم سے کہیں زیادہ ہم واقف ہیں۔ (آیت) ” الیہ ضمیرہ مختصر کے لیے ہے جو سیاق کلام سے ظاہر ہے۔ المحتضر المغھوم من الکلام (روح)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–85
وانتم حینئذ تنظرون یعنی روح نکلتے ہوئے تم بےبسی اور لاچاری کے ساتھ دیکھتے ہو لیکن اس کو ٹال سکنے کی یا اسے کوئی فائدہ پہنچانے کی قدرت نہیں رکھتے، اس وقت تمہاری بہ نسبت علم کے اعتبار سے ہم اس سے زیادہ قریب ہوتے ہیں مگر تم کو نظر نہیں آتے۔
Read the full tafseer →اور ہم اس وقت اس مرتے آدمی سے تم
سے بھی زیادہ قریب ہوتے ہیں لیکن تم سمجھتے نہیں ہو۔
وَ نَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْہِ مِنْکُمْ : اور ہم اس مرتے آدمی کی حالت کو تم سے زیادہ جانتے ہیں۔ بیضاوی نے کہا : قرب سے مراد ہے جاننا کیونکہ قرب ہی علم کا سب سے قوی ذریعہ ہے۔ بغوی نے لکھا ہے ‘ ہم اس کی حالت کو جانتے ہیں۔ اس پر قدرت رکھنے والے اور اس کو دیکھنے میں تم سے زیادہ ہیں۔ بعض علماء کے نزدیک قرب خدا سے مراد ہے اللہ کے فرشتوں کا قریب الموت آدمی سے قرب جو روح قبض کرتے ہیں اور ماحول کے آدمیوں کی بہ نسبت اس سے زیادہ قریب ہوتے ہیں۔
اہل تفسیر کو قرب کی تاویلیں اس لیے کرنی پڑیں کہ ان کے نزدیک قرب صرف زمانی یا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–85
(81۔ 85) تو کیا اے اہل مکہ تم اس قرآن کریم کی جو تمہیں کو رسول اکرم پڑھ کر سناتے ہیں جھٹلاتے ہو یعنی یہ جنت و دوزخ بعث اور حساب کو جو بیان کرتے ہے انہیں اور اس سے بڑھ کر یہ ستاروں کے بارے میں کہتے ہو کہ فلاں ستارے کی وجہ سے ہم پر بارش ہوئی سو جس وقت روح حلق تک آپہنچتی ہے اور مکہ والو تم اس وقت دیکھا کرتے ہو کہ جب جان نکلے تو اس وقت ملک الموت مرنے والے شخص کے اس کے گھر والوں سے بھی زیادہ نزیک ہوتے ہیں اور وہ تمہیں نظر نہیں آتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–87
فَلَوْلَآ اِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُوْمَ۔۔۔۔۔۔”مدینین“ ”دان یدین دینا“ (جزادینا ، مالک ہونا ، حساب لینا ، حاکم ہونا) سے اسم مفعول ”مدین“ کی جمع ہے جو اصل میں ”مدیون“ تھا ، بدلا دیے گئے ، محاسبہ کیے گئے ، محکوم ، مملوک ، ان آیات میں ”فلولا“ دو دفعہ آیا ہے اور دونوں کی جزائ ”ترجعونھا ان کنتم صدقین“ ہے۔ ان آیات میں نزع کے عالم کا نقشہ کھینچ کر قیامت کے منکروں سے کہا گیا ہے کہ ایسا کیوں نہیں کہ مرتے وقت جب جان حلق تک آپہنچتی ہے اور تم پاس بیٹھے مرنے والے کو دیکھ رہے ہوتے ہو اور ہم تم سے زیادہ اس مرنے والے کے قریب ہوتے ہیں ، تو پھر اگر تم کسی کے محکوم نہیں اور نہ تم سے کوئی محاسبہ کرنے والا ہے اور…
Read the full tafseer →ونحن اقرب الیہ منکم، ہم قدرت، علم اور رئویت میں تمہاری بنسبت اس کے زیادہ قریب تھے۔ عامر بن عبد القیس نے کہا : میں نے کسی چیز کو نہیں دیکھا مگر میں نے اللہ تعالیٰ کو اپنی بنسبت اس کے زیادہ قریب دیکھا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ ارادہ کیا کہ ہمارے بھیجے ہوئے جو اس کی روح کو قبض کرنے کے ذمہ دار تھے وہ تمہاری بنسبت اس کے زیادہ قریب تھے۔ ولکن لا تبصرون۔ یعنی تم انہیں دیکھتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–85
35۔ ابو عبید فی فضائلہ سعید بن مبصور عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ ما سے روایت کیا کہ وہ یہ آیت پڑھتے تھے آیت ” وتجعلون رزقکم انکم تکذبون “ اور فرماتے تم بارشوں کو جھٹلاتے ہو اور کسی قوم پر بارش نہیں ہوئی مگر ان کے بعض کافر ہوگئے اور وہ یہ کہتے تھے کہ فلاں فلاں ستارے کی وجہ سے ہم پر بارش ہوئی۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ (یہ آیت) اتاری۔ آیت ” وتجعلون رزقکم انکم تکذبون “۔
رزق صرف اللہ تعالیٰ کے قبضہ میں ہے۔
36 ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے آیت ” وتجعلون رزقکم انکم تکذبون “ کے بارے میں روایت کیا کہ ہم کو یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے شدید گرمی میں سفر کیا اور لوگ ایسی…
Read the full tafseer →[وَنَحْنُ اَقْرَبُ اِلَيْهِ : اور ہم زیادہ قریب ہوتے ہیں اس جان کی طرف ][ مِنْكُمْ ۔ بہ نسبت تمہارے ][ وَلٰكِنْ لَّا تُبْصِرُوْنَ : اور لیکن تم دیکھتے نہیں ہو ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–87
اگر تمہیں جزا ملنی نہیں ہے نہیں ہے تو موت کے وقت روح کو کیوں واپس نہیں لوٹا دیتے
ان آیات میں اولاً انسانوں کی بےبسی ظاہر فرمائی ہے جو موت کے وقت ظاہر ہوتی ہے، ثانیاً انسانوں کی انہیں تینوں جماعتوں کا عذاب وثواب بیان فرمایا ہے جن کا پہلے رکوع میں تذکرہ فرمایا تھا۔
اللہ تعالیٰ شانہٗ نے انسانوں کو پیدا فرمایا اور انہیں بہت سے اعمال کرنے کا حکم دیا اور بہت سے اعمال سے منع فرمایا تاکہ بندوں کی فرمانبرداری اور نافرمانی کا امتحان لیا جائے، سورة الملک میں فرمایا ﴿خَلَقَ الْمَوْتَ وَ الْحَيٰوةَ لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ﴾ (موت اور حیات کو پیدا فرمایا تاکہ وہ آزمائے کہ تم میں اچھے عمل والا کون…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–96
حقانیت قرآن کریم و اثبات وقوع یوم عظیم :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” فلااقسم بمواقع النجوم ....... الی ...... فسبح باسم رب العظیم “۔
(ربط) اس سے قبل حق تعالیٰ شانہ نے اپنی قدرت وخالقیت کے عظیم دلائل و شواہد ذکر فرماتے اور ان انعامات عظیمہ کو ظاہر فرمایا جو اس نے دنیا کی انسانوں پر فائض فرماتے اور ان عظیم نعمتوں کو انکی زندگی کا مدار بنایا اب اس کے بعد قرآن کریم کی حقانیت بیان کرتے ہوتے یہ ذکر فرمایا کہ روز ان عظیم نعمتوں کو انکی زندگی کا مداربنایا اب اسکے بعد کریم کی حقانیت بیان کرتے ہوتے یہ ذکر فرمایا کہ روز قیامت کیسا عظیم دن ہے اور قیامت کے احوال کیسے ہولناک ہوں گے اور یہ کہ قیامت کے روز کس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–87
29:۔ ” فلولا اذا بلغت الحلقوم “ یہ معاندین پر زجر ہے۔ اذا، ترجعون، مؤخر سے متعلق ہے اور یہی لولا کا جواب ہے۔ حینئذ تنظرون اور ونحن اقرب الیہ منکم ولکن لا تبصرون۔ دونوں جملہ سابقہ کے مضمون سے حال ہیں۔ اور فلولا ثانی، بعد عہد کی وجہ سے لولا اول کا اعادہ ہے۔ اور ان کنتم صدقین، ان کنتم غیرمدینین کا اعادہ ہے۔ غیرمدینین ای غیر مملوکین ولا مقہورین (قرطبی ج 17 ص 231) ۔ غیر مجزیین (روح) ۔ وترجعونہا جواب لقولہ تعالیٰ فلولا اذا بلغت الحلقوم الخ، (ایضا) ۔ اب ترتیب عبارت یوں ہوگی۔ فلولا ترجعونہا اذا بلغت الحلقوم، ان کنتم غیر مدینین (کشاف) ۔ حاصل معنی یہ ہوا کہ اگر تم اس دعوے میں سچے ہو کہ تم اللہ کے مملوک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–96
ربط آیات :
ساتویں منزل کے آغاز یعنی سورة قٓ سے لے کر سورة الواقعہ تک زیادہ تر جزائے عمل ہی کا بیان ہورہا ہے۔ تاہم ان سورتوں میں دین کے چاروں بنیادی اصول آگئے ہیں۔ کسی سورة میں ایک اصول نمایاں ہے تو دوسری میں دوسرا نمایاں ہے مثلاً کسی سورت میں توحید کے اثبات اور شرک کی تردید کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے تو کسی میں رسالت کا تذکرہ وضاحت کے ساتھ آگیا ہے۔ کہیں قرآن کی حقانیت و عظمت کا بیان زیادہ ہے تو کہیں وقوع قیامت اور جزائے عمل کا مضمون وضاحت کے ساتھ بیان ہوا ہے۔ گزشتہ درس میں قرآن کی صداقت وحقانیت کے متعلق فرمایا کہ یہ قرآن کریم ہے جو لوح محفوظ میں درج ہے اور اس کو صرف ظاہری اور باطنی طور…
Read the full tafseer →وَنَحْنُ اَقْرَبُ اِلَيْہِ مِنْكُمْ وَلٰكِنْ لَّا تُبْصِرُوْنَ 85
قرب
الْقُرْبُ والبعد يتقابلان . يقال : قَرُبْتُ منه أَقْرُبُ وقَرَّبْتُهُ أُقَرِّبُهُ قُرْباً وقُرْبَاناً ، ويستعمل ذلک في المکان، وفي الزمان، وفي النّسبة، وفي الحظوة، والرّعاية، والقدرة . فمن الأوّل نحو : وَلا تَقْرَبا هذِهِ الشَّجَرَةَ [ البقرة/ 35] ، وَلا تَقْرَبُوا مالَ الْيَتِيمِ [ الأنعام/ 152] ، وَلا تَقْرَبُوا الزِّنى [ الإسراء/ 32] ، فَلا يَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرامَ بَعْدَ عامِهِمْ هذا [ التوبة/ 28] . وقوله : وَلا تَقْرَبُوهُنَ [ البقرة/ 222] ، كناية عن الجماع کقوله : فَلا يَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرامَ […
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–87
1 ؎ کس لیے کہ نفی کی صورت میں مخاطب کو خیال ہوتا ہے کہ غلاف کرنے میں امر کی تکذیب لازم آئے گی اس کو وہ گوارہ نہیں رکھتا (مثال نہی) تم نہ کرو اور نفی یہ کہ تم نہ کرو گے دوسری بات میں تاکید ہے۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–87
فَلَوْلَآ اِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُوْمَ ۔ وَاَنْتُمْ حِیْنَئِذٍ تَنْظُرُوْنَ ۔ وَنَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْہِ مِنْـکُمْ وَلٰـکِنْ لاَّ تُبْصِرُوْنَ ۔ فَلَوْلَآ اِنْ کُنْتُمْ غَیْرَمَدِیْـنِیْنَ ۔ تَرْجِعُوْنَھَآ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ۔ (الواقعۃ : 83 تا 87)
(پھر کیوں نہیں، جب جان حلق تک جا پہنچی۔ اور تم اس وقت دیکھ رہے ہو۔ اور ہم اس (مبتلائے نزع) شخص سے تمہاری نسبت زیادہ قریب ہوتے ہیں، لیکن تم دیکھ نہیں پاتے۔ پس کیوں نہیں، اگر تم غیرمحکوم ہو۔ تو اس جان کو واپس کیوں نہیں لے آتے، اگر تم سچے ہو۔ )
اللہ تعالیٰ کی قدرت سب پر حاوی ہے
ان آیات کریمہ میں نفسیاتی پہلو سے مخالفین کو یہ بات یاد دلائی گئی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–87
فہم القرآن
ربط کلام : قرآن مجید کو جھٹلانے والوں کو ان کی موت یاد کروائی گئی ہے تاکہ وہ ہوش کے ناخن لیں اور اپنے آپ کو سیدھی راہ پر ڈال کر اصحاب الیمین میں شامل ہوجائیں۔
اس سورت کا آغاز قیامت کی ہولناکیوں کے بیان سے ہوا۔ جس میں بتلایا گیا کہ قیامت کے دن لوگ ” اَصْحَابَ الْیَمِیْنِ ، اَصَحَاب الشِّمَالِ “ اور ” سَابِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ “ کی تقسیم کے مطابق ہوں گے لیکن بنیادی طور پر لوگ دو ہی گروہوں میں منقسم ہوں گے۔ ایک جنتی اور دوسرے جہنمی ہوں گے
الواقعہ کا اختتام بھی اسی مضمون پر کیا جارہا ہے کیونکہ قیامت کے انعام اور اس کی سزاؤں کا آغاز انسان کی موت کے ساتھ ہی شروع ہوجاتا ہے۔ اس لیے پہلے…
Read the full tafseer →85 : وَنَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْہِ مِنْکُمْ وَلٰکِنْ لَّا تُبْصِرُوْنَ (ہم اس وقت اس مرنے والے آدمی سے تمہاری نسبت زیادہ قریب ہوتے ہیں لیکن تم سمجھتے نہیں) ۔ الیہؔ کی ہٖ ضمیر سے مراد قریب المرگ شخص۔ لا تبصرونؔ نہ سمجھتے ہو اور نہ جانتے ہو۔
Read the full tafseer →84 ۔” وانتم حینئذ تنظرون “ مراد یہ ہے کہ تم اے اہل میت اس کی طرف دیکھتے ہو جب اس کا نفس نکل رہا ہوتا ہے اور کہا گیا ہے اس کے قول ” تنظرون “ کا معنی یعنی میرے امر کی طرف اور میری سلطنت کی طرف۔ تمہارے لئے اس کو دور کرنا ممکن نہیں ہوتا اور تم کسی چیز کے مالک نہیں ہوتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–96
83۔ 96۔ اوپر ذکر تھا کہ جن لوگوں نے محض عقل سے حشر کا انکار کیا ہے اور اس انکار کے سبب سے عقبیٰ کا کچھ سامان وہ لوگ نہیں کرتے ‘ یہ ان لوگوں کی کمی عقل اور ان کی سمجھ کا فتور ہے کیونکہ عقلی تجربہ سے تو یہ بات ثابت ہوتی ہے ‘ کہ اللہ تعالیٰ کے لیے دوسری دفعہ کا پیدا کرنا بہ نسبت پہلی دفعہ کے پیدا کرنے سے زیادہ آسان ہے ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اور طرح ان لوگوں کو سمجھایا ہے کہ عقلی تجربہ سے حشر کے ہونے میں شک باقی نہ رہنے کے بعد اگر ان کے دل میں یہ وہم بس گیا ہے کہ یہ انتظام الٰہی جو ان لوگوں کو جتلایا اور بتایا گیا ہے کہ مرنے کے بعد پھر جینا ہوگا۔ اور سزا اور جزا ہوگی۔ اس انتظام میں جو بات ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–85
(فَلَوْلَآ اِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُوْمَ ، وَاَنْتُمْ حِيْـنَىِٕذٍ تَنْظُرُوْنَ 84ۙوَنَحْنُ اَقْرَبُ اِلَيْهِ مِنْكُمْ وَلٰكِنْ لَّا تُبْصِرُوْنَ 85) یعنی جب روح حلق تک پہنچتی ہے اور تم اس حالت میں موت کے آنے کا منظر دیکھ رہے ہوتے ہو حالانکہ ہم اپنے علم اور اپنے فرشتوں کے ذریعے سے مرنے والے کے تم سے زیادہ قریب ہوتے ہیں مگر تم دیکھ نہیں سکتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–96
قرآن کو پاکبازوں کے علاوہ کوئی ہاتھ نہیں لگا سکتا
قول باری ہے (انہ لقراٰن کریم فی کتاب مکنون لا یمسہ الا المطھرون یہ ایک بلند پایہ قرآن ہے ایک محفوظ کتاب میں ثبت جسے کوئی ہاتھ نہیں لگا سکتا بجز پاک لوگوں کے) حضرت سلیمان ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا۔ قرآن کو پاک لوگوں کے سوا کوئی ہاتھ نہ لگائے۔ “ پھر انہوں نے قرآن کی تلاوت کی لیکن مصحف کو ہاتھ نہیں لگایا کیونکہ وہ باوضو نہیں تھے۔
حضرت انس ؓ بن مالک نے حضرت عمر ؓ کے اسلام لانے کے واقعہ کے سلسلے میں روایت ہے کہ حضرت عمر ؓ نے اپنی بہن سے کہا کہ ” مجھے وہ کتاب دو جسے تم لوگ پڑھتے ہو۔ “ بہن نے جواب دیا : ” عمر ! تم ناپاک ہو اور اس کتاب کو پاک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–86
[ 71] وقت نزع کی تذکیر و یاددہانی کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا اور نزع کے وقت انسان کی بےکسی اور بےبسی کی تصویر کا ذکر وبیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ جب روح حلق کو پہنچ جاتی ہے اور اس وقت تم دیکھ رہے ہوتے ہو یعنی تم دیکھ رہے ہوتے ہو، جانکنی کے اس منظر اور موت کی اس سختی کو جس سے مرنے والا دوچار ہوتا ہے، مگر تم کچھ نہیں کرسکتے، حالانکہ وہ تمہارے سامنے ایڑیاں رگڑ رہا ہوتا ہے { والتفت الساق بالساق الیٰ ربک یومئذً ن المساق } اور ہمارے فرشتے تمہارے سامنے اس کی جان قبض کر رہے ہوتے ہیں، اور تم لوگ اس وقت عاجزی اور بےچارگی کی تصویر بنے اس کے پاس کھڑے ہوتے ہو، تو پھر تم لوگ کس طرح کس منہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–96
زندگی کا فائدہ اٹھاؤ اور آخرت کماؤ
تشریح : پورا قرآن پاک ہی حکمت و دانائی سے بھرا پڑا ہے۔ اسی طرح یہ آیات بھی معرفت الہٰی کو واضح کرنے اور توحید کے مطلب کو واضح کرنے کے لیے دلیل دے رہی ہیں۔ اللہ کی حاکمیت، وحدانیت، عظمت و طاقت اس وقت ہر جاہل و عالم پر پوری طرح عیاں ہوجاتی ہے جب وہ اپنے سامنے اپنے عزیز رشتہ دار اور دوست احباب کو مرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ اس وقت بالکل بےبس ہوتے ہیں کیونکہ یہ معاملہ صرف اس بندے اور اس کے خالق کا ہوتا ہے۔ پھر اس کے مرجانے کے بعد کا تمام معاملہ بھی خالق اور اس کے درمیان ہوتا ہے جیسا کہ آیات 88 سے 96 تک بیان کیا گیا ہے۔ اللہ کی وحدانیت اور اللہ کی قربت حاصل کرنے کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–96
آیات 75 تا 96
اسرار ومعارف۔
قسم ہے ستاروں کے ڈوبنے کی اور اگر غورفکر کروتویہ سارانظام اس بات پر گواہ ہے کہ جس قادر مطلق نے ان کا غروب نئے طلوع کے لیے اور انہیں راہنمائی کا باعث بنادیا ہے اور دنیا کی آبادی کا باعث بن رہے ہیں اسی نظام کے بنانے والے نے ایمان وعمل میں ہدایت کے لیے قرآن نازل فرمایا ہے اور یہ قرآن بہت ہی عزت والا ہے جو ایک خزانے جیسے کتاب یعنی لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے جسے سوائے پاکیزہ لاگوں کے کوئی ہاتھ نہیں لگاتا اس کے مضامین پڑھ نہیں سکتا یعنی اللہ کے پاک فرشتے اس کے مضامین سے مطلع ہوتے ہیں اور فرشتہ وحی لاتا ہے شیطان اس کے مضامین کے قریب بھی نہیں جاسکتا۔
مس قرآن اور طہارت۔
اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–85
ف 1 یعنی اپنے علم یا ان فرشتوں کے ذریعے جو روحیں قبض کرنے کے لئے مقرر ہیں
Read the full tafseer →(56:85) ونحن اقرب الیہ منکم : اقرب قرب سے افعل التفضیل کا صیغہ۔ قریب تر، زیادہ نزدیک۔ منکم خطاب ہے اس سے جو مرنے والے کے گرد اس کو نزع کی حالت میں دیکھ رہے ہیں۔ الیہ میں ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع ہے وہ مریض جو کہ نزع کی حالت میں ہے۔
بیضاوی نے لکھا ہے :۔ عبر عن العلم بالقرب الذی ھو اقوی سبب الاطلاع : علم کو قرب سے تعبیر کیا ہے کیونکہ قرب ہی علم کا سب سے قوی ذریعہ ہے۔
بغوی نے کہا ہے :۔ ہم اس کی حالت کو جاننے، اس پر قدرت ، رکھتے ہیں اور اس کو دیکھنے میں تم سے قوی تر ہیں۔
بعض علماء کے نزدیک قرب خدا سے مراد اللہ کے فرشتوں کا قریب الموت آدمی سے قرب ہے جو روح کو قبض کرتے ہیں۔ اور ماحول کے آدمیوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–96
لغات القرآن آیت نمبر 75 تا 96
لا اقسم نہیں، میں قسم کھاتا ہوں۔ مکنون محفوظ المطھرون پاک و صاف رہنے والے۔ مدھنون سستی کرنے والے غیر مدینین حساب ہونے والا نہیں۔ روح راحت و آرام ریحان عیش و آرام کا سامان۔ تصلیہ ڈال دینا۔ حق الیقین سچائی کا پورا یقین۔
تشریح :- آیت نمبر 75 تا 96
کفار قریش اس بات کو خوب اچھی طرح جانتے اور پہچانتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ کی مقناطیسی اور مقبول و محبوب شخصیت اور قرآن کریم کے ابدی اصولوں کی سچئای اور کلام کی عظمت ایک ناقابل انکار حقیقت ہے لیکن کفار مکہ رسول دشمنی میں اس حد تک آگے بڑھ چکے تھے کہ آپ کو اور آپ کی سیرت کو زندگی بھر بہت قریب سے دیکھنے اور اس کا اعتراف کرنے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–96
روح نکلنے کا ذکر۔
(ف 1) اوپر ذکر تھا کہ جن لوگوں نے محض عقل سے حشر کا انکار کیا ہے اور اس کا انکار کے سبب سے عقبی کا کچھ سامان وہ لوگ نہیں کرتے یہ ان لوگوں کی کم عقلی اور ان کی سمجھ کا فتور ہے۔ کیونکہ عقلی تجربہ سے تو یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کو دوسری دفعہ کا پیدا کرنا بہ نسبت پہلی دفعہ پیدا کرنے کے زیادہ آسان ہے ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اور طرح ان لوگوں کو سمجھایا کہ عقلی تجربہ سے حشر کے ہونے میں شک باقی نہ رہنے کے بعد ، اگر ان کے دل میں یہ وہم بس گیا ہے کہ یہ انتظام الٰہی جو ان لوگوں کو جتلایا اور بتلایا گیا ہے کہ مرنے کے بعد پھر جینا ہوگا اور سزا اور جزا ہوگی، اس انتظام میں جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–96
[20] کہ یہی آخرت کی بڑی تیاری ہے اور اس نیک مشغلے میں لگ کر مکذبین کی دل آزار بیہودگیوں سے بھی یکسوئی رہتی ہے اور ان کے باطل خیالات کا رد بھی ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–86
لایمسہ الا المظھرون ۔ سے غرض یہ ہے ۔ کہ جس طرح لوح محفوظ میں فرشتے اس کی حفاظت اور نگرانی پر مقرر ہیں ۔ اسی طرح اس دنیا میں اسی جماعت کے سینے اس کے علوم ومعارف کی روشنی سے منور ہوتے ہیں ۔ جو پاکباز ہوتے ہیں ۔ تاریک اور فسق وفجور سے معمور دلوں میں اس کی کرنیں نہیں پہنچتیں فرمایا : تمہاری یہ کتنی بدبختی اور محرومی ہے ۔ کہ تم اس پاک کلام کو تسلیم کرنے میں تامل کرتے ہو ۔ اور تم نے یہ ٹھان لی ہے ۔ کہ بہر حال اس کی مخالفت کروگے ۔
Read the full tafseer →(85) اور ہم اس مرنے والے کے تم سے زیادہ قریب ہوتے ہیں لیکن تم ہمارے قرب علمی کو سمجھ نہیں سکتے اور تم ہم کو نہیں دیکھتے۔ یعنی جب کسی کی جان سمٹ کر اس کے حلق اور ٹنیٹو میں آجاتی ہے اور ٹینٹو میں پہنچ جاتی ہے اور تم اس وقت دیکھا کرتے ہو اور ہم بھی اپنے قرب علمی کی بنا پر تم سے زیادہ اس مرنے والے کے قریب ہوتے ہیں لیکن نہ تم ہم کو دیکھتے ہو اور ن تم ہمارے قرب علمی کو اپنے جہل کی وجہ سے سمجھ سکتے ہو ہم تم سے زیادہ مرنے والے کے حال کو جانتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–86
ف 4۔ یعنی تم سے زیادہ اس شخص کے حال سے واقف ہوتے ہیں، کیونکہ تم تو صرف ظاہری حالت دیکھتے ہو اور ہم اس کی باطنی حالت پر بھی مطلع ہوتے ہیں۔
Read the full tafseer →اور ہم تمہاری نسبت مرنے والے کو زیادہ قریب ہیں لیکن تم دیکھ نہیں سکتے
58۔ ہر انسان کے قریب جتنے عزیز و اقارت اور یہاں تک کہ خود اس کی اپنی ذات ہوتی ہے اس سے زیادہ قریب اللہ ربِّ کریم ہی ہوتا ہے کیونکہ وہی ان سب کا خالق ومالک ہے کوئی شخص اپنی ذات کا بھی مالک اور خالق نہیں ہے اور علاوہ ازیں بھی اگر غور کیا جائے تو اس کی دلیلیں بہت ہیں کہ انسان کی اپنی ذات سے بھی اللہ تعالیٰ زیادہ قریب ہوتا مثلاً اہر ایک انسان کے متعلق اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے کہ اس کو کیا کچھ کرنا ہے اور اس کے ساتھ کیا کیا کچھ پیش آنے والا ہے لیکن کسی انسان کو بھی علم نہیں کہ کل یعنی ابھی آنے والے وقت میں اس کو اپنی ذات کے سات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–87
In the current verse the word is used in the sense of hypocrisy and rejection of Allah's verses carelessly.
لَوْلَا إِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُومَ ﴿83﴾ وَأَنتُمْ حِينَئِذٍ تَنظُرُونَ ﴿84﴾ وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنكُمْ وَلَـٰكِن لَّا تُبْصِرُونَ ﴿85﴾ فَلَوْلَا إِن كُنتُمْ غَيْرَ مَدِينِينَ ﴿86﴾ تَرْجِعُونَهَا إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ ﴿87﴾
(So why [ do you ] not [ interfere ] when the soul [ of a dying person ] reaches the throat, and you are watching? And We are closer to him than you, but you do not perceive. So, if you are not going to be recompensed [ in the Hereafter for your deeds…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–96
42 Hadrat `Uqbah bin `Amir Juhni relates that when this verse was sent down the Holy Prophet (upon whom be Allah's peace) commanded that the people put it in their ruku`, i.e. they should recite Subhana Rabbi -yal-`Azim in ruku ' position in the Prayer. And when the verse Sabbih-ismi-Rabb-i- kal-A'la was Sent down, he enjoined that they put it in their sajdah, i.e. they should recite Subhana Rabb-i -yal-A 7a in sajdah. (Musnad Ahmad, Abu Da'ud, Ibn Majah, Ibn Hibban, Hakim). This show that even the most minor details of the procedure enjoined by the Holy Prophet (upon whom be Allah's peace)…
Read the full tafseer →