Al-Waaqia 56:57

Al-Waaqia · from ayah 57

56:57

نَحْنُ خَلَقْنٰكُمْ فَلَوْلَا تُصَدِّقُوْنَ ۟نَحۡنُ خَلَقۡنٰكُمۡ فَلَوۡلَا تُصَدِّقُوۡنَ

ہم نے تم کو (پہلی بار بھی تو) پیدا کیا ہے تو تم (دوبارہ اُٹھنے کو) کیوں سچ نہیں سمجھتے؟

— Fateh Muhammad Jalandhari

We have created you, so why do you not believe?

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 2 of surah · Ruku 15 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Waaqia

All translations of 56:57

ہم نے تمہیں پیدا کیا ہے پھر کیوں تصدیق نہیں کرتے؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

ہم نے تم کو (پہلی بار بھی تو) پیدا کیا ہے تو تم (دوبارہ اُٹھنے کو) کیوں سچ نہیں سمجھتے؟

— مولانا فتح محمد جالندہری

ہم ہی نے تم سب کو پیدا کیا ہے پھر تم کیوں باور نہیں کرتے؟

— مولانا محمد جوناگڑہی

ہم نے تمہیں پیدا کیا ہے، پھر تم تصدیق کیوں نہیں کرتے ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

ہم نے تمہیں پیدا کیا تو تم کیوں نہیں سچ مانتے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

ہم ہی نے تمہیں پیدا کیا تھا پھر تم (دوبارہ پیدا کئے جانے کی) تصدیق کیوں نہیں کرتے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

ہم نے ہی تمہیں پیدا کیا تو تم (دوبارہ اٹھنے کو) کیوں سچ نہیں مانتے ؟

— مولانا عبد السلام بھٹوی

بلاشبہ ہم نے تمہیں پیدا کیا ہے تو پھر تم تصدیق کیوں نہیں کرتے ؟

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

(ہم نے تم کو پیدا کیا ہے تو تم قیامت کی تصدیق کیوں نہیں کرتے ؟

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

ہم ہی نے پیدا کیا ہے تم سب کو (اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ سے) پھر تم لوگ تصدیق کیوں نہیں کرتے ؟

— مولانا اسحاق مدنی

ہم ہی نے تو تم کو پیدا کیا ہے سو تم (بعث ثانی) کی تصدیق کیوں نہیں کرتے ؟۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

ہم نے تمہیں پیدا کیا ہے تو تم لوگ تصدیق کیوں نہیں کرتے ؟

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

ہم نے تم کو پہلی بار بھی تو پیدا کیا ہے تو تم دوبارہ اٹھنے کو کیوں سچ نہیں سمجھتے ؟

— محترمہ رفعت اعجاز

We have created you, then why would you not confirm it?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

We have created you; then why do you not believe in it?

— Muhammad Taqi Usmani

We have created you; then why do you not believe in it?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

We created you, then why do you believe not

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

We created you. Will ye then admit the truth?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

We have created you, so why do you not believe?

— Saheeh International

It is We who have created you. Why then did you not testify to the Truth?

— Muhammad Sarwar

We have created you, why do you not then assent?

— Muhammad Habib Shakir

We! it is We Who created you: wherefore confess ye not?

— Abdul Majid Daryabadi

It is We Who have created you: why will ye not witness the Truth?

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 56:57

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 57–62

منکرین قیامت کو جواب اللہ تعالیٰ قیامت کے منکرین کو لاجواب کرنے کے لئے قیامت کے قائم ہونے اور لوگوں کے دوبارہ جی اٹھنے کی دلیل دے رہا ہے، فرماتا ہے کہ جب ہم نے پہلی مرتبہ جبکہ تم کچھ نہ تھے تمہیں پیدا کردیا تو اب فنا ہونے کے بعد جبکہ کچھ نہ کچھ تو تم رہو گے ہی۔ تمہیں دوبارہ پیدا کرنا ہم پر کیا گراں ہوگا ؟ جب ابتدائی اور پہلی پیدائش کو مانتے ہو تو پھر دوسری مرتبہ کے پیدا ہونے سے کیوں انکار کرتے ہو ؟ دیکھو انسان کے خاص پانی کے قطرے تو عورت کے بچہ دان میں پہنچ جاتے ہیں اتنا کام تو تمہارا تھا لیکن اب ان قطروں کو بصورت انسان پیدا کرنا یہ کس کا کام ہے ؟ ظاہر ہے کہ تمہارا اس میں کوئی دخل نہیں کوئی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 53–57

سورة الْوَاقِعَة 22 یہاں سے آیت 74 تک جو دلائل پیش کیے گئے ہیں ان میں بیک وقت آخرت اور توحید دونوں پر استدلال کیا گیا ہے، چونکہ مکہ کے لوگ نبی ﷺ کی تعلیم کے ان دونوں بنیادی اجزاء پر معترض تھے اس لیے یہاں دلائل اس انداز سے دیے گئے ہیں کہ آخرت کا ثبوت بھی ان سے ملتا ہے اور توحید کی صداقت کا بھی۔ سورة الْوَاقِعَة 23 یعنی اس بات کی تصدیق کہ ہم ہی تمہارے رب اور معبود ہیں، اور ہم تمہیں دوبارہ بھی پیدا کرسکتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 57–62

خلاصہ تفسیر ہم نے تم کو (اول بار) پیدا کیا ہے (جس کو تم بھی تسلیم کرتے ہو) تو پھر تم (باعتبار اس کے نعمت ہونے کے توحید کی اور باعتبار اس کے دلیل قدرت علی الاعادہ ہونے کے قیامت کی) تصدیق کیوں نہیں کرتے (آگے اس تخلیق کی پھر اس کے اسباب بقاء کی تفصیل و تذکیر ہے یعنی) اچھا پھر یہ بتلاؤ تم جو (عورتوں کے رحم میں) منی پہنچاتے ہو اس کو تم آدمی بناتے ہو یا ہم بنانے والے ہیں (اور ظاہر ہے کہ ہم ہی بناتے ہیں اور) ہم ہی نے تمہارے درمیان میں موت کو (معین وقت پر) ٹھہرا رکھا ہے (مطلب یہ کہ بنانا اور اس بنائے ہوئے کو ایک وقت خاص تک باقی رکھنا یہ سب ہمارا ہی کام ہے، آگے یہ بتلاتے ہیں کہ جیسا انسان کی ذات کا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

2۔ آگے آیات 57، 74 کا مضمون آگے بعث اور جزاء کے دلائل آ رہے ہیں جن کے انکار کا ذکر اوپر گزر چکا ہے۔ اسلوب بیان زجر و ملامت کا ہے۔ نظم کلام بالکل واضح ہے۔ آیات کی تلاوت کیجئے۔ (آیات۔۔ 57، 40) 3۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت (نحن خلقنکم فلولا تصدقون) (57)۔ خطاب انہی منکرین قیامت سے ہے جن کا قول (ابذا متنا و کنا ترابا وعظاما انا لمبعوثون) اوپر نقل ہوچکا ہے فرمایا کہ جب ہم ہی نے تم کو پیدا کیا اور اس حقیقت سے تمہیں مجال انکار نہیں ہے تو پھر قیامت کی تصدیق سے تمہیں کیوں گریز ہے ؟ مطلب یہ ہے کہ جب پہلی مرتبہ تمہیں پیدا کرنے سے ہم قاصر نہیں رہے تو در بدہ پیدا کرنے سے کیوں عاجز رہیں گے ؟ اول بار…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 57–58

57-1یعنی تم جانتے ہو کہ تمہیں پیدا کرنے والا اللہ ہی ہے، پھر تم اس کو مانتے کیوں نہیں ہو ؟ یا دوبارہ زندہ کرنے پر یقین کیوں نہیں کرتے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 55–58

14: اس سے مراد وہ اونٹ ہیں جو استسقاء کی بیماری کی وجہ سے پیتے چلے جائیں اور ان کی پیاس نہ بجھے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

پیدائش اور موت اور انتہا ، حیات اور موت ، ایک ایسا واقعہ ہے جس کے تجربے سے ہر شخص خود بھی گزرتا ہے اور لوگوں کی زندگی میں بھی مشاہدہ کرتا ہے۔ آخر وہ کیا وجہ ہے کہ وہ تصدیق نہ کریں کہ اللہ نے انہیں پیدا کیا ہے۔ اس حقیقت کا انسان پر اس قدر دباؤ ہے کہ انسان کے لئے خدا پر ایمان لانے کے سوا کوئی چارہ کار ہی نہیں ہے۔ نحن ............................ تصدقون (6 5: 7 5) ” ہم نے تمہیں پیدا کیا ہے پھر کیوں تصدیق نہیں کرتے۔ “

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

8 یعنی اس بات کو کیوں نہیں مانتے کہ پہلے بھی اس نے پیدا کیا اور وہ ہی دوبارہ پیدا کرے گا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 57{ نَحْنُ خَلَقْنٰـکُمْ فَلَوْلَا تُصَدِّقُوْنَ۔ } ”ہم نے تمہیں پیدا کیا ہے ‘ تو تم لوگ تصدیق کیوں نہیں کرتے ؟“ جب یہ تسلیم کرتے ہو کہ تم سب کو اللہ نے پیدا کیا ہے تو پھر تم لوگوں کو یہ یقین کیوں نہیں آتا کہ وہی اللہ تمہیں دوبارہ بھی پیدا کرسکتا ہے۔ اس میں آخر تعجب اور شک والی کون سی بات ہے ؟

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 56–59

27 رحم مادر میں انسانی تخلیق کا نقطہ آغاز :۔ پہلی قابل غور بات یہ ہے کہ انسان کا نطفہ بذات خود کیا چیز ہے ؟ وہ کن چیزوں سے بنتا ہے ؟ جن چیزوں سے نطفہ بنتا ہے وہ زندہ تھیں یا مردہ ؟ اور اس نطفہ کے بننے میں یا بنانے میں تمہارا بھی کچھ عمل دخل یا اختیار تھا ؟ پھر اس نطفہ کو رحم مادر میں ٹپکانے کی حد تک تو اختیار انسان کو ہے۔ اس کے بعد پھر اس کا اختیار کلی طور پر ختم ہوجاتا ہے۔ نطفہ کا ایک قطرہ لاکھوں جراثیم یا کیڑوں پر مشتمل ہوتا ہے جو صرف طاقتور خوردبین سے نظر آسکتے ہیں۔ اسی طرح رحم مادر میں نسوانی بیضہ کا وجود بھی خورد بین کے بغیر نظر نہیں آسکتا۔ نطفہ کا ایک جرثومہ جب نسوانی بیضہ میں داخل ہوتا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 56–57

18۔ منکروں پر حجت الزامی ہے۔ یعنی ہمارا تم کو پیدا کرنا اور نیست سے ہست کرنا تو تمہیں بھی تسلیم ہے تو پھر آخر بعث ثانی میں تمہیں عقلی اشکال یا دشواری ہی کیا نظر آرہی ہے ؟

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 57–59

نحن خلقنکم فلولا تصدقون الخ شروع سورت سے یہاں تک محشر میں انسانوں کی تین قسموں کا ذکر تھا، مذکورۃ الصدر آیات میں ان گمراہ لوگوں کو تنبیہ ہے جو سرے سے قیامت قائم ہونے اور دوبارہ زندہ ہونے کے قائل نہیں اور اس کی توحید کے قائل ہونے کے بجائے مختلف مظاہر قدرت کو شریک ٹھہراتے ہیں۔ مذکورہ مختصر فقرے میں ایک بڑا اہم سوال انسان کے سامنے پیش کیا گیا ہے دنیا کی تمام چیزوں کو چھوڑ کر انسان صرف اسی ایک بات پر غور کرے کہ وہ خود کس طرح پیدا ہوا ہے، تو اسے نہ قرآن کی تعلیم توحید میں کوئی شک رہ سکتا ہے نہ اس کی تعلیم آخرت میں، انسان آخر اسی طرح تو پیدا ہوتا ہے کہ مرد اپنا نطفہ عورت کے رحم تک پہنچا دیتا ہے مگر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ہم نے ہی (اوّل بار) پیدا کیا ہے پھر (دوبارہ پیدا کرنے کی) تم تصدیق کیوں نہیں کرتے۔ نحن خلقنکم : یعنی جب تم کچھ بھی نہیں تھے ہم نے ہی تم کو پیدا کیا اور تم کو اس کا اقرار بھی ہے۔ پھر دوبارہ زندہ ہو کر اٹھنے کی تصدیق کیوں نہیں کرتے۔ جو ابتداء تخلیق پر قدرت رکھتا ہے ‘ کیا وہ دوبارہ پیدا کرنے سے عاجز ہوگا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 54–57

(54۔ 57) اور پھر اس پر کھولتا ہوا پانی پینا ہوگا اور پھر پینا بھی پیاسے اونٹوں کی طرح اس لیے کہ پیاس کے مارے ہوئے اونٹ کا پیٹ سیر نہیں ہوگا۔ اوھیم کے معنی نرم زمین کے بھی بیان کیے ہیں۔ غرض حساب کے دن ان لوگوں کے کھانے اور پینے کے لیے یہ سامان ہوگا مکہ والو ہم نے تمہیں پہلی بار پیدا کیا پھر تم رسول اکرم کی تصدیق کیوں نہیں کرتے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

1۔ نَحْنُ خَلَقْنٰـکُمْ : قیامت کے دن لوگوں کے تین گروہوں میں تقسیم ہونے اور تینوں گروہوں کے ثواب اور عقاب کے ذکر کے بعد یہاں سے آیت (74) تک جو دلائل پیش کئے گئے ہیں ان میں آخرت اور توحید دونوں پر استدلال کیا گیا ہے ، کیونکہ مشرکین ان دونوں کے منکر تھے۔ یہ دلائل محض خیالی یا فلسفی باتیں نہیں بلکہ وہ واقعی اور حقیقی چیزیں ہیں جنہیں آدمی اپنی ذات میں محسوس کرتا ہے اور آنکھوں سے دیکھتا ہے۔ ان میں اس کی اپنی پیدائش کا ذکر ہے ، کھیتی کا ذکر ہے جسے وہ خود کاشت کرتا ہے ، پانی کا ذکر ہے جسے وہ پیتا ہے اور آگ کا ذکر ہے جس سے وہ بیشمار فوائد حاصل کرتا ہے۔ 2۔ فَلَوْلَا تُصَدِّقُوْنَ : یعنی تم جانتے ہو…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

(نحن خلقلنکم فولا۔۔۔۔ ) نحن خلقنکم فلولا تصذقون۔ تم دوبارہ اٹھائے جانے کی تصدیق کیوں نہیں کرتے (1) ؟ کیونکہ دوبارہ اٹھانا پہلی دفعہ پیدا کرنے کی طرح ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے ہم نے تمہارے رزق کو پیدا کیا تو تم کیوں اس کی تصدیق نہیں کرتے کہ یہ تمہارا کھانا ہے اگر تم ایمان نہیں بھی لاتے ؟

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 55–57

10۔ ابن عدی والشیرازی فتح الالقاب والحاکم وصححہ وابن مردویہ والخطیب نے تالی التلخیص میں اور ابن عساکر نے اپنی تاریخ میں ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے سورة واقعہ میں یہ آیت آیت فشربون شرب الہیم پڑھی (وہ پئیں گے پیاسے اونٹوں کی طرح) یعنی انہوں نے شین کی فتح کے ساتھ پڑھا اور یہ شرب سے ہے۔ 11۔ ابن مردویہ نے انس ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ اس طرح پڑھتے تھے۔ ” شَرب الہیم “ (پیاسے اونٹ کا پینا) ۔ 12۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سیر وایت کیا کہ ” شرب الیہم “ سے مراد ہے پیاسا اونٹ۔ 13۔ الطستی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق (رح) نے ان سے پوچھا کہ مجے اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[نَحْنُ : ہم نے ہی ] [خَلَقْنٰكُمْ : پیدا کیا ہے تم لوگوں کو ] [فَلَوْلَا تُصَدِّقُوْنَ : پھر تم لوگ کیوں نہیں تصدیق کرتے (اس کی) ] نوٹ۔ 1: آیت ۔ 57 سے 74 تک جو دلائل پیش کیے گئے ہیں ان میں بیک وقت آخرت اور توحید دونوں پر استدلال کیا گیا ہے ۔ انسان اگر صرف اسی ایک بات پر غور کرے کہ وہ خود کس طرح پیدا ہوا ہے تو اسے نہ قرآن کی تعلیم توحید میں کوئی شک رہ سکتا ہے اور نہ اس کی تعلیم آخرت میں۔ استقرار حمل سے وضع حمل تک ماں کے پیٹ میں بچہ کی درجہ بدرجہ تخلیق و پرورش ، ہر بچے کی الگ صورت گری اور ہر بچے کے اندر مختلف ذہنی و جسمانی قوتوں کو ایک خاص تناسب سے رکھنا ، کیا یہ سب کچھ خدائے واحد کے سوا کسی…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 57–59

بنی آدم کی تخلیق کیسے ہوئی ؟ دنیا میں ان کے جینے اور بسنے کے اسباب کا تذکرہ بنی آدم کی تینوں قسمیں بیان فرمانے کے بعد بنی آدم کی تخلیق کو بیان فرمایا اور بعض ان چیزوں کا تذکرہ فرمایا جو انکے لیے اسباب کے طور پر زندگی کا سامان ہیں، خطاب کا رخ منکرین کی طرف ہے لیکن نعمتوں کی یاددہانی سب ہی کے لیے ہے۔ ارشاد فرمایا ﴿نَحْنُ خَلَقْنٰكُمْ فَلَوْ لَا تُصَدِّقُوْنَ 0057﴾ ہم نے تم کو پیدا کیا (جبکہ تم کچھ بھی نہ تھے) کمافی سورة الدھر ﴿لَمْ يَكُنْ شَيْـًٔا مَّذْكُوْرًا 001﴾ سو تم کیوں تصدیق نہیں کرتے، (موت کے بعد اٹھائے جانے اور قیامت قائم ہونے پر کیوں ایمان نہیں لاتے) جس ذات پاک نے تمہیں عدم سے نکالا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 41–74

ذلت و خواری محرومین از ایمان وہدایت وشدائد روز قیامت، و دلائل بعث بعد الموت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” واصحب الشمال مااصحب الشمال ....... الی ....... باسم ربک العظیم “۔ (ربط) اس سے قبل اصحاب الیمین کی عزت و کرامت کا بیان تھا اور یہ کہ ان کو جنت میں کیسی عظیم الشان نعمتیں عطا کی جائیں گی تو اس کے بعد اصحاب الشمال اور ان بدنصیبوں کا ذکر ہے جو ایمان وہدایت سے محروم رہے ارشاد فرمایا۔ اور بائیں والے کیسے بدنصیب ہیں یہ بائیں والے ان پر قیامت کے روز شدائد اور مصائب کی کوئی حد نہ ہوگی یہ لوگ دہکتی ہوئی آگ اور کھولتے ہوئے گرم پانی میں ہوں گے اور ایسے سایہ میں جو سیاہ دھوئیں کا ہوگا جو نہ ہی ٹھنڈا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 57–61

19:۔ ” نحن خلقناکم “ یہ توحید پر پہلی عقلی دلیل ہے۔ نیز قیامت کی دلیل ہے۔ ہر دلیل میں ” افرایتم “ سے متنبہ کیا گیا ہے کہ ہر دلیل بالکل واضح اور روشن ہے تم خود سوچ کر بتاؤ کہ دلائل میں جو حقائم مذکور ہیں وہ درست ہیں یا نہیں۔ پہلی دلیل میں فرمایا تم خوب جانتے ہو کہ پہلی بار ہم نے تم کو پیدا کیا ہے تو پھر دوبارہ زندہ ہونے کو کیوں نہیں مانتے ہو ؟ جس نے تمہیں پہلی بار پیدا کرلیا ہے وہ دوبارہ پیدا کرنے پر بھی قادر ہے اور جو تم سب کا خالق ہے وہی برکات دہندہ ہے اور کوئی نہیں۔ افرایتم۔ یہ اس دلیل کی تفصیل ہے۔ بھلا یہ تو بتاؤ کہ بیویوں کے رحموں میں تم جو مادہ منویہ ڈالتے ہو کیا اس سے کامل ومکمل انسان…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 57–74

ربط آیات : اس سورة مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے زیادہ تر و قوع قیامت اور جزائے عمل کا ذکر کیا ہے۔ قیامت واقع ہونے کے بعد انسان تین گروہوں سابقین ، اصحاب یمین اور اصحاب شمال میں تقسیم ہوجائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی جزائے عمل کی تفصیل بھی بیان کردی ہے۔ پھر اللہ نے توحید ، رسالت ، قرآن کی صداقت و عظمت اور معاد چاروں مضامین بیان فرمائے ہیں اب ان آیات میں پہلے توحید اور قیامت کے کچھ دلائل بیان کیے ہیں۔ اس کے بعد رسالت اور قرآن کی عظمت کا ذکر آرہا ہے۔ تخلیق انسانی بطور دلیل : ارشاد ہوتا ہے نحن خلقنکم ہم نے پیدا کیا ہے ، تم کو فلالا تصدقون پس تم تصدیق کیوں نہیں کرتے ؟ ہر چیز کا خالق تو اللہ ہے جس سے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

نَحْنُ خَلَقْنٰكُمْ فَلَوْلَا تُصَدِّقُوْنَ۝ 57 خلق الخَلْقُ أصله : التقدیر المستقیم، ويستعمل في إبداع الشّيء من غير أصل ولا احتذاء، قال : خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] ، أي : أبدعهما، ( خ ل ق ) الخلق ۔ اصل میں خلق کے معنی ( کسی چیز کو بنانے کے لئے پوری طرح اندازہ لگانا کسے ہیں ۔ اور کبھی خلق بمعنی ابداع بھی آجاتا ہے یعنی کسی چیز کو بغیر مادہ کے اور بغیر کسی کی تقلید کے پیدا کرنا چناچہ آیت کریمہ : ۔ خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] اسی نے آسمانوں اور زمین کو مبنی بر حکمت پیدا کیا میں خلق بمعنی ابداع ہی ہے «لَوْلَا» يجيء علی وجهين : أحدهما : بمعنی امتناع الشیء لوقوع…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 57–60

ترکیب : نحن مبتداء خلقنا کم خبرہ افرائیتیم الھمزۃ للاستفہام والفاء للتفریع اوالعطف ما موصولۃ تمنون قراء الجمہور بضم الفوقیۃ من امنی یمعنی وقریٔ بفتحہا من منی یمعنی وھما بمعنی واحد قیل بینھما فرق امنی اذا انزل عن الجماع ومنی اذا انزل من احتلام والمعنی ماتصبومہ فی ارحام النساء والجملۃ صلۃ۔ والموصول مع صلۃ مفعول ارء یتم بمسبو قین ای لایسبقنا احد فیھرب من الموت اوالعذاب اولایغلبنا احد من سبقتہ علی کذا اذا غلبۃ علیہ علی الاول حال من فاعل قدرنا الموت کائنین علٰی ان نبدل امثالکم او علۃ تقدرنا وعلی بمعنی اللام و مانحن بمسبوقین اعتراض وعلی الثانی صلۃ ظلتم بفتح الظاء مع لام واحدۃ قریٔ بکسرھا معھا وقریٔ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

نَحْنُ خَلَقْنٰـکُمْ فَلَوْلاَ تُصَدِّقُوْنَ ۔ (الواقعۃ : 57) (ہم نے تمہیں پیدا کیا ہے، پھر تم کیوں تصدیق نہیں کرتے ہو ؟۔ ) خطاب ان ہی منکرین سے ہے جو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا بھی انکار کرتے تھے اور آخرت کو بھی تسلیم نہیں کرتے تھے۔ ان کے سامنے ایک ہی دلیل رکھی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں پیدا فرمایا، اگر تم اپنی خلقت پر غور کرو تو تمہیں اندازہ ہوجائے گا کہ تمہاری تخلیق میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور کا دخل نہیں، وہی واحد خالق ومالک ہے۔ اور قادرمطلق ہے کہ وہ اولین تخلیق پر بھی قادر ہے تو دوسری تخلیق پر بھی وہی قادر ہے۔ پھر اگلی آیت میں اس کی تفصیل بیان فرمائی گئی ہے۔

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 57–59

فہم القرآن ربط کلام : اللہ کی توحید اور آخرت کا انکار کرنے والوں سے ایک سوال جس میں اللہ تعالیٰ کے خالق ہونے کا ثبوت بھی ہے اور آخرت میں زندہ کرنے کی دلیل بھی۔ ہر انسان بالخصوص کافر اور مشرک کو یہ سوال کیا گیا ہے کیا ہم بچہ پیدا کرتے ہیں یا تم اسے پیدا کرتے ہو۔ لیکن اس کے باوجود تم اپنے خالق کو نہیں مانتے اور نہ ہی قیامت کے دن زندہ ہونے کی تصدیق کرتے ہو۔ کیا تم نے غور نہیں کیا کہ جو نطفہ تم ڈالتے ہو اس سے تم بچہ پیدا کرتے ہو یا ہم پیدا کرتے ہیں ؟ ظاہر ہے کہ بچہ پیدا کرنے والا صرف ایک ” اللہ “ ہے۔ قرآن مجید نے بڑی تفصیل کے ساتھ انسان کی تخلیق کا ذکر کیا ہے کہ پہلے انسان یعنی آدم (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

57 : نَحْنُ خَلَقْنٰکُمْ فَلَوْ لَاتُصَدِّقُوْنَ (ہم نے ہی پیدا کیا پھر تم تصدیق کیوں نہیں کرتے) لولا ھلا کے معنی میں تو بیخ کیلئے ہے۔ اس میں تخلیق اول کے ذریعہ تصدیق بعث پر آمادہ کیا گیا ہے کیونکہ وہ اول پیدائش کی تصدیق کرتے تھے۔ مگر جب ان کا مذہب تصدیق کے تقاضا کے خلاف تھا تو گویا وہ اس کے بھی مکذب ہوئے یا بعث سے ان کو آمادہ کیا گیا وہ اس طرح کہ جو ذات اولاً پیدا کرنے پر قادر ہے۔ دوبارہ پیدا کرنا اس کے لئے کیا مشکل ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

56 ۔” ھذا نزلھم “ یعنی جو زقوم اور حمیم ذکر کیا گیا ہے یعنی ان کا رزق اور ان کی غذا ہوگا۔ ” یوم الدین “ جس دن ان کو ان کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا پھر ان بعث میں حجت ذکر کی۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 57–61

57۔ 61۔ اوپر ذکر تھا کہ یہ بائیں ہاتھ والے نافرمان لوگ اس لئے عقبیٰ کے عذاب میں پکڑے جائیں گے کہ دنیا میں یہ لوگ حشر اور قیامت کی باتوں کو جھٹلاتے تھے ان آیتوں میں ان منکرین حشر کے انکار کو ضعیف کرنے کی چند باتیں ذکر فرمائی ہیں اور فرمایا ہے کہ اگرچہ ان لوگوں کو زبانی اس بات کا اقرار ہے کہ ان کو اللہ نے پیدا کیا ہے لیکن ان کے دل میں اس کا پورا یقین نہیں ہے۔ ورنہ یہ کسی عقل مند کا کام نہیں ہے کہ ایک دفعہ ایک کام کا ہوجانا آنکھوں کے سامنے دیکھے زبان سے اس کے ہوجانے کا اقرار کرے اور پھر دوبارہ اسی کام کے ہوجانے کا منکر ہو۔ سورة الزمر میں گزر چکا ہے ولئن سئلنھم من خلق السموت والارض لقوسلن اللہ جس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

پھر اللہ تعالیٰ نے حیات بعد الموت پر عقلی دلیل دیتے ہوئے فرمایا (نَحْنُ خَلَقْنٰكُمْ فَلَوْلَا تُصَدِّقُوْنَ ) ہم ہی نے تمہیں پیدا کیا پھر تم دوبارہ جی اٹھنے کی تصدیق کیوں نہیں کرتے۔ یعنی ہم نے کسی عاجزی اور تھکاوٹ کے بغیر تمہیں وجود بخشا اس کے بعد کہ تم کوئی قابل ذکر چیز نہ تھے کیا اس کام پر قدرت رکھنے والا، مردوں کو زندہ کرنے پر قادر نہیں ؟ کیوں نہیں وہ ہر چیز پر قادر ہے بنا بریں ان کے حیات بعد الموت کی تصدیق نہ کرنے پر ان کو زجر وتوبیخ کی ہے حالانکہ وہ ایسے ایسے امور کا مشاہدہ کرتے ہیں جو اس سے زیادہ بڑے اور زیادہ بلیغ ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 57–58

[ 51] منکرین کے قلوب وضمائر پر ایک دستک کا ذکر وبیان : سو منکرین کے قلوب وضمائر پر دستک دیتے ہوئے ان سے فرمایا گیا کہ جب ہم ہی نے پیدا کیا تم سب کو تو پھر تم لوگ تصدیق کیوں نہیں کرتے ؟ یعنی اس حقیقت کی کہ جس نے پہلی مرتبہ پیدا کیا وہ دوبارہ بھی پیدا کرسکتا ہے، اور بطریق اولیٰ پیدا کرسکتا ہے، کہ اعادہ تو ایجاد سے بہرحال سہل اور آسان ہوتا ہے، سو جب ہم تمہیں پہلی مرتبہ پیدا کرنے سے قاصر نہیں رہے تو دوبارہ پیدا کرنے سے کیوں عاجز رہیں گے ؟ جبکہ عام ضابطہ کے مطابق دوسری مرتبہ پیدا کرنا پہلی مرتبہ کے پیدا کرنے کی بنسبت زیادہ آسان ہوتا ہے، سو تم لوگوں کی یہ کیسی عجیب اور ٹیڑھی منطق ہے کہ تم پہلی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 7–57

تین قسم کے لوگ اور ان کی سزاوجزا تشریح : سب سے پہلے تو میدان حشر کی صورت حال یوں بیان کی گئی ہے کہ وہاں تین گروہوں میں لوگوں کو تقسیم کردیا جائے گا۔ جیسا کہ اکثر قرآن پاک میں داہنے ہاتھ کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ اور بائیں طرف کو نحوست اور بد فالی قرار دیا گیا ہے عربی میں بائیں ہاتھ کو شومی کہا جاتا ہے اسی سے اردو میں شومئی قسمت بنا ہے اور پھر سب سے اگلے گروہ کی فضیلت بیان کرتے ہوئے اس گروہ کو بہترین، متقی، پرہیزگار اور ہر نیکی کے کام میں سب سے آگے بڑھنے والے برگزیدہ لوگ شمار ہوتے ہیں اسکے بعد اولین، آخرین اور سابقوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس میں علماء کرام کا کافی اختلاف ہے جس میں پڑنے سے بہتر ہے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 39–74

آیات 39 تا 74۔ اسرار ومعارف۔ ان میں پہلے لوگوں میں سے بھی بہت سے لوگ ہوں گے اور بعدوالوں سے بھی بہت سے کہ ہر نجات پانے والاشامل ہوجائے گا اللہ نے ویسے رحمت فرمادی یا کسی کی شفاعت کام آگئی یا دوزخ سے ہوکرآ گیا کہ مومن کے لیے دوزخ نری سزا ہی نہ ہوگی بلکہ گناہ کا کھوٹ جلانے کی تدبیر ہوگی لہذا نکل کر آیا تو بھی اصحاب الیمین میں شامل ہوگا اب رہے تیسری قسم کے لوگ کفار تو ان کا حال سن لیجئے کہ وہ بائیں والے کیسے بدبخت ہوں گے کہ جلتے ہوئے پانی کو تیز بھاپ اور کھولتے ہوئے پانی میں ڈالے جائیں گے اور ان پر دھواں ہی دھواں بھردیا جائے گا جو نہ ٹھنڈا ہوگا اور نہ اس میں کوئی فرحت ولذت ہوگی بلکہ عذاب ہی عذاب…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 56–57

ف 7 یعنی اس بات کو سچ کیوں نہیں مانتے کہ جس طرح ہم نے تمہیں پہلے پیدا کیا اسی طرح ہم تمہیں دوبارہ بھی پیدا کریں گے ؟

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(56:57) لولاکیوں نہیں۔ ای ہلا۔ جب لولا اس معنی میں آئے تو اسکے بعد متصلاً فعل کا آنا ضروری ہے۔ جیسے آیت ہذا۔ یا۔ لولا ارسلت الینا رسولا (27:47) تو نے ہماری طرف پیغمبر کیوں نہ بھیجا۔ یا ۔ لولا یکلمنا اللہ (2:118) خدا ہم سے کلام کیوں نہیں کرتا تصدقون۔ مضارع جمع مذکر حاضر تصدیق (تفعیل) مصدر، تم تصدیق کرتے ہو۔ تم سچ مانتے ہو۔ فلولا تصدقون : پھر تم کیوں سچ نہیں مانتے ہو۔ یعنی جب تم کچھ نہ تھے تو تم کو اس نے پیدا کیا۔ پھر تم دوبارہ زندہ ہوکر اٹھنے کی تصدیق کیوں نہیں کرتے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 57–74

لغات القرآن آیت نمبر 57 تا 74 تمنون تم ٹپکاتے ہو۔ تحرثون تم کھیتی کرتے ہو۔ حطام چورہ چورہ۔ مغرمون تاوان بھرنے والے المزن بادل۔ اجاج کھارا۔ تورون تم سلگاتے ہ۔ تم جلاتے ہو۔ تشریح : آیت نمبر 57 تا 74 ماں کے پیٹ سے پیدا ہونا، زندگی اور موت، زمین سے کھیتی کا اگنا ابھرنا، بارش سے پانی کا برسنا اور ندی نالوں کی شکل اختیار کرنا، آگ اور اس سے ایندھن کا حاصل ہونا یہ سب اللہ کی وہ نعمتیں ہیں کہ اگر ان پر غور و فکر سے کام لیا جائے تو انسان کی جبین نیاز اللہ کے سامنے جھکنے پر مجبور ہوجائے گی۔ کیونکہ اسی نے اپنے رحم و کرم سے یہ نعمتیں عطا فرمائی ہیں اور اگر وہ چاہے تو ان نعمتوں کو چھین بھی سکتا ہے۔ اگر وہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 57–61

توحید کابیان۔ (ف 1) اوپرذکر تھا کہ یہ بائیں ہاتھ والے نافرمان لوگ اس لیے عقبی کے عذاب میں پکڑے جائیں گے کہ دنیا میں یہ لوگ حشر اور قیامت کی باتوں کو جھٹلاتے تھے ان آیتوں میں ان منکرین حشر کے انکار کو ضعیف کرنے کی چند باتیں ذکر فرمائی ہیں اور فرمایا کہ اگرچہ ان لوگوں کو زبانی اس بات کا اقرار ہے کہ ان کو اللہ نے پیدا کیا ہے لیکن ان کے دل میں اس کا پورا یقین نہیں ہے، ورنہ یہ کسی عقل مندی کا کام نہیں ہے کہ ایک دفعہ ایک کام کا ہوجاناآنکھوں کے سامنے دیکھے زبان سے اس کے ہوجانے کا اقرار کرے اور پھر دوبارہ اسی کام کے ہوجانے کا منکر ہو، سورة الزمر میں گزرچکا ہے ، ولئن سالتھم من خلق السماوات والارض…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 53–60

[8] یعنی حسب اقتضائے حکمت و مشیت کوئی بچپن ہی میں مرجاتا ہے، کوئی جوان ہو کر، کوئی ادھیڑ عمر میں مرتا ہے اور کوئی بڑھاپے تک پہنچ کر۔ جو ہم مقدر کرتے ہیں وہی ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 46–59

ف 1: جہنمی لوگوں کے متعلق دوسرا الزام یہ ہے کہ یہ توحید کے نور سے معرا تھے ۔ ایک خدا کے سامنے نہیں جھکتے تھے ۔ بلکہ اپنے اس مسلک پر مصر تھے ۔ ان کو ہرچند دلائل سے قائل کیا جاتا ۔ کہ شرک وکفر کے لئے کوئی وجہ نواز نہیں ہے ۔ اور منطقی طور پر اس عقیدہ کے حق میں کوئی دلیل نہیں ہے ۔ لیکن یہ برابر اس تاریکی میں بڑھتے چلے جاتے ۔ اور مسلمانوں کو چڑانے کے لئے بتوں کی پوجا کرتے ۔ پھر ان کا یہ عقیدہ بھی تھا ۔ کہ جو کچھ ہے یہی زندگی ہے ۔ مرنے کے بعد حشر ونشر کا عقیدہ دور از عقل ہے ۔ یہ ناممکن ہے ۔ کہ جب ہم مٹی میں مل کر مٹی ہوجائیں ۔ اور صرف بوسیدہ ہڈیاں رہ جائیں تو اس وقت ہم کو اور ہمارے آباؤ اجداد کو…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(57) ہم ہی نے تم کو پیدا کیا ہے پھر تم یقین کیوں نہیں کرتے۔ یعنی دوبارہ زندہ ہونے کا یقین کیوں نہیں کرتے اور یہ کیوں نہیں سمجھتے کہ جس نے پہلی مرتبہ بنایا ہے وہ دوبارہ بھی بنا سکتا ہے اور زندہ کرسکتا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ہم ہی نے تم کو پیدا کیا اور پھر تم اس کو اسچ کیوں نہیں سمجھتے 57۔ کیا انداز بیان ہے قرآن کریم کا اور طریقہ ہے تفہیم کا ‘ سبحان اللہ ! مشرکوں ‘ کافروں اور منافقوں کو سمجھانے کا کیہ طریقہ اختیار کیا گیا ہے۔ طریقہ بیان خود بتا رہا ہے کہ اس انداز تفہیم کو اختیار کر کے اللہ ربِّ کریم جو خالق ہے ان کا کس پیارے انداز سے اپنی مخلوق کو سمجھ کر سمجھا رہا ہے کہ تم سمجھ جائو اور کفر ‘ شرک اور منافقت سے باز آجائو ، توحید پر ایمان لے آئو اپنے پیدا کرنے والے کی شناخت کرو اور یقین جانو قیامت برپا ہونیوالے ہے یہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے اور اللہ تعالیٰ کا وعدہ کبھی غلط نہیں ہو سکتا۔ تم اپنی پیدائش پر ذرا غور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 57–62

Proof of the occurrence of the Day of Resurrection Thus far the Surah dealt with three categories of people on the Plain of Hashr (Gathering.) The verses so far described the reward and punishment of these three groups. The current set of verses warn the deviant skeptics and atheists who completely deny the Day of Judgment and life after death, or set up partners to Allah in His worship. The verses purport to tear down the curtain of negligence and ignorance that has kept man in the dark. Whatever exists, or is coming into existence at the present time, or will come into existence in the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 53–57

22 The arguments from here to verse 74 provide the reasoning to prove both the doctrines of `Tauhid and of Hereafter rationally. For it was there two basic doctrines of the Holy Prophet's teaching that the people of Makkah were debating and objecting to at that time. 23 That is, "Why don't you confine that We alone arc your Lord and God and We have the power to create you once again?"

Read the full tafseer →