Al-Waaqia 56:55

Al-Waaqia · from ayah 55

56:55

فَشٰرِبُوْنَ شُرْبَ الْهِیْمِ ۟ؕفَشٰرِبُوۡنَ شُرۡبَ الۡهِيۡمِؕ

اور پیو گے بھی تو اس طرح جیسے پیاسے اونٹ پیتے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And will drink as the drinking of thirsty camels.

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 2 of surah · Ruku 15 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Waaqia

All translations of 56:55

تونس لگے ہوئے اونٹ کی طرح پیو گے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور پیو گے بھی تو اس طرح جیسے پیاسے اونٹ پیتے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

پھر پینے والے بھی پیاسے اونٹوں کی طرح

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور پینا بھی اس طرح جیسے پیاس کی بیماری والے اونٹ پیتے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

پھر ایسا پیو گے جیسے سخت پیاسے اونٹ پئیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پس تم سخت پیاسے اونٹ کے پینے کی طرح پینے والے ہو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پھر پیاس کی بیماری والے اونٹوں کے پینے کی طرح پینے والے ہو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جسے تم پیاس کی بیماری والے اونٹ کی طرح پیوء گے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تون سے ہوئے اونٹوں کی طرح

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پھر تمہارا یہ پینا بھی ایسے ہوگا جیسے تونس لگے ہوئے اونٹ پیتے ہیں

— مولانا اسحاق مدنی

اور پینا بھی پیاس کے مارے ہوئے اونٹ کا سا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور ایسے پیو گے جیسے پیاس کا مارا اونٹ پیتا ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور پیو گے بھی اس طرح، جس طرح پیاسے اونٹ پیتے ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

drinking it as thirsty camels do.”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and to drink like camels suffering from the disease of over-thirst.

— Muhammad Taqi Usmani

and to drink like camels suffering from the disease of over-thirst.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"And you will drink (that) like Al-Him!"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And will drink as the drinking of thirsty camels.

— Saheeh International

like a thirsty camel".

— Muhammad Sarwar

And drink as drinks the thirsty camel.

— Muhammad Habib Shakir

Drinkers even as the drinking of thirsty camels.

— Abdul Majid Daryabadi

"Indeed ye shall drink like diseased camels raging with thirst!"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 56:55

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 41–56

اصحاب شمال اور عذاب الٰہی اصحاب یمین کا ذکر کرنے کے بعد اصحاب شمال کا ذکر ہو رہا ہے فرماتا ہے ان کا کیا حال دھوئیں کے سخت سیادہ سائے میں جیسے اور جگہ آیت (اِنْــطَلِقُوْٓا اِلٰى مَا كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَ 29؀ۚ) 77۔ المرسلات :29) فرمایا ہے یعنی اس دوزخ کی طرف چلو جسے تم جھٹلاتے تھے۔ چلو تین شاخوں والے سایہ کی طرف جو نہ گھنا ہے نہ آگ کے شعلے سے بچا سکتا ہے، وہ دوزخ محل کی اونچائی کے برابر چنگاریاں پھینکتی ہے، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا وہ سرد اونٹنیاں ہیں۔ آج تکذیب کرنے والوں کی خرابی ہے۔ اسی طرح یہاں بھی فرمان ہے کہ یہ لوگ جن کے بائیں ہاتھ میں عمل نامہ دیا گیا ہے یہ سخت سیاہ دھوئیں میں…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 53–57

سورة الْوَاقِعَة 22 یہاں سے آیت 74 تک جو دلائل پیش کیے گئے ہیں ان میں بیک وقت آخرت اور توحید دونوں پر استدلال کیا گیا ہے، چونکہ مکہ کے لوگ نبی ﷺ کی تعلیم کے ان دونوں بنیادی اجزاء پر معترض تھے اس لیے یہاں دلائل اس انداز سے دیے گئے ہیں کہ آخرت کا ثبوت بھی ان سے ملتا ہے اور توحید کی صداقت کا بھی۔ سورة الْوَاقِعَة 23 یعنی اس بات کی تصدیق کہ ہم ہی تمہارے رب اور معبود ہیں، اور ہم تمہیں دوبارہ بھی پیدا کرسکتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 39–56

ۉثُلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِيْنَ وَثُلَّةٌ مِّنَ الْاٰخِرِيْنَ ، ثلة میں معنی بڑی جماعت اور اولین و آخرین کی تفسیر میں حضرات مفسرین کے دو قول اوپر سابقون کے بیان میں مذکور ہوچکے ہیں، اگر اولین سے مراد حضرت آدم ؑ سے خاتم الانبیاء ﷺ کے زمانے تک کے حضرات اور آخرین سے آپ کی امت تا قیامت ہے، جیسا کہ بعض مفسرین نے فرمایا تو اس آیت کا حاصل یہ ہوگا کہ اصحاب الیمین یعنی مومنین متقین کی تعداد پچھلی امتوں کے مجموعہ میں ایک بڑی جماعت ہوگی اور تنہا امت محمدیہ میں ایک بڑی جماعت ہوگی، اس صورت میں اول تو امت محمدیہ کی فضیلت کے لئے یہ بھی کچھ کم نہیں کہ پچھلے لاکھوں انبیاء (علیہم السلام) کی امتوں کی برابر یہ امت…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 51–55

(ثم انکم ایھا الضالون المکذبون لا کلون من شجر من زقوم فما لون منھا البطون فشربون علیہ من الحمیم فشربون شرب الھیم) (51، 55) (یہ قریش کو براہ راست خطاب کر کے ارشاد ہوا کہ اے گمراہو اور جھٹلانے والو، جانتے ہو کہ اٹھائے جانے کے بعد کیا ہوگا ؟ اس کے بعد قوم رقوم کے خار دار اور کڑوے پتوں اور پھلوں سے اپنے پیٹ بھرو گے، پھر اس پر کھولتا ہوا پانی اس طرح پیو گے جس طرح سون سے ہوئے اونٹ پیتے ہیں۔ (ضالون اور مکذبون) کی دو صفتوں سے خطاب ان کے ان دو جرموں کے اعتبار سے ہے جو مذکور ہوئے۔ اوپر ان کے شرک اور تکذیب آخرت کا ذکر ہوا ہے، انہی کے لحاظ سے یہاں خطاب (ضالون اور مکذبون) کے الفاظ سے ہوا، یعنی اللہ کی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 45–56

45-1یعنی دنیا اور آخرت سے غافل ہو کر عیش و عشرت کی زندگی میں ڈوبے ہوئے تھے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 55–58

14: اس سے مراد وہ اونٹ ہیں جو استسقاء کی بیماری کی وجہ سے پیتے چلے جائیں اور ان کی پیاس نہ بجھے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

فشربون ............ الھیم (6 5:55) ” تونس لگے ہوئے اونٹ کی طرح پیو گئے۔ “ اونٹ کو جب تونس کی بیماری لگ جاتی ہے تو وہ پانی پیتا رہتا ہے اور سیر نہیں ہوتا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 54–55

6 یعنی گرمی میں تو نسا ہوا اونٹ جیسے پیاس کی شدت سے ایک دم پانی چڑھاتا چلا جاتا ہے۔ یہ ہی حال دوزخیوں کا ہوگا لیکن وہ گرم پانی جب منہ کے قریب پہنچائیں گے تو منہ کو بھون ڈالے گا، اور پیٹ میں پہنچے گا تو آنتیں کٹ کر باہر آپڑیں گی۔ (العیاذ باللہ)

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 55{ فَشٰرِبُوْنَ شُرْبَ الْہِیْمِ۔ } ”اور ایسے پیو گے جیسے پیاس کا مارا اونٹ پیتا ہے۔“ جس طرح پیاس زدہ اونٹ جلدی جلدی اپنے پیٹ میں پانی بھرتا چلا جاتا ہے تم بھی وہ کھولتا ہوا پانی اسی طرح اپنے پیٹو میں بھروگے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 53–55

26 ھیم۔ ھَیَامٌ بمعنی شدید قسم کی پیاس اور ھام بمعنی سخت پیاسا ہونا۔ اور ھیام اونٹ کی اس بیماری کو بھی کہتے ہیں جس میں اونٹ سخت پیاسا رہتا ہے۔ وہ پانی پیتا جاتا ہے لیکن پیاس بجھنے میں نہیں آتی۔ جیسے انسانوں کو استسقاء کی بیماری لاحق ہوجاتی ہے اور ھیم ایسے اونٹ کو کہتے ہیں جسے نہ بجھنے والی پیاس کی بیماری لگی ہو۔ گویا اہل دوزخ کو تھوہر بطور خوراک کھانے کے بعد کھولتا ہوا پانی پینے کو ملے گا۔ وہ اس کھولتے ہوئے پانی کو پیتے جائیں گے مگر ان کی پیاس ختم نہ ہوگی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 49–55

17۔ (جو خوب ڈگڈگا کر پانی سوکھتاچلا جاتا ہے اور پھر بھی اس کی پیاس نہیں بجھتی) جہنم کے شدائد کا بیان ہے جو کافروں کو چاروناچار بھگتنے ہوں گے۔ اور حشرکا منظر تو سب کو پیش آنا ہے۔ (آیت) ” من شجر من زقوم “۔ زقوم۔ پر حاشیہ سورة الصافات (پ 23) میں گزر چکا۔ (آیت) ” من زقوم “۔ میں من بیانیہ ہے۔ (آیت) ” شرب “۔ بالضم مصدر ہے اور اسم کے بھی معنی دیتا ہے۔ مشروب کے مرادف۔ الشرب بالضم مصدر قیل اسم لما یشرب (روح)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 39–56

ترجمہ : ایک بڑی جماعت اولین میں سے ہوگی اور ایک بڑی جماعت آخرین میں سے ہوگی اور اصحاب الشمال کیا ہی برے ہیں یعنی بائیں ہاتھ والے یہ لوگ آگ کی گرم ہوا (لو) میں ہوں گے جو مسامات میں نفوذ کر جائے گی اور کھولتے ہوئے پانی میں ہوں گے جو نہایت ہی گرم ہوگا اور سیاہ دھوئیں کے سایہ میں ہوں گے یحموم وہ دھواں جو نہایت سیاہ ہو، جو نہ ٹھنڈا ہوگا جیسا کہ دیگر سائے ٹھنڈے ہوتے ہیں اور نہ فرحت بخش یعنی خوش منظر یہ لوگ اس سے پہلے دنیا میں بڑی خوشحالی میں رہتے تھے طاعت کے لئے مشقت نہیں اٹھاتے تھے بڑے بھاری گناہ پر اصرار کرتے تھے یعنی شرک پر اور یوں کہا کرتے تھے کہ جب ہم مرجائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں رہ جائیں گے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 54–57

(54۔ 57) اور پھر اس پر کھولتا ہوا پانی پینا ہوگا اور پھر پینا بھی پیاسے اونٹوں کی طرح اس لیے کہ پیاس کے مارے ہوئے اونٹ کا پیٹ سیر نہیں ہوگا۔ اوھیم کے معنی نرم زمین کے بھی بیان کیے ہیں۔ غرض حساب کے دن ان لوگوں کے کھانے اور پینے کے لیے یہ سامان ہوگا مکہ والو ہم نے تمہیں پہلی بار پیدا کیا پھر تم رسول اکرم کی تصدیق کیوں نہیں کرتے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 51–56

ثُمَّ اِنَّکُمْ اَیُّہَا الضَّآلُّوْنَ الْمُکَذِّبُوْنَ۔۔۔۔:”الھیم“”اھیم“ (مذکر) اور ”ھیمائ“ (مؤنث) کی جمع ہے ، بروزن ”فعل“ ”ہا“ پر اصل میں ضمہ تھا ، ”یائ“ کی مناسبت سے ضمہ کو کسرہ سے بدل دیا ، جیسے ”ابیض“ اور بیضائ“ کی جمع ”بیض“ ہے۔ وہ اونٹ جنہیں ہیام (بروزن زکام) کا مرض لا حق ہو ، یعنی ایسی پیاس جس سے اونٹ پانی پیتے جاتے ہیں مگر وہ بجھتی ہی نہیں حتیٰ کہ وہ مرجاتے ہیں یا قرب الموت ہوجاتے ہیں۔ ان آیات کی تفسیر کے لیے دیکھئے سورة ٔ صافات (63 تا 68)

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

فشربون شرب الھیم۔ یہ نافع، عاصم اور حمزہ کی قرأت ہے باقی قراء نے اسے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے یہ دونوں عمدہ لعنتیں ہیں عرب کہتے ہیں : شربت شربا و شربا و شربا و شربا یعنی شین اور راء پر ضمہ ہے۔ ابو زید نے کہا : میں نے عربوں کو شین کے ضمہ، فتحہ اور کسرہ کے ساتھ پڑھتے ہوئے سنا ہے فتحہ یہی صحیح مصدر ہے کیونکہ ثلاثی سے ہر مصدر فعل کے وزن پر ہوتا ہے کیا تو نہیں دیکھتا کہ تو اسے ایک دفعہ کے عمل کی طرف پھیر دیتا ہے تو کہتا ہے : فعلۃ جس طرح شربۃ اور ضمہ کے ساتھ یہ اس سے اسم ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مفتوح اور مضموم دونوں مصدر ہیں شراب جس طرح اکل شرب جیسے ذکر اور شرب جو کسرہ کے ساتھ ہو اس سے مراد مشروب…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 55–57

10۔ ابن عدی والشیرازی فتح الالقاب والحاکم وصححہ وابن مردویہ والخطیب نے تالی التلخیص میں اور ابن عساکر نے اپنی تاریخ میں ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے سورة واقعہ میں یہ آیت آیت فشربون شرب الہیم پڑھی (وہ پئیں گے پیاسے اونٹوں کی طرح) یعنی انہوں نے شین کی فتح کے ساتھ پڑھا اور یہ شرب سے ہے۔ 11۔ ابن مردویہ نے انس ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ اس طرح پڑھتے تھے۔ ” شَرب الہیم “ (پیاسے اونٹ کا پینا) ۔ 12۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سیر وایت کیا کہ ” شرب الیہم “ سے مراد ہے پیاسا اونٹ۔ 13۔ الطستی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق (رح) نے ان سے پوچھا کہ مجے اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[فَشٰرِبُوْنَ : پھر پینے والے ہو ] [شُرْبَ الْهِيْمِ : پیاساے اونٹوں کا (سا) پینا ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 49–56

وقوع قیامت کا انکار کرنے والوں کا جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا ﴿ قُلْ اِنَّ الْاَوَّلِيْنَ وَ الْاٰخِرِيْنَۙ0049 لَمَجْمُوْعُوْنَ۠1ۙ۬ اِلٰى مِيْقَاتِ يَوْمٍ مَّعْلُوْمٍ 0050﴾ (آپ فرما دیجئے کہ بیشک اولین اور آخرین مقررہ معلوم دن کی طرف جمع کیے جائیں گے) یعنی قیامت ضرور واقع ہوگی۔ اللہ تعالیٰ کے علم میں اس کا جو وقت مقرر ہے اسی وقت آئے گی، سب اولین و آخرین اس وقت جمع ہوں گے اس دن بندوں کی پیشی ہوگی ایمان والوں کو جنت دی جائے گی اور اہل کفر وشرک دوزخ میں جائیں گے جہاں طرح طرح کے عذاب ہیں ان عذابوں میں سے ایک زقوم بھی ہے۔ ارشاد فرمایا ﴿ ثُمَّ اِنَّكُمْ اَيُّهَا الضَّآلُّوْنَ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 41–74

ذلت و خواری محرومین از ایمان وہدایت وشدائد روز قیامت، و دلائل بعث بعد الموت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” واصحب الشمال مااصحب الشمال ....... الی ....... باسم ربک العظیم “۔ (ربط) اس سے قبل اصحاب الیمین کی عزت و کرامت کا بیان تھا اور یہ کہ ان کو جنت میں کیسی عظیم الشان نعمتیں عطا کی جائیں گی تو اس کے بعد اصحاب الشمال اور ان بدنصیبوں کا ذکر ہے جو ایمان وہدایت سے محروم رہے ارشاد فرمایا۔ اور بائیں والے کیسے بدنصیب ہیں یہ بائیں والے ان پر قیامت کے روز شدائد اور مصائب کی کوئی حد نہ ہوگی یہ لوگ دہکتی ہوئی آگ اور کھولتے ہوئے گرم پانی میں ہوں گے اور ایسے سایہ میں جو سیاہ دھوئیں کا ہوگا جو نہ ہی ٹھنڈا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 49–55

ف 17:۔ ” قل ان الاولین “ یہ مشرکین کے انکار و تعجب کا جواب ہے۔ آپ فرما دیں اللہ تعالیٰ کیلئے یہ کوئی مشکل نہیں وہ تماما گلے اور پچھلے لوگوں کو اس معلوم و متیقن دن میں ضرور جمع کرے گا۔ ” ثمانکم۔ الایۃ “ یہ اہل جہنم کی طرف التفات ہے۔ اے گمراہو اور جھٹلانے والو ! قیامت قائم ہونے کے بعد تم سب کو جہنم میں ڈالا جائے گا۔ اور وہاں تمہیں زقوم ایسا پر خار اور نہایت ہی تلخ درخت کھانے کے لیے ملے گا۔ جسے تم خوب پیٹ بھر کر کھاؤ گے۔ پھر جب شدت کی پیاس لگے گی تو اس پر نہایت ہی گرم کھولتا ہوا پانی پینے کو ملے گا جسے تم اس طرح پیوگے جس طرح پیاسے اونٹ پیتے ہیں۔ پیاسا اونٹ خوب سیر ہو کر پانی پیتا ہے اور پھر اپنے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 41–56

ربط آیات : سورۃ کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے وقوع قیامت کا ذکر اور اس کی ابتدائی کیفیت بھی بیان فرمائی۔ پھر انسانوں کے تین گروہوں میں تقسیم ہوجانے کا ذکر کیا ، جن میں سے دو گروہ کامیاب ہوں گے اور تیسرا گروہ ناکام ہوگا۔ کامیاب ہونے والوں میں سابقین تو بڑے بلند درجوں میں ہوں گے ، اور اصحاب یمین بھی اللہ کی رحمت کے مقام میں آرام و راحت میں ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ ان کو بیشمار نعمتیں عطا کرے گا۔ سابقین پہلی امتوں میں زیادہ ہوں گے کیونکہ ان میں اللہ کے نبی بھی شامل ہوں گے اور پچھلی امت میں ان کی تعداد نسبتاً کم ہوگی ۔ البتہ اصحاب یمین پہلوں اور پچھلوں سب میں بکثرت ہوں گے۔ اصحاب شمال کا حال : کامیاب…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَشٰرِبُوْنَ شُرْبَ الْہِيْمِ۝ 55 ۭ هيم يقال : رجل هَيْمَانُ ، وهَائِمٌ: شدید العطش، وهَامَ علی وجهه : ذهب، وجمعه : هِيمٌ ، قال تعالی: فَشارِبُونَ شُرْبَ الْهِيمِ [ الواقعة/ 55] والْهُيَامُ : داء يأخذ الإبل من العطش، ويضرب به المثل فيمن اشتدّ به العشق، قال : أَلَمْ تَرَ أَنَّهُمْ فِي كُلِّ وادٍ يَهِيمُونَ [ الشعراء/ 225] أي : في كلّ نوع من الکلام يغلون في المدح والذّمّ ، وسائر الأنواع المختلفات، ومنه : الْهَائِمُ علی وجهه المخالف للقصد الذاهب علی وجهه، وهَامَ : ذهب في الأرض، واشتدّ عشقه، وعطش، والْهِيمُ : الإبل العطاش، وکذلک الرّمال تبتلع الماء، والْهِيَامُ من الرمل : الیابس، كأنّ به عطشا . (…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 41–56

ترکیب : السموم حرالناروقیل الریح الحارۃ جداوالحمیم الماء الحار الشدید الحرارۃ یحموم یفعول من الاحم او الحمیم وھوالاسود یقال اسود یحموم صفۃ لظلٍ اوحال وکذا لاباردولاکریم الاستفہام للانکار اذا والعامل فیہ مایدل علیہ مبعوثون لان مابعد الاستفہام لایعمل فیماقبلہ وآباؤنا معطوف علی الضمیر فی لمبعوثون لوقوع الفصل بینھما بالھمزۃ والمیقات ماوقت بہ الشیء ای حددمنہ مواقیت الاحرام والاضافۃ بمعنٰی من والمعنی انھم یحشرون الی ماوقتت بہ الدنیا من یوم الحساب۔ من شجر من زائدۃ وقیل لابتداء الغایۃ من زقوم من بیانیۃ منہا الضمیر تعود الی شجر الزقوم لکون الشجراسم جنس واسم الجنس یذکر و یؤنث شرب الہیم شرب قراء…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 51–56

ثُمَّ اِنَّـکُمْ اَیُّھَا الضَّآلُّوْنَ الْمُکَذِّبُوْنَ ۔ لَاٰکِلُوْنَ مِنْ شَجَرٍ مِّنْ زَقُّوْمٍ ۔ فَمَالِـُٔوْنَ مِنْھَا الْبُطُوْنَ ۔ فَشٰرِبُوْنَ عَلَیْہِ مِنَ الْحَمِیْمِ ۔ فَشٰرِبُوْنَ شُرْبَ الْھِیْمِ ۔ ھٰذَا نُزُلُہُمْ یَوْمَ الدِّیْنِ ۔ (الواقعۃ : 51 تا 56) (اے گمراہو، اور جھٹلانے والو !۔ تم شجرِزقوم کی غذا کھائو گے۔ پھر اسی سے اپنے پیٹ بھرو گے۔ پھر اس پر کھولتا پانی پیو گے۔ تونس لگے ہوئے اونٹوں کی طرح۔ یہ ان کی پہلی مہمانی ہوگی جزاء کے دن کی۔ ) قریش سے مزید کہا گیا، اے گمراہو اور جھٹلانے والو ! کہ تم نے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی بجائے شرک کا راستہ اختیار کیا، اور آخرت کو تم ہمیشہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 52–56

فہم القرآن ربط کلام : لوگوں کے حقوق غصب کرنے، بڑے بڑے گناہوں پر اصرار کرنے اور قیامت کا انکار کرنے والوں کی مزید سزا۔ جو لگ حق داروں کو ان کے حق سے محروم رکھتے ہیں اور اپنے گناہوں پر اصرار کرتے ہیں انہیں جہنم میں جھونکا جائے گا۔ ان کے لیے تھور کا کھانا ہوگا اور پینے کے لیے کھولتا ہوا پانی دیا جائے گا۔ وہ اس طرح گھونٹ بھریں گے جس طرح پیاسا اونٹ گھونٹ بھرتا ہے۔ ملائکہ انہیں جھڑکتے ہوئے کہیں گے آج کے دن تمہاری یہی مہمان نوازی ہے۔ زقوم کا درخت جہنم کی تہہ سے پیدا ہوگا۔ (الصّٰفٰت : 64) ” شدید آگ میں جھلس رہے ہوں گے۔ انہیں پینے کو کھولتے ہوئے چشمے کا پانی دیا جائے گا۔ خاردار سوکھی گھاس کے سوا کوئی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

55 : فَشَارِبُوْنَ شُرْبَ الْھِیْمِ (پینا بھی پیاسے اونٹوں جیسا) قراءت : شُرْب کی شین کو مدنی، عاصم، حمزہ، سہل نے مضموم پڑھا۔ اور دیگر قراء نے فتحہ شین کے ساتھ شرب پڑھا۔ اور یہ دونوں ہی مصدر ہیں۔ الھیمؔ پیاسے اونٹ جو سیراب نہ ہوں۔ یہ اھیم و ھیماء کی جمع ہے۔ حاصل یہ کہ : ان پر ایسی بھوک مسلط کردی جائے گی جو ان کو زقوم کھانے پر مجبور کر دے گی۔ جو کہ تلچھٹ کی طرح ہوگا۔ جب اس سے وہ اپنے پیٹ پر کرلیں گے۔ تو ان پر ایسی پیاس مسلط کردی جائے گی جو ان کو گرم پانی پینے پر مجبور کرے گی۔ ایسا گرم پانی جو ان کی انتڑیوں تک کو گلا کر پیٹ سے باہرنکال دے گا۔ مارے شدت پیاس کے وہ پیاسے اونٹوں کی طرح بڑے بڑے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 48–55

47 ۔” وکانوا یقولون ائذامتنا وکنا ترابا وعظاماء انا لمبعوثون “ ابو جعفر، نافع اور یعقوب رحمہم اللہ نے ” ائذا “ استفہام کے ذریعے پڑھا ہے۔ ” انا “ استفہام کو چھوڑ کر اور دیگر حضرات نے دونوں میں استفہام کے ساتھ پڑھا ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 41–56

41۔ 56۔ مقربین اور دائیں ہاتھ والوں کے بعد یہ بائیں ہاتھ والوں کے حال کا ذکر فرمایا۔ سموم اس گرم ہوا کو کہتے ہیں جو آدمی کے جسم کے اندر گھس جاتی ہے اور دل اور جگر کو جلا دیتی ہے۔ یحموم کے معنی دھواں زقوم وہ کانٹے دار درخت دوزخ میں ہوا جو بھوک کے وقت دزخیوں کو کھلایاجائے گا۔ ترمذی 1 ؎ نسائی اور ابن ماجہ وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اگر تھوڑا سا زقوم بھی زمین پر آن پڑے تو اس کی بدبو سے تمام اہل دنیا کی زندگی تلخ ہوجائے۔ ترمذی اور حاکم نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔ معتبر سند سے بیہقی مسند 2 ؎ امام احمد وغیرہ میں ابی امامہ اور اب دردا سے جو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 54–55

فَشٰرِبُوْنَ عَلَيْهِ مِنَ الْحَمِيْمِ ۔ فَشٰرِبُوْنَ شُرْبَ الْهِيْمِ 55۝ۭ ) رہا ان کا مشروب تو وہ بدترین مشروب ہے وہ اس تھوہر کے کھانے کے بعد کھولتا ہوا پانی پئیں گے جو ان کے پیٹوں میں جوش مارے گا وہ اسے پیاسے اونٹ کی طرح پئیں گے جس کی پیاس انتہائی شدیدی ہوگی (الھیم) سے مراد ایک بیماری ہے جو اونٹوں کو لاحق ہوتی ہے اس بیماری کی وجہ سے پانی پینے سے اونٹ کی پیاس نہیں بجھتی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 49] دوزخیوں کے پینے کی ہولناک کیفیت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ پھر تم کو پینا ہوگا وہ کھولتا ہوا پانی تونس لگے ہوئے اونٹوں کی طرح۔ " ہیم " جمع ہے " اھیم " کی جو مشتق و ماخوذ ہے " ہیام " سے ‘ جو نام ہے اونٹوں کی ایک ایسی بیماری کا جس کے بعد وہ پانی پیتے جاتے ہیں، مگر سیر نہیں ہوتے،[ قرطبی، مدارک، محاسن، ابن کثیر، خازن، وغیرہ ] والعیاذ باللّٰہ العظیم من کل مرض من الامراض ومن کل نوع من انواع العذابسو منکروں اور حق کی تکذیب کرنے والوں کو تونس لگے ہوئے اونٹوں کی طرح وہ کھولتا ہوا پانی پینا ہوگا، جس کو وہ پیتے جائیں گے مگر ان کی پیاس نہیں بجھے گی۔ سو یہ ایک ہولناک عذاب ہوگا،

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 7–57

تین قسم کے لوگ اور ان کی سزاوجزا تشریح : سب سے پہلے تو میدان حشر کی صورت حال یوں بیان کی گئی ہے کہ وہاں تین گروہوں میں لوگوں کو تقسیم کردیا جائے گا۔ جیسا کہ اکثر قرآن پاک میں داہنے ہاتھ کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ اور بائیں طرف کو نحوست اور بد فالی قرار دیا گیا ہے عربی میں بائیں ہاتھ کو شومی کہا جاتا ہے اسی سے اردو میں شومئی قسمت بنا ہے اور پھر سب سے اگلے گروہ کی فضیلت بیان کرتے ہوئے اس گروہ کو بہترین، متقی، پرہیزگار اور ہر نیکی کے کام میں سب سے آگے بڑھنے والے برگزیدہ لوگ شمار ہوتے ہیں اسکے بعد اولین، آخرین اور سابقوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس میں علماء کرام کا کافی اختلاف ہے جس میں پڑنے سے بہتر ہے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 39–74

آیات 39 تا 74۔ اسرار ومعارف۔ ان میں پہلے لوگوں میں سے بھی بہت سے لوگ ہوں گے اور بعدوالوں سے بھی بہت سے کہ ہر نجات پانے والاشامل ہوجائے گا اللہ نے ویسے رحمت فرمادی یا کسی کی شفاعت کام آگئی یا دوزخ سے ہوکرآ گیا کہ مومن کے لیے دوزخ نری سزا ہی نہ ہوگی بلکہ گناہ کا کھوٹ جلانے کی تدبیر ہوگی لہذا نکل کر آیا تو بھی اصحاب الیمین میں شامل ہوگا اب رہے تیسری قسم کے لوگ کفار تو ان کا حال سن لیجئے کہ وہ بائیں والے کیسے بدبخت ہوں گے کہ جلتے ہوئے پانی کو تیز بھاپ اور کھولتے ہوئے پانی میں ڈالے جائیں گے اور ان پر دھواں ہی دھواں بھردیا جائے گا جو نہ ٹھنڈا ہوگا اور نہ اس میں کوئی فرحت ولذت ہوگی بلکہ عذاب ہی عذاب…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 53–55

ف 6 اور ” پھر بھی ان کی پیاس نہیں بجھتی “ اونٹ کو ایک بیماری استقاء کی طرح ہوتی جاتی ہے۔ اس میں وہ جتنا پانی پاتا ہے سب پی جاتا ہے لیکن سیراب نہیں ہوتا۔ دوزخیوں کو بھی اس طرح کی پیاس میں مبتلا کیا جائے گا اور پھر پینے کے لئے کھولتا ہوا پانی دیا جائے گا اعاذنا اللہ منھا

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(56:55) فشربون :عاطفہ، شربون اسم فاعل جمع مذکر۔ شرب (باب سمع) مصدر۔ پینے والے (بنوگے) یا پئو گے۔ شرب الیہم : شرب مفعول۔ اسم مصدر۔ مضاف، الیہم مضاف الیہ جمع اھیہم واحد مذکر۔ اور ھیماء واحد مؤنث کی، ھیام۔ اونٹ کا مرض استسقاء جس سے وہ پانی پی پی کر مرجاتا ہے۔ الہیم : ان اونٹوں کو کہتے ہیں جن کو استسقاء کا مرض لگا ہوا ہو، فشربون شرب الہیم : تم اس طرح (پیٹ بھر بھر کر) پئو گے جیسا کہ استسقاء کے مریض اونٹ پیتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 9–56

لغات القرآن آیت نمبر 39 تا 56 اصحاب الشمال بائیں (ہاتھ) والے سموم گرم ہوا۔ گرم بھاپ۔ یحموم کالا سیاہ دھواں لابارد نہ تو ٹھنڈا۔ لا کریم نہ آرام دینے والا۔ مترفین عیش سے زندگی گذارنے والے یصرون وہ ضد کرتے ہیں۔ اڑ جاتے ہیں۔ ال جنت گناہ زقوم جہنم میں دوزخیوں کی غذا (جہنم میں اگنے والا درخت) مالتئون بھرنے والے۔ شاربون پینے والے۔ شرب الھیم پیاسے اوٹن کی طرح پینا۔ تشریح : آیت نمبر 39 تا 56 سب سے آگے بڑھ جانے والے اور داہنے ہاتھ والے خوش نصیبوں کے بہترین انجام کا ذکر کرنے کے بعد بائیں ہاتھ والے لوگوں کا ذکر کیا جا رہا ہے جو بدترین حالات میں ہوں گے۔ دنیا میں ان کو جو عیش و آرام کا سامان دیا گیا تھا اس…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 41–56

(ف 2) مقربین اور دائیں ہاتھ والوں کے بعد یہ بائیں ہاتھ والوں کے حال کا ذکر فرمایا کہ ان دوزخیوں کا کیا پوچھنا وہ تو نہایت ہی ذلت والے ہیں ان کو بہت سخت عذاب ہے کبھی سموم میں جائیں گے ۔ سموم اس گرم ہوا کو کہتے ہیں جو آدمی کے جسم کے اندر گھس جاتی ہے اور دل اور جگر کو جلادیتی ہے۔ زقوم وہ کانٹوں دار درخت دوزخ میں ہوگا جو بھوک کے وقت دوزخیوں کوکھلایاجائے گا معتبر سند سے بیہقی ، مسند امام احمد وغیرہ میں ابی امامہ اور ابی درداء سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ نبی نے فرمایا جب زقوم اہل دوزخ کوکھلایاجائے گا اور اس کو کانٹے ان کے حلق میں پھنسیں گے تو ایسا گرم پانی پلایاجائے گا جس سے ان کی انتڑیاں…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 53–60

[8] یعنی حسب اقتضائے حکمت و مشیت کوئی بچپن ہی میں مرجاتا ہے، کوئی جوان ہو کر، کوئی ادھیڑ عمر میں مرتا ہے اور کوئی بڑھاپے تک پہنچ کر۔ جو ہم مقدر کرتے ہیں وہی ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 46–59

ف 1: جہنمی لوگوں کے متعلق دوسرا الزام یہ ہے کہ یہ توحید کے نور سے معرا تھے ۔ ایک خدا کے سامنے نہیں جھکتے تھے ۔ بلکہ اپنے اس مسلک پر مصر تھے ۔ ان کو ہرچند دلائل سے قائل کیا جاتا ۔ کہ شرک وکفر کے لئے کوئی وجہ نواز نہیں ہے ۔ اور منطقی طور پر اس عقیدہ کے حق میں کوئی دلیل نہیں ہے ۔ لیکن یہ برابر اس تاریکی میں بڑھتے چلے جاتے ۔ اور مسلمانوں کو چڑانے کے لئے بتوں کی پوجا کرتے ۔ پھر ان کا یہ عقیدہ بھی تھا ۔ کہ جو کچھ ہے یہی زندگی ہے ۔ مرنے کے بعد حشر ونشر کا عقیدہ دور از عقل ہے ۔ یہ ناممکن ہے ۔ کہ جب ہم مٹی میں مل کر مٹی ہوجائیں ۔ اور صرف بوسیدہ ہڈیاں رہ جائیں تو اس وقت ہم کو اور ہمارے آباؤ اجداد کو…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(55) پھر اس پانی کو اس طرح پیو گے جیسے ان پیاسے اونٹوں کا پینا جو استسقاء کی بیماری میں مبتلا ہوں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

پھر تم ایسے پیئو گے جیسیے پیاس کا مارا ہوا اونٹ پیتا ہے 55۔ { الحمیم } جمع ہے اھیم کی جو واحد مذکر ہے اور { الحمیم } پیاسے اونٹوں کو کہتے ہیں۔ (عکرمہ ‘ قتادہ ؓ اور اسی طرح رتیلی زمین کو بھی کیونکہ رتیلی زمین کی بھی یہ خاصیت ہوتی ہے کہ اس میں جتنا پانی ڈالتے جائو پیتی جائے اور پیاسے اونٹ کو اس لیے کہ تمام جانوروں میں سے اونٹ ایک ایسا جانور ہے جو بہت پانی اپنی کو ہان میں سٹور کرلیتا ہے اور وہاں سے اپنی پیاس کے مطابق معدہ میں اتارتا رہتا ہے اس لیے جب وہ پانی پیتا ہے تو بھی تقریباً اسی وقت پیتا ہے جب اس کا جمع شدہ پانی ختم ہوجاتا ہے اور ظاہر ہے کہ اتنی بڑی کو ہان جیسے ایک بڑی ٹینکی اس کو جب وہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 39–56

ثُلَّةٌ مِّنَ الْأَوَّلِينَ وَثُلَّةٌ مِّنَ الْآخِرِ‌ينَ (many from the earlier generations, and many from the later ones....56:39-40) In connection with sabiqun, (the Foremost) two views of the commentators were quoted earlier as to the identity of 'the earlier' and the 'later' generations. If 'the earlier' refers to the generations from 'Adam (علیہ السلام) to the period just prior to the advent of the Holy Prophet ﷺ and 'the later generations' refers to the 'Ummah of the Holy Prophet ﷺ till the Day of Judgment, as some of the commentators have opined, then the verses would mean: 'the People…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 53–57

22 The arguments from here to verse 74 provide the reasoning to prove both the doctrines of `Tauhid and of Hereafter rationally. For it was there two basic doctrines of the Holy Prophet's teaching that the people of Makkah were debating and objecting to at that time. 23 That is, "Why don't you confine that We alone arc your Lord and God and We have the power to create you once again?"

Read the full tafseer →