لَاٰكِلُوْنَ مِنْ شَجَرٍ مِّنْ زَقُّوْمٍ ۟ۙلَاٰكِلُوۡنَ مِنۡ شَجَرٍ مِّنۡ زَقُّوۡمٍۙ
تھوہر کے درخت کھاؤ گے
— Fateh Muhammad Jalandhari
Will be eating from trees of zaqqum
— Saheeh International
Juz 27 · Ruku 2 of surah · Ruku 15 of juz
لَاٰكِلُوْنَ مِنْ شَجَرٍ مِّنْ زَقُّوْمٍ ۟ۙلَاٰكِلُوۡنَ مِنۡ شَجَرٍ مِّنۡ زَقُّوۡمٍۙ
تھوہر کے درخت کھاؤ گے
— Fateh Muhammad Jalandhari
Will be eating from trees of zaqqum
— Saheeh International
Juz 27 · Ruku 2 of surah · Ruku 15 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Waaqia
تم شجر زقوم کی غذا کھانے والے ہو
تھوہر کے درخت کھاؤ گے
البتہ کھانے والے ہو تھوہر کا درخت
ایک ایسے درخت میں سے کھانا پڑے گا جس کا نام زقوم ہے۔
ضرور تھوہر کے پیڑ میں سے کھاؤ گے،
تم ضرور کانٹے دار (تھوہڑ کے) درخت سے کھانے والے ہو،
یقینا تھوہر کے پودے میں سے کھانے والے ہو۔
تمہیں تھوہر کا درخت کھانا ہوگا
زقوم کے درخت میں سے کھائو گے
بہرحال کھانا ہے زقوم کے ایک نہایت ہی ہولناک (اور کریہہ المنظر) درخت سے
درخت زقوم میں سے کھانا ہوگا
ضرور کھائو گے زقوم کے درخت سے۔
تھوہر کے درخت کھاؤ گے
shall all eat from the Tree of al-Zaqqum,
you will have to eat from the tree of zaqqum,
you will have to eat from the tree of zaqqum,
"You verily, will eat of the trees of Zaqqum."
Ye verily will eat of a tree called Zaqqum
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
Will be eating from trees of zaqqum
will eat from the fruit of the tree of Zaqqum,
Most surely eat of a tree of Zaqqoom,
Shall surely eat of the tree of Az-Zqqum.
"Ye will surely taste of the Tree of Zaqqum.
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 41–56
اصحاب شمال اور عذاب الٰہی اصحاب یمین کا ذکر کرنے کے بعد اصحاب شمال کا ذکر ہو رہا ہے فرماتا ہے ان کا کیا حال دھوئیں کے سخت سیادہ سائے میں جیسے اور جگہ آیت (اِنْــطَلِقُوْٓا اِلٰى مَا كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَ 29ۚ) 77۔ المرسلات :29) فرمایا ہے یعنی اس دوزخ کی طرف چلو جسے تم جھٹلاتے تھے۔ چلو تین شاخوں والے سایہ کی طرف جو نہ گھنا ہے نہ آگ کے شعلے سے بچا سکتا ہے، وہ دوزخ محل کی اونچائی کے برابر چنگاریاں پھینکتی ہے، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا وہ سرد اونٹنیاں ہیں۔ آج تکذیب کرنے والوں کی خرابی ہے۔ اسی طرح یہاں بھی فرمان ہے کہ یہ لوگ جن کے بائیں ہاتھ میں عمل نامہ دیا گیا ہے یہ سخت سیاہ دھوئیں میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–52
سورة الْوَاقِعَة 21 زقوم کی تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد چہارم، تفسیر سورة صافات، حاشیہ 34۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–56
ۉثُلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِيْنَ وَثُلَّةٌ مِّنَ الْاٰخِرِيْنَ ، ثلة میں معنی بڑی جماعت اور اولین و آخرین کی تفسیر میں حضرات مفسرین کے دو قول اوپر سابقون کے بیان میں مذکور ہوچکے ہیں، اگر اولین سے مراد حضرت آدم ؑ سے خاتم الانبیاء ﷺ کے زمانے تک کے حضرات اور آخرین سے آپ کی امت تا قیامت ہے، جیسا کہ بعض مفسرین نے فرمایا تو اس آیت کا حاصل یہ ہوگا کہ اصحاب الیمین یعنی مومنین متقین کی تعداد پچھلی امتوں کے مجموعہ میں ایک بڑی جماعت ہوگی اور تنہا امت محمدیہ میں ایک بڑی جماعت ہوگی، اس صورت میں اول تو امت محمدیہ کی فضیلت کے لئے یہ بھی کچھ کم نہیں کہ پچھلے لاکھوں انبیاء (علیہم السلام) کی امتوں کی برابر یہ امت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–55
(ثم انکم ایھا الضالون المکذبون لا کلون من شجر من زقوم فما لون منھا البطون فشربون علیہ من الحمیم فشربون شرب الھیم) (51، 55) (یہ قریش کو براہ راست خطاب کر کے ارشاد ہوا کہ اے گمراہو اور جھٹلانے والو، جانتے ہو کہ اٹھائے جانے کے بعد کیا ہوگا ؟ اس کے بعد قوم رقوم کے خار دار اور کڑوے پتوں اور پھلوں سے اپنے پیٹ بھرو گے، پھر اس پر کھولتا ہوا پانی اس طرح پیو گے جس طرح سون سے ہوئے اونٹ پیتے ہیں۔ (ضالون اور مکذبون) کی دو صفتوں سے خطاب ان کے ان دو جرموں کے اعتبار سے ہے جو مذکور ہوئے۔ اوپر ان کے شرک اور تکذیب آخرت کا ذکر ہوا ہے، انہی کے لحاظ سے یہاں خطاب (ضالون اور مکذبون) کے الفاظ سے ہوا، یعنی اللہ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–56
45-1یعنی دنیا اور آخرت سے غافل ہو کر عیش و عشرت کی زندگی میں ڈوبے ہوئے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–54
13: دوزخ کے اس درخت کا ذکر پیچھے سورة صافات : 62 اور سورة دخان : 43 میں گذر چکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
ثم انکم ............ زقوم (6 5: 2 5) ” پھر اے گمرا ہوا اور جھٹلانے والو ، تم زقوم کے درخت کی غذا کھانے والے ہو۔ “ اور زقوم کے درخت کے بارے میں انسان صرف اسی قدر جانتے ہیں جس قدر اللہ نے قرآن میں بتایا ہے کہ اس کا پھل اس طرح ہے جس طرح شیطان کا سر اور شیطان کا سر تو کسی نے دیکھا نہیں ہے لیکن احساس کے اندر جو بری صورت کی سری ہوسکتی ہے وہ شیطان کا سر ہے اور اس طرح یہ پھل بھی۔ لفظ زقوم کا تلفظ بھی یہ بتاتا ہے کہ وہ کرخت کانٹے دار قسم کی کوئی بدصورت اور بدذائقہ چیز ہو کہ ہاتھوں میں لیتے ہی کانٹے چبھ جائیں گے۔ حلق کو زخمی کردے گا اور یہ ہے بمقابلہ ان بیریوں کے جن کے کانٹے صاف ہے اور ان کیلوں کے جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–53
5 یعنی جب بھوک سے مضطر ہوں گے تو یہ درخت کھانے کو ملے گا اور اسی سے پیٹ بھرنا پڑے گا۔
Read the full tafseer →آیت 52{ لَاٰکِلُوْنَ مِنْ شَجَرٍ مِّنْ زَقُّوْمٍ۔ } ”ضرور کھائو گے زقوم کے درخت سے۔“ تم بھٹکے ہوئے تھے ‘ ہم نے تمہاری راہنمائی کے لیے اپنا رسول ﷺ بھیجا ‘ کتاب ہدایت بھیجی : { تَـبْصِرَۃً وَّذِکْرٰی لِکُلِّ عَبْدٍ مُّنِیْبٍ۔ } قٓ یہ سب کچھ تمہاری آنکھیں کھولنے کے لیے تھا۔ لیکن اس کے باوجود تم نے ہمارے رسول ﷺ کو بھی جھٹلادیا ‘ ہماری کتاب کی بھی تکذیب کی اور گمراہ رہنے کو ہی ترجیح دی۔ تو اے بھٹکے ہوئے اور ہماری ہدایت کو جھٹلانے والے لوگو ! اب جہنم کے اندر تمہاری ضیافت زقوم کے درخت سے ہی کی جائے گی۔ 1 1 زقوم کے حوالے سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : لَـوْ اَنَّ قَطْرَۃً مِنَ الزَّقُّوْمِ قُطِرَتْ فِیْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–52
25 زَقُّوْمٍ بمعنی تھوہر کا درخت جس کے پتے چوڑے، موٹے بڑے بڑے اور خار دار ہوتے ہیں۔ ذائقہ میں نہایت کڑوا اور اس کا لعاب زہریلا ہوتا ہے۔ بدن کے کسی حصہ سے لگ جائے تو پھوڑے پھنسیاں نکل آتی ہیں۔ مزید تشریح کے لیے دیکھئے سورة صافات کی آیت نمبر 64 کا حاشیہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–55
17۔ (جو خوب ڈگڈگا کر پانی سوکھتاچلا جاتا ہے اور پھر بھی اس کی پیاس نہیں بجھتی) جہنم کے شدائد کا بیان ہے جو کافروں کو چاروناچار بھگتنے ہوں گے۔ اور حشرکا منظر تو سب کو پیش آنا ہے۔ (آیت) ” من شجر من زقوم “۔ زقوم۔ پر حاشیہ سورة الصافات (پ 23) میں گزر چکا۔ (آیت) ” من زقوم “۔ میں من بیانیہ ہے۔ (آیت) ” شرب “۔ بالضم مصدر ہے اور اسم کے بھی معنی دیتا ہے۔ مشروب کے مرادف۔ الشرب بالضم مصدر قیل اسم لما یشرب (روح)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–56
ترجمہ : ایک بڑی جماعت اولین میں سے ہوگی اور ایک بڑی جماعت آخرین میں سے ہوگی اور اصحاب الشمال کیا ہی برے ہیں یعنی بائیں ہاتھ والے یہ لوگ آگ کی گرم ہوا (لو) میں ہوں گے جو مسامات میں نفوذ کر جائے گی اور کھولتے ہوئے پانی میں ہوں گے جو نہایت ہی گرم ہوگا اور سیاہ دھوئیں کے سایہ میں ہوں گے یحموم وہ دھواں جو نہایت سیاہ ہو، جو نہ ٹھنڈا ہوگا جیسا کہ دیگر سائے ٹھنڈے ہوتے ہیں اور نہ فرحت بخش یعنی خوش منظر یہ لوگ اس سے پہلے دنیا میں بڑی خوشحالی میں رہتے تھے طاعت کے لئے مشقت نہیں اٹھاتے تھے بڑے بھاری گناہ پر اصرار کرتے تھے یعنی شرک پر اور یوں کہا کرتے تھے کہ جب ہم مرجائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں رہ جائیں گے…
Read the full tafseer →تم کو درخت زقوم سے کھانا ہوگا ‘ مِنْ شَجَرِ : میں مِنْ ابتدائیہ ہے مِنْ زَقُوْمٍ : میں مِنْ بیانیہ ‘ یعنی وہ درخت زقوم ہوگا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : زقوم کے درخت سے اگر ایک قطرہ دنیا کے سمندروں میں ٹپکا دیا جائے تو دنیا کی معاش تباہ ہوجائے ‘ پھر ان لوگوں کا کیا حال ہوگا جن کی غذا ہی زقوم ہوگا۔ (رواہ الترمذی والنسائی و ابن ماجہ والحاکم) ترمذی نے اس کو صحیح کہا ہے۔ عمرو خولانی نے کہا : ہم کو اطلاع ملی ہے کہ آدمی درخت زقوم کا جتنا حصہ نوچے گا اتنا ہی حصہ اس کے بدن کا بھی نوچ لیا جائے گا۔ (رواہ عبداللہ بن احمد فی زوائد الزہد و ابو نعیم)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–53
(45۔ 53) وہ لوگ دنیا میں بڑے حد سے تجاوز کرنے والے تھے یا یہ کہ بڑی خوش حالی میں رہتے تھے اور وہ بڑے بھاری گناہ پر یعنی شرک یا یہ کہ جھوٹی قسموں پر اصرار کیا کرتے تھے اور دنیا میں یوں کہا کرتے تھے کہ جب ہم مرگئے اور مٹی اور ہڈیاں ہوگئے تو کیا اس کے بعد ہم دوبارہ زندہ کیے جائیں گے۔ اور پھر اس کے بعد اے ایمان و ہدایت سے گمراہ ہونے والو اللہ تعالیٰ اور رسول اور کتاب کو جھٹلانے والو یعنی ابو جہل اور اس کے ساتھیو درخت زقوم سے کھانا ہوگا اور پھر اس درخت زقوم سے پیٹ بھرنا ہوگا یہ درخت دوزخ کی جڑ میں سے اگا ہوا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–56
ثُمَّ اِنَّکُمْ اَیُّہَا الضَّآلُّوْنَ الْمُکَذِّبُوْنَ۔۔۔۔:”الھیم“”اھیم“ (مذکر) اور ”ھیمائ“ (مؤنث) کی جمع ہے ، بروزن ”فعل“ ”ہا“ پر اصل میں ضمہ تھا ، ”یائ“ کی مناسبت سے ضمہ کو کسرہ سے بدل دیا ، جیسے ”ابیض“ اور بیضائ“ کی جمع ”بیض“ ہے۔ وہ اونٹ جنہیں ہیام (بروزن زکام) کا مرض لا حق ہو ، یعنی ایسی پیاس جس سے اونٹ پانی پیتے جاتے ہیں مگر وہ بجھتی ہی نہیں حتیٰ کہ وہ مرجاتے ہیں یا قرب الموت ہوجاتے ہیں۔ ان آیات کی تفسیر کے لیے دیکھئے سورة ٔ صافات (63 تا 68)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–52
وگانو یقولون ائذا متنا یہ ان کی جانب سے بعث کے امرا کو حقیقت سے بعید خیال کرنا اور اس کو جھٹلانا ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : قل اے محمد ! انہیں کہو ان الاولین والاخرین۔ لمجموعون الی میقات یوم معلوم۔ اولین سے مراد تمہارے آباء، آخرین سے مراد تمہاری ذاتیں ہیں۔ میقات یوم معلوم مراد یوم قیامت ہے۔ کلام کا معنی قسم ہے اور اللہ تعالیٰ کے فرمان لمجموعون میں لام کا دخول قسم کے معنی پر دال ہے یعنی تم ضرور جمع ہو گے یہ حقیقی قسم ہے جو تمہاری باطل قسم کے خلاف ہے۔ ثم انکم ایھا الضالون ہدایت سے بھٹکے ہیء وہا المکذبون۔ بعث کو جھٹلانے والے ہو۔ لا کلون من شجر من زقوم۔ زقوم سے مراد ایسا درخت ہے جس کا منظر بڑا کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–54
9۔ عبد بن حمید نے شعبی (رح) سے روایت کیا کہ آیت وکانوا یصرون علی الحنث العظیم سے مراد ہے کبیرہ گناہ۔
Read the full tafseer →[لَاٰكِلُوْنَ : یقینا کھانے والے ہو ] [مِنْ شَجَرٍ : ایک ایسے درخت سے ] [مِّنْ زَقُّوْمٍ : جو تھوہر سے ہوگا ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–56
وقوع قیامت کا انکار کرنے والوں کا جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا ﴿ قُلْ اِنَّ الْاَوَّلِيْنَ وَ الْاٰخِرِيْنَۙ0049 لَمَجْمُوْعُوْنَ۠1ۙ۬ اِلٰى مِيْقَاتِ يَوْمٍ مَّعْلُوْمٍ 0050﴾ (آپ فرما دیجئے کہ بیشک اولین اور آخرین مقررہ معلوم دن کی طرف جمع کیے جائیں گے) یعنی قیامت ضرور واقع ہوگی۔ اللہ تعالیٰ کے علم میں اس کا جو وقت مقرر ہے اسی وقت آئے گی، سب اولین و آخرین اس وقت جمع ہوں گے اس دن بندوں کی پیشی ہوگی ایمان والوں کو جنت دی جائے گی اور اہل کفر وشرک دوزخ میں جائیں گے جہاں طرح طرح کے عذاب ہیں ان عذابوں میں سے ایک زقوم بھی ہے۔ ارشاد فرمایا ﴿ ثُمَّ اِنَّكُمْ اَيُّهَا الضَّآلُّوْنَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–74
ذلت و خواری محرومین از ایمان وہدایت وشدائد روز قیامت، و دلائل بعث بعد الموت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” واصحب الشمال مااصحب الشمال ....... الی ....... باسم ربک العظیم “۔ (ربط) اس سے قبل اصحاب الیمین کی عزت و کرامت کا بیان تھا اور یہ کہ ان کو جنت میں کیسی عظیم الشان نعمتیں عطا کی جائیں گی تو اس کے بعد اصحاب الشمال اور ان بدنصیبوں کا ذکر ہے جو ایمان وہدایت سے محروم رہے ارشاد فرمایا۔ اور بائیں والے کیسے بدنصیب ہیں یہ بائیں والے ان پر قیامت کے روز شدائد اور مصائب کی کوئی حد نہ ہوگی یہ لوگ دہکتی ہوئی آگ اور کھولتے ہوئے گرم پانی میں ہوں گے اور ایسے سایہ میں جو سیاہ دھوئیں کا ہوگا جو نہ ہی ٹھنڈا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–55
ف 17:۔ ” قل ان الاولین “ یہ مشرکین کے انکار و تعجب کا جواب ہے۔ آپ فرما دیں اللہ تعالیٰ کیلئے یہ کوئی مشکل نہیں وہ تماما گلے اور پچھلے لوگوں کو اس معلوم و متیقن دن میں ضرور جمع کرے گا۔ ” ثمانکم۔ الایۃ “ یہ اہل جہنم کی طرف التفات ہے۔ اے گمراہو اور جھٹلانے والو ! قیامت قائم ہونے کے بعد تم سب کو جہنم میں ڈالا جائے گا۔ اور وہاں تمہیں زقوم ایسا پر خار اور نہایت ہی تلخ درخت کھانے کے لیے ملے گا۔ جسے تم خوب پیٹ بھر کر کھاؤ گے۔ پھر جب شدت کی پیاس لگے گی تو اس پر نہایت ہی گرم کھولتا ہوا پانی پینے کو ملے گا جسے تم اس طرح پیوگے جس طرح پیاسے اونٹ پیتے ہیں۔ پیاسا اونٹ خوب سیر ہو کر پانی پیتا ہے اور پھر اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–56
ربط آیات : سورۃ کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے وقوع قیامت کا ذکر اور اس کی ابتدائی کیفیت بھی بیان فرمائی۔ پھر انسانوں کے تین گروہوں میں تقسیم ہوجانے کا ذکر کیا ، جن میں سے دو گروہ کامیاب ہوں گے اور تیسرا گروہ ناکام ہوگا۔ کامیاب ہونے والوں میں سابقین تو بڑے بلند درجوں میں ہوں گے ، اور اصحاب یمین بھی اللہ کی رحمت کے مقام میں آرام و راحت میں ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ ان کو بیشمار نعمتیں عطا کرے گا۔ سابقین پہلی امتوں میں زیادہ ہوں گے کیونکہ ان میں اللہ کے نبی بھی شامل ہوں گے اور پچھلی امت میں ان کی تعداد نسبتاً کم ہوگی ۔ البتہ اصحاب یمین پہلوں اور پچھلوں سب میں بکثرت ہوں گے۔ اصحاب شمال کا حال : کامیاب…
Read the full tafseer →لَاٰكِلُوْنَ مِنْ شَجَرٍ مِّنْ زَقُّوْمٍ 52 ۙ أكل الأَكْل : تناول المطعم، وعلی طریق التشبيه قيل : أكلت النار الحطب، والأُكْل لما يؤكل، بضم الکاف وسکونه، قال تعالی: أُكُلُها دائِمٌ [ الرعد/ 35] ( ا ک ل ) الاکل کے معنی کھانا تناول کرنے کے ہیں اور مجازا اکلت النار الحطب کا محاورہ بھی استعمال ہوتا ہے یعنی آگ نے ایندھن کو جلا ڈالا۔ اور جو چیز بھی کھائی جائے اسے اکل بضم کاف و سکونا ) کہا جاتا ہے ارشاد ہے { أُكُلُهَا دَائِمٌ } ( سورة الرعد 35) اسکے پھل ہمیشہ قائم رہنے والے ہیں ۔ شجر الشَّجَرُ من النّبات : ما له ساق، يقال : شَجَرَةٌ وشَجَرٌ ، نحو : ثمرة وثمر . قال تعالی: إِذْ يُبايِعُونَكَ تَحْتَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–56
ترکیب : السموم حرالناروقیل الریح الحارۃ جداوالحمیم الماء الحار الشدید الحرارۃ یحموم یفعول من الاحم او الحمیم وھوالاسود یقال اسود یحموم صفۃ لظلٍ اوحال وکذا لاباردولاکریم الاستفہام للانکار اذا والعامل فیہ مایدل علیہ مبعوثون لان مابعد الاستفہام لایعمل فیماقبلہ وآباؤنا معطوف علی الضمیر فی لمبعوثون لوقوع الفصل بینھما بالھمزۃ والمیقات ماوقت بہ الشیء ای حددمنہ مواقیت الاحرام والاضافۃ بمعنٰی من والمعنی انھم یحشرون الی ماوقتت بہ الدنیا من یوم الحساب۔ من شجر من زائدۃ وقیل لابتداء الغایۃ من زقوم من بیانیۃ منہا الضمیر تعود الی شجر الزقوم لکون الشجراسم جنس واسم الجنس یذکر و یؤنث شرب الہیم شرب قراء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–56
ثُمَّ اِنَّـکُمْ اَیُّھَا الضَّآلُّوْنَ الْمُکَذِّبُوْنَ ۔ لَاٰکِلُوْنَ مِنْ شَجَرٍ مِّنْ زَقُّوْمٍ ۔ فَمَالِـُٔوْنَ مِنْھَا الْبُطُوْنَ ۔ فَشٰرِبُوْنَ عَلَیْہِ مِنَ الْحَمِیْمِ ۔ فَشٰرِبُوْنَ شُرْبَ الْھِیْمِ ۔ ھٰذَا نُزُلُہُمْ یَوْمَ الدِّیْنِ ۔ (الواقعۃ : 51 تا 56) (اے گمراہو، اور جھٹلانے والو !۔ تم شجرِزقوم کی غذا کھائو گے۔ پھر اسی سے اپنے پیٹ بھرو گے۔ پھر اس پر کھولتا پانی پیو گے۔ تونس لگے ہوئے اونٹوں کی طرح۔ یہ ان کی پہلی مہمانی ہوگی جزاء کے دن کی۔ ) قریش سے مزید کہا گیا، اے گمراہو اور جھٹلانے والو ! کہ تم نے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی بجائے شرک کا راستہ اختیار کیا، اور آخرت کو تم ہمیشہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–56
فہم القرآن ربط کلام : لوگوں کے حقوق غصب کرنے، بڑے بڑے گناہوں پر اصرار کرنے اور قیامت کا انکار کرنے والوں کی مزید سزا۔ جو لگ حق داروں کو ان کے حق سے محروم رکھتے ہیں اور اپنے گناہوں پر اصرار کرتے ہیں انہیں جہنم میں جھونکا جائے گا۔ ان کے لیے تھور کا کھانا ہوگا اور پینے کے لیے کھولتا ہوا پانی دیا جائے گا۔ وہ اس طرح گھونٹ بھریں گے جس طرح پیاسا اونٹ گھونٹ بھرتا ہے۔ ملائکہ انہیں جھڑکتے ہوئے کہیں گے آج کے دن تمہاری یہی مہمان نوازی ہے۔ زقوم کا درخت جہنم کی تہہ سے پیدا ہوگا۔ (الصّٰفٰت : 64) ” شدید آگ میں جھلس رہے ہوں گے۔ انہیں پینے کو کھولتے ہوئے چشمے کا پانی دیا جائے گا۔ خاردار سوکھی گھاس کے سوا کوئی…
Read the full tafseer →52 : لَاٰ کِلُوْنَ مِنْ شَجَرٍ مِّنْ زَقُّوْمٍ (تم کو درخت زقوم سے کھانا ہوگا) نحو : اول مِنؔ یہ ابتدائے غایت کیلئے ہے اور دوسرا من بیان شجرکیلئے ہے۔ یعنی وہ درخت زقوم ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–55
47 ۔” وکانوا یقولون ائذامتنا وکنا ترابا وعظاماء انا لمبعوثون “ ابو جعفر، نافع اور یعقوب رحمہم اللہ نے ” ائذا “ استفہام کے ذریعے پڑھا ہے۔ ” انا “ استفہام کو چھوڑ کر اور دیگر حضرات نے دونوں میں استفہام کے ساتھ پڑھا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–56
41۔ 56۔ مقربین اور دائیں ہاتھ والوں کے بعد یہ بائیں ہاتھ والوں کے حال کا ذکر فرمایا۔ سموم اس گرم ہوا کو کہتے ہیں جو آدمی کے جسم کے اندر گھس جاتی ہے اور دل اور جگر کو جلا دیتی ہے۔ یحموم کے معنی دھواں زقوم وہ کانٹے دار درخت دوزخ میں ہوا جو بھوک کے وقت دزخیوں کو کھلایاجائے گا۔ ترمذی 1 ؎ نسائی اور ابن ماجہ وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اگر تھوڑا سا زقوم بھی زمین پر آن پڑے تو اس کی بدبو سے تمام اہل دنیا کی زندگی تلخ ہوجائے۔ ترمذی اور حاکم نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔ معتبر سند سے بیہقی مسند 2 ؎ امام احمد وغیرہ میں ابی امامہ اور اب دردا سے جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
(ثُمَّ اِنَّكُمْ اَيُّهَا الضَّاۗلُّوْنَ الْمُكَذِّبُوْنَ ) پھر بیشک تم ہدایت کے راستے سے بھٹک کر ہلاکت کے راستے پر چلنے والو رسول اکرم اور اس حق کو جو آپ لے کر آئے ہیں اور وعدہ وعید کو جھٹلانے والو۔ (لَاٰكِلُوْنَ مِنْ شَجَرٍ مِّنْ زَقُّوْمٍ ) تم تھوہر کے درخت سے ضرر کھاؤ گے۔ یہ قبیح ترین اور خسیس ترین درخت ہے جس کی بدبو انتہائی گندی اور اس کا منظر انتہائی برا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
[ 46] منکرین و مکذبین کو براہ راست خطاب ان کی تحقیر و تذلیل کیلئے۔ والعیاذ باللّٰہ : سو مکذبین و منکرین کو براہ راست خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ پھر تم سب کو اپنے کئے کرائے کا بھگتان بھگتنا ہوگا جو زندگی بھر جھٹلاتے رہے حق و حقیقت کی اس دعوت صادقہ کو، جو حضرات انبیاء ورسل اور ان کے اتباع اور سچے پیروکاروں کی طرف سے تمہیں دی جاتی رہی، سو حضرات انبیاء ورسل اور ان کے وارثین و جانشین علماء حقانیین کی دعوت وپکار کی تکذیب اور اس سے انقطاع و انحراف جڑ بنیاد ہے تمام فتنہ و فساد اور ہلاکت و تباہی کی، والعیاذ باللّٰہ العظیم، سو مکذبین و منکرین کو خطاب کر کے متنبہ فرمایا گیا اور ان کو بتایا گیا کہ تم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–57
تین قسم کے لوگ اور ان کی سزاوجزا تشریح : سب سے پہلے تو میدان حشر کی صورت حال یوں بیان کی گئی ہے کہ وہاں تین گروہوں میں لوگوں کو تقسیم کردیا جائے گا۔ جیسا کہ اکثر قرآن پاک میں داہنے ہاتھ کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ اور بائیں طرف کو نحوست اور بد فالی قرار دیا گیا ہے عربی میں بائیں ہاتھ کو شومی کہا جاتا ہے اسی سے اردو میں شومئی قسمت بنا ہے اور پھر سب سے اگلے گروہ کی فضیلت بیان کرتے ہوئے اس گروہ کو بہترین، متقی، پرہیزگار اور ہر نیکی کے کام میں سب سے آگے بڑھنے والے برگزیدہ لوگ شمار ہوتے ہیں اسکے بعد اولین، آخرین اور سابقوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس میں علماء کرام کا کافی اختلاف ہے جس میں پڑنے سے بہتر ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–74
آیات 39 تا 74۔ اسرار ومعارف۔ ان میں پہلے لوگوں میں سے بھی بہت سے لوگ ہوں گے اور بعدوالوں سے بھی بہت سے کہ ہر نجات پانے والاشامل ہوجائے گا اللہ نے ویسے رحمت فرمادی یا کسی کی شفاعت کام آگئی یا دوزخ سے ہوکرآ گیا کہ مومن کے لیے دوزخ نری سزا ہی نہ ہوگی بلکہ گناہ کا کھوٹ جلانے کی تدبیر ہوگی لہذا نکل کر آیا تو بھی اصحاب الیمین میں شامل ہوگا اب رہے تیسری قسم کے لوگ کفار تو ان کا حال سن لیجئے کہ وہ بائیں والے کیسے بدبخت ہوں گے کہ جلتے ہوئے پانی کو تیز بھاپ اور کھولتے ہوئے پانی میں ڈالے جائیں گے اور ان پر دھواں ہی دھواں بھردیا جائے گا جو نہ ٹھنڈا ہوگا اور نہ اس میں کوئی فرحت ولذت ہوگی بلکہ عذاب ہی عذاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–52
ف 5 اس تھوہر کے درخت سے متعلق سورة صافات میں ارشاد ہے کہ وہ ایک ایسا درخت ہے جو دوزخ کی تہ میں اگتا ہے۔ اس کی کلیاں ایسی ہیں جیسے شیطانوں کے سر (یا سانپوں کے پھن) آیت 65 ۔ 64)
Read the full tafseer →(56:52) لاکلون : لام تاکید کا ہے۔ اکلون اسم فاعل جمع مذکر۔ اکل باب نصر۔ مصدر۔ کھانے والے۔ من شجر من رقوم : پہلا من ابتدائیہ ہے دوسرا من بیانیہ ہے (بیضاوی) من شجرۃ الزقوم کی بجائے من شجر من زقوم کہہ کر عبادت میں زور پیدا کیا گیا ہے۔ اور شجر کو نکرہ لاکر اس کی تنقیص کی ہے۔ ترجمہ آیات 51-52:۔ پھر تم اے گمراہ ہونے والو ! اے جھٹلانے والو (ضرور بالضرور حکما) تھوہر کے درخت کو کھاؤ گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–56
لغات القرآن آیت نمبر 39 تا 56 اصحاب الشمال بائیں (ہاتھ) والے سموم گرم ہوا۔ گرم بھاپ۔ یحموم کالا سیاہ دھواں لابارد نہ تو ٹھنڈا۔ لا کریم نہ آرام دینے والا۔ مترفین عیش سے زندگی گذارنے والے یصرون وہ ضد کرتے ہیں۔ اڑ جاتے ہیں۔ ال جنت گناہ زقوم جہنم میں دوزخیوں کی غذا (جہنم میں اگنے والا درخت) مالتئون بھرنے والے۔ شاربون پینے والے۔ شرب الھیم پیاسے اوٹن کی طرح پینا۔ تشریح : آیت نمبر 39 تا 56 سب سے آگے بڑھ جانے والے اور داہنے ہاتھ والے خوش نصیبوں کے بہترین انجام کا ذکر کرنے کے بعد بائیں ہاتھ والے لوگوں کا ذکر کیا جا رہا ہے جو بدترین حالات میں ہوں گے۔ دنیا میں ان کو جو عیش و آرام کا سامان دیا گیا تھا اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–56
(ف 2) مقربین اور دائیں ہاتھ والوں کے بعد یہ بائیں ہاتھ والوں کے حال کا ذکر فرمایا کہ ان دوزخیوں کا کیا پوچھنا وہ تو نہایت ہی ذلت والے ہیں ان کو بہت سخت عذاب ہے کبھی سموم میں جائیں گے ۔ سموم اس گرم ہوا کو کہتے ہیں جو آدمی کے جسم کے اندر گھس جاتی ہے اور دل اور جگر کو جلادیتی ہے۔ زقوم وہ کانٹوں دار درخت دوزخ میں ہوگا جو بھوک کے وقت دوزخیوں کوکھلایاجائے گا معتبر سند سے بیہقی ، مسند امام احمد وغیرہ میں ابی امامہ اور ابی درداء سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ نبی نے فرمایا جب زقوم اہل دوزخ کوکھلایاجائے گا اور اس کو کانٹے ان کے حلق میں پھنسیں گے تو ایسا گرم پانی پلایاجائے گا جس سے ان کی انتڑیاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–52
[7] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة صافات حاشیہ 41 صفحہ 1097۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–59
ف 1: جہنمی لوگوں کے متعلق دوسرا الزام یہ ہے کہ یہ توحید کے نور سے معرا تھے ۔ ایک خدا کے سامنے نہیں جھکتے تھے ۔ بلکہ اپنے اس مسلک پر مصر تھے ۔ ان کو ہرچند دلائل سے قائل کیا جاتا ۔ کہ شرک وکفر کے لئے کوئی وجہ نواز نہیں ہے ۔ اور منطقی طور پر اس عقیدہ کے حق میں کوئی دلیل نہیں ہے ۔ لیکن یہ برابر اس تاریکی میں بڑھتے چلے جاتے ۔ اور مسلمانوں کو چڑانے کے لئے بتوں کی پوجا کرتے ۔ پھر ان کا یہ عقیدہ بھی تھا ۔ کہ جو کچھ ہے یہی زندگی ہے ۔ مرنے کے بعد حشر ونشر کا عقیدہ دور از عقل ہے ۔ یہ ناممکن ہے ۔ کہ جب ہم مٹی میں مل کر مٹی ہوجائیں ۔ اور صرف بوسیدہ ہڈیاں رہ جائیں تو اس وقت ہم کو اور ہمارے آباؤ اجداد کو…
Read the full tafseer →(52) تم کو زقوم کے درخت سے کھانا ہوگا۔ زقوم کی تفصیل والصفت میں گزر چکی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–58
ف 2۔ مطلب یہ کہ ایمان نہیں لائے تھے۔
Read the full tafseer →یقینا تھوہر کے درخت سے تم کو کھانا ہو گا 52۔ { زقوم } تھوہر (Cactus) کے درخت کو کہتے ہیں جو نہایت کڑوا ہوتا ہے ‘ اتنا کڑوا کہ اگر اس کو ہاتھ چھو جائے تو کئی دن تک اس کی کرواہٹ دور نہ ہو کھانا تو خیر کھانا ہے اس کا دیکھنا بھی بہت کر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس کو دیکھنے سے بھی نفرت ہونے لگتی ہے اس لیے دو زخیوں کو وہ کھانے کے لیے پیش کیا جائے گا جو لاریب بطور عذاب ہوگا اور ان کو مجبور کیا جائے گا پھر یہ تو اس دنیا کے درخت کی حالت ہے دوزخ میں اس کی حالت کیا ہوگی یقینا اس سے بھی بہت بڑی یہی وجہ ہے کہ روایات میں آیا ہ ہے کہ اس کا ایک قطرہ بھی سمندر میں ڈال دیا جائے تو وہ سمندر کو کڑوا کر دے جس سے زمین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–56
ثُلَّةٌ مِّنَ الْأَوَّلِينَ وَثُلَّةٌ مِّنَ الْآخِرِينَ (many from the earlier generations, and many from the later ones....56:39-40) In connection with sabiqun, (the Foremost) two views of the commentators were quoted earlier as to the identity of 'the earlier' and the 'later' generations. If 'the earlier' refers to the generations from 'Adam (علیہ السلام) to the period just prior to the advent of the Holy Prophet ﷺ and 'the later generations' refers to the 'Ummah of the Holy Prophet ﷺ till the Day of Judgment, as some of the commentators have opined, then the verses would mean: 'the People…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–52
21 For the explanation of zaqqum, sec E.N. 34 of As-Saaffat.
Read the full tafseer →