Al-Waaqia 56:31

Al-Waaqia · from ayah 31

56:31

وَّمَآءٍ مَّسْكُوْبٍ ۟ۙوَّ مَآءٍ مَّسۡكُوۡبٍۙ

اور پانی کے جھرنوں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And water poured out

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 1 of surah · Ruku 14 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Waaqia

All translations of 56:31

اور پانی کے جھرنوں

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور بہتے ہوئے پانیوں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور بہتے ہوئے پانی میں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور ہمیشہ جاری پانی میں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور بہتے چھلکتے پانیوں میں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور ایسے پانی میں جو گرایا جا رہا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ہر دم رواں پانی میں

— مولانا اسحاق مدنی

اور بہتا ہوا پانی۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور پانی کے جھرنوں

— محترمہ رفعت اعجاز

and water, poured forth,

— Muhammad Taqi Usmani

and water, poured forth,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And by water flowing constantly,

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And water poured out

— Saheeh International

and amid the extended shade

— Muhammad Sarwar

And water flowing constantly,

— Muhammad Habib Shakir

And water everflowing.

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 56:31

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 27–40

اصحاب یمین اور ان پر انعامات الٰہی سابقین کا حال بیان کر کے اللہ تعالیٰ اب ابرار کا حال بیان فرماتا ہے جو سابقین سے کم مرتبہ ہیں۔ ان کا کیا حال ہے کیا نتیجہ ہے اسے سنو، یہ ان جنتوں میں ہیں جہاں بیری کے درخت ہیں لیکن کانٹے دار نہیں۔ اور پھل بکثرت اور بہترین ہیں دنیا میں بیری کے درخت زیادہ کانٹوں والے اور کم پھلوں والے ہوتے ہیں۔ جنت کے یہ درخت زیادہ پھلوں والے اور بالکل بےخار ہوں گے، پھلوں کے بوجھ سے درخت کے تنے جھکے جاتے ہوں گے حضرت ابو بر احمد بن نجار ؒ نے ایک روایت وارد کی ہے کہ صحابہ کہتے ہیں کہ اعرابیوں کا حضور کے سامنے آنا اور آپ سے مسائل پوچھنا ہمیں بہت نفع دیتا تھا ایک مرتبہ ایک اعرابی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 29–33

سورة الْوَاقِعَة 16 اصل الفاظ ہیں لَا مَقْطُوْعَۃٍ وَّلَا مَمْنُوْعَۃٍ لا مقطوعہ سے مراد یہ ہے کہ یہ پھل نہ موسمی ہوں گے کہ موسم گزر جانے کے بعد نہ مل سکیں، نہ ان کی پیداوار کا سلسلہ کبھی منقطع ہوگا کہ کسی باغ کے سارے پھل اگر توڑ لیے جائیں تو ایک مدت تک وہ بےثمر رہ جائے، بلکہ ہر پھل وہاں ہر موسم میں ملے گا اور خواہ کتنا ہی کھایا جائے، لگاتار پیدا ہوتا چلا جائے گا۔ اس لا ممنوعہ کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کے باغوں کی طرح وہاں کوئی روک ٹوک نہ ہوگی، نہ پھلوں کے توڑنے اور کھانے میں کوئی امر مانع ہوگا کہ درختوں پر کانٹے ہونے یا زیادہ بلندی پر ہونے کی وجہ سے توڑنے میں کوئی زحمت پیش آئے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 28–31

فِيْ سِدْرٍ مَّخْضُوْدٍ۔ وَّطَلْحٍ مَّنْضُوْدٍ۔ وَّظِلٍّ مَّمْدُوْدٍ۔ وَّمَاۗءٍ مَّسْكُوْبٍ ، جنت کی نعمتیں بیشمار اور بےمثال و بےقیاس ہیں، ان میں سے جو نعمتیں قرآن کریم ذکر کرتا ہے وہ مخاطبین کے انداز فکر اور ان کی محبوب و پسندیدہ چیزوں کا ذکر کرتا ہے، عرب کے لوگ جن تفریحات اور جن پھلوں کے خوگر تھے، یہاں ان میں سے چند کا ذکر کیا گیا ہے۔ فِيْ سِدْرٍ مَّخْضُوْدٍ ، سدر بیری کے درخت کو کہتے ہیں، مخضود وہ بیری جس کے کانٹے قطع کردیئے گئے ہوں اور پھل کے بوجھ سے شاخ جھکی ہوئی ہو اور یہ جنت کے بیر دنیا کے بیروں کی طرح نہیں ہوں گے، بلکہ یہ بیر مٹکوں کے برابر بڑے اور ذائقہ میں بھی دنیا کے بیر سے اس کی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 28–33

(فی سدر محضود و طلح منضود وظل ممدود وما مسکوب وفا کھۃ کثیرۃ لا مقطوعۃ ولا ممنوعۃ) (28، 33)۔ یہ ان کی جنت پھلوں، اس کے سایہ اور اس کی طرادت کا ذکر ہے۔ (فی سدرمخضود، سدر) بیری کو کہتے ہیں۔ ہمارے علاقوں میں بیری کی کچھ زیادہ وقعت نہیں ہے اس وجہ سے ممکن ہے بعض لوگوں کے ذہن میں سوال پیدا ہو کہ یہ کیا ایسا پھل ہے جس کا قرآن نے ذکر فرمایا۔ یہاں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اول تو ہر علاقے کی بیری یکساں نہیں ہوتی بعض علاقوں میں اس کے پھل نہایت لذیز، خوشبو دار اور خوش رنگ ہوتے ہیں۔ ثانیاً یہ جنت کی بیری ہے، جس کا ذکر اس دنیا میں صرف تمثیل ہی کے پیرا یہ میں ہوسکتا ہے۔ اس کی اصل حقیقت جاننے کا یہاں کوئی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 30–32

30-1جیسے ایک حدیث میں ہے ' کہ جنت کے ایک درخت کے سائے تلے ایک گھوڑا سوار سو سال تک چلتا رہے گا، تب بھی وہ سایہ ختم نہیں ہوگا ' (صحیح بخاری)

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 28–33

6: جنت کے پھلوں کے نام تو ہمارے سمجھانے کے لئے وہی ہیں جنہیں ہم دنیا میں جانتے ہیں، لیکن ان کی کیفیت ان کی لذت اور ان کا حجم ہر چیز یہاں سے کہیں زیادہ خوشنما اور لذیذ ہوگی، چنانچہ ایک حدیث میں ہے کہ ایک دیہاتی نے رسول کریم ﷺ سے پوچھا کہ بیری کا درخت تو عام طور سے تکلیف دہ ہی ہوتا ہے قرآن کریم نے اس کا تذکرہ کیسے فرمایا ہے، آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ وہ کانٹوں سے پاک ہوگا ؟ درحقیقت اللہ تعالیٰ ہر کانٹے کی جگہ ایک پھل پیدا فرمائیں گے اور اس ایک پھل میں بہتر قسم کے ذائقے ہوں گے اور کوئی ذائقہ دوسرے سے ملتا جلتا نہیں ہوگا۔ (روح المعانی بحوالہ حاکم و بیھقی، و صححہ…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 30–31

وظل ................ مسکوب (6 5: 13) ” اور دور تک پھیلی ہوئی چھاؤں اور ہر دم رواں پانی۔ “ بدوں لوگوں کے لئے یہ اہم سہولیات ہیں۔ ایک دیہاتی کے خواہشات کی دوڑ یہی تھی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 31–33

10 بہت قسم کا میوہ، نہ پہلے اس میں سے کسی نے توڑا نہ دنیا کے موسمی میووں کی طرح آئندہ ختم ہو نہ اس کے لینے میں کسی قسم کی روک ٹوک پیش آئے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

17 مسکوب۔ سکب کے معنی (پانی وغیرہ کا) گرنا اور بہانا ہے۔ السکب لگاتار بارش کو یا موٹے موٹے قطروں والی بارش کو کہتے ہیں جس کا پانی بہہ نکلے اور الاسکوب بمعنی لگاتار جھڑی۔ گویا سکب میں پانی وغیرہ کے گرنے یا بہنے کے ساتھ تسلسل اور دوام کا تصور بھی پایا جاتا ہے۔ اور (مَاءٍ مَّسْکُوْبٍ ) کا معنی مسلسل گرنے والی آبشار اور اس کا بہتا ہوا پانی ہوگا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 27–33

11۔ بخلاف دنیا کے میووں اور پھلوں کے کہ فصل کے ختم پر یہ بھی ختم ہوجاتے ہیں اور ان کے لیے روک ٹوک بھی ان کے مالکوں کی طرف سے جاری رہتی ہے۔ اب بیان المقربون السابقون “۔ (حضرت انبیاء وغیرھم) کے بعد (آیت) ” اصحب الیمین “۔ (عامہ مومن ین) کی خوش عیشیوں کا ہورہا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 17–34

یطوف علیھم ولدان مخلدون اس سے مراد ایسے لڑکے ہیں جو ہمیشہ لڑکے ہی رہیں گے، ان کی عمر ہمیشہ ایک ہی حالت پر رہے گی، ان جنتی غلمانوں کے متعلق راجح تحقیق یہ ہے کہ وہ حوروں کی طرح جنت ہی میں پیدا ہوئے ہوں گے اور یہ سب اہل جنت کے خادم ہوں گ، حضرت علی ؓ اور حضرت حسن بصری رحمتہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ اہل دنیا کے وہ بچے ہوں گے جو بالغ ہونے سے پہلے فوت ہوگئے ہوں گے، چونکہ ان کی نیکی بدی کچھ نہ ہوگی جس کی وجہ سے وہ نہ جزاء کے مستحق ہوں گے اور اور نہ سزا کے خیال رہے کہ اہل دنیا سے وہی لوگ مراد ہیں جن کو جنت نصیب نہ ہوئی ہو، ورنہ تو مومنین صالحین کے بچوں کے بارے میں خود قرآن نے شہادت دی ہے کہ وہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

اور آب رواں وَمَآءٍ مَّسْکُوْبٍ : اور آب جاری جو بغیر گڑھے کے ہموار زمین پر بہے گا اور اس کی روانی کبھی منقطع نہیں ہوگی۔ سابق مقربین جس راحت میں ہوں گے اس کی تصویر کشی ان نعمتوں کا ذکر کر کے کردی جو شہری متمدن لوگوں کے خیال میں آسکتی تھیں ‘ اس کے بعد اصحاب یمین کے انعامات کا تذکرہ ان الفاظ میں کردیا ‘ جن کی تمنا صحرائی بدوی کرسکتے تھے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 28–44

(28۔ 40) وہ بغیر کانٹوں کے بیریوں کے سایہ میں ہوں گے اور تہ بہ تہ کیلے ہوں گے اور کہا گیا ہے کہ ہمیشہ کے لیے ہوں گے اور بغیر سورج کے درختوں کا ان پر ہمیشہ کے لیے سایہ ہوگا یا یہ کہ عرش خداوندی کا ان پر سایہ ہوگا۔ اور عرش سے چلتا ہوا پانی ہوگا اور مختلف قسم کے کثرت سے میوے ہوں گے جو ختم نہیں ہوں گے اور جس وقت وہ میووں کی طرف دیکھیں گے تو ان سے ان کو روکا بھی نہ جائے گا اور جنتیوں کے لیے فضا میں اونچے اونچے فرش ہوں گے۔ اور ہم نے وہاں دنیاوی عورتوں کو بیماری اور موت اور عجز کے بعد خاص طور پر بنایا ہے یعنی ہم نے ان کو ایسا بنایا ہے کہ وہ کنواریاں ہیں حرکات و شمائل حسن و جمال سب چیزیں ان کی دلکش…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَّمَآئٍ مَّسْکُوْبٍ :”سکب یکسب سکبا و تسکابا“ (ن) ”المائ“ پانی گرانا۔ ’ ’ السکب“ لگاتار بارش۔”ماء مسکوب“ سے مراد آبشاروں سے گرنے والا اور مسلسل بہنے والا پانی ہے۔”تسنیم“ میں بھی یہی مفہوم پایا جاتا ہے۔ (دیکھئے مطففین : 27) واضح رہے کہ جنت کی بیشمار نعمتیں ایسی ہیں جو سابقون اور اصحاب الیمین دونوں کے لیے مشترک ہیں ، البتہ ان کی کیفیت میں فرق ہوسکتا ہے۔ اگلی آیتوں میں ”فاکھۃ کثیرۃ“ کا بھی یہ معاملہ ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 31–33

وما مسکوب۔ یعنی جاری پانی ہوگا جو ختم نہیں ہوگا۔ سکب کا اصل معنی بہانا ہے جو جملہ بولا جاتا ہے : سکبہ سکبا، سکوب کا معنی اس کا بہنا ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے : سکب کو با، انسکب انسکابا یعنی بہایا گیا پانی رات، دن بغیر کھائی کے جاری رہے گا وہ ان سے ختم نہ ہوگا۔ عرب باد یہ نشین اور گرم علاقوں کے رہائشی تھے ان کے علاقوں میں نہریں نادر و نایاب تھیں وہ ڈولوں کے ذریعے ہی پانی تک پہنچ پاتے تو اس کے برعکس ان سے نہروں کا وعدہ کیا گیا۔ ان کے لیے سیر و سیاحت کے اسباب کا ذکر کیا گیا جو دنیا میں معروف ہیں جیسے درخت، ان کے سائے، پانی، نہریں اور ان کا عام ہونا۔ وفاکھۃ کثیرہ۔ وہ تھوڑے اور نادر و نایاب پھل نہیں…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 31–33

43۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت وماء مسکوب سے مراد ہے جاری پانی۔ 44۔ ہناد وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جنت کے کھجور کی شاخوں سے ان کے چھوٹ کپڑے اور ان کا لباس بنا ہوا ہوگا۔ 45۔ ہناد وابن المنذر نے عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت کیا کہ جنت کے پھلوں کے خوشے تیرے اور صنعاء کے درمیان فاصلہ کے برابر ہوں گے۔ اور صنعا سے مراد شام ہے۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَّمَاۗءٍ مَّسْكُوْبٍ : اور جاری کیے ہوئے پانی میں ] س ک ب : (ن) سکبا ۔ پانی گرانا ۔ جاری کرنا ۔ مسکوب ۔ اسم المفعول ہے ۔ جاری کیا ہوا ، زیر مطالعہ آیت ۔ 31 ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

مزید فرمایا ﴿ وَّ مَآءٍ مَّسْكُوْبٍۙ0031﴾ کہ اَصْحٰبُ الْيَمِيْنِ کو ماء جاری کی بھی نعمت دی جائے گی۔ صاحب معالم التنزیل لکھتے ہیں کہ یہ پانی برابر زمین پر جاری ہوگا اس میں کھدی ہوئی نہریں، ندی نالے بنے ہوئے نہ ہوں گے جہاں چاہیں گے یہ پانی پہنچ جائے گا۔ ڈول اور رسی کی ضرورت نہ ہوگی۔ (صفحہ 140: ج 4)

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–40

اخبار وقوع قیامت وتقسیم انسان درگروہ ثلثہ : قال اللہ تعالیٰ (آیت ) ” اذا وقعت الواقعۃ ...... الی ...... ثلۃ من الاولین وثلۃ من الاخرین “۔ (ربط) سورة الرحمن میں ابتدا حق تعالیٰ نے اپنی قدرت و عظمت کی نشانیاں بیان فرمائیں پھر عالم کے فنا اور قیامت کے برپا ہونے کا ذکر فرمایا اسکے بعد منکرین کی بدحالی اور انکی سزاؤں کا سلسلہ بیان شروع فرمایا پھر اس کے بالمقابل اہل ایمان وتقوی کی جزاؤں اور ان پر اللہ کی طرف سے عطا کردہ انعام واکرام کی تفصیل فرمائی گئی اب اس کے بعد اس سورة واقعہ میں احوال قیامت کی تفصیل بیان کی جارہی ہے کہ قیامت ایک ایسی حقیقت ہے کہ اسکو کوئی جھٹلا نہیں سکتا اور اس کے آنے پر دنیا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 27–31

12:۔ ” واصحب الیمین “ یہ پہلی جماعت یعنی اصحاب المیمنۃ کے احوال کا بیان ہے۔ اصحاب الیمین کا کیا کہنا انکا حال نہایت اچھا اور اعلی ہوگا۔ ” فی سدر مخضود “ مخضود، کانٹوں کے بغیر، جنت کے میوہ دار درخت کانٹوں سے عاری ہوں گے تاکہ میوہ تناول کرتے وقت کانٹے رنگ میں بھنگ نہ ملا دیں۔ چناچہ بیری کا درخت دنیا میں کانٹوں سے لیس ہوتا ہے، لیکن جنت میں جو بیری کے مشابہ درخت ہوں گے وہ کانٹوں سے عاری ہوں گے اور ان کا پھل حجم میں مٹکوں کے برابر ہوگا اور نہایت خوشذائقہ اور خوشبودار ہوگا۔ سدر فی الجنۃ شجر علی خلقہ لہ ثمر کقلال ھجر طیب الطعم والریح (مخضود، ، من الشوک (بحر ج 8 ص 206) ۔ ” وطلح منضود “ اور کیلے کی…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 15–40

ربط آیات : سورۃ کی ابتدائی آیات میں وقوع قیامت کے متعلق فرمایا کہ زمین پر زلزلہ طاری ہوجائے گا اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر گردوغبار کی طرح اڑ جائیں گے ۔ پھر فرمایا کہ انسان تین گروہوں میں تقسیم ہوجائیں گے یعنی دائیں ہاتھ والے ، بائیں ہاتھ والے اور سابقین۔ اصحاب یمین یعنی دائیں ہاتھ والے کامیاب ہوں گے اور بائیں ہاتھ والے ناکام ، اور سابقین اللہ کے مقرب بندے ہیں۔ ان کی تعداد پہلوں میں زیادہ اور پچھلوں میں کم ہوگی ۔ اب اللہ نے ان کو ملنے والے انعامات کا بھی تفصیل سے ذکر فرمایا ہے۔ جنت میں سابقین کی کیفیت : ارشاد ہوتا ہے علی سرر موضونۃ سبقت کرنے والے اللہ کے مقربین سونے کے تاروں سے بنے ہوئے تختوں پر…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَّمَاۗءٍ مَّسْكُوْبٍ۝ 31 ۙ ماء قال تعالی: وَجَعَلْنا مِنَ الْماءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍ [ الأنبیاء/ 30] ، وقال : وَأَنْزَلْنا مِنَ السَّماءِ ماءً طَهُوراً [ الفرقان/ 48] ، ويقال مَاهُ بني فلان، وأصل ماء مَوَهٌ ، بدلالة قولهم في جمعه : أَمْوَاهٌ ، ومِيَاهٌ. في تصغیره مُوَيْهٌ ، فحذف الهاء وقلب الواو، ( م ی ہ ) الماء کے معنی پانی کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَجَعَلْنا مِنَ الْماءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍ [ الأنبیاء/ 30] اور تمام جاندار چیزیں ہم نے پانی سے بنائیں ۔ وَأَنْزَلْنا مِنَ السَّماءِ ماءً طَهُوراً [ الفرقان/ 48] پاک ( اور نتھرا ہوا پانی اور محاورہ ہے : ۔ ماء بنی فلان فلاں قبیلے کا پانی یعنی ان کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 27–40

ترکیب : فی سدر الظرفیۃ للمبالغۃ فی التنعم والانتفاع بہ مخضود لاشوک لہ من خضد الشوک اذاقطعہ اومثنی اغصانہ من کثرۃ حملہ لامقطوعۃ لغۃ لفاکھۃ وقیل معطوف علیھا انشاء نھن الضمیر للفرش لان المراد بھا انساء عرب جمع عروب قال المبردھی العاشقۃ لزوجھا وقال زید بن اسلمھی الحسنۃ الکلام وقیل المحبوبۃ والا تراب جمع ترب وھوالمساوی لک فی السن لانہ یمس جلدھما التراب فی وقت واحد قیل یطلق علی النساء والرجال اقران۔ لاصحاب الیمین اللام متعلقۃ بانشاء نھن اویجعلنا۔ تفسیر … اصحاب ایمین کا ذکر : یہ دوسرے گروہ اصحاب الیمین کا ذکر ہے کہ وہ بہت ہی خوب لوگ ہیں اور ان کے لیے جنت میں یہ نعمتیں ہیں۔ فی سدر مخضود۔ باغات ہوں گے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 27–38

وَاَصْحٰبُ الْیَمِیْنِ 5 لا مَـآ اَصْحٰبُ الْیَمِیْنِ ۔ فِیْ سِدْرٍ مَّخْضُوْدٍ ۔ وَّطَلْحٍ مَّنْضُوْدٍ ۔ وَّظِلٍّ مَّمْدُوْدٍ ۔ وَّمَـآئٍ مَّسْکُوْبٍ ۔ وَّفَاکِھَۃٍ کَثِیْرَۃٍ ۔ لاَّ مَقْطُوْعَۃٍ وَّلاَ مَمْنُوْعَۃٍ ۔ وَّفُرُشٍ مَّرْفُوْعَۃٍ ۔ اِنَّـآ اَنْشَاْنٰـھُنَّ اِنْشَآئً ۔ فَجَعَلْنٰـھُنَّ اَبْـکَارًا۔ عُرُبًا اَتْرَابًا۔ لِّـاَصْحٰبِ الْـیَمِیْنِ ۔ (الواقعۃ : 27 تا 38) (اور دائیں بازو والے کیا کہنے ہیں دائیں بازو والوں کے۔ وہ بےخار بیریوں۔ اور تہ بہ تہ چڑھے ہوئے کیلوں۔ اور پھیلے ہوئے سایوں میں۔ اور بہایا ہوا پانی۔ اور فراواں میوے۔ اور کبھی نہ ختم ہونے والے اور بےروک ٹوک ملنے والے۔…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 27–40

فہم القرآن ربط کلام : ” اَلسَّابِقُوْنَ الْمُقَرَّبُوْنَ “ کے انعامات کا ذکر کرنے کے بعد ” اَصْحَابُ الْیَمِیْنِ “ کے انعامات کا تذکر ہ۔ ” اَصْحَابُ الْیَمِیْنِ “ کا ذکر کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر ارشاد فرمایا ہے کہ ” اَصْحَابُ الْیَمِیْنِ “ یعنی دائیں ہاتھ والوں کی عیش و عشرت کا کیا کہنا ؟ ” اَلسَّابِقُوْنَ الْمُقَرَّبُوْنَ “ کے انعامات کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد ہوا کہ انہیں مَن پسند پھل دیئے جائیں گے۔ لیکن ” اَصْحَابُ الْیَمِیْنِ “ کے انعام کا ذکر کرتے ہوئے اتنا پیارا انداز اختیار فرمایا ہے کہ جس میں بظاہر ” اَلسَّابِقُوْنَ الْمُقَرَّبُوْنَ “ اور ” اَصْحَابُ الْیَمِیْنِ “ کے انعامات کے درمیان…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

31 : وَّمَآ ئٍ مَّسْکُوْبٍ (اور آب رواں) جو بلا کھائی اور کنارے کے جاری ہوگا۔ یعنی وہ زمین پرنالیوں کے بغیر چلے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

30 ۔” وظل ممدود “ ہمیشہ کا اس کو سورج ختم نہ کرے گا اور عرب اس چیز کو ممدود کہتے ہیں جو ختم نہ ہو۔ حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جنت میں ایک درخت ہے سوار اس کے سائے میں سو سال چلے گا اس کا سایہ طے نہ کرسکے گا۔ عکرمہ نے ابن عباس ؓ سے اللہ تعالیٰ کے قول ” وظل ممدود “ کے بارے میں نقل کیا ہے۔ فرماتے ہیں جنت میں درخت ہے عرش کے پائے پر اس کی طرف اہل جنت نکلیں گے۔ اس کے نیچے بیٹھ کر گپ شف کریں گے اور ان میں سے بعض دنیا کے لہو کی چاہ کریں گے تو اللہ تعالیٰ جنت سے ایک ہوا بھیجیں گے تو یہ درخت دنیا کے ہر لہو (گانے وغیرہ) کے ساتھ حرکت کرے گا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 27–38

27۔ 38۔ مقربین کے حال کے بعد یہ داہنے ہاتھ والوں کا حال فرمایا۔ طائف کے پاس ایک جگہ ہے جس کا نام وج ہے وہاں بیری اور کیلے کے درختوں کا سایہ بہت ہے اس جگہ کو سایہ اور ٹھنڈک کے سبب سے اہل مکہ بہت پسند کرتے تھے اس لئے فرمایا کہ جنت میں بھی یہ سایہ دار درخت ہوں گے بلکہ اتنی بات بڑھ کر ہوگی کہ دنیا کے بیریوں میں کانٹے ہوتے ہیں جنت کی بیریوں میں سایہ ہوگا پھل ہوں گے مگر کانٹے نہ ہوں گے دنیا کے لمبے درختوں کے نیچے کا حصہ پھل سے خالی ہوتا ہے جنت کے درخت ایسے نہیں ہیں ان میں جڑ کے پاس سے ہی میوے کی شاخیں شروع ہوجاتی ہیں۔ معتبر 1 ؎ سند سے بیہقی کی عبد اللہ بن عباس ؓ کی یہ حدیث اوپر گزر چکی ہے کہ جنت کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 28–33

[ 26] جنت کی بیریاں بےخار : سو ارشاد فرمایا گیا جو بےخاربیریوں میں ہوں گے، یعنی وہاں کی دو بیری دنیاوی بیری کی طرح نہیں ہوگی جس میں کانٹے ہوتے ہیں، اور جس کے حاصل کرنے کیلئے ہاتھوں کو زخمی کرنا پڑتا ہے۔ سو وہاں کی دو بیری الگ اور ایک امتیازی شان کی ہوگی کہ اس میں کانٹے نہیں ہوں گے، کہ کانٹے تکلیف دہ چیز ہے اور جنت میں تکلیف دہ کوئی چیز نہیں ہوگی، بلکہ صحیح حدیث کے مطابق وہاں کی بیریوں میں ہر کانٹے کی جگہ پھل ہوں گے، اخرجہ الحاکم والبیہقی وحمھما اللہ فی قصۃ سوال الاعرابی، [ روح، ابن کثیر، صفوۃ وغیرہ ] سو یہ بیری جنت کی بیری ہوگی جس کی اس دنیا میں کوئی نظیر و مثال ممکن ہی نہیں، اور اس کی اصل…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 7–57

تین قسم کے لوگ اور ان کی سزاوجزا تشریح : سب سے پہلے تو میدان حشر کی صورت حال یوں بیان کی گئی ہے کہ وہاں تین گروہوں میں لوگوں کو تقسیم کردیا جائے گا۔ جیسا کہ اکثر قرآن پاک میں داہنے ہاتھ کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ اور بائیں طرف کو نحوست اور بد فالی قرار دیا گیا ہے عربی میں بائیں ہاتھ کو شومی کہا جاتا ہے اسی سے اردو میں شومئی قسمت بنا ہے اور پھر سب سے اگلے گروہ کی فضیلت بیان کرتے ہوئے اس گروہ کو بہترین، متقی، پرہیزگار اور ہر نیکی کے کام میں سب سے آگے بڑھنے والے برگزیدہ لوگ شمار ہوتے ہیں اسکے بعد اولین، آخرین اور سابقوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس میں علماء کرام کا کافی اختلاف ہے جس میں پڑنے سے بہتر ہے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–38

آیات 1 تا 38۔ اسرار ومعارف۔ جب واقعہ ہونے والی واقعہ ہوگی یعنی قیامت قائم ہوگی جس کے قائم ہونے میں کوئی شبہ نہیں اور اس کا قائم ہونا کبھی جھوٹ نہیں ہوسکتا جو بہت بڑے انقلاب کا سبب ہوگی کتنے سلطانوں کو خاک میں ملادے گی اور بوجہ ان کی نافرمانی کے ذلیل کردے گی اور کتنے غربا اور مساکین کو ان کی نیکی اور اللہ کے کرم کے سبب عظمت نشاں کردے گی قیامت کا قیام ایسا ہیبت ناک ہوگا کہ زمین پر لرزہ طاری ہوجائے گا یہاں تک کہ پہاڑ ٹوٹ پھوٹ کر ریز ریزہ ہوجائیں گے اور بالا آخر ہوامین اڑتا ہوا غبار بن جائیں گے تب اس وقت تم لوگ تین حصوں میں بٹ جاؤ گے ایک گروہ اصحاب الیمین جن کے اعمال نامے دائیں ہاتھ میں ہوں اور…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 31–34

ف 9 یعنی خوب دبیز اور اونچے ہوں گے۔ عربی زبان میں ” فرش “ کا لفظ عورت کے لئی بھی بطور کیا یہ استعمال ہوتا ہے اس لئے آیت وفرش مرفوعۃ کا ترجمہ ” شاندار عورتیں “ بھی کیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

56:31) وماء مسکوب : موصوف وصفت اس کا عطف بھی سدر پر ہے۔ مسکوب اسم مفعول واحد مذکر، سکب (باب نصر) مصدر۔ پانی کا بہنا۔ بڑی بڑی بوندوں کے ساتھ پیہم بارش کا ہونا۔ (اور وہاں) آب رواں ہوگا۔ یا۔ پانی کی آبشاریں ہوں گی۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 9–56

لغات القرآن آیت نمبر 39 تا 56 اصحاب الشمال بائیں (ہاتھ) والے سموم گرم ہوا۔ گرم بھاپ۔ یحموم کالا سیاہ دھواں لابارد نہ تو ٹھنڈا۔ لا کریم نہ آرام دینے والا۔ مترفین عیش سے زندگی گذارنے والے یصرون وہ ضد کرتے ہیں۔ اڑ جاتے ہیں۔ ال جنت گناہ زقوم جہنم میں دوزخیوں کی غذا (جہنم میں اگنے والا درخت) مالتئون بھرنے والے۔ شاربون پینے والے۔ شرب الھیم پیاسے اوٹن کی طرح پینا۔ تشریح : آیت نمبر 39 تا 56 سب سے آگے بڑھ جانے والے اور داہنے ہاتھ والے خوش نصیبوں کے بہترین انجام کا ذکر کرنے کے بعد بائیں ہاتھ والے لوگوں کا ذکر کیا جا رہا ہے جو بدترین حالات میں ہوں گے۔ دنیا میں ان کو جو عیش و آرام کا سامان دیا گیا تھا اس…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 27–39

(ف 1) مقربین کے حال کے بعد یہ داہنے ہاتھ والوں کا حال فرمایا کہ ان کا بھی کیا کہنا وہ بھی بڑے رتبہ والے ہیں ان کو بھی ہر طرح کی نعمت و سرور ہے وہ بیریوں کے سایہ میں عیش کریں گے دنیا کی بیریوں میں کانٹے ہوتے ہیں ، جنت کی بیریوں میں سایہ ہوگا پھل ہوں گے مگر کانٹے نہ ہوں گے دنیا کے لمبے درختوں کا نیچے کا حصہ پھل سے خالی ہوتا ہے جنت کے درخت ایسے نہیں ہیں ان میں جڑ کے پاس سے ہی میوے کی شاخیں شروع ہوجاتی ہیں معتبر سند سے بیہقی کی عبداللہ بن عباس کی حدیث ہے کہ جنت کی چیزوں کے فقط نام دنیا کی چیزوں سے ملتے ہوئے ہیں ورنہ جنت کی چیزوں کے آگے دنیا کی چیزوں کی کچھ حقیقت نہیں ہے۔ اس لیے ان بیروں اور کیلوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 29–46

[6] اس سے مراد کفر و شرک اور دہریت بھی ہے اور اخلاق و اعمال کا ہر بڑا گناہ بھی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 22–44

ف 1: اور گوری چٹی بڑی بڑی آنکھوں والی عورتیں ہوں گی ۔ محفوظ موتیوں کی مانند روشن اور تابیدہ ان کی رفاقت میں تم تسکین و طمانیت کی پوری لذتوں کو محسوس کروگے ۔ وہاں اس فضا ورنگ وبو میں کوئی بےہودہ بات نہیں ہوگی ۔ اور نہ گناہ کا ارتکاب کیا جائے گا ۔ نفوس انسانی اس وجہ ترقی کرجائیں گے اور درجہ مہذب وشائستہ ہوجائیں گے ۔ کہ باوجودان نعمتوں کی فراوانی کے باوجود شراب وکباب اور شغل ناؤنوش کے کوئی ایسی حرکت ان میخواروں سے سرزد نہ ہوگی ۔ جو آداب سے خانہ کے منافی ہو ۔ غرض یہ ہے ۔ کہ انہیں چیزوں کی وجہ سے تم لوگ اللہ کی نافرمانی کرتے ہو ۔ اور انہیں چیزوں کی ہوس تمہیں اس کی خوشنودی سے محروم رکھتی ہے ۔ اگر…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 14–43

ف 6۔ اگلوں سے مراد متقدمین ہیں آدم (علیہ السلام) سے لیکر حضور ﷺ کے قبل تک اور پچھلوں سے مراد حضور کے وقت سے لیکر قیامت تک۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اور یہ لوگ گرائے جانے والے پانیوں پر ہوں گے 31 ؎ (مسکوب) اسم مفعول واحد مذکر مجرور سکب مصدر بہتا ہوا جاری پانی۔ سکب سکوب ‘ سکاب پانی کا بہنا ‘ پانی کا برسنا اور خصوصاً بڑی بڑی بوندوں کے ساتھ برسنا اور پیہم برنس اور موٹے قطروں کی بارش وغیرہ کبھی آپ کو کسی ایسے علاقہ کی طرف جانے کا اتفاق ہوا ہو جہاں پہاری علاقوں میں قدرتی چشمے بہتے ہوں اور خصوصاً جس جگہ وہ فراز سے نسیب کو گر رہے ہوں وہاں کا منظر کتنا پیارا ظر آتا ہے اور خصوصاً جب گرمی عروج پر ہو اور چشمنوں کا پانی نہایت ٹھنڈا اور یخ ہو اس کے کے چھینٹے کتنا سہانا منظر پیش کرتے ہیں کہ ہرگز رنے والے مسافر کا خواہ مخواہ جی چاہتا ہے کہ یہاں رک جائوں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

وَمَاءٍ مَّسْكُوبٍ (...and water, poured forth...56:31) This means the water will be flowing constantly on the surface of the ground.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 29–32

16 The word !a maqtu ah of the Text means: This fruit will neither be seasonal that its supply may fail when the season is over, nor its production will cease as it happens in a garden after its fruits has been picked. But in Paradise every kind of fruit will remain available in abundance in every season and will continue to be produced and supplied no matter how much of it is consumed. And la mamnu'ah means that there will be no prohibition or hindrance in obtaining fruit as it is in the gardens of the world, nor will it be out of reach because of thorns or height.

Read the full tafseer →