Explained with ayahs 1–13
انسان پر اللہ تعالیٰ کے احسانات کی ایک جھلک
اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کاملہ کا بیان فرماتا ہے کہ اس نے اپنے بندوں پر قرآن کریم نازل فرمایا اور اپنے فضل و کرم سے اس کا حفظ کرنا بالکل آسان کردیا اسی نے انسان کو پیدا کیا اور اسے بولنا سکھایا۔ قتادہ وغیرہ کہتے ہیں بیان سے مراد خیر و شر ہے لیکن بولنا ہی مراد لینا یہاں بہت اچھا ہے۔ حضرت حسن کا قول بھی یہی ہے اور ساتھ ہی تعلیم قرآن کا ذکر ہے جس سے مراد تلاوت قرآن ہے اور تلاوت موقوف ہے بولنے کی آسانی پر ہر حرف اپنے مخرج سے بےتکلف زبان ادا کرتی رہتی ہے خواہ حلق سے نکلتا ہو خواہ دونوں ہونٹوں کے ملانے سے مختلف، مخرج اور مختلف قسم کے حروف کی ادائیگی اللہ…
Read the full tafseer →سورة الرَّحْمٰن 8
یعنی چونکہ تم ایک متوازن کائنات میں رہتے ہو جس کا سارا نظام عدل پر قائم کیا گیا ہے، اس لیے تمہیں بھی عدل پر قائم ہونا چاہیے۔ جس دائرے میں تمہیں اختیار دیا گیا ہے اس میں اگر تم بےانصافی کرو گے، اور جن حق داروں کے حقوق تمہارے ہاتھ میں دیے گئے ہیں اگر تم ان کے حق مارو گے تو یہ فطرت کائنات سے تمہاری بغاوت ہوگی۔ اس کائنات کی فطرت ظلم و بےانصافی اور حق ماری کو قبول نہیں کرتی۔ یہاں ایک بڑا ظلم تو درکنار، ترازو میں ڈنڈی مار کر اگر کوئی شخص خریدار کے حصہ کی ایک تولہ بھر چیز بھی مار لیتا ہے تو میزان عالم میں خلل برپا کردیتا ہے۔ یہ قرآن کی تعلیم کا دوسرا اہم حصہ ہے جو ان تین آیتوں میں…
Read the full tafseer →وَاَقِيْمُوا الْوَزْنَ بالْقِسْطِ ، قسط کے لفظی معنی انصاف کے ہیں، مراد ظاہر ہے کہ وزن کو ٹھیک ٹھیک قائم کرو انصاف کے ساتھ۔ وَلَا تُخْسِرُوا الْمِيْزَانَ ، خسر کے معنی وزن میں کمی کرنے کے ہیں، جو بات پہلے جملے وَاَقِيْمُوا الْوَزْنَ میں مثبت انداز سے بیان کی گئی ہے، یہ اسی کا منفی پہلو ہے کہ وزن میں کم تولنا حرام ہے۔
Read the full tafseer →(واقیموا الوزن بالقسط والا تخسرو المیزان) (9)۔ اوپروالی بات ایک کلیہ کی حیثیت سے بیان ہوئی تھی۔ اس کلیہ پر مبنی ایک دوسری حقیقت کی طرف توجہ دلائی جس کا تعلق ہماری روزمرہ زندگی سے ہے۔ فرمایا کہ جس خدا کے بنائے ہوئے آسمان کی چھت کے نیچے رہتے ہو جب وہ میزان رکھنے والا اور عدل پسند ہے تو اس کی دنیا میں ڈنڈی ماری کی زندگی نہ بسر کرو بلکہ ناپ تول میں پورے انصاف کے ساتھ وزن کو قائم رکھو اور ہرگز تول میں کوئی کمی نہ کرو۔ قوم شعیب کی سر گزشت کے سلسلہ میں ہم اس حقیقت کی طرف اشارہ کرچکے ہیں کہ ناپ تول میں کمی کوئی منفرد برائی نہیں ہے بلکہ یہ پورے نظام تمدن میں فساد کی ایک خوفناک علامت ہے۔ یہاں ایک مزید…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–12
12۔ 1 حب سے مراد وہ خوراک ہے جو انسان اور جانور کھاتے ہیں۔ خشک ہو کر اس کا پودا بھی بھس بن جاتا ہے جو جانوروں کے کام آتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–16
2: سجدہ حقیقی بھی ہوسکتا ہے، کیونکہ قرآن کریم نے کئی جگہ یہ فرمایا ہے کہ تمام مخلوقات میں کچھ نہ کچھ احساس موجود ہے۔ (دیکھئے سورة بنی اسرائیل : 44) اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ یہ سب اللہ تعالیٰ کے تابع فرمان ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
اللہ نے میزان قائم کردیا ہے۔ اس کا تقاضا یہ ہے کہ :
الا تطغوا فی المیزان (55: 8) ” تم میزان میں خلل نہ ڈالو ، کمی بیشی نہ کرو اور واقیموا ............ المیزان ” اور انصاف کے ساتھ ٹھیک ٹھیک تولو اور ترازو میں ڈنڈی نہ مارو “ میزان حق حقدار کو دینے اور انصاف کرنے کے لئے قائم ہوتا ہے لہٰذا نہ حد سے آگے جاؤ نہ پیچھے رہو۔
اس طرح زمین کے اندر موجود حق اور میزان اور انسانوں کی زندگی کے اندر موجود حقوق میں حق بحق دار رسید کے مطابق اسلامی نظام اور کائنات کے نظام کے درمیان توازن اور ہم آہنگی پیدا ہوگی۔ یوں آسمانوں سے نزول وحی اور آسمانوں کی رفعت اور بلندی دونوں کے درمیان اللہ کا میزان کام کرتا ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
9 اوپر سے دو دو چیزوں کے جوڑے بیان ہوتے چلے آرہے تھے۔ یہاں بھی آسمان کی بلندی کے ساتھ آگے زمین کی پستی کا ذکر ہے۔ درمیان میں میزان (ترازو) کا ذکر شاید اس لیے ہو کہ عموماً ترازو کو تولتے وقت آسمان و زمین کے درمیان معلق رکھنا پڑتا ہے۔ یہ اس تقدیر پر ہے کہ میزان سے مراد ظاہری اور حسی ترازو ہو۔ چونکہ اس کے ساتھ بہت سے معاملات کی درستی اور حقوق کی حفاظت وابستہ تھی۔ اس لیے ہدایت فرما دی کہ وضع میزان کی یہ غرض جب ہی حاصل ہوسکتی ہے کہ نہ لیتے وقت زیادہ تولو، نہ دیتے وقت کم، ترازو کے دونوں پلے اور باٹ بٹی میں کمی بیشی نہ ہو۔ نہ تولتے وقت ڈنڈی ماری جائے، بلکہ بدون کم بیشی کے دیانتداری کے ساتھ بالکل…
Read the full tafseer →آیت 9 { وَاَقِیْمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَلَا تُخْسِرُوا الْمِیْزَانَ۔ } ”اور قائم رکھو وزن کو انصاف کے ساتھ اور میزان میں کوئی کمی نہ کرو۔“
کسی بھی نظام میں توازن برقرار رکھنے کے لیے اس نظام کے اندر عدل قائم رکھنا یعنی اس کی ہرچیز کو اس کی اصل جگہ پر رکھنا ضروری ہے ‘ کیونکہ کسی بھی قسم کی کمی بیشی نظام میں خرابی اور عدم توازن کا باعث بنتی ہے۔ اسی لیے زیادتی سے بھی منع کردیا گیا لَا تَطْغَوْا اور کمی کرنے سے بھی روک دیا گیا لَا تُخْسِرُوا۔ خالق کائنات نے اس کائنات کا پورا نظام توازن اور عدل و قسط پر قائم کیا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ انسان بھی اپنے دائرئہ اختیار میں اسی طرح توازن اور عدل وقسط…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
7 یعنی اللہ نے نظام کائنات میں جس طرح عدل و انصاف سے کام لیا ہے تم اپنے باہمی لین دین میں اسے ملحوظ رکھو۔ اور اس کام کے لیے ہم نے میزان بنادی ہے۔ میزان کا معنی وزن کرنے کا آلہ بھی اور مقدار وزن بھی۔ علاوہ ازیں جس طرح میزان میں کمی بیشی کرنا گناہ کبیرہ ہے اسی طرح ناپ کے پیمانوں میں بھی کمی بیشی کرنا ویسا ہی جرم ہے۔ اور اس کمی بیشی کی وجہ صرف دوسرے کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنا ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
6۔ (اور اسی طرح معاملت کے ہر شعبہ میں پوری احتیاط برتو) (آیت) ” ووضع المیزان “۔ یعنی زمین میں ایسی کار آمد چیز ایجاد کردی۔ ذرا خیال تو کیجئے کہ آج اگر انسان کے پاس بڑی اور چھوٹی، بھاری اور ہلکی چیزوں کے وزن کرنے کا آلہ موجود نہ ہوتا تو تجارت اور تجارتی منڈیاں درآمد برآمد، خرید وفروخت بیوپار اور ساہوکارہ، تھوک فروشی اور خوردہ فروشی بازار اور اس کی دکانیں، غرض یہ کہ سارا کاروبار اور کاروباری تمدن کا کہیں بھی وجود ہوتا ؟ (آیت) ” المیزان “۔ میزان کے معنی عدل کے بھی کئے گئے ہیں۔ قیل المراد من المیزان العدل ووضعہ شرعہ (کبیر) تجارت اور تجارتی معاملات میں تقوی، دیانت و احتیاط کی اہمیت اسی ایک حکم سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–12
الشمس والقمر بحسبان انسان کے لئے جو نعمتیں حق تعالیٰ نے زمین و آسمان میں پیدا فرمائی ہیں اس آیت میں علویات میں سے شمس و قمر کا ذکر خصوصیت سیشاید اس لئے کیا ہے کہ عالم دنیا کا سارا نظام ان دونوں سیاروں کی حرکت اور ان کی شعاعوں سے وابستہ ہے۔
Read the full tafseer →واقیموا الوزن بالقسط ولا تخسروا المیزان .
” اور انصاف کے ساتھ وزن کو ٹھیک ٹھیک رکھو اور تول کو نہ گھٹاؤ۔ “
یعنی وزن کو ٹھیک ٹھیک رکھو ‘ وزن میں کمی نہ کرو۔ اللہ نے ٹھیک ٹھیک وزن کرنے کا حکم دیا۔ پہلے طغیان کی یعنی حق سے زیادہ لینے کی ممانعت فرما دی۔ پھر خسران کی یعنی وزن میں کمی کرنے کی نہی فرما دی اور لفظ میزان کو صراحتہً تین بار حکم کی تاکید کے لیے ذکر کیا۔
مسئلہ زید نے کوئی چیز ناپ تول کر خرید لی۔ پھر بکر کے ہاتھ وہ چیز ناپ تول کر فروخت کردی۔ اس صورت میں بکر پر لازم ہے کہ اگر وہ اس چیز کو خالد کے ہاتھ فروخت کرنا یا خود استعمال کرنا چاہتا ہے تو خود ناپ تول کر بیچے یا ناپ تول کر اپنے استعمال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
اور اسی نے تمام مخلوق کے لیے خواہ زندہ ہوں یا مردہ زمین کو پانی پر بچھا دیا۔
Read the full tafseer →1۔ یوَاَقِیْمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ۔۔۔۔۔۔:”القسط“ عدل ، انصاف۔ ان آیات میں ”المیزان“ کا لفظ تین دفعہ آیا ہے ، پہلا آلہ (ترازو) کے معنی میں ہے ، دوسرا مصدر (وزن) کے معنی میں اور تیسرا اسم مفعول (موزون) کے معنی میں۔ (ابن عادل ، اللباب) اس سے ماپ تول اور دوسرے پیمانوں میں انصاف کی تاکید مقصود ہے۔ اللہ تعالیٰ نے شعیب ؑ کی قوم پر عذاب کا ایک بہت بڑا باعث ماپ تول میں کمی بیشی کو قرار دیا ہے اور قرآن مجید کی ایک سورت کا نام ”مطففین“ ہے، جس میں کمی بیشی کرنے والوں کے لیے ”ویل“ کی وعید سنائی ہے۔
2۔ بہت سے مفسرین نے فرمایا کہ ”ووضع المیزان“ میں ”واقیمو الوزن“ سے مراد عدل ہے ، جس کی ایک شاخ ماپ تول…
Read the full tafseer →واقیموالوزن بالقسط یعنی عدل کے ساتھ اسے سیدھا رکھو۔ حضرت ابو درداء نے کہا، ترازو کی ڈنڈی انصاف کے ساتھ سیدھا رکھو۔ ابن عینیہ نخ کہا : اقامت کا تعلق ہاتھ سے اور قسط کا تعلق دل سے ہے۔ مجاہد نے کہا، قسط رومی زبان میں عدل کو کہتے ہیں۔ ایکق ول یہ کیا گیا ہے : یہ تیرے اس قول کی طرح ہے اقام الصلوۃ یعنی اسے اپنے وقت میں ادا کیا۔ اقام الناس سواقھم وہ بازار میں اس کے وقت میں آئے۔ یعنی تم وزن میں عدل کے ساتھ جو باہم معاملہ کرتے ہو اسے ترک نہ کرو۔
ولا تخسروالمیزان۔ میزان میں کمی نہ کرو، کیل اور وزن میں کمی نہ کرو۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی طرح ہے ولا تقصوا المکیال والمیزان (ہود : 84) قتادہ نے اس آیت…
Read the full tafseer →28:۔ ابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے ایک آدمی کو وزن کرتے ہوئے دیکھا کہ اس نے ترازو کو ایک جانب جھکایا ہوا ہے تو فرمایا ترازو کی ڈنڈی کو سیدھا رکھ جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت ) '' واقیموا الوزن بالقسط '' ( اور انصاف کے ساتھ وزن کو ٹھیک ٹھاک رکھو)
29:۔ ابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' واقیموا الوزن بالقسط '' مراد ہے کہ تم انصاف کے ساتھ ترازو کی ڈنڈی کو (سیدھا) رکھو۔
Read the full tafseer →وَاَقِيْمُوا الْوَزْنَ [ اور قائم رکھو تولنے کو ] بِالْقِسْطِ [ انصاف سے ] وَلَا تُخْسِرُوا [ اور کمی مت کرو ] الْمِيْزَانَ [ ترازو میں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–13
انصاف کے ساتھ وزن کرنے کا حکم :
﴿ وَ وَضَعَ الْمِيْزَانَۙ007﴾ اور اللہ تعالیٰ نے ترازو کو رکھ دیا ﴿ اَلَّا تَطْغَوْا فِي الْمِيْزَانِ 008﴾ (تاکہ تولنے میں سرکشی یعنی نافرمانی نہ کرو) عدل پر قائم رہو ایسا نہ کرو کہ دوسروں سے اپنے حق میں زیادہ تلواؤ اور دوسروں کے لیے تولو تو ڈنڈی ماردو اور گھٹا کر تولو جیسا کہ سورة التطفیف کے شروع میں تولنے والوں کی زیادتی کا طریقہ بیان فرمایا ہے، سورة الانعام اور سورة بنی اسرائیل میں بھی حکم ہے (کہ ناپ اور تول کو انصاف کے ساتھ قائم کرو)
﴿وَ الْاَرْضَ وَ ضَعَهَا لِلْاَنَامِۙ0010﴾ (اور زمین کو رکھ دیا لوگوں کے نفع کے لیے) زمین کو اللہ تعالیٰ نے بچھونا بنا دیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–25
انعامات رب جلیل بر انسان بعطاء وصف بیان وتعلیم قرآن وفیضان نعماء جسمانیہ وروحانیہ :
قال اللہ تعالیٰ : الرحمن علم القرآن ...... الی ...... فبای الآء ربکما تکذبن “۔
(ربط) سورة قمر میں دلائل نبوت اور معجزات عظیمہ کا بیان تھا اور امم سابقہ کے احوال ذکر فرمائے گئے کہ کس طرح انہوں نے اپنے پیغمبروں کا انکار کیا اور ان پر ایمان نہ لائے جس کے باعث عذاب خداوندی سے انکو ہلاک وبرباد کردیا گیا جس سے مقصود اہل مکہ کو متنبہ کرنا تھا کہ وہ ان احوال وواقعات کو سوچ کر اپنے انجام کے بارے میں بھی خود فیصلہ کرلیں تو اس کے بعد حق تعالیٰ شانہ نے ان انعامات خاصہ کا ذکر فرمایا جو انسان پر کئے گئے ان انعامات میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
4:۔ ” والسماء “ علویات کا ذکر۔ اوپر آسمان کو بلند کیا اور اس کی بلندی کا ایک اناز مقرر کیا۔ المیزان سے عدل و انصاف مراد ہے۔ عن مجاھد وقتادۃ والسدی ای وضع فی الارض العدل الذی امر بہ (قرطبی ج 17 ص 104) ۔ یعنی اس نے ھکم دیا ہے کہ ہر کام میں عدل و انصاف سے کام لو اس صورت میں عدل کا معیار قرآن ہوگا کیونکہ اس معاملے میں قرآن ہی میزان اور معیار ہوسکتا ہے علی ھذا المیزان القران لان فیہ بیان ما یحتاج الیہ وھو قول الحسین بن الفضل (قرطبی) اس صورت میں ان آیتوں کا حاصل یہ ہوگا کہ دنیا میں قرآن میزانِ عدل ہے ہر بات کو اس کی روشنی میں جانچو اور اس میزان کو نظر انداز نہ کرو اور اس میزان کے فیصلے سے تجاوز نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–13
نام اور کوائف
اس سورة مبارکہ کا نام سورة الرحمن ہے جو اس کے پہلے لفظ سے ماخوذ ہے صرف ایک آیت کے سوا یہ ساری سورة مکی دور میں نازل ہوئی اس سورة کی اٹھہتر آیات اور تین رکوع ہیں اور یہ سورة 351 الفاظ اور 1636 حروف پر مشتمل ہے۔
مضامین سورة
مکی سورتوں میں عام طور پر بنیادی عقائد ہی کا ذکر ہے۔ ان سورتوں میں احکام کا سلسلہ حال ہے۔ مکی دور میں چونکہ اسلامی معاشرہ کی بنیاد ہی نہیں رکھی جاسکی تھی ، لہٰذا اس دوران زیادہ تر اخلاق اور عقائد کی اصلاح پر توجہ دی گئی ہے چناچہ اس سورة مبارکہ میں بھی یہی پہلو غالب ہے۔ اس زمانے میں عرب میں شرک کی مختلف قسمیں رائج تھیں یا بالکل کفر تھا۔ اللہ نے مکی سورتوں میں…
Read the full tafseer →وَاَقِيْمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَلَا تُخْسِرُوا الْمِيْزَانَ 9
اقامت
والْإِقَامَةُ في المکان : الثبات . وإِقَامَةُ الشیء : توفية حقّه، وقال : قُلْ يا أَهْلَ الْكِتابِ لَسْتُمْ عَلى شَيْءٍ حَتَّى تُقِيمُوا التَّوْراةَ وَالْإِنْجِيلَ [ المائدة/ 68] أي : توفّون حقوقهما بالعلم والعمل، وکذلک قوله : وَلَوْ أَنَّهُمْ أَقامُوا التَّوْراةَ وَالْإِنْجِيلَ [ المائدة/ 66] ولم يأمر تعالیٰ بالصلاة حيثما أمر، ولا مدح بها حيثما مدح إلّا بلفظ الإقامة، تنبيها أنّ المقصود منها توفية شرائطها لا الإتيان بهيئاتها، نحو : أَقِيمُوا الصَّلاةَ [ البقرة/ 43] ، في غير موضع وَالْمُقِيمِينَ الصَّلاةَ [ النساء/ 162] .…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–18
ترکیب : ولاتخسرو ابضم التاء ای ولا تنقصوا الموزدن وقیل التقدیر فی المیزان۔ ویقرء بفتح التاء والخاء والاول اصح۔ للانام یتعلق بوضعہا والحب بالرفع عطفاً علی النخل والریحان کذلک ویقرء بالنصب ای خلق الحب۔ کالفخار لغت لصلصال من نار لغت لمارج۔ رب المشرقین ای ھو وقیل ھذا مبتداء دخبرہ مرج الاکمام جمع کم بالکسرو ھو دعاء الثمر اصلہ یطلق علی ماستر شیئا ومنہ کم القمیص بالضم۔
تفسیر : پہلے بطور علت و سبب کے عدل قائم کرنا بیان فرمایا تھا۔ اب بصراحت حکم دیتا ہے واقیموالوزن بالقسط کہ دنیا میں انصاف کی ترازو سے تولو۔ یہ حکم بڑا وسیع المعنی ہے جس میں اشیاء کا انصاف سے تولنا بھی داخل ہے اور عموماً ہر بات میں حق…
Read the full tafseer →وَاَقِیْمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَلاَ تُخْسِرُوا الْمِیْزَانَ ۔ (الرحمن : 9)
(اور ٹھیک تولو انصاف کے ساتھ، اور وزن میں کمی نہ کرو۔ )
میزان کی حقیقت کو انسانی زندگی میں ملحوظ رکھنے کا حکم
اوپر کی دو آیات میں ہمیں اس بنیادی حقیقت سے آگاہ کیا گیا ہے کہ آسمان کا بےستون قائم ہونا اور کائناتی نظام کا بےغل و غش جاری وساری رہنا صرف ایک میزان اور توازن کی وجہ سے ہے۔ اسی کو اللہ تعالیٰ نے کائنات کے قیام وبقاء کا ذریعہ بنایا ہے۔ اسی سے اللہ تعالیٰ کی اس منشاء کا اندازہ ہوتا ہے کہ وہ انسانوں سے یہ چاہتا ہے کہ وہ بھی اپنے دائرہ اختیار میں اسی طرح توازن، عدل اور قسط کو ملحوظ رکھیں۔ اس حقیقت کے انکشاف کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
فہم القرآن
ربط کلام : آسمان کی رفعت کا ذکر کرنے کے بعد ترازو کا ذکر کیا گیا ہے کیونکہ ترازو بھی زمین سے بلند رکھا جاتا ہے۔ جس طرح آسمان زمین سے بلند ہے۔ (الحدید : 25) میں فرمایا کہ میزان آسمان سے اتارا گیا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے کائنات کا نظام اور لوگوں کے درمیان اخلاقی، سیاسی، معاشی اور ہر قسم کا عدل و انصاف قائم رکھنے کے لیے ایک میزان نازل فرمایا ہے۔ جس کے بارے میں اس کا حکم ہے کہ میزان میں تجاوز نہیں ہونا چاہیے حکم دیا کہ جب کسی چیز کا ماپ تول کرو تو اس میں عدل قائم رکھو اور ماپ، تول میں کسی صورت بھی کمی بیشی نہیں ہونی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے پوری کائنات کے اندر ایک نظام اور توازن قائم فرمایا ہے…
Read the full tafseer →9 : وَاَقِیْمُوا الْوَزْنَ بِالقِسْطِ (اور انصاف کے ساتھ وزن کو ٹھیک ٹھیک رکھو) عدل کے ساتھ اپنے وزن کو درست رکھو۔ وَلَا تُخْسِرُوا الْمِیْزَانَ (اور تول کو نہ گھٹائو) تول میں کمی نہ کرو۔ برابری کا حکم دیا اور اعتداء و زیادتی جو سرکشی کا نتیجہ ہے اس سے باز رکھا اور ایسے نقصان سے جو تطفیف تک لے جائے منع کردیا۔ اور لفظ میزان کو دوبارہ لائے تاکہ نصیحت پختہ ہو اور اس کے استعمال کا حکم مضبوط ہو اور دلی آمادگی سے اس کو استعمال میں لائے۔
Read the full tafseer →8 ۔” الا تطغوا فی المیزان “ دلالت کرتا ہے یعنی تم انصاف سے تجاوز نہ کرو اور حسن اور قتادہ اور ضحاک رحمہم اللہ فرماتے ہیں اس سے وہ مراد ہے جس کے ذریعے وزن کیا جاتا ہے تاکہ اس کے ذریعے انصاف اور برابری تک پہنچا جائے اور وزن کی اصل التقدیر ہے۔ ” الاتطغوا “ یعنی تاکہ تم مائل نہ ہوجائو اور ظلم کر بیٹھو اور تولنے میں حق سے تجاوز کر جائو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–13
1۔ 13۔ اگرچہ سورة نحل میں گزر چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر اس قدر احسان کئے ہیں کہ ان احسانات اور اس کی نعمتوں کا شکریہ کرنا تو درکنار اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں کا ہر ایک شخص اگر اللہ تعالیٰ کے احسانات اور اس کی نعمت کی گنتی بھی کرنی چاہے تو یہ بات بھی اللہ تعالیٰ کی مخلوق کی طاقت سے باہر ہے لیکن جن و انسان کے فقط یاد دلانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے اس سورة میں اکتیس قسم کی نعمتوں کا ذکر فرمایا ہے اور ہر ایک قسم کی نعمت کے ذکر کے بعد جن و انسان سے تنبیہ کے طور پر یہ پوچھا ہے کہ تم دونوں اللہ تعالیٰ کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤگے۔ مطلب یہ ہے کہ جس اللہ نے انسان کو ‘ انسان کی سب ضرورت کی…
Read the full tafseer →وَاَقِيْمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ ) اور تم وزن انصاف سے کرو۔ یعنی جہاں تک تمہاری قدرت، طاقت اور تمہارے امکان میں ہے وزن کو انصاف کے ساتھ قائم رکھو۔ ( وَلَا تُخْسِرُوا الْمِيْزَانَ ) یعنی اسے کم نہ کرو کہ اس کی ضد پر عمل کرنے لگو۔ اس سے مراد ظلم وجور اور سرکشی ہے۔
Read the full tafseer →[ 9] ناپ تول میں عدل و انصاف سے کام لینے کا حکم و ارشاد :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ وزن کو قائم کرو انصاف کے ساتھ، اور کمی نہ کرو تول میں۔ بلکہ ہر کسی کو اس کا حق پورا پورا ادا کرو۔ سو اوپر والی بات تو ایک کلیے کی حیثیت سے بیان ہوئی تھی۔ اب یہ اسی کلیے پر مبنی ایک دوسری حقیقت کی طرف توجہ دلائی گئی ہے جس کا تعلق ہماری روزمرہ کی زندگی سے ہے۔ سو فرمایا گیا کہ تم ٹھیک ٹھیک تو لو انصاف کے ساتھ اور ناپ تول میں کمی نہیں کرنا۔ سو عدل و انصاف کے تقاضوں پر مبنی اور گایت درجہ توازن پر قائم اس کائنات کی فطرت کا تقاضا یہ ہے کہ تم لوگ اپنے دائرہ اختیار میں پوری طرح عدل و انصاف پر قائم رہو۔ نہ کسی کا حق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–13
رب جس نے انسان کو پیدا کیا اس کی تمام ضروریات پوری کردیں
تشریح :۔ رحمن اللہ کا صفاتی نام ہے اور یہ صفاتی نام پورے قرآن پاک میں تقریبا 55 مقامات پر آیا ہے۔ یہ اس کی رحمن ہونے کی دلیل ہے کہ جو اس نے مخلوقات کو بنایا۔ راہ ہدایت دکھانے کے لیے قرآن نازل فرمایا اور پوری کائنات کو اپنے رحم و کرم سے بھر دیا۔ اس کا رحم و کرم ہر ایک کے لیے برابر ہے۔ چاہے کوئی کافر ہو مسلم ہو، نیک ہو یا بد ہو، متقی ہو یا گنہگار ہو۔ غرض اس کی عنایات سے ہر کوئی فیض یاب ہو رہا ہے۔ اور یہ بھی اس کے رحمن ہونے کا ثبوت ہے کہ اس نے علم سکھایا۔ قرآن پاک جس میں پوری کائنات تمام تخلیقات کے ہر قسم کے علوم بیان کردیے گئے ہیں اور ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–25
آیات 1 تا 25۔
اسرار ومعارف۔
وہ ذات بیحد و حساب رحم کرنے والی ہے اور اس کی رحمت ہے کہ اس نے قرآن سکھلایا اپنے نبی پر نازل فرما کر ان خوش نصیبوں کو جنہوں نے آپ سے سیکھا اور ان کے واسطے سے اگلوں کو سکھایا یوں تعلیم قرآن کا سلسلہ ہمیشہ کے لیے جاری فرمایا کہ بنی آدم میں سے جو چاہے اس چشمہ رحمت سے سیراب ہو۔ آخر یہ بھی تو اسی کی رحمت عامہ ہے کہ انسان کو پیدا فرمایا اور اسے زبان دانی بات کرنے کا فن ودیعت فرمایا کہ وہ علم قرآن حاصل کرسکنے کے قابل ہوا۔
قوت گویائی کا اصل مصرف۔
گویاقوت گویائی اور بات کرنے کی صلاحیت کا اصل مصرف علوم قرآن کا حصول اور اس کا آگے پہنچانا ہے باقی سارے فوائد دوسرے درجے میں ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–12
ف 9 یعنی آدمیوں کے لئے دانہ اور جانوروں کے لئے بھوسا۔
Read the full tafseer →(55:9) اقیموا الوزن بالقسط : اقیموا امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر اقامۃ (افعال) مصدر سے تم قائم کرو۔ تم درست رکھو۔
القسط : عدل، انصاف۔ حصہ جو انصاف کے ساتھ دیا جائے۔ القسط اسم مصدر ہے یعنی وزن کو انصاف کے ساتھ ٹھیک رکھو
لاتخسروا : فعل نہی جسم مذکر حاضر۔ اخسار (افعال) مصدر۔ تم مت گھٹاؤ مطلب یہ کہ چونکہ تم ایک متوازن کائنات میں رہتے ہو جس کا سارا نظام عدل پر قائم ہے اس لئے تمہیں بھی عدل پر قائم ہونا چاہیے۔ جس دائرے میں تمہیں اختیار دیا گیا ہے اس میں اگ تم بےانصافی کرو گے۔ تو یہ فطرت کائنات سے تمہاری بغاوت ہوگی۔ اس کائنات کی فطرت ظلم و بےانصافی اور حق ماری کو قبول نہیں کرتی۔ یہاں ایک بڑا ظلم تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–25
لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 25
علم اس نے سکھایا۔ البیان بولنا بحسبان ایک حساب سے، ایک طریقے سے۔ النجم بےتنے کے درخت، پودے۔ وضع اس نے رکھا ۔ اس نے بنایا ۔ الاتطفوا یہ کہ تم نہ گھٹائو۔ انام مخلوق۔ الاکمام (کم) غلام، چھلکا ۔ العصف بھوسہ (جانوروں کی غذا) الریحان خوشبودار ۔ الاء (الی) نعمتیں صلصال خشک مٹی جو کھن کھن بجتی ہو۔ الفخار ٹھیکرا۔ الجان جن ، ابو الجنات ۔ مارج شعلہ جس میں دھواں نہ ہو۔ مرج (خوب بہتا ہے) جاری کیا البحرین دوریا، دو سمندر۔ برزخ پردہ، رکاوٹ۔ لا یبغین دونوں کو ملنے نہیں دیتا اللولو موتی۔ المرجان مونگا، سفید موتی۔ المنشئت بلند کئے ہوئے۔ الاغلام (ملم) پہاڑ، جھنڈا
اللہ تعالیٰ نے اپنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
انعامات خداوند کریم جل جلالہ۔
(ف 1) آدمیوں کے آرام کے لیے زمین کو بچھایا اسی خدا نے جو رحمن ہے تاکہ انسان اس پر آرام سے چلیں پھریں اور کاروباری جاری رکھیں آگے زمین کی یہ صفت بیان فرمائی کہ وہ زمین ایسی ہے جس میں قسم قسم کے پھل میوے بھی نکلتے ہیں اور غلہ اناج بھی، پھر غلہ میں دوچیزیں ہیں دانہ جو انسان کی غذا ہے اور بھوسہ جو جانوروں کے لیے ہے اور بعض چیزیں زمین سے وہ پیدا ہوتی ہیں جو کھانے کے کام میں نہیں آتی لیکن ان کی خوشبو وغیرہ سے فائدہ اٹھایاجاتا ہے غرض یہ سب کچھ انعامات جو دنیا میں تم کو نظرآ رہے ہیں اسی اللہ تعالیٰ نے پیدا کیے ہیں جو رحمن ہے جس کا کفار انکار کرتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–12
[4] اس سے معلوم ہوا کہ ناپ تول میں کامل انصاف کا حکم ایک عظیم حکم ہے۔ یہ اس میزان کی ایک فرع ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے اس عالم کا نظام قائم فرمایا ہے۔ یہیں سے یہ بات نکلی کہ جو قوم اس میں فساد برپا کرتی ہے وہ سارے نظام عدل میں فساد برپا کرتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–16
جنوں کا وجود
1: جن ایک الگ مخلوق ہے ۔ جس کو اللہ تعالیٰ نے آگ سے پیدا کیا ہے ۔ یہی وجہ ہے ۔ ان میں لطافت زیادہ ہے ۔ آج سے پچاس سال قبل تو لوگ اس مخلوق کا انکار کرتے تھے ۔ مگر اب تجربات نے ثابت کردیا ہے ۔ کہ جنات بھی موجود ہیں ۔ اور وہ لوگ جنہوں نے بڑے شدومد سے کہا تھا ۔ کہ یہ محض وہم ہے ۔ اب وہی کہہ رہے ہیں ۔ کہ یہ ایک حقیقت ہے ۔ ہمارے ہاں بعض ایسے جاہل بھی موجود ہیں ۔ جنہوں نے اس وقت کی آواز کو تو سنا تھا ۔ مگر موجودہ وقت کے خیالات سے آگاہ نہیں ۔ وہ اب تک یہ سمجھے بیٹھے ہیں ۔ کہ علماء مغرب کے معتقلات میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ۔ بلکہ وہ اس قدر روشن خیال ہیں ۔ کہ سارا مغرب بھی ان مسائل کا قائل…
Read the full tafseer →(9) اور انصاف کے ساتھ سیدھی ترازو تولو اور تول گھٹائو نہیں۔ یعنی سیدھا تولا کرو انصاف کیساتھ اور تول کم مت کیا کرو یعنی ڈنڈی نہ مارا کرو اور بٹے کم نہ رکھو۔ غرض کوئی حرکت ایسی نہ کرو جس سے مشتری کو نقصان پہنچے ، غرض تول اور ناپ کے طریقوں کا رواج بھی اللہ تعالیٰ کی نعمت اور احسان بلکہ ہزار ہا مفاسد کا سدباب ہے۔
ولا تخسرو المیزان کا مطلب یہ ہے کہ ترازو میں نقصان نہ کرو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–13
ف 5۔ یہ آیت تفریعیہ اس سورت میں اکتیس جگہ آئی ہے اور ہر جگہ الاء کا مصداق جدا ہے، اس لئے یہ تکرار محض نہیں، محض لفظی تشارک ہے اور تکرار ظاہری کیو جہ سے اس میں افادہ تاکید بھی ہے اور اس قسم کا تکرار جو کہ قند مکرر سے شیریں تر ہے عرب کے کلام منثور و منظوم میں بکثرت بلا نکیر مستعمل ہے۔ تکذبان میں خطاب جن و انس کو ہونا ان دلائل سے ہے، قولہ تعالیٰ خلق الانسان و خلق الجان، قولہ تعالیٰ ایہ الثقلان، قولہ تعالیٰ انس قبلھم ولا جان۔
Read the full tafseer →انصاف کے ساتھ تولو اور تول کو کم مت کرو
9۔ غور کرو کہ سارے طاقتوروں سے زیادہ طاقت ور اور سارے اختیار رکھنے والوں سے زیادہ بااختیار کون ہے ؟ ظاہر ہے کہ اس کا جواب ایک اور صرف ایک ہے کہ اللہ تعالیٰ ۔ پھر جب سارے طاقتوروں سے زیادہ طاقت رکھنے والے نے بھی میزان عدل کو قائم رکھا ہے اور اس کے سارے نظام کائنات کا انحصار اسی پر ہے تو تم کو کیا کرنا چاہئے تھا اور کیا کر رہے ہو ؟ اس لیے زیر نظر آیت میں حکم دیا جارہا ہے کہ اگر تم کو صرف دیکھ لینے سے سبق حاصل نہیں ہوسکتا اور اشارہ و کنایہ سے تم کچھ نہیں سمجھ سکتے تو تم کو ہماری طرف سے حکم دیا جارہا ہے کہ ترازو سیدھی رکھو اور تول میں کمی مت کرو۔ ماپ اور…
Read the full tafseer →وَأَقِيمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ (And observe the correct weight with fairness, ....55:9). The word قِسط qist literally means 'justice'. The meaning is obvious: 'And observe the weight with equity'.
وَلَا تُخْسِرُوا الْمِيزَانَ (and do not make weighing deficient...55:9). The word خُسر khusr means 'to skimp or make deficient'. The opening part of verse [ 9] was the positive aspect of the injunction, and the concluding part is its negative aspect, in that it is unlawful to fall short of measure or weight. The two parts, positive and negative, put together the verse as a whole means 'Do not…
Read the full tafseer →8 That is, "As you are living in a balanced Universe, whose entire system has been established on justice, you also should adhere to justice. For if you act unjustly within the sphere in which you have been given authority, and fail to render the rights of others, you would indeed be rebelling against the nature of the Universe; for the nature of this Universe does not admit of injustice and perversion and violation of the rights. Not to speak of a major injustice, even if a person fraudulently deprives another of an ounce of something, by giving him short measure, he disturbs the balance of…
Read the full tafseer →