Ar-Rahmaan 55:8

Ar-Rahmaan · from ayah 8

55:8

اَلَّا تَطْغَوْا فِی الْمِیْزَانِ ۟اَلَّا تَطۡغَوۡا فِى الۡمِيۡزَانِ

کہ ترازو (سے تولنے) میں حد سے تجاوز نہ کرو

— Fateh Muhammad Jalandhari

That you not transgress within the balance.

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 1 of surah · Ruku 11 of juz

Read the whole surah · Surah Ar-Rahmaan

All translations of 55:8

اِس کا تقاضا یہ ہے کہ تم میزان میں خلل نہ ڈالو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کہ ترازو (سے تولنے) میں حد سے تجاوز نہ کرو

— مولانا فتح محمد جالندہری

تاکہ تم تولنے میں تجاوز نہ کرو

— مولانا محمد جوناگڑہی

کہ تم تولنے میں ظلم نہ کرو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کہ ترازو میں بے اعتدالی نہ کرو

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

تاکہ تم تولنے میں بے اعتدالی نہ کرو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

تاکہ تم ترازو میں زیادتی نہ کرو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

تاکہ تم تولنے میں زیادتی نہ کرو۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کہ تم بھی میزان میں تجاوز نہ کرو

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور رکھ دی ترازو تاکہ تم لوگ کمی بیشی نہ کرو (ناپنے) تولنے میں

— مولانا اسحاق مدنی

کہ تم تولنے میں گڑبڑ نہ کرو

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تاکہ تم میزان میں زیادتی مت کرو۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کہ میزان میں حد سے تجاوز نہ کرو

— محترمہ رفعت اعجاز

that you may not transgress in the balance,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

so that you should not be wrongful in weighing.

— Muhammad Taqi Usmani

so that you should not be wrongful in weighing.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

In order that you may not transgress the balance.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

That you not transgress within the balance.

— Saheeh International

so that you would maintain justice.

— Muhammad Sarwar

That you may not be inordinate in respect of the measure.

— Muhammad Habib Shakir

That ye should not trespass in respect of the balance.

— Abdul Majid Daryabadi

In order that ye may not transgress (due) balance.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 55:8

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–13

انسان پر اللہ تعالیٰ کے احسانات کی ایک جھلک اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کاملہ کا بیان فرماتا ہے کہ اس نے اپنے بندوں پر قرآن کریم نازل فرمایا اور اپنے فضل و کرم سے اس کا حفظ کرنا بالکل آسان کردیا اسی نے انسان کو پیدا کیا اور اسے بولنا سکھایا۔ قتادہ وغیرہ کہتے ہیں بیان سے مراد خیر و شر ہے لیکن بولنا ہی مراد لینا یہاں بہت اچھا ہے۔ حضرت حسن کا قول بھی یہی ہے اور ساتھ ہی تعلیم قرآن کا ذکر ہے جس سے مراد تلاوت قرآن ہے اور تلاوت موقوف ہے بولنے کی آسانی پر ہر حرف اپنے مخرج سے بےتکلف زبان ادا کرتی رہتی ہے خواہ حلق سے نکلتا ہو خواہ دونوں ہونٹوں کے ملانے سے مختلف، مخرج اور مختلف قسم کے حروف کی ادائیگی اللہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 7–8

سورة الرَّحْمٰن 7 قریب قریب تمام مفسرین نے یہاں میزان (ترازو) سے مراد عدل لیا ہے، اور میزان قائم کرنے کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کائنات کے اس پورے نظام کو عدل پر قائم کیا ہے۔ یہ بےحد و حساب تارے اور سیارے جو فضا میں گھوم رہے ہیں، یہ عظیم الشان قوتیں جو اس عالم میں کام کر رہی ہیں، اور یہ لا تعداد مخلوقات اور اشیاء جو اس جہاں میں پائی جاتی ہیں، ان سب کے درمیان اگر کمال درجہ کا عدل و توازن نہ قائم کیا گیا ہوتا تو یہ کارگاہ ہستی ایک لمحہ کے لیے بھی نہ چل سکتی تھی۔ خود اس زمین پر کروڑوں برس سے ہوا اور پانی اور خشکی میں جو مخلوقات موجود ہیں ان ہی کو دیکھ لیجیے۔ ان کی زندگی اسی لیے تو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

اَلَّا تَطْغَوْا فِي الْمِيْزَانِ ، پہلی آیت میں جو میزان پیدا کرنے کا ذکر تھا اس جملے میں اس کے مقصد کو واضح کیا گیا ہے، تطغوا، طغیان سے مشتق ہے، جس کے معنی بےانصافی اور ظلم کے ہیں، مراد یہ ہے کہ میزان کو اللہ تعالیٰ نے اس لئے بنایا کہ تم وزن میں کمی بیشی کر کے ظلم و جور میں مبتلا نہ ہوجاؤ۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

(الا بطغوا فی المیزان) (8) (آسمان کے خالق کی پسند کا اظہار اس کی صفت سے)۔ یعنی جب خالق نے اسکے اندر میزان رکھی جس پر یہ قائم ہے، یہ نہ ہو تو آسمان درہم برہم ہوجائے تو اس سے خالق کا مزاج اور اس کا ذوق معلوم ہوا کہ وہ چاہتا ہے کہ انسان بھی اپنے دائرہ اختیار کے اندر اسی طرح توازن، عدل اور قسط کو ملحوظ رکھے۔ اس میزان میں کوئی خرابی نہ پیدا کرے ورنہ سارے نظام معاش و معیشت میں فساد پھیل جائے گا۔ مطلب یہ نکلا کہ اسی عدل و قسط کی دعوت تمہیں قرآن دے رہا ہے۔ جس کی شہادت تمہارے سروں پر پھیلے ہوئے آسمان کے ہر گوشے سے مل رہی ہے اور اسی کی خلاف ورزی کے نتائج تمہیں وہ ڈرا رہا ہے کہ اگر تم نے اپنے طغیان سے…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 6–16

2: سجدہ حقیقی بھی ہوسکتا ہے، کیونکہ قرآن کریم نے کئی جگہ یہ فرمایا ہے کہ تمام مخلوقات میں کچھ نہ کچھ احساس موجود ہے۔ (دیکھئے سورة بنی اسرائیل : 44) اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ یہ سب اللہ تعالیٰ کے تابع فرمان ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 8–9

اللہ نے میزان قائم کردیا ہے۔ اس کا تقاضا یہ ہے کہ : الا تطغوا فی المیزان (55: 8) ” تم میزان میں خلل نہ ڈالو ، کمی بیشی نہ کرو اور واقیموا ............ المیزان ” اور انصاف کے ساتھ ٹھیک ٹھیک تولو اور ترازو میں ڈنڈی نہ مارو “ میزان حق حقدار کو دینے اور انصاف کرنے کے لئے قائم ہوتا ہے لہٰذا نہ حد سے آگے جاؤ نہ پیچھے رہو۔ اس طرح زمین کے اندر موجود حق اور میزان اور انسانوں کی زندگی کے اندر موجود حقوق میں حق بحق دار رسید کے مطابق اسلامی نظام اور کائنات کے نظام کے درمیان توازن اور ہم آہنگی پیدا ہوگی۔ یوں آسمانوں سے نزول وحی اور آسمانوں کی رفعت اور بلندی دونوں کے درمیان اللہ کا میزان کام کرتا ہے اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 7–9

9 اوپر سے دو دو چیزوں کے جوڑے بیان ہوتے چلے آرہے تھے۔ یہاں بھی آسمان کی بلندی کے ساتھ آگے زمین کی پستی کا ذکر ہے۔ درمیان میں میزان (ترازو) کا ذکر شاید اس لیے ہو کہ عموماً ترازو کو تولتے وقت آسمان و زمین کے درمیان معلق رکھنا پڑتا ہے۔ یہ اس تقدیر پر ہے کہ میزان سے مراد ظاہری اور حسی ترازو ہو۔ چونکہ اس کے ساتھ بہت سے معاملات کی درستی اور حقوق کی حفاظت وابستہ تھی۔ اس لیے ہدایت فرما دی کہ وضع میزان کی یہ غرض جب ہی حاصل ہوسکتی ہے کہ نہ لیتے وقت زیادہ تولو، نہ دیتے وقت کم، ترازو کے دونوں پلے اور باٹ بٹی میں کمی بیشی نہ ہو۔ نہ تولتے وقت ڈنڈی ماری جائے، بلکہ بدون کم بیشی کے دیانتداری کے ساتھ بالکل…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 8{ اَلَّا تَطْغَوْا فِی الْْمِیْزَانِ۔ } ”تاکہ تم میزان میں زیادتی مت کرو۔“ اس کائناتی توازن کا تقاضا یہ ہے کہ اس کائنات میں رہتے ہوئے تم بھی عدل و انصاف پر قائم رہو۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 8–9

7 یعنی اللہ نے نظام کائنات میں جس طرح عدل و انصاف سے کام لیا ہے تم اپنے باہمی لین دین میں اسے ملحوظ رکھو۔ اور اس کام کے لیے ہم نے میزان بنادی ہے۔ میزان کا معنی وزن کرنے کا آلہ بھی اور مقدار وزن بھی۔ علاوہ ازیں جس طرح میزان میں کمی بیشی کرنا گناہ کبیرہ ہے اسی طرح ناپ کے پیمانوں میں بھی کمی بیشی کرنا ویسا ہی جرم ہے۔ اور اس کمی بیشی کی وجہ صرف دوسرے کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنا ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 8–9

6۔ (اور اسی طرح معاملت کے ہر شعبہ میں پوری احتیاط برتو) (آیت) ” ووضع المیزان “۔ یعنی زمین میں ایسی کار آمد چیز ایجاد کردی۔ ذرا خیال تو کیجئے کہ آج اگر انسان کے پاس بڑی اور چھوٹی، بھاری اور ہلکی چیزوں کے وزن کرنے کا آلہ موجود نہ ہوتا تو تجارت اور تجارتی منڈیاں درآمد برآمد، خرید وفروخت بیوپار اور ساہوکارہ، تھوک فروشی اور خوردہ فروشی بازار اور اس کی دکانیں، غرض یہ کہ سارا کاروبار اور کاروباری تمدن کا کہیں بھی وجود ہوتا ؟ (آیت) ” المیزان “۔ میزان کے معنی عدل کے بھی کئے گئے ہیں۔ قیل المراد من المیزان العدل ووضعہ شرعہ (کبیر) تجارت اور تجارتی معاملات میں تقوی، دیانت و احتیاط کی اہمیت اسی ایک حکم سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 5–12

الشمس والقمر بحسبان انسان کے لئے جو نعمتیں حق تعالیٰ نے زمین و آسمان میں پیدا فرمائی ہیں اس آیت میں علویات میں سے شمس و قمر کا ذکر خصوصیت سیشاید اس لئے کیا ہے کہ عالم دنیا کا سارا نظام ان دونوں سیاروں کی حرکت اور ان کی شعاعوں سے وابستہ ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

الا تغطغوا فی المیزان . تاکہ تم تولنے میں کمی بیشی نہ کرو۔ اَنْ مصدریہ ہے لا تطغوا مضارع منفی ہے۔ یعنی اللہ نے میزان قائم کردی تاکہ تم لوگ حق سے تجاوز نہ کرو۔ میزان کو قائم رکھو۔ کوئی کسی کی حق تلفی نہ کرے یا ان مفسرہ ہے اور لا تطغوا صیغۂ نہی ہے۔ یعنی اللہ نے حکم دیا ہے کہ تم وزن میں حق سے تجاوز نہ کرو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور انصاف کے ساتھ وزن کو ٹھیک روکھو یا یہ کہ اپنی زبانوں کو سچائی کے ساتھ ٹھیک رکھو اور تول میں کمی مت کرو کہ اس سے لوگوں کے حق مارنا شروع کردو۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اَلَّا تَطْغَوْا فِی الْمِیْزَانِِ : اس سے پہلے ”لام“ جارہ محذوف ہے :”ای لئلا تطغوا“ یعنی اس نے میزان اس لیے بنایا ہے کہ تم ہر معاملے میں وزن کرتے ہوئے صحیح وزن کرو ، کمی بیشی مت کرو، کیونکہ یہ حد سے تجاوز ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

الا تطغوا فی المیزان۔ ان کا محل نصب ہو سکتا ہے اس صورت میں کہ حرف جار حذف ہے گویا فرمایا : لئلا تطغوا جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : یبین اللہ لکم ان تضلوا (النسائ : 176) یہ بھی جائز ہے کہ ان کا اعراب میں کوئی محل نہ ہو بلکہ یہ ای کے معنی میں ہو اس تقدیر کی بنا پر تطغوا مجزوم ہوگا جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : وانطلق الملا منھم ان امشوا اس : 6) طغیان کا معنی حد سے تجاوز کرنا ہے۔ جس نے کہا، میزان کا معنی عدل کرنا ہے (1) تو اس نے کہا طغیان کا معنی ظلم ہے۔ جس نے کہا، میزان سے مراد وہ چیز ہے جس کے ساتھ وزن کیا جاتا ہے۔ اس نے کہا، طغیان کا معنی کم کرنا ہے۔ حضرت ابن عباس نے کہا، جس کے لئے تم…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

ہر معاملہ میں انصاف سے پیش آنا : 27:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' الا تطغوافی المیزان '' (کہ تم بولنے میں کمی بیشی نہ کرو) یعنی اے آدم کے بیٹے انصاف کر جیسے تو پسند کرتا ہے تاکہ تیرے ساتھ انصاف کیا جائے اور ناپ تول کو پورا کر جیسے تو پسند کرتا ہے تیرے لئے ناپ تول کو پورا کیا جائے کیونکہ عدل و انصاف لوگوں کی اصلاح کرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اَلَّا تَطْغَوْا [کہ تم لوگ بےاعتدالی مت کرو ] فِي الْمِيْزَانِ [توازن کے معیار میں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 8–13

انصاف کے ساتھ وزن کرنے کا حکم : ﴿ وَ وَضَعَ الْمِيْزَانَۙ007﴾ اور اللہ تعالیٰ نے ترازو کو رکھ دیا ﴿ اَلَّا تَطْغَوْا فِي الْمِيْزَانِ 008﴾ (تاکہ تولنے میں سرکشی یعنی نافرمانی نہ کرو) عدل پر قائم رہو ایسا نہ کرو کہ دوسروں سے اپنے حق میں زیادہ تلواؤ اور دوسروں کے لیے تولو تو ڈنڈی ماردو اور گھٹا کر تولو جیسا کہ سورة التطفیف کے شروع میں تولنے والوں کی زیادتی کا طریقہ بیان فرمایا ہے، سورة الانعام اور سورة بنی اسرائیل میں بھی حکم ہے (کہ ناپ اور تول کو انصاف کے ساتھ قائم کرو) ﴿وَ الْاَرْضَ وَ ضَعَهَا لِلْاَنَامِۙ0010﴾ (اور زمین کو رکھ دیا لوگوں کے نفع کے لیے) زمین کو اللہ تعالیٰ نے بچھونا بنا دیا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–25

انعامات رب جلیل بر انسان بعطاء وصف بیان وتعلیم قرآن وفیضان نعماء جسمانیہ وروحانیہ : قال اللہ تعالیٰ : الرحمن علم القرآن ...... الی ...... فبای الآء ربکما تکذبن “۔ (ربط) سورة قمر میں دلائل نبوت اور معجزات عظیمہ کا بیان تھا اور امم سابقہ کے احوال ذکر فرمائے گئے کہ کس طرح انہوں نے اپنے پیغمبروں کا انکار کیا اور ان پر ایمان نہ لائے جس کے باعث عذاب خداوندی سے انکو ہلاک وبرباد کردیا گیا جس سے مقصود اہل مکہ کو متنبہ کرنا تھا کہ وہ ان احوال وواقعات کو سوچ کر اپنے انجام کے بارے میں بھی خود فیصلہ کرلیں تو اس کے بعد حق تعالیٰ شانہ نے ان انعامات خاصہ کا ذکر فرمایا جو انسان پر کئے گئے ان انعامات میں…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 7–9

4:۔ ” والسماء “ علویات کا ذکر۔ اوپر آسمان کو بلند کیا اور اس کی بلندی کا ایک اناز مقرر کیا۔ المیزان سے عدل و انصاف مراد ہے۔ عن مجاھد وقتادۃ والسدی ای وضع فی الارض العدل الذی امر بہ (قرطبی ج 17 ص 104) ۔ یعنی اس نے ھکم دیا ہے کہ ہر کام میں عدل و انصاف سے کام لو اس صورت میں عدل کا معیار قرآن ہوگا کیونکہ اس معاملے میں قرآن ہی میزان اور معیار ہوسکتا ہے علی ھذا المیزان القران لان فیہ بیان ما یحتاج الیہ وھو قول الحسین بن الفضل (قرطبی) اس صورت میں ان آیتوں کا حاصل یہ ہوگا کہ دنیا میں قرآن میزانِ عدل ہے ہر بات کو اس کی روشنی میں جانچو اور اس میزان کو نظر انداز نہ کرو اور اس میزان کے فیصلے سے تجاوز نہ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–13

نام اور کوائف اس سورة مبارکہ کا نام سورة الرحمن ہے جو اس کے پہلے لفظ سے ماخوذ ہے صرف ایک آیت کے سوا یہ ساری سورة مکی دور میں نازل ہوئی اس سورة کی اٹھہتر آیات اور تین رکوع ہیں اور یہ سورة 351 الفاظ اور 1636 حروف پر مشتمل ہے۔ مضامین سورة مکی سورتوں میں عام طور پر بنیادی عقائد ہی کا ذکر ہے۔ ان سورتوں میں احکام کا سلسلہ حال ہے۔ مکی دور میں چونکہ اسلامی معاشرہ کی بنیاد ہی نہیں رکھی جاسکی تھی ، لہٰذا اس دوران زیادہ تر اخلاق اور عقائد کی اصلاح پر توجہ دی گئی ہے چناچہ اس سورة مبارکہ میں بھی یہی پہلو غالب ہے۔ اس زمانے میں عرب میں شرک کی مختلف قسمیں رائج تھیں یا بالکل کفر تھا۔ اللہ نے مکی سورتوں میں…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَلَّا تَطْغَوْا فِي الْمِيْزَانِ۝ 8 طغی طَغَوْتُ وطَغَيْتُ «2» طَغَوَاناً وطُغْيَاناً ، وأَطْغَاهُ كذا : حمله علی الطُّغْيَانِ ، وذلک تجاوز الحدّ في العصیان . قال تعالی: اذْهَبْ إِلى فِرْعَوْنَ إِنَّهُ طَغى[ النازعات/ 17] ( ط غ ی) طغوت وطغیت طغوانا وطغیانا کے معنی طغیان اور سرکشی کرنے کے ہیں اور أَطْغَاهُ ( افعال) کے معنی ہیں اسے طغیان سرکشی پر ابھارا اور طغیان کے معنی نافرمانی میں حد سے تجاوز کرنا کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : إِنَّهُ طَغى[ النازعات/ 17] وہ بےحد سرکش ہوچکا ہے ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–8

ترکیب : الرحمٰن ذھب قوم الی انھا ایۃ فالمبتداء محذوف تقدیرہ اللہ الرحمن۔ وعلیٰ قول الاخرین الرحمن مبتداء ومابعدہ الخبر۔ خلق الانسان مستانف وکذا علمہ و یمکن ان یکون حالامن الانسان وقدمحذوف۔ بحسبان قال الاخفش الحسبان جماعۃ الحساب مثل شھب وشھبان۔ وقیل مصدر مفرد بمعنی الحساب کا لغفران والکفران۔ والجار یتلق بیجریان محذوف۔ والسماء منصوب بفعل محذوف یفسرہ المذکور الاتطغوا لئلاتطغوا فلا نافیہ وتطغوامنصوب بان وقبلھا الام العلۃ مقدرۃ وقیل ان مفسرۃ لان فی الوضع معنی القول۔ تفسیر : جمہور کے نزدیک یہ سورة مکہ میں نازل ہوئی ہے جیسا کہ حسن و عروہ و عکرمہ و جابر و ابن عباس ؓ کا قول ہے اور ابن مسعود و مقاتل ؓ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اَلاَّ تَطْغَوْا فِی الْمِیْزَانِ ۔ (الرحمن : 8) (یہ کہ تم میزان میں خلل نہ ڈالو۔ ) انسان کی عافیت بھی عدل اور توازن میں ہے یعنی جس طرح ساری کائنات توازن اور عدل کے ذریعے اپنا وجود قائم رکھے ہوئے ہے اور اپنے مقاصدِحیات کو بروئے کار لارہی ہے اور جس میں کہیں جھول پیدا نہیں ہوتا، تم بھی اسی طرح اپنی زندگی کے نظام کو عدل پر قائم کرو۔ یعنی زندگی کے جس دائرے میں تمہیں اللہ تعالیٰ نے اختیار دیا ہے اس میں اپنے اختیار کی صحیح حدود کو سمجھو، اور پھر اس سے سرمو انحراف نہ کرو۔ جن حقداروں کے حقوق تمہارے تصرف میں ہیں ان کے حقوق ادا کرو۔ اور اپنے فرائض کے کبھی تارک نہ بنو۔ جب زندگی کے ہر دائرے میں تم ظلم…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 8–9

فہم القرآن ربط کلام : آسمان کی رفعت کا ذکر کرنے کے بعد ترازو کا ذکر کیا گیا ہے کیونکہ ترازو بھی زمین سے بلند رکھا جاتا ہے۔ جس طرح آسمان زمین سے بلند ہے۔ (الحدید : 25) میں فرمایا کہ میزان آسمان سے اتارا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کائنات کا نظام اور لوگوں کے درمیان اخلاقی، سیاسی، معاشی اور ہر قسم کا عدل و انصاف قائم رکھنے کے لیے ایک میزان نازل فرمایا ہے۔ جس کے بارے میں اس کا حکم ہے کہ میزان میں تجاوز نہیں ہونا چاہیے حکم دیا کہ جب کسی چیز کا ماپ تول کرو تو اس میں عدل قائم رکھو اور ماپ، تول میں کسی صورت بھی کمی بیشی نہیں ہونی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے پوری کائنات کے اندر ایک نظام اور توازن قائم فرمایا ہے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

8 : اَلَّا تَطْغَوْ ا فِی الْمِیْزَانِ (تاکہ تم تولنے میں کمی بیشی نہ کرو) اس سے پہلے لام محذوف ہے لالاَّ تطغوا تاکہ تم سرکشی نہ کرو۔ نمبر 2۔ اَن مفسرہ ہے۔ گویا میزان کی تفسیر ہوئی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

7 ۔” والسمآء رفعھا “ زمین کے اوپر ” ووضع المیزان “ مجاہد (رح) فرماتے ہیں میزان سے انصاف مراد ہے۔ معنی یہ ہے کہ انصاف کا حکم دیا اس پر اللہ تعالیٰ کا قول۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–13

1۔ 13۔ اگرچہ سورة نحل میں گزر چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر اس قدر احسان کئے ہیں کہ ان احسانات اور اس کی نعمتوں کا شکریہ کرنا تو درکنار اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں کا ہر ایک شخص اگر اللہ تعالیٰ کے احسانات اور اس کی نعمت کی گنتی بھی کرنی چاہے تو یہ بات بھی اللہ تعالیٰ کی مخلوق کی طاقت سے باہر ہے لیکن جن و انسان کے فقط یاد دلانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے اس سورة میں اکتیس قسم کی نعمتوں کا ذکر فرمایا ہے اور ہر ایک قسم کی نعمت کے ذکر کے بعد جن و انسان سے تنبیہ کے طور پر یہ پوچھا ہے کہ تم دونوں اللہ تعالیٰ کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤگے۔ مطلب یہ ہے کہ جس اللہ نے انسان کو ‘ انسان کی سب ضرورت کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 7–8

(وَالسَّمَاۗءَ رَفَعَهَا وَوَضَعَ الْمِيْزَانَ ) یعنی ارضی مخلوقات کے لیے آسمان کی چھت کو بلند کیا اور اللہ نے ترازو وضع کیا۔ یعنی بندوں کے درمیان اقوال وافعال میں عدل جاری کیا اس سے مراد صرف معروف میزان ہی نہیں بلکہ وہ جیسا کہ ہم ذکر کرچکے ہیں معروف میزان ناپ تول جس کے ذریعے سے اشیا اور دیگر مقداروں کو ناپا جاتا ہے دیگر پیمانے جن کے ذریعے سے مجہولات کو منضبط کیا جاتا ہے اس میں وہ حقائق بھی داخل ہیں جن کے ذریعے سے مخلوقت میں فرق کیا جاتا ہے اور ان کے ذریعے سے ان کے درمیان عدل قائم کیا جاتا ہے اس لیے فرمایا (اَلَّا تَطْغَوْا فِي الْمِيْزَانِ ) یعنی اللہ تعالیٰ نے میزان نازل فرمائی تاکہ تم حقوق…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 8] باپ تول میں کمی و بیشی سے ممانعت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور کائنات کی فطرت عدل کے لازمی تقاضے اور نتیجے میں بیان کے طور ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ کمی بیشی نہ کرو باپنے تولنے میں۔ اور اس طرح تم لوگ کسی کا حق نہ مارو۔ اور جس عدل و انصاف پر یہ سارا نظام قائم ہے۔ تم بھی اسی کے مطابق باہم معاملہ کرو۔ قتادہ کہتے ہیں کہ ابن آدم جس طرح تو چاہتا ہے تیرے ساتھ انصاف ہو تو پھر تو بھی دوسروں کے ساتھ انصاف کر۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ جس طرح کہ آسمان و زمین کا یہ سارا نظام توازن اور میزان عدل و انصاف پر قائم ہے۔ اسی طرح تم لوگ بھی اپنے دائرہء اختیار میں عدل و انصاف اور توازن کو قائم…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–13

رب جس نے انسان کو پیدا کیا اس کی تمام ضروریات پوری کردیں تشریح :۔ رحمن اللہ کا صفاتی نام ہے اور یہ صفاتی نام پورے قرآن پاک میں تقریبا 55 مقامات پر آیا ہے۔ یہ اس کی رحمن ہونے کی دلیل ہے کہ جو اس نے مخلوقات کو بنایا۔ راہ ہدایت دکھانے کے لیے قرآن نازل فرمایا اور پوری کائنات کو اپنے رحم و کرم سے بھر دیا۔ اس کا رحم و کرم ہر ایک کے لیے برابر ہے۔ چاہے کوئی کافر ہو مسلم ہو، نیک ہو یا بد ہو، متقی ہو یا گنہگار ہو۔ غرض اس کی عنایات سے ہر کوئی فیض یاب ہو رہا ہے۔ اور یہ بھی اس کے رحمن ہونے کا ثبوت ہے کہ اس نے علم سکھایا۔ قرآن پاک جس میں پوری کائنات تمام تخلیقات کے ہر قسم کے علوم بیان کردیے گئے ہیں اور ان…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–25

آیات 1 تا 25۔ اسرار ومعارف۔ وہ ذات بیحد و حساب رحم کرنے والی ہے اور اس کی رحمت ہے کہ اس نے قرآن سکھلایا اپنے نبی پر نازل فرما کر ان خوش نصیبوں کو جنہوں نے آپ سے سیکھا اور ان کے واسطے سے اگلوں کو سکھایا یوں تعلیم قرآن کا سلسلہ ہمیشہ کے لیے جاری فرمایا کہ بنی آدم میں سے جو چاہے اس چشمہ رحمت سے سیراب ہو۔ آخر یہ بھی تو اسی کی رحمت عامہ ہے کہ انسان کو پیدا فرمایا اور اسے زبان دانی بات کرنے کا فن ودیعت فرمایا کہ وہ علم قرآن حاصل کرسکنے کے قابل ہوا۔ قوت گویائی کا اصل مصرف۔ گویاقوت گویائی اور بات کرنے کی صلاحیت کا اصل مصرف علوم قرآن کا حصول اور اس کا آگے پہنچانا ہے باقی سارے فوائد دوسرے درجے میں ہیں…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(55:8) الاتطغوا : الا۔ ان اور لا سے مرکب ہے۔ ان یا تو مصدریہ ہے اس صورت میں لاتطغوا مضارع منفی جمع مذکر حاضر ہے : طغیان (باب سمع و نصر) مصدر سے ۔ تم زیادتی نہ کرو۔ تم سرکشی نہ کرو۔ تم حد سے نہ بڑھو۔ ترجمہ آیت ہوگا : اور اللہ نے میزان قائم کردی تاکہ تم حق سے تجاوز نہ کرو۔ یا ان مفسرہ ہے اور لاتطغوا صیغہ نہی جمع مذکر حاضر ہے ترجمہ :۔ اور اس نے میزان عدل قائم کردی (اور حکم دیا ہے کہ) تم وزن میں حق سے تجاوز نہ کرو۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–25

لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 25 علم اس نے سکھایا۔ البیان بولنا بحسبان ایک حساب سے، ایک طریقے سے۔ النجم بےتنے کے درخت، پودے۔ وضع اس نے رکھا ۔ اس نے بنایا ۔ الاتطفوا یہ کہ تم نہ گھٹائو۔ انام مخلوق۔ الاکمام (کم) غلام، چھلکا ۔ العصف بھوسہ (جانوروں کی غذا) الریحان خوشبودار ۔ الاء (الی) نعمتیں صلصال خشک مٹی جو کھن کھن بجتی ہو۔ الفخار ٹھیکرا۔ الجان جن ، ابو الجنات ۔ مارج شعلہ جس میں دھواں نہ ہو۔ مرج (خوب بہتا ہے) جاری کیا البحرین دوریا، دو سمندر۔ برزخ پردہ، رکاوٹ۔ لا یبغین دونوں کو ملنے نہیں دیتا اللولو موتی۔ المرجان مونگا، سفید موتی۔ المنشئت بلند کئے ہوئے۔ الاغلام (ملم) پہاڑ، جھنڈا اللہ تعالیٰ نے اپنی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 8–10

انعامات خداوند کریم جل جلالہ۔ (ف 1) آدمیوں کے آرام کے لیے زمین کو بچھایا اسی خدا نے جو رحمن ہے تاکہ انسان اس پر آرام سے چلیں پھریں اور کاروباری جاری رکھیں آگے زمین کی یہ صفت بیان فرمائی کہ وہ زمین ایسی ہے جس میں قسم قسم کے پھل میوے بھی نکلتے ہیں اور غلہ اناج بھی، پھر غلہ میں دوچیزیں ہیں دانہ جو انسان کی غذا ہے اور بھوسہ جو جانوروں کے لیے ہے اور بعض چیزیں زمین سے وہ پیدا ہوتی ہیں جو کھانے کے کام میں نہیں آتی لیکن ان کی خوشبو وغیرہ سے فائدہ اٹھایاجاتا ہے غرض یہ سب کچھ انعامات جو دنیا میں تم کو نظرآ رہے ہیں اسی اللہ تعالیٰ نے پیدا کیے ہیں جو رحمن ہے جس کا کفار انکار کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 8–12

[4] اس سے معلوم ہوا کہ ناپ تول میں کامل انصاف کا حکم ایک عظیم حکم ہے۔ یہ اس میزان کی ایک فرع ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے اس عالم کا نظام قائم فرمایا ہے۔ یہیں سے یہ بات نکلی کہ جو قوم اس میں فساد برپا کرتی ہے وہ سارے نظام عدل میں فساد برپا کرتی ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 5–16

جنوں کا وجود 1: جن ایک الگ مخلوق ہے ۔ جس کو اللہ تعالیٰ نے آگ سے پیدا کیا ہے ۔ یہی وجہ ہے ۔ ان میں لطافت زیادہ ہے ۔ آج سے پچاس سال قبل تو لوگ اس مخلوق کا انکار کرتے تھے ۔ مگر اب تجربات نے ثابت کردیا ہے ۔ کہ جنات بھی موجود ہیں ۔ اور وہ لوگ جنہوں نے بڑے شدومد سے کہا تھا ۔ کہ یہ محض وہم ہے ۔ اب وہی کہہ رہے ہیں ۔ کہ یہ ایک حقیقت ہے ۔ ہمارے ہاں بعض ایسے جاہل بھی موجود ہیں ۔ جنہوں نے اس وقت کی آواز کو تو سنا تھا ۔ مگر موجودہ وقت کے خیالات سے آگاہ نہیں ۔ وہ اب تک یہ سمجھے بیٹھے ہیں ۔ کہ علماء مغرب کے معتقلات میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ۔ بلکہ وہ اس قدر روشن خیال ہیں ۔ کہ سارا مغرب بھی ان مسائل کا قائل…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(8) تاکہ تم تولنے میں بےاعتدائی اور کمی بیشی نہ کرو۔ آسمان کا بلند کرنا علاوہ دیگر احسانات کے ایک بڑی نعمت ہے کہ اس سے خالق اور صانع عالم کے وجود پر استدلال کیا جاتا ہے نیز اس آسمان پر فرشتے رہتے ہیں اور ترازو رکھنے کا مطلب یہ کہ ہر چیز کی تول کی جاسکے اور صحیح اندازہ لگایا جاسکے خواہ وہ ترازو ہو ، پیمانہ ہو کوئی آلہ ہو بہرحال ترازو سے کاروبار کرنے والوں اور لین دین کرنے والوں کے لئے بڑے منافع ہیں ساتھ ہی ترازو کے سلسلے میں یہ بھی فرمایا تاکہ کمی بیشی نہ کرو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 3–13

ف 5۔ یہ آیت تفریعیہ اس سورت میں اکتیس جگہ آئی ہے اور ہر جگہ الاء کا مصداق جدا ہے، اس لئے یہ تکرار محض نہیں، محض لفظی تشارک ہے اور تکرار ظاہری کیو جہ سے اس میں افادہ تاکید بھی ہے اور اس قسم کا تکرار جو کہ قند مکرر سے شیریں تر ہے عرب کے کلام منثور و منظوم میں بکثرت بلا نکیر مستعمل ہے۔ تکذبان میں خطاب جن و انس کو ہونا ان دلائل سے ہے، قولہ تعالیٰ خلق الانسان و خلق الجان، قولہ تعالیٰ ایہ الثقلان، قولہ تعالیٰ انس قبلھم ولا جان۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

تاکہ تولنے میں بےاعتدالی نہ کرو 8۔ یہ آسمان کی میزان تم انسانوں کو کیا درس دے رہی ہے اور کس انداز میں درس دے رہی ہے کہ اگر اس میزان کو قائم کردیا جائے تو اتنا بڑا نظام درست رہ سکتا ہے۔ تو تم بھی میزان کو سیدھا رکھو اور پھر دیکھو کہ تمہاری دنیوی زندگی اور اخروی زندگی دونوں میں کسی طرح توازن پیدا ہوتا ہے اور تم کیسے مطمئن ہوتے اور تمہاری زندگی کی ساری پریشانیاں کیونکر ختم ہوجاتی ہیں لیکن تم اپنی زندگی پر غور کرو کہ کبھی تم نے اس زندگی میں اس میزان پر غوروفکر بھی کی ہے تاکہ تمہاری زندگی میں سکون اور ٹھہرائو آسکے ؟ تم بڑے بڑے انسانوں کو دیکھتے ہو جن کے پاس دولت کے انبار ہیں اور وہ ملکوں پر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

أَلَّا تَطْغَوْا فِي الْمِيزَانِ (so that you should not be wrongful in weighing....55:8). The earlier verse stated the creation of the scale, and this verse states the reason for its creation. The imperfect verb تَطْغَوْا tatghaw is derived from طُغیَان tughyan which stands for 'injustice'. Thus verses [ 7] and [ 8] put together mean: '[ The 'mizan or scale' has been created so that you may not transgress the balance and thus practice injustice'.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 7–8

7 Almost aII the commentators have interpreted mizan (balance) to mean justice, and '...set the balance" to imply that AIIah has established the entire system of the Universe on justice. Had there been no harmony and balance and justice established among the countless stars and planets moving in space, and the mighty forces working in this Universe, and the innumerable creatures and things found here, this life on earth would not have functioned even for a moment. Look at the creatures existing in the air and water and on land for millions and millions of years on this earth. They continue to…

Read the full tafseer →