Explained with ayahs 1–13
انسان پر اللہ تعالیٰ کے احسانات کی ایک جھلک
اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کاملہ کا بیان فرماتا ہے کہ اس نے اپنے بندوں پر قرآن کریم نازل فرمایا اور اپنے فضل و کرم سے اس کا حفظ کرنا بالکل آسان کردیا اسی نے انسان کو پیدا کیا اور اسے بولنا سکھایا۔ قتادہ وغیرہ کہتے ہیں بیان سے مراد خیر و شر ہے لیکن بولنا ہی مراد لینا یہاں بہت اچھا ہے۔ حضرت حسن کا قول بھی یہی ہے اور ساتھ ہی تعلیم قرآن کا ذکر ہے جس سے مراد تلاوت قرآن ہے اور تلاوت موقوف ہے بولنے کی آسانی پر ہر حرف اپنے مخرج سے بےتکلف زبان ادا کرتی رہتی ہے خواہ حلق سے نکلتا ہو خواہ دونوں ہونٹوں کے ملانے سے مختلف، مخرج اور مختلف قسم کے حروف کی ادائیگی اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
سورة الرَّحْمٰن 7
قریب قریب تمام مفسرین نے یہاں میزان (ترازو) سے مراد عدل لیا ہے، اور میزان قائم کرنے کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کائنات کے اس پورے نظام کو عدل پر قائم کیا ہے۔ یہ بےحد و حساب تارے اور سیارے جو فضا میں گھوم رہے ہیں، یہ عظیم الشان قوتیں جو اس عالم میں کام کر رہی ہیں، اور یہ لا تعداد مخلوقات اور اشیاء جو اس جہاں میں پائی جاتی ہیں، ان سب کے درمیان اگر کمال درجہ کا عدل و توازن نہ قائم کیا گیا ہوتا تو یہ کارگاہ ہستی ایک لمحہ کے لیے بھی نہ چل سکتی تھی۔ خود اس زمین پر کروڑوں برس سے ہوا اور پانی اور خشکی میں جو مخلوقات موجود ہیں ان ہی کو دیکھ لیجیے۔ ان کی زندگی اسی لیے تو…
Read the full tafseer →وَالسَّمَاۗءَ رَفَعَهَا وَوَضَعَ الْمِيْزَانَ ، رفع اور وضع دو متقابل لفظ ہیں، رفع کے معنی اونچا اور بلند کرنے کے ہیں اور وضع کے معنی نیچے رکھنے اور پست کرنے کے آتے ہیں، اس آیت میں اول آسمان کو بلند کرنے اور رفعت دینے کا ذکر ہے، جس میں ظاہری بلندی بھی داخل ہے اور معنوی یعنی درجہ اور رتبہ کی بلندی بھی کہ آسمان کا درجہ زمین کی نسبت بالا و برتر ہے، آسمان کا مقابل زمین سمجھی جاتی ہے اور پورے قرآن میں اسی تقابل کے ساتھ آسمان و زمین کا ذکر کیا گیا ہے اس آیت میں رفع سماء کا ذکر کرنے کے بعد وضع میزان کا ذکر کیا گیا ہے جو آسمان سے تقابل میں نہیں آتا، غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں بھی درحقیقت آسمان…
Read the full tafseer →(والسماء رفعھا وضع المیزان) (7) آسمان کی بعض روشن نشانیوں کی طرف توجہ دلانے کے بعد خود آسمان کی طرف توجہ دلائی کہ اس کو دیکھو، ستونوں کے بغیر کس طرح تمہارے رب نے ایسی نا پیدا کنارچھت بلند کردی جس کی وسعتوں کا کوئی اندازہ نہیں کرسکتا، پھر دیکھو کہ اس بےپایاں عظمت و وسعت کے باوصف اس میں اس نے ایسا توازن رکھا ہے کہ اس کے کسی کونے گوشے میں نہ کوئی کسی جھول کا پتہ دے سکتا ہے نہ کسی رختے اور دراڑ کا، دوسرے مقام میں اسی حقیقت کی طرف یوں توجہ دلائی ہے۔
(۔۔۔۔) (لقمان : 10) (اس نے آسمانوں کو پیدا کیا بغیر ایسے ستونوں کے جو تمہیں نظر آئیں اور زمین میں پہاڑوں کے لنگر ڈال دیئے کہ مبادا وہ تمہارے سمیت کسی…
Read the full tafseer →7۔ 1 یعنی زمین میں انصاف رکھا، جس کا اس نے لوگوں کو حکم دیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–16
2: سجدہ حقیقی بھی ہوسکتا ہے، کیونکہ قرآن کریم نے کئی جگہ یہ فرمایا ہے کہ تمام مخلوقات میں کچھ نہ کچھ احساس موجود ہے۔ (دیکھئے سورة بنی اسرائیل : 44) اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ یہ سب اللہ تعالیٰ کے تابع فرمان ہیں۔
Read the full tafseer →والسمائ ........................ المیزان (55: 9)
(آسمان کو اس نے بلند کیا اور میزان قائم کردی ۔ اس کا تقاضا یہ ہے کہ تم میزان میں خلل نہ ڈالو ، انصاف کے ساتھ ٹھیک ٹھیک تولو اور ترازو میں ڈنڈی نہ مارو) یہاں آسمان کی طرف اشارہ ہے ، قرآن کے دوسرے اشارات کی طرح یہ بھی غافل دلوں کو جگانے کے لئے ہے اور اس کو اس طرف متوجہ کرنا مطلوب ہے کہ آسمان کو رات اور دن تم دیکھتے ہو تم اس کی اہمیت نہ کھو دو ۔ اس پر غور کرو ، اس کی عظمت اس کے جمال اور اس کی صفت میزانیت پر غور کرو کہ اس کے مدار اور رفتار میں بال برابر فرق نہیں آتا اور اس کے ذریعہ قدرت والے کی قدرتوں کو دیکھو۔
آسمان سے مراد جو بھی ہو ، یہاں حکم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
9 اوپر سے دو دو چیزوں کے جوڑے بیان ہوتے چلے آرہے تھے۔ یہاں بھی آسمان کی بلندی کے ساتھ آگے زمین کی پستی کا ذکر ہے۔ درمیان میں میزان (ترازو) کا ذکر شاید اس لیے ہو کہ عموماً ترازو کو تولتے وقت آسمان و زمین کے درمیان معلق رکھنا پڑتا ہے۔ یہ اس تقدیر پر ہے کہ میزان سے مراد ظاہری اور حسی ترازو ہو۔ چونکہ اس کے ساتھ بہت سے معاملات کی درستی اور حقوق کی حفاظت وابستہ تھی۔ اس لیے ہدایت فرما دی کہ وضع میزان کی یہ غرض جب ہی حاصل ہوسکتی ہے کہ نہ لیتے وقت زیادہ تولو، نہ دیتے وقت کم، ترازو کے دونوں پلے اور باٹ بٹی میں کمی بیشی نہ ہو۔ نہ تولتے وقت ڈنڈی ماری جائے، بلکہ بدون کم بیشی کے دیانتداری کے ساتھ بالکل…
Read the full tafseer →آیت 7{ وَالسَّمَآئَ رَفَعَہَا وَوَضَعَ الْمِیْزَانَ۔ } ”اور آسمان کو اس نے بلند کیا اور میزان قائم کی۔“
یہاں میزان سے مراد کائناتی نظام کے اندر پایا جانے والا مربوط اور خوبصورت توازن cosmic balance ہے جس کی وجہ سے یہ کائنات قائم ہے۔ یہ توازن تمام اجرامِ سماویہ کے اندر موجود کشش ثقل gravitational force کی وجہ سے قائم ہے۔ تمام اجرامِ فلکی اس کشش کی وجہ سے آپس میں بندھے ہوئے ہیں۔ قدرت کی طرف سے ہر ُ کرے ّکا دوسرے کرے سے فاصلہ ‘ اس کی کشش کی طاقت کی نسبت سے رکھا گیا ہے۔ اگر کہیں یہ فاصلہ ایک طرف سے معمولی سا کم ہوجائے اور دوسری طرف سے معمولی سا بڑھ جائے تو یہ سارا نظام تلپٹ ہوجائے اور تمام کرے…
Read the full tafseer →6 میزان کا مفہوم :۔ اس آیت میں میزان سے اکثر مفسرین نے میزان عدل مراد لی ہے۔ جس کے سہارے یہ زمین و آسمان قائم ہیں جیسا کہ احادیث میں بھی مذکور ہے۔ اس صورت میں ان کے عدل سے مراد وہ توازن و تناسب ہے۔ جو ہر سیارے میں قوت جاذبہ یعنی کشش ثقل اور مرکز گریز قوت کے درمیان رکھ دیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں ہر سیارے کا درمیانی فاصلہ، ان کی رفتار اور ان میں باہمی تعلق بھی شامل ہے اور یہ اتنا لطیف اور خفیف تعلق ہے جو انسان کی سمجھ سے باہر ہے اور اس توازن و تناسب کو میزان کے لفظ سے اس لیے ذکر کیا گیا ہے کہ انسان کو سمجھانے کے لیے اس لفظ کے مفہوم کے قریب تر کوئی لفظ نہ تھا۔
Read the full tafseer →5۔ اور اتنا اونچا کہ انسانی عمارتیں، اور اونچے سے اونچے مینار وگنبد اور اونچے سے اونچے پہاڑ اور ہوئی جہازوں کی پرواز اس میں بآسانی وبفراغت تمام سما جاتے ہیں۔ آسمان بھی کوئی دیوی دیوتا نہیں جیسا کہ ساری قدیم متمدن مشرک قومیں سمجھتی رہی ہیں۔ ) بلکہ اللہ ہی کی دوسری مخلوقات کی طرح ایک مخلوق اور اس کی صنعت گری کا بہترین آئینہ دار ہے اور بس۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–12
الشمس والقمر بحسبان انسان کے لئے جو نعمتیں حق تعالیٰ نے زمین و آسمان میں پیدا فرمائی ہیں اس آیت میں علویات میں سے شمس و قمر کا ذکر خصوصیت سیشاید اس لئے کیا ہے کہ عالم دنیا کا سارا نظام ان دونوں سیاروں کی حرکت اور ان کی شعاعوں سے وابستہ ہے۔
Read the full tafseer →والسما رفعھا ووضع المیزان . ” اور اسی نے آسمان کو اونچا کیا اور اسی نے (دُنیا میں) ترازو رکھ دی۔ “
یعنی اللہ نے آسمان کو اونچا بنایا۔ مجاہد کے نزدیک اس جگہ میزان سے مراد عدل ہے (انصاف) یعنی اللہ نے عدل قائم رکھنے کا حکم دیا اور سب کو عدل کا ذمہ دار بنایا۔ اس طرح اس ساری کائنات کا انتظام ٹھیک ہوگیا۔ قتادہ اور ضحاک نے کہا : مقدار معلوم کرنے کا آلہ مراد ہے۔ خواہ وزن کرنے کی ترازو ہو یا ناپنے کا گز یا مقدار پہچاننے کا کوئی اور آلۂ تعیین مقدار کے آلہ سے ہی لین دین میں انصاف کیا جاتا ہے ‘
وزن کا لغوی معنی ہے ‘ اندازہ کرنا۔
Read the full tafseer →اور اسی نے آسمان کو سب سے اونچا کیا ہے کہ اس تک کوئی چیز نہیں پہنچ سکتی اور اسی نے زمین میں عدل و انصاف کے قائم رکھنے کے لیے ترازو رکھ دی تاکہ تم تولنے میں کمی بیشی نہ کرو۔
Read the full tafseer →1۔ وَالسَّمَآئَ رَفَعَھَا : یہاں بھی ”رفع السمائ“ کے بجائے ”والسماء رفعھا“ میں آسمان کو پہلے لا کر اس کی اہمیت کی طرف اور اس بات کی طرف توجہ دلائی ہے کہ اسے بلند کرنا اس اکیلے کا کام ہے ، کسی اور کا اس میں کوئی دخل نہیں ، پھر کسی اور کی پرستش کیوں ہو ؟ آسمان کو اونچا اٹھانے میں اس کے پیدا کرنے کا ذکر خود بخود آگیا۔ اونچا اٹھانے کا ذکر خاص طورپر اس لیے فرمایا کہ اتنے بڑے آسمان کو اس طرح ستونوں کے بغیر پیدا کرنا اور اسے اتنا بلند بنایا بےحد تعجب انگیز ہے کہ اس کے نیچے سورج، چاند اور ان سے ہزاروں گنا بڑے ستیاروں پر مشتمل کہکشائیں محو گردش ہیں ، نہ انہیں راستے میں کسی ستون کی رکاوٹ پیش آتی ہے ،…
Read the full tafseer →والسمآء رفعھا ابوسمال نے السماء پڑھایا مبتداء ہونے کی حیثیت سے مرفوع ہے (5) اسے اس لئے پسند کیا کیونکہ اس کا عطف اس جملہ پر ہے والنجم والشجر یسجدون۔ معطوف کو مبتدا اور خبر سے مرکب کیا ہے جس طرح معطوف علیہ مبتدا اور خبر سے مرکب ہے باقی قراء نے السمآء کو منصبو پڑھا ہے کیونکہ یہاں فعل مضمر ہے جس کی تفسیر مابعد فعل کرتا ہے۔
ووضع المیزان میزان کا معنی عدل ہے، یہ مجاہد، قتادہ اور سدی سے عبادت ہے یعنی زمین میں اس عدل کو رکھا جس کا حکم دیا یہ جملہ بولا جاتا ہے : وضع اللہ الشریعۃ وضع فلان کذا فلاں نے اسے پھینکا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : میزان سے مراد قرآن ہے کیونکہ اس میں اس چیز کا بیان ہے جس کے وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
21:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) وابوالشیخ (رح) نے العظمہ (رح) میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' والنجم والشجر یسجدن '' (اور بےتنے کے درخت اور تنے والے درخت دونوں اس کے مطیع ہیں) یعنی نجم وہ ہے جو زمین میں پھیل جاتے اور شجر وہ ہے جو تنے پر کھڑا ہو۔
22:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابوالشیخ نے سعید بن جبیر ؓ سے اسی طرح روایت کیا۔
23:۔ ابن جریر (رح) وابو الشیخ نے ابو زرین (رح) سے (آیت ) '' والنجم والشجر یسجدن '' کے بارے میں روایت کیا کہ '' النجم '' سے مراد ہے بیلیں جو زمین پر بچھونے کی طرح بچھ جاتی ہیں اور ان کا تنا نہیں ہوتا اور الشجر '' سے مراد ہے وہ تنے…
Read the full tafseer →وَالسَّمَاۗءَ [اور اس آسمان کو ] رَفَعَهَا [ اس نے بلند کیا اس کو ] وَوَضَعَ الْمِيْزَانَ [اور اس نے اتارا اس ترازو (توازن کے معیار ) کو ]
Read the full tafseer →آسمان کی رفعت اور بلندی :
﴿وَ السَّمَآءَ رَفَعَهَا ﴾ (اور اللہ تعالیٰ نے آسمان کو بلند فرمایا) شمس وقمر کے بعد آسمان کی بلندی کا تذکرہ فرمایا اور یہ بتایا کہ آسمان کی جو بلندی ہے یہ اسے اس کے خالق جل مجدہ نے عطا فرمائی ہے، جب آسمان کی بلندی اس کے خالق تعالیٰ شانہ کی دی ہوئی ہے تو دوسرے مخلوق کے بارے میں سمجھ لینا چاہیے کہ جس کسی کو جو کسی قسم کی رفعت ملی ہے یا مل سکتی ہے وہ خالق تعالیٰ شانہ ہی کیطرف سے ہے اور ہوسکتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–25
انعامات رب جلیل بر انسان بعطاء وصف بیان وتعلیم قرآن وفیضان نعماء جسمانیہ وروحانیہ :
قال اللہ تعالیٰ : الرحمن علم القرآن ...... الی ...... فبای الآء ربکما تکذبن “۔
(ربط) سورة قمر میں دلائل نبوت اور معجزات عظیمہ کا بیان تھا اور امم سابقہ کے احوال ذکر فرمائے گئے کہ کس طرح انہوں نے اپنے پیغمبروں کا انکار کیا اور ان پر ایمان نہ لائے جس کے باعث عذاب خداوندی سے انکو ہلاک وبرباد کردیا گیا جس سے مقصود اہل مکہ کو متنبہ کرنا تھا کہ وہ ان احوال وواقعات کو سوچ کر اپنے انجام کے بارے میں بھی خود فیصلہ کرلیں تو اس کے بعد حق تعالیٰ شانہ نے ان انعامات خاصہ کا ذکر فرمایا جو انسان پر کئے گئے ان انعامات میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
4:۔ ” والسماء “ علویات کا ذکر۔ اوپر آسمان کو بلند کیا اور اس کی بلندی کا ایک اناز مقرر کیا۔ المیزان سے عدل و انصاف مراد ہے۔ عن مجاھد وقتادۃ والسدی ای وضع فی الارض العدل الذی امر بہ (قرطبی ج 17 ص 104) ۔ یعنی اس نے ھکم دیا ہے کہ ہر کام میں عدل و انصاف سے کام لو اس صورت میں عدل کا معیار قرآن ہوگا کیونکہ اس معاملے میں قرآن ہی میزان اور معیار ہوسکتا ہے علی ھذا المیزان القران لان فیہ بیان ما یحتاج الیہ وھو قول الحسین بن الفضل (قرطبی) اس صورت میں ان آیتوں کا حاصل یہ ہوگا کہ دنیا میں قرآن میزانِ عدل ہے ہر بات کو اس کی روشنی میں جانچو اور اس میزان کو نظر انداز نہ کرو اور اس میزان کے فیصلے سے تجاوز نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–13
نام اور کوائف
اس سورة مبارکہ کا نام سورة الرحمن ہے جو اس کے پہلے لفظ سے ماخوذ ہے صرف ایک آیت کے سوا یہ ساری سورة مکی دور میں نازل ہوئی اس سورة کی اٹھہتر آیات اور تین رکوع ہیں اور یہ سورة 351 الفاظ اور 1636 حروف پر مشتمل ہے۔
مضامین سورة
مکی سورتوں میں عام طور پر بنیادی عقائد ہی کا ذکر ہے۔ ان سورتوں میں احکام کا سلسلہ حال ہے۔ مکی دور میں چونکہ اسلامی معاشرہ کی بنیاد ہی نہیں رکھی جاسکی تھی ، لہٰذا اس دوران زیادہ تر اخلاق اور عقائد کی اصلاح پر توجہ دی گئی ہے چناچہ اس سورة مبارکہ میں بھی یہی پہلو غالب ہے۔ اس زمانے میں عرب میں شرک کی مختلف قسمیں رائج تھیں یا بالکل کفر تھا۔ اللہ نے مکی سورتوں میں…
Read the full tafseer →وَالسَّمَاۗءَ رَفَعَہَا وَوَضَعَ الْمِيْزَانَ 7 ۙ
سما
سَمَاءُ كلّ شيء : أعلاه،
قال بعضهم : كلّ سماء بالإضافة إلى ما دونها فسماء، وبالإضافة إلى ما فوقها فأرض إلّا السّماء العلیا فإنها سماء بلا أرض، وحمل علی هذا قوله : اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَماواتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ [ الطلاق/ 12] ،
( س م و ) سماء
ہر شے کے بالائی حصہ کو سماء کہا جاتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے ( کہ یہ اسماء نسبیہ سے ہے ) کہ ہر سماء اپنے ماتحت کے لحاظ سے سماء ہے لیکن اپنے مافوق کے لحاظ سے ارض کہلاتا ہے ۔ بجز سماء علیا ( فلک الافلاک ) کے کہ وہ ہر لحاظ سے سماء ہی ہے اور کسی کے لئے ارض نہیں بنتا ۔ اور آیت : اللَّهُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
ترکیب : الرحمٰن ذھب قوم الی انھا ایۃ فالمبتداء محذوف تقدیرہ اللہ الرحمن۔ وعلیٰ قول الاخرین الرحمن مبتداء ومابعدہ الخبر۔ خلق الانسان مستانف وکذا علمہ و یمکن ان یکون حالامن الانسان وقدمحذوف۔ بحسبان قال الاخفش الحسبان جماعۃ الحساب مثل شھب وشھبان۔ وقیل مصدر مفرد بمعنی الحساب کا لغفران والکفران۔ والجار یتلق بیجریان محذوف۔ والسماء منصوب بفعل محذوف یفسرہ المذکور الاتطغوا لئلاتطغوا فلا نافیہ وتطغوامنصوب بان وقبلھا الام العلۃ مقدرۃ وقیل ان مفسرۃ لان فی الوضع معنی القول۔
تفسیر : جمہور کے نزدیک یہ سورة مکہ میں نازل ہوئی ہے جیسا کہ حسن و عروہ و عکرمہ و جابر و ابن عباس ؓ کا قول ہے اور ابن مسعود و مقاتل ؓ…
Read the full tafseer →وَالسَّمَآئَ رَفَعَھَا وَوَضَعَ الْمِیْزَانَ ۔ (الرحمن : 7)
(اور اس نے آسمان کو بلند کیا اور اس میں میزان رکھی۔ )
آسمان کا وجود اور اس کی بلندی عدل اور توازن کے باعث ہے
اللہ تعالیٰ نے آسمان کو اس قدر بلند کیا ہے کہ آج تک اس کی بلندی کا اندازہ نہیں کیا جاسکا۔ سائنس دان آج تک اس کے وجود کو نہ جان سکے اور اس دکھائی دینے والی نیلگونی چیز کو حدِنگاہ قرار دیتے ہیں۔ لیکن آسمان کے وجود سے ان کی بیخبر ی کوئی دلیل نہیں۔ کیونکہ عدم علم، عدمِ وجود کو مستلزم نہیں ہوتا۔ کتنے ایسے حقائق ہیں جن سے آگاہی سائنس نے رفتہ رفتہ حاصل کی ہے۔ اسی طرح آج بھی بہت سی ایسی حقیقتیں ہیں جن کی طرف سفر جاری ہے لیکن منزل اب…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : آسمان بھی اللہ تعالیٰ کی عظیم قدرت کا مظہر ہے جسے اللہ تعالیٰ نے فضا میں چھت کے طور پر ٹھہرا رکھا ہے۔
” اللہ “ کی قدرت کی نشانیوں میں آسمان بھی اس کی عظیم قدرت کا ترجمان ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے صرف ایک آسمان کا ذکر کیا ہے اس لیے کہ انسان کی نگاہیں صرف پہلے آسمان کو دیکھتی ہیں۔ قرآن مجید نے اکثر مقامات پر ایک آسمان کی بجائے سات آسمانوں کا ذکر کیا ہے اور حدیث میں ساتوں آسمانوں کی موٹائی اور ان کے درمیان فاصلے کی تفصیل موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آسمان میں بیشمار ملائکہ کی ڈیوٹی لگا رکھی ہے جو اپنے اپنے کام میں مصروف رہتے ہیں۔ ملائکہ اور مخلوق کے بارے میں ارشاد ہے کہ آپ کے رب…
Read the full tafseer →آسمان مسکن ملائکہ :
7 : وَالسَّمَآ ئَ رَفَعَھَا (اور اسی نے آسمان کو اونچا کیا) بلند بنایا اور اونچا کیا اس انداز سے کہ اپنے احکامات کے بنانے کی جگہ اور اپنے فیصلوں کے صادر ہونے کا مقام اور ان ملائکہ کا مسکن بنادیا جو انبیاء (علیہم السلام) پر وحی لانے والے ہیں۔ اس سے اپنی شان کی کبریائی اور ملک و سلطنت کی عظمت کو لوگوں پر ظاہر کیا۔ وَوَ ضَعَ الْمِیْزَانَ (اور اسی نے دنیا میں ترازو رکھ دی) المیزانؔ ہر وہ چیزجس سے اشیاء کا وزن کیا جاتا ہے اور ان کی مقداریں مقرر کی جاتی ہیں مثلاً میزان، قرسطون، مکیال، مقیاس وغیرہ۔ مطلب یہ ہے میزان کو زمین پر رکھا ہوا اس نے پیدا کیا کہ اس کے ساتھ بندوں کے مابین…
Read the full tafseer →6 ۔” والنجم والشجر یسجدان “ النجم جس پودے کا تنہ نہ ہو اور الشجر جس کا تنہ ہو سردیوں میں باقی رہے اور ان دونوں کا سجدہ ان کے سایہ کا سجدہ ہے۔ جیسا کہ فرمایا ” یتفیئو اظلالہ عن الیمین والشمائل سجد اللہ “ اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں النجم وہ ستارہ ہے اور اس کا سجود اس کا طلوع ہونا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–13
1۔ 13۔ اگرچہ سورة نحل میں گزر چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر اس قدر احسان کئے ہیں کہ ان احسانات اور اس کی نعمتوں کا شکریہ کرنا تو درکنار اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں کا ہر ایک شخص اگر اللہ تعالیٰ کے احسانات اور اس کی نعمت کی گنتی بھی کرنی چاہے تو یہ بات بھی اللہ تعالیٰ کی مخلوق کی طاقت سے باہر ہے لیکن جن و انسان کے فقط یاد دلانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے اس سورة میں اکتیس قسم کی نعمتوں کا ذکر فرمایا ہے اور ہر ایک قسم کی نعمت کے ذکر کے بعد جن و انسان سے تنبیہ کے طور پر یہ پوچھا ہے کہ تم دونوں اللہ تعالیٰ کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤگے۔ مطلب یہ ہے کہ جس اللہ نے انسان کو ‘ انسان کی سب ضرورت کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
(وَالسَّمَاۗءَ رَفَعَهَا وَوَضَعَ الْمِيْزَانَ ) یعنی ارضی مخلوقات کے لیے آسمان کی چھت کو بلند کیا اور اللہ نے ترازو وضع کیا۔ یعنی بندوں کے درمیان اقوال وافعال میں عدل جاری کیا اس سے مراد صرف معروف میزان ہی نہیں بلکہ وہ جیسا کہ ہم ذکر کرچکے ہیں معروف میزان ناپ تول جس کے ذریعے سے اشیا اور دیگر مقداروں کو ناپا جاتا ہے دیگر پیمانے جن کے ذریعے سے مجہولات کو منضبط کیا جاتا ہے اس میں وہ حقائق بھی داخل ہیں جن کے ذریعے سے مخلوقت میں فرق کیا جاتا ہے اور ان کے ذریعے سے ان کے درمیان عدل قائم کیا جاتا ہے اس لیے فرمایا (اَلَّا تَطْغَوْا فِي الْمِيْزَانِ ) یعنی اللہ تعالیٰ نے میزان نازل فرمائی تاکہ تم حقوق…
Read the full tafseer →[ 6] آسمانی چھت میں سامان غور و فکر :
سو اس سے آسمان کی اس عظیم الشان چھت میں سامان غور و فکر کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ اسی نے اٹھایا آسمان کی اس عظیم الشان چھت کو۔ حسی طور پر بھی کہ آسمان یہ عظیم الشان چھت پوری دنیا پر یکساں طور پر تنا ہوا ہے، اور ہر جگہ ایک ہی شان سے نظر آتا ہے۔ اور پھر اس میں نہ کوئی ٹوٹ ہے نہ پھوٹ نہ پھٹن ہے نہ شگاف۔ نہ کسی اصلاح کی ضرورت، نہ مرمت کا کوئی سوال۔ تو کیا ہے یا ہوسکتا ہے اس شان کا کوئی اور آسمان یا چھت ؟ اور جب نہیں اور یقینا نہیں تو اس کی عظمت میں کیا شک ہوسکتا ہے ؟ فسبحان اللّٰہ الخالق العظیم۔ اور معنوی اعتبار سے بھی یہ ایک عظیم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–13
رب جس نے انسان کو پیدا کیا اس کی تمام ضروریات پوری کردیں
تشریح :۔ رحمن اللہ کا صفاتی نام ہے اور یہ صفاتی نام پورے قرآن پاک میں تقریبا 55 مقامات پر آیا ہے۔ یہ اس کی رحمن ہونے کی دلیل ہے کہ جو اس نے مخلوقات کو بنایا۔ راہ ہدایت دکھانے کے لیے قرآن نازل فرمایا اور پوری کائنات کو اپنے رحم و کرم سے بھر دیا۔ اس کا رحم و کرم ہر ایک کے لیے برابر ہے۔ چاہے کوئی کافر ہو مسلم ہو، نیک ہو یا بد ہو، متقی ہو یا گنہگار ہو۔ غرض اس کی عنایات سے ہر کوئی فیض یاب ہو رہا ہے۔ اور یہ بھی اس کے رحمن ہونے کا ثبوت ہے کہ اس نے علم سکھایا۔ قرآن پاک جس میں پوری کائنات تمام تخلیقات کے ہر قسم کے علوم بیان کردیے گئے ہیں اور ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–25
آیات 1 تا 25۔
اسرار ومعارف۔
وہ ذات بیحد و حساب رحم کرنے والی ہے اور اس کی رحمت ہے کہ اس نے قرآن سکھلایا اپنے نبی پر نازل فرما کر ان خوش نصیبوں کو جنہوں نے آپ سے سیکھا اور ان کے واسطے سے اگلوں کو سکھایا یوں تعلیم قرآن کا سلسلہ ہمیشہ کے لیے جاری فرمایا کہ بنی آدم میں سے جو چاہے اس چشمہ رحمت سے سیراب ہو۔ آخر یہ بھی تو اسی کی رحمت عامہ ہے کہ انسان کو پیدا فرمایا اور اسے زبان دانی بات کرنے کا فن ودیعت فرمایا کہ وہ علم قرآن حاصل کرسکنے کے قابل ہوا۔
قوت گویائی کا اصل مصرف۔
گویاقوت گویائی اور بات کرنے کی صلاحیت کا اصل مصرف علوم قرآن کا حصول اور اس کا آگے پہنچانا ہے باقی سارے فوائد دوسرے درجے میں ہیں…
Read the full tafseer →ف 8 یعنی کم نہ تو لو … کم تولنا اتنا بڑا گناہ ہے کہ حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم پر تباہی آنے کا ایک سبب یہی تھا۔
Read the full tafseer →(55:7) والسماء رفعھا : ای خلق السماء ورفعھا۔ آسمان کو پیدا کیا اور اسے بلند کیا (الی الارض) زمین کے اوپر۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ پہلے نیچے تھا پھر اسے بلند کردیا۔ بلکہ اسے پیدا ہی ایسا کیا۔ یا رفع السماء آسمان کو بلند کیا یعنی بلندیوں پر قائم کیا۔
ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع السماء ہے اور السماء بوجہ مفعول منصوب ہے۔
وضع واحد مذکر غائب وضع (باب فتح) مصدر اس نے قائم کیا۔ اس نے رکھا۔
المیزان۔ اسم مصدر۔ تول۔ اسم آلہ۔ ترازو۔ مجازی معنی عدل و انصاف، قانون عدل ، قواعد عدل۔
صاحب روح المعانی لکھتے ہیں :۔ ای شرع العدل وامر بہ۔ اللہ تعالیٰ نے عدل کا قانون بنایا اور اس پر عمل کرنے کا حکم فرمایا۔ رسول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–25
لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 25
علم اس نے سکھایا۔ البیان بولنا بحسبان ایک حساب سے، ایک طریقے سے۔ النجم بےتنے کے درخت، پودے۔ وضع اس نے رکھا ۔ اس نے بنایا ۔ الاتطفوا یہ کہ تم نہ گھٹائو۔ انام مخلوق۔ الاکمام (کم) غلام، چھلکا ۔ العصف بھوسہ (جانوروں کی غذا) الریحان خوشبودار ۔ الاء (الی) نعمتیں صلصال خشک مٹی جو کھن کھن بجتی ہو۔ الفخار ٹھیکرا۔ الجان جن ، ابو الجنات ۔ مارج شعلہ جس میں دھواں نہ ہو۔ مرج (خوب بہتا ہے) جاری کیا البحرین دوریا، دو سمندر۔ برزخ پردہ، رکاوٹ۔ لا یبغین دونوں کو ملنے نہیں دیتا اللولو موتی۔ المرجان مونگا، سفید موتی۔ المنشئت بلند کئے ہوئے۔ الاغلام (ملم) پہاڑ، جھنڈا
اللہ تعالیٰ نے اپنی…
Read the full tafseer →(ف 5) اوپر گزرچکا ہے کہ اللہ کے گناہ جیسے مثلا نماز نہ پڑھنا، یہ حق اللہ کہلاتے ہیں اور یہ دل کی خالص توبہ سے معاف ہوجاتے ہیں اور بندوں کے گناہ جیسے کسی کا مال چرالینا یہ حق العباد کہلاتے ہیں فقط توبہ سے یہ گناہ معاف نہیں ہوتے جب تک صاحب حق سے اس کے حق کی معافی یا کچھ تلافی نہ ہوجائے۔ کم تولنا کم ناپنا بھی حق العباد میں ہے ، اس لیے پورا تولنے کی تاکید فرمائی، زیادہ تفصیل اس کی ویل اللمطففین میں آئے گی مگر حق العباد سے ڈرنے کے لیے صحیح مسلم کی ابوہریرہ کی حدیث کافی ہے کہ حق العباد میں لوگوں کی نیکیاں ہر صاحب حق کو اس کے بدلے میں مل جائیں گی اور یہ لوگ نیکیوں کے ثواب سے محروم ہوکر سیدھے جہنم کو…
Read the full tafseer →[3] میزان (ترازو) سے مراد یہاں عدل ہے۔ مطلب یہ ہے اللہ تعالیٰ نے کائنات کے اس پورے نظام کو عدل پر قائم کیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–16
جنوں کا وجود
1: جن ایک الگ مخلوق ہے ۔ جس کو اللہ تعالیٰ نے آگ سے پیدا کیا ہے ۔ یہی وجہ ہے ۔ ان میں لطافت زیادہ ہے ۔ آج سے پچاس سال قبل تو لوگ اس مخلوق کا انکار کرتے تھے ۔ مگر اب تجربات نے ثابت کردیا ہے ۔ کہ جنات بھی موجود ہیں ۔ اور وہ لوگ جنہوں نے بڑے شدومد سے کہا تھا ۔ کہ یہ محض وہم ہے ۔ اب وہی کہہ رہے ہیں ۔ کہ یہ ایک حقیقت ہے ۔ ہمارے ہاں بعض ایسے جاہل بھی موجود ہیں ۔ جنہوں نے اس وقت کی آواز کو تو سنا تھا ۔ مگر موجودہ وقت کے خیالات سے آگاہ نہیں ۔ وہ اب تک یہ سمجھے بیٹھے ہیں ۔ کہ علماء مغرب کے معتقلات میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ۔ بلکہ وہ اس قدر روشن خیال ہیں ۔ کہ سارا مغرب بھی ان مسائل کا قائل…
Read the full tafseer →(7) اور اسی نے آسمان کو اونچا بلند کیا اور اسی نے ترازو رکھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–13
ف 5۔ یہ آیت تفریعیہ اس سورت میں اکتیس جگہ آئی ہے اور ہر جگہ الاء کا مصداق جدا ہے، اس لئے یہ تکرار محض نہیں، محض لفظی تشارک ہے اور تکرار ظاہری کیو جہ سے اس میں افادہ تاکید بھی ہے اور اس قسم کا تکرار جو کہ قند مکرر سے شیریں تر ہے عرب کے کلام منثور و منظوم میں بکثرت بلا نکیر مستعمل ہے۔ تکذبان میں خطاب جن و انس کو ہونا ان دلائل سے ہے، قولہ تعالیٰ خلق الانسان و خلق الجان، قولہ تعالیٰ ایہ الثقلان، قولہ تعالیٰ انس قبلھم ولا جان۔
Read the full tafseer →اسی نے آسمان کو بلند کیا اور اسی نے میزان قائم کی
7۔ آسمان کیا ہے ؟ (سَمَاؔئَ ) عربی زبان میں آسمان ، ابر ، بارش وغیرہ پر بولا جاتا ہے۔ چناچہ امام راغب لکھتے ہیں کہ ” ہر شے کا جو بالا ہے وہ (سَمَاؔئَ ) ہے۔ “ بعض نے کہا ہے کہ ہر (سَمَاؔئَ ) کے نیچے کی نسبت سے (سَمَاؔئَ ) اور اوپر کی نسبت سے ارض ہے۔ بجز (سماعلیھا) کے کہ وہ (سَمَاؔئَ ) ہی ہے (ارض) نہیں ہے نیز (مطر) (بارش) کو (سَمَاؔئَ ) سے موسوم کیا گیا ہے کیونکہ وہ اسی سے نکلتی ہے۔ بعض نے کہا ہے کہ جب تک زمین پر نہ گرے (سَمَاؔئَ ) سے موسوم ہے یہ اس اعتبار سے ہے جو سابق میں مذکور ہوا اور (نبات) پر اگنے والی چیز کا نام (سَمَاؔئَ ) دیا تو اس لیے…
Read the full tafseer →وَالسَّمَاءَ رَفَعَهَا وَوَضَعَ الْمِيزَانَ (And He raised the sky high, and has placed the scale....55:7) The verbs rafa'a and wada` a are antonyms: rafa'a means 'to raise up' and wada'a means 'to put down'. The verse first describes that Allah has raised the heavens. This could have its obvious or outer meaning referring to the physical height of the sky, and it could also have its metaphorical meaning, referring to the high status of the heaven: In relation to the earth, the heaven occupies a higher position. Normally, the earth is understood to be the opposite of the heaven. From this…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
7 Almost aII the commentators have interpreted mizan (balance) to mean justice, and '...set the balance" to imply that AIIah has established the entire system of the Universe on justice. Had there been no harmony and balance and justice established among the countless stars and planets moving in space, and the mighty forces working in this Universe, and the innumerable creatures and things found here, this life on earth would not have functioned even for a moment. Look at the creatures existing in the air and water and on land for millions and millions of years on this earth. They continue to…
Read the full tafseer →