Ar-Rahmaan 55:6

Ar-Rahmaan · from ayah 6

55:6

وَّالنَّجْمُ وَالشَّجَرُ یَسْجُدٰنِ ۟وَّالنَّجۡمُ وَالشَّجَرُ يَسۡجُدٰنِ

اور بوٹیاں اور درخت سجدہ کر رہے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And the stars and trees prostrate.

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 1 of surah · Ruku 11 of juz

Read the whole surah · Surah Ar-Rahmaan

All translations of 55:6

اور تارے اور درخت سب سجدہ ریز ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور بوٹیاں اور درخت سجدہ کر رہے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور ستارے اور درخت دونوں سجده کرتے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور بیلیں اور درخت سب اس کے آگے سجدہ کرتے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور سبزے اور پیڑ سجدہ کرتے ہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور زمین پر پھیلنے والی بوٹیاں اور سب درخت (اسی کو) سجدہ کر رہے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور بےتنے کے پودے اور درخت سجدہ کررہے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور جڑی بوٹیاں اور درخت اسے سجدہ کر رہے ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ستارے اور درخت بھی سجدہ کرتے ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

(اسی کے حضور) سجدہ ریز ہوتے ہیں ستارے بھی اور درخت بھی

— مولانا اسحاق مدنی

اور سبزیاں اور درخت دونوں (اسی کے) مطیع ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور ستارے اور درخت (اللہ کو) سجدہ کرتے ہیں۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

ستارے اور درخت دونوں سجدہ کر رہے ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

and the stars and the trees all prostrate themselves,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And the vine and the tree both prostrate (to Allah).

— Muhammad Taqi Usmani

And the vine and the tree both prostrate (to Allah).

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And the Najm and the trees prostrating.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And the stars and trees prostrate.

— Saheeh International

The plants and trees prostrate before Him.

— Muhammad Sarwar

And the herbs and the trees do prostrate (to Him).

— Muhammad Habib Shakir

And the herbs and the trees do obe isance."

— Abdul Majid Daryabadi

And the herbs and the trees - both (alike) prostrate in adoration.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 55:6

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–13

انسان پر اللہ تعالیٰ کے احسانات کی ایک جھلک اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کاملہ کا بیان فرماتا ہے کہ اس نے اپنے بندوں پر قرآن کریم نازل فرمایا اور اپنے فضل و کرم سے اس کا حفظ کرنا بالکل آسان کردیا اسی نے انسان کو پیدا کیا اور اسے بولنا سکھایا۔ قتادہ وغیرہ کہتے ہیں بیان سے مراد خیر و شر ہے لیکن بولنا ہی مراد لینا یہاں بہت اچھا ہے۔ حضرت حسن کا قول بھی یہی ہے اور ساتھ ہی تعلیم قرآن کا ذکر ہے جس سے مراد تلاوت قرآن ہے اور تلاوت موقوف ہے بولنے کی آسانی پر ہر حرف اپنے مخرج سے بےتکلف زبان ادا کرتی رہتی ہے خواہ حلق سے نکلتا ہو خواہ دونوں ہونٹوں کے ملانے سے مختلف، مخرج اور مختلف قسم کے حروف کی ادائیگی اللہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الرَّحْمٰن 5 اصل میں لفظ النجم استعمال ہوا ہے جس کے معروف اور متبادر معنی تارے کے ہیں۔ لیکن لغت عرب میں یہ لفظ ایسے پودوں اور بیل بوٹوں کے لیے بھی بولا جاتا ہے جن کا تنا نہیں ہوتا، مثلاً ترکاریاں، خربوزے، تربوز وغیرہ۔ مفسرین کے درمیان اس امر میں اختلاف ہے کہ یہاں یہ لفظ کس معنی میں استعمال ہوا ہے۔ ابن عباس سعید بن جبیر، سدی اور سفیان ثوری اس کو بےتنے والی نباتات کے معنی میں لیتے ہیں، کیونکہ اس کے بعد لفظ الشجر (درخت) استعمال فرمایا گیا ہے اور اس کے ساتھ یہی معنی زیادہ مناسبت رکھتے ہیں۔ بخلاف اس کے مجاہد، قتادہ اور حسن بصری کہتے ہیں کہ نجم سے مراد یہاں بھی زمین کے بوٹے نہیں بلکہ آسمان کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

وَّالنَّجْمُ وَالشَّجَرُ يَسْجُدٰنِ ، نجم اس درخت کو کہا جاتا ہے جس کی بیل پھیلتی ہے تنا نہیں ہوتا اور شجر تنہ دار درخت کو کہتے ہیں، یعنی ہر قسم کے درخت خواہ بیل والے ہوں یا تنے اور شاخوں والے سب کے سب اللہ تعالیٰ کے سامنے سجدہ کرتے ہیں، سجدہ کرنا چونکہ انتہائی تعظیم اور اطاعت کی علامت ہے، اس سے مراد یہاں یہ ہے کہ ہر ایک درخت، پودے اور بیل اور اس کے پتوں اور پھلوں اور پھولوں کو حق تعالیٰ نے جن خاص خاص کاموں اور انسان کے فوائد کے لئے بنایا ہے اور گویا ہر ایک کی ایک ڈیوٹی مقرر کردی ہے کہ وہ فلاں کام کیا کرے، ان میں سے ہر ایک اپنی اپنی ڈیوٹی پر لگا ہوا ہے اور حکم ربانی کے تابع، اس میں رکھے ہوئے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

(والنجم والشجر یسجدن)۔ شمس و قمر کی پابندی حدود، جس کو شریعت کی اصطلاح میں تقویٰ سے تعبیر کرتے ہیں، کا حوالہ دینے کے بعد یہ آسمان کے ستاروں اور زمین کے درختوں کے سجدے کا ذکر فرمایا کہ یہ بھی اپنے خالق ومالک کو سجدہ کرتے اور اپنے عمل سے انسان کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ بھی اپنے رب سے سر کشی نہ کرے بلکہ نہایت فرمانبردار انہ اس کو سجدہ اور اس کی بندگی کرے۔ ستاروں اور درختوں کے سجدے کی وضاحت اس کتاب میں جگہ جگہ ہوچکی ہے۔ اس بحث کو اس کے محل میں دیکھے۔ یہاں اعادے میں طوالت ہوگی۔ (النجم کا صحیح مفہوم)۔ (النحم) سے بعض لوگوں نے زمین پر پیدا ہونے والے چھوٹے پودے، جھاڑ اور بیلوں وغیرہ کے قسم کی چیزیں مراد…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

6۔ 1 جیسے دوسرے مقام پر فرمایا (اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ يَسْجُدُ لَهٗ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَمَنْ فِي الْاَرْضِ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ وَالنُّجُوْمُ وَالْجِبَالُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَاۗبُّ) 22۔ الحج :18)

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 6–16

2: سجدہ حقیقی بھی ہوسکتا ہے، کیونکہ قرآن کریم نے کئی جگہ یہ فرمایا ہے کہ تمام مخلوقات میں کچھ نہ کچھ احساس موجود ہے۔ (دیکھئے سورة بنی اسرائیل : 44) اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ یہ سب اللہ تعالیٰ کے تابع فرمان ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

والنجم والشجر یسجدن (55: 6) (تارے اور درخت سجدہ ریز ہیں) بعض آیات میں اس کی تعبیریوں کی گئی ہے۔ تسبیح لہ ................ تسبیحھم (71 :44) (اس کی پاکی تو ساتوں آسمان اور زمین اور وہ ساری چیز بھی بیان کررہی ہیں جو آسمان و زمین میں ہیں۔ کوئی چیز ایسی نہیں جو اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح نہ کررہی ہو مگر تم ان کی تسبیح سمجھتے نہیں۔ ) اور دوسری جگہ ہے۔ الم تر ............ وتسبیحہ (4 2 : 1 4) (کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ کی تسبیح کررہے ہیں وہ سب جو آسمان اور زمین میں ہیں اور وہ پرندے جو پر پھیلائے اڑ رہے ہیں۔ ہر ایک اپنی نماز اور تسبیح کا طریقہ جانتا ہے۔ ) جب انسان اس حقیقت پر غور کرتا ہے کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

8 یعنی علویات کی طرح سفلیات بھی اپنے مالک کی مطیع و منقاد ہیں۔ چھوٹے جھاڑ، زمین پر پھیلی ہوئی بیلیں اور اونچے درخت سب اس کے حکم تکوینی کے سامنے سربسجود ہیں۔ بندے ان کو اپنے کام میں لائیں تو انکار نہیں کرسکتے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 6{ وَّالنَّجْمُ وَالشَّجَرُ یَسْجُدٰنِ۔ } ”اور ستارے اور درخت اللہ کو سجدہ کرتے ہیں۔“ نَجْم کے معروف معنی ستارے کے ہیں ‘ لیکن عربی میں یہ لفظ ایسے پودوں اور بیل بوٹوں کے لیے بھی بولا جاتا ہے جن کا تنا نہیں ہوتا۔ مثلاً جھاڑیاں اور خربوزے اور تربوز کی بیلیں وغیرہ۔ جس طرح لاتعداد ستارے آسمان پر بکھرے نظر آتے ہیں بالکل اسی طرح بیشمار جھاڑیاں اور بیل بوٹے زمین پر پھیلے دکھائی دیتے ہیں۔ چناچہ پچھلی آیت میں سورج اور چاند کے ذکر کی نسبت سے دیکھا جائے تو یہاں النَّجْم سے ستارے مراد ہوں گے ‘ لیکن اگلے لفظ الشَّجَرکے حوالے سے جھاڑیاں یا بیلیں کا ترجمہ بہتر معلوم ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

5 نجم کے معنی ستارا بھی ہے اور بےتنا درخت بھی جس میں جھاڑ جھنکار، جڑی بوٹیاں، بیلیں اور بےتنہ پودے سب شامل ہیں اور یہاں یہ دوسرا معنی ہی زیادہ مناسبت رکھتا ہے اور سجدہ ریز ہونے سے مراد یہ ہے کہ اللہ نے جو طبعی قوانین ان کے لیے مقرر کردیئے ہیں ان سے سرتابی نہیں کرتے اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ فی الواقع اللہ کو سجدہ کر رہے ہوں۔ لیکن انسان اس کیفیت اور ماہیت کو سمجھنے سے قاصر ہو۔ نیز انسان ان سے جو بھی فائدہ اٹھانا چاہے وہ اس میں رکاوٹ نہیں بنتے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

4۔ (اور اسی کے قوانین تکوینی کے آگے سربسجود) (آیت) ” یسجدن “۔ سجدہ کے مفہوم میں بڑی وسعت ہے۔ یہاں اصطلاحی سجدہ شرعی نہیں، محض انقیاد تکوینی مراد ہے۔ اے ینقاد ان للہ تعالیٰ ) (مدارک) (آیت) ” والنجم “۔ نجم۔ وہ پودا جس میں تنا نہ ہو۔ مثلا گھاس، ترکاریاں، بیلدار درخت، شرک کا ایک بڑا مظہر دنیا میں شجر پرستی اور نباتات پرستی بھی رہا ہے۔ ؛ آیت اس کی جڑ کاٹ رہی ہے۔ ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر انگریزی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 5–12

الشمس والقمر بحسبان انسان کے لئے جو نعمتیں حق تعالیٰ نے زمین و آسمان میں پیدا فرمائی ہیں اس آیت میں علویات میں سے شمس و قمر کا ذکر خصوصیت سیشاید اس لئے کیا ہے کہ عالم دنیا کا سارا نظام ان دونوں سیاروں کی حرکت اور ان کی شعاعوں سے وابستہ ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

والنجم والشجر یسجدان . اور بےتنے کے درخت اور تنے والے درخت دونوں اللہ کے مطیع ہیں۔ “ اَلنَّجْمُ : سبیل والا پودا جو زمین میں پھیلتا ہے اور اس کا کھڑا ہونے والا تنہ نہیں ہوتا۔ اَلشَّجْرُ : تنہ والا درخت جو موسم سرما میں بھی باقی رہتا ہے۔ یَسْجُدَانِ : یعنی دونوں اللہ کے فرمانبردار اور حکم کے تابع ہیں جیسے مکلف انسان بالارادہ سجدہ کرتا ہے ‘ اسی طرح یہ بھی حکم کے تابع ہیں۔ بعض نے کہا : ان کے سجدہ کرنے سے مراد ہے ان کے سایہ کا سربسجود (سرافگندہ) ہونا۔ اللہ نے فرمایا ہے : یتفیوا ظلالہ عن الیمین والشمَائل سجدا اللہ وھم داخرون۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور بےتنا کے درخت اور تنا دار درخت اللہ کے فرمانبردار ہیں، نجم ہر اس درخت کو کہتے ہیں جو کھڑا نہ ہوسکے بلکہ زمین پر پھیلے اور شجر تنا دار درخت کو کہتے ہیں

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَّالنَّجْمُ وَالشَّجَرُ یَسْجُدٰنِ :”النجم“ کا معنی ستارا بھی ہے اور وہ پودے بھی جو تنے کے بغیر ہوتے ہیں ، جیسے گندم ، جو ، چنے ، جڑی بوٹیاں ، بیلیں ، سبزیاں وغیرہ۔ یہاں دوسرا معنی زیادہ مناسب رکھتا ہے ، کیونکہ یہ ”الشجر“ کے مقابلے میں آیا ہے۔ طبری نے علی بن ابی طلحہ کی معتبر سند کے ساتھ ابن عباس ؓ سے یہی معنی نقل فرمایا اور اسے ترجیح دی ہے۔ ان کے سجدہ کرنے کی تفسیر کے لیے دیکھئے سورة ٔ حج (81)

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

والنجم والشجر یسجدن۔ حضرت ابن عباس اور دور سے علماء نے کہا، نجم اسے کہتے ہیں جس کا تنا نہ ہوا اور درخت اسے کہتے ہیں جس کا تنا ہو (6) نجم یہ نجم الشی ینجم نجوما سے مشتق ہے جب وہ ظاہر و طلوع ہو۔ اس کے سجود سے مرادان کے سایہ کا سجدہ کرنا ہے (1) یہ ضحاک کا قول ہے۔ فراء نے کہا : دونوں کے سجدہ سے مراد یہ ہے جب سورج طلوع ہوتا ہے تو یہ سورج کے بالمقبال ہوتے ہیں پھر اس کے ساتھ مائل ہوتے ہیں یہاں تک کہ سایہ چھوٹا ہوجاتا ہے (2) زجاج نے کہا : ان دونوں کے سجود سے مراد ان کے سایہ کا ان کے ساتھ گھومنا ہے (3) جس طرح فرمایا : یتفیوا ظللہ (النحل : 48) حضرت حسن بصری اور مجاہد نے کہا، نجم سے مراد آسمان کا ساترہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 6–7

21:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) وابوالشیخ (رح) نے العظمہ (رح) میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' والنجم والشجر یسجدن '' (اور بےتنے کے درخت اور تنے والے درخت دونوں اس کے مطیع ہیں) یعنی نجم وہ ہے جو زمین میں پھیل جاتے اور شجر وہ ہے جو تنے پر کھڑا ہو۔ 22:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابوالشیخ نے سعید بن جبیر ؓ سے اسی طرح روایت کیا۔ 23:۔ ابن جریر (رح) وابو الشیخ نے ابو زرین (رح) سے (آیت ) '' والنجم والشجر یسجدن '' کے بارے میں روایت کیا کہ '' النجم '' سے مراد ہے بیلیں جو زمین پر بچھونے کی طرح بچھ جاتی ہیں اور ان کا تنا نہیں ہوتا اور الشجر '' سے مراد ہے وہ تنے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَّالنَّجْمُ [ جڑی بوٹیاں ] وَالشَّجَرُ [ اور سارے درخت ] يَسْجُدٰنِ [ سجدہ کرتے ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

نجم اور شجرہ سجدہ کرتے ہیں : ﴿ وَّ النَّجْمُ وَ الشَّجَرُ يَسْجُدٰنِ 006﴾ (اور بےتنا والا یعنی بیلدار درخت اور تنا والا درخت (جو کھڑا رہتا ہے) یہ سب اللہ تعالیٰ کے حکم کے فرمانبردار ہیں جس طرح سجدہ کرنے والا اپنے خالق کے لیے خوشی سے سجدہ کرتا ہے اس طرح یہ دونوں اللہ تعالیٰ کے اطاعت گزار ہیں، انقیاد اور فرمانبرداری کو سجدہ کرنے سے تعبیر فرمایا۔ كدو، تربوز، خربوزہ کی بیل کو النجم فرمایا اور دوسرے چھوٹے بڑے درخت جو اپنی ساق یعنی پنڈلی پر کھڑے ہوتے ہیں (جن میں موٹے درخت بھی ہوتے ہیں اور پتلے بھی) ان سب کو شجر سے تعبیر فرمایا صاحب روح المعانی فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت ابن جبیر ؓ سے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–25

انعامات رب جلیل بر انسان بعطاء وصف بیان وتعلیم قرآن وفیضان نعماء جسمانیہ وروحانیہ : قال اللہ تعالیٰ : الرحمن علم القرآن ...... الی ...... فبای الآء ربکما تکذبن “۔ (ربط) سورة قمر میں دلائل نبوت اور معجزات عظیمہ کا بیان تھا اور امم سابقہ کے احوال ذکر فرمائے گئے کہ کس طرح انہوں نے اپنے پیغمبروں کا انکار کیا اور ان پر ایمان نہ لائے جس کے باعث عذاب خداوندی سے انکو ہلاک وبرباد کردیا گیا جس سے مقصود اہل مکہ کو متنبہ کرنا تھا کہ وہ ان احوال وواقعات کو سوچ کر اپنے انجام کے بارے میں بھی خود فیصلہ کرلیں تو اس کے بعد حق تعالیٰ شانہ نے ان انعامات خاصہ کا ذکر فرمایا جو انسان پر کئے گئے ان انعامات میں…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 5–6

3:۔ ’[ الشمس والقمر۔ الایۃ “ یہ توحید کی تیسری عقلی دلیل ہے۔ جو اشیاء اس کی قدرت کاملہ اور صنعت غریبہ پر دلیل ہیں ان کو اسی ترتیب سے ذکر فرمایا پہلے اوپر والی چیزیں۔ ” بحسبان “ کا متعلق محذوف ہے۔ ای یجریان بحسبان (روح) سورج اور چاند ایک حساب اور مقرر اندازے کے مطابق چل رہے ہیں ان کی رفتار معین، ان کا راستہ متعین اور ان کی مسافت معلوم جسے انہوں نے ایک مدت متعینہ سال یا مہینے میں طے کرنا ہے۔ اس کے بعد پھر نیچے والی چیزوں کا ذکر فرمایا۔ ” والنجم والشجر یسجدان “ النجم سے وہ نباتات مراد ہے جو زمین سے نکل کر زمین کی سطح پر ہی پھیل جاتی ہے اور تنے پر نہیں اٹھتی یعنی بیل اور الشجر وہ نباتات ہے جو تنے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–13

نام اور کوائف اس سورة مبارکہ کا نام سورة الرحمن ہے جو اس کے پہلے لفظ سے ماخوذ ہے صرف ایک آیت کے سوا یہ ساری سورة مکی دور میں نازل ہوئی اس سورة کی اٹھہتر آیات اور تین رکوع ہیں اور یہ سورة 351 الفاظ اور 1636 حروف پر مشتمل ہے۔ مضامین سورة مکی سورتوں میں عام طور پر بنیادی عقائد ہی کا ذکر ہے۔ ان سورتوں میں احکام کا سلسلہ حال ہے۔ مکی دور میں چونکہ اسلامی معاشرہ کی بنیاد ہی نہیں رکھی جاسکی تھی ، لہٰذا اس دوران زیادہ تر اخلاق اور عقائد کی اصلاح پر توجہ دی گئی ہے چناچہ اس سورة مبارکہ میں بھی یہی پہلو غالب ہے۔ اس زمانے میں عرب میں شرک کی مختلف قسمیں رائج تھیں یا بالکل کفر تھا۔ اللہ نے مکی سورتوں میں…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَّالنَّجْمُ وَالشَّجَرُ يَسْجُدٰنِ۝ 6 نجم أصل النَّجْم : الكوكب الطالع، وجمعه : نُجُومٌ ، ونَجَمَ : طَلَعَ ، نُجُوماً ونَجْماً ، فصار النَّجْمُ مرّة اسما، ومرّة مصدرا، فَالنُّجُوم مرّة اسما کالقلُوب والجُيُوب، ومرّة مصدرا کالطُّلوع والغروب، ومنه شُبِّهَ به طلوعُ النّبات، والرّأي، فقیل : نَجَمَ النَّبْت والقَرْن، ونَجَمَ لي رأي نَجْما ونُجُوماً ، ونَجَمَ فلانٌ علی السّلطان : صار عاصیا، ونَجَّمْتُ المالَ عليه : إذا وَزَّعْتُهُ ، كأنّك فرضت أن يدفع عند طلوع کلّ نَجْمٍ نصیباً ، ثم صار متعارفا في تقدیر دفعه بأيّ شيء قَدَّرْتَ ذلك . قال تعالی: وَعَلاماتٍ وَبِالنَّجْمِ هُمْ يَهْتَدُونَ [ النحل/…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–8

ترکیب : الرحمٰن ذھب قوم الی انھا ایۃ فالمبتداء محذوف تقدیرہ اللہ الرحمن۔ وعلیٰ قول الاخرین الرحمن مبتداء ومابعدہ الخبر۔ خلق الانسان مستانف وکذا علمہ و یمکن ان یکون حالامن الانسان وقدمحذوف۔ بحسبان قال الاخفش الحسبان جماعۃ الحساب مثل شھب وشھبان۔ وقیل مصدر مفرد بمعنی الحساب کا لغفران والکفران۔ والجار یتلق بیجریان محذوف۔ والسماء منصوب بفعل محذوف یفسرہ المذکور الاتطغوا لئلاتطغوا فلا نافیہ وتطغوامنصوب بان وقبلھا الام العلۃ مقدرۃ وقیل ان مفسرۃ لان فی الوضع معنی القول۔ تفسیر : جمہور کے نزدیک یہ سورة مکہ میں نازل ہوئی ہے جیسا کہ حسن و عروہ و عکرمہ و جابر و ابن عباس ؓ کا قول ہے اور ابن مسعود و مقاتل ؓ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 5–6

اَلشَّمْسُ وَالْقَمَرُبِحُسْبَانٍ ۔ وَّالنَّجْمُ وَالشَّجَرُ یَسْجُدٰنِ ۔ (الرحمن : 5، 6) (سورج اور چاند ایک حساب کے پابند ہیں۔ اور ستارے اور درخت بھی سجدہ کرتے ہیں۔ ) کائنات کی ہر مخلوق اللہ تعالیٰ کے قانون کی پابند ہے انسانوں کے لیے قرآن کی صورت میں ایک نظام زندگی کا ذکر کرنے کے بعد ایک ایسی بات ارشاد فرمائی گئی ہے جس سے انسانوں کے لیے اس نظام زندگی کی پیروی، انفرادی اور اجتماعی زندگی پر اس کی تنفیذ، اس کی تعلیم و تربیت اور اس کی نشرواشاعت کی پابندی کا احساس ابھرتا ہے۔ اور یہ بات بھی ذہن میں آتی ہے کہ یہی درحقیقت وہ چیز ہے جو ہماری بقاء اور فوزوفلاح کی ضامن ہے۔ اور وہ بات یہ ہے کہ تم اجرامِ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 5–6

فہم القرآن ربط کلام : سورة الرحمن میں مرکزی مضمون ” اللہ “ کی قدرتوں اور بڑی بڑی نعمتوں کا بیان ہے، ان میں شمس وقمر بھی شامل ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے شمس و قمر کو اپنی قدرت کی عظیم نشانیوں میں شمار کیا ہے اور انہیں آپس میں اس طرح منضبط اور منسلک کیا ہے کہ سورج اپنی ڈیوٹی دے رہا ہے اور چاند اپنے کام پر لگا ہوا ہے، نہ سورج چاند کے مدار میں داخل ہوسکتا ہے اور نہ چاند سورج کی حدود میں داخل ہوتا ہے۔ (یٰس : 38 تا 40) یہ ایسا مضبوط نظام ہے جس میں کوئی دخل نہیں دے سکتا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اسے اپنی قدرت کی نشانیاں قرار دیا اور فرمایا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ دن کو طویل کردے تو کون ہے جو رات کو لے آئے اور…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

6 : وَّ النَّجْمُ وَالشَّجَرُ یَسْجُدٰنِ (بےتنے درخت اور تنے دار درخت اللہ تعالیٰ کے مطیع ہیں) النجمؔ ایسی نباتات جو زمین سے پھوٹ کر نکلے اس کا تنا نہ ہو مثلاً سبزیاں، الشجرؔ تنا والا درخت۔ ایک قول یہ ہے : النجمؔ آسمان کا ستارہ۔ یسجدانؔ جس مقصد کیلئے ان کو بنایا اس میں وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کر رہے ہیں۔ ان کو مکلفین منقادو مطیع لوگوں سے بطورمشابہت کے ساجد کہہ دیا۔ یہ دونوں جملے الرحمانؔ کے ساتھ معنوی ربط رکھتے ہیں اس لئے کہ یہ بات تو جانی پہچانی ہے کہ محاسبہ کا اختیار اسی کے پاس اور سجدہ کے لائق اس کی ذات ہے۔ گویا اس طرح فرمایا گیا سورج و چاند اس کے مقرر کرنے سے ہیں اور پودے اور درخت اس کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

5 ۔” الشمس والقمر بحسبان “ مجاہد (رح) فرماتے ہیں چکی کے دو پاٹوں کی طرح قطب رحا کی مثل میں چکر لگاتے ہیں۔ اس کے غیر نے کہا ہے اس کا معنی ہے یعنی وہ چلتے ہیں، حساب اور منازل کے ساتھ اس سے آگے نہیں بڑھتے۔ اس کو ابن عباس ؓ ، قتادہ (رح) نے کہا ہے اور ابن زید اور ابن کیسان رحمہما اللہ نے کہا ہے یعنی ان دونوں کے ذریعے اوقات اور مدتوں کا حساب کیا جاتا ہے اور اگر رات ودن سورج و چاند نہ ہوتے تو ان میں سے کچھ معلوم نہ ہوتا اور ضحاک (رح) فرماتے ہیں وہ دونوں اندازے کے ساتھ چلنے اور ” حسبان “ کبھی مصدر ہوتا ہے ” حسبت “ حساب وحسبانا کا جیسے غفران، تفران، رجحان، نقصان اور کبھی حساب کی جمع جیسے شبھان اور…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–13

1۔ 13۔ اگرچہ سورة نحل میں گزر چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر اس قدر احسان کئے ہیں کہ ان احسانات اور اس کی نعمتوں کا شکریہ کرنا تو درکنار اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں کا ہر ایک شخص اگر اللہ تعالیٰ کے احسانات اور اس کی نعمت کی گنتی بھی کرنی چاہے تو یہ بات بھی اللہ تعالیٰ کی مخلوق کی طاقت سے باہر ہے لیکن جن و انسان کے فقط یاد دلانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے اس سورة میں اکتیس قسم کی نعمتوں کا ذکر فرمایا ہے اور ہر ایک قسم کی نعمت کے ذکر کے بعد جن و انسان سے تنبیہ کے طور پر یہ پوچھا ہے کہ تم دونوں اللہ تعالیٰ کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤگے۔ مطلب یہ ہے کہ جس اللہ نے انسان کو ‘ انسان کی سب ضرورت کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(وَّالنَّجْمُ وَالشَّجَرُ يَسْجُدٰنِ ) آسمان کے ستارے اور زمین کے درخت سب اپنے رب کو پہچانتے ہیں اس کو سجدہ کرتے ہیں اس کی اطاعت کرتے ہیں اس کے سامنے سرنگوں ہوتے ہیں اور اس کے احکام کی تعمیل کرتے ہیں۔ اللہ نے اپنے بندوں کے مصالح اور منافع کے لیے ان کو مسخر کررکھا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 5] نجم و شجر کی سجدہ ریزی کا ذکر وبیان : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ اسی کے حضور سجدہ ریز ہوتے ہیں ستارے بھی اور درخت بھی۔ یعنی تکوینی طور پر کہ جس کو جس غرض کے لئے پیدا فرمایا گیا ہے، اور جس کو جس کام پر متعین و مامور فرمایا گیا ہے، وہ ٹھیک ٹھیک بلا کسی چون و چرا کے اس کو انجام دے رہا ہے۔ سو یہ ان تمام اشیاء اور مخلوقات کا تکوینی اور فطری سجدہ ہے جس کو ان میں سے ہر چیز پوری مستعدی اور پابندی کے ساتھ ادا کر رہی ہے۔ مگر یہ چونکہ اس کا ایک طبعی عمل اور فطری وظیفہ ہے، جس میں اس کا اپنا کوئی ارادہ و اختیار نہیں۔ اس لیے ان میں سے کسی کیلئے بھی اس سجدہ ریزی پر کوئی اجر وثواب نہیں ملے گا،…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–13

رب جس نے انسان کو پیدا کیا اس کی تمام ضروریات پوری کردیں تشریح :۔ رحمن اللہ کا صفاتی نام ہے اور یہ صفاتی نام پورے قرآن پاک میں تقریبا 55 مقامات پر آیا ہے۔ یہ اس کی رحمن ہونے کی دلیل ہے کہ جو اس نے مخلوقات کو بنایا۔ راہ ہدایت دکھانے کے لیے قرآن نازل فرمایا اور پوری کائنات کو اپنے رحم و کرم سے بھر دیا۔ اس کا رحم و کرم ہر ایک کے لیے برابر ہے۔ چاہے کوئی کافر ہو مسلم ہو، نیک ہو یا بد ہو، متقی ہو یا گنہگار ہو۔ غرض اس کی عنایات سے ہر کوئی فیض یاب ہو رہا ہے۔ اور یہ بھی اس کے رحمن ہونے کا ثبوت ہے کہ اس نے علم سکھایا۔ قرآن پاک جس میں پوری کائنات تمام تخلیقات کے ہر قسم کے علوم بیان کردیے گئے ہیں اور ان…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–25

آیات 1 تا 25۔ اسرار ومعارف۔ وہ ذات بیحد و حساب رحم کرنے والی ہے اور اس کی رحمت ہے کہ اس نے قرآن سکھلایا اپنے نبی پر نازل فرما کر ان خوش نصیبوں کو جنہوں نے آپ سے سیکھا اور ان کے واسطے سے اگلوں کو سکھایا یوں تعلیم قرآن کا سلسلہ ہمیشہ کے لیے جاری فرمایا کہ بنی آدم میں سے جو چاہے اس چشمہ رحمت سے سیراب ہو۔ آخر یہ بھی تو اسی کی رحمت عامہ ہے کہ انسان کو پیدا فرمایا اور اسے زبان دانی بات کرنے کا فن ودیعت فرمایا کہ وہ علم قرآن حاصل کرسکنے کے قابل ہوا۔ قوت گویائی کا اصل مصرف۔ گویاقوت گویائی اور بات کرنے کی صلاحیت کا اصل مصرف علوم قرآن کا حصول اور اس کا آگے پہنچانا ہے باقی سارے فوائد دوسرے درجے میں ہیں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 6 ” نجم “ کے مشہور اور متبادر معنی ستارے کے ہیں لیکن یہ ایسے پودے اور بیل بوٹوں کے لئے بھی بولا جاتا ہے جن کا تنا نہیں ہوتا۔ اس لئے متن میں اس کا ترجمہ ” بیل “ بھی کیا گیا ہے اور یہ معنی ” الشجر “ کے قرین ہونے کے اعتبار سے انسب ہیں۔ 7 یعنی اسی کے حکم کے تابع اور اسی کے قانون کے پابند ہیں۔ اس نے ان کے لئے جو ضابطہ اور نظم مقرر فرما دیا ہے اس سے سرموانحراف نہیں کرتے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(55:6) والنجم والشجر یسجدان اور بیلیں (بےتنے کے پودے) اور درخت (تنے والے پودے) (اسی کے حکم سے) سجدہ ریز ہیں۔ النجم کے متعلق مختلف اقوال ہیں :۔ بعض علماء کا قول ہے کہ :۔ (1) النجم سے مراد نباتات کی وہ قسم ہے جس کا تنانہ ہو جیسے بیلیں وغیرہ۔ اور الشجر سے مراد وہ قسم ہے جس کا تنا ہو۔ (2) مقید کا قول ہے کہ :۔ النجم سے مراد آسمان کے ستارے ہیں اور اس پر وہ سورة الحج کی یہ آیت دلیل لائے ہیں۔ الم تر ان اللہ یسجد لہ من فی السموت ومن فی الارض والشمس والقمر والنجوم والشجر والدواب وکثیر من الناس ۔ (22:18) ۔ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ جو (مخلوق) آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے اور سورج اور چاند اور ستارے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–25

لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 25 علم اس نے سکھایا۔ البیان بولنا بحسبان ایک حساب سے، ایک طریقے سے۔ النجم بےتنے کے درخت، پودے۔ وضع اس نے رکھا ۔ اس نے بنایا ۔ الاتطفوا یہ کہ تم نہ گھٹائو۔ انام مخلوق۔ الاکمام (کم) غلام، چھلکا ۔ العصف بھوسہ (جانوروں کی غذا) الریحان خوشبودار ۔ الاء (الی) نعمتیں صلصال خشک مٹی جو کھن کھن بجتی ہو۔ الفخار ٹھیکرا۔ الجان جن ، ابو الجنات ۔ مارج شعلہ جس میں دھواں نہ ہو۔ مرج (خوب بہتا ہے) جاری کیا البحرین دوریا، دو سمندر۔ برزخ پردہ، رکاوٹ۔ لا یبغین دونوں کو ملنے نہیں دیتا اللولو موتی۔ المرجان مونگا، سفید موتی۔ المنشئت بلند کئے ہوئے۔ الاغلام (ملم) پہاڑ، جھنڈا اللہ تعالیٰ نے اپنی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

(ف 4) اور بیل جو زمین پر پھیلتی ہے اور درخت جو سیدھا کھڑا ہوتا ہے یہ سب خدا کو سجدہ کرتے ہیں اور یہ تمام اس کے حکم کے تابعدار ہیں اگرچہ لوگوں کو ان کی فرمانبرداری اور سجدہ کرنا معلوم نہیں لیکن وہ ضرور کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[2] یعنی یہ سب اللہ تعالیٰ کے فرماں بردار ہیں اور اس کے حکم سے ذرّہ برابر بھی سرتابی نہیں کرسکتے۔ مطلب یہ ہے کہ کائنات کا سارا نظام اسی کا قائم کیا ہوا ہے اور اسی کی اطاعت میں چل رہا ہے۔ یہاں نہ کوئی خود مختار ہے اور نہ کسی کا یہ مقام ہے کہ اس کو معبود بنایا جائے۔ سب بندے اور غلام ہیں، آقا تنہا ایک رب قدیر ہے۔ لہذا توحید ہی حق ہے جس کی تعلیم یہ قرآن دے رہا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 5–16

جنوں کا وجود 1: جن ایک الگ مخلوق ہے ۔ جس کو اللہ تعالیٰ نے آگ سے پیدا کیا ہے ۔ یہی وجہ ہے ۔ ان میں لطافت زیادہ ہے ۔ آج سے پچاس سال قبل تو لوگ اس مخلوق کا انکار کرتے تھے ۔ مگر اب تجربات نے ثابت کردیا ہے ۔ کہ جنات بھی موجود ہیں ۔ اور وہ لوگ جنہوں نے بڑے شدومد سے کہا تھا ۔ کہ یہ محض وہم ہے ۔ اب وہی کہہ رہے ہیں ۔ کہ یہ ایک حقیقت ہے ۔ ہمارے ہاں بعض ایسے جاہل بھی موجود ہیں ۔ جنہوں نے اس وقت کی آواز کو تو سنا تھا ۔ مگر موجودہ وقت کے خیالات سے آگاہ نہیں ۔ وہ اب تک یہ سمجھے بیٹھے ہیں ۔ کہ علماء مغرب کے معتقلات میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ۔ بلکہ وہ اس قدر روشن خیال ہیں ۔ کہ سارا مغرب بھی ان مسائل کا قائل…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(6) اور بےتنے کے درخت اور تنے والے درخت سجدہ کرتے ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے مطیع اور منقاد ہیں نباتات کی تسخیر کو سجدہ تکوینی سے تعبیر فرمایا ہے بےتنے کے درخت جیسے بیل دار درخت پودے یا گھاس وغیرہ اور تنے دار درخت تو ظاہر ہی ہیں یہ تمام درخت اللہ تعالیٰ کے حکم کے تابع اور مسخر ہیں اور ان نباتات میں جو حضرت تعالیٰ نے فوائد اور منافع رکھے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی بڑی نعمت ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 3–13

ف 5۔ یہ آیت تفریعیہ اس سورت میں اکتیس جگہ آئی ہے اور ہر جگہ الاء کا مصداق جدا ہے، اس لئے یہ تکرار محض نہیں، محض لفظی تشارک ہے اور تکرار ظاہری کیو جہ سے اس میں افادہ تاکید بھی ہے اور اس قسم کا تکرار جو کہ قند مکرر سے شیریں تر ہے عرب کے کلام منثور و منظوم میں بکثرت بلا نکیر مستعمل ہے۔ تکذبان میں خطاب جن و انس کو ہونا ان دلائل سے ہے، قولہ تعالیٰ خلق الانسان و خلق الجان، قولہ تعالیٰ ایہ الثقلان، قولہ تعالیٰ انس قبلھم ولا جان۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اور نباتات و درخت بھی اس کے حکم کے مطیع وفرمانبردار ہیں 6۔ سورج اور چاند دونوں کی فرمانبرداری اور اطاعت کے ذکر کے بعد اب دنیا میں اس زمین کے اندر جو کچھ پیدا ہوتا ہے خواہ نباتات وانگوری ہے اور خواہ فلک بوس درخت جو بعض اونچائی اور لمبائی میں بےمثل ہیں اور بعض موٹائی میں اور بعض اپنے پھیلائو میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتے اور بعض ایسے بھی ہیں جو لمبائی ، چوڑائی ، موٹائی اور پھیلائو سب سے بےمثل اور لاثانی ہیں لیکن ساری چیزوں کے باوجود وہ فرمانبرداری میں اپنے اپنے فطری کاموں کو بغیر کسی حیل وحجت کے سرانجام دیئے چلے جا رہے ہیں جن کی فطرت میں قدرت نے پت جھڑ رکھا ہے وہ عین وقت پر آکر پتوں کو چھوڑدیتے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

وَالنَّجْمُ وَالشَّجَرُ‌ يَسْجُدَانِ (And the vine and the tree both prostrate [ to Allah ]....55:6). The word najm refers to the 'plants having no stem' and the word shajar refers to any 'tree' with stems or trunk, twigs and branches. All of them prostrate to Allah. Sajdah or prostration is the supreme symbol of humility, respect, surrender and unconditional love and obedience of Allah. In this context, the verse means that Allah has assigned a specific task to every tree, plant, creeper, and their leaves and fruits for the benefit of mankind and they are performing their tasks without the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

5 The word used in the original is an-najm, the well-known meaning of which is the star; but in the Arabic lexicon this word is also used for the plants and creepers which do not have a stem, e.g. vegetable, melons, water melons, etc. The commentators have disputed the sense in which this word has been used here. Ibn 'Abbas, Sa'id bin Jubair, Suddi, and Sufyan Thauri have taken it in the meaning of stemless vegetation, for just after it the word ash-shajar (the tree) has been used and this meaning is more relevant to it. On the contrary, Mujahid, Qatadah and Hasan Basri have expressed the…

Read the full tafseer →