Ar-Rahmaan 55:5

Ar-Rahmaan · from ayah 5

55:5

اَلشَّمْسُ وَالْقَمَرُ بِحُسْبَانٍ ۟ۙاَلشَّمۡسُ وَالۡقَمَرُ بِحُسۡبَانٍ

سورج اور چاند ایک حساب مقرر سے چل رہے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

The sun and the moon [move] by precise calculation,

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 1 of surah · Ruku 11 of juz

Read the whole surah · Surah Ar-Rahmaan

All translations of 55:5

سورج اور چاند ایک حساب کے پابند ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

سورج اور چاند ایک حساب مقرر سے چل رہے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

آفتاب اور ماہتاب (مقرره) حساب سے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

سورج اور چاند حساب میں جکڑے ہوئے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

سورج اور چاند حساب سے ہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

سورج اور چاند (اسی کے) مقررّہ حساب سے چل رہے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

سورج اور چاند ایک حساب سے (چل رہے) ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

سورج اور چاند ایک مقررہ حساب سے چل رہے ہیں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

سورج اور چاند ایک حساب سے گردش کرتے ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

سورج اور چاند چل رہے ہیں (اس کی قدرت و عنایت سے) ایک نہایت باریک حساب کے ساتھ

— مولانا اسحاق مدنی

سورج اور چاند تک حساب کے (پابند) ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

سورج اور چاند ایک حساب کے ساتھ گردش کرتے ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

سورج اور چاند ایک مقرر حساب سے چل رہے ہیں

— محترمہ رفعت اعجاز

The sun and the moon follow a reckoning,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

The sun and the moon are (bound) by a (fixed) calculation.

— Muhammad Taqi Usmani

The sun and the moon are (bound) by a (fixed) calculation.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

The sun and the moon (run) on fixed courses.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

The sun and the moon are made punctual.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

The sun and the moon [move] by precise calculation,

— Saheeh International

The sun and moon rotate in a predestined orbit.

— Muhammad Sarwar

The sun and the moon follow a reckoning.

— Muhammad Habib Shakir

The sun and the moon are in a reckoning.

— Abdul Majid Daryabadi

The sun and the moon follow courses (exactly) computed;

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 55:5

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–13

انسان پر اللہ تعالیٰ کے احسانات کی ایک جھلک اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کاملہ کا بیان فرماتا ہے کہ اس نے اپنے بندوں پر قرآن کریم نازل فرمایا اور اپنے فضل و کرم سے اس کا حفظ کرنا بالکل آسان کردیا اسی نے انسان کو پیدا کیا اور اسے بولنا سکھایا۔ قتادہ وغیرہ کہتے ہیں بیان سے مراد خیر و شر ہے لیکن بولنا ہی مراد لینا یہاں بہت اچھا ہے۔ حضرت حسن کا قول بھی یہی ہے اور ساتھ ہی تعلیم قرآن کا ذکر ہے جس سے مراد تلاوت قرآن ہے اور تلاوت موقوف ہے بولنے کی آسانی پر ہر حرف اپنے مخرج سے بےتکلف زبان ادا کرتی رہتی ہے خواہ حلق سے نکلتا ہو خواہ دونوں ہونٹوں کے ملانے سے مختلف، مخرج اور مختلف قسم کے حروف کی ادائیگی اللہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الرَّحْمٰن 4 یعنی ایک زبردست قانون اور ایک اٹل ضابطہ ہے جس سے یہ عظیم الشان سیارے بندھے ہوئے ہیں۔ انسان وقت اور دن اور تاریخوں اور فصلوں اور موسموں کا حساب اسی وجہ سے کر رہا ہے کہ سورج کے طلوع و غروب اور مختلف منزلوں سے اس کے گزرنے کا جو قاعدہ مقرر کردیا گیا ہے اس میں کوئی تغیر رونما نہیں ہوتا۔ زمین پر بےحد و حساب مخلوق زندہ ہی اس وجہ سے ہے کہ سورج اور چاند کو ٹھیک ٹھیک حساب کر کے زمین سے ایک خاص فاصلے پر رکھا گیا ہے اور اس فاصلے میں کمی و بیشی صحیح ناپ تول سے ایک خاص ترتیب کے ساتھ ہوتی ہے۔ ورنہ زمین سے ان کا فاصلہ کسی حساب کے بغیر بڑھ یا گھٹ جائے تو یہاں کسی کا جینا ہی ممکن نہ رہے۔ اسی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

اَلشَّمْسُ وَالْقَمَرُ بِحُسْـبَانٍ ، انسان کے لئے حق تعالیٰ نے جو نعمتیں زمین و آسمان میں پیدا فرمائی ہیں اس آیت میں علویات میں سے شمس و قمر کا ذکر خصوصیت سے شاید اس لئے کیا ہے کہ عالم دنیا کا سارا نظام کار ان دونوں سیاروں کی حرکات اور ان کی شعاعوں سے وابستہ ہے اور لفظ حسبان بضم الحاء بعض حضرات نے فرمایا کہ حساب کے معنے میں مصدر ہے، جیسے غفران، سبحان، قرآن، اور بعض نے فرمایا کہ حساب کی جمع ہے اور مراد آیت کی یہ ہے کہ شمس و قمر کی حرکات جن پر انسانی زندگی کے تمام کاروبار موقوف ہیں، رات دن کا اختلاف، موسموں کی تبدیلی، سال اور مہینوں کی تعیین، ان کی تمام حرکات اور دوروں کا نظام محکم ایک خاص…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

(الشمس والقمر بحسبان والنجم والشجر یسجدن) (5، 6)۔ (کائنات کی نشانیوں کی طرف ایک اشارہ)۔ یہ اس کائنات کی نشانیوں کی طرف توجہ دلائی کہ اگر قرآن کے انداز کی تصدیق کے لیے نشانیوں ہی کی ضرورت ہے تو کسی نئی نشانی کے منتظر کیوں ہو ؟ اپے سروں کے اوپر آسمان کی نشانیوں کو دیکھو، یہ سورج اور چاند کس پابندی اوقات اور کس نظم و ضبط کے ساتھ اپنے اپنے مدار میں گردش کررہے ہیں۔ مجال نہیں ہے کہ کبھی منٹ اور سیکنڈ کا بھی فرق واقع ہونے پائے۔ پھر یہ دیکھو کہ یہ کس طرح ان حدود وقیود کی پابندی کر رہے ہو جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ٹھہرا دیئے ہیں، یہ کبھی نہیں ہوتا کہ سورج اپنی سرحد میں لانگ کر چاند کے مدار میں گھس…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

5۔ 1 یعنی اللہ کے ٹھہرائے ہوئے حساب سے اپنی اپنی منزلوں پر رواں دواں رہتے ہیں، ان سے تجاوز نہیں کرتے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 1–5

1: مشرکین مکہ اللہ تعالیٰ کے نام رحمن کو نہیں مانتے تھے، وہ کہتے تھے کہ ہم نہیں جانتے رحمن کیا ہوتا ہے ؟ جیسا کہ سورة فرقان (25۔ 60) میں گزرا ہے، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ رحمن کے نام سے ان لوگوں کو چڑ تھی، وہ اس لئے کہ اگر ہر طرح کی رحمت اللہ تعالیٰ ہی کے ساتھ خاص مان لی جائے تو پھر ان من گھڑت خداؤں کے حصے میں کچھ نہیں آتا جن سے یہ لوگ اپنی مرادیں مانگا کرتے تھے، اور اس طرح اللہ تعالیٰ کو رحمن مان لینے سے خود بخود ان کے شرک کی نفی ہوجاتی ہے، اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ رحمن اسی اللہ تعالیٰ کا نام جس کی رحمتوں سے یہ ساری کائنات بھری ہوئی ہے، اس کے سوا کوئی نہیں جو تمہیں رزق، اولاد یا…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

اب اس کائنات کی نمائش گاہ میں دست قدرت کے بنائے ہوئے دو اور عجوبے۔ الشمس والقمر بحسبان (55:5) (سورج اور چاند ایک حساب کے پابند ہیں) شمس وقمر کی بناوٹ ان کی حرکت اور ہم آہنگی کو دیکھ کر انسان حیران اور ششدر رہ جاتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک عظیم نظام ہے اور منظم کی عظمت پر دال ہے اور اس نظام کے اندر گہرے حقائق پوشیدہ ہیں اور اس سے نکلنے والے نتائج دور رس ہیں۔ سورج اجرام فلکی میں سے کوئی بہت بڑا کرہ نہیں ہے۔ اس فضا نے کائنات کے اندر جس کے حدود کا تعین انسان نہیں کرسکا ، کئی ملین ستارے ہیں جن میں سے بہت سے سورج سے بڑے ہیں اور زیادہ حرارت والے ہیں۔ زیادہ تیز روشنی والے ہیں۔ بعض تو بیس گناہ بڑے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 یعنی دونوں کا طلوع و غروب، گھٹنا بڑھنا، یا ایک حالت پر قائم رہنا، پھر ان کے ذریعہ سے فصول و مواسم کا بدلنا اور سفلیات پر مختلف طرح سے اثر ڈالنا، یہ سب کچھ ایک خاص حساب اور ضابطہ اور مضبوط نظام کے ماتحت ہے۔ مجال نہیں کہ اس کے دائرہ سے باہر قدم رکھ سکیں اور اپنے مالک و خالق کے دیے ہوئے احکام سے روگردانی کرسکیں۔ اس نے اپنے بندوں کی جو خدمات اور دنوں کے سپرد کردی ہیں۔ ان میں کوتاہی نہیں کرسکتے۔ ہمہ وقت ہماری خدمت میں مشغول ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 5{ اَلشَّمْسُ وَالْقَمَرُ بِحُسْبَانٍ۔ } ”سورج اور چاند ایک حساب کے ساتھ گردش کرتے ہیں۔“ سورج اور چاند کی گردش ایک قطعی اور مربوط نظام کا حصہ ہے۔ ان کی گردش سے ہی دن رات بنتے ہیں اور دنوں ‘ مہینوں اور سالوں کا حساب ممکن ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

4 چاند اور سورج میں نظم کی بنا پر انسانوں کو پہنچنے والے فائدے :۔ سورج اور چاند کا ایک مقررہ رفتار کے مطابق چلنا۔ پھر اس میں ایک لحظہ کی بھی تاخیر نہ ہونا انسان کے لیے ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ سورج سے دن رات ادل بدل کر آتے رہتے ہیں اور موسموں میں بتدریج تبدیلی ہوتی رہتی ہے۔ نمازوں کے اوقات کا تعلق بھی سورج سے ہے۔ فصلوں کے پکنے کا انحصار بھی سورج سے ہے۔ چاند سے ہمیں رات کو روشنی حاصل ہوتی ہے۔ ہم مہینوں اور سالوں کا حساب رکھ سکتے ہیں اور یہی حقیقی اور فطری تقویم ہے۔ اسی لیے رمضان کے روزے، حج، عیدیں اور دوسری قابل شمار مدتوں مثلاً مدت حمل، مدت رضاعت و عدت وغیرہ کا تعلق چاند سے ہوتا ہے۔ پھر سورج اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

3۔ یہ نمایاں ترین اور روشن ترین اجرام فلکی دن اور رات، ماہ وسال کے وجود میں لانے والے اور فصل وموسم کے تغیرات پیدا کرنے والے، اپنی رفتار میں طلوع و غروب میں گھٹاؤ، بڑھاؤ میں، ہر چیز میں خود ایک باقاعدہ حساب اور پورے ضابطہ کے پابند ہیں اور دیوی دیوتا بننے کی صلاحیت کا شائبہ ہی نہیں رکھتے۔ پرانی تحقیق یہ تھی کہ آفتاب زمین کے گرد گردش کرتا ہے۔ نئی تحقیق یہ ہے کہ آفتاب کسی اور مدار کے گرد گردش کررہا ہے۔ بہر صورت اس کی نفس گردش اور کسی ضابطہ گردش کی پابندی مسلم ہے اور قرآن کی غرض صرف اسی حقیقت پر توجہ دلانا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 5–12

الشمس والقمر بحسبان انسان کے لئے جو نعمتیں حق تعالیٰ نے زمین و آسمان میں پیدا فرمائی ہیں اس آیت میں علویات میں سے شمس و قمر کا ذکر خصوصیت سیشاید اس لئے کیا ہے کہ عالم دنیا کا سارا نظام ان دونوں سیاروں کی حرکت اور ان کی شعاعوں سے وابستہ ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

الشمس والقمر بحسبان ” سورج اور چاند حساب کے ساتھ چلتے ہیں حُسْبَانٍ : یا مصدر ہے جیسے غفران ‘ سبحان ‘ قرآن ‘ نقصان یا حساب کی جمع ہے جیسے شبان (شابٌ کی جمع ہے) مطلب یہ ہے کہ چاند اور سورج کی رفتار کا حساب مقرر ہے ‘ ہر ایک مقررہ حساب کے ساتھ رواں ہے۔ انہیں کی رفتار مقررہ کے موافق عالم زیریں کا انتظام اور فصول و اوقات کا تغیر اور سال و ماہ کا امتیاز اور نماز ‘ روزہ ‘ حج ‘ زکوٰۃ اور اداء قرض کی مدت کی تعین ہوتی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 4–5

(4۔ 5) اور پھر اس کے حکم سے اپنی منزلوں پر چاند و سورج حساب کے ساتھ چلتے ہیں یا یہ کہ آسمان و زمین کے درمیان معلق ہیں یا یہ کہ ان پر حساب ہے اور انسانوں کی مدتوں کی طرح ان کا بھی ایک وقت مقرر ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اَلشَّمْسُ وَالْقَمَرُ بِحُسْبَانٍ :”حسبان“ ”حسب یحسب“ کا مصدر ہے ، جس میں ”الف نون“ زیادہ کردیا گیا ہے ، جس سے معنی میں اضافہ ہوگیا ہے ، جیسے ”طغیان“ ”رجحان“ اور ”کفران“ وغیرہ میں ہے۔ یعنی سورج اور چاند نہایت محکم اور باریک حساب کے ساتھ چل رہے ہیں ، آسمان کے نیچے ثوابت و سیار ستاروں کا کوئی شمار نہیں ، جن میں سے بعض سورج اور چاند سے بھی ہزاروں گنا بڑے ہیں۔ ان کی پیدائش اور گردش میں اللہ تعالیٰ کی بےحساب حکمتوں کا بھی کچھ شمار نہیں ، مگر خاص طور پر سورج اور چاند کا ذکر اس لیے فرمایا کہ نمایاں نظر آنے کی وجہ سے زمین کے رہنے والوں کے معاملات کا ان دونوں کے ساتھ زیادہ تعلق ہے۔ مفسر کیلانی لکھتے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 1–5

الرحمٰن۔ علم القرآن۔ سعید بن جبیر اور عامر شعبی نے کہا، الرحمٰن تین سورتوں کا آغاز ہے جب سب کو جمع کیا جائے تو وہ مل کر اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک نام بن جاتا ہے الر، حم اور ن۔ ان تینوں کا مجموعہ الرحمٰن بنتا ہے۔ علم القرآن اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو قرآن کی تعلیم دی یاں تک کہ آپ ﷺ نے اسے تمام انسانوں تک پہنچایا۔ یہ اس وقت آیات نازل ہوئیں جب انہوں نے یہ کہا : الرحمٰن ؟ رحمٰن کیا ہوتا ہے ؟ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ اہل مکہ کے جواب میں نازل ہوئیں جب انہوں نے یہ ہاک تھا : اسے ایک انسان سکھاتا ہے وہ یمامہ کا رحمان ہے۔ وہ اس سے مسلیمہ کذاب مراد لیتے تو اللہ تعالیٰ نے ان آیات کو نازل فرمایا۔…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

16:۔ الفریابی (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) والحاکم (وصححہ) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' الشمس والقمر بحسبان '' یعنی حساب اور منزلوں کے مطابق بھیجا جاتا ہے۔ 17:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے ابومالک ؓ سے (آیت ) '' الشمس والقمر بحسبان '' کے بارے میں روایت کیا کہ ان دونوں کے لئے حساب اور مدت مقرر ہے جیسے لوگوں کے لئے مدت مقرر ہے جب ان دونوں کی مدت آجائے گی تو دونوں ختم ہوجائیں گے۔ 18:۔ عبد بن حمید (رح) نے ربیع بن انس (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' الشمس والقمر بحسبان '' سے مراد ہے کہ وہ دونوں حساب کے ساتھ چلتے ہیں۔ 19:۔ عبد بن حمید…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

چاند و سورج ایک حساب سے چلتے ہیں : ﴿ اَلشَّمْسُ وَ الْقَمَرُ بِحُسْبَانٍ۪005﴾ (چاند اور سورج کے لیے جو رفتاروں کے مدار مقرر فرما دیئے ہیں انہیں کے مطابق چلتے ہیں) اپنی رفتار میں آزاد نہیں ہیں، جیسے چاہیں چلیں جدھر کو چاہیں چلیں اور جب چاہیں چلیں اور جب چاہیں رک جائیں۔ یہ ان کے اختیار سے باہر ہے۔ سورة یٰسین میں فرمایا : ﴿وَ الشَّمْسُ تَجْرِيْ لِمُسْتَقَرٍّ لَّهَا 1ؕ ذٰلِكَ تَقْدِيْرُ الْعَزِيْزِ الْعَلِيْمِؕ0038 وَ الْقَمَرَ قَدَّرْنٰهُ مَنَازِلَ حَتّٰى عَادَ كَالْعُرْجُوْنِ الْقَدِيْمِ 0039 لَا الشَّمْسُ يَنْۢبَغِيْ لَهَاۤ اَنْ تُدْرِكَ الْقَمَرَ وَ لَا الَّيْلُ سَابِقُ النَّهَارِ 1ؕ وَ كُلٌّ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–25

انعامات رب جلیل بر انسان بعطاء وصف بیان وتعلیم قرآن وفیضان نعماء جسمانیہ وروحانیہ : قال اللہ تعالیٰ : الرحمن علم القرآن ...... الی ...... فبای الآء ربکما تکذبن “۔ (ربط) سورة قمر میں دلائل نبوت اور معجزات عظیمہ کا بیان تھا اور امم سابقہ کے احوال ذکر فرمائے گئے کہ کس طرح انہوں نے اپنے پیغمبروں کا انکار کیا اور ان پر ایمان نہ لائے جس کے باعث عذاب خداوندی سے انکو ہلاک وبرباد کردیا گیا جس سے مقصود اہل مکہ کو متنبہ کرنا تھا کہ وہ ان احوال وواقعات کو سوچ کر اپنے انجام کے بارے میں بھی خود فیصلہ کرلیں تو اس کے بعد حق تعالیٰ شانہ نے ان انعامات خاصہ کا ذکر فرمایا جو انسان پر کئے گئے ان انعامات میں…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 5–6

3:۔ ’[ الشمس والقمر۔ الایۃ “ یہ توحید کی تیسری عقلی دلیل ہے۔ جو اشیاء اس کی قدرت کاملہ اور صنعت غریبہ پر دلیل ہیں ان کو اسی ترتیب سے ذکر فرمایا پہلے اوپر والی چیزیں۔ ” بحسبان “ کا متعلق محذوف ہے۔ ای یجریان بحسبان (روح) سورج اور چاند ایک حساب اور مقرر اندازے کے مطابق چل رہے ہیں ان کی رفتار معین، ان کا راستہ متعین اور ان کی مسافت معلوم جسے انہوں نے ایک مدت متعینہ سال یا مہینے میں طے کرنا ہے۔ اس کے بعد پھر نیچے والی چیزوں کا ذکر فرمایا۔ ” والنجم والشجر یسجدان “ النجم سے وہ نباتات مراد ہے جو زمین سے نکل کر زمین کی سطح پر ہی پھیل جاتی ہے اور تنے پر نہیں اٹھتی یعنی بیل اور الشجر وہ نباتات ہے جو تنے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–13

نام اور کوائف اس سورة مبارکہ کا نام سورة الرحمن ہے جو اس کے پہلے لفظ سے ماخوذ ہے صرف ایک آیت کے سوا یہ ساری سورة مکی دور میں نازل ہوئی اس سورة کی اٹھہتر آیات اور تین رکوع ہیں اور یہ سورة 351 الفاظ اور 1636 حروف پر مشتمل ہے۔ مضامین سورة مکی سورتوں میں عام طور پر بنیادی عقائد ہی کا ذکر ہے۔ ان سورتوں میں احکام کا سلسلہ حال ہے۔ مکی دور میں چونکہ اسلامی معاشرہ کی بنیاد ہی نہیں رکھی جاسکی تھی ، لہٰذا اس دوران زیادہ تر اخلاق اور عقائد کی اصلاح پر توجہ دی گئی ہے چناچہ اس سورة مبارکہ میں بھی یہی پہلو غالب ہے۔ اس زمانے میں عرب میں شرک کی مختلف قسمیں رائج تھیں یا بالکل کفر تھا۔ اللہ نے مکی سورتوں میں…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَلشَّمْسُ وَالْقَمَرُ بِحُسْـبَانٍ۝ 5 ۠ شمس الشَّمْسُ يقال للقرصة، وللضّوء المنتشر عنها، وتجمع علی شُمُوسٍ. قال تعالی: وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَها [يس/ 38] ، وقال : الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ بِحُسْبانٍ [ الرحمن/ 5] ، وشَمَسَ يومَنا، وأَشْمَسَ : صار ذا شَمْسٍ ، وشَمَسَ فلان شِمَاساً : إذا ندّ ولم يستقرّ تشبيها بالشمس في عدم استقرارها . ( ش م س ) الشمس کے معنی سورج کی نکیر یا وہوپ کے ہیں ج شموس قرآن میں ہے ۔ وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَها [يس/ 38] اور سورج اپنے مقرر راستے پر چلتا رہتا ہے ۔ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ بِحُسْبانٍ [ الرحمن/ 5] سورج اور چاند ایک حساب مقرر سے چل رہے ہیں ۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–8

ترکیب : الرحمٰن ذھب قوم الی انھا ایۃ فالمبتداء محذوف تقدیرہ اللہ الرحمن۔ وعلیٰ قول الاخرین الرحمن مبتداء ومابعدہ الخبر۔ خلق الانسان مستانف وکذا علمہ و یمکن ان یکون حالامن الانسان وقدمحذوف۔ بحسبان قال الاخفش الحسبان جماعۃ الحساب مثل شھب وشھبان۔ وقیل مصدر مفرد بمعنی الحساب کا لغفران والکفران۔ والجار یتلق بیجریان محذوف۔ والسماء منصوب بفعل محذوف یفسرہ المذکور الاتطغوا لئلاتطغوا فلا نافیہ وتطغوامنصوب بان وقبلھا الام العلۃ مقدرۃ وقیل ان مفسرۃ لان فی الوضع معنی القول۔ تفسیر : جمہور کے نزدیک یہ سورة مکہ میں نازل ہوئی ہے جیسا کہ حسن و عروہ و عکرمہ و جابر و ابن عباس ؓ کا قول ہے اور ابن مسعود و مقاتل ؓ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 5–6

اَلشَّمْسُ وَالْقَمَرُبِحُسْبَانٍ ۔ وَّالنَّجْمُ وَالشَّجَرُ یَسْجُدٰنِ ۔ (الرحمن : 5، 6) (سورج اور چاند ایک حساب کے پابند ہیں۔ اور ستارے اور درخت بھی سجدہ کرتے ہیں۔ ) کائنات کی ہر مخلوق اللہ تعالیٰ کے قانون کی پابند ہے انسانوں کے لیے قرآن کی صورت میں ایک نظام زندگی کا ذکر کرنے کے بعد ایک ایسی بات ارشاد فرمائی گئی ہے جس سے انسانوں کے لیے اس نظام زندگی کی پیروی، انفرادی اور اجتماعی زندگی پر اس کی تنفیذ، اس کی تعلیم و تربیت اور اس کی نشرواشاعت کی پابندی کا احساس ابھرتا ہے۔ اور یہ بات بھی ذہن میں آتی ہے کہ یہی درحقیقت وہ چیز ہے جو ہماری بقاء اور فوزوفلاح کی ضامن ہے۔ اور وہ بات یہ ہے کہ تم اجرامِ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 5–6

فہم القرآن ربط کلام : سورة الرحمن میں مرکزی مضمون ” اللہ “ کی قدرتوں اور بڑی بڑی نعمتوں کا بیان ہے، ان میں شمس وقمر بھی شامل ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے شمس و قمر کو اپنی قدرت کی عظیم نشانیوں میں شمار کیا ہے اور انہیں آپس میں اس طرح منضبط اور منسلک کیا ہے کہ سورج اپنی ڈیوٹی دے رہا ہے اور چاند اپنے کام پر لگا ہوا ہے، نہ سورج چاند کے مدار میں داخل ہوسکتا ہے اور نہ چاند سورج کی حدود میں داخل ہوتا ہے۔ (یٰس : 38 تا 40) یہ ایسا مضبوط نظام ہے جس میں کوئی دخل نہیں دے سکتا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اسے اپنی قدرت کی نشانیاں قرار دیا اور فرمایا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ دن کو طویل کردے تو کون ہے جو رات کو لے آئے اور…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

5 : اَلشَّمْسُ وَ الْقَمَرُ بِحُسْبَانٍ (سورج و چاند حساب کے ساتھ چلتے ہیں) ایک مقررہ حساب اور درست اندازے کے مطابق چلتے ہیں۔ ان کا چلنا اپنے بروج و منازل میں ہے اور اس کے چلنے میں مخلوق کے فوائد ہیں۔ ان میں سے ایک سالوں اور حساب کا علم ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

4 ۔” علمہ البیان “ ہر چیز کے نام اور کہا گیا ہے کہ تمام لغات سکھائیں اور آدم (علیہ السلام) سات زبانوں میں کلام کرسکتے تھے۔ ان میں افضل عربی ہے اور دیگر حضرات نے کا ہے کہ الانسان اسم جنس ہے اور اس سے تمام انسان مراد ہیں۔ ” علمہ البیان “ بولنا، لکھنا اور سمجھنا اور سمجھانا۔ حتیٰ کہ جو وہ کہے دوسرے کو سمجھ آئے اور جو اس کو کہا جائے وہ جان لیں۔ یہ ابوالعالیہ، ابن زید اور حسن رحمہم اللہ کا قول ہے اور سدی (رح) فرماتے ہیں ہر قوم کو ان کی زبان سکھائی جس کے ذریعے وہ کلام کریں گے اور ابن کیسان (رح) نے کہا ہے ” خلق الانسان “ یعنی محمد ﷺ کو۔ ” وعلمہ البیان “ جو ہوچکا اور جو آئندہ ہونے والا ہے اس کا بیان۔…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–13

1۔ 13۔ اگرچہ سورة نحل میں گزر چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر اس قدر احسان کئے ہیں کہ ان احسانات اور اس کی نعمتوں کا شکریہ کرنا تو درکنار اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں کا ہر ایک شخص اگر اللہ تعالیٰ کے احسانات اور اس کی نعمت کی گنتی بھی کرنی چاہے تو یہ بات بھی اللہ تعالیٰ کی مخلوق کی طاقت سے باہر ہے لیکن جن و انسان کے فقط یاد دلانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے اس سورة میں اکتیس قسم کی نعمتوں کا ذکر فرمایا ہے اور ہر ایک قسم کی نعمت کے ذکر کے بعد جن و انسان سے تنبیہ کے طور پر یہ پوچھا ہے کہ تم دونوں اللہ تعالیٰ کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤگے۔ مطلب یہ ہے کہ جس اللہ نے انسان کو ‘ انسان کی سب ضرورت کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(اَلشَّمْسُ وَالْقَمَرُ بِحُسْـبَانٍ ) سورج اور چاند ایک حساب سے چلتے ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے سورج اور چاند کو پیدا کیا ان کو مسخر کیا جو بندوں پر رحإت اور ان کے ساتھ عنایت کے طور پر ایک متعین حساب اور مقرر انداز سے چل رہے ہیں نیز اس لیے کہ اللہ ان کے ذریعے سے بندوں کے مصالھ کا انتظام کرتا ہے تاکہ بندے ماہ وسال کی گنتی اور حساب کی معرفت حاصل کرلیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 4–5

[ 3] نعمت نطق و گویائی کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اسی نے اس کو بات کرنا سکھایا۔ تاکہ اس طرح وہ اظہار مافی الضمیر کرسکے اور افادہ و استفادہ کے قابل ہوسکے، یہاں پر انسان خلقت کے بعد سب سے پہلے تعلیم بیان کی نعمت کو ذکر فرمایا گیا، اور اس سے بھی پہلے تعلیم قرآن کی نعمت کو، جس سے معلوم ہوا کہ سب سے بڑی اور سب سے اہم نعمت علم کی نعمت ہے، اور علوم میں سے بھی علم قرآن کی نعمت، سب سے بڑی، اور سب سے اہم نعمت ہے، بہرکیف اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا فرمایا، اور اس کو نطق و گویائی کی قوت سے نوازا، اور اس کو سننے سمجھنے کی صلاحیت بخشی، جس سے وہ خیر اور شر کے درمیان فرق وتمیز کرسکتا ہے، اور اس…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–13

رب جس نے انسان کو پیدا کیا اس کی تمام ضروریات پوری کردیں تشریح :۔ رحمن اللہ کا صفاتی نام ہے اور یہ صفاتی نام پورے قرآن پاک میں تقریبا 55 مقامات پر آیا ہے۔ یہ اس کی رحمن ہونے کی دلیل ہے کہ جو اس نے مخلوقات کو بنایا۔ راہ ہدایت دکھانے کے لیے قرآن نازل فرمایا اور پوری کائنات کو اپنے رحم و کرم سے بھر دیا۔ اس کا رحم و کرم ہر ایک کے لیے برابر ہے۔ چاہے کوئی کافر ہو مسلم ہو، نیک ہو یا بد ہو، متقی ہو یا گنہگار ہو۔ غرض اس کی عنایات سے ہر کوئی فیض یاب ہو رہا ہے۔ اور یہ بھی اس کے رحمن ہونے کا ثبوت ہے کہ اس نے علم سکھایا۔ قرآن پاک جس میں پوری کائنات تمام تخلیقات کے ہر قسم کے علوم بیان کردیے گئے ہیں اور ان…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–25

آیات 1 تا 25۔ اسرار ومعارف۔ وہ ذات بیحد و حساب رحم کرنے والی ہے اور اس کی رحمت ہے کہ اس نے قرآن سکھلایا اپنے نبی پر نازل فرما کر ان خوش نصیبوں کو جنہوں نے آپ سے سیکھا اور ان کے واسطے سے اگلوں کو سکھایا یوں تعلیم قرآن کا سلسلہ ہمیشہ کے لیے جاری فرمایا کہ بنی آدم میں سے جو چاہے اس چشمہ رحمت سے سیراب ہو۔ آخر یہ بھی تو اسی کی رحمت عامہ ہے کہ انسان کو پیدا فرمایا اور اسے زبان دانی بات کرنے کا فن ودیعت فرمایا کہ وہ علم قرآن حاصل کرسکنے کے قابل ہوا۔ قوت گویائی کا اصل مصرف۔ گویاقوت گویائی اور بات کرنے کی صلاحیت کا اصل مصرف علوم قرآن کا حصول اور اس کا آگے پہنچانا ہے باقی سارے فوائد دوسرے درجے میں ہیں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 5 یعنی ایک خاص حساب اور باضابطہ نظام ہے جس میں یہ دونوں عظیم الشان سیارے جکڑے ہوئے ہیں چناچہ ایک خاص وقت میں طلوع اور غروب ہوتے ہیں اور ایک معین راستہ پر چلتے ہیں۔ اسی وجہ سے انسان اس قابل ہوا ہے کہ وقتوں، دنوں تاریخوں اور مومنوں کا حساب رکھ سکے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(55:5) الشمس والقمر بحسبان : ای الشمس والقمر یجریان بحسبان۔ الشمس والقمر مبتدا۔ یجریان خبر (محذوف) بحسبان جار مجرور مل کر متعلق خبر۔ حسبان (باب نصر) مصدر ہے بمعنی حساب لگانا۔ شمار کرنا ۔ جیسے طغیان ، رجحان، غفران، کفران، مطلب یہ کہ سورج اور چاند ایک (سوچے سمجھے) حساب کے مطابق (چل رہے ہیں) ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–25

لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 25 علم اس نے سکھایا۔ البیان بولنا بحسبان ایک حساب سے، ایک طریقے سے۔ النجم بےتنے کے درخت، پودے۔ وضع اس نے رکھا ۔ اس نے بنایا ۔ الاتطفوا یہ کہ تم نہ گھٹائو۔ انام مخلوق۔ الاکمام (کم) غلام، چھلکا ۔ العصف بھوسہ (جانوروں کی غذا) الریحان خوشبودار ۔ الاء (الی) نعمتیں صلصال خشک مٹی جو کھن کھن بجتی ہو۔ الفخار ٹھیکرا۔ الجان جن ، ابو الجنات ۔ مارج شعلہ جس میں دھواں نہ ہو۔ مرج (خوب بہتا ہے) جاری کیا البحرین دوریا، دو سمندر۔ برزخ پردہ، رکاوٹ۔ لا یبغین دونوں کو ملنے نہیں دیتا اللولو موتی۔ المرجان مونگا، سفید موتی۔ المنشئت بلند کئے ہوئے۔ الاغلام (ملم) پہاڑ، جھنڈا اللہ تعالیٰ نے اپنی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 4–5

(ف 3) سورج اور چاند اپنے برجوں اور منزلوں کو حساب سے طے کرتے ہیں جس کے سبب سے دن ورات پیدا ہوکر سال اور مہینہ معلوم ہوتا ہے جس پر لوگوں کے ہزاروں کام منحصر ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[1] یعنی سورج اور چاند اپنی رفتار میں، طلوع و غروب میں، گھٹاؤ اور بڑھاؤ میں ایک ضابطے کے پابند ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 5–16

جنوں کا وجود 1: جن ایک الگ مخلوق ہے ۔ جس کو اللہ تعالیٰ نے آگ سے پیدا کیا ہے ۔ یہی وجہ ہے ۔ ان میں لطافت زیادہ ہے ۔ آج سے پچاس سال قبل تو لوگ اس مخلوق کا انکار کرتے تھے ۔ مگر اب تجربات نے ثابت کردیا ہے ۔ کہ جنات بھی موجود ہیں ۔ اور وہ لوگ جنہوں نے بڑے شدومد سے کہا تھا ۔ کہ یہ محض وہم ہے ۔ اب وہی کہہ رہے ہیں ۔ کہ یہ ایک حقیقت ہے ۔ ہمارے ہاں بعض ایسے جاہل بھی موجود ہیں ۔ جنہوں نے اس وقت کی آواز کو تو سنا تھا ۔ مگر موجودہ وقت کے خیالات سے آگاہ نہیں ۔ وہ اب تک یہ سمجھے بیٹھے ہیں ۔ کہ علماء مغرب کے معتقلات میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ۔ بلکہ وہ اس قدر روشن خیال ہیں ۔ کہ سارا مغرب بھی ان مسائل کا قائل…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(5) سورج اور چاند مقررہ حساب کے ساتھ چلتے ہیں سورج اور چاند کا ایک حساب ہے۔ یعنی مقررہ حساب سے اپنے برجوں اور اپنی منازل میں چلتے ہیں اور ان کے ساتھ بیشمار منافع مخلوق کے وابستہ ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 3–13

ف 5۔ یہ آیت تفریعیہ اس سورت میں اکتیس جگہ آئی ہے اور ہر جگہ الاء کا مصداق جدا ہے، اس لئے یہ تکرار محض نہیں، محض لفظی تشارک ہے اور تکرار ظاہری کیو جہ سے اس میں افادہ تاکید بھی ہے اور اس قسم کا تکرار جو کہ قند مکرر سے شیریں تر ہے عرب کے کلام منثور و منظوم میں بکثرت بلا نکیر مستعمل ہے۔ تکذبان میں خطاب جن و انس کو ہونا ان دلائل سے ہے، قولہ تعالیٰ خلق الانسان و خلق الجان، قولہ تعالیٰ ایہ الثقلان، قولہ تعالیٰ انس قبلھم ولا جان۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

سورج اور چاند ایک مقرر حساب کے پابند ہیں 5۔ (حسبان) حساب ، شمار حسب یحسب کا مصدر ہے۔ دونوں حساب کے کام آتے ہیں ، دونوں اپنے اپنے مدار میں گردش کناں ہیں اور اس طرح نظم وضبط کے پابند ہیں کہ کروڑوں سال گزرنے کے باوجود ان کی آمدورفت میں کبھی ایک سیکنڈ کا فرق نہیں آیا اور نہ ہی ممکن ہوا ہے جو طریقہ ان کے لیے مقرر ہے اس کے پابند ہیں۔ اتنے بڑے اجرام فلکی ہونے کے باوجود کبھی ایک دقیقہ وشائبہ کا فرق بھی ان میں نہیں آیا۔ دنیا میں جتنے حساب جاری ہوئے ہیں اور تاریخیں چل رہی ہیں سب انہیں کی مرہون منت ہیں اس کی مزید وضاحت دیکھنا درکار ہو تو غزوۃ الوثقٰی جلد ہفتم سورة یٰس کی آیت 40 کی تفسیر دیکھیں اور اپنے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Allah's Signs الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ‌ بِحُسْبَانٍ (The sun and the moon are [ bound ] by a [ fixed ] calculation...55:5) This verse draws attention to two of the celestial bodies from among the bounties of Allah. They are especially mentioned presumably because the entire system of this world depends on the movement of these bodies in their orbits in perfect succession, according to precise calculation that is never delayed nor disturbed. The word حُسْبَانٍ husban with dammah [=u ] on the first letter is, according to some lexicologists, used in the sense of hisab, the infinitive, meaning 'to…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

4 That is, "It is a powerful law and unalterable system that binds the great planets together. Man is able to calculate and measure time, days, dates, and crops and seasons only because no change takes place in the rule that Has been laid down for the rising and setting of the sun and of its passing through different stages. The innumerable creatures found on the earth are staying alive only because the sun and the moon have been accurately and precisely placed at particular distances from the earth and any increase or decrease in this distance is made in the right measure, in a particular…

Read the full tafseer →