Ar-Rahmaan 55:4

Ar-Rahmaan · from ayah 4

55:4

عَلَّمَهُ الْبَیَانَ ۟عَلَّمَهُ الۡبَيَانَ

اسی نے اس کو بولنا سکھایا

— Fateh Muhammad Jalandhari

[And] taught him eloquence.

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 1 of surah · Ruku 11 of juz

Read the whole surah · Surah Ar-Rahmaan

All translations of 55:4

اسی نے اس کو بولنا سکھایا

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور اسے بولنا سکھایا

— مولانا محمد جوناگڑہی

اسی نے اس کو واضح کرنا سکھایا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

ما کان وما یکون کا بیان انہیں سکھایا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اسی نے اِسے (یعنی نبیِ برحق صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مَا کَانَ وَ مَا یَکُونُ کا) بیان سکھایا٭، ٭ مفسرین کرام نے بیان کا معنی علمِ مَا کَانَ وَ مَا یَکُونُ بھی بیان کیا ہے۔ حوالہ جات کے لئے ملاخطہ کریں: تفسیر بغوی، خازن، جمل، المظہری، اللباب، زاد المسیر، صاوی، السراج المنیر اور مجمع البیان۔

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اسے بات کرنا سکھایا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

(پھر) اسے اظہار مطلب سکھایا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اسے بات کرنا سکھایا

— مولانا اسحاق مدنی

اس کو بیان سکھایا۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اسی نے اس کو بولنا سکھایا

— محترمہ رفعت اعجاز

and has taught him articulate speech.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

He has taught him (how) to express himself.

— Muhammad Taqi Usmani

He has taught him (how) to express himself.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

He taught him Al-Bayan.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

[And] taught him eloquence.

— Saheeh International

and has taught him intelligible speech.

— Muhammad Sarwar

Taught him the mode of expression.

— Muhammad Habib Shakir

He taught distinctness.

— Abdul Majid Daryabadi

He has taught him speech (and intelligence).

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 55:4

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–13

انسان پر اللہ تعالیٰ کے احسانات کی ایک جھلک اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کاملہ کا بیان فرماتا ہے کہ اس نے اپنے بندوں پر قرآن کریم نازل فرمایا اور اپنے فضل و کرم سے اس کا حفظ کرنا بالکل آسان کردیا اسی نے انسان کو پیدا کیا اور اسے بولنا سکھایا۔ قتادہ وغیرہ کہتے ہیں بیان سے مراد خیر و شر ہے لیکن بولنا ہی مراد لینا یہاں بہت اچھا ہے۔ حضرت حسن کا قول بھی یہی ہے اور ساتھ ہی تعلیم قرآن کا ذکر ہے جس سے مراد تلاوت قرآن ہے اور تلاوت موقوف ہے بولنے کی آسانی پر ہر حرف اپنے مخرج سے بےتکلف زبان ادا کرتی رہتی ہے خواہ حلق سے نکلتا ہو خواہ دونوں ہونٹوں کے ملانے سے مختلف، مخرج اور مختلف قسم کے حروف کی ادائیگی اللہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الرَّحْمٰن 3 اصل میں لفظ بیان استعمال ہوا ہے۔ اس کے ایک معنی تو اظہار ما فی الضمیر کے ہیں، یعنی بولنا اور اپنا مطلب و مدعا بیان کرنا۔ اور دوسرے معنی ہیں فرق و امتیاز کی وضاحت، جس سے مراد اس مقام پر خیر و شر اور بھلائی اور برائی کا امتیاز ہے۔ ان دونوں معنوں کے لحاظ سے یہ چھوٹا سا فقرہ اوپر کے استدلال کو مکمل کردیتا ہے۔ بولنا وہ امتیازی وصف ہے جو انسان کو حیوانات اور دوسرے ارضی مخلوقات سے ممیز کرتا ہے۔ یہ محض قوت ناطقہ کام نہیں کرسکتی۔ اس لیے بولنا دراصل انسان کے ذی شعور اور ذی اختیار مخلوق ہونے کی صریح علامت ہے۔ اور یہ امتیازی وصف جب اللہ تعالیٰ نے انسان کو عطا فرمایا ہے تو ظاہر ہے کہ اس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 3–4

خَلَقَ الْاِنْسَانَ ، عَلَّمَهُ الْبَيَانَ ، انسان کی تخلیق خود حق تعالیٰ کی ایک بڑی نعمت ہے، اور ترتیب طبعی کے اعتبار سے وہی سب سے مقدم ہے، یہاں تک کہ تعلیم قرآن جس کو پہلے ذکر کیا گیا ہے وہ بھی ظاہر ہے کہ تخلیق کے بعد ہی ہو سکتی ہے، مگر قرآن حکیم نے نعمت تعلیم قرآن کو مقدم اور تخلیق انسان کو موخر کر کے اس طرف اشارہ کردیا کہ تخلیق انسان کا اصل مقصد ہی تعلیم قرآن اور اس کے بتائے ہوئے راستہ پر چلنا ہے، جیسا کہ دوسری آیت میں ارشاد ہے، وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ " یعنی میں نے جن وانس کو صرف اسی لئے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کیا کریں " اور ظاہر ہے کہ عبادت بغیر…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 3–4

(خلق الانسان علمہ البیان) (3۔ 4) (انسان کی فطرت مقتضی تھی کہ اس کی ہدایت کے لیے قرآن نازل ہوا)۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی رحمانیت کے تقاضے کے ساتھ ساتھ انس کی خلقت اور اس کی صفات کا تقاضا بھی یہی ہوا کہ اس کی رہنمائی کے لیے صحیفہ ہدایت اترے نہ کہ تازیانہ عذاب۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا اور اس کو نطق و گویائی کی تعلیم دی۔ یہ گویائی اس بات کی شہادت ہے کہ خالق نے اس کو ایک عاقل و مدرک ہستی بنایا ہے۔ دو بات سننے اور سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اس کی خیر و شر میں امتیاز کرسکتا ہے اور دوسروں تک بھی اس کو پہنچا اور ان کو سمجھا سکتا ہے۔ جب ان گوناگوں صلاحیتوں سے وہ آراستہ ہے تو اس کے صاف معنی یہ ہیں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

4۔ 3 اس بیان سے مراد ہر شخص کی اپنی مادری بولی ہے جو بغیر سیکھے از خود ہر شخص بول لیتا اور اس میں اپنے مافی الضمیر کا اظہار کرلیتا ہے، حتیٰ کے وہ چھوٹا بچہ بھی بول لیتا ہے، جس کو کسی بات کا علم اور شعور نہیں ہوتا۔ یہ تعلیم الٰہی کا نتیجہ ہے جس کا ذکر اس آیت میں ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 1–5

1: مشرکین مکہ اللہ تعالیٰ کے نام رحمن کو نہیں مانتے تھے، وہ کہتے تھے کہ ہم نہیں جانتے رحمن کیا ہوتا ہے ؟ جیسا کہ سورة فرقان (25۔ 60) میں گزرا ہے، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ رحمن کے نام سے ان لوگوں کو چڑ تھی، وہ اس لئے کہ اگر ہر طرح کی رحمت اللہ تعالیٰ ہی کے ساتھ خاص مان لی جائے تو پھر ان من گھڑت خداؤں کے حصے میں کچھ نہیں آتا جن سے یہ لوگ اپنی مرادیں مانگا کرتے تھے، اور اس طرح اللہ تعالیٰ کو رحمن مان لینے سے خود بخود ان کے شرک کی نفی ہوجاتی ہے، اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ رحمن اسی اللہ تعالیٰ کا نام جس کی رحمتوں سے یہ ساری کائنات بھری ہوئی ہے، اس کے سوا کوئی نہیں جو تمہیں رزق، اولاد یا…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 3–4

خلق الانسان (55: 3) علمہ البیان (55:4) (انسان کو پیدا کیا اور اسے بولنا سکھایا) ہم یہاں انسان کی تخلیق کی نعمت پر کلام نہیں کرتے۔ جلد ہی سورة میں یہ بیان آئے گا۔ یہاں اصل مقصود تعلیم بیان ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ انسان بات کرتا ہے۔ مافی الضمیر کی تعبیر کرتا ہے۔ بیان کرتا ہے ایک دوسرے کی بات سمجھتا ہے اور پھر انسان باہم تعاون کرتے ہیں۔ یہ کام چونکہ ہر وقت ہمارے درمیان ہوتا رہتا ہے اس لئے اللہ کی اس نعمت عظمیٰ کو ہم نے بھلا دیا ہے ورنہ ذرا بھی غور کیا جائے تو یہ ایک عجوبہ ہے۔ قرآن ایسی کئی نعمتوں کی یاد دہانی کراتا ہے ہمیں جگاتا ہے۔ انسان کیا چیز ہے ؟ اس کی اصلیت کیا ہے ؟ اسے یہ بیان کس طرح سکھا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 3–4

6 " ایجاد " (وجود عطا فرمانا) اللہ کی بڑی نعمت بلکہ نعمتوں کی جڑ ہے اس کی دو قسمیں ہیں، ایجاد ذات، اور ایجاد صفت تو اللہ تعالیٰ نے آدمی کی ذات کو پیدا کیا اور اس میں علم بیان کی صفت بھی رکھی۔ یعنی قدرت دی کہ اپنے مافی الضمیر کو نہایت صفائی اور حسن و خوبی سے ادا کرسکے اور دوسروں کی بات سمجھ سکے۔ اسی صفت کے ذریعہ سے وہ قرآن سیکھتا سکھاتا ہے۔ اور خیر و شر، ہدایت و ضلالت، ایمان و کفر اور دنیا و آخرت کی باتوں کو واضح طور پر سمجھتا اور سمجھاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 4 { عَلَّمَہُ الْبَیَانَ۔ } ”اس کو بیان سکھایا۔“ یعنی اسے بولنا سکھایا ‘ اسے گویائی کی صلاحیت بخشی۔ آیات زیر مطالعہ کے حوالے سے یہاں چوتھا اہم نکتہ یہ ہے کہ انسان کی صلاحیتوں میں سے جو چوٹی کی صلاحیت ہے وہ قوت بیان گویائی ہے۔ آج میڈیکل سائنس کی تحقیق سے ہمیں معلوم ہوا ہے کہ انسان کی قوت گویائی کا تعلق اس کے دماغ کی خصوصی بناوٹ سے ہے۔ سائنس کی زبان میں تو انسان بھی حیوان ہی ہے ‘ لیکن اس کے بولنے کی صلاحیت کی وجہ سے اسے حیوانِ ناطق بولنے والا حیوان کہا گیا ہے۔ دماغ تو ظاہر ہے انسان سمیت تمام جانوروں میں موجود ہے ‘ لیکن ہر جانور کے دماغ کی بناوٹ اور صلاحیت مختلف ہے۔ اس لحاظ سے انسان کا دماغ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

3 اللہ تعالیٰ کا انسان پر مزید احسان یہ ہے کہ اسے قوت گویائی عطا کی جس سے وہ اپنے مافی الضمیر کا پوری طرح اظہار کرسکتا ہے۔ پھر اس قوت گویائی یا قوت بیان کا انحصار اور بہت سی قوتوں پر ہے مثلاً بینائی، سماعت، عقل و فہم، قوت تمیز اور ارادہ و اختیار۔ ان میں سے ہر ایک قوت ایک عظیم نعمت ہے اور اظہار بیان کے لیے یہ سب قوتیں یا ان میں سے اکثر ناگزیر ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 3–4

2۔ نطق وبیان کی نعمت تکوینی حیثیت سے بہت بڑی نعمت ہے۔ انسانیت کیلئے بھی مایہ شرف اور حیوانیت و انسانیت کے درمیان یہی فارق ہے۔ منطقیوں اور فلسفیوں نے انسان کی تعریف ہی جو حیوان ناطق سے کی ہے وہ سب اسی جانت مشیر ہے۔ (آیت) ” خلق الانسان “۔ انسان کا مقصد تخلیق چونکہ اسلام میں بہترین وبرترین اخروی نعمتوں سے سرفراز ہونا ہے اس لئے انسان کا خلعت وجود سے مشرف ہونا بجائے خود ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ دو لفظی آیت سے اور بھی متعدد تعلیمات نکلتی ہیں :۔ (1) ایک یہ کہ انسان خود بخود وجود میں نہیں آگیا۔ کسی کا پیدا کیا ہوا ہے۔ (2) پیدا کیا ہوا بھی خدائے رحمن کا ہے۔ اس لئے اس کی خلقت سرتاسر رحمت و حکمت ہی کا ثمرہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

علمہ البیان بیان سکھلانے کا مطلب ہے اظہار مافی الضمیر کا طریقہ سکھلایا، ہر شخص اپنی مادری زبان میں اپنے مافی الضمیر کو بغیر سکھلائے خود بخود دادا کرلیتا ہے یہی تعلیم الٰہی کا نتیجہ ہے جس کا اس آیت میں ذکر ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

علمہ البیان (پھر) اس کو گویائی سکھائی۔ “ خَلَقَ الْاِنْسَانَ عَلَّمَہُ الْبَیَانَ : حضرت ابن عباس ؓ اور قتادہ ؓ کے نزدیک الانسان سے مراد حضرت آدم ہیں۔ اللہ نے حضرت آدم کو تمام چیزوں کے نام سکھا دیئے تھے۔ آپ سات لاکھ زبانیں جن میں سے سب سے افضل و اعلیٰ عربی زبان تھی ‘ جانتے تھے۔ ابو العالیہ اور حسن نے کہا : الانسان سے جنس انسان مراد ہے۔ اللہ نے انسان کو بولنا ‘ لکھنا ‘ سمجھنا ‘ سمجھانا (اور فہم و ادراک) عطا کیا کہ وہ دوسرے جانوروں سے ممتاز ہوگیا اور وحی کو برداشت کرنے اور حامل قرآن بننے کے قابل ہوگیا۔ سدی نے کہا : اللہ نے ہر قوم کو اس کی زبان سکھا دی۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ الانسان سے مراد رسول…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 4–5

(4۔ 5) اور پھر اس کے حکم سے اپنی منزلوں پر چاند و سورج حساب کے ساتھ چلتے ہیں یا یہ کہ آسمان و زمین کے درمیان معلق ہیں یا یہ کہ ان پر حساب ہے اور انسانوں کی مدتوں کی طرح ان کا بھی ایک وقت مقرر ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

عَلَّمَہُ الْبَیَانَ : سکھانے میں بہت سی چیزیں شامل ہیں ، یعنی اس میں بیان کی صلاحیت رکھتی ، اسے اپنے مطلب کے اظہار کے لیے مختلف زبانوں کے الفاظ وضع کرنے اور ان کے استعمال کا سلیقہ بخشا ، جس سے ہزاروں زبانیں وجود میں آئیں اور اسے قدرت دی کہ اپنا ما فی الضمیر نہایت وضاحت اور حسن و خوبی کے ساتھ ادا کرسکے اور دوسروں کی بات سمجھ سکے۔ اپنی اس صفت کی بدولت وہ خیر و شر ، ہدایت و ضلالت ، ایمان و کفر اور دنیا و آخرت کی باتیں سمجھتا اور سمجھاتا اور اس کو کام میں لا کر فائدع اٹھاتا ہے۔ مزید دیکھئے سورة ٔ بقرہ کی آیت (31) (وَعَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَآئَ کُلَّھَا) اور سورة ٔ روم کی آیت (22) (وَاخْتِـلَافُ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 1–5

الرحمٰن۔ علم القرآن۔ سعید بن جبیر اور عامر شعبی نے کہا، الرحمٰن تین سورتوں کا آغاز ہے جب سب کو جمع کیا جائے تو وہ مل کر اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک نام بن جاتا ہے الر، حم اور ن۔ ان تینوں کا مجموعہ الرحمٰن بنتا ہے۔ علم القرآن اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو قرآن کی تعلیم دی یاں تک کہ آپ ﷺ نے اسے تمام انسانوں تک پہنچایا۔ یہ اس وقت آیات نازل ہوئیں جب انہوں نے یہ کہا : الرحمٰن ؟ رحمٰن کیا ہوتا ہے ؟ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ اہل مکہ کے جواب میں نازل ہوئیں جب انہوں نے یہ ہاک تھا : اسے ایک انسان سکھاتا ہے وہ یمامہ کا رحمان ہے۔ وہ اس سے مسلیمہ کذاب مراد لیتے تو اللہ تعالیٰ نے ان آیات کو نازل فرمایا۔…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–4

1:۔ النحاس نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة الرحمن مکہ میں نازل ہوئی۔ 2:۔ ابن مردویہ (رح) نے عبداللہ بن زبیر ؓ سے روایت کیا کہ سورة الرحمن مکہ میں نازل ہوئی۔ 3:۔ ابن مردویہ (رح) نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ سورة الرحمن مکہ میں نازل ہوئی۔ 4:۔ ابن الضریس وابن مردویہ (رح) اور بیہقی (رح) نے دلائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة الرحمن مدینہ طیبہ میں نازل ہوئی۔ 5:۔ احمد وابن مردویہ (رح) نے سند حسن کے ساتھ اسماء بنت ابی بکر ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ پڑھتے ہوئے سنا اور آپ رکن کے قریب نماز پڑھ رہے تھے اور مشریکن سن رہے تھے اور جب آپ کو حکم دیا گیا کہ آپ اس کا کھلم کھلا اعلان کریں…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 3–4

بیان کرنے کی نعمت ﴿خَلَقَ الْاِنْسَانَۙ003 عَلَّمَهُ الْبَيَانَ 004﴾ اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا فرمایا اسے بڑی بڑی نعمتیں عطا فرمائیں انہی نعمتوں میں سے یہ بھی ہے کہ ا سے علم دیا، بولنے کی صفت سے نوازا، بات کرنے کا طریقہ بتایا، بیان کرنے کی صفت عطا فرمائی، اظہار مافی الضمیر پر قدرت دی، فصاحت اور بلاغت سکھائی اسالیب کلام کا القاء فرمایا قرآن کریم کے الفاظ اور معانی اور احکام و مسائل بیان کرنے اور دوسروں کو اس کے مفاہیم بتانے اور قرآن مجید کے علاوہ بھی ایک دوسرے سے بولنے اور بات کرنے اور لکھنے اور سمجھانے پر قدرت عطا فرمائی۔ پھر ایک ہی زبان نہیں اسے بہت سی زبانیں سکھائیں اور طرق ادا بتائے،…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–25

انعامات رب جلیل بر انسان بعطاء وصف بیان وتعلیم قرآن وفیضان نعماء جسمانیہ وروحانیہ : قال اللہ تعالیٰ : الرحمن علم القرآن ...... الی ...... فبای الآء ربکما تکذبن “۔ (ربط) سورة قمر میں دلائل نبوت اور معجزات عظیمہ کا بیان تھا اور امم سابقہ کے احوال ذکر فرمائے گئے کہ کس طرح انہوں نے اپنے پیغمبروں کا انکار کیا اور ان پر ایمان نہ لائے جس کے باعث عذاب خداوندی سے انکو ہلاک وبرباد کردیا گیا جس سے مقصود اہل مکہ کو متنبہ کرنا تھا کہ وہ ان احوال وواقعات کو سوچ کر اپنے انجام کے بارے میں بھی خود فیصلہ کرلیں تو اس کے بعد حق تعالیٰ شانہ نے ان انعامات خاصہ کا ذکر فرمایا جو انسان پر کئے گئے ان انعامات میں…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 1–4

2:۔ ” الرحمٰن۔ تا۔ والریحان “ اللہ کی وحدانیت کا بیان ہے جس نے یہ سب کچھ پیدا کیا اور یہ ساری نعمتیں عطاء کیں وہی کارساز اور برکات دہندہ ہے۔ یہ صفت اللہ تعالیٰ کی رحمت عامہ پر دلالت کرتی ہے۔ ایسی رحمت عامہ جس میں مومن و کافر اور دشمن و دوست کے درمیان کوئی امتیاز نہ ہو چناچہ الرحمن کے بعد جن انعامات کا ذکر ہے وہ سب کیلئے مشترک ہیں اور ان کے ذکر میں ایک خاص ترتیب ملحوظ ہے۔ تمام علویات و سفلیات کا خالق ومالک وہی ہے اور یہ سارے انعامات بھی اسی کی طرف سے ہیں اس لیے دونوں کو ساتھ ساتھ یکے بعد دیگرے ذکر فرمایا۔ ” الرحمن، علم القران “ یہ توحید پر پہلی عقلی دلیل ہے۔ اس بادشاہ نے جو بڑا ہی مہربان ہے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–13

نام اور کوائف اس سورة مبارکہ کا نام سورة الرحمن ہے جو اس کے پہلے لفظ سے ماخوذ ہے صرف ایک آیت کے سوا یہ ساری سورة مکی دور میں نازل ہوئی اس سورة کی اٹھہتر آیات اور تین رکوع ہیں اور یہ سورة 351 الفاظ اور 1636 حروف پر مشتمل ہے۔ مضامین سورة مکی سورتوں میں عام طور پر بنیادی عقائد ہی کا ذکر ہے۔ ان سورتوں میں احکام کا سلسلہ حال ہے۔ مکی دور میں چونکہ اسلامی معاشرہ کی بنیاد ہی نہیں رکھی جاسکی تھی ، لہٰذا اس دوران زیادہ تر اخلاق اور عقائد کی اصلاح پر توجہ دی گئی ہے چناچہ اس سورة مبارکہ میں بھی یہی پہلو غالب ہے۔ اس زمانے میں عرب میں شرک کی مختلف قسمیں رائج تھیں یا بالکل کفر تھا۔ اللہ نے مکی سورتوں میں…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

عَلَّمَہُ الْبَيَانَ۝ 4 البیان البیان يكون علی ضربین : أحدهما بالتسخیر، وهو الأشياء التي تدلّ علی حال من الأحوال من آثار الصنعة . والثاني بالاختبار، وذلک إما يكون نطقا، أو کتابة، أو إشارة . فممّا هو بيان بالحال قوله : وَلا يَصُدَّنَّكُمُ الشَّيْطانُ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ [ الزخرف/ 62] ، أي : كونه عدوّا بَيِّن في الحال . تُرِيدُونَ أَنْ تَصُدُّونا عَمَّا كانَ يَعْبُدُ آباؤُنا فَأْتُونا بِسُلْطانٍ مُبِينٍ [إبراهيم/ 10] . وما هو بيان بالاختبار فَسْئَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لا تَعْلَمُونَ بِالْبَيِّناتِ وَالزُّبُرِ وَأَنْزَلْنا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ ما…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–8

ترکیب : الرحمٰن ذھب قوم الی انھا ایۃ فالمبتداء محذوف تقدیرہ اللہ الرحمن۔ وعلیٰ قول الاخرین الرحمن مبتداء ومابعدہ الخبر۔ خلق الانسان مستانف وکذا علمہ و یمکن ان یکون حالامن الانسان وقدمحذوف۔ بحسبان قال الاخفش الحسبان جماعۃ الحساب مثل شھب وشھبان۔ وقیل مصدر مفرد بمعنی الحساب کا لغفران والکفران۔ والجار یتلق بیجریان محذوف۔ والسماء منصوب بفعل محذوف یفسرہ المذکور الاتطغوا لئلاتطغوا فلا نافیہ وتطغوامنصوب بان وقبلھا الام العلۃ مقدرۃ وقیل ان مفسرۃ لان فی الوضع معنی القول۔ تفسیر : جمہور کے نزدیک یہ سورة مکہ میں نازل ہوئی ہے جیسا کہ حسن و عروہ و عکرمہ و جابر و ابن عباس ؓ کا قول ہے اور ابن مسعود و مقاتل ؓ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 3–4

خَلَقَ الْاِنْسَانَ ۔ عَلَّمَہُ الْبَیَانَ ۔ (الرحمن : 3، 4) (اسی نے انسان کو پیدا کیا۔ اور اسے گویائی سکھائی۔ ) تخلیقِ انسان کا تقاضا انسان کی ہدایت ہے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی ایک ایسی صفت کا ذکر فرمایا ہے جسے اہل عرب تسلیم کرتے تھے، لیکن اسے تسلیم کرنے کے بعد اس سے جو تقاضے پیدا ہوتے ہیں ان پر کان دھرنے کو تیار نہ تھے۔ ان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ جب تم اللہ تعالیٰ کو اپنا خالق مانتے ہو تو تمہیں یہ بات کیوں سجھائی نہیں دیتی کہ جو کسی چیز کو تخلیق کرتا ہے اس پر لازم ہے کہ وہ اپنی مخلوق کو وہ راستہ بتائے جس سے وہ اپنے مقصدوجود کو پورا کرسکے۔ اور اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 3–4

فہم القرآن ربط کلام : الرّحمن نے ہی انسان کو پیدا کیا اور اسی نے اسے بولنا سکھایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو صرف پیدا ہی نہیں کیا بلکہ پیدا کرنے سے پہلے اس کے لیے آسمان کو چھت بنایا اور زمین کو فرش بنا کر اس کی ضروریات کا بندوبست فرمایا اور پھر اسے بولنے کا سلیقہ سمجھایا۔ قرآن مجید نے انسان کی تخلیق کا بڑی تفصیل کے ساتھ ذکر کیا ہے۔ پہلے الانسان حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے مختلف مراحل سے گزار کر نہ صرف کامل اور اکمل انسان بنایا بلکہ مسجود ملائکہ کا اعزاز دے کر زمین پر خلافت کے منصب پر فائز کیا اور چار قسمیں اٹھا کر ارشاد فرمایا کہ ہم نے انسان کو بہترین شکل و صورت کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

سب سے بلند نعمت : 4 : عَلَّمَہُ الْبَیَانَ اللہ تعالیٰ نے اپنے انعامات کا شمار فرمایا تو چاہا کہ ان میں سے سب سے مقدم، سابق اور اقسام نعم میں عمدہ ترین کو پہلے ذکر کیا جائے چناچہ دین والی نعمت کو سب سے مقدم ذکر کیا۔ اور پھر دینی نعمتوں میں سب سے زیادہ فائق اور بلند مرتبہ والی نعمت قرآن کو شمار فرمایا۔ قرآن کا اتارنا، تعلیم قرآن یہ سب نعمتیں ہیں۔ کیونکہ قرآن تمام وحی کے ذریعہ نازل کردہ کتابوں سے مرتبہ و مقام میں اعلیٰ ترین اور اثر پذیری میں بھی سب سے بڑھ کر موثر ہے یہ آسمانی کتابوں کی چوٹی اور سب کی مصدق اور ٹھپہ ہے۔ پہلے قرآن کا ذکر کیا پھر تخلیق انسانی کا ذکر کیا اس سے یہ بتلا دیا کہ انسان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

3 ۔” خلق الانسان “ یعنی آدم (علیہ السلام) اس کو ابن عباس ؓ اور قتادہ (رح) نے کہا ہے ۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–13

1۔ 13۔ اگرچہ سورة نحل میں گزر چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر اس قدر احسان کئے ہیں کہ ان احسانات اور اس کی نعمتوں کا شکریہ کرنا تو درکنار اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں کا ہر ایک شخص اگر اللہ تعالیٰ کے احسانات اور اس کی نعمت کی گنتی بھی کرنی چاہے تو یہ بات بھی اللہ تعالیٰ کی مخلوق کی طاقت سے باہر ہے لیکن جن و انسان کے فقط یاد دلانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے اس سورة میں اکتیس قسم کی نعمتوں کا ذکر فرمایا ہے اور ہر ایک قسم کی نعمت کے ذکر کے بعد جن و انسان سے تنبیہ کے طور پر یہ پوچھا ہے کہ تم دونوں اللہ تعالیٰ کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤگے۔ مطلب یہ ہے کہ جس اللہ نے انسان کو ‘ انسان کی سب ضرورت کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(عَلَّمَهُ الْبَيَانَ ) یعنی اسے ما فی الضمر کو بیان کرنا سکھایا اور یہ تعلیم نطقی اور تعلیم خطی دونوں کو شامل ہے مافی الضمیر کا بیان جس کی بنا پر آدمی کو اللہ تعالیٰ نے دیگر مخلوقات پر امتیاز بخشا، اس کا شمار اللہ کی سب سے بڑی جلیل ترین نعمتوں میں ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 4–5

[ 3] نعمت نطق و گویائی کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اسی نے اس کو بات کرنا سکھایا۔ تاکہ اس طرح وہ اظہار مافی الضمیر کرسکے اور افادہ و استفادہ کے قابل ہوسکے، یہاں پر انسان خلقت کے بعد سب سے پہلے تعلیم بیان کی نعمت کو ذکر فرمایا گیا، اور اس سے بھی پہلے تعلیم قرآن کی نعمت کو، جس سے معلوم ہوا کہ سب سے بڑی اور سب سے اہم نعمت علم کی نعمت ہے، اور علوم میں سے بھی علم قرآن کی نعمت، سب سے بڑی، اور سب سے اہم نعمت ہے، بہرکیف اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا فرمایا، اور اس کو نطق و گویائی کی قوت سے نوازا، اور اس کو سننے سمجھنے کی صلاحیت بخشی، جس سے وہ خیر اور شر کے درمیان فرق وتمیز کرسکتا ہے، اور اس…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–13

رب جس نے انسان کو پیدا کیا اس کی تمام ضروریات پوری کردیں تشریح :۔ رحمن اللہ کا صفاتی نام ہے اور یہ صفاتی نام پورے قرآن پاک میں تقریبا 55 مقامات پر آیا ہے۔ یہ اس کی رحمن ہونے کی دلیل ہے کہ جو اس نے مخلوقات کو بنایا۔ راہ ہدایت دکھانے کے لیے قرآن نازل فرمایا اور پوری کائنات کو اپنے رحم و کرم سے بھر دیا۔ اس کا رحم و کرم ہر ایک کے لیے برابر ہے۔ چاہے کوئی کافر ہو مسلم ہو، نیک ہو یا بد ہو، متقی ہو یا گنہگار ہو۔ غرض اس کی عنایات سے ہر کوئی فیض یاب ہو رہا ہے۔ اور یہ بھی اس کے رحمن ہونے کا ثبوت ہے کہ اس نے علم سکھایا۔ قرآن پاک جس میں پوری کائنات تمام تخلیقات کے ہر قسم کے علوم بیان کردیے گئے ہیں اور ان…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–25

آیات 1 تا 25۔ اسرار ومعارف۔ وہ ذات بیحد و حساب رحم کرنے والی ہے اور اس کی رحمت ہے کہ اس نے قرآن سکھلایا اپنے نبی پر نازل فرما کر ان خوش نصیبوں کو جنہوں نے آپ سے سیکھا اور ان کے واسطے سے اگلوں کو سکھایا یوں تعلیم قرآن کا سلسلہ ہمیشہ کے لیے جاری فرمایا کہ بنی آدم میں سے جو چاہے اس چشمہ رحمت سے سیراب ہو۔ آخر یہ بھی تو اسی کی رحمت عامہ ہے کہ انسان کو پیدا فرمایا اور اسے زبان دانی بات کرنے کا فن ودیعت فرمایا کہ وہ علم قرآن حاصل کرسکنے کے قابل ہوا۔ قوت گویائی کا اصل مصرف۔ گویاقوت گویائی اور بات کرنے کی صلاحیت کا اصل مصرف علوم قرآن کا حصول اور اس کا آگے پہنچانا ہے باقی سارے فوائد دوسرے درجے میں ہیں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 3–4

ف 4 یعنی اس قدرت دی کہ اپنے ماضی الضمیر کو نہایت وضاحت اور حسن و خوبی کے ساتھ ادا کرسکے اور دوسروں کی بات سمجھ سکے اپنی اس صفت کی بدولت وہ خیر و شر ہدایت و ضلالت ایمان و کفر کی بدولت وہ خیر و شر ہدایت و ضلالت ایمان و کفر اور دنیا و آخرت کی باتیں سمجھتا اور سمجھاتا ہے اور اسی کو کام میں لا کر فائدہ اٹھاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(55:4) علمہ۔ میں ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب کا مرجع الانسان ہے۔ البیان مفعول ثانی علم فعل کا بولنا۔ مصدر ہے ۔ کسی چیز کے متعلق کھولنے اور واضح کرنے کا نام ” بیان “ ہے۔ بیان ۔ نطق سے عام ہے اور نطق خاص ہے۔ اور کبھی جس چیز کے ذریعہ بیان کیا جاتا ہے چناچہ کلام اول معنی ہی کے اعتبار سے بیان کہلاتا ہے ۔ چناچہ کلام اول معنی کے اعتبار سے ہی بیان کہلاتا ہے کیونکہ وہ معنی مقصود کو کھولتا اور ظاہر کردیتا ہے۔ اور مجمل و مبہم کلام کی شرح کو دوسرے معنوں کے اعتبار سے بیان کہتے ہیں ۔ ھذا بیان للناس (3:138) یہ لوگوں کے لئے بیان ہے۔ اول معنی کی مثال ہے اور ثم ان علینا بیانہ (75:19) ہمارے ذمہ اس کا بیان کرنا…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–25

لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 25 علم اس نے سکھایا۔ البیان بولنا بحسبان ایک حساب سے، ایک طریقے سے۔ النجم بےتنے کے درخت، پودے۔ وضع اس نے رکھا ۔ اس نے بنایا ۔ الاتطفوا یہ کہ تم نہ گھٹائو۔ انام مخلوق۔ الاکمام (کم) غلام، چھلکا ۔ العصف بھوسہ (جانوروں کی غذا) الریحان خوشبودار ۔ الاء (الی) نعمتیں صلصال خشک مٹی جو کھن کھن بجتی ہو۔ الفخار ٹھیکرا۔ الجان جن ، ابو الجنات ۔ مارج شعلہ جس میں دھواں نہ ہو۔ مرج (خوب بہتا ہے) جاری کیا البحرین دوریا، دو سمندر۔ برزخ پردہ، رکاوٹ۔ لا یبغین دونوں کو ملنے نہیں دیتا اللولو موتی۔ المرجان مونگا، سفید موتی۔ المنشئت بلند کئے ہوئے۔ الاغلام (ملم) پہاڑ، جھنڈا اللہ تعالیٰ نے اپنی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 4–5

(ف 3) سورج اور چاند اپنے برجوں اور منزلوں کو حساب سے طے کرتے ہیں جس کے سبب سے دن ورات پیدا ہوکر سال اور مہینہ معلوم ہوتا ہے جس پر لوگوں کے ہزاروں کام منحصر ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–4

سورة الرحمن 1: جیسا کہ سورة کے نام ظے ظاہر ہے ۔ اس میں اللہ تعالیٰ کے فیوض رحمت کو تفصیل کے ساتھ بیان فرمایا ہے ۔ اور انسانی ذہن وفکر کو متوجہ کیا ہے ۔ کہ اللہ کے بوقلمون انعامات پر نظر رکھے ۔ اور اس کی شان رحمانیت کو سارے عالم میں جلوہ دیکھے ۔ فرمایا : کہ اس فیوض میں سے سب سے بڑا فیض قرآن ہے ۔ جس کی روشنی اور برکات سے کائنات عقل وخرد میں توازن قائم ہے ۔ اس نے جب انسان کو پیدا کیا ۔ اور اس کو قوت گویائی سے بہرہ مند کیا ۔ تو مقصد یہی تھا ۔ کہ یہ اللہ کے پیغام دنیا کے کناروں تک پہنچائے ۔ اس اعلیٰ فیض سے سارے عالم کو مشرف کرلے ۔ اور بیان اظہار کی قوتوں کو اس کی تفصیلات کی اشاعت کے لئے وقف…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(4) اسی نے انسان کو بولنا اور کلام کرنا سکھایا جس طرح اوپر کی سورت میں مختلف قوموں کو عذاب کرنے کا ذکر تھا اسی طرح اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمتوں کا ذکر فرمایا ہے اگرچہ قوموں کی ہلاکت اور عذاب کا ذکر بھی ہدایت کا سبب ہونے کی وجہ سے نعمت ہی ہے اس سورت میں بھی انعامات و احسانات کے ساتھ بعض جگہ جہنم کا ذکر فرمایا وہ ذکر بھی بعض اعتبار سے نعمت ہی ہے اور چونکہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے سب سے بڑی نعمت قرآن اور اس کی تعلیم ہے اس لئے اس کو مقدم فرمایا اور چونکہ مکہ عام طور سے رحمن کے نام پر الجھتے تھے اور کہا کرتے تھے رحمان کون ہے ہم رحمان کو نہیں جانتے۔ اس لئے اس سورت کو حضرت حق تعالیٰ کے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 3–13

ف 5۔ یہ آیت تفریعیہ اس سورت میں اکتیس جگہ آئی ہے اور ہر جگہ الاء کا مصداق جدا ہے، اس لئے یہ تکرار محض نہیں، محض لفظی تشارک ہے اور تکرار ظاہری کیو جہ سے اس میں افادہ تاکید بھی ہے اور اس قسم کا تکرار جو کہ قند مکرر سے شیریں تر ہے عرب کے کلام منثور و منظوم میں بکثرت بلا نکیر مستعمل ہے۔ تکذبان میں خطاب جن و انس کو ہونا ان دلائل سے ہے، قولہ تعالیٰ خلق الانسان و خلق الجان، قولہ تعالیٰ ایہ الثقلان، قولہ تعالیٰ انس قبلھم ولا جان۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اللہ تعالیٰ ہی نے انسان کو بولنا اور بیان کرنا سکھایا ہے 4۔ انسان کے جسم کے اندر جو قویٰ اللہ تعالیٰ نے دریعت کیے ہیں ان ہی قویٰ میں سے ایک قوت گویائی بھی ہے جس کے ذریعہ سے انسان اپنا مافی الضمیر بیان کرتا ہے ، خیروشر ، بھلائی اور برائی کو سمجھتا اور سمجھاتا ہے۔ ایک تو اس کی مادری زبان کہلاتی ہے جو ماں باپ اور ماحول سے وہ خود بخود ہی سیکھ لیتا ہے اور دوسری زبانیں بھی جتنی اس دنیا کے اندر بولی جاتی ہیں اگر وہ ذرا اس معاملہ میں محنت کرے تو ان کو سیکھ لیتا ہے جتنے علوم اس دنیا میں ایجاد ہوئے ہیں یہ سب کے سب اسی قوت بیانہ ہی کی کرشمہ سازی ہے جو اللہ تعالیٰ نے ہر ایک انسان کے اندر دوسری صلاحیتیوں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 3–4

خَلَقَ الْإِنسَانَ عَلَّمَهُ الْبَيَانَ (He has created man. He has taught him [ how ] to express himself...55:4) Man's creation itself is a great boon of Allah and in the natural order of things he is first and foremost, so much so that even imparting the knowledge of the Qur'an, which is mentioned first, can only take place after his creation. However, the bounty of Qur'anic knowledge is mentioned first, and the creation of man later, because the fundamental object of man's creation is to impart to him the knowledge of the Holy Qur'an, and for him to follow its guidance as stated elsewhere…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

3 One meaning of the word bayan, as used in the original, is the expressing of one'e own mind, i e. speaking and expressing one's thoughts and intentions. Its other meaning is to make distinction between things, which here signifies the distinction between good and evil, virtue and vice. According to those two meanings this brief sentence completes the above reasoning. Speech is the distinctive quality which distinguishes man from the animals and other earthly creatures, It is not merely the power of speech, but there are working behind It the faculties of reasoning and intellect,…

Read the full tafseer →