وَالْاَرْضَ وَضَعَهَا لِلْاَنَامِ ۟ۙوَالۡاَرۡضَ وَضَعَهَا لِلۡاَنَامِۙ
اور اسی نے خلقت کے لئے زمین بچھائی
— Fateh Muhammad Jalandhari
And the earth He laid [out] for the creatures.
— Saheeh International
Juz 27 · Ruku 1 of surah · Ruku 11 of juz
وَالْاَرْضَ وَضَعَهَا لِلْاَنَامِ ۟ۙوَالۡاَرۡضَ وَضَعَهَا لِلۡاَنَامِۙ
اور اسی نے خلقت کے لئے زمین بچھائی
— Fateh Muhammad Jalandhari
And the earth He laid [out] for the creatures.
— Saheeh International
Juz 27 · Ruku 1 of surah · Ruku 11 of juz
Read the whole surah · Surah Ar-Rahmaan
زمین کو اس نے سب مخلوقات کے لیے بنایا
اور اسی نے خلقت کے لئے زمین بچھائی
اور اسی نے مخلوق کے لیے زمین بچھا دی
اور زمین کو اسی نے ساری مخلوقات کے لیے بنایا ہے۔
اور زمین رکھی مخلوق کے لیے
زمین کو اسی نے مخلوق کے لئے بچھا دیا،
اور زمین، اس نے اسے مخلوق کے لیے بچھادیا۔
اور زمین کو اس نے ساری مخلوق کے لئے بنایا۔
اور زمین کو اس نے بچھایا خلق کے لیے
اور اسی نے بچھا دیا زمین کو (اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ سے) سب مخلوق کے لئے
اور اسی نے زمین کو خلقت کے واسطے رکھ دیا۔
اور زمین کو اس نے بچھا دیا مخلوق کے لیے۔
اور اسی نے خلقت کے لئے زمین بچھائی۔
And He has set up the earth for all beings.
As for the earth, He has placed it for creatures,
As for the earth, He has placed it for creatures,
And the earth He has put down (laid) for Al-An'am.
And the earth hath He appointed for (His) creatures,
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
And the earth He laid [out] for the creatures.
He spread out the earth for the people.
And the earth, He has set it for living creatures;
And the earth! He hath lain it out for the creatures.
It is He Who has spread out the earth for (His) creatures:
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 1–13
انسان پر اللہ تعالیٰ کے احسانات کی ایک جھلک اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کاملہ کا بیان فرماتا ہے کہ اس نے اپنے بندوں پر قرآن کریم نازل فرمایا اور اپنے فضل و کرم سے اس کا حفظ کرنا بالکل آسان کردیا اسی نے انسان کو پیدا کیا اور اسے بولنا سکھایا۔ قتادہ وغیرہ کہتے ہیں بیان سے مراد خیر و شر ہے لیکن بولنا ہی مراد لینا یہاں بہت اچھا ہے۔ حضرت حسن کا قول بھی یہی ہے اور ساتھ ہی تعلیم قرآن کا ذکر ہے جس سے مراد تلاوت قرآن ہے اور تلاوت موقوف ہے بولنے کی آسانی پر ہر حرف اپنے مخرج سے بےتکلف زبان ادا کرتی رہتی ہے خواہ حلق سے نکلتا ہو خواہ دونوں ہونٹوں کے ملانے سے مختلف، مخرج اور مختلف قسم کے حروف کی ادائیگی اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
سورة الرَّحْمٰن 9 اب یہاں سے آیت 25 تک اللہ تعالیٰ ان نعمتوں اور اس کے ان احسانات اور اس کی قدرت کے ان کرشموں کا ذکر کیا جا رہا ہے جن سے انسان اور جن دونوں متمتع ہو رہے ہیں اور جن کا فطری اور اخلاقی تقاضا یہ ہے کہ وہ کفر و ایمان کا اختیار رکھنے کے باوجود خود اپنی مرضی سے بطوع ورغبت اپنے رب کی بندگی اور اطاعت کا راستہ اختیار کریں۔ سورة الرَّحْمٰن 10 اصل الفاظ ہیں زمین کو " اَنام " کے لیے وضع کیا۔ وضع کرنے سے مراد ہے تالیف کرنا، بنانا، تیار کرنا، رکھنا، ثبت کرنا۔ اور انام عربی زبان میں خلق کے لیے استعمال ہوتا ہے جس میں انسان اور دوسری سب زندہ مخلوقات شامل ہیں۔ ابن عباس کہتے ہیں کل شیء فیہ…
Read the full tafseer →وَالْاَرْضَ وَضَعَهَا لِلْاَنَامِ ، انام بالفتح بروزن سحاب، ہر جاندار کو کہا جاتا ہے جو زمین پر رہتا چلتا ہے، (قاموس) بیضاوی نے ہر ذی روح اس کا ترجمہ کیا ہے اور ظاہر یہ ہے کہ اس آیت میں انام سے مراد انسان اور جنات ہیں، کیونکہ کل ذی روح ارواح میں سے یہی دونوں احکام شرعیہ کے مکلف اور مامور ہیں اور اس سورت میں بار بار انہی دونوں کو خطاب بھی کیا گیا ہے، جیسا کہ فَبِاَيِّ اٰلَاۗءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ میں یہی دونوں جن وانس مخاطب ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
(والارض وضعھا للانام فیھا فاکھۃ والنخل ذات الاکمام والحب ذوالعصف الریحان) (10۔ 13) (زمین کے اسباب ربوبیت کی طرف اشارہ)۔ آسمان کے عجائب قدرت کی طرف توجہ دلانے کے بعد یہ زمین کے اسباب ربوبیت کی طرف توجہ دلائی۔ آسمان کے لیے دفع کا لفظ استعمال فرمایا تھا اس کے مقابل میں زمین کے لیے وضع کا لفظ نہایت موزوں اور معنی خیز استعمال فرمایا کہ آسمان کو شامیانے کی طرح تان دیا اور زمین کو فرش کی طرح بچھا دیا تاکہ اس کی مخلوقات کے لیے یہ ایک آرام دہ مکان بن جائے۔ پھر جس طرح آسمان پر سورج، چاند اور ستاروں کے چراغ اور قمقمے لگادیئے کہ اس گھر کو روشنی اور حرارت حاصل ہوتی رہے اسی طرح اس گھر میں مختلف قسم کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–12
12۔ 1 حب سے مراد وہ خوراک ہے جو انسان اور جانور کھاتے ہیں۔ خشک ہو کر اس کا پودا بھی بھس بن جاتا ہے جو جانوروں کے کام آتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–16
2: سجدہ حقیقی بھی ہوسکتا ہے، کیونکہ قرآن کریم نے کئی جگہ یہ فرمایا ہے کہ تمام مخلوقات میں کچھ نہ کچھ احساس موجود ہے۔ (دیکھئے سورة بنی اسرائیل : 44) اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ یہ سب اللہ تعالیٰ کے تابع فرمان ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
والارض ............ الاکمام (55: 11) والحب ............ والریحان (55: 21) (زمین کو اس نے مخلوقات کے لئے بنایا۔ اس میں ہر طرح کے بکثرت پھل ہیں ، کھجور کے درخت ہیں جن کے پھل غلافوں میں لپٹے ہوئے ہیں۔ طرح طرح کے غلے ہیں جن میں بھوسا بھی ہوتا ہے اور دانہ بھی) اس زمین میں بس کر اور رہ رہ کر ہمیں یہ چیزیں نظر نہیں آتیں۔ اس زمین کے حالات واطوار کو دیکھ کر اور اپنے حالات واحوال کو ہر وقت دیکھ دیکھ کر ہم اس کی کوئی چیز انوکھی نہیں پاتے جو دراصل عجوبہ ہوتی ہے اور دست قدرت کی عجب کارستانی ہوتی ہے اور زمین پر جس طرح ہمیں سکون وقرار سے رکھا گیا ہے ، اس کی ٹیکنالوجی کا ہمیں پورا شعور نہیں ہوتا اور جس طرح…
Read the full tafseer →10 کہ اس پر آرام سے چلیں پھریں اور کاروبار جاری رکھیں۔
Read the full tafseer →آیت 10 { وَالْاَرْضَ وَضَعَہَا لِلْاَنَامِ۔ } ”اور زمین کو اس نے بچھا دیا مخلوق کے لیے۔“ ظاہر ہے مخلوق میں انسان بھی شامل ہیں اور جنات بھی۔ نوٹ کیجیے کہ پہلے آسمان ‘ سورج اور چاند کا ذکر ہوا ہے اور اب زمین کا۔ گویا ترتیب تدریجاً اوپر سے نیچے کی طرف آرہی ہے۔
Read the full tafseer →8 انام کا لغوی مفہوم :۔ انام سے مراد ہر وہ جاندار مخلوق ہے جو روئے زمین پر پائی جاتی ہے۔ خواہ وہ چرند ہوں، یا پرند، مویشی ہوں یا درندے، انسان ہوں یا جن، اور انام سے مراد انسان اور جن لینا اس لحاظ سے زیادہ مناسب ہے کہ آگے انہیں دو انواع کا ذکر آرہا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ زمین پر بسنے والی تمام مخلوق کا رزق ہم نے زمین سے ہی وابستہ کردیا ہے۔ یہی ان کی جائے پیدائش، یہی ان کا مسکن اور یہی ان کا مدفن ہے۔ خ اشتراکی نظریہ کا رد :۔ اس آیت سے اشتراکیت پسند حضرات نے اپنا نظریہ کشید کرنے کی کوشش فرمائی ہے کہ زمین حکومت کو اپنی تحویل میں لے لینی چاہئے۔ پھر وہ تمام افراد کو رزق مہیا کرے۔ اس کے نظریے کے ابطال کے…
Read the full tafseer →7۔ یعنی خلقت کے نفع و خدمت کے لئے۔ زمین تو خود انسان کے کام میں آنے کیلئے ہے نہ یہ کہ انسان اپنی جہالت سے الٹی اس کی پر ستش شروع کردے، اور دھرتی مائی وغیرہ کسی دیوی کی پوجا کرنے لگے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–12
الشمس والقمر بحسبان انسان کے لئے جو نعمتیں حق تعالیٰ نے زمین و آسمان میں پیدا فرمائی ہیں اس آیت میں علویات میں سے شمس و قمر کا ذکر خصوصیت سیشاید اس لئے کیا ہے کہ عالم دنیا کا سارا نظام ان دونوں سیاروں کی حرکت اور ان کی شعاعوں سے وابستہ ہے۔
Read the full tafseer →والارض وضعھا للانام . اور اسی نے مخلوق کے لیے زمین کو (اس کی جگہ) رکھ دیا۔ وَضَعَھَا : یعنی زمین کو پست بنایا اور بچھایا۔ لِلْاَنَامِ : مخلوق کے لیے قاموس بروزن سحاب و سباط ‘ مخلوق یا جن و انس یا وہ تمام چیزیں جو رُوئے زمین پر ہیں۔ بیضاوی نے لکھا ہے کہ بعض علماء کے نزدیک انام سے مراد ہیں ‘ تمام جاندار۔ میں کہتا ہوں بظاہر اس جگہ جن و انس مراد ہیں کیونکہ خطاب انہی دونوں کو کیا گیا ہے فبای الاء ربکما تکذبان کے مخاطب یہی دونوں نوعیں ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
اور اسی نے تمام مخلوق کے لیے خواہ زندہ ہوں یا مردہ زمین کو پانی پر بچھا دیا۔
Read the full tafseer →وَالْاَرْضَ وَضَعَہَا لِلْاَ نَامِ :”الانام“ کا معنی ہر جان دار مخلوق ہے ، یعنی اللہ تعالیٰ نے زمین کو اس طرح بنایا اور بچھایا ہے کہ مخلوق کی تمام ضروریات اس سے پوری ہوتی ہے ، ان کا پیدا ہونا ، کھانا پینا ، پہننا ، رہنا سہنا ، چلنا پھرنا ، زندہ رہنا اور دفن ہونا غرض ہر ضرورت اور ہر سہولت اسی سے وابستہ ہے۔ ”الانام“ کے لفظ میں اگرچہ تمام مخلوق شامل ہے ، مگر یہاں اس سے مراد جن و انس ہیں ، کیونکہ محاسبہ انہی دو کا ہونا ہے اور آگے انہی پر احسانات کا ذکر ہے۔ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس نے زمین کی ہر چیز انسانوں کی خاطر بنائی ہے ، فرمایا :(ہُوَ الَّذِیْ خَلَقَ لَکُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ…
Read the full tafseer →والارض وضعھا للانام۔ انام سے مراد لوگ ہیں (2) یہ حضرت ابن عباس سے مروی ہے۔ حضتر حسن بصری نے کہا، جن اور انسان مراد ہیں (3) ضحاک نے کہا : روئے زمین پر جو چیز چلتی ہے۔ یہ عام ہے
Read the full tafseer →30:۔ الفریابی (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' والارض وضعھا للانعام '' (اور اسی مخلوق کے لئے زمین کو رکھ دیا) میں انعام سے مراد ہے۔ 31:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے ابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے (آیت ) '' والارض وضعھا للانعام '' کے بارے میں روایت کیا کہ '' للانعام سے مراد ہے، مخلوق۔ 32:۔ الطستی اور الطبرانی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق نے ان سے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ اس قول (آیت ) '' ووضعھا للانعام '' کے بارے میں بتائیے اور فرمایا '' للانعام '' سے مراد ہے مخلوق اور وہ ایک ہزار امتیں ہیں۔ چھ سوسمندر میں اور چار سو خشکی میں پھر پوچھا…
Read the full tafseer →وَالْاَرْضَ [اور اس زمین کو ] وَضَعَهَا [ اور نے رکھا اس کو ] لِلْاَنَامِ [ مخلوق کے لیے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–13
انصاف کے ساتھ وزن کرنے کا حکم : ﴿ وَ وَضَعَ الْمِيْزَانَۙ007﴾ اور اللہ تعالیٰ نے ترازو کو رکھ دیا ﴿ اَلَّا تَطْغَوْا فِي الْمِيْزَانِ 008﴾ (تاکہ تولنے میں سرکشی یعنی نافرمانی نہ کرو) عدل پر قائم رہو ایسا نہ کرو کہ دوسروں سے اپنے حق میں زیادہ تلواؤ اور دوسروں کے لیے تولو تو ڈنڈی ماردو اور گھٹا کر تولو جیسا کہ سورة التطفیف کے شروع میں تولنے والوں کی زیادتی کا طریقہ بیان فرمایا ہے، سورة الانعام اور سورة بنی اسرائیل میں بھی حکم ہے (کہ ناپ اور تول کو انصاف کے ساتھ قائم کرو) ﴿وَ الْاَرْضَ وَ ضَعَهَا لِلْاَنَامِۙ0010﴾ (اور زمین کو رکھ دیا لوگوں کے نفع کے لیے) زمین کو اللہ تعالیٰ نے بچھونا بنا دیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–25
انعامات رب جلیل بر انسان بعطاء وصف بیان وتعلیم قرآن وفیضان نعماء جسمانیہ وروحانیہ : قال اللہ تعالیٰ : الرحمن علم القرآن ...... الی ...... فبای الآء ربکما تکذبن “۔ (ربط) سورة قمر میں دلائل نبوت اور معجزات عظیمہ کا بیان تھا اور امم سابقہ کے احوال ذکر فرمائے گئے کہ کس طرح انہوں نے اپنے پیغمبروں کا انکار کیا اور ان پر ایمان نہ لائے جس کے باعث عذاب خداوندی سے انکو ہلاک وبرباد کردیا گیا جس سے مقصود اہل مکہ کو متنبہ کرنا تھا کہ وہ ان احوال وواقعات کو سوچ کر اپنے انجام کے بارے میں بھی خود فیصلہ کرلیں تو اس کے بعد حق تعالیٰ شانہ نے ان انعامات خاصہ کا ذکر فرمایا جو انسان پر کئے گئے ان انعامات میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
5:۔ ” والارض وضعہا “ سفلیات کا ذکر۔ اور اللہ نے زمین کو لوگوں کے لیے پیدا کر کے رکھدیا ہے تاکہ وہ اس سے ہر قسم کا فائدہ اٹھائیں۔ جس میں ہر قسم کے پھل اور میوے پیدا ہوتے ہیں۔ خصوصاً کھجور کے درخت جس کے بھاری بھرکم گچھے آویزاں ہیں۔ ” والحب ذوالعصف “ اور ہر قسم کے غلے پیدا ہوتے ہیں جن کے باقی اجزاء بھوسے کی شکل میں مویشیوں کے چارے میں کار آمد ہیں۔ ” والریحان “ غذائی اجناس اور میووں کے علاوہ زمین میں خوشبودار پودے بھی ہوتے ہیں جن کی خوشبو دل و دماغ کو معطر اور تازہ کردیتی ہے۔ ھول کمل مشموم طیب الریح من النبات (روح ج 27 ص 103) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–13
نام اور کوائف اس سورة مبارکہ کا نام سورة الرحمن ہے جو اس کے پہلے لفظ سے ماخوذ ہے صرف ایک آیت کے سوا یہ ساری سورة مکی دور میں نازل ہوئی اس سورة کی اٹھہتر آیات اور تین رکوع ہیں اور یہ سورة 351 الفاظ اور 1636 حروف پر مشتمل ہے۔ مضامین سورة مکی سورتوں میں عام طور پر بنیادی عقائد ہی کا ذکر ہے۔ ان سورتوں میں احکام کا سلسلہ حال ہے۔ مکی دور میں چونکہ اسلامی معاشرہ کی بنیاد ہی نہیں رکھی جاسکی تھی ، لہٰذا اس دوران زیادہ تر اخلاق اور عقائد کی اصلاح پر توجہ دی گئی ہے چناچہ اس سورة مبارکہ میں بھی یہی پہلو غالب ہے۔ اس زمانے میں عرب میں شرک کی مختلف قسمیں رائج تھیں یا بالکل کفر تھا۔ اللہ نے مکی سورتوں میں…
Read the full tafseer →وَالْاَرْضَ وَضَعَہَا لِلْاَنَامِ 10 ۙ أرض الأرض : الجرم المقابل للسماء، وجمعه أرضون، ولا تجیء مجموعةً في القرآن «4» ، ويعبّر بها عن أسفل الشیء، كما يعبر بالسماء عن أعلاه . ( ا رض ) الارض ( زمین ) سماء ( آسمان ) کے بالمقابل ایک جرم کا نام ہے اس کی جمع ارضون ہے ۔ جس کا صیغہ قرآن میں نہیں ہے کبھی ارض کا لفظ بول کر کسی چیز کا نیچے کا حصہ مراد لے لیتے ہیں جس طرح سماء کا لفظ اعلی حصہ پر بولا جاتا ہے ۔ الانام ۔ بمعنی الحیوان کلہ ( ابن عباس) تمام جاندار بمعنی الانس والجن ( حسن) انسان اور جن ۔ بہتوں نے اسی کو ترجیح دی ہے کیونکہ بظاہر اس جگہ ( آیت ہذا) جن اور انس ہی مراد ہیں کیونکہ خطاب انہی دونوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–18
ترکیب : ولاتخسرو ابضم التاء ای ولا تنقصوا الموزدن وقیل التقدیر فی المیزان۔ ویقرء بفتح التاء والخاء والاول اصح۔ للانام یتعلق بوضعہا والحب بالرفع عطفاً علی النخل والریحان کذلک ویقرء بالنصب ای خلق الحب۔ کالفخار لغت لصلصال من نار لغت لمارج۔ رب المشرقین ای ھو وقیل ھذا مبتداء دخبرہ مرج الاکمام جمع کم بالکسرو ھو دعاء الثمر اصلہ یطلق علی ماستر شیئا ومنہ کم القمیص بالضم۔ تفسیر : پہلے بطور علت و سبب کے عدل قائم کرنا بیان فرمایا تھا۔ اب بصراحت حکم دیتا ہے واقیموالوزن بالقسط کہ دنیا میں انصاف کی ترازو سے تولو۔ یہ حکم بڑا وسیع المعنی ہے جس میں اشیاء کا انصاف سے تولنا بھی داخل ہے اور عموماً ہر بات میں حق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
وَالْاَرْضَ وَضَعَھَا لِلْاَنَامِ ۔ فِیْھَا فَاکِھَۃٌ ص لا وَّالنَّخْلُ ذَاتُ الْاَکْمَامِ ۔ وَالْحَبُّ ذُوالْعَصْفِ وَالرَّیْحَانُ ۔ (الرحمن : 10 تا 12) (اور زمین کو اس نے بچھایا مخلوقات کے لیے۔ اس میں میوے اور کھجور ہیں جن پر غلاف چڑھے ہوئے ہیں۔ اور بھس والے غلے بھی ہیں اور خوشبودار پھول بھی۔ ) زمین پر پھیلے ہوئے خوانِ ربوبیت کا ذکر آسمان کے ذکر کے حوالے سے بعض اہم حقائق کی طرف توجہ دلانے کے بعد اب زمین کا ذکر فرمایا جارہا ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے اپنا خوان ربوبیت بچھا رکھا ہے۔ اور الفاظ کا انتخاب بلاغت کا شاہکار ہے۔ آسمان کے لیے رفع کا لفظ استعمال فرمایا، اور زمین کے لیے وضع کا لفظ۔ اس سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–13
فہم القرآن ربط کلام : آسمان کے بعد زمین اور اس کے فوائد کا مختصر ذکر۔ جس الرحمن نے شمس و قمر اور نجم وشجر پیدا کیے ہیں اور القسط قائم کرنے کا حکم دیا اسی نے اپنی مخلوق کے لیے زمین کو فرش کے طور پر بچھایا ہے۔ قرآن مجید نے جس طرح انسان کو آسمانوں کے بارے میں معلومات فراہم کی ہیں اسی طرح زمین کے بارے میں بھی بہت کچھ بتلایا ہے۔ ” کیا وہ لوگ جو کفر کرتے ہیں وہ غور نہیں کرتے کہ آسمان اور زمین آپس میں ملے ہوئے تھے ہم نے انہیں الگ الگ کیا اور ہر زندہ چیز پانی سے پیدا کی ؟ کیا پھر بھی وہ ایمان نہیں لاتے اور ہم نے زمین میں پہاڑ بنائے تاکہ زمین انہیں لے کر ڈھلک نہ پڑے اور زمین میں کشادہ راہیں بنایں تاکہ…
Read the full tafseer →10 : وَالْاَرْضَ وَضَعَہَا (اور زمین کو رکھ دیا) پست کر کے پانی پر بچھا دیا لِلْاَنَامِ (مخلوق کیلئے) سطح زمین پر رینگنے والے کو کہتے ہیں۔ قولِ حسن (رح) : الانام ؔ سے جن و انس مراد ہیں۔ یہ ان کے لئے بچھونے کی طرح ہے اپنی مرضی سے اس پر چلتے پھرتے ہیں۔
Read the full tafseer →9 ۔” واقیموا الوزن بالقسط “ انصاف کے ساتھ اور ابوالدردائ ؓ اور عطائؒ فرماتے ہیں اس کا معنی تم ترازو کی زبان کو انصاف کے ساتھ قائم کرو۔ ابن عینیہ (رح) فرماتے ہیں ہاتھ سے قائم کرنا اور دل سے انصاف کرنا۔ ” ولا تخسروا “ اور تم کم نہ کرو ۔ ” المیزان “ ماپنے اور تولنے میں کمی نہ کرو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–13
1۔ 13۔ اگرچہ سورة نحل میں گزر چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر اس قدر احسان کئے ہیں کہ ان احسانات اور اس کی نعمتوں کا شکریہ کرنا تو درکنار اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں کا ہر ایک شخص اگر اللہ تعالیٰ کے احسانات اور اس کی نعمت کی گنتی بھی کرنی چاہے تو یہ بات بھی اللہ تعالیٰ کی مخلوق کی طاقت سے باہر ہے لیکن جن و انسان کے فقط یاد دلانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے اس سورة میں اکتیس قسم کی نعمتوں کا ذکر فرمایا ہے اور ہر ایک قسم کی نعمت کے ذکر کے بعد جن و انسان سے تنبیہ کے طور پر یہ پوچھا ہے کہ تم دونوں اللہ تعالیٰ کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤگے۔ مطلب یہ ہے کہ جس اللہ نے انسان کو ‘ انسان کی سب ضرورت کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
(وَالْاَرْضَ وَضَعَهَا) یعنی اللہ نے زمین کو اس کی کثافتوں اور اس کے اسقرار اور اس کے اوصاف واحوال سمیت بنایا۔ (لِلْاَنَامِ ) مخلوق کے لیے تاکہ وہ زمین کو ٹھکانہ بنائے زمین ان کے لیے ہموار فرش کا کام دے یہ اس پر عمارتیں تعمیر کریں زمین پر کھیتی باڑی کریں، باغات لگائیں، کنویں کھودیں، اس کے راستوں پر چلیں، اس کی معدنیات اور ان تمام چیزوں سے فائدہ اٹھائیں جن کی انہیں حاجت اور ضرورت ہو پھر اللہ تعالیٰ نے خوراک کی ضروری اشیا کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا (فِيْهَا فَاكِهَةٌ ۽) اس میں لذیذ پھل ہیں۔ اس سے مراد وہ تمام درخت ہیں جو پھل پیدا کرتے ہیں جنہیں بندے مزے سے کھاتے ہیں مثلا، انگور، انجیر، انار، اور…
Read the full tafseer →[ 10] بچھونہء ارضی میں عظیم الشان سامان غور و فکر : سو آسمان کے عجائب قدرت کی ذکر کے بعد بچھونائے ارضی کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ اسی نے زمین کو بچھا دیا ساری مخلوق کیلئے۔ جو کہ مخلوق کی تمام ضروریات سے معمور و بھرپور ہے، اور جو پیش پا افتادہ تمہیں اپنی زبان حال سے دعوت غور و فکر دے رہی ہے کہ یہ عظیم الشان و بےمثال کارستانی، اللہ وحدہٗ لاشریک کے سوا اور کس کی ہوسکتی ہے ؟ اور اس خالق ومالک کا تم پر کیا حق ہے، جس نے تم سن کو محض اپنے فضل و کرم سے زمین کے اس عظی الشان بچھونے، اور اس میں موجود طرح طرح کی ان بےحد و حساب اور اس قدر عظیم الشان نعمتوں سے نوازا ہے ؟ سو اس کا تقاضا ہے کہ تم اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–13
رب جس نے انسان کو پیدا کیا اس کی تمام ضروریات پوری کردیں تشریح :۔ رحمن اللہ کا صفاتی نام ہے اور یہ صفاتی نام پورے قرآن پاک میں تقریبا 55 مقامات پر آیا ہے۔ یہ اس کی رحمن ہونے کی دلیل ہے کہ جو اس نے مخلوقات کو بنایا۔ راہ ہدایت دکھانے کے لیے قرآن نازل فرمایا اور پوری کائنات کو اپنے رحم و کرم سے بھر دیا۔ اس کا رحم و کرم ہر ایک کے لیے برابر ہے۔ چاہے کوئی کافر ہو مسلم ہو، نیک ہو یا بد ہو، متقی ہو یا گنہگار ہو۔ غرض اس کی عنایات سے ہر کوئی فیض یاب ہو رہا ہے۔ اور یہ بھی اس کے رحمن ہونے کا ثبوت ہے کہ اس نے علم سکھایا۔ قرآن پاک جس میں پوری کائنات تمام تخلیقات کے ہر قسم کے علوم بیان کردیے گئے ہیں اور ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–25
آیات 1 تا 25۔ اسرار ومعارف۔ وہ ذات بیحد و حساب رحم کرنے والی ہے اور اس کی رحمت ہے کہ اس نے قرآن سکھلایا اپنے نبی پر نازل فرما کر ان خوش نصیبوں کو جنہوں نے آپ سے سیکھا اور ان کے واسطے سے اگلوں کو سکھایا یوں تعلیم قرآن کا سلسلہ ہمیشہ کے لیے جاری فرمایا کہ بنی آدم میں سے جو چاہے اس چشمہ رحمت سے سیراب ہو۔ آخر یہ بھی تو اسی کی رحمت عامہ ہے کہ انسان کو پیدا فرمایا اور اسے زبان دانی بات کرنے کا فن ودیعت فرمایا کہ وہ علم قرآن حاصل کرسکنے کے قابل ہوا۔ قوت گویائی کا اصل مصرف۔ گویاقوت گویائی اور بات کرنے کی صلاحیت کا اصل مصرف علوم قرآن کا حصول اور اس کا آگے پہنچانا ہے باقی سارے فوائد دوسرے درجے میں ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–12
ف 9 یعنی آدمیوں کے لئے دانہ اور جانوروں کے لئے بھوسا۔
Read the full tafseer →(55:10) والارض وضعھا : ای وضع الارض : وضع ماضی واحد مذکر غائب۔ وضع (باب فتح) مصدر۔ بمعنی نیچے رکھنا ۔ اسی سے موضع رکھنے کی جگہ ، جس کی جمع مواضع ہے اسی سے وضع کا لفظ وضع حمل اور بوجھ اتارنے کے لئے آتا ہے لیکن اسی مادہ (و ض ع) سے بمعنی خلق اور ایجاد (یعنی پیدا کرنا) بھی آیا ہے۔ چنانچہوضع البیت کے معنی مکان بنانے کے آئے ہیں۔ مثلاً ان اول بیت وضع للناس (3:95) تحقیق پہلا گھر جو لوگوں (کی عبادت) کے لئے بنایا گیا تھا۔ اور اسی سے آیت ہذا میں بمعنی پیدا کرنا یا بچھانا آیا ہے ۔ والارض وضعھا للانام : اور اسی نے مخلوق کے لئے زمین بچھائی۔ (پیدا کی) اسی مادہ سے اور معنی بھی مشتق ہیں۔ الانام۔ بمعنی الحیوان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–25
لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 25 علم اس نے سکھایا۔ البیان بولنا بحسبان ایک حساب سے، ایک طریقے سے۔ النجم بےتنے کے درخت، پودے۔ وضع اس نے رکھا ۔ اس نے بنایا ۔ الاتطفوا یہ کہ تم نہ گھٹائو۔ انام مخلوق۔ الاکمام (کم) غلام، چھلکا ۔ العصف بھوسہ (جانوروں کی غذا) الریحان خوشبودار ۔ الاء (الی) نعمتیں صلصال خشک مٹی جو کھن کھن بجتی ہو۔ الفخار ٹھیکرا۔ الجان جن ، ابو الجنات ۔ مارج شعلہ جس میں دھواں نہ ہو۔ مرج (خوب بہتا ہے) جاری کیا البحرین دوریا، دو سمندر۔ برزخ پردہ، رکاوٹ۔ لا یبغین دونوں کو ملنے نہیں دیتا اللولو موتی۔ المرجان مونگا، سفید موتی۔ المنشئت بلند کئے ہوئے۔ الاغلام (ملم) پہاڑ، جھنڈا اللہ تعالیٰ نے اپنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
انعامات خداوند کریم جل جلالہ۔ (ف 1) آدمیوں کے آرام کے لیے زمین کو بچھایا اسی خدا نے جو رحمن ہے تاکہ انسان اس پر آرام سے چلیں پھریں اور کاروباری جاری رکھیں آگے زمین کی یہ صفت بیان فرمائی کہ وہ زمین ایسی ہے جس میں قسم قسم کے پھل میوے بھی نکلتے ہیں اور غلہ اناج بھی، پھر غلہ میں دوچیزیں ہیں دانہ جو انسان کی غذا ہے اور بھوسہ جو جانوروں کے لیے ہے اور بعض چیزیں زمین سے وہ پیدا ہوتی ہیں جو کھانے کے کام میں نہیں آتی لیکن ان کی خوشبو وغیرہ سے فائدہ اٹھایاجاتا ہے غرض یہ سب کچھ انعامات جو دنیا میں تم کو نظرآ رہے ہیں اسی اللہ تعالیٰ نے پیدا کیے ہیں جو رحمن ہے جس کا کفار انکار کرتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–12
[4] اس سے معلوم ہوا کہ ناپ تول میں کامل انصاف کا حکم ایک عظیم حکم ہے۔ یہ اس میزان کی ایک فرع ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے اس عالم کا نظام قائم فرمایا ہے۔ یہیں سے یہ بات نکلی کہ جو قوم اس میں فساد برپا کرتی ہے وہ سارے نظام عدل میں فساد برپا کرتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–16
جنوں کا وجود 1: جن ایک الگ مخلوق ہے ۔ جس کو اللہ تعالیٰ نے آگ سے پیدا کیا ہے ۔ یہی وجہ ہے ۔ ان میں لطافت زیادہ ہے ۔ آج سے پچاس سال قبل تو لوگ اس مخلوق کا انکار کرتے تھے ۔ مگر اب تجربات نے ثابت کردیا ہے ۔ کہ جنات بھی موجود ہیں ۔ اور وہ لوگ جنہوں نے بڑے شدومد سے کہا تھا ۔ کہ یہ محض وہم ہے ۔ اب وہی کہہ رہے ہیں ۔ کہ یہ ایک حقیقت ہے ۔ ہمارے ہاں بعض ایسے جاہل بھی موجود ہیں ۔ جنہوں نے اس وقت کی آواز کو تو سنا تھا ۔ مگر موجودہ وقت کے خیالات سے آگاہ نہیں ۔ وہ اب تک یہ سمجھے بیٹھے ہیں ۔ کہ علماء مغرب کے معتقلات میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ۔ بلکہ وہ اس قدر روشن خیال ہیں ۔ کہ سارا مغرب بھی ان مسائل کا قائل…
Read the full tafseer →(10) اور اسی نے خلق کے فائدے اور نفع کے لئے زمین کو پھیلادیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–13
ف 5۔ یہ آیت تفریعیہ اس سورت میں اکتیس جگہ آئی ہے اور ہر جگہ الاء کا مصداق جدا ہے، اس لئے یہ تکرار محض نہیں، محض لفظی تشارک ہے اور تکرار ظاہری کیو جہ سے اس میں افادہ تاکید بھی ہے اور اس قسم کا تکرار جو کہ قند مکرر سے شیریں تر ہے عرب کے کلام منثور و منظوم میں بکثرت بلا نکیر مستعمل ہے۔ تکذبان میں خطاب جن و انس کو ہونا ان دلائل سے ہے، قولہ تعالیٰ خلق الانسان و خلق الجان، قولہ تعالیٰ ایہ الثقلان، قولہ تعالیٰ انس قبلھم ولا جان۔
Read the full tafseer →اور اس نے زمین کو مخلوق کے لیے پھیلا دیا 10۔ رفع کے مقابلہ میں وضع زبان کے ادب کے عین مطابق ہے اور انام میں یہ ہر جاندار چیز آجاتی ہے خواہ وہ انسان ہے یا حیوان اور اسی طرح چرند ، پرند اور موروملخ سب اس میں شامل ہیں اور اسی طرح سارے حشرات الارض اس میں داخل ہیں جو زمین کے اندر رہنے کے محتاج ہیں اور اللہ تعالیٰ کی تخلیق سے کوئی چیز بھی باہر نہیں ہے خواہ وہ نباتات و جمادات ہوں اور ہوائیں اور گیسیں بھی اس میں داخل ہیں۔ لیکن اس جگہ ان کا بیان ہے جن کا تعلق اس زمین یعنی دھرتی سے پایا جاتا ہے اور مطلب یہ ہے کہ یہ زمین اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت کاملہ کے تحت بچھا دی ہے اور ہر ایک جاندار چیز اس سے اپنی…
Read the full tafseer →وَالْأَرْضَ وَضَعَهَا لِلْأَنَامِ (And the earth is placed by Him for creatures...55:10). The word 'anam with fatha [=a ] on the first letter on the grammatical measure of سَحَاب sahab, refers to all the creatures that are on the surface of the earth. Baidawi translates the word as 'everything having a soul'. Evidently, the word 'anam in the verse refers to mankind and the jinn, because only these two species of Allah's creation are obligated to observe the precepts of Shari` ah. Furthermore, they are addressed throughout the Surah. For instance in the refrain verse فَبِأَيِّ آلَاءِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
9 Now from here to verse 20, mention is being made of the blessing and bounties of God and of those manifestations of His might by which both man and jinn are benefiting, and whose natural and moral demand is that although they have the option to believe or not to believe, they should adopt the way of their Lord's service and obedience willingly by their own free choice. 10 The word wade `in the original means to compost, make, prepare, keep. and inscribe, and anam the creatures, which includes man and all other living things. According to Ibn 'Abbas, anam includes every thing which has a…
Read the full tafseer →