Explained with ayahs 1–13
انسان پر اللہ تعالیٰ کے احسانات کی ایک جھلک
اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کاملہ کا بیان فرماتا ہے کہ اس نے اپنے بندوں پر قرآن کریم نازل فرمایا اور اپنے فضل و کرم سے اس کا حفظ کرنا بالکل آسان کردیا اسی نے انسان کو پیدا کیا اور اسے بولنا سکھایا۔ قتادہ وغیرہ کہتے ہیں بیان سے مراد خیر و شر ہے لیکن بولنا ہی مراد لینا یہاں بہت اچھا ہے۔ حضرت حسن کا قول بھی یہی ہے اور ساتھ ہی تعلیم قرآن کا ذکر ہے جس سے مراد تلاوت قرآن ہے اور تلاوت موقوف ہے بولنے کی آسانی پر ہر حرف اپنے مخرج سے بےتکلف زبان ادا کرتی رہتی ہے خواہ حلق سے نکلتا ہو خواہ دونوں ہونٹوں کے ملانے سے مختلف، مخرج اور مختلف قسم کے حروف کی ادائیگی اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
سورة الرَّحْمٰن 9
اب یہاں سے آیت 25 تک اللہ تعالیٰ ان نعمتوں اور اس کے ان احسانات اور اس کی قدرت کے ان کرشموں کا ذکر کیا جا رہا ہے جن سے انسان اور جن دونوں متمتع ہو رہے ہیں اور جن کا فطری اور اخلاقی تقاضا یہ ہے کہ وہ کفر و ایمان کا اختیار رکھنے کے باوجود خود اپنی مرضی سے بطوع ورغبت اپنے رب کی بندگی اور اطاعت کا راستہ اختیار کریں۔
سورة الرَّحْمٰن 10
اصل الفاظ ہیں زمین کو " اَنام " کے لیے وضع کیا۔ وضع کرنے سے مراد ہے تالیف کرنا، بنانا، تیار کرنا، رکھنا، ثبت کرنا۔ اور انام عربی زبان میں خلق کے لیے استعمال ہوتا ہے جس میں انسان اور دوسری سب زندہ مخلوقات شامل ہیں۔ ابن عباس کہتے ہیں کل شیء فیہ…
Read the full tafseer →فِيْهَا فَاكِهَةٌ، فاکہہ ہر ایسے میوے اور پھل کو کہا جاتا ہے جو عادةً غذا کے بعد تفریحاً کھایا جاتا ہے۔ وَّالنَّخْلُ ذَاتُ الْاَكْمَامِ ، اکمام، کم بالکسر کی جمع ہے جس کے معنی اس غلاف کے ہیں جو کھجور وغیرہ کے پھلوں پر ابتداء میں چڑھا ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
(والارض وضعھا للانام فیھا فاکھۃ والنخل ذات الاکمام والحب ذوالعصف الریحان) (10۔ 13)
(زمین کے اسباب ربوبیت کی طرف اشارہ)۔ آسمان کے عجائب قدرت کی طرف توجہ دلانے کے بعد یہ زمین کے اسباب ربوبیت کی طرف توجہ دلائی۔ آسمان کے لیے دفع کا لفظ استعمال فرمایا تھا اس کے مقابل میں زمین کے لیے وضع کا لفظ نہایت موزوں اور معنی خیز استعمال فرمایا کہ آسمان کو شامیانے کی طرح تان دیا اور زمین کو فرش کی طرح بچھا دیا تاکہ اس کی مخلوقات کے لیے یہ ایک آرام دہ مکان بن جائے۔ پھر جس طرح آسمان پر سورج، چاند اور ستاروں کے چراغ اور قمقمے لگادیئے کہ اس گھر کو روشنی اور حرارت حاصل ہوتی رہے اسی طرح اس گھر میں مختلف قسم کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–12
12۔ 1 حب سے مراد وہ خوراک ہے جو انسان اور جانور کھاتے ہیں۔ خشک ہو کر اس کا پودا بھی بھس بن جاتا ہے جو جانوروں کے کام آتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–16
2: سجدہ حقیقی بھی ہوسکتا ہے، کیونکہ قرآن کریم نے کئی جگہ یہ فرمایا ہے کہ تمام مخلوقات میں کچھ نہ کچھ احساس موجود ہے۔ (دیکھئے سورة بنی اسرائیل : 44) اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ یہ سب اللہ تعالیٰ کے تابع فرمان ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
والارض ............ الاکمام (55: 11) والحب ............ والریحان (55: 21) (زمین کو اس نے مخلوقات کے لئے بنایا۔ اس میں ہر طرح کے بکثرت پھل ہیں ، کھجور کے درخت ہیں جن کے پھل غلافوں میں لپٹے ہوئے ہیں۔ طرح طرح کے غلے ہیں جن میں بھوسا بھی ہوتا ہے اور دانہ بھی) اس زمین میں بس کر اور رہ رہ کر ہمیں یہ چیزیں نظر نہیں آتیں۔ اس زمین کے حالات واطوار کو دیکھ کر اور اپنے حالات واحوال کو ہر وقت دیکھ دیکھ کر ہم اس کی کوئی چیز انوکھی نہیں پاتے جو دراصل عجوبہ ہوتی ہے اور دست قدرت کی عجب کارستانی ہوتی ہے اور زمین پر جس طرح ہمیں سکون وقرار سے رکھا گیا ہے ، اس کی ٹیکنالوجی کا ہمیں پورا شعور نہیں ہوتا اور جس طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
11 یعنی پھل میوے بھی زمین سے نکلتے ہیں اور غلہ اناج بھی۔ پھر غلہ میں دو چیزیں ہیں۔ دانہ، جو انسانوں کی غذا ہے اور بھوسہ جو جانوروں کے لیے ہے۔ اور بعض چیزیں زمین میں وہ پیدا ہوتی ہیں جو کھانے کے کام نہیں آتیں لیکن ان کی خوشبو وغیرہ سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے
Read the full tafseer →آیت 1 1 { فِیْہَا فَاکِہَۃٌ لا وَّالنَّخْلُ ذَاتُ الْاَکْمَامِ۔ } ”اس میں میوے ہیں اور کھجوریں ہیں ‘ جن پر غلاف چڑھے ہوئے ہیں۔“
Read the full tafseer →9 پھلوں کے ساتھ کھجور کا الگ بھی ذکر فرمایا ہے اس لیے کہ کھجور میں دوسرے پھلوں کی نسبت زیادہ غذائی اجزاء پائے جاتے ہیں۔ اور کھجور اور پانی دو چیزیں مل کر مکمل غذا بن جاتی ہے جیسا کہ سیدہ عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ بعض دفعہ ہمارے گھر میں دو دو ماہ تک چولہا نہیں جلتا تھا اور ہمارا گزارا صرف دو کالی چیزوں (کھجور اور مٹکے کا پانی) پر ہوتا تھا (بخاری۔ کتاب الہبۃ و فضلہا)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
8۔ (اور یہ سب نعمتیں انسان ہی کے کام میں آنے کے لئے ہیں، مراد ہر قسم کے نباتات، میوہ جات، پھل پھلاری، ترکاریاں وغیرہ ہیں) ۔ قرآن مجید نے ان مادی، حسی، غذائی نعمتوں کو نعمتوں ہی کی حیثیت سے پیش کیا ہے۔ باطل اور مسخ شدہ مذہبوں کے زیر اثر ان نعمتوں کی تحقیر کرنا، یا اپنے کو ان سے مارواء اور مافوق سمجھنا کفران نعمت کی ایک فرد ہے۔ (آیت) ” والحب ذو العصف والریحان “۔ جس طرح غلہ انسان کی غذا ہے، بھوسی بھوسہ گھاس وغیرہ جانوروں کی غذائیں ہیں۔ اور اس طرح بالواسطہ وہ بھی انسان ہی کے کام کی ہیں۔ (آیت) ” الریحان “۔ ریحان کے دوسرے معنی خوشبودار پھول کے بھی ہیں۔ گویا یہ ارشاد ہوا کہ زمین سے ایسی چیزیں بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–12
الشمس والقمر بحسبان انسان کے لئے جو نعمتیں حق تعالیٰ نے زمین و آسمان میں پیدا فرمائی ہیں اس آیت میں علویات میں سے شمس و قمر کا ذکر خصوصیت سیشاید اس لئے کیا ہے کہ عالم دنیا کا سارا نظام ان دونوں سیاروں کی حرکت اور ان کی شعاعوں سے وابستہ ہے۔
Read the full tafseer →فیھا فاکھۃ والنخل ذات الاکمام
اس میں میوے ہیں اور کھجور کے درخت ہیں ‘ جن
کے پھلوں پر غلاف ہوتا ہے
فِیْھَا فَاکِھَۃٌ : ابن کیسان نے کہا : فاکھہ سے مراد وہ بیشمار نعمتیں ہیں جو لذت کے لیے کھائی جاتی ہیں۔
اَلْاَکْمَامِ : یہ کِمٌّ کی جمع ہے اور کم کا معنی ہے پھل کا غلاف۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
(11۔ 13) کہ اس زمین میں مختلف اقسام کے میوے ہیں اور کھجور کے درخت ہیں جن کے پھل پر غلاب چڑھا ہوتا ہے اور اس میں مختلف قسم کے بھوسا اور پتے والے غلے ہیں اور اس میں غذا کی چیز اور پھل بھی ہیں۔ سو رسول اکرم کی ذات اقدس کے علاوہ اے جن و انس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔
Read the full tafseer →فِیْہَا فَاکِہَۃٌ وَّالنَّخْلُ ذَاتُ الْاَکْمَامِ :”فاکھۃ“ ان پھلوں اور چیزوں کا نام ہے جو بطور خوراک نہیں بلکہ لذت اور خوشی کے لیے کھائی جاتی ہیں۔ یہ ”فکہ یف کہ“ (فرح یفرح) سے مشتق ہے ، جس کا معنی باتوں اور ہنسی وغیرہ کے ساتھ خوش وقت ہوتا ہے۔ ’ ’ فاکھۃ“ پر تنوین تکثیر و تعظیم کے اظہار کے لیے ہے۔ ”النحل“ کھجور کے درخت ، یہ اسم جنس ہے ، ایک درخت کہنا ہو تو ”نخلۃ“ کہتے ہیں۔ ”الاکمام“ ”کم“ (کاف پر کسرہ) کی جمع ہے، کھجور کے خوشے کے اوپر والا غلاف۔ یہ غفال کھایا نہیں جاتا ، اس لیے مراد خوشوں کے حسن کا بیان ہے۔ اللہ تعالیٰ نے درختوں کے اوپر اور درختوں سے اترنے کے بعد بھی پھلوں کی جس طرح پیکنگ کی ہے…
Read the full tafseer →فیھافاکھۃ مختلف آئے پھلوں سے انسان جو لطف اندوز ہوتا ہے۔ والنخل ذات الاکمام۔ اکمام، کم کی جمع ہے۔ جو ہری نے کہا : کمہ اور کمامہ کا معنی گا بھے گا غلاف اور کلی کا پردہ اس کی جمع کمام، اکمہ، اکمامہ اور اکامیم آتی ہے کم الفصیل جب اس پر شفقت کی گئی اسے ڈھانپا گیا یہاں تک کہ وہ طاقتور ہوگیا، عجاج نے کہا :
بل لو شھدت الناس اذ تکموا بغمۃ لو لم تفرج غموا
تکموا یعنی ان پر غشی طاری ہوگئی اور انہیں ڈھانپ لیا گیا۔ اکمت النخلۃ یعنی اس نے گابھے کے پردے نکالے۔ کمام اور کمامہ کا معنی یہ بھی ہے جس کے ساتھ اونٹ کا منہ باندھا جاتا ہے تاکہ وہ کسی کو نہ کاٹے۔ اس معنی میں تو کہتا ہے بعیر مکموم۔ کمت الشی میں نے اسے…
Read the full tafseer →36:۔ ابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' والنخل ذات الاکمام '' (اور کھجور کے درخت ہیں جن کے پھلوں پر غلاف ہوتا ہے) یعنی کھجور کے شگوفے کا غلاف۔
Read the full tafseer →فِيْهَا فَاكِهَةٌ ۽ [ اس (زمین ) میں پھل ہے ] وَّالنَّخْلُ ذَاتُ الْاَكْمَامِ [ اور غلافوں والی کھجوریں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–13
انصاف کے ساتھ وزن کرنے کا حکم :
﴿ وَ وَضَعَ الْمِيْزَانَۙ007﴾ اور اللہ تعالیٰ نے ترازو کو رکھ دیا ﴿ اَلَّا تَطْغَوْا فِي الْمِيْزَانِ 008﴾ (تاکہ تولنے میں سرکشی یعنی نافرمانی نہ کرو) عدل پر قائم رہو ایسا نہ کرو کہ دوسروں سے اپنے حق میں زیادہ تلواؤ اور دوسروں کے لیے تولو تو ڈنڈی ماردو اور گھٹا کر تولو جیسا کہ سورة التطفیف کے شروع میں تولنے والوں کی زیادتی کا طریقہ بیان فرمایا ہے، سورة الانعام اور سورة بنی اسرائیل میں بھی حکم ہے (کہ ناپ اور تول کو انصاف کے ساتھ قائم کرو)
﴿وَ الْاَرْضَ وَ ضَعَهَا لِلْاَنَامِۙ0010﴾ (اور زمین کو رکھ دیا لوگوں کے نفع کے لیے) زمین کو اللہ تعالیٰ نے بچھونا بنا دیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–25
انعامات رب جلیل بر انسان بعطاء وصف بیان وتعلیم قرآن وفیضان نعماء جسمانیہ وروحانیہ :
قال اللہ تعالیٰ : الرحمن علم القرآن ...... الی ...... فبای الآء ربکما تکذبن “۔
(ربط) سورة قمر میں دلائل نبوت اور معجزات عظیمہ کا بیان تھا اور امم سابقہ کے احوال ذکر فرمائے گئے کہ کس طرح انہوں نے اپنے پیغمبروں کا انکار کیا اور ان پر ایمان نہ لائے جس کے باعث عذاب خداوندی سے انکو ہلاک وبرباد کردیا گیا جس سے مقصود اہل مکہ کو متنبہ کرنا تھا کہ وہ ان احوال وواقعات کو سوچ کر اپنے انجام کے بارے میں بھی خود فیصلہ کرلیں تو اس کے بعد حق تعالیٰ شانہ نے ان انعامات خاصہ کا ذکر فرمایا جو انسان پر کئے گئے ان انعامات میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
5:۔ ” والارض وضعہا “ سفلیات کا ذکر۔ اور اللہ نے زمین کو لوگوں کے لیے پیدا کر کے رکھدیا ہے تاکہ وہ اس سے ہر قسم کا فائدہ اٹھائیں۔ جس میں ہر قسم کے پھل اور میوے پیدا ہوتے ہیں۔ خصوصاً کھجور کے درخت جس کے بھاری بھرکم گچھے آویزاں ہیں۔ ” والحب ذوالعصف “ اور ہر قسم کے غلے پیدا ہوتے ہیں جن کے باقی اجزاء بھوسے کی شکل میں مویشیوں کے چارے میں کار آمد ہیں۔ ” والریحان “ غذائی اجناس اور میووں کے علاوہ زمین میں خوشبودار پودے بھی ہوتے ہیں جن کی خوشبو دل و دماغ کو معطر اور تازہ کردیتی ہے۔ ھول کمل مشموم طیب الریح من النبات (روح ج 27 ص 103) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–13
نام اور کوائف
اس سورة مبارکہ کا نام سورة الرحمن ہے جو اس کے پہلے لفظ سے ماخوذ ہے صرف ایک آیت کے سوا یہ ساری سورة مکی دور میں نازل ہوئی اس سورة کی اٹھہتر آیات اور تین رکوع ہیں اور یہ سورة 351 الفاظ اور 1636 حروف پر مشتمل ہے۔
مضامین سورة
مکی سورتوں میں عام طور پر بنیادی عقائد ہی کا ذکر ہے۔ ان سورتوں میں احکام کا سلسلہ حال ہے۔ مکی دور میں چونکہ اسلامی معاشرہ کی بنیاد ہی نہیں رکھی جاسکی تھی ، لہٰذا اس دوران زیادہ تر اخلاق اور عقائد کی اصلاح پر توجہ دی گئی ہے چناچہ اس سورة مبارکہ میں بھی یہی پہلو غالب ہے۔ اس زمانے میں عرب میں شرک کی مختلف قسمیں رائج تھیں یا بالکل کفر تھا۔ اللہ نے مکی سورتوں میں…
Read the full tafseer →فِيْہَا فَاكِہَۃٌ 0 ۠ ۙ وَّالنَّخْلُ ذَاتُ الْاَكْمَامِ 11 ۖ
فكه
الفَاكِهَةُ قيل : هي الثّمار کلها، وقیل : بل هي الثّمار ما عدا العنب والرّمّان . وقائل هذا كأنه نظر إلى اختصاصهما بالذّكر، وعطفهما علی الفاکهة . قال تعالی: وَفاكِهَةٍ مِمَّا يَتَخَيَّرُونَ
[ الواقعة/ 20] ، وَفاكِهَةٍ كَثِيرَةٍ [ الواقعة/ 32] ، وَفاكِهَةً وَأَبًّا [ عبس/ 31] ، فَواكِهُ وَهُمْ مُكْرَمُونَ [ الصافات/ 42] ، وَفَواكِهَ مِمَّا يَشْتَهُونَ [ المرسلات/ 42] ، والفُكَاهَةُ :
حدیث ذوي الأنس، وقوله : فَظَلْتُمْ تَفَكَّهُونَ«1» قيل : تتعاطون الفُكَاهَةَ ، وقیل :
تتناولون الْفَاكِهَةَ. وکذلک قوله : فاكِهِينَ بِما آتاهُمْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–18
ترکیب : ولاتخسرو ابضم التاء ای ولا تنقصوا الموزدن وقیل التقدیر فی المیزان۔ ویقرء بفتح التاء والخاء والاول اصح۔ للانام یتعلق بوضعہا والحب بالرفع عطفاً علی النخل والریحان کذلک ویقرء بالنصب ای خلق الحب۔ کالفخار لغت لصلصال من نار لغت لمارج۔ رب المشرقین ای ھو وقیل ھذا مبتداء دخبرہ مرج الاکمام جمع کم بالکسرو ھو دعاء الثمر اصلہ یطلق علی ماستر شیئا ومنہ کم القمیص بالضم۔
تفسیر : پہلے بطور علت و سبب کے عدل قائم کرنا بیان فرمایا تھا۔ اب بصراحت حکم دیتا ہے واقیموالوزن بالقسط کہ دنیا میں انصاف کی ترازو سے تولو۔ یہ حکم بڑا وسیع المعنی ہے جس میں اشیاء کا انصاف سے تولنا بھی داخل ہے اور عموماً ہر بات میں حق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
وَالْاَرْضَ وَضَعَھَا لِلْاَنَامِ ۔ فِیْھَا فَاکِھَۃٌ ص لا وَّالنَّخْلُ ذَاتُ الْاَکْمَامِ ۔ وَالْحَبُّ ذُوالْعَصْفِ وَالرَّیْحَانُ ۔ (الرحمن : 10 تا 12)
(اور زمین کو اس نے بچھایا مخلوقات کے لیے۔ اس میں میوے اور کھجور ہیں جن پر غلاف چڑھے ہوئے ہیں۔ اور بھس والے غلے بھی ہیں اور خوشبودار پھول بھی۔ )
زمین پر پھیلے ہوئے خوانِ ربوبیت کا ذکر
آسمان کے ذکر کے حوالے سے بعض اہم حقائق کی طرف توجہ دلانے کے بعد اب زمین کا ذکر فرمایا جارہا ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے اپنا خوان ربوبیت بچھا رکھا ہے۔ اور الفاظ کا انتخاب بلاغت کا شاہکار ہے۔ آسمان کے لیے رفع کا لفظ استعمال فرمایا، اور زمین کے لیے وضع کا لفظ۔ اس سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–13
فہم القرآن
ربط کلام : آسمان کے بعد زمین اور اس کے فوائد کا مختصر ذکر۔
جس الرحمن نے شمس و قمر اور نجم وشجر پیدا کیے ہیں اور القسط قائم کرنے کا حکم دیا اسی نے اپنی مخلوق کے لیے زمین کو فرش کے طور پر بچھایا ہے۔
قرآن مجید نے جس طرح انسان کو آسمانوں کے بارے میں معلومات فراہم کی ہیں اسی طرح زمین کے بارے میں بھی بہت کچھ بتلایا ہے۔
” کیا وہ لوگ جو کفر کرتے ہیں وہ غور نہیں کرتے کہ آسمان اور زمین آپس میں ملے ہوئے تھے ہم نے انہیں الگ الگ کیا اور ہر زندہ چیز پانی سے پیدا کی ؟ کیا پھر بھی وہ ایمان نہیں لاتے اور ہم نے زمین میں پہاڑ بنائے تاکہ زمین انہیں لے کر ڈھلک نہ پڑے اور زمین میں کشادہ راہیں بنایں تاکہ…
Read the full tafseer →11 : فِیْھَا فٰـکِھَۃٌ (اس میں میوے ہیں) بہت سی اقسام جس کو لوگ بطور لذت کے استعمال کرتے ہیں۔ وَّ النَّخْلُ ذَاتُ الْاَکْمَامِ (اور کھجور کے درخت ہیں جس کے پھلوں پر غلاف ہوتا ہے) اکمامؔ پھل کا برتن اس کا واحد کِمٌّ ہے یا ہر وہ چیز جو چھپائے جیسے چھلکا، چھڑیاں پتے تمام سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے جیسا اس کے چھپے ہوئے پھل اور گابھے اور تنے سے فائدہ حاصل کیا جاتا ہے
Read the full tafseer →10 ۔” والارض وضعھا للانام “ ان مخلوقات کے لئے جن کو اس میں بکھیرا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–13
1۔ 13۔ اگرچہ سورة نحل میں گزر چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر اس قدر احسان کئے ہیں کہ ان احسانات اور اس کی نعمتوں کا شکریہ کرنا تو درکنار اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں کا ہر ایک شخص اگر اللہ تعالیٰ کے احسانات اور اس کی نعمت کی گنتی بھی کرنی چاہے تو یہ بات بھی اللہ تعالیٰ کی مخلوق کی طاقت سے باہر ہے لیکن جن و انسان کے فقط یاد دلانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے اس سورة میں اکتیس قسم کی نعمتوں کا ذکر فرمایا ہے اور ہر ایک قسم کی نعمت کے ذکر کے بعد جن و انسان سے تنبیہ کے طور پر یہ پوچھا ہے کہ تم دونوں اللہ تعالیٰ کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤگے۔ مطلب یہ ہے کہ جس اللہ نے انسان کو ‘ انسان کی سب ضرورت کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
(وَالْاَرْضَ وَضَعَهَا) یعنی اللہ نے زمین کو اس کی کثافتوں اور اس کے اسقرار اور اس کے اوصاف واحوال سمیت بنایا۔ (لِلْاَنَامِ ) مخلوق کے لیے تاکہ وہ زمین کو ٹھکانہ بنائے زمین ان کے لیے ہموار فرش کا کام دے یہ اس پر عمارتیں تعمیر کریں زمین پر کھیتی باڑی کریں، باغات لگائیں، کنویں کھودیں، اس کے راستوں پر چلیں، اس کی معدنیات اور ان تمام چیزوں سے فائدہ اٹھائیں جن کی انہیں حاجت اور ضرورت ہو پھر اللہ تعالیٰ نے خوراک کی ضروری اشیا کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا (فِيْهَا فَاكِهَةٌ ۽) اس میں لذیذ پھل ہیں۔ اس سے مراد وہ تمام درخت ہیں جو پھل پیدا کرتے ہیں جنہیں بندے مزے سے کھاتے ہیں مثلا، انگور، انجیر، انار، اور…
Read the full tafseer →[ 11] پھلوں کی نعمت کا ذکر وبیان :
سو زمین کے اس عظیم الشان بچھونے کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ اس میں طرح طرح کے لذیذ پھل بھی ہیں۔ جن کے رنگ شکلیں مزے اور خواص و فوائد باہم مختلف ہیں، [ جامع البیان، صفوۃ التفاسیر، وغیرہ ] اور جن سے تمہارے طرح طرح کے اور بےحد و حساب فوائد و منافع بھی وابستہ ہیں، اور جن سے تم لوگ طرح طرح سے مستفید و فیضیاب ہوتے ہو اور دن رات ہر وقت مستفید ہوتے ہو۔ تو پھر سوچو کہ اس واہب مطلق کا تم پر کیا حق ہے جس نے تم کو نعمتوں سے سرفراز ومالا مال فرمایا ؟ سو ان عظیم الشان پھلوں کا وجود اور وہ بھی اس کثرت کے ساتھ زمین کے اس بچھونے کی عظمت شان کا ایک اہم پہلو ہے۔ سو پہلے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–13
رب جس نے انسان کو پیدا کیا اس کی تمام ضروریات پوری کردیں
تشریح :۔ رحمن اللہ کا صفاتی نام ہے اور یہ صفاتی نام پورے قرآن پاک میں تقریبا 55 مقامات پر آیا ہے۔ یہ اس کی رحمن ہونے کی دلیل ہے کہ جو اس نے مخلوقات کو بنایا۔ راہ ہدایت دکھانے کے لیے قرآن نازل فرمایا اور پوری کائنات کو اپنے رحم و کرم سے بھر دیا۔ اس کا رحم و کرم ہر ایک کے لیے برابر ہے۔ چاہے کوئی کافر ہو مسلم ہو، نیک ہو یا بد ہو، متقی ہو یا گنہگار ہو۔ غرض اس کی عنایات سے ہر کوئی فیض یاب ہو رہا ہے۔ اور یہ بھی اس کے رحمن ہونے کا ثبوت ہے کہ اس نے علم سکھایا۔ قرآن پاک جس میں پوری کائنات تمام تخلیقات کے ہر قسم کے علوم بیان کردیے گئے ہیں اور ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–25
آیات 1 تا 25۔
اسرار ومعارف۔
وہ ذات بیحد و حساب رحم کرنے والی ہے اور اس کی رحمت ہے کہ اس نے قرآن سکھلایا اپنے نبی پر نازل فرما کر ان خوش نصیبوں کو جنہوں نے آپ سے سیکھا اور ان کے واسطے سے اگلوں کو سکھایا یوں تعلیم قرآن کا سلسلہ ہمیشہ کے لیے جاری فرمایا کہ بنی آدم میں سے جو چاہے اس چشمہ رحمت سے سیراب ہو۔ آخر یہ بھی تو اسی کی رحمت عامہ ہے کہ انسان کو پیدا فرمایا اور اسے زبان دانی بات کرنے کا فن ودیعت فرمایا کہ وہ علم قرآن حاصل کرسکنے کے قابل ہوا۔
قوت گویائی کا اصل مصرف۔
گویاقوت گویائی اور بات کرنے کی صلاحیت کا اصل مصرف علوم قرآن کا حصول اور اس کا آگے پہنچانا ہے باقی سارے فوائد دوسرے درجے میں ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–12
ف 9 یعنی آدمیوں کے لئے دانہ اور جانوروں کے لئے بھوسا۔
Read the full tafseer →(55:11) فیہا : ای فی الارض۔
فاکھۃ :ک ہ مادہ سے بروزن فاعل اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر ہے۔ جس کی جمع فواکہ ہے۔ ہ آخر میں مبالغہ کی ہے۔ فکھ ظریف اور ہنس ہنس کی باتیں کرنے والے کو کہتے ہیں۔
ابن کیسان نے فاکھۃ سے وہ بیشمار نعمتیں مراد لی ہیں جو لذت کے لئے کھائی جاتی ہیں۔
بعض نے کہا ہے کہ یہ لفظ ہر قسم کے میوہ جات پر بولا جاتا ہے۔
اور بعض نے کہا ہے کہ کھجور اور انار کے علاوہ میوہ جات کو فاکہۃ کہا جاتا ہے اور انہوں نے ان دونوں کو اس لئے مستثنیٰ کیا ہے کہ قرآن مجید میں ان دونوں کو فاکھۃ پر عطف کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے ۔ جیسے فیہا فاکھۃ ونخل ورمان (55:68) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں فاکہۃ کے غیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–25
لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 25
علم اس نے سکھایا۔ البیان بولنا بحسبان ایک حساب سے، ایک طریقے سے۔ النجم بےتنے کے درخت، پودے۔ وضع اس نے رکھا ۔ اس نے بنایا ۔ الاتطفوا یہ کہ تم نہ گھٹائو۔ انام مخلوق۔ الاکمام (کم) غلام، چھلکا ۔ العصف بھوسہ (جانوروں کی غذا) الریحان خوشبودار ۔ الاء (الی) نعمتیں صلصال خشک مٹی جو کھن کھن بجتی ہو۔ الفخار ٹھیکرا۔ الجان جن ، ابو الجنات ۔ مارج شعلہ جس میں دھواں نہ ہو۔ مرج (خوب بہتا ہے) جاری کیا البحرین دوریا، دو سمندر۔ برزخ پردہ، رکاوٹ۔ لا یبغین دونوں کو ملنے نہیں دیتا اللولو موتی۔ المرجان مونگا، سفید موتی۔ المنشئت بلند کئے ہوئے۔ الاغلام (ملم) پہاڑ، جھنڈا
اللہ تعالیٰ نے اپنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
(ف 2) اگرچہ سورة نحل میں گزرچکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر اس قدر احسان کیے ہیں کہ ان احسانات اور اس کی نعمتوں کا شکریہ کرنا تو درکنار ، اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے ہر ایک شخص اگر اللہ تعالیٰ کے احسانات اور اس کی نعمت کی گنتی بھی کرنا چاہیے تو یہ بات بھی اللہ تعالیٰ کی مکلوق کی طاقت سے باہر ہے لیکن آدمیوں اور جن کے فقط یاد دلانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں اکتیس قسم کی نعمتوں کا ذکر فرمایا ہے اور ہر ایک قسم کی نعمت کے ذکر کرے بعدجن وانس سے تنبیہ کے طور پر یہ پوچھا ہے کہ تم دونوں اللہ تعالیٰ کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے اس سورة میں جہاں تکذبن ہے خطاب جن و انسان سے ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–12
[4] اس سے معلوم ہوا کہ ناپ تول میں کامل انصاف کا حکم ایک عظیم حکم ہے۔ یہ اس میزان کی ایک فرع ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے اس عالم کا نظام قائم فرمایا ہے۔ یہیں سے یہ بات نکلی کہ جو قوم اس میں فساد برپا کرتی ہے وہ سارے نظام عدل میں فساد برپا کرتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–16
جنوں کا وجود
1: جن ایک الگ مخلوق ہے ۔ جس کو اللہ تعالیٰ نے آگ سے پیدا کیا ہے ۔ یہی وجہ ہے ۔ ان میں لطافت زیادہ ہے ۔ آج سے پچاس سال قبل تو لوگ اس مخلوق کا انکار کرتے تھے ۔ مگر اب تجربات نے ثابت کردیا ہے ۔ کہ جنات بھی موجود ہیں ۔ اور وہ لوگ جنہوں نے بڑے شدومد سے کہا تھا ۔ کہ یہ محض وہم ہے ۔ اب وہی کہہ رہے ہیں ۔ کہ یہ ایک حقیقت ہے ۔ ہمارے ہاں بعض ایسے جاہل بھی موجود ہیں ۔ جنہوں نے اس وقت کی آواز کو تو سنا تھا ۔ مگر موجودہ وقت کے خیالات سے آگاہ نہیں ۔ وہ اب تک یہ سمجھے بیٹھے ہیں ۔ کہ علماء مغرب کے معتقلات میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ۔ بلکہ وہ اس قدر روشن خیال ہیں ۔ کہ سارا مغرب بھی ان مسائل کا قائل…
Read the full tafseer →(11) کہ اس میں میوے ہیں اور کھجوروں کے درخت ہیں جن کے پھلوں پر غلاف چڑھے ہوئے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–13
ف 5۔ یہ آیت تفریعیہ اس سورت میں اکتیس جگہ آئی ہے اور ہر جگہ الاء کا مصداق جدا ہے، اس لئے یہ تکرار محض نہیں، محض لفظی تشارک ہے اور تکرار ظاہری کیو جہ سے اس میں افادہ تاکید بھی ہے اور اس قسم کا تکرار جو کہ قند مکرر سے شیریں تر ہے عرب کے کلام منثور و منظوم میں بکثرت بلا نکیر مستعمل ہے۔ تکذبان میں خطاب جن و انس کو ہونا ان دلائل سے ہے، قولہ تعالیٰ خلق الانسان و خلق الجان، قولہ تعالیٰ ایہ الثقلان، قولہ تعالیٰ انس قبلھم ولا جان۔
Read the full tafseer →اس میں کھجور کے درخت پیدا کیے جن کے خوشوں پر غلاف ہوتے ہیں
11۔ ان سب پر بحث تو ممکن ہی نہیں صرف ایک درخت پر غور کرو جس کو تم لوگ کجھور کے نام سے یاد کرتے ہو جو انسان کے لیے نہایت ہی نفع بخش درخت ہے کہ پھل لگنے سے شروع ہو کر پکنے اور خشک کرکے محفوظ رکھنے کے بعد تک کام آتا رہتا ہے ، تر اور خشک کھایا جاتا ہے ، بطور خوراک استعمال ہوتا ہے اور نہایت ہی کارآمد پھل ہے۔ اس پر خوشے ہوتے ہیں جن کو چیر کر یہ باہر آتا ہے پھر گدلا ہوتا ہے ، پھر تروتازہ ہوجاتا ہے اور پھر اپنے وقت پر پک کر تیار ہوجاتا ہے اور انسان کی طرح پانچ چھ اطوار سے گزر کر تیار ہوجاتا ہے جو انسان کے لیے بہت ہی نفع بخش ہے۔ ابن ابی حاتم…
Read the full tafseer →فِيهَا فَاكِهَةٌ (in which there are fruits ....55:11). The word فَاكِهَةٌ fakihah refers to fruits that are normally eaten after food for pleasure.
وَالنَّخْلُ ذَاتُ الْأَكْمَامِ (...and the date-palms having sheaths...55:11). The word أَكْمَامِ akmam is the plural of کِمّ kimm, and refers to 'the cover that surrounds and protects dates and other fruits in the beginning'
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
9 Now from here to verse 20, mention is being made of the blessing and bounties of God and of those manifestations of His might by which both man and jinn are benefiting, and whose natural and moral demand is that although they have the option to believe or not to believe, they should adopt the way of their Lord's service and obedience willingly by their own free choice.
10 The word wade `in the original means to compost, make, prepare, keep. and inscribe, and anam the creatures, which includes man and all other living things. According to Ibn 'Abbas, anam includes every thing which has a…
Read the full tafseer →