Explained with ayahs 1–13
انسان پر اللہ تعالیٰ کے احسانات کی ایک جھلک
اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کاملہ کا بیان فرماتا ہے کہ اس نے اپنے بندوں پر قرآن کریم نازل فرمایا اور اپنے فضل و کرم سے اس کا حفظ کرنا بالکل آسان کردیا اسی نے انسان کو پیدا کیا اور اسے بولنا سکھایا۔ قتادہ وغیرہ کہتے ہیں بیان سے مراد خیر و شر ہے لیکن بولنا ہی مراد لینا یہاں بہت اچھا ہے۔ حضرت حسن کا قول بھی یہی ہے اور ساتھ ہی تعلیم قرآن کا ذکر ہے جس سے مراد تلاوت قرآن ہے اور تلاوت موقوف ہے بولنے کی آسانی پر ہر حرف اپنے مخرج سے بےتکلف زبان ادا کرتی رہتی ہے خواہ حلق سے نکلتا ہو خواہ دونوں ہونٹوں کے ملانے سے مختلف، مخرج اور مختلف قسم کے حروف کی ادائیگی اللہ…
Read the full tafseer →سورة الرَّحْمٰن 11
یعنی آدمیوں کے لیے دانہ اور جانوروں کے لیے چارہ۔
Read the full tafseer →وَالْحَبُّ ذو الْعَصْفِ ، لفظ حب بفتح حاء و تشدید باء دانے یعنی غلے کو کہا جاتا ہے، جیسے گندم، چنا، چاول، ماش، مسور وغیرہ اور عصف اس بھوسے کو کہتے ہیں جس کے اندر پیک کیا ہوا دانہ بقدرت خداوندی و حکمت بالغہ پیدا کیا جاتا ہے، عصف یعنی بھوسے کے غلاف میں پیک ہو کر خراب ہواؤں اور مکھی مچھر وغیرہ سے پاک و صاف رہتا ہے، دانے کی پیدائش کے ساتھ ذو الْعَصْفِ کا لفظ بڑھا کر غافل انسان کو اس طرف بھی متوجہ کیا گیا ہے کہ یہ روٹی، دال وغیرہ جو وہ دن میں کئی کئی مرتبہ کھاتا ہے اس کا ایک ایک دانہ مالک و خالق نے کیسی کیسی صنعت عجیبہ کے ساتھ مٹی اور پانی سے پیدا کیا اور پھر کس طرح اس کو حشرات الارض سے محفوظ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
(والارض وضعھا للانام فیھا فاکھۃ والنخل ذات الاکمام والحب ذوالعصف الریحان) (10۔ 13)
(زمین کے اسباب ربوبیت کی طرف اشارہ)۔ آسمان کے عجائب قدرت کی طرف توجہ دلانے کے بعد یہ زمین کے اسباب ربوبیت کی طرف توجہ دلائی۔ آسمان کے لیے دفع کا لفظ استعمال فرمایا تھا اس کے مقابل میں زمین کے لیے وضع کا لفظ نہایت موزوں اور معنی خیز استعمال فرمایا کہ آسمان کو شامیانے کی طرح تان دیا اور زمین کو فرش کی طرح بچھا دیا تاکہ اس کی مخلوقات کے لیے یہ ایک آرام دہ مکان بن جائے۔ پھر جس طرح آسمان پر سورج، چاند اور ستاروں کے چراغ اور قمقمے لگادیئے کہ اس گھر کو روشنی اور حرارت حاصل ہوتی رہے اسی طرح اس گھر میں مختلف قسم کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–12
12۔ 1 حب سے مراد وہ خوراک ہے جو انسان اور جانور کھاتے ہیں۔ خشک ہو کر اس کا پودا بھی بھس بن جاتا ہے جو جانوروں کے کام آتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–16
2: سجدہ حقیقی بھی ہوسکتا ہے، کیونکہ قرآن کریم نے کئی جگہ یہ فرمایا ہے کہ تمام مخلوقات میں کچھ نہ کچھ احساس موجود ہے۔ (دیکھئے سورة بنی اسرائیل : 44) اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ یہ سب اللہ تعالیٰ کے تابع فرمان ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
والارض ............ الاکمام (55: 11) والحب ............ والریحان (55: 21) (زمین کو اس نے مخلوقات کے لئے بنایا۔ اس میں ہر طرح کے بکثرت پھل ہیں ، کھجور کے درخت ہیں جن کے پھل غلافوں میں لپٹے ہوئے ہیں۔ طرح طرح کے غلے ہیں جن میں بھوسا بھی ہوتا ہے اور دانہ بھی) اس زمین میں بس کر اور رہ رہ کر ہمیں یہ چیزیں نظر نہیں آتیں۔ اس زمین کے حالات واطوار کو دیکھ کر اور اپنے حالات واحوال کو ہر وقت دیکھ دیکھ کر ہم اس کی کوئی چیز انوکھی نہیں پاتے جو دراصل عجوبہ ہوتی ہے اور دست قدرت کی عجب کارستانی ہوتی ہے اور زمین پر جس طرح ہمیں سکون وقرار سے رکھا گیا ہے ، اس کی ٹیکنالوجی کا ہمیں پورا شعور نہیں ہوتا اور جس طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
11 یعنی پھل میوے بھی زمین سے نکلتے ہیں اور غلہ اناج بھی۔ پھر غلہ میں دو چیزیں ہیں۔ دانہ، جو انسانوں کی غذا ہے اور بھوسہ جو جانوروں کے لیے ہے۔ اور بعض چیزیں زمین میں وہ پیدا ہوتی ہیں جو کھانے کے کام نہیں آتیں لیکن ان کی خوشبو وغیرہ سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے
Read the full tafseer →آیت 12 { وَالْحَبُّ ذُو الْعَصْفِ وَالرَّیْحَانُ۔ } ”اور ُ بھس والا اناج بھی ہے اور خوشبودار پھول بھی۔“
بعض مترجمین ”الرَّیْحَان“ سے مختلف النوع غذائیں بھی مراد لیتے ہیں۔
Read the full tafseer →10 یعنی اناج یا دانے تو انسان کی خوراک بنتے ہیں اور بھوسی جانوروں کی۔ ان کے علاوہ ایسی چیزیں بھی پیدا ہوتی ہیں جو کھانے کے کام نہیں آتیں تاہم ان کی خوشبو وغیرہ سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
8۔ (اور یہ سب نعمتیں انسان ہی کے کام میں آنے کے لئے ہیں، مراد ہر قسم کے نباتات، میوہ جات، پھل پھلاری، ترکاریاں وغیرہ ہیں) ۔ قرآن مجید نے ان مادی، حسی، غذائی نعمتوں کو نعمتوں ہی کی حیثیت سے پیش کیا ہے۔ باطل اور مسخ شدہ مذہبوں کے زیر اثر ان نعمتوں کی تحقیر کرنا، یا اپنے کو ان سے مارواء اور مافوق سمجھنا کفران نعمت کی ایک فرد ہے۔ (آیت) ” والحب ذو العصف والریحان “۔ جس طرح غلہ انسان کی غذا ہے، بھوسی بھوسہ گھاس وغیرہ جانوروں کی غذائیں ہیں۔ اور اس طرح بالواسطہ وہ بھی انسان ہی کے کام کی ہیں۔ (آیت) ” الریحان “۔ ریحان کے دوسرے معنی خوشبودار پھول کے بھی ہیں۔ گویا یہ ارشاد ہوا کہ زمین سے ایسی چیزیں بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–12
الشمس والقمر بحسبان انسان کے لئے جو نعمتیں حق تعالیٰ نے زمین و آسمان میں پیدا فرمائی ہیں اس آیت میں علویات میں سے شمس و قمر کا ذکر خصوصیت سیشاید اس لئے کیا ہے کہ عالم دنیا کا سارا نظام ان دونوں سیاروں کی حرکت اور ان کی شعاعوں سے وابستہ ہے۔
Read the full tafseer →والحب ذوالعصف والریحان
اور (اس میں) اناج ہے جس میں بھوسہ اور غذائی چیزیں ہوتی ہیں۔
وَالْحَبُّ : گیہوں ‘ جو اور وہ اناج جو غذا کے لیے کھایا جاتا ہے۔
ذُوالْعَصْفِ : عصف کھیتی کے پتے یا خشک گھاس جیسے بھوسہ۔
وَالرَّیْحَان : ریحان سے مراد ہے رزق یعنی مغز .... اکثر اہل تفسیر کا یہی قول ہے۔ عرب کہتے ہیں : خرجت اطلب ریحان اللہ۔ میں اللہ کا رزق تلاش کرنے کے لیے نکلا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : قرآن مجید میں جہاں بھی لفظ ریحان آیا ہے اس سے مراد رزق ہے۔
حسن اور ابن زید نے کہا : ریحان سے مراد یہی خوشبو ہے جو سونگھی جاتی ہے۔ ریحان کا لفظ روح سے مشتق ہے۔ ریحان (بروزن فعلان) اصل میں رویحان (بروزن فعیلان)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
(11۔ 13) کہ اس زمین میں مختلف اقسام کے میوے ہیں اور کھجور کے درخت ہیں جن کے پھل پر غلاب چڑھا ہوتا ہے اور اس میں مختلف قسم کے بھوسا اور پتے والے غلے ہیں اور اس میں غذا کی چیز اور پھل بھی ہیں۔ سو رسول اکرم کی ذات اقدس کے علاوہ اے جن و انس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔
Read the full tafseer →وَالْحَبُّ ذُوالْعَصْفِ وَالرَّیْحَانُ :”الحب“ دانے ، جیسے گندم ، چنے ، چاول وغیرہ یعنی غلہ جو انسان کی خوراک بنتا ہے۔”العصف“ دانوں کے اوپر کا چھلکا ، بھوسا ، جو جانوروں کی خوراک بنتا ہے، سورة ٔ فیل میں ہے :(کعصف ما کول) (الفیل : 5)”کھائے ہوئے بھوسے کی طرح“۔”الریحان“ خوشبو دار پودے اور پھول جو آدمی کے دماغ کو معطر کرتے ہیں۔ ”فاکھۃ“ سے وہ پھل مراد ہیں جو صرف لذت کے لیے کھائے جاتے ہیں اور ”النحل“ سے وہ پھل مراد ہے جو لذت اور خوراک دونوں کے لیے استعمال ہوتے ہیں اور ”الحب“ سے مراد غلے وغیرہ ہیں جو خوراک کے لیے استعمال ہوتے ہیں اور ”الریحان“ سے مراد جو خوشبو کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔
Read the full tafseer →والحب ذوالعصف والریحان۔ حب سے مراد گندم، جو وغیرہ ہیں۔ عصف کا معین بھوسہ ہے۔ حضرت حسن بصری وغیرہ سے مروی ہے مجاہد نے کہا، درخت اور کھیتی کا پتہ ہے۔ حضرت ابن عباس نے کہا، کھیتی کا تنکا اور پتہ جسے ہوائیں اڑاتی رہیں۔ سعید بن جبیر نے کہا، کھیتی میں سے جو سب سے پہلے اگتا ہے۔ یہ فراء کا قول ہے۔ عرب کہتے ہیں، خرجنا العصف الزرع پکنے سے پہلے جب اسے کاٹ لیں۔ صحاح میں اسی طرح ہے عمفت الزرع جب تو اس کو پکنے سے پہلے کاٹ لے۔ حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ عصف سے مراد سبز کھیتی کا پتہ ہے جب اس کا سرا کاٹ دیا جائے اور وہ خشک ہوجائے اس کی مثل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : فجعلھم کعصف ماکول۔ (الفیل) جوہری نے کہا…
Read the full tafseer →37:۔ ابن جریر (رح) ابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' والحب ذو العصف '' (اور دانہ ہے بھوسے والا یعنی گندم کا پتہ)
38:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے ضحاک (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد ہے گندم اور جو کا دانہ اور العصف وہ چھلکا ہے جو دانے کے اوپر ہوتا ہے۔
39:۔ ابن جریر وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' والحب ذو العصف '' سے مراد ہے بھوسہ (آیت ) '' والریحان '' سے مراد ہے کھیتی کی سرسبزی۔
40:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ (آیت ) '' العصف '' سے مراد ہے کھیتی کا پتہ جب وہ خشک…
Read the full tafseer →وَالْحَبُّ ذُو الْعَصْفِ [ اور بھوسے والے دانے ] وَالرَّيْحَانُ [ اور خوشبودار پودے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–13
انصاف کے ساتھ وزن کرنے کا حکم :
﴿ وَ وَضَعَ الْمِيْزَانَۙ007﴾ اور اللہ تعالیٰ نے ترازو کو رکھ دیا ﴿ اَلَّا تَطْغَوْا فِي الْمِيْزَانِ 008﴾ (تاکہ تولنے میں سرکشی یعنی نافرمانی نہ کرو) عدل پر قائم رہو ایسا نہ کرو کہ دوسروں سے اپنے حق میں زیادہ تلواؤ اور دوسروں کے لیے تولو تو ڈنڈی ماردو اور گھٹا کر تولو جیسا کہ سورة التطفیف کے شروع میں تولنے والوں کی زیادتی کا طریقہ بیان فرمایا ہے، سورة الانعام اور سورة بنی اسرائیل میں بھی حکم ہے (کہ ناپ اور تول کو انصاف کے ساتھ قائم کرو)
﴿وَ الْاَرْضَ وَ ضَعَهَا لِلْاَنَامِۙ0010﴾ (اور زمین کو رکھ دیا لوگوں کے نفع کے لیے) زمین کو اللہ تعالیٰ نے بچھونا بنا دیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–25
انعامات رب جلیل بر انسان بعطاء وصف بیان وتعلیم قرآن وفیضان نعماء جسمانیہ وروحانیہ :
قال اللہ تعالیٰ : الرحمن علم القرآن ...... الی ...... فبای الآء ربکما تکذبن “۔
(ربط) سورة قمر میں دلائل نبوت اور معجزات عظیمہ کا بیان تھا اور امم سابقہ کے احوال ذکر فرمائے گئے کہ کس طرح انہوں نے اپنے پیغمبروں کا انکار کیا اور ان پر ایمان نہ لائے جس کے باعث عذاب خداوندی سے انکو ہلاک وبرباد کردیا گیا جس سے مقصود اہل مکہ کو متنبہ کرنا تھا کہ وہ ان احوال وواقعات کو سوچ کر اپنے انجام کے بارے میں بھی خود فیصلہ کرلیں تو اس کے بعد حق تعالیٰ شانہ نے ان انعامات خاصہ کا ذکر فرمایا جو انسان پر کئے گئے ان انعامات میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
5:۔ ” والارض وضعہا “ سفلیات کا ذکر۔ اور اللہ نے زمین کو لوگوں کے لیے پیدا کر کے رکھدیا ہے تاکہ وہ اس سے ہر قسم کا فائدہ اٹھائیں۔ جس میں ہر قسم کے پھل اور میوے پیدا ہوتے ہیں۔ خصوصاً کھجور کے درخت جس کے بھاری بھرکم گچھے آویزاں ہیں۔ ” والحب ذوالعصف “ اور ہر قسم کے غلے پیدا ہوتے ہیں جن کے باقی اجزاء بھوسے کی شکل میں مویشیوں کے چارے میں کار آمد ہیں۔ ” والریحان “ غذائی اجناس اور میووں کے علاوہ زمین میں خوشبودار پودے بھی ہوتے ہیں جن کی خوشبو دل و دماغ کو معطر اور تازہ کردیتی ہے۔ ھول کمل مشموم طیب الریح من النبات (روح ج 27 ص 103) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–13
نام اور کوائف
اس سورة مبارکہ کا نام سورة الرحمن ہے جو اس کے پہلے لفظ سے ماخوذ ہے صرف ایک آیت کے سوا یہ ساری سورة مکی دور میں نازل ہوئی اس سورة کی اٹھہتر آیات اور تین رکوع ہیں اور یہ سورة 351 الفاظ اور 1636 حروف پر مشتمل ہے۔
مضامین سورة
مکی سورتوں میں عام طور پر بنیادی عقائد ہی کا ذکر ہے۔ ان سورتوں میں احکام کا سلسلہ حال ہے۔ مکی دور میں چونکہ اسلامی معاشرہ کی بنیاد ہی نہیں رکھی جاسکی تھی ، لہٰذا اس دوران زیادہ تر اخلاق اور عقائد کی اصلاح پر توجہ دی گئی ہے چناچہ اس سورة مبارکہ میں بھی یہی پہلو غالب ہے۔ اس زمانے میں عرب میں شرک کی مختلف قسمیں رائج تھیں یا بالکل کفر تھا۔ اللہ نے مکی سورتوں میں…
Read the full tafseer →وَالْحَبُّ ذُو الْعَصْفِ وَالرَّيْحَانُ 12 ۚ
حب ( دانه)
الحَبُّ والحَبَّة يقال في الحنطة والشعیر ونحوهما من المطعومات، والحبّ والحبّة في بزور الریاحین، قال اللہ تعالی: كَمَثَلِ حَبَّةٍ أَنْبَتَتْ سَبْعَ سَنابِلَ فِي كُلِّ سُنْبُلَةٍ مِائَةُ حَبَّةٍ [ البقرة/ 261] ، وقال : وَلا حَبَّةٍ فِي ظُلُماتِ الْأَرْضِ [ الأنعام/ 59] ، وقال تعالی: إِنَّ اللَّهَ فالِقُ الْحَبِّ وَالنَّوى [ الأنعام/ 95] ، وقوله تعالی: فَأَنْبَتْنا بِهِ جَنَّاتٍ وَحَبَّ الْحَصِيدِ [ ق/ 9] ، أي : الحنطة وما يجري مجراها ممّا يحصد، وفي الحدیث : «كما تنبت الحبّة في حمیل السیل»
( ج ب ب ) الحب والحبۃ ( فتحہ حاء ) گندم ۔ جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–18
ترکیب : ولاتخسرو ابضم التاء ای ولا تنقصوا الموزدن وقیل التقدیر فی المیزان۔ ویقرء بفتح التاء والخاء والاول اصح۔ للانام یتعلق بوضعہا والحب بالرفع عطفاً علی النخل والریحان کذلک ویقرء بالنصب ای خلق الحب۔ کالفخار لغت لصلصال من نار لغت لمارج۔ رب المشرقین ای ھو وقیل ھذا مبتداء دخبرہ مرج الاکمام جمع کم بالکسرو ھو دعاء الثمر اصلہ یطلق علی ماستر شیئا ومنہ کم القمیص بالضم۔
تفسیر : پہلے بطور علت و سبب کے عدل قائم کرنا بیان فرمایا تھا۔ اب بصراحت حکم دیتا ہے واقیموالوزن بالقسط کہ دنیا میں انصاف کی ترازو سے تولو۔ یہ حکم بڑا وسیع المعنی ہے جس میں اشیاء کا انصاف سے تولنا بھی داخل ہے اور عموماً ہر بات میں حق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
وَالْاَرْضَ وَضَعَھَا لِلْاَنَامِ ۔ فِیْھَا فَاکِھَۃٌ ص لا وَّالنَّخْلُ ذَاتُ الْاَکْمَامِ ۔ وَالْحَبُّ ذُوالْعَصْفِ وَالرَّیْحَانُ ۔ (الرحمن : 10 تا 12)
(اور زمین کو اس نے بچھایا مخلوقات کے لیے۔ اس میں میوے اور کھجور ہیں جن پر غلاف چڑھے ہوئے ہیں۔ اور بھس والے غلے بھی ہیں اور خوشبودار پھول بھی۔ )
زمین پر پھیلے ہوئے خوانِ ربوبیت کا ذکر
آسمان کے ذکر کے حوالے سے بعض اہم حقائق کی طرف توجہ دلانے کے بعد اب زمین کا ذکر فرمایا جارہا ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے اپنا خوان ربوبیت بچھا رکھا ہے۔ اور الفاظ کا انتخاب بلاغت کا شاہکار ہے۔ آسمان کے لیے رفع کا لفظ استعمال فرمایا، اور زمین کے لیے وضع کا لفظ۔ اس سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–13
فہم القرآن
ربط کلام : آسمان کے بعد زمین اور اس کے فوائد کا مختصر ذکر۔
جس الرحمن نے شمس و قمر اور نجم وشجر پیدا کیے ہیں اور القسط قائم کرنے کا حکم دیا اسی نے اپنی مخلوق کے لیے زمین کو فرش کے طور پر بچھایا ہے۔
قرآن مجید نے جس طرح انسان کو آسمانوں کے بارے میں معلومات فراہم کی ہیں اسی طرح زمین کے بارے میں بھی بہت کچھ بتلایا ہے۔
” کیا وہ لوگ جو کفر کرتے ہیں وہ غور نہیں کرتے کہ آسمان اور زمین آپس میں ملے ہوئے تھے ہم نے انہیں الگ الگ کیا اور ہر زندہ چیز پانی سے پیدا کی ؟ کیا پھر بھی وہ ایمان نہیں لاتے اور ہم نے زمین میں پہاڑ بنائے تاکہ زمین انہیں لے کر ڈھلک نہ پڑے اور زمین میں کشادہ راہیں بنایں تاکہ…
Read the full tafseer →12 : وَالْحَبُّ ذُوالْعَصْفِ وَالرَّیْحَانُ (اور اناج ہے جس میں بھوسہ اور غذائی چیزیں ہوتی ہیں) العصفؔ کھیتی ‘ پتے یا بھوسہ الریحانؔ رزق اور مغز کو کہتے ہیں مراد یہ ہے کہ کچھ غذائیں تو ایسی ہیں جو فقط تلذذ کے طور پر استعمال ہوتی ہیں اور بعض غذا و تلذذ ہر دو کی جامع ہیں اور وہ تمر ہے اور غذا فقط اناج میں ہے۔
نحو، قرات :
الریحان کو جر کے ساتھ حمزہ، علی نے پڑھا ہے یعنی والحب ذوالعصف الذی ھو علف الانعام والریحان الذی ھو مطعم الانسان۔ اور اناج بھوسے والا وہ بھوسہ جو چوپایوں کی خوراک ہے اور ریحان یہ انسانوں کا کھانا ہے۔ نمبر 2۔ رفع سے اگر پڑھیں تو ذوالریحان ہوگا اور مضاف کو حذف کر کے مضاف الیہ کو…
Read the full tafseer →11 ۔” فیھا فاکھۃ “ یعنی میوئوں کی اقسام۔ ابن کیسان (رح) فرماتے ہیں جن نعمتوں سے وہ لطف اندوز ہوتے ہیں جو شمار سے باہر ہیں۔ ” والنخل ذات الاکمام “ وہ خوشے جن میں کھجور ہوتی ہے۔ اس لئے کہ کھجور غلاف میں ہوتی ہے جب تک وہ پھٹے نہ۔ اس کا واحد کم ہے اور جو کسی چیز کو ڈھانپ لے وہ ” کم “ اور ” کمۃ “ ہے اور اسی سے قمیص کی آستین ہے اور ٹوپی کو ” کمشہ “ کہا جاتا ہے۔ ضحاک (رح) فرماتے ہیں ذات الاکمام یعنی غلافوں والی اور حسن (رح) فرماتے ہیں اس کے ” اکمم “ اس کے پتے ہیں اور ابن زید (رح) فرماتی ہیں وہ شگوفہ ہے پھٹنے سے پہلے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–13
1۔ 13۔ اگرچہ سورة نحل میں گزر چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر اس قدر احسان کئے ہیں کہ ان احسانات اور اس کی نعمتوں کا شکریہ کرنا تو درکنار اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں کا ہر ایک شخص اگر اللہ تعالیٰ کے احسانات اور اس کی نعمت کی گنتی بھی کرنی چاہے تو یہ بات بھی اللہ تعالیٰ کی مخلوق کی طاقت سے باہر ہے لیکن جن و انسان کے فقط یاد دلانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے اس سورة میں اکتیس قسم کی نعمتوں کا ذکر فرمایا ہے اور ہر ایک قسم کی نعمت کے ذکر کے بعد جن و انسان سے تنبیہ کے طور پر یہ پوچھا ہے کہ تم دونوں اللہ تعالیٰ کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤگے۔ مطلب یہ ہے کہ جس اللہ نے انسان کو ‘ انسان کی سب ضرورت کی…
Read the full tafseer →(وَالْحَبُّ ذُو الْعَصْفِ ) اور بھوسے والے دانے (اناج) ۔ یعنی نال دار اناج جسے گاہا جاتا ہے پھر مویشیوں وغیرہ کے لیے اس کے بھوسے سے استفادہ کیا جاتا ہے اس میں گیہوں، جو، مکئی چاول اور چنا وغیرہ شامل ہیں۔ ( وَالرَّيْحَانُ ) اور خوشبودار پھول۔ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے رزق کی تمام اقسام مراد ہوں جس کو آدمی کھات ہیں تب یہ خاص پر عطف عام کے باب میں شمار ہوگا اور اس کے معنی یہ ہوں گے کہ اللہ نے اپنے بندوں کو عمومی اور خصوصی خوراک اور رزق سے نوازا ہے یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد معروف ریحان ہو اللہ تعالیٰ نے مختلف انواع کی خوش کن اور فاخرہ خوشبوں کو زمین میں سے مہیا کرکے ان سے اپنے بندوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–21
عصف اور ریحان کی تشریح
قول باری ہے (والحب ذوالعصف والریحان۔ طرح طرح کے غلے ہیں جن میں بھوسا بھی ہوتا ہے اور دانہ بھی) حضرت ابن عباس ؓ ، قتادہ اور ضحاک سے مروی ہے کہ عصف بھوسے کو کہتے ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ ، مجاہد اور ضحاک سے منقول ہے کہ ریحان ورق یعنی پتے کو کہتے ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ سے یہ بھی مروی ہے کہ ریحان غذائی دانوں کو کہتے ہیں۔ حسن کا قول ہے کہ ریحان پھول کو کہتے ہیں جسے سونگھا جاتا ہے۔
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اگر یہ تمام معانی مراد لئے جائیں تو اس میں کوئی امتناع نہیں ہے کیونکہ ریحان کا اسم ان سب پر واقع ہوتا ہے۔ تاہم ریحان کے ظاہری معنی اس پھول کے ہیں جس کی خوشبو سونگھی جاتی ہے۔ جب…
Read the full tafseer →[ 13] طرح طرح کے غلوں کی نعمت کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس بچھونائے ارضی میں اور طرح طرح کے غلے بھی ہیں۔ تاکہ تمہاری خوراک کا انتظام و بندوبست بھی ہو اور تمہارے کام آنے والے جانوروں کا بھی۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ { متاعا لکم ولانعامکم } سو یہاں پر غلوں کے ساتھ پھلوں اور خاص کر پھولوں کے ذکر سے اس حقیقت کی طرف اشارہ ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کیلئے صرف پیٹ بھرنے کا سامان نہیں کیا، بلکہ ان کے ذوق جمال کی تسکین لذت کام و دہن کی تکمیل اور شوق آرائش و تجمیل کا سامان بھی کیا ہے، جو کہ اس کی ربوبیت ہی کی دلیل نہیں بلکہ خاص اہتمام ربوبیت کی دلیل ہے، سبحانہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–13
رب جس نے انسان کو پیدا کیا اس کی تمام ضروریات پوری کردیں
تشریح :۔ رحمن اللہ کا صفاتی نام ہے اور یہ صفاتی نام پورے قرآن پاک میں تقریبا 55 مقامات پر آیا ہے۔ یہ اس کی رحمن ہونے کی دلیل ہے کہ جو اس نے مخلوقات کو بنایا۔ راہ ہدایت دکھانے کے لیے قرآن نازل فرمایا اور پوری کائنات کو اپنے رحم و کرم سے بھر دیا۔ اس کا رحم و کرم ہر ایک کے لیے برابر ہے۔ چاہے کوئی کافر ہو مسلم ہو، نیک ہو یا بد ہو، متقی ہو یا گنہگار ہو۔ غرض اس کی عنایات سے ہر کوئی فیض یاب ہو رہا ہے۔ اور یہ بھی اس کے رحمن ہونے کا ثبوت ہے کہ اس نے علم سکھایا۔ قرآن پاک جس میں پوری کائنات تمام تخلیقات کے ہر قسم کے علوم بیان کردیے گئے ہیں اور ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–25
آیات 1 تا 25۔
اسرار ومعارف۔
وہ ذات بیحد و حساب رحم کرنے والی ہے اور اس کی رحمت ہے کہ اس نے قرآن سکھلایا اپنے نبی پر نازل فرما کر ان خوش نصیبوں کو جنہوں نے آپ سے سیکھا اور ان کے واسطے سے اگلوں کو سکھایا یوں تعلیم قرآن کا سلسلہ ہمیشہ کے لیے جاری فرمایا کہ بنی آدم میں سے جو چاہے اس چشمہ رحمت سے سیراب ہو۔ آخر یہ بھی تو اسی کی رحمت عامہ ہے کہ انسان کو پیدا فرمایا اور اسے زبان دانی بات کرنے کا فن ودیعت فرمایا کہ وہ علم قرآن حاصل کرسکنے کے قابل ہوا۔
قوت گویائی کا اصل مصرف۔
گویاقوت گویائی اور بات کرنے کی صلاحیت کا اصل مصرف علوم قرآن کا حصول اور اس کا آگے پہنچانا ہے باقی سارے فوائد دوسرے درجے میں ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–12
ف 9 یعنی آدمیوں کے لئے دانہ اور جانوروں کے لئے بھوسا۔
Read the full tafseer →(55:12) والحب : اس کا عطف فاکھۃ پر ہے اور اس (زمین) میں اناج ہے۔ الحب۔ اناج کے دانہ کو حب یا حبہ کہتے ہیں۔ مثلاً گندم ، جو ۔ یا دیگر انان اور غلہ کے دانے۔ یہ موصوف ہے اور ذوالعصف اس کی صفت ہے۔
ذوالعصف مضاف مضاف الیہ۔ العصف بمعنی بھس۔ بھوسا ۔ چھلکا۔ جو دانے کے اوپر لپٹا ہوتا ہے۔ کھیت کے پتے۔
تفسیر کبیر میں اس کے حسب ذیل معانی لکھے ہیں :۔
(1) بھوسہ جو ہمارے مویشی کھاتے ہیں۔
(2) اس پودے کے پتے جس کے ڈنٹھل ہوں اور اس ڈنٹھل کے اطراف و جوانب میں پتے ہوں َ جیسے کہ خوشے کے اوپر کے پتے ہوتے ہیں۔
(3) کھائے ہوئے پھل کا چھلکا۔ (ملاحظہ ہو سورة الفیل)
عصف جمع ہے اس کا واحد عصفۃ وعصافۃ ہے۔ اور جگہ قرآن مجید…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–25
لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 25
علم اس نے سکھایا۔ البیان بولنا بحسبان ایک حساب سے، ایک طریقے سے۔ النجم بےتنے کے درخت، پودے۔ وضع اس نے رکھا ۔ اس نے بنایا ۔ الاتطفوا یہ کہ تم نہ گھٹائو۔ انام مخلوق۔ الاکمام (کم) غلام، چھلکا ۔ العصف بھوسہ (جانوروں کی غذا) الریحان خوشبودار ۔ الاء (الی) نعمتیں صلصال خشک مٹی جو کھن کھن بجتی ہو۔ الفخار ٹھیکرا۔ الجان جن ، ابو الجنات ۔ مارج شعلہ جس میں دھواں نہ ہو۔ مرج (خوب بہتا ہے) جاری کیا البحرین دوریا، دو سمندر۔ برزخ پردہ، رکاوٹ۔ لا یبغین دونوں کو ملنے نہیں دیتا اللولو موتی۔ المرجان مونگا، سفید موتی۔ المنشئت بلند کئے ہوئے۔ الاغلام (ملم) پہاڑ، جھنڈا
اللہ تعالیٰ نے اپنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
(ف 2) اگرچہ سورة نحل میں گزرچکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر اس قدر احسان کیے ہیں کہ ان احسانات اور اس کی نعمتوں کا شکریہ کرنا تو درکنار ، اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے ہر ایک شخص اگر اللہ تعالیٰ کے احسانات اور اس کی نعمت کی گنتی بھی کرنا چاہیے تو یہ بات بھی اللہ تعالیٰ کی مکلوق کی طاقت سے باہر ہے لیکن آدمیوں اور جن کے فقط یاد دلانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں اکتیس قسم کی نعمتوں کا ذکر فرمایا ہے اور ہر ایک قسم کی نعمت کے ذکر کرے بعدجن وانس سے تنبیہ کے طور پر یہ پوچھا ہے کہ تم دونوں اللہ تعالیٰ کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے اس سورة میں جہاں تکذبن ہے خطاب جن و انسان سے ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–12
[4] اس سے معلوم ہوا کہ ناپ تول میں کامل انصاف کا حکم ایک عظیم حکم ہے۔ یہ اس میزان کی ایک فرع ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے اس عالم کا نظام قائم فرمایا ہے۔ یہیں سے یہ بات نکلی کہ جو قوم اس میں فساد برپا کرتی ہے وہ سارے نظام عدل میں فساد برپا کرتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–16
جنوں کا وجود
1: جن ایک الگ مخلوق ہے ۔ جس کو اللہ تعالیٰ نے آگ سے پیدا کیا ہے ۔ یہی وجہ ہے ۔ ان میں لطافت زیادہ ہے ۔ آج سے پچاس سال قبل تو لوگ اس مخلوق کا انکار کرتے تھے ۔ مگر اب تجربات نے ثابت کردیا ہے ۔ کہ جنات بھی موجود ہیں ۔ اور وہ لوگ جنہوں نے بڑے شدومد سے کہا تھا ۔ کہ یہ محض وہم ہے ۔ اب وہی کہہ رہے ہیں ۔ کہ یہ ایک حقیقت ہے ۔ ہمارے ہاں بعض ایسے جاہل بھی موجود ہیں ۔ جنہوں نے اس وقت کی آواز کو تو سنا تھا ۔ مگر موجودہ وقت کے خیالات سے آگاہ نہیں ۔ وہ اب تک یہ سمجھے بیٹھے ہیں ۔ کہ علماء مغرب کے معتقلات میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ۔ بلکہ وہ اس قدر روشن خیال ہیں ۔ کہ سارا مغرب بھی ان مسائل کا قائل…
Read the full tafseer →(12) اور اس میں اناج اور غلہ ہے جس میں چھلکا اور بھوسا ہوتا ہے اور خوشبودار پھول ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–13
ف 5۔ یہ آیت تفریعیہ اس سورت میں اکتیس جگہ آئی ہے اور ہر جگہ الاء کا مصداق جدا ہے، اس لئے یہ تکرار محض نہیں، محض لفظی تشارک ہے اور تکرار ظاہری کیو جہ سے اس میں افادہ تاکید بھی ہے اور اس قسم کا تکرار جو کہ قند مکرر سے شیریں تر ہے عرب کے کلام منثور و منظوم میں بکثرت بلا نکیر مستعمل ہے۔ تکذبان میں خطاب جن و انس کو ہونا ان دلائل سے ہے، قولہ تعالیٰ خلق الانسان و خلق الجان، قولہ تعالیٰ ایہ الثقلان، قولہ تعالیٰ انس قبلھم ولا جان۔
Read the full tafseer →اور اناج بھی جس کے ساتھ بھس ہوتا ہے اور خوشبودار بوٹیاں بھی
12۔ (الحب) دانہ ، غلہ ، اناج ، گندم اور جو وغیرہ اناج کے دانہ کو حب اور حبۃ کہتے ہیں اور حبوب اس کی جمع ہے۔ غلہ جات جو استعمال ہوتے ہیں ان کی اصناف بھی بیشمار ہیں مثلاً گندم ہے اور پھر گندم میں کئی ایک اقسام ہیں جو ایک سے ایک بڑھ کر ہیں اور ان میں سے جو ، جوار ، مکئی ، باجرا ، جوار ، چاول ، سواتک ، کنگنی موٹھ ، ماش ، مسور ، ارہر ، لوبیا ، باقلا ، مونگ اور مٹرسب کے دانے ہوتے ہیں اور سب کی الگ الگ اقسام بھی ہوتی ہیں اور ان میں سے بہت زیادہ وہی ہیں جن کے اوپر بھوسی ہوتی ہے اور اس بھوس والے غلوں کو قرآن کریم میں (ذوالعصف) کہا گیا ہے یعنی…
Read the full tafseer →وَالْحَبُّ ذُو الْعَصْفِ
(and the grain having chaff, ....55:12). The word حَبُّ habb means grain, as for instance 'wheat', 'gram', 'rice', 'a kind of vetch', 'lentil' and so on. The word عَصْفِ ` asf is the outer cover of some type of grains, like rice or wheat husk, which Allah creates with His power and consummate wisdom. Man's attention is drawn to the fact that each grain of the food he eats several times a day has been created by Allah, out of His unbounded grace and beneficence, from soil and water in inconceivably wonderful ways. He protected every grain against insects with the outer…
Read the full tafseer →11 That is, grain for men and husk for the animals.
Read the full tafseer →