Ar-Rahmaan 55:13

Ar-Rahmaan · from ayah 13

55:13

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ ۟فَبِاَىِّ اٰلَاۤءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ

تو (اے گروہ جن وانس) تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟

— Fateh Muhammad Jalandhari

So which of the favors of your Lord would you deny?

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 1 of surah · Ruku 11 of juz

Read the whole surah · Surah Ar-Rahmaan

All translations of 55:13

پس اے جن و انس، تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تو (اے گروہ جن وانس) تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟

— مولانا فتح محمد جالندہری

پس (اے انسانو اور جنو!) تم اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟

— مولانا محمد جوناگڑہی

(اے انسانوں اور جنات) اب بتاؤ کہ تم دونوں اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو اے جن و انس! تم دونوں اپنے رب کی کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پس (اے گروہِ جنّ و انسان!) تم دونوں اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

تو (اے جن و انس !) تم دونوں اپنے رب کی نعمتوں میں سے کس کس کو جھٹلاؤ گے ؟

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پس (اے جن و انس) ! تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تو اے جنو اور انسانو ! تم اپنے رب کی کن کن عنایتوں کو جھٹلائو گے !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پس تم دونوں (اے گروہ جن و انس !) اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟

— مولانا اسحاق مدنی

سو تم (اے جن وانس) اپنے پروردگار کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤگے ؟۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تو تم دونوں (گروہ) اپنے رب کی کون کونسی نعمتوں اور قدرتوں کا انکار کرو گے ؟

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تو (اے گروہ جن و انس) تم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Which of the bounties of your Lord will you twain – you men and jinn – then deny?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

So, (O mankind and Jinn,) which of the bounties of your Lord will you deny?

— Muhammad Taqi Usmani

So, (O mankind and Jinn,) which of the bounties of your Lord will you deny?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Then which of the blessings of your Lord will you both deny

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Which is it, of the favours of your Lord, that ye deny?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

So which of the favors of your Lord would you deny?

— Saheeh International

(Jinn and mankind) - which of the favors of your Lord do you deny?

— Muhammad Sarwar

Which then of the bounties of your Lord will you deny?

— Muhammad Habib Shakir

Which, then, of the benefits of your Lord, will ye twain belie?

— Abdul Majid Daryabadi

Then which of the favours of your Lord will ye deny?

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 55:13

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–13

انسان پر اللہ تعالیٰ کے احسانات کی ایک جھلک اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کاملہ کا بیان فرماتا ہے کہ اس نے اپنے بندوں پر قرآن کریم نازل فرمایا اور اپنے فضل و کرم سے اس کا حفظ کرنا بالکل آسان کردیا اسی نے انسان کو پیدا کیا اور اسے بولنا سکھایا۔ قتادہ وغیرہ کہتے ہیں بیان سے مراد خیر و شر ہے لیکن بولنا ہی مراد لینا یہاں بہت اچھا ہے۔ حضرت حسن کا قول بھی یہی ہے اور ساتھ ہی تعلیم قرآن کا ذکر ہے جس سے مراد تلاوت قرآن ہے اور تلاوت موقوف ہے بولنے کی آسانی پر ہر حرف اپنے مخرج سے بےتکلف زبان ادا کرتی رہتی ہے خواہ حلق سے نکلتا ہو خواہ دونوں ہونٹوں کے ملانے سے مختلف، مخرج اور مختلف قسم کے حروف کی ادائیگی اللہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الرَّحْمٰن 12 اصل میں لفظ آلاء استعمال ہوا ہے جسے آگے کی آیتوں میں بار بار دہرایا گیا ہے اور ہم نے مختلف مقامات پر اس کا مفہوم مختلف الفاظ میں ادا کیا ہے۔ اس لیے آغاز ہی میں یہ سمجھ لینا چاہئے کہ اس لفظ میں معنی کی کتنی وسعت ہے اور اس میں کیا کیا مفہومات شامل ہیں۔ آلاء کے معنی اہل لغت اور اہل تفسیر نے بالعموم " نعمتوں " کے بیان کیے ہیں۔ تمام مترجمین نے بھی یہی اس لفظ کا ترجمہ کیا ہے۔ اور یہی معنی ابن عباس، قتادہ اور حسن بصری سے منقول ہیں۔ سب سے بڑی دلیل اس معنی کے صحیح ہونے کی یہ ہے کہ خود نبی ﷺ نے جنوں کے اس قول کو نقل فرمایا ہے کہ وہ اس آیت کو سن کر بار بار لا بشیء من نعمک ربنا نکذب…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

فَبِاَيِّ اٰلَاۗءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ ، لفظ آلاء جمع ہے نعمتوں کے معنے میں اور مخاطب اس کا انسان اور جن ہیں، جس کا قرینہ سورة رحمن کی متعدد آیتوں میں جنات کا ذکر ہے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

(فباری الاربکما تکذبن) (13) (جنوں کو خطاب کرنے کی ایک خاص وجہ)۔ یہ آیت آگے بار بار آئے گی اور یہ اس سورة کی اہم ترین آیت ہے اس وجہ سے تم نے تمہیدہی میں لفظ الا کی تحقیق بھ بیان کر رہی ہے اور اس میں جنوں اور انسانوں سے جو خطاب ہے اس کی نوعیت پر بھی روشنی ڈالی ہے۔ البتہ ایک بات ہم یہاں واضح کریں گے وہ یہ کہ قریش کے مکذبین کے ساتھ جنات کے مکذبین کو بھی یہاں جو شامل کرلیا ہے تو اس کی ایک خاص وجہ ہے کہ تکذیب کی یہ مہم اس دور میں پوری شدت اختیار کرگئی تھی اور شیاطین انس وجن، دونوں گٹھ جوڑ کر کے اپنا پورا زور صرف کر رہے تھے کہ دعوت حق کے قدم اکھاڑ دیں۔ اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے دونوں کو براہ راست…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

13۔ 1 یہ انسانوں اور جنوں دونوں سے خطاب ہے اللہ تعالیٰ اپنی نعمتیں گنوا کر ان سے پوچھ رہا ہے یہ تکرار اس شخص کی طرح ہے جو کسی پر مسلسل احسان کرے لیکن وہ اس کے احسان کا منکر ہو، جیسے کہے، میں نے تیرا فلاں کام کیا، کیا تو انکار کرتا ہے ؟ فلاں چیز تجھے دی، کیا تجھے یاد نہیں ؟ تجھ پر فلاں احسان کیا، کیا تجھے ہمارا ذرا خیال نہیں ؟ (فتح القدیر)

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 6–16

2: سجدہ حقیقی بھی ہوسکتا ہے، کیونکہ قرآن کریم نے کئی جگہ یہ فرمایا ہے کہ تمام مخلوقات میں کچھ نہ کچھ احساس موجود ہے۔ (دیکھئے سورة بنی اسرائیل : 44) اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ یہ سب اللہ تعالیٰ کے تابع فرمان ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

فبای ............ تکذبن (55: 31) (پس اے جن وانس اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے) یہ سوال شہادت قائم کرنے کے لئے ہے۔ ورنہ کوئی جن اور انسان فی الواقع اللہ کی نعمتوں کی تکذیب نہیں کرسکتا۔ جن وانس پر اللہ نے اپنے احسانات اور انعامات اس کائنات کے حوالے سے تو گنوادیئے ، اب خود اپنی ذات کے حوالے سے کچھ حقائق۔ ذرا اپنی ذات ہی پر غور کرو :

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

12 یعنی اے جن و انس ! اوپر کی آیات میں تمہارے رب کی جو عظیم الشان نعمتیں اور قدرت کی نشانیاں بیان کی گئیں تم میں سے کس کس کے جھٹلانے کی جرأت کرو گے ؟ کیا یہ نعمتیں اور نشانیاں ایسی ہیں جن میں سے کسی کا انکار کیا جاسکے ؟ علماء نے ایک حدیث صحیح کی بناء پر لکھا ہے کہ جب کوئی شخص یہ آیت " فبای الاء رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰن " سنے تو جواب دے " لاَ بِشَیْ ءٍ مِّنْ نِعَمِکَ رَبَّنَا نُکَذِّبُ فَلَکَ الْحَمْدُ ۔ " (اے ہمارے رب ! ہم تیری کسی نعمت کو نہیں جھٹلاتے۔ سب حمدو ثنا تیرے ہی لیے ہے) (تنبیہ) گو جن کا ذکر تصریحاً پہلے نہیں ہوا۔ لیکن " انام " میں وہ شامل ہیں۔ اور (وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 13 { فَبِاَیِّ اٰلَآئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ۔ } ”تو تم دونوں گروہ اپنے رب کی کون کونسی نعمتوں اور قدرتوں کا انکار کرو گے ؟“ عام طور پر اٰلَآئِ کا ترجمہ ”نعمتیں“ کیا جاتا ہے ‘ لیکن اس لفظ میں نعمتوں کے ساتھ ساتھ قدرتوں کا مفہوم بھی پایا جاتا ہے۔ چناچہ اس سورت میں بھی اس لفظ سے کہیں اللہ کی نعمتیں مراد ہیں اور کہیں اس کی قدرتیں۔ تُکَذِّبٰنِ تثنیہ کا صیغہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس سورت میں جنوں اور انسانوں سے مسلسل ایک ساتھ خطاب ہو رہا ہے۔ آگے چل کر آیت 33 میں یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ کے خطاب سے یہ بات مزید واضح ہوجائے گی۔ 1

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

11 آلاء کا لغوی مفہوم :۔ آلاَءِ (اِلٰی کی جمع بمعنی نعمت بھی اور قدرت یا نشان عظمت بھی) اور آلاء سے مراد وہ نعمتیں ہیں جو انسان کی ضرورت مہیا کرتی ہیں اور پے در پے آتی رہتی ہیں اور اسے زندگی بسر کرنے کے لیے کسی چیز کی کمی محسوس نہیں ہوتی۔ (فقہ اللغۃ) اور یہ لفظ بالعموم جمع ہی استعمال ہوتا ہے۔ کیونکہ ایسی نعمت ایک تو ہے نہیں لہذا ہمیشہ آلاء آتا ہے۔ اور یہ آیت اس سورة میں اکتیس مرتبہ دہرائی گئی ہے۔ کہیں آلاء کا لفظ عظیم الشان نعمتوں کے معنوں میں اور کہیں قدرت کی نشانیوں کے معنوں میں اور کہیں بیک وقت دونوں معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ حدیث میں ہے کہ آپ نے ایک دفعہ صحابہ سے فرمایا کہ تم سے تو جن ہی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

9۔ (اور نعمتوں کے حقوق کی ادائی یہی ہے کہ منعم کے احکام کی تعلیم کی جائے۔ اور دنیا میں اس کے قانون کے نفاذ میں مدددی جائے) یہ خاص آیت اس سورت میں 31 بار آئی ہے اور ہر بار ایک نئے سیاق میں اور نعمت کے ایک نئے مصداق کے ساتھ اس لئے تکرار صرف صوری ہے معنوی نہیں۔ لیکن بالفرض معنوی بھی ہوتی تو ظاہر ہے کہ جب اہل زبان نے اسے فصاحت زبان اور سلاست بیان میں مخل نہ سمجھا بلکہ اس میں ممدومعاون سمجھا اور اس کا شمار خاص ادبی صنعتوں میں کیا تو عربی ادب کے اس ہنر اور حسن کو اردو یا انگریزی یا ہندی یا چینی یا کسی بھی اور زبان وادب کے معیار سے دیکھنا اور جانچنا جہل صریح نہیں تو اور کیا ہے ؟ اور پھر اس کی نظیر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

فبای الآء ربکما تکذبن یہ انسان اور جنوں دونوں سے خطاب ہے، اللہ تعالیٰ اپنی نعمتیں گنوا کر انسے پوچھ رہا ہے، یہ تکرار اس شخص کی طرح ہے جو کسی پر مسلسل احسان کرے لیکن وہ اس کے احسان کا منکر ہو، جیسے کہے میں نے تیرا فلاں کام کیا، کیا تو انکار کرتا ہے فلاں چیز تجھے دی کیا تجھے یاد نہیں ؟ تجھ پر فلاں احسان کیا تجھے ہمارا ذرا خیال نہیں ؟ (فتح القدیر)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فبای الاء ربکما تکذبان . ” سواَے جن و انس تم اپنے رب کی کون کونسی نعمتوں کے منکر ہوجاؤ گے۔ “ اِس آیت میں جن و انس کو خطاب ہے کیونکہ پہلے لِلَانَام فرمایا تھا (اور انام سے مراد جن و انس تھے) اس کے علاوہ آگے ایھا الثقلان (اے جن و انس) بھی فرمایا ہے۔ بعض اہل علم نے کہا کہ صیغہ اگرچہ تثنیہ کا استعمال کیا ہے لیکن خطاب صرف انسانوں سے ہے اور عرب اپنی زبان میں ایسا استعمال کرلیتے ہیں۔ اللہ نے بھی آیت القیانی جہنم میں بھی ایسا استعمال کیا ہے۔ فَبِاَیِّ : میں فَ سببی ہے اور استفہام کا مقصد ہے الاء کو مؤکد کرنا اور تکذیب الاء کو رد کرنا کیونکہ الاء کا ذکر نعمتوں کے اقرار اور منعم کے شکر کا : مقتضی ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 11–13

(11۔ 13) کہ اس زمین میں مختلف اقسام کے میوے ہیں اور کھجور کے درخت ہیں جن کے پھل پر غلاب چڑھا ہوتا ہے اور اس میں مختلف قسم کے بھوسا اور پتے والے غلے ہیں اور اس میں غذا کی چیز اور پھل بھی ہیں۔ سو رسول اکرم کی ذات اقدس کے علاوہ اے جن و انس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

فَبِاَیِّ اٰلَآئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ :”الائ“”الی“ کی جمع ہے جو اصل میں ”الی“ ہے ، جیسے ”معی“ (انتڑی) کی جمع ”امعائ“ ہے۔ اس کا ایک معنی نعمت ہے۔ طبریٰ نے علی بن ابی طلحہ کی معتبر سند کے ساتھ ابن عباس ؓ کی تفسیر نقل فرمائی ہے :”فبای نعمۃ اللہ تکذبان“ تم دونوں اللہ تعالیٰ کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے ؟“ اور ایک معنی قدرت ہے ، چناچہ طبریٰ ہی نے ابن زید کی تفسیر نقل فرمائی ہے ، انہوں نے فرمایا :”الا لا القدرۃ ، فبای قدرۃ اللہ تکذبان“ یعنی ”تم دونوں اللہ کی کس کس قدرت کو جھٹلاؤ گے“۔ 2۔ مفسر سلیمان الجمل نے فرمایا، نعمتوں کے بیان اور ان کی یاد دہانی کے لیے یہ آیت یہاں اکتیس (31) مرتبہ دہرائی گئی…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

فبای الآء ربکما تکذبن۔ یہ جن وانس کو خطاب ہے کیونکہ انام کا لفظ دونوں پر صادق آتا ہے (7) یہ جمہور کا قول ہے۔ اس پر حضرت جابر کی حدیث دلالت کرتی ہے جس کا ذکر سورت کے آغاز میں وہا ہے، اسے امام ترمذی نے نقل کیا ہے اس میں ہے للجن احسن منکم ردا (1) جنوں نے تم سے بہتر جواب دیا۔ ایک قول یہ کیا گیا : جب فرمایا خلق الانسان اور فرمایا : خلق الجآن اس چیز نے اس امر پر دلالت کی کہ جس کا ذکر پہلے ہوا یا بعد میں ہوا اس پر یہ دال ہے نیز یہ بھی فرمایا : سفرء لکم ایہ الثقین یہ خطبا انسانوں اور جنوں کو ہے اس صورت میں فرمایا، یمعشر الجن والانس۔ جرجانی نے جنوں کو انسان کے ساتھ خطاب کیا اگرچہ جنوں کا پہلے ذکر نہیں…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

48:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فبای الآء ربکماتکذبن '' (سو اے جن وانس تم اپنے رب کی کون کونسی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے) یعنی اللہ تعالیٰ کی کونسی نعمتوں کو تم جھٹلاؤ گے۔ 49:۔ ابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فبای الآء ربکماتکذبن '' سے مراد ہے جنات اور انس (کہ تم اپنے کی کون کونسی نعمتوں کو جھٹلاؤں گے) (واللہ اعلم )

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

فَبِاَيِّ اٰلَاۗءِ رَبِّكُمَا [ تو تم دونوں (جن وانس ) اپنے رب کی نعمتوں سے کس کس کو ] تُكَذِّبٰنِ [ تم دونوں جھٹلاؤگے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 8–13

انصاف کے ساتھ وزن کرنے کا حکم : ﴿ وَ وَضَعَ الْمِيْزَانَۙ007﴾ اور اللہ تعالیٰ نے ترازو کو رکھ دیا ﴿ اَلَّا تَطْغَوْا فِي الْمِيْزَانِ 008﴾ (تاکہ تولنے میں سرکشی یعنی نافرمانی نہ کرو) عدل پر قائم رہو ایسا نہ کرو کہ دوسروں سے اپنے حق میں زیادہ تلواؤ اور دوسروں کے لیے تولو تو ڈنڈی ماردو اور گھٹا کر تولو جیسا کہ سورة التطفیف کے شروع میں تولنے والوں کی زیادتی کا طریقہ بیان فرمایا ہے، سورة الانعام اور سورة بنی اسرائیل میں بھی حکم ہے (کہ ناپ اور تول کو انصاف کے ساتھ قائم کرو) ﴿وَ الْاَرْضَ وَ ضَعَهَا لِلْاَنَامِۙ0010﴾ (اور زمین کو رکھ دیا لوگوں کے نفع کے لیے) زمین کو اللہ تعالیٰ نے بچھونا بنا دیا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–25

انعامات رب جلیل بر انسان بعطاء وصف بیان وتعلیم قرآن وفیضان نعماء جسمانیہ وروحانیہ : قال اللہ تعالیٰ : الرحمن علم القرآن ...... الی ...... فبای الآء ربکما تکذبن “۔ (ربط) سورة قمر میں دلائل نبوت اور معجزات عظیمہ کا بیان تھا اور امم سابقہ کے احوال ذکر فرمائے گئے کہ کس طرح انہوں نے اپنے پیغمبروں کا انکار کیا اور ان پر ایمان نہ لائے جس کے باعث عذاب خداوندی سے انکو ہلاک وبرباد کردیا گیا جس سے مقصود اہل مکہ کو متنبہ کرنا تھا کہ وہ ان احوال وواقعات کو سوچ کر اپنے انجام کے بارے میں بھی خود فیصلہ کرلیں تو اس کے بعد حق تعالیٰ شانہ نے ان انعامات خاصہ کا ذکر فرمایا جو انسان پر کئے گئے ان انعامات میں…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

ٖ 6:۔ ” فبای اٰلآء۔ الایۃ “ یہ اس سورت میں بار بار آئی ہے اور اس میں جنوں اور انسانوں سے خطاب ہے، ہر نعمت کے ذکر کے بعد اس آیت کو دہرا کر جن و انس کو متنبہ کیا گیا ہے کہ یہ ساری نعمتیں اللہ کی طرف سے ہیں اور تم کونسی نعمت کا انکار کرسکتے ہو کہ وہ اللہ کی طرف سے نہیں۔ حاصل یہ ہے کہ ہر نعمت اسی کی طرف سے ہے لہذا وہی برکات دہندہ ہے اور اس کے نام میں برکت ہے۔ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سورة الرحمن صحابہ کو پڑھ کر سنائی تو وہ خاموش رہے۔ آپ نے فرمایا تم سے جنوں ہی نے اچھا جواب دیا جب میں ان پر یہ سورت پڑھی اور جب میں ” فبای اٰلاء ربکما تکذبان “ پر پہنچتا تو وہ ہر بار جواب دیتے ’ لا بشیئ من نعمک…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–13

نام اور کوائف اس سورة مبارکہ کا نام سورة الرحمن ہے جو اس کے پہلے لفظ سے ماخوذ ہے صرف ایک آیت کے سوا یہ ساری سورة مکی دور میں نازل ہوئی اس سورة کی اٹھہتر آیات اور تین رکوع ہیں اور یہ سورة 351 الفاظ اور 1636 حروف پر مشتمل ہے۔ مضامین سورة مکی سورتوں میں عام طور پر بنیادی عقائد ہی کا ذکر ہے۔ ان سورتوں میں احکام کا سلسلہ حال ہے۔ مکی دور میں چونکہ اسلامی معاشرہ کی بنیاد ہی نہیں رکھی جاسکی تھی ، لہٰذا اس دوران زیادہ تر اخلاق اور عقائد کی اصلاح پر توجہ دی گئی ہے چناچہ اس سورة مبارکہ میں بھی یہی پہلو غالب ہے۔ اس زمانے میں عرب میں شرک کی مختلف قسمیں رائج تھیں یا بالکل کفر تھا۔ اللہ نے مکی سورتوں میں…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَبِاَيِّ اٰلَاۗءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ۝ 13 أيا أَيُّ في الاستخبار موضوع للبحث عن بعض الجنس والنوع وعن تعيينه، ويستعمل ذلک في الخبر والجزاء، نحو : أَيًّا ما تَدْعُوا فَلَهُ الْأَسْماءُ الْحُسْنى [ الإسراء/ 110] ، وأَيَّمَا الْأَجَلَيْنِ قَضَيْتُ فَلا عُدْوانَ عَلَيَّ [ القصص/ 28] ( ا ی ی ) ای ۔ جب استفہام کیلئے ہو تو جنس یا نوع کی تعیین اور تحقیق کے متعلق سوال کے لئے آتا ہے اور یہ خبر اور جزا کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے چناچہ فرمایا :۔ { أَيًّا مَا تَدْعُوا فَلَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى } ( سورة الإسراء 110) جس نام سے اسے پکارا اس کے سب نام اچھے ہیں { أَيَّمَا الْأَجَلَيْنِ قَضَيْتُ فَلَا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 9–18

ترکیب : ولاتخسرو ابضم التاء ای ولا تنقصوا الموزدن وقیل التقدیر فی المیزان۔ ویقرء بفتح التاء والخاء والاول اصح۔ للانام یتعلق بوضعہا والحب بالرفع عطفاً علی النخل والریحان کذلک ویقرء بالنصب ای خلق الحب۔ کالفخار لغت لصلصال من نار لغت لمارج۔ رب المشرقین ای ھو وقیل ھذا مبتداء دخبرہ مرج الاکمام جمع کم بالکسرو ھو دعاء الثمر اصلہ یطلق علی ماستر شیئا ومنہ کم القمیص بالضم۔ تفسیر : پہلے بطور علت و سبب کے عدل قائم کرنا بیان فرمایا تھا۔ اب بصراحت حکم دیتا ہے واقیموالوزن بالقسط کہ دنیا میں انصاف کی ترازو سے تولو۔ یہ حکم بڑا وسیع المعنی ہے جس میں اشیاء کا انصاف سے تولنا بھی داخل ہے اور عموماً ہر بات میں حق…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

فَبِاَیِّ اٰ لَآئِ رَبِّـکُمَا تُـکَذِّبٰنِ ۔ (الرحمن : 13) (پس اے جن و انس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلائو گے۔ ) یہ آیت ترجیع ہے اس میں لفظ اٰ لَآئِاور دیگر حقائق کا مفہوم یہ آیت اس سورة میں بار بار آرہی ہے۔ ایسی آیت جو بار بار آئے اس کو آیت ترجیع کہتے ہیں جس سے سامعین کو غور و فکر کی طرف متوجہ کرنا اور جھنجھوڑنا مقصود ہوتا ہے۔ اس آیت کے الفاظ کو سمجھنے کے لیے دو باتوں کا جاننا بہت ضروری ہے۔ اس میں لفظِ اٰ لَآئِ استعمال ہوا ہے۔ ہمارے مترجمین بالعموم اس کا ترجمہ نعمتوں سے کرتے ہیں۔ اور یہ ترجمہ صحیح ہے۔ لیکن اس پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت میں یہ لفظ صرف نعمتوں کے حوالے سے ذکر…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 10–13

فہم القرآن ربط کلام : آسمان کے بعد زمین اور اس کے فوائد کا مختصر ذکر۔ جس الرحمن نے شمس و قمر اور نجم وشجر پیدا کیے ہیں اور القسط قائم کرنے کا حکم دیا اسی نے اپنی مخلوق کے لیے زمین کو فرش کے طور پر بچھایا ہے۔ قرآن مجید نے جس طرح انسان کو آسمانوں کے بارے میں معلومات فراہم کی ہیں اسی طرح زمین کے بارے میں بھی بہت کچھ بتلایا ہے۔ ” کیا وہ لوگ جو کفر کرتے ہیں وہ غور نہیں کرتے کہ آسمان اور زمین آپس میں ملے ہوئے تھے ہم نے انہیں الگ الگ کیا اور ہر زندہ چیز پانی سے پیدا کی ؟ کیا پھر بھی وہ ایمان نہیں لاتے اور ہم نے زمین میں پہاڑ بنائے تاکہ زمین انہیں لے کر ڈھلک نہ پڑے اور زمین میں کشادہ راہیں بنایں تاکہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

13 : فَبِاَ یِّ اٰلآ ئِ (پس تم اے جن و انس اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں) ٰ الا ءؔ وہ انعامات جن کو ابتدائے سورت سے شمار شروع فرمایا گیا ہے یہ اَلِیٌ، واِلْیٌ کی جمع ہے۔ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ (کے منکر ہوجائو گے) یہ (ثقلین) جن و انس کو خطاب ہے۔ انامؔ کا لفظ اس پر دلالت کر رہا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

12 ۔” والحب ذوالعصف “ حب سے وہ تمام دانے مراد ہیں جن کو کاٹا جائے۔ مجاہد (رح) فرماتے ہیں وہ کھیتی کے پتے ہیں۔ ابن کیسان (رح) فرماتے ہیں ” العصف “ زمین میں کاشت کیے جاتے ہیں اور ” العصف “ ہر چیز کے پتے جس سے دانے نکلیں۔ ابتداء میں پتے ظاہر ہوتے ہیں اور وہ العصف ہے پھر ٹہنی ہوتی ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ اس میں خوشے پیدا کرتے ہیں پھر ان خوشوں میں دانے پیدا کرتے ہیں۔ والبی کی روایت میں ابن عباس ؓ نے فرمایا ہے کہ وہ بھوسہ ہے اور یہی ضحاک اور قتادہ رحمہما اللہ کا قول ہے اور عطیہ (رح) نے ان سے روایت کیا ہے کہ وہ سبز کھیتی کے پتے ہیں جب ان کے سرے کاٹے جائیں اور وہ خشک ہوجائیں۔ اس کی نظیر ” کعصف ماکول “…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–13

1۔ 13۔ اگرچہ سورة نحل میں گزر چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر اس قدر احسان کئے ہیں کہ ان احسانات اور اس کی نعمتوں کا شکریہ کرنا تو درکنار اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں کا ہر ایک شخص اگر اللہ تعالیٰ کے احسانات اور اس کی نعمت کی گنتی بھی کرنی چاہے تو یہ بات بھی اللہ تعالیٰ کی مخلوق کی طاقت سے باہر ہے لیکن جن و انسان کے فقط یاد دلانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے اس سورة میں اکتیس قسم کی نعمتوں کا ذکر فرمایا ہے اور ہر ایک قسم کی نعمت کے ذکر کے بعد جن و انسان سے تنبیہ کے طور پر یہ پوچھا ہے کہ تم دونوں اللہ تعالیٰ کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤگے۔ مطلب یہ ہے کہ جس اللہ نے انسان کو ‘ انسان کی سب ضرورت کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی بہت سی نعمتوں کا ذکر فرمایا جن کی آنکھوں اور بصیرت کے ذریعے سے مشاہدہ کیا جاسکتا ہے اور خطاب دونوں گروہوں کو یعنی جنات اور انسانوں کے لیے ہے اس لیے اپنی نعمتوں کو متحقق کرتے ہوئے فرمایا (فَبِاَيِّ اٰلَاۗءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ ) یعنی (اے جن وانس) پھر تم اللہ کی کون کون سی دینی اور دنیاوی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔ جب رسول اللہ نے یہ ایت کریمہ جنات کے سامنے تلاوت فرمائی تو ان کا کیا ہی خوبصورت جواب تھا جب بھی آپ (فَبِاَيِّ اٰلَاۗءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ ) پڑھتے تو وہ جواب میں کہتے لابشئی من نعمک ربنا نکذب فلک الحمد۔ اے ہمارے رب ہم تیری کسی نعمت کو نہیں جھٹلاتے چناچہ تو…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 12–21

عصف اور ریحان کی تشریح قول باری ہے (والحب ذوالعصف والریحان۔ طرح طرح کے غلے ہیں جن میں بھوسا بھی ہوتا ہے اور دانہ بھی) حضرت ابن عباس ؓ ، قتادہ اور ضحاک سے مروی ہے کہ عصف بھوسے کو کہتے ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ ، مجاہد اور ضحاک سے منقول ہے کہ ریحان ورق یعنی پتے کو کہتے ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ سے یہ بھی مروی ہے کہ ریحان غذائی دانوں کو کہتے ہیں۔ حسن کا قول ہے کہ ریحان پھول کو کہتے ہیں جسے سونگھا جاتا ہے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اگر یہ تمام معانی مراد لئے جائیں تو اس میں کوئی امتناع نہیں ہے کیونکہ ریحان کا اسم ان سب پر واقع ہوتا ہے۔ تاہم ریحان کے ظاہری معنی اس پھول کے ہیں جس کی خوشبو سونگھی جاتی ہے۔ جب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 13–15

[ 14] جِنُّوں اور انسانوں سے تنبہی خطاب کا ذکر وبیان : سو جنوں اور انسانوں دونوں کو خطاب کرکے تنبیہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ تم دونوں اے گروہ جن وانس اپنے رب کی کون کون سے نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟ یعنی اپنے رب کی ان عظیم الشان نعمتوں کا تقاضا تو یہ تھا اور یہ ہے کہ تم سب دل و جان سے اپنے خالق ومالک کے حضور جھک جھک جاؤ، اور ہمیشہ اس کے جھکے جھکے ہی رہو، اور اس طرح یہ نعمتیں تمہارے لئے دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا ذریعہ وسیلہ بن جائی ؓ ، مگر تمہارا رویہ اس کے برعکس ہے۔ سو ان نعمتوں کی تکذیب کرنا، اور کفر و انکار سے کام لینا بہت بڑا اور نہایت افسوسناک امر ہے۔ کیونکہ اس طرح تکذیب و…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–13

رب جس نے انسان کو پیدا کیا اس کی تمام ضروریات پوری کردیں تشریح :۔ رحمن اللہ کا صفاتی نام ہے اور یہ صفاتی نام پورے قرآن پاک میں تقریبا 55 مقامات پر آیا ہے۔ یہ اس کی رحمن ہونے کی دلیل ہے کہ جو اس نے مخلوقات کو بنایا۔ راہ ہدایت دکھانے کے لیے قرآن نازل فرمایا اور پوری کائنات کو اپنے رحم و کرم سے بھر دیا۔ اس کا رحم و کرم ہر ایک کے لیے برابر ہے۔ چاہے کوئی کافر ہو مسلم ہو، نیک ہو یا بد ہو، متقی ہو یا گنہگار ہو۔ غرض اس کی عنایات سے ہر کوئی فیض یاب ہو رہا ہے۔ اور یہ بھی اس کے رحمن ہونے کا ثبوت ہے کہ اس نے علم سکھایا۔ قرآن پاک جس میں پوری کائنات تمام تخلیقات کے ہر قسم کے علوم بیان کردیے گئے ہیں اور ان…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–25

آیات 1 تا 25۔ اسرار ومعارف۔ وہ ذات بیحد و حساب رحم کرنے والی ہے اور اس کی رحمت ہے کہ اس نے قرآن سکھلایا اپنے نبی پر نازل فرما کر ان خوش نصیبوں کو جنہوں نے آپ سے سیکھا اور ان کے واسطے سے اگلوں کو سکھایا یوں تعلیم قرآن کا سلسلہ ہمیشہ کے لیے جاری فرمایا کہ بنی آدم میں سے جو چاہے اس چشمہ رحمت سے سیراب ہو۔ آخر یہ بھی تو اسی کی رحمت عامہ ہے کہ انسان کو پیدا فرمایا اور اسے زبان دانی بات کرنے کا فن ودیعت فرمایا کہ وہ علم قرآن حاصل کرسکنے کے قابل ہوا۔ قوت گویائی کا اصل مصرف۔ گویاقوت گویائی اور بات کرنے کی صلاحیت کا اصل مصرف علوم قرآن کا حصول اور اس کا آگے پہنچانا ہے باقی سارے فوائد دوسرے درجے میں ہیں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 10 یعنی کس کس نعمت کا انکار کرو گے۔ ایک کا انکار کرو گے تو دوسری سامنے آجائے گی اور دوسری کا انکار کرو گے تو تیسری آخر کہاں تک انکار کرتے جائو گے ؟ یہ آیت اس سورة میں اکیس بار آئی ہے۔ جیسا کہ اوپر بتایا جا چکا ہے اس عن کر لا بشئی من نعمک ربنا نکدب ولک الحمد کہنا مستحب ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(55:13) فبای الاء ربکما تکذبان :سببیہ ہے اور ای استفہامیہ ہے۔ اور استفہام کا مقصد ہے۔ (1) الاء کو مؤکدہ کرنا۔ (2) تکذیب الاء کو رد کرنا۔ کیونکہ الاء لا ذکر نعمتوں کے اقرار اور منعم کے شکر کا مقتضی ہے اور نعمتوں کی تکذیب کی نفی کر رہا ہے۔ اسی طرح ناشکری پر وعید (اور شکرپر) وعدہ نعمتوں کے اقرار و شکر کا موجب ہے۔ حاکم نے بوساطت محمد بن منکدر حضرت جابر بن عبد اللہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ حضرت جابر ؓ نے فرمایا کہ :۔ جناب رسول اللہ ﷺ نے ہمارے سامنے سورة الرحمن آخر تک تلاوت فرمائی۔ پھر فرمایا کہ : ۔ میں تم لوگوں کو خاموش دیکھ رہا ہوں۔ ایسا کیوں ہے ؟ تم سے بہتر تو جن تھے جب اور جتنی بار میں نے ان…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–25

لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 25 علم اس نے سکھایا۔ البیان بولنا بحسبان ایک حساب سے، ایک طریقے سے۔ النجم بےتنے کے درخت، پودے۔ وضع اس نے رکھا ۔ اس نے بنایا ۔ الاتطفوا یہ کہ تم نہ گھٹائو۔ انام مخلوق۔ الاکمام (کم) غلام، چھلکا ۔ العصف بھوسہ (جانوروں کی غذا) الریحان خوشبودار ۔ الاء (الی) نعمتیں صلصال خشک مٹی جو کھن کھن بجتی ہو۔ الفخار ٹھیکرا۔ الجان جن ، ابو الجنات ۔ مارج شعلہ جس میں دھواں نہ ہو۔ مرج (خوب بہتا ہے) جاری کیا البحرین دوریا، دو سمندر۔ برزخ پردہ، رکاوٹ۔ لا یبغین دونوں کو ملنے نہیں دیتا اللولو موتی۔ المرجان مونگا، سفید موتی۔ المنشئت بلند کئے ہوئے۔ الاغلام (ملم) پہاڑ، جھنڈا اللہ تعالیٰ نے اپنی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 13–14

(ف 3) اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کا پتلا بنانے کے لیے خشک مٹی لی، جو بجانے سے بجے اور کوئی چیزکھنکھناتی آواز دے پھر اس مٹی کو تر کیا کہ وہ مثل گارے کے ہوگئی پھر اس کو چھوڑ دیا کہ وہ سیاہ رنگ کا بودار گارا ہوگیا اور پھر جب اس سے پتلا تیار کیا تو اس میں روح پھونک دی گئی اور شیطان اور جنوں کے باپ کو دہکتی آگ سے جس میں دھوئیں کا نام نہ تھا صاف چمکتی لطیف آگ سے پیدا کیا اور خدا دونوں مشرقوں اور مغربوں کا مالک ہے جاڑے اور گرمی میں جس جس مقام سے سورج طلوع ہوتا ہے وہ دومشرق اور جہاں جہاں غروب ہوتا ہے وہ دومغرب ہوئے۔ اسی کے تغیر وتبدل سے موسم اور فصلیں بدلتی ہیں اور طرح طرح کے انقلابات ہوتے ہیں زمین…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 13–16

[5] یہ آیت آگے بار بار آئے گی اور یہ اس سورت کی اہم ترین آیت ہے۔ اس میں لفظ اٰلآء استعمال ہوا ہے جس کے معنی نعمتوں کے بھی ہیں اور کمالات قدرت کے بھی، اوصاف حمیدہ اور کمالات و فضائل کے معنی بھی ہیں اور نشانی اور کرشمے کے بھی۔ ہر مقام پر اس لفظ کا وہ مفہوم لیا گیا ہے جو سیاق وسباق سے مناسبت رکھتا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 5–16

جنوں کا وجود 1: جن ایک الگ مخلوق ہے ۔ جس کو اللہ تعالیٰ نے آگ سے پیدا کیا ہے ۔ یہی وجہ ہے ۔ ان میں لطافت زیادہ ہے ۔ آج سے پچاس سال قبل تو لوگ اس مخلوق کا انکار کرتے تھے ۔ مگر اب تجربات نے ثابت کردیا ہے ۔ کہ جنات بھی موجود ہیں ۔ اور وہ لوگ جنہوں نے بڑے شدومد سے کہا تھا ۔ کہ یہ محض وہم ہے ۔ اب وہی کہہ رہے ہیں ۔ کہ یہ ایک حقیقت ہے ۔ ہمارے ہاں بعض ایسے جاہل بھی موجود ہیں ۔ جنہوں نے اس وقت کی آواز کو تو سنا تھا ۔ مگر موجودہ وقت کے خیالات سے آگاہ نہیں ۔ وہ اب تک یہ سمجھے بیٹھے ہیں ۔ کہ علماء مغرب کے معتقلات میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ۔ بلکہ وہ اس قدر روشن خیال ہیں ۔ کہ سارا مغرب بھی ان مسائل کا قائل…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(13) سو تم جن وانس اپنے پروردگار کون کون سی نعمتوں کو جھٹلائو گے اور تکذیب کرو گے۔ اول انسان کی ذات پر جو احسان تھے ان کو فرمایا پھر باہمی معاملات کے سلسلے میں عدل و انصاف کا ذکر فرمایا پھر عالم علوی کیا حسانات بتائے پھر عالم سفلی یعنی زمین کے بعض احسانات ظاہر فرمائے۔ اس کے بعد فرمایا کہ اے گروہ جن وانس تم اپنے پروردگار کی نعمتوں کو اور اس کے احسانات کو کہاں تک جھٹلائو گے بھوسے والا اناج غلے جن کو روند کر چھلکا اتارتے ہیں پھول خوشبودار جن کی ہزارہا قسمیں اور ان میں ہزار ہا منافع ہیں یہ فبای الآء شاید اکتیس مرتبے اس سورت میں آیا ہے اور چونکہ ہر جگہ نعمت کی حیثیت جداگانہ ہے اور مصداق الگ ہے اس…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 3–13

ف 5۔ یہ آیت تفریعیہ اس سورت میں اکتیس جگہ آئی ہے اور ہر جگہ الاء کا مصداق جدا ہے، اس لئے یہ تکرار محض نہیں، محض لفظی تشارک ہے اور تکرار ظاہری کیو جہ سے اس میں افادہ تاکید بھی ہے اور اس قسم کا تکرار جو کہ قند مکرر سے شیریں تر ہے عرب کے کلام منثور و منظوم میں بکثرت بلا نکیر مستعمل ہے۔ تکذبان میں خطاب جن و انس کو ہونا ان دلائل سے ہے، قولہ تعالیٰ خلق الانسان و خلق الجان، قولہ تعالیٰ ایہ الثقلان، قولہ تعالیٰ انس قبلھم ولا جان۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

پس تم دونوں اپنے ربٍّ کی کن کن نعمتوں کو جھٹلائو گے 13۔ یہ وہ فقرہ ہے جو اس سورت میں بار بار دہرایا گیا ہے اور اس سورت کی 78 آیتوں میں سے 31 بار یہی آیت دہرائی گئی ہے اور باقی کل 47 آیات کریمات بچتی ہیں۔ اس میں خطاب جنس انسانی کی دونوں اقسام کو کیا گیا ہے وہ لوگ جو مدنی زندگی کو پسند کرتے ہیں اور دوسرے انسانوں سے مل جل کر وقت گزارنا چاہتے ہیں اور وہ بھی جو بدوی زندگی کو مدنی زندگی پر ترجیح دیتے ہیں اور پہاڑوں اور غاروں میں رہنا زیادہ پسند کرتے ہیں۔ اس کی وضاحت ہم پیچھے بھی بہت سے مقامات پر کر آئے ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ شاید ہم جن مخلوق سے انکاری ہیں۔ ہرگز نہیں لیکن اس جگہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Mankind and Jinn are surrounded by Divine Bounties فَبِأَيِّ آلَاءِ رَ‌بِّكُمَا تُكَذِّبَانِ (So, [ 0 mankind and Jinn,] which of the bounties of your Lord will you deny?...55:13). The word آلَاءِ 'al a' is the plural and it means 'benefits, benefaction, favour, boon, blessing or bounty'. The address is to the two species of Jinn and men referred to in verse 33 below and many other verses of Surah Ar-Rahman where Jinn are specifically mentioned.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

12 The word alaa' in the refrain as repeated over and over again in the subsequent verses has been translated differently at different places. Therefore, it would be useful to understand at the outset how vast this word is in meaning and what different shades of meaning it contains. The lexicographers and commentators generally have explained alaa' to mean "blessings" and "bounties". The translators also have given this same meaning of this word, and the same has been reported from Ibn 'Abbas, Qatadah and Hasan Basri. The major argument that supports this meaning is the Holy Prophet's own…

Read the full tafseer →