Explained with ayahs 14–25
انسان اور جنات کی پیدائش میں فرق
یہاں بیان ہو رہا ہے کہ انسان کی پیدائش بجنے والی ٹھیکری جیسی مٹی سے ہوئی ہے اور جنات کی پیدائش آگ کے شعلے سے ہوئی ہے جو خالص اور احسن تھا مسند کی حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں فرشتے نور سے جنات نار سے اور انسان اس مٹی سے جس کا ذکر تمہارے سامنے ہوچکا ہے پیدا کئے گئے ہیں پھر اپنی کسی نعمت کے جھٹلانے کی ہدایت کر کے فرماتا ہے جاڑے اور گرمی کے دو سورج کے نکلنے اور ڈوبنے کے مقامات کا رب اللہ ہی ہے دو سے مراد سورج نکلنے اور ڈوبنے کی دو مختلف جگہیں ہیں کہ وہاں سے سورج چڑھتا اترتا ہے اور موسم کے لحاظ سے یہ بدلتی جگہیں رہتی ہیں ہر دن انقلاب لاتا ہے جیسے دوسری آیت…
Read the full tafseer →سورة الرَّحْمٰن 14
تخلیق انسانی کے ابتدائی مراتب جو قرآن مجید میں بیان کیے گئے ہیں ان کی سلسلہ وار ترتیب مختلف مقامات کی تصریحات کو جمع کرنے سے یہ معلوم ہوتی ہے (1) تراب، یعنی مٹی یا خاک (2) طین، یعنی گارا جو مٹی میں پانی ملا کر بنایا جاتا ہے (3) طین لازِب، لیس دار گارا، یعنی وہ گارا جس کے اندر کافی دیر تک پڑے رہنے کے باعث لیس پیدا ہوجائے۔ (4) حَمَأٍ مَسْنون، وہ گارا جس کے اندر بو پیدا ہوجائے (5) صلصال من حمأ مسنون کالفخار، یعنی وہ سڑا ہوا گارا جو سوکھنے کے بعد پکی ہوئی مٹی کے ٹھیکرے جیسا ہوجائے (6) بشر جو مٹی کی اس آخری صورت سے بنایا گیا، جس میں اللہ تعالیٰ نے اپنی خاص روح پھونکی، جس کو…
Read the full tafseer →خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ كَالْفَخَّارِ ، انسان سے مراد اس جگہ باتفاق آدم ؑ ہیں، جن کی تخلیق مٹی سے کی گئی ہے، صلصال پانی میں ملی ہوئی مٹی جبکہ وہ خشک ہوجائے اور فخار وہ پانی میں ملاتی ہوئی مٹی جس کو آگ پر پکا لیا جائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–16
(خلق الانسان من صلصال کا لفخار وخلق الجان من مارج من نار فبای الا ربکما تکذین) (14۔ 16)
(انسانی خلقت کے مختلف مراحل سے قیامت پر استدلال) یہ جنوں اور انسانوں دونوں کو ان کی خلقت یاد دلا کر ان کی دوسری خلقت کی طرف توجہ دلائی ہے کہ اس غلطی فہمی میں نہ رہو کہ تمہارا رب ایک مرتبہ پیدا کرنے کے بعد تمہیں دوبارہ پیدا کرنے پر قادر نہیں رہا اس وجہ سے اب کسی روز حساب کا معاملہ خارج از امکان ہوگیا۔ یادرکھو کہ جس میٹریل سے اس نے تم کو پیدا کیا ہے وہ میٹریل بھی پوری مقدار میں موجود ہے اور خدا کی قدرت تخلیق بھی اسی طرح موجود ہے جس طرح تمہاری خلقت اول کے وقت موجود تھی تو اگر تم اپنی خلقت کا انکار نہیں کرسکتے…
Read the full tafseer →14۔ 1 صَلصَالٍ خشک مٹی جس میں آواز ہو۔ فَخَّار آگ میں پکی ہوئی مٹی، جسے ٹھیکری کہتے ہیں۔ انسان سے مراد حضرت آدم ؑ ہیں، جن کا پہلے مٹی کا پتلا بنایا گیا اور پھر اس میں اللہ نے روح پھونکی۔ پھر حضرت آدم ؑ کی بائیں پسلی سے حوا کو پیدا فرمایا، اور پھر ان دونوں سے نسل انسانی چلی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–16
2: سجدہ حقیقی بھی ہوسکتا ہے، کیونکہ قرآن کریم نے کئی جگہ یہ فرمایا ہے کہ تمام مخلوقات میں کچھ نہ کچھ احساس موجود ہے۔ (دیکھئے سورة بنی اسرائیل : 44) اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ یہ سب اللہ تعالیٰ کے تابع فرمان ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
خلق ............ کالفخار (55:4 1) وخلق ............ نار (55:5 1) فبای ........ تکذبن (55: 61) ” انسان کو اس نے ٹھیکری جیسے سوکھے سڑے گارے سے بنایا اور جن کو آگ کی لپٹ سے پیدا کیا۔ پس اے جن وانس ، تم اپنے رب کے کن کن عجائب قدرت کو جھٹلاؤ گے ؟ “
پیدا کرنا اور ایجاد کرنا ، اصول نعمت میں سے ہے۔ وجود اور عدم کے درمیان جو فاصلے ہیں ان کو ان پیمانوں میں سے کسی پیمانے کے ساتھ نہیں ناپا جاسکتا جو انسان کے ادراک میں ہیں۔ اس لئے کہ انسانوں کی دسترس میں جو پیمانے ہیں یا جن کا ادراک ان کی عقلوں نے کرلیا ہے وہ ایسے پیمانے ہیں جو ایک موجود اور دوسرے موجود کے درمیان فرق کرنے کے پیمانے ہیں۔ رہی یہ بات کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
1 یعنی سب آدمیوں کے باپ آدم کو مٹی اور جنوں کے باپ کو آگ کے شعلہ سے پیدا کیا۔
Read the full tafseer →آیت 14 { خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ کَالْفَخَّارِ۔ } ”اس نے پیدا کیا انسان کو ٹھیکرے کی طرح کھنکھناتی ہوئی مٹی سے۔“
حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق کے حوالے سے سورة الحجر کے تیسرے رکوع میں تین مرتبہ { صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ 4 } کے الفاظ آئے ہیں۔ اس سے مراد ایسا گارا ہے جس میں سڑاند پیدا ہوچکی ہو ‘ یعنی سنا ہوا گارا۔ ایسا گارا خشک ہونے پر سخت ہوجاتا ہے اور ٹھوکر لگنے سے کھنکنے لگتا ہے۔ یہاں پر صَلْصَالٍ کَالْفَخَّارِسے ایسا ہی سوکھا ہوا گارا مراد ہے ‘ یعنی ٹھیکرے کی طرح کھنکھناتا ہوا گارا۔
Read the full tafseer →12 سیدنا آدم کے پہلے کی تخلیق کے مراحل :۔ یہ سیدنا آدم کے پتلے کی تخلیق کا ساتواں اور آخری مرحلہ ہے اور ان سات مراحل کی ترتیب یوں ہے۔ (1) تراب بمعنی خشک مٹی سے، (المومن : 67) (1) ارض بمعنی عام مٹی یا زمین، (نوح : 17) (3) طین بمعنی گیلی مٹی یا گارا، (الانعام : 2) (4) طِیْنٍ لاَّزِبٍ بمعنی لیسدار اور چپکدار مٹی، (الصافات : 11) (5) حَمَإٍ مَّسْنُوْنٍ بمعنی بدبودار کیچڑ،۔ (الحجر : 26) (6) صَلَصَالٍ ٹھیکرا یا حرارت سے پکائی ہوئی مٹی، (ایضاً ) (7) صَلْصََالٍ کَاْلفَخَّارٍ بمعنی ٹن سے بجنے والی ٹھیکری، (الرحمن : 14)
پھر جب اللہ تعالیٰ نے اس میں اپنی روح سے پھونکا تو یہ بشر بن گیا۔ اس کو مسجود ملائک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
10۔ انسان اور جن کا مخلوق کی دو 2 مختلف نوعین ہونا یہاں جس صراحت سے مذکور ہے اس کے آگے صراحت کا کوئی اور درجہ ہو کیا سکتا ہے۔ حیرت اور اس سے زیاہ افسوس کا مقام ہے کہ ایسی ایسی متعدد قرآنی صراحتوں کے باوجود بعض باطل فرقوں کی کوششیں اب بھی جاری ہیں کہ جس طرح بھی کھینچ تان کر اور لغت اور نصوص قرآنی سے جس طرح بھی کشتی لڑ لڑ کر ممکن ہوجنات کو انسان ہی کی ایک قسم ثابت کردکھائیں ! اسلئے اور محض اس لئے فرنگیوں کو ابھی تک اپنی کسی تحقیق سے جود جنات کا ثبوت نہیں ملا ہے ! اکبرالہ آبادی کیا خوب فرماگئے ہیں :
ع :۔ کیونکر خدا کے عرش کے قائل ہوں یہ عزیز۔ جغرافیہ میں عرش کا نقشہ نہیں ملا !
Read the full tafseer →خلق الانسان من صلصال الخ انسان کو بجتی ہوئی خشک مٹی سے پیدا کیا۔
سوال : یہاں انسان کی تخلیق کو صلصال سے بتایا گیا اور سورة الحجر میں من صلصال من حمامسنون کالی سڑی ہوئی سیاہ مٹ سے تخلیق کرنا بیان کیا گیا اور سورة الصافات میں من طین لازیب یعنی چپکتی ہوئی مٹی سے تخلیق بیان کی گئی ہے اور سورة آل عمران میں خلقہ من تراب عام مٹی سے تخلیق بیان ہوئی، آدم (علیہ السلام) کی تخلیق چار قسم کی مٹی سے قرآن سے معلوم ہوتی ہے اور مذکورہ چاروں قسمیں ایک دوسرے سے مختلف ہیں، بظاہر تعارض و تضاد معلوم ہوتا ہے۔
جواب :۔ چاروں میں کسی قسم کا تضاد و تعارض نہیں ہے اس لئے کہ مذکورہ چاروں حالات مختلف زمانوں کے ہیں، تعارض…
Read the full tafseer →خلق الانسان من صلصال کالفخار
اسی نے انسان کو ایسی مٹی سے جو ٹھیکرے کی طرح بجتی تھی ‘ پیدا کیا
خَلَقَ الْاِنْسَانَ : یعنی حضرت آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا۔
صَلْصَالٍ : خشک مٹی ‘ جو کھن کھن بجتی ہو۔ بعض نے کہا : صلصال سڑی ہوئی کیچڑ کو کہتے ہیں۔
اَلْفَخَّارِ : ٹھیکرا۔ آگ میں پکائی ہوئی کیچڑ یا گارا۔ بعض نے کہا : فخر کا معنی ہے ‘ بیرونی اشیاء جیسے مال ‘ مرتبہ وغیرہ میں اترانا ‘ گھڑا بھی بجانے سے کھن کھن بجتا ہے گویا اظہار فخر کرتا ہے۔
تخلیق انسانی کے متعلق مختلف آیات میں مختلف الفاظ آئے ہیں : طین لازب۔ تراب۔
ان آیات میں کوئی اختلاف نہیں ہے کیونکہ سب سے پہلے مادۂ تخلیق مٹی (تراب) ہی تھی۔ پھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–16
(14۔ 16) اسی نے آدم کو ایسی مٹی سے جو ٹھیکری کی طرح بجتی ہے پیدا کیا، اور جنات و شیاطین کی اصل کو ایسی آگ سے جس میں دھواں نہ تھا پیدا کیا سو اے جن و انس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کا انکار کرو گے۔
Read the full tafseer →خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ کَالْفَخَّارِ :”صلصلۃ“ وہ آواز جو کسی چیز کو بجانے یا کھڑکانے سے پیدا ہوتی ہے ، جیسا کہ صحیح بخاری کی حدیث (2) میں ”صلصلۃ الجرس“ کا ذکر ہے۔”صلصال“ بجنے والی ، کھنکھنانے والی (مٹی) بعض کہتے ہیں۔ یہ ”صل اللحم“ سے مشتق ہے ، جس کا معنی گوشت کا بد بودار ہونا ہے۔ مراد بد بودار مٹی ہے۔ آیت کی مزید تفسیر کے لیے دیکھئے سورة ٔ حجر (26)۔
Read the full tafseer →خلق الانسان جب اللہ تعالیٰ نے عالم کبیر کی تخلیق یعنی آسمان، زمین اور ان کے درمیان اس کی وحدانیت اور اس کی قدرت پر موجود دلائل کا ذکر کیا تو عالم صغیر کی تخلیق کا ذکر کیا فرمایا : خلق الانسان علماء تاویل کا اتفاق ہے کہ الانسان سے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں۔
من صلصال کالفخار۔ صلصال سے مراد خشک مٹی ہے جس کی کھنک سنائی دیتی ہے۔ اس کو فخار کے ساتھ تشبیہ دی جسے پکایا گیا ہو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد ایسی مٹی ہے جس میں ریت کی آمیزش ہو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد بدبو دار ٹمی ہے (1) یہ صل اللحکم واصل سے مشتق ہے جب وہ بدبو دار ہو۔ سورة حجر میں یہ بحث گزر چکی ہے۔ یہاں کہا، من…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–16
1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) '' وخلق الجآن من مارج من نار '' (اور جنات کو خالص آگ سے پیدا کیا) یعنی آگ کے شعلے سے۔
2:۔ عبد بن حمید (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا۔
3:۔ الفریابی وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) '' من مارج من نار '' سے مراد ہے آگ کا وہ شعلہ جو اس کے درمیان سے نکلتا ہے۔
4:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذ روابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) '' من مارج '' سے مراد خالص آگ ہے۔
5:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) '' من مارج '' یعنی آگ…
Read the full tafseer →خَلَقَ الْاِنْسَانَ [ اس نے پیدا کیا انسان کو ] مِنْ صَلْصَالٍ [ ایک کھنکتی مٹی سے ] كَالْفَخَّارِ [ جیسے ٹھیکرا ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–16
اللہ تعالیٰ نے انسان کو بجتی ہوئی مٹی سے اور جنات کو خالص آگ سے پیدا فرمایا
یہ تین آیتوں کا ترجمہ ہے پہلی آیت میں انسان کی تخلیق کا تذکرہ فرمایا اور یہ بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو مٹی سے پیدا فرمایا یعنی ابوالبشر سید نا آدم (علیہ السلام) جو سب سے پہلے انسان اور سب انسانوں کے باپ ہیں ان کا پتلا مٹی سے بنایا یہ پہلے صرف مٹی تھی اس میں پانی ملا دیا گیا توطین یعنی کیچڑ بن گئی پھر اس سے پتلا بنایا گیا اور وہ سوکھ گیا تو صلصال ہوگیا جیسا فخار ہوتا ہے فخار اس چیز کو کہتے ہیں جو کیچڑ والی مٹی سے بنائی گئی ہو، جب وہ سوکھ جائے تو اس میں انگلی مارنے سے آواز نکلتی ہے اس آواز دینے والی مٹی کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–25
انعامات رب جلیل بر انسان بعطاء وصف بیان وتعلیم قرآن وفیضان نعماء جسمانیہ وروحانیہ :
قال اللہ تعالیٰ : الرحمن علم القرآن ...... الی ...... فبای الآء ربکما تکذبن “۔
(ربط) سورة قمر میں دلائل نبوت اور معجزات عظیمہ کا بیان تھا اور امم سابقہ کے احوال ذکر فرمائے گئے کہ کس طرح انہوں نے اپنے پیغمبروں کا انکار کیا اور ان پر ایمان نہ لائے جس کے باعث عذاب خداوندی سے انکو ہلاک وبرباد کردیا گیا جس سے مقصود اہل مکہ کو متنبہ کرنا تھا کہ وہ ان احوال وواقعات کو سوچ کر اپنے انجام کے بارے میں بھی خود فیصلہ کرلیں تو اس کے بعد حق تعالیٰ شانہ نے ان انعامات خاصہ کا ذکر فرمایا جو انسان پر کئے گئے ان انعامات میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–16
ٖف 7:۔ ” خلق الانسان “ یہ توحید کی چوتھی عقلی دلیل ہے۔ الانسان سے حضرت آدم (علیہ السلام) مراد ہیں۔ ” صلصال “ خشک مٹی جو بجانے سے آواز دے۔ ” الفخار “ ٹھیکری یعنی وہ مٹی جو آگ میں پکا لی گئی ہو۔ ” مارج “ آگ کا شعلہ جس میں دھواں نہ ہو۔ اللہ نے انسان کو مٹی سے پیدا فرمایا اور ” جآن “ جنوں کے جد اعلیٰ کو آگ کے شعلے سے پیدا فرمایا۔ اے جن و انس ذرا سوچو تو سہی تمہاری تخلیق بھی اللہ کا تم پر انعام ہے تم اس کی کونسی نعمت کو نہیں مانو گے پھر یہ اس کی قدرت و صفت کا کمال ہے کہ مٹی اور آگ سے اس نے کس خوبی سے پیدا فرمایا یہ اس کی قدرت و وحدانیت کی دلیل ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–25
ربطہ آیات
اس سورة مبارکہ میں کائنات اور بالخصوص انسانوں پر ہونے والے انعامات الٰہیہ کا ذکر ہورہا ہے۔ چناچہ گذشتہ درس میں روحانی انعامات میں سے سب سے بڑی نعمت قرآن حکیم کا تذکرہ ہوا۔ اس کے بعد اللہ نے خود انسانی جسم کی تخلیق کا ذکر کیا کہ اس نے انسان کو پیدا کیا اور کمال درجے کی قوت گویائی بھی عطافرمائی۔ پھر اللہ نے شمس و قمر ، پودوں اور درختوں کا ذکر کیا ہے کہ یہ بھی انعاماتِ الٰہیہ میں شامل ہیں جو اللہ نے انسانوں کی مصلحت کی خاطر پیدا فرمائے ہیں پھر اللہ نے ترازو کا ذکر کیا جو کہ عدل کی علامت ہے ، لہٰذا اللہ نے عدل قائم کرنے کا حکم دیا ، اور فرمایا کہ ناپ تول میں کسی قسم کی کمی بیشی نہ کرو…
Read the full tafseer →خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ كَالْفَخَّارِ 14 ۙ
خلق
الخَلْقُ أصله : التقدیر المستقیم، ويستعمل في إبداع الشّيء من غير أصل ولا احتذاء، قال : خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] ، أي : أبدعهما،
( خ ل ق ) الخلق
۔ اصل میں خلق کے معنی ( کسی چیز کو بنانے کے لئے پوری طرح اندازہ لگانا کسے ہیں ۔ اور کبھی خلق بمعنی ابداع بھی آجاتا ہے یعنی کسی چیز کو بغیر مادہ کے اور بغیر کسی کی تقلید کے پیدا کرنا چناچہ آیت کریمہ : ۔ خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] اسی نے آسمانوں اور زمین کو مبنی بر حکمت پیدا کیا میں خلق بمعنی ابداع ہی ہے
إنس
الإنس : خلاف الجن، والأنس : خلاف النفور، والإنسيّ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–18
ترکیب : ولاتخسرو ابضم التاء ای ولا تنقصوا الموزدن وقیل التقدیر فی المیزان۔ ویقرء بفتح التاء والخاء والاول اصح۔ للانام یتعلق بوضعہا والحب بالرفع عطفاً علی النخل والریحان کذلک ویقرء بالنصب ای خلق الحب۔ کالفخار لغت لصلصال من نار لغت لمارج۔ رب المشرقین ای ھو وقیل ھذا مبتداء دخبرہ مرج الاکمام جمع کم بالکسرو ھو دعاء الثمر اصلہ یطلق علی ماستر شیئا ومنہ کم القمیص بالضم۔
تفسیر : پہلے بطور علت و سبب کے عدل قائم کرنا بیان فرمایا تھا۔ اب بصراحت حکم دیتا ہے واقیموالوزن بالقسط کہ دنیا میں انصاف کی ترازو سے تولو۔ یہ حکم بڑا وسیع المعنی ہے جس میں اشیاء کا انصاف سے تولنا بھی داخل ہے اور عموماً ہر بات میں حق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–16
خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ کَالْفَخَّارِ ۔ وَخَلَقَ الْجَآنَّ مِنْ مَّارِجٍ مِّنْ نَّارٍ ۔ فَبِاَیِّ اٰ لَآئِ رَبِّـکُمَا تُـکَذِّبٰنِ ۔ (الرحمن : 14 تا 16)
(اس نے انسان کو پیدا کیا ٹھیکری جیسے سڑے ہوئے گارے سے۔ اور جنات کو پیدا کیا، آگ کے شعلہ سے۔ تو اے جنو اور انسانو ! تم اپنے رب کی کن کن قدرتوں کو جھٹلائو گے۔ )
جن و انس کے مادہ خلقت سے یاددہانی
انسان کے اندر جو شرک پایا جاتا ہے اور آخرت سے انکار یا اعراض عام دیکھا جاتا ہے اس کا اصل سبب صرف یہ ہے کہ انسان زبان سے اپنے رب کو سب کچھ تسلیم کرتا ہے لیکن اس کا دل اللہ تعالیٰ کی عظیم قدرت کو اس طرح ماننے کو تیار نہیں ہوتا جس سے دل میں یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–16
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سب سے افضل مخلوق انسان ہے اس لیے جن کی بجائے انسان کی تخلیق کا ذکر پہلے کیا ہے۔ جبکہ جنات کی پیدائش انسان سے پہلے ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق میں جس مخلوق کو حساب و کتاب کا مکلف ٹھہرایا ہے وہ انسان اور جن ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انسانِ اوّل یعنی حضرت آدم (علیہ السلام) کو کھنکھناتی ہوئی مٹی سے پیدا کیا اور جن کو آگ کے شعلے سے پیدا فرمایا۔ آدم (علیہ السلام) کے زمین پر نازل ہونے سے پہلے زمین پر جن رہتے تھے اور ان کا زمین پر راج تھا۔ اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو پیدا کرنے کے بعد اسے زمین میں خلافت عطا فرمائی اور اس کو اپنے احکام کا مکلف بنایا…
Read the full tafseer →14 : خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ (اسی نے انسان کو پیدا کیا بجتی مٹی سے) صلصالؔ خشک مٹی جس سے آواز آئے۔ کَالْفَخَّارِ (جو ٹھیکرے کی طرح تھی) فخارؔ آگ سے پکی ہوئی مٹی اور اسی کو ٹھیکری کہتے ہیں۔
ازالۃ الشک :
اس ارشاد اور دوسری آیات میں من حمأ منسون ] الحجر : 26[ اور من طین لازب ] الصافات : 11[ اور نمبر 3۔ من تراب ] آل عمران : 59[ میں کوئی اختلاف نہیں کیونکہ یہ سب معنی کے لحاظ سے متفق ہیں۔ کیونکہ ان کا حاصل یہ ہے اس نے مٹی سے پیدا کیا اولاً طیناً پھر حماً مسنون پھر صلصال کی حالتوں سے گزارا۔
Read the full tafseer →13 ۔” فبای آلاء ربکما تکذبان “ مراد جن وانس ہیں۔ مراد یہ ہے کہ ان مذکورہ اشیاء میں سے اور اس آیت کا اس سورت میں تکرار کیا ہے نعمت کو پختہ کرنے اور اس کے ذریعے نصیحت کی تاکید کے لئے عرب کی عادت کے مطابق کہ وہ ابلاغ واشباع میں ایسا کرتے ہیں۔ مخلوق پر اپنی نعمتوں کو گنوایا ہے اور ہر دو نعمتوں کے درمیان وہ بات ذکر کی ہے جو ان کو اس پر تنبیہ کردے۔
جیسے آدمی کا قول اس کو جو اس کی طرف احسان کرے اور اس پر لگاتار انعامات کرے اور وہ اس کا انکاروکفر کرے۔ ” الم تکن فقیرا فاغنیتک افتنکر ھذا ؟ “ کیا تو فقیر نہیں تھا میں نے تجھے مال دار کیا، کیا تو اس کا انکار کرتا ہے ؟ کیا تو ننگا نہیں تھا تو میں نے تجھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–25
14۔ 25۔ ترمذی نسائی ‘ مسند بزار وغیرہ میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ﷺ کا پتلا بنانے کے لئے پہلے مٹی لی پھر اس میں پانی ملا کر چھوڑ دیا کہ سیاہ رنگ کا بودار گارا ہوگیا اور یہاں تک سوکھا کہ ٹھیکرے کی طرح ہوگیا۔ ابن حبان نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔ سورة آل عمران ‘ سورة حج ‘ سورة و الصفات اور اس سورة میں اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کے پتلے کی مختلف حالتیں جو فرمائی ہیں یہ حدیث ان سب حالتوں کی تفسیر ہے جس سے معلوم ہوا کہ ان سورتوں کی آیتوں میں کچھ اختلاف نہیں ہے بلکہ ان چند حالتوں میں سے کسی آیت میں کوئی حالت ہے اور کسی میں کوئی اور۔ حقیقت…
Read the full tafseer →یہ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر نعمت ہے کہ اس نے انہیں اپنی قدرت اور کاری گری کے آثار دکھائے کہ (خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ كَالْفَخَّارِ ) انسان کے جد امجد حضرت آدم کو گیلی مٹی سے پیدا کیا جس کے نم کو مہارت کے ساتھ محکم کیا گیا یہاں تک کہ وہ خشک ہوگئی اور اس میں آگ پر پکائے گئے ٹھیکرے کی آواز مانند کھنکھنانے کی آواز پیدا ہوگئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–21
عصف اور ریحان کی تشریح
قول باری ہے (والحب ذوالعصف والریحان۔ طرح طرح کے غلے ہیں جن میں بھوسا بھی ہوتا ہے اور دانہ بھی) حضرت ابن عباس ؓ ، قتادہ اور ضحاک سے مروی ہے کہ عصف بھوسے کو کہتے ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ ، مجاہد اور ضحاک سے منقول ہے کہ ریحان ورق یعنی پتے کو کہتے ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ سے یہ بھی مروی ہے کہ ریحان غذائی دانوں کو کہتے ہیں۔ حسن کا قول ہے کہ ریحان پھول کو کہتے ہیں جسے سونگھا جاتا ہے۔
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اگر یہ تمام معانی مراد لئے جائیں تو اس میں کوئی امتناع نہیں ہے کیونکہ ریحان کا اسم ان سب پر واقع ہوتا ہے۔ تاہم ریحان کے ظاہری معنی اس پھول کے ہیں جس کی خوشبو سونگھی جاتی ہے۔ جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
[ 14] جِنُّوں اور انسانوں سے تنبہی خطاب کا ذکر وبیان :
سو جنوں اور انسانوں دونوں کو خطاب کرکے تنبیہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ تم دونوں اے گروہ جن وانس اپنے رب کی کون کون سے نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟ یعنی اپنے رب کی ان عظیم الشان نعمتوں کا تقاضا تو یہ تھا اور یہ ہے کہ تم سب دل و جان سے اپنے خالق ومالک کے حضور جھک جھک جاؤ، اور ہمیشہ اس کے جھکے جھکے ہی رہو، اور اس طرح یہ نعمتیں تمہارے لئے دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا ذریعہ وسیلہ بن جائی ؓ ، مگر تمہارا رویہ اس کے برعکس ہے۔ سو ان نعمتوں کی تکذیب کرنا، اور کفر و انکار سے کام لینا بہت بڑا اور نہایت افسوسناک امر ہے۔ کیونکہ اس طرح تکذیب و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–18
انسان کی پیدائش اور مشرقین اور مغربین
تشریح : انسان کی پیدائش مٹی سے اور جنات کی آگ سے اس کی حکمتیں تو وہی جانتا ہے جس نے پیدا کیا ہے ہمیں تو صرف یہ معلوم ہے کہ زندگی کی نعمت ان تمام نعمتوں میں سے ایک ہے جو ہمیں ملی ہیں اور ہم ان تمام نعمتوں کے لیے اللہ رحمن و رحیم کے شکر گزار ہیں پھر مشرقوں اور مغربوں کی ملکیت کا ذکر کیا گیـا ہے۔ اور یہ فلکیاتی نظام کی طرف ایک اشارہ ہے۔ اس کی وضاحت بڑے سادہ انداز میں مورس بو کائیے یوں کرتے ہیں۔ لکھتے ہیں۔ ' کوئی شخص جو طلوع شمس اور غروب شمس کا بغور مشاہدہ کرتا ہے وہ جانتا ہے کہ موسم کے مطابق سورج مشرق کے مختلف نقطوں سے نکلتا ہے اور مغرب کے مختلف نقطوں پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–25
آیات 1 تا 25۔
اسرار ومعارف۔
وہ ذات بیحد و حساب رحم کرنے والی ہے اور اس کی رحمت ہے کہ اس نے قرآن سکھلایا اپنے نبی پر نازل فرما کر ان خوش نصیبوں کو جنہوں نے آپ سے سیکھا اور ان کے واسطے سے اگلوں کو سکھایا یوں تعلیم قرآن کا سلسلہ ہمیشہ کے لیے جاری فرمایا کہ بنی آدم میں سے جو چاہے اس چشمہ رحمت سے سیراب ہو۔ آخر یہ بھی تو اسی کی رحمت عامہ ہے کہ انسان کو پیدا فرمایا اور اسے زبان دانی بات کرنے کا فن ودیعت فرمایا کہ وہ علم قرآن حاصل کرسکنے کے قابل ہوا۔
قوت گویائی کا اصل مصرف۔
گویاقوت گویائی اور بات کرنے کی صلاحیت کا اصل مصرف علوم قرآن کا حصول اور اس کا آگے پہنچانا ہے باقی سارے فوائد دوسرے درجے میں ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–17
ف 11 دونوں پور بوں (مشرقوں) اور پچھموں (مغریوں) سے مراد موسم سرما اور موسم گرما کے مشرق اور مغرب ہیں۔ موسم سرما میں سورج چھوٹا سا دائرہ بنا کر طلوع و غروب ہوتا ہے اور موسم گرما میں بڑا دائرہ بنا کر۔
Read the full tafseer →(55:14) صلصال۔ بجتی ہوئی مٹی۔ کھنکھناتی ہوئی مٹی۔ وہ خشک مٹی کہ جب اس پر انگلی ماری جائے تو بجنے اور کھنکھنانے لگے۔ صلصال کہلاتی ہے۔ امام راغب لکھتے ہیں :۔ صلصال اصل میں خشک چیز کے بجنے کا نام ہے اسی سے محاورہ ہے صلی المسمار (کھونٹی بجی)
بعض نے کہا ہے کہ صلصال سڑی ہوئی مٹی ہے۔ یہ عرب کے محاورہ صل اللحم سے ماخوذ ہے۔ (گوشت سڑ گیا)
کالفخار۔ ک تشبیہ کا ہے اس کا واحد فخارۃ ہے۔ مٹکوں کو کہا جاتا ہے کیونکہ وہ ٹھوکا لگانے سے اس طرح زور سے بولتے ہیں جیسے کوئی بہت زیادہ فخر کر رہا ہو۔ یہ الفخر (باب نصر) سے مصدر ہے۔ جس کے معنی ان چیزوں پر اترانے کے ہیں جو انسان کے ذاتی جوہر سے خارج ہوں َ مثلاً مال و جاہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–25
لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 25
علم اس نے سکھایا۔ البیان بولنا بحسبان ایک حساب سے، ایک طریقے سے۔ النجم بےتنے کے درخت، پودے۔ وضع اس نے رکھا ۔ اس نے بنایا ۔ الاتطفوا یہ کہ تم نہ گھٹائو۔ انام مخلوق۔ الاکمام (کم) غلام، چھلکا ۔ العصف بھوسہ (جانوروں کی غذا) الریحان خوشبودار ۔ الاء (الی) نعمتیں صلصال خشک مٹی جو کھن کھن بجتی ہو۔ الفخار ٹھیکرا۔ الجان جن ، ابو الجنات ۔ مارج شعلہ جس میں دھواں نہ ہو۔ مرج (خوب بہتا ہے) جاری کیا البحرین دوریا، دو سمندر۔ برزخ پردہ، رکاوٹ۔ لا یبغین دونوں کو ملنے نہیں دیتا اللولو موتی۔ المرجان مونگا، سفید موتی۔ المنشئت بلند کئے ہوئے۔ الاغلام (ملم) پہاڑ، جھنڈا
اللہ تعالیٰ نے اپنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
(ف 3) اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کا پتلا بنانے کے لیے خشک مٹی لی، جو بجانے سے بجے اور کوئی چیزکھنکھناتی آواز دے پھر اس مٹی کو تر کیا کہ وہ مثل گارے کے ہوگئی پھر اس کو چھوڑ دیا کہ وہ سیاہ رنگ کا بودار گارا ہوگیا اور پھر جب اس سے پتلا تیار کیا تو اس میں روح پھونک دی گئی اور شیطان اور جنوں کے باپ کو دہکتی آگ سے جس میں دھوئیں کا نام نہ تھا صاف چمکتی لطیف آگ سے پیدا کیا اور خدا دونوں مشرقوں اور مغربوں کا مالک ہے جاڑے اور گرمی میں جس جس مقام سے سورج طلوع ہوتا ہے وہ دومشرق اور جہاں جہاں غروب ہوتا ہے وہ دومغرب ہوئے۔ اسی کے تغیر وتبدل سے موسم اور فصلیں بدلتی ہیں اور طرح طرح کے انقلابات ہوتے ہیں زمین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–16
[5] یہ آیت آگے بار بار آئے گی اور یہ اس سورت کی اہم ترین آیت ہے۔ اس میں لفظ اٰلآء استعمال ہوا ہے جس کے معنی نعمتوں کے بھی ہیں اور کمالات قدرت کے بھی، اوصاف حمیدہ اور کمالات و فضائل کے معنی بھی ہیں اور نشانی اور کرشمے کے بھی۔ ہر مقام پر اس لفظ کا وہ مفہوم لیا گیا ہے جو سیاق وسباق سے مناسبت رکھتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–16
جنوں کا وجود
1: جن ایک الگ مخلوق ہے ۔ جس کو اللہ تعالیٰ نے آگ سے پیدا کیا ہے ۔ یہی وجہ ہے ۔ ان میں لطافت زیادہ ہے ۔ آج سے پچاس سال قبل تو لوگ اس مخلوق کا انکار کرتے تھے ۔ مگر اب تجربات نے ثابت کردیا ہے ۔ کہ جنات بھی موجود ہیں ۔ اور وہ لوگ جنہوں نے بڑے شدومد سے کہا تھا ۔ کہ یہ محض وہم ہے ۔ اب وہی کہہ رہے ہیں ۔ کہ یہ ایک حقیقت ہے ۔ ہمارے ہاں بعض ایسے جاہل بھی موجود ہیں ۔ جنہوں نے اس وقت کی آواز کو تو سنا تھا ۔ مگر موجودہ وقت کے خیالات سے آگاہ نہیں ۔ وہ اب تک یہ سمجھے بیٹھے ہیں ۔ کہ علماء مغرب کے معتقلات میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ۔ بلکہ وہ اس قدر روشن خیال ہیں ۔ کہ سارا مغرب بھی ان مسائل کا قائل…
Read the full tafseer →(14) اسی نے انسان کو ایسی خشک مٹی سے پیدا کیا جو ٹھیکرے کی طرح کھنکھناتی اور کھن کھن بولتی تھی۔ یعنی آدم (علیہ السلام) کو خشک مٹی سے بنایا جو شروع میں گارا تھی پھر آخر میں خشک ہوگئی تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–17
ف 6۔ مراد اس سے سورج اور چاند کے طلوع و غروب کا افق ہے۔
Read the full tafseer →اسی نے (الانسان) کو مٹی سے جو بجنے والی تھی ، پیدا کیا ہے
14۔ اس جگہ جنس انسان کی دونوں قسموں کا بیان ہے اور دونوں کا آپس میں موازنہ بھی کیا گیا ہے اصل اگرچہ دونوں کی ایک ہے لیکن ایک ہی مٹی کا عنصر زیادہ ہے اور دوسرے میں بھڑکتے ہوئے شعلے کا اثر فوقیت رکھتا ہے جس نے ان دونوں میں ایک واضح فرق قائم کردیا ہے۔ اس کی مثال اس طرح سمجھیں کہ نر (Male) اور مادہ (Female) دونوں ایک ہی جنس ہیں لیکن ایک جنس کی دو اصناف ہیں اور دونوں میں جو واضح فرق ہے اس سے ہر انسان واقف ہے اس کی مزید وضاحت کی ضرورت نہیں دونوں اصناف مکلف ہیں اگرچہ دونوں کے بعض احکام ایک جیسے ہیں لیکن بعض میں فرق ہے اور اس فرق نے ان کو ایک…
Read the full tafseer →The Creation of Humans and Jinns
خَلَقَ الْإِنسَانَ مِن صَلْصَالٍ كَالْفَخَّارِ (He has created man from dry clay, ringing like pottery... 55:14). The word insan [ man ] in this context refers unanimously to 'Adam (علیہ السلام) . The word salsal [ clay ] refers to the wet soil when it becomes dry and heavy. The word fakhkhar refers to the wet soil when it is baked.
Read the full tafseer →14 The order of the initial stages of the creation of man, as given at different places in the Qur'an seems to be as follows: (1) Turab, i.e. earth or dust; (2) Tin, i.e. clay made by mixing water with earth; (3) tin-i-lazib: sticky clay, i.e. a clay which becomes sticky when left alone for a long time; (4) hama in musnun, i.e. clay with a stink in it; (S) salsal-im-min hems in masnun kalfakhkhar. i.e. the rotten clay which when dried becomes like baked pottery; (ti) bashar, i.e.. the one who was made from this last form of the earth, in whom Allah breathed of His Spirit, to whom the angels…
Read the full tafseer →