Explained with ayahs 14–25
انسان اور جنات کی پیدائش میں فرق
یہاں بیان ہو رہا ہے کہ انسان کی پیدائش بجنے والی ٹھیکری جیسی مٹی سے ہوئی ہے اور جنات کی پیدائش آگ کے شعلے سے ہوئی ہے جو خالص اور احسن تھا مسند کی حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں فرشتے نور سے جنات نار سے اور انسان اس مٹی سے جس کا ذکر تمہارے سامنے ہوچکا ہے پیدا کئے گئے ہیں پھر اپنی کسی نعمت کے جھٹلانے کی ہدایت کر کے فرماتا ہے جاڑے اور گرمی کے دو سورج کے نکلنے اور ڈوبنے کے مقامات کا رب اللہ ہی ہے دو سے مراد سورج نکلنے اور ڈوبنے کی دو مختلف جگہیں ہیں کہ وہاں سے سورج چڑھتا اترتا ہے اور موسم کے لحاظ سے یہ بدلتی جگہیں رہتی ہیں ہر دن انقلاب لاتا ہے جیسے دوسری آیت…
Read the full tafseer →سورة الرَّحْمٰن 15
اصل الفاظ ہیں مِنْ مَّارِجٍ مِّنْ نَّارٍ۔ نار سے مراد ایک خاص نوعیت کی آگ ہے نہ کہ وہ آگ جو لکڑی یا کوئلہ جلانے سے پیدا ہوتی ہے۔ اس مارج کے معنی ہیں خالص شعلہ جس میں دھواں نہ ہو اس ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح پہلا انسان مٹی سے بنایا گیا، پھر تخلیق کے مختلف مدارج سے گزرتے ہوئے اس کا لبد خاکی نے گوشت پوست کے زندہ بشر کی شکل اختیار کی اور آگے اس کی نسل نطفہ سے چلی، اسی طرح پہلا جن خالص آگ کے شعلے، یا آگ کی لَپَٹ سے پیدا کیا گیا، اور بعد میں اس کی ذریت سے جنوں کی نسل پیدا ہوئی۔ اس پہلے جن کی حیثیت جنوں کے معاملہ میں وہی ہے جو آدم ؑ کی حیثیت انسانوں کے معاملہ میں ہے۔ زندہ بشر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
وَخَلَقَ الْجَاۗنَّ مِنْ مَّارِجٍ مِّنْ نَّارٍ ، جان، بتشدید نون، جنس جنات کو کہا جاتا ہے اور مارج آگ سے اٹھنے والا شعلہ ہے، جنات کی تخلیق کا بڑا عنصر آگ کا شعلہ ہے، جیسا کہ انسان کی تخلیق میں بڑا جز مٹی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–16
(خلق الانسان من صلصال کا لفخار وخلق الجان من مارج من نار فبای الا ربکما تکذین) (14۔ 16)
(انسانی خلقت کے مختلف مراحل سے قیامت پر استدلال) یہ جنوں اور انسانوں دونوں کو ان کی خلقت یاد دلا کر ان کی دوسری خلقت کی طرف توجہ دلائی ہے کہ اس غلطی فہمی میں نہ رہو کہ تمہارا رب ایک مرتبہ پیدا کرنے کے بعد تمہیں دوبارہ پیدا کرنے پر قادر نہیں رہا اس وجہ سے اب کسی روز حساب کا معاملہ خارج از امکان ہوگیا۔ یادرکھو کہ جس میٹریل سے اس نے تم کو پیدا کیا ہے وہ میٹریل بھی پوری مقدار میں موجود ہے اور خدا کی قدرت تخلیق بھی اسی طرح موجود ہے جس طرح تمہاری خلقت اول کے وقت موجود تھی تو اگر تم اپنی خلقت کا انکار نہیں کرسکتے…
Read the full tafseer →15۔ 1 اس سے مراد پہلا جن جو ابو الجن ہے، یا جن بطور جنس کے ہے جیسا کہ ترجمہ جنس کے اعتبار سے ہی کیا گیا مارِجٍ آگ کے بلند ہونے والے شعلے کو کہتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–16
2: سجدہ حقیقی بھی ہوسکتا ہے، کیونکہ قرآن کریم نے کئی جگہ یہ فرمایا ہے کہ تمام مخلوقات میں کچھ نہ کچھ احساس موجود ہے۔ (دیکھئے سورة بنی اسرائیل : 44) اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ یہ سب اللہ تعالیٰ کے تابع فرمان ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
خلق ............ کالفخار (55:4 1) وخلق ............ نار (55:5 1) فبای ........ تکذبن (55: 61) ” انسان کو اس نے ٹھیکری جیسے سوکھے سڑے گارے سے بنایا اور جن کو آگ کی لپٹ سے پیدا کیا۔ پس اے جن وانس ، تم اپنے رب کے کن کن عجائب قدرت کو جھٹلاؤ گے ؟ “
پیدا کرنا اور ایجاد کرنا ، اصول نعمت میں سے ہے۔ وجود اور عدم کے درمیان جو فاصلے ہیں ان کو ان پیمانوں میں سے کسی پیمانے کے ساتھ نہیں ناپا جاسکتا جو انسان کے ادراک میں ہیں۔ اس لئے کہ انسانوں کی دسترس میں جو پیمانے ہیں یا جن کا ادراک ان کی عقلوں نے کرلیا ہے وہ ایسے پیمانے ہیں جو ایک موجود اور دوسرے موجود کے درمیان فرق کرنے کے پیمانے ہیں۔ رہی یہ بات کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
1 یعنی سب آدمیوں کے باپ آدم کو مٹی اور جنوں کے باپ کو آگ کے شعلہ سے پیدا کیا۔
Read the full tafseer →آیت 15 { وَخَلَقَ الْجَآنَّ مِنْ مَّارِجٍ مِّنْ نَّارٍ۔ } ”اور جنات کو اس نے پیدا کیا آگ کی لپٹ سے۔“
مَّارِجٍ مِّنْ نَّارٍسے آگ کی لویا لپٹ مراد ہے۔ اس کا اطلاق آگ کے شعلے کے اس حصے پر ہوتا ہے جو نظر نہیں آتا لیکن انتہائی گرم ہوتا ہے۔ شعلے کے اندر سب سے زیادہ درجہ حرارت اسی نظر نہ آنے والے حصے میں ہوتا ہے۔ سورة الحجر کی آیت 27 میں آگ کی اس لپٹ کو نَارِ السَّمُوْمِ کا نام دیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →13 جنوں کی تخلیق اور نسل :۔ مَارِجٍ بمعنی شعلہ کا اوپر کا گرم ترین حصہ جو دھوئیں سے یکسر پاک ہوتا ہے۔ (فقہ اللغۃ) یعنی آگ کی لپٹ۔ جس سے مٹی کو کئی مراحل سے گزار کر اسے لطیف سے لطیف تر بنا کر اس سے انسان بنایا گیا۔ اسی طرح جنوں کو بھی لکڑی اور کوئلے سے پیدا ہونے والی عام آگ سے نہیں بلکہ اس گرم تر لطیف تر حصہ سے بنایا گیا۔ انسانوں سے پہلے یہی آتشیں مخلوق زمین پر آباد تھی۔ ان میں بھی نبوت کا سلسلہ جاری تھا۔ انسان کی تخلیق کے بعد نبوت کا سلسلہ انسانوں میں منتقل ہوگیا۔ کیونکہ اشرف المخلوقات انسان ہے نہ کہ جن۔ جو نبی انسانوں کی طرف مبعوث ہوتا وہی جنوں کے لیے بھی ہوتا تھا۔ نبی آخرالزمان جیسے ہمارے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
10۔ انسان اور جن کا مخلوق کی دو 2 مختلف نوعین ہونا یہاں جس صراحت سے مذکور ہے اس کے آگے صراحت کا کوئی اور درجہ ہو کیا سکتا ہے۔ حیرت اور اس سے زیاہ افسوس کا مقام ہے کہ ایسی ایسی متعدد قرآنی صراحتوں کے باوجود بعض باطل فرقوں کی کوششیں اب بھی جاری ہیں کہ جس طرح بھی کھینچ تان کر اور لغت اور نصوص قرآنی سے جس طرح بھی کشتی لڑ لڑ کر ممکن ہوجنات کو انسان ہی کی ایک قسم ثابت کردکھائیں ! اسلئے اور محض اس لئے فرنگیوں کو ابھی تک اپنی کسی تحقیق سے جود جنات کا ثبوت نہیں ملا ہے ! اکبرالہ آبادی کیا خوب فرماگئے ہیں :
ع :۔ کیونکر خدا کے عرش کے قائل ہوں یہ عزیز۔ جغرافیہ میں عرش کا نقشہ نہیں ملا !
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–25
وخلق الجان من مارج من نار، جان سے جنس جنات مراد ہے، اور مارج آگ کے شعلہ کو کہتے ہیں، انسان کی طرح جن بھی عناصر اربعہ سے بنا ہوا ہے، گمر جن میں ناری عنصر غالب ہے جیسا کہ انسان میں خاکی عنصر غالب ہے رب المشرقین و رب المغربین سے سردی گرمی کے مشرق و مغرب مراد ہیں شمس و قمر کا مطلع اور مغرب اگرچہ بہت قیل مقدار میں روزانہ ہی بدلتا رہتا ہے اس لئے آسانی سے اس کا احساس نہیں ہوتا، گرمی سردی کے مشرق و مغرب میں چونکہ بین فرق اور نمایاں فاصلہ ہوتا ہے اس لئے صرف ان کا ہی ذکر کردیا ہے اور بعض حضرات نے مشرقین اور مغربین سے شمس و قمر کے مشرق و مغرب مراد لئے ہیں۔
Read the full tafseer →و خلق الجان من مارج من نار
اور جنات کو خالص آگ سے پیدا کیا ‘
وَ خَلَقَ الْجَآنَّ : الجان جنس جن۔ بعض نے کہا : جنات کا جو پدر اعلیٰ تھا اس کا نام الجان تھا۔ ضحاک نے کہا : ابلیس مراد ہے۔
مِنْ مَّارِجٍ : مارج بھڑکتی ہوئی ‘ خالص ‘ صاف ‘ بےدود آگ۔ اصل لغت کے لحاظ سے مارج کا معنی ہے مضطرب (لرزاں) یہ مرج سے مشتق ہے۔ مَرَج کا معنی مضطرب ہوا۔ مجاہد نے کہا : مارج کا معنی ہے مخلوط مرج امر القوم ‘ یعنی گڈمڈ اور مخلوط ہوگیا۔ آگ کے سرخ ‘ زرد اور سبز شعلے جب باہم گڈمڈ ہوجاتے ہیں تو اس کو مارج کہا جاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–16
(14۔ 16) اسی نے آدم کو ایسی مٹی سے جو ٹھیکری کی طرح بجتی ہے پیدا کیا، اور جنات و شیاطین کی اصل کو ایسی آگ سے جس میں دھواں نہ تھا پیدا کیا سو اے جن و انس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کا انکار کرو گے۔
Read the full tafseer →وَخَلَقَ الْجَآنَّ مِنْ مَّارِجٍ مِّنْ نَّارٍ : طبری نے فرمایا : ”مارج من نار“ ایک دوسرے سے ملی جلی سرخ ، زرد اور سبز رنگ کی آگ۔ مراد آگ کا شعلہ اور اس کی نوک ہے۔ یہ ”مرج امر القوم“ سے ہے ، جس کا معنی ہے ”قوم کا معاملہ مل جل گیا“۔ اسی طرح یہ نبی ﷺ کے اس فرمان سے ہے جو آپ ﷺ نے عبد اللہ بن عمرو ؓ کو فرمایا :(یا عبد اللہ ابن عمرو ! کیف بک اذا بقیت فی حثالۃ من الناس و فی ابی داؤد : قد مرجت عھودھم واما ناتھم) (بخاری، الصلاۃ ، باب تشیک الاصبع۔۔۔۔۔ 480 ، ابو داؤد : 4342)”اے عبد اللہ بن عمرو ! تمہارا کیا حال ہوگا جب تم چھان بورے جیسے لوگوں میں باقی رہ جاؤ گے۔“ ابوداؤد میں ہے :”جن کے عہد اور امانتیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
وخلق الجآن من مارج من نار۔ حضرت حسن بصری نے کہا، جان سے مراد ابلیس ہے یہ جنوں کا باپ ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : الجآن جن کا واحد مارج سے مراد خالص شعلہ ہے۔ حضتر ابن عباس نے کہا، اللہ تعالیٰ کے جنوں کو خالص جان سے پیدا کیا۔ لیث نے کہا :: مارج سے مراج ایسا شعلہ ہے جو پھیلنے والا ہو جو شدید لپک والا ہو۔ حضرت ابن عباس سے یہ بھی مروی ہے (2) : اس سے مراد وہ شعلہ ہے جو آگ پر بلند ہوتا ہے اور اس کا بعض بعض سے مل جاتا ہے یعنی کوئی سرخ کوئی زرد اور کوئی سبز ہوتا ہے۔ اس کی مثل مبرد کا قول ہے مبرد نے کا، مارج سے مراد ایسی آگ ہے روکی نہ جاسکے۔ ابو عبیدہ اور حسن بصری نے کہا، مارچ سے مراد خلط ملط آگ ہے۔ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–16
1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) '' وخلق الجآن من مارج من نار '' (اور جنات کو خالص آگ سے پیدا کیا) یعنی آگ کے شعلے سے۔
2:۔ عبد بن حمید (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا۔
3:۔ الفریابی وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) '' من مارج من نار '' سے مراد ہے آگ کا وہ شعلہ جو اس کے درمیان سے نکلتا ہے۔
4:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذ روابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) '' من مارج '' سے مراد خالص آگ ہے۔
5:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) '' من مارج '' یعنی آگ…
Read the full tafseer →وَخَلَقَ الْجَاۗنَّ [ اور اس نے پیدا کیا جن کو ] مِنْ مَّارِجٍ [ ایک ایسے شعلے سے جو ] مِّنْ نَّارٍ [ آگ سے تھا ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–16
اللہ تعالیٰ نے انسان کو بجتی ہوئی مٹی سے اور جنات کو خالص آگ سے پیدا فرمایا
یہ تین آیتوں کا ترجمہ ہے پہلی آیت میں انسان کی تخلیق کا تذکرہ فرمایا اور یہ بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو مٹی سے پیدا فرمایا یعنی ابوالبشر سید نا آدم (علیہ السلام) جو سب سے پہلے انسان اور سب انسانوں کے باپ ہیں ان کا پتلا مٹی سے بنایا یہ پہلے صرف مٹی تھی اس میں پانی ملا دیا گیا توطین یعنی کیچڑ بن گئی پھر اس سے پتلا بنایا گیا اور وہ سوکھ گیا تو صلصال ہوگیا جیسا فخار ہوتا ہے فخار اس چیز کو کہتے ہیں جو کیچڑ والی مٹی سے بنائی گئی ہو، جب وہ سوکھ جائے تو اس میں انگلی مارنے سے آواز نکلتی ہے اس آواز دینے والی مٹی کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–25
انعامات رب جلیل بر انسان بعطاء وصف بیان وتعلیم قرآن وفیضان نعماء جسمانیہ وروحانیہ :
قال اللہ تعالیٰ : الرحمن علم القرآن ...... الی ...... فبای الآء ربکما تکذبن “۔
(ربط) سورة قمر میں دلائل نبوت اور معجزات عظیمہ کا بیان تھا اور امم سابقہ کے احوال ذکر فرمائے گئے کہ کس طرح انہوں نے اپنے پیغمبروں کا انکار کیا اور ان پر ایمان نہ لائے جس کے باعث عذاب خداوندی سے انکو ہلاک وبرباد کردیا گیا جس سے مقصود اہل مکہ کو متنبہ کرنا تھا کہ وہ ان احوال وواقعات کو سوچ کر اپنے انجام کے بارے میں بھی خود فیصلہ کرلیں تو اس کے بعد حق تعالیٰ شانہ نے ان انعامات خاصہ کا ذکر فرمایا جو انسان پر کئے گئے ان انعامات میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–16
ٖف 7:۔ ” خلق الانسان “ یہ توحید کی چوتھی عقلی دلیل ہے۔ الانسان سے حضرت آدم (علیہ السلام) مراد ہیں۔ ” صلصال “ خشک مٹی جو بجانے سے آواز دے۔ ” الفخار “ ٹھیکری یعنی وہ مٹی جو آگ میں پکا لی گئی ہو۔ ” مارج “ آگ کا شعلہ جس میں دھواں نہ ہو۔ اللہ نے انسان کو مٹی سے پیدا فرمایا اور ” جآن “ جنوں کے جد اعلیٰ کو آگ کے شعلے سے پیدا فرمایا۔ اے جن و انس ذرا سوچو تو سہی تمہاری تخلیق بھی اللہ کا تم پر انعام ہے تم اس کی کونسی نعمت کو نہیں مانو گے پھر یہ اس کی قدرت و صفت کا کمال ہے کہ مٹی اور آگ سے اس نے کس خوبی سے پیدا فرمایا یہ اس کی قدرت و وحدانیت کی دلیل ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–25
ربطہ آیات
اس سورة مبارکہ میں کائنات اور بالخصوص انسانوں پر ہونے والے انعامات الٰہیہ کا ذکر ہورہا ہے۔ چناچہ گذشتہ درس میں روحانی انعامات میں سے سب سے بڑی نعمت قرآن حکیم کا تذکرہ ہوا۔ اس کے بعد اللہ نے خود انسانی جسم کی تخلیق کا ذکر کیا کہ اس نے انسان کو پیدا کیا اور کمال درجے کی قوت گویائی بھی عطافرمائی۔ پھر اللہ نے شمس و قمر ، پودوں اور درختوں کا ذکر کیا ہے کہ یہ بھی انعاماتِ الٰہیہ میں شامل ہیں جو اللہ نے انسانوں کی مصلحت کی خاطر پیدا فرمائے ہیں پھر اللہ نے ترازو کا ذکر کیا جو کہ عدل کی علامت ہے ، لہٰذا اللہ نے عدل قائم کرنے کا حکم دیا ، اور فرمایا کہ ناپ تول میں کسی قسم کی کمی بیشی نہ کرو…
Read the full tafseer →وَخَلَقَ الْجَاۗنَّ مِنْ مَّارِجٍ مِّنْ نَّارٍ 15 ۚ
خلق
الخَلْقُ أصله : التقدیر المستقیم، ويستعمل في إبداع الشّيء من غير أصل ولا احتذاء، قال : خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] ، أي : أبدعهما،
( خ ل ق ) الخلق
۔ اصل میں خلق کے معنی ( کسی چیز کو بنانے کے لئے پوری طرح اندازہ لگانا کسے ہیں ۔ اور کبھی خلق بمعنی ابداع بھی آجاتا ہے یعنی کسی چیز کو بغیر مادہ کے اور بغیر کسی کی تقلید کے پیدا کرنا چناچہ آیت کریمہ : ۔ خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] اسی نے آسمانوں اور زمین کو مبنی بر حکمت پیدا کیا میں خلق بمعنی ابداع ہی ہے
جان
وقوله تعالی: وَالْجَانَّ خَلَقْناهُ مِنْ قَبْلُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–18
ترکیب : ولاتخسرو ابضم التاء ای ولا تنقصوا الموزدن وقیل التقدیر فی المیزان۔ ویقرء بفتح التاء والخاء والاول اصح۔ للانام یتعلق بوضعہا والحب بالرفع عطفاً علی النخل والریحان کذلک ویقرء بالنصب ای خلق الحب۔ کالفخار لغت لصلصال من نار لغت لمارج۔ رب المشرقین ای ھو وقیل ھذا مبتداء دخبرہ مرج الاکمام جمع کم بالکسرو ھو دعاء الثمر اصلہ یطلق علی ماستر شیئا ومنہ کم القمیص بالضم۔
تفسیر : پہلے بطور علت و سبب کے عدل قائم کرنا بیان فرمایا تھا۔ اب بصراحت حکم دیتا ہے واقیموالوزن بالقسط کہ دنیا میں انصاف کی ترازو سے تولو۔ یہ حکم بڑا وسیع المعنی ہے جس میں اشیاء کا انصاف سے تولنا بھی داخل ہے اور عموماً ہر بات میں حق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–16
خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ کَالْفَخَّارِ ۔ وَخَلَقَ الْجَآنَّ مِنْ مَّارِجٍ مِّنْ نَّارٍ ۔ فَبِاَیِّ اٰ لَآئِ رَبِّـکُمَا تُـکَذِّبٰنِ ۔ (الرحمن : 14 تا 16)
(اس نے انسان کو پیدا کیا ٹھیکری جیسے سڑے ہوئے گارے سے۔ اور جنات کو پیدا کیا، آگ کے شعلہ سے۔ تو اے جنو اور انسانو ! تم اپنے رب کی کن کن قدرتوں کو جھٹلائو گے۔ )
جن و انس کے مادہ خلقت سے یاددہانی
انسان کے اندر جو شرک پایا جاتا ہے اور آخرت سے انکار یا اعراض عام دیکھا جاتا ہے اس کا اصل سبب صرف یہ ہے کہ انسان زبان سے اپنے رب کو سب کچھ تسلیم کرتا ہے لیکن اس کا دل اللہ تعالیٰ کی عظیم قدرت کو اس طرح ماننے کو تیار نہیں ہوتا جس سے دل میں یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–16
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سب سے افضل مخلوق انسان ہے اس لیے جن کی بجائے انسان کی تخلیق کا ذکر پہلے کیا ہے۔ جبکہ جنات کی پیدائش انسان سے پہلے ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق میں جس مخلوق کو حساب و کتاب کا مکلف ٹھہرایا ہے وہ انسان اور جن ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انسانِ اوّل یعنی حضرت آدم (علیہ السلام) کو کھنکھناتی ہوئی مٹی سے پیدا کیا اور جن کو آگ کے شعلے سے پیدا فرمایا۔ آدم (علیہ السلام) کے زمین پر نازل ہونے سے پہلے زمین پر جن رہتے تھے اور ان کا زمین پر راج تھا۔ اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو پیدا کرنے کے بعد اسے زمین میں خلافت عطا فرمائی اور اس کو اپنے احکام کا مکلف بنایا…
Read the full tafseer →15 : وَخَلَقَ الْجَآنَّ مِنْ مَّارِجٍ مِّنْ نَّارٍ (اور جنات کو خاص آگ سے پیدا کیا) الجانؔ جنات کا باپ مراد ہے۔ ایک قول ضعیف یہ ہے وہ ابلیس ہے من مارجؔ وہ صاف شعلہ جس میں دھوئیں کی ملاوٹ نہ ہو۔ ایک قول یہ ہے وہ شعلہ جس میں آگ کی سیاہی ملی ہوئی ہو۔ یہ مرج الشیٔ سے بنا ہے جس کا معنی مضطرب ہونا اور ملنا ہے۔ من نارؔ یہ مارجٌ کا بیان ہے گویا اس طرح کہا گیا من صاف من نار او مختلط من نار۔ صاف آگ یا ملی جلی آگ سے یا من نارؔ سے مرادمخصوص آگ ہے جیسا کہ اس ارشاد میں فانذرتکم نارا تلظٰی ] اللیل : 14[
Read the full tafseer →14 ۔” خلق الانسان من صلصال کالفخار “
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–25
14۔ 25۔ ترمذی نسائی ‘ مسند بزار وغیرہ میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ﷺ کا پتلا بنانے کے لئے پہلے مٹی لی پھر اس میں پانی ملا کر چھوڑ دیا کہ سیاہ رنگ کا بودار گارا ہوگیا اور یہاں تک سوکھا کہ ٹھیکرے کی طرح ہوگیا۔ ابن حبان نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔ سورة آل عمران ‘ سورة حج ‘ سورة و الصفات اور اس سورة میں اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کے پتلے کی مختلف حالتیں جو فرمائی ہیں یہ حدیث ان سب حالتوں کی تفسیر ہے جس سے معلوم ہوا کہ ان سورتوں کی آیتوں میں کچھ اختلاف نہیں ہے بلکہ ان چند حالتوں میں سے کسی آیت میں کوئی حالت ہے اور کسی میں کوئی اور۔ حقیقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
(وَخَلَقَ الْجَاۗنَّ ) اور جنات کے باپ ابلیس لعین کو پیدا کیا (مِنْ مَّارِجٍ مِّنْ نَّارٍ ) آگ کے صاف شعلے سے یا اس سے مراد وہ شعلہ ہے جس کے ساتھ دھواں ملا ہوا ہو۔ یہ آیت کریمہ انسان کے عنصر کے شرف پر دلالت کرتی ہے جسے گارے اور مٹی سے پیدا کیا گیا ہے جو وقار، ثقل اور منافع کا محل ہے بخلاف جنات کے عنصر، یعنی آگ کے جو خفت، طیش، شر اور فساد کا محل ہے جب اللہ نے دونوں گروہوں کی تخلیق اور ان کا مادہ تخلیق بیان فرمایا یہ ان پر اللہ تعالیٰ کا احسان تھا تو ارشاد فرمایا (فَبِاَيِّ اٰلَاۗءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ ) اے جن وانس۔ پھر تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔ ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–21
عصف اور ریحان کی تشریح
قول باری ہے (والحب ذوالعصف والریحان۔ طرح طرح کے غلے ہیں جن میں بھوسا بھی ہوتا ہے اور دانہ بھی) حضرت ابن عباس ؓ ، قتادہ اور ضحاک سے مروی ہے کہ عصف بھوسے کو کہتے ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ ، مجاہد اور ضحاک سے منقول ہے کہ ریحان ورق یعنی پتے کو کہتے ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ سے یہ بھی مروی ہے کہ ریحان غذائی دانوں کو کہتے ہیں۔ حسن کا قول ہے کہ ریحان پھول کو کہتے ہیں جسے سونگھا جاتا ہے۔
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اگر یہ تمام معانی مراد لئے جائیں تو اس میں کوئی امتناع نہیں ہے کیونکہ ریحان کا اسم ان سب پر واقع ہوتا ہے۔ تاہم ریحان کے ظاہری معنی اس پھول کے ہیں جس کی خوشبو سونگھی جاتی ہے۔ جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
[ 14] جِنُّوں اور انسانوں سے تنبہی خطاب کا ذکر وبیان :
سو جنوں اور انسانوں دونوں کو خطاب کرکے تنبیہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ تم دونوں اے گروہ جن وانس اپنے رب کی کون کون سے نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟ یعنی اپنے رب کی ان عظیم الشان نعمتوں کا تقاضا تو یہ تھا اور یہ ہے کہ تم سب دل و جان سے اپنے خالق ومالک کے حضور جھک جھک جاؤ، اور ہمیشہ اس کے جھکے جھکے ہی رہو، اور اس طرح یہ نعمتیں تمہارے لئے دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا ذریعہ وسیلہ بن جائی ؓ ، مگر تمہارا رویہ اس کے برعکس ہے۔ سو ان نعمتوں کی تکذیب کرنا، اور کفر و انکار سے کام لینا بہت بڑا اور نہایت افسوسناک امر ہے۔ کیونکہ اس طرح تکذیب و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–18
انسان کی پیدائش اور مشرقین اور مغربین
تشریح : انسان کی پیدائش مٹی سے اور جنات کی آگ سے اس کی حکمتیں تو وہی جانتا ہے جس نے پیدا کیا ہے ہمیں تو صرف یہ معلوم ہے کہ زندگی کی نعمت ان تمام نعمتوں میں سے ایک ہے جو ہمیں ملی ہیں اور ہم ان تمام نعمتوں کے لیے اللہ رحمن و رحیم کے شکر گزار ہیں پھر مشرقوں اور مغربوں کی ملکیت کا ذکر کیا گیـا ہے۔ اور یہ فلکیاتی نظام کی طرف ایک اشارہ ہے۔ اس کی وضاحت بڑے سادہ انداز میں مورس بو کائیے یوں کرتے ہیں۔ لکھتے ہیں۔ ' کوئی شخص جو طلوع شمس اور غروب شمس کا بغور مشاہدہ کرتا ہے وہ جانتا ہے کہ موسم کے مطابق سورج مشرق کے مختلف نقطوں سے نکلتا ہے اور مغرب کے مختلف نقطوں پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–25
آیات 1 تا 25۔
اسرار ومعارف۔
وہ ذات بیحد و حساب رحم کرنے والی ہے اور اس کی رحمت ہے کہ اس نے قرآن سکھلایا اپنے نبی پر نازل فرما کر ان خوش نصیبوں کو جنہوں نے آپ سے سیکھا اور ان کے واسطے سے اگلوں کو سکھایا یوں تعلیم قرآن کا سلسلہ ہمیشہ کے لیے جاری فرمایا کہ بنی آدم میں سے جو چاہے اس چشمہ رحمت سے سیراب ہو۔ آخر یہ بھی تو اسی کی رحمت عامہ ہے کہ انسان کو پیدا فرمایا اور اسے زبان دانی بات کرنے کا فن ودیعت فرمایا کہ وہ علم قرآن حاصل کرسکنے کے قابل ہوا۔
قوت گویائی کا اصل مصرف۔
گویاقوت گویائی اور بات کرنے کی صلاحیت کا اصل مصرف علوم قرآن کا حصول اور اس کا آگے پہنچانا ہے باقی سارے فوائد دوسرے درجے میں ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–17
ف 11 دونوں پور بوں (مشرقوں) اور پچھموں (مغریوں) سے مراد موسم سرما اور موسم گرما کے مشرق اور مغرب ہیں۔ موسم سرما میں سورج چھوٹا سا دائرہ بنا کر طلوع و غروب ہوتا ہے اور موسم گرما میں بڑا دائرہ بنا کر۔
Read the full tafseer →(55:15) الجان۔ جن ۔ سانپ۔ جن کی جمع ہے جس طرح ابوالبشر (سارے انسانوں کے باپ) کا نام آدم ہے اسی طرح ابو الجن (جنوں کے باپ) کا نام جان ہے۔ جن مسلمان بھی ہوتے ہیں اور کافر بھی۔ کھاتے پیتے اور مرتے جیتے رہتے ہیں۔
خلق : ای اللہ خلق، مبتداء ، خبر۔ اللہ نے پیدا کیا۔
مارج۔ آگ کی لپٹ۔ بھڑکتا ہوا شعلہ، جس میں دھواں نہ ہو۔ مرج چراگاہ اور اس میں جانوروں کو چھوڑ دینا ہے۔ جہاں گھاس بکثرت ہو اور جانور اس میں مگن ہوکر چرتے پھریں اور آیت مرج البحرین یلتقین (55:19) اس نے دو دریا چھوڑ دئیے۔ (رواں کئے) جو آپس میں ملتے ہیں۔
المرج کے معنی اصل میں خلط ملط کرنے اور ملا دینے کے ہیں اور المروج کے معنی اختلاط اور مل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–25
لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 25
علم اس نے سکھایا۔ البیان بولنا بحسبان ایک حساب سے، ایک طریقے سے۔ النجم بےتنے کے درخت، پودے۔ وضع اس نے رکھا ۔ اس نے بنایا ۔ الاتطفوا یہ کہ تم نہ گھٹائو۔ انام مخلوق۔ الاکمام (کم) غلام، چھلکا ۔ العصف بھوسہ (جانوروں کی غذا) الریحان خوشبودار ۔ الاء (الی) نعمتیں صلصال خشک مٹی جو کھن کھن بجتی ہو۔ الفخار ٹھیکرا۔ الجان جن ، ابو الجنات ۔ مارج شعلہ جس میں دھواں نہ ہو۔ مرج (خوب بہتا ہے) جاری کیا البحرین دوریا، دو سمندر۔ برزخ پردہ، رکاوٹ۔ لا یبغین دونوں کو ملنے نہیں دیتا اللولو موتی۔ المرجان مونگا، سفید موتی۔ المنشئت بلند کئے ہوئے۔ الاغلام (ملم) پہاڑ، جھنڈا
اللہ تعالیٰ نے اپنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–19
اللہ کی قدرت کا ذکر۔
(ف 1) اللہ نے دنیا میں دونوں طرح کے دریا میں جاری کیے شریں اور تلخ، اور یہی حال زمین کے اندر کا ہے کہ کھودنے سے کہیں میٹھا پانی نکلتا ہے اور کہیں کھاری اور قدرت کی روک کے سبب سے ایک دوسرے پر غالب نہیں آتا، سورة فرقان میں اس کی تفصیل زیادہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–16
[5] یہ آیت آگے بار بار آئے گی اور یہ اس سورت کی اہم ترین آیت ہے۔ اس میں لفظ اٰلآء استعمال ہوا ہے جس کے معنی نعمتوں کے بھی ہیں اور کمالات قدرت کے بھی، اوصاف حمیدہ اور کمالات و فضائل کے معنی بھی ہیں اور نشانی اور کرشمے کے بھی۔ ہر مقام پر اس لفظ کا وہ مفہوم لیا گیا ہے جو سیاق وسباق سے مناسبت رکھتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–16
جنوں کا وجود
1: جن ایک الگ مخلوق ہے ۔ جس کو اللہ تعالیٰ نے آگ سے پیدا کیا ہے ۔ یہی وجہ ہے ۔ ان میں لطافت زیادہ ہے ۔ آج سے پچاس سال قبل تو لوگ اس مخلوق کا انکار کرتے تھے ۔ مگر اب تجربات نے ثابت کردیا ہے ۔ کہ جنات بھی موجود ہیں ۔ اور وہ لوگ جنہوں نے بڑے شدومد سے کہا تھا ۔ کہ یہ محض وہم ہے ۔ اب وہی کہہ رہے ہیں ۔ کہ یہ ایک حقیقت ہے ۔ ہمارے ہاں بعض ایسے جاہل بھی موجود ہیں ۔ جنہوں نے اس وقت کی آواز کو تو سنا تھا ۔ مگر موجودہ وقت کے خیالات سے آگاہ نہیں ۔ وہ اب تک یہ سمجھے بیٹھے ہیں ۔ کہ علماء مغرب کے معتقلات میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ۔ بلکہ وہ اس قدر روشن خیال ہیں ۔ کہ سارا مغرب بھی ان مسائل کا قائل…
Read the full tafseer →(15) اورجان یعنی ابوالجنات کو اس نے بےدھوئیں کی خالص آگ سے پیدا کیا۔ یعنی سب جنوں کے باپ کو بعض نے کہا ابلیس کو…مارج کہتے ہیں اس صاف شعلے کو جس میں دھواں نہ ہو۔ من نار اسی مارج کا بیان ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–17
ف 6۔ مراد اس سے سورج اور چاند کے طلوع و غروب کا افق ہے۔
Read the full tafseer →اور (الجان) کو آگ کے شعلے سے پیدا کیا گیا ہے
51۔ (الجان) کا لفظ قبل ازیں سورة الحجر کی آیت 72 میں بھی گزر چکا ہے اور وہاں ہم اس کی وضاحت کر آئے ہیں ملا خطہ ہو جلد پنجم ص 85۔ زیر نظر آیت (الانسان) اور (الجان) دو متقابل شخصیتوں کے طور پر بیان ہوئے ہیں اور اوس کی وضاحت آپ پڑھ چکے ہیں کہ ہماری فہیم کے مطابق جب یہ دونوں الفاظ دو متقابل شخصیتوں کے لیے بولے جائیں تو انسان یعنی (الانسان) اور اسی انسان جنس کی ایک دوسری قسم کے لیے ہوتے ہیں نہ کہ فرشتہ کے مقابلہ کی مخالف قوتوں کے لیے اس لیے اس جگہ ہم انسان ہی کی جنس کی دوسری قسم کے متعلق اس کو سمجھتے ہیں کو رن کہ اس جگہ جس شخصیت کا بیان ہے وہ انسان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
وَخَلَقَ الْجَانَّ مِن مَّارِجٍ مِّن نَّارٍ (and created Jann [ father of the Jinns ] from a smokeless flame of fire...55:15) The word جَانَّ - jann, refers to the class of beings called jinn'. The word مَّارِجٍ marij refers to the ' smokeless flame of fire'. The major element in the creation of jinn is the smokeless flame of fire, just as the major element in the creation of man is dry sounding clay.
Read the full tafseer →15 The words in the original are: mim-marij-im-min-nar. Nar signifies fire of a special nature and not the fire which is produced by burning wood or coal, and marij means a pure, smokeless flame. The verse means that just as the first man was created out of earth, then passing through various stages of creation, the clay model adopted the shape of a living man of flesh and blood, and then his progeny spread by means of the sperm-drop, so was the first jinn created from a pure flame of fire, or a fire free of smoke, and then the species of jinn spread from his progeny. The position of the…
Read the full tafseer →