Ar-Rahmaan 55:16

Ar-Rahmaan · from ayah 16

55:16

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ ۟فَبِاَىِّ اٰلَاۤءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ

تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟

— Fateh Muhammad Jalandhari

So which of the favors of your Lord would you deny?

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 1 of surah · Ruku 11 of juz

Read the whole surah · Surah Ar-Rahmaan

All translations of 55:16

پس اے جن و انس، تم اپنے رب کے کن کن عجائب قدرت کو جھٹلاؤ گے؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟

— مولانا فتح محمد جالندہری

پس تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟

— مولانا محمد جوناگڑہی

اب بتاؤ کہ تم دونوں اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو تم دونوں اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پس تم دونوں اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

تو تم دونوں اپنے رب کی نعمتوں میں سے کس کس کو جھٹلاؤ گے ؟

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پھر تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تو تم دونوں اپنے رب کی کن کن قدرتوں کو جھٹلائو گے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پس تم دونوں (اے گروہ جن و انس !) اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟

— مولانا اسحاق مدنی

سو تم (اے جن وانس) اپنے پروردگار کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤگے ؟۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تو تم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں اور قدرتوں کا انکار کرو گے ؟

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تو تم اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے

— محترمہ رفعت اعجاز

Which of the wonders of your Lord's power will you twain – you men and jinn – then deny?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

So, (O mankind and Jinn,) which of the bounties of your Lord will you deny?

— Muhammad Taqi Usmani

So, (O mankind and Jinn,) which of the bounties of your Lord will you deny?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Then which of the blessings of your Lord will you both deny

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Which is it, of the favours of your Lord, that ye deny?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

So which of the favors of your Lord would you deny?

— Saheeh International

(Jinn and mankind) - which of the favors of your Lord do you deny?

— Muhammad Sarwar

Which then of the bounties of your Lord will you deny?

— Muhammad Habib Shakir

Which, then, of the benefits of your Lord will ye twain belie

— Abdul Majid Daryabadi

Then which of the favours of your Lord will ye deny?

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 55:16

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 14–25

انسان اور جنات کی پیدائش میں فرق یہاں بیان ہو رہا ہے کہ انسان کی پیدائش بجنے والی ٹھیکری جیسی مٹی سے ہوئی ہے اور جنات کی پیدائش آگ کے شعلے سے ہوئی ہے جو خالص اور احسن تھا مسند کی حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں فرشتے نور سے جنات نار سے اور انسان اس مٹی سے جس کا ذکر تمہارے سامنے ہوچکا ہے پیدا کئے گئے ہیں پھر اپنی کسی نعمت کے جھٹلانے کی ہدایت کر کے فرماتا ہے جاڑے اور گرمی کے دو سورج کے نکلنے اور ڈوبنے کے مقامات کا رب اللہ ہی ہے دو سے مراد سورج نکلنے اور ڈوبنے کی دو مختلف جگہیں ہیں کہ وہاں سے سورج چڑھتا اترتا ہے اور موسم کے لحاظ سے یہ بدلتی جگہیں رہتی ہیں ہر دن انقلاب لاتا ہے جیسے دوسری آیت…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الرَّحْمٰن 16 یہاں موقع کی مناسبت سے آلاء کے معنی " عجائب قدرت " زیادہ موزوں ہیں، لیکن اس میں نعمت کا پہلو بھی موجود ہے۔ مٹی سے انسان جیسی، اور آگ کے شعلہ سے جن جیسی حیرت انگیز مخلوقات کو وجود میں لے آنا جس طرح خدا کی قدرت کا ایک عجیب کرشمہ ہے، اسی طرح ان دونوں مخلوقوں کے لیے یہ بات ایک عظیم نعمت بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو نہ صرف وجود بخشا بلکہ ہر ایک کی ساخت ایسی رکھی اور ہر ایک کے اندر ایسی قوتیں اور صلاحیتیں ودیعت فرما دیں جن سے یہ دنیا میں بڑے بڑے کام کرنے کے قابل ہوگئے۔ اگرچہ جنوں کے متعلق ہمارے پاس زیادہ معلومات نہیں ہیں، مگر انسان تو ہمارے سامنے موجود ہے۔ اس کو انسانی دماغ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 15–16

وَخَلَقَ الْجَاۗنَّ مِنْ مَّارِجٍ مِّنْ نَّارٍ ، جان، بتشدید نون، جنس جنات کو کہا جاتا ہے اور مارج آگ سے اٹھنے والا شعلہ ہے، جنات کی تخلیق کا بڑا عنصر آگ کا شعلہ ہے، جیسا کہ انسان کی تخلیق میں بڑا جز مٹی ہے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 14–16

(خلق الانسان من صلصال کا لفخار وخلق الجان من مارج من نار فبای الا ربکما تکذین) (14۔ 16) (انسانی خلقت کے مختلف مراحل سے قیامت پر استدلال) یہ جنوں اور انسانوں دونوں کو ان کی خلقت یاد دلا کر ان کی دوسری خلقت کی طرف توجہ دلائی ہے کہ اس غلطی فہمی میں نہ رہو کہ تمہارا رب ایک مرتبہ پیدا کرنے کے بعد تمہیں دوبارہ پیدا کرنے پر قادر نہیں رہا اس وجہ سے اب کسی روز حساب کا معاملہ خارج از امکان ہوگیا۔ یادرکھو کہ جس میٹریل سے اس نے تم کو پیدا کیا ہے وہ میٹریل بھی پوری مقدار میں موجود ہے اور خدا کی قدرت تخلیق بھی اسی طرح موجود ہے جس طرح تمہاری خلقت اول کے وقت موجود تھی تو اگر تم اپنی خلقت کا انکار نہیں کرسکتے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

16۔ 1 یعنی تمہاری یہ پیدائش بھی اور پھر تم سے مذید نسلوں کی تخلیق و افزائش، یہ اللہ کی نعمتوں میں سے ہے۔ کیا تم اس نعمت کا انکار کرو گے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 6–16

2: سجدہ حقیقی بھی ہوسکتا ہے، کیونکہ قرآن کریم نے کئی جگہ یہ فرمایا ہے کہ تمام مخلوقات میں کچھ نہ کچھ احساس موجود ہے۔ (دیکھئے سورة بنی اسرائیل : 44) اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ یہ سب اللہ تعالیٰ کے تابع فرمان ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

فبای ........ لکذبن (55: 61) (پس اے جن وانس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کی تکذیب کرو گے) ان شہادتوں کے قلم بند ہوجانے کے بعد اب تکذیب کا کونسا مقام ہے !

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 " الآئِ " کا ترجمہ عموماً " نعمت " کیا گیا ہے۔ لیکن ابن جریر نے بعض سلف سے " قدرت " کے معنی نقل کیے ہیں۔ اس لیے جس مقام پر جو معنی زیادہ چسپاں ہوں وہ اختیار کیے جائیں۔ یہاں اس سے پہلی آیت میں دونوں مطلب ہوسکتے ہیں۔ کیونکہ انس و جن کو خلعت وجود سے سرفراز فرمانا اور جمادلایعقل سے عاقل بنادینا اللہ کی بڑی نعمت ہے اور اس کی لامحدود قدرت کی نشانی بھی ہے۔ (تنبیہ) یہ جملہ " فَبِاَیِّ اٰلآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ " اس سورت میں اکتیس مرتبہ آیا ہے اور ہر مرتبہ کسی خاص نعمت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے یا شؤون عظمت وقدرت میں سے کسی خاص شان کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ اس قسم کی تکرار عرب و عجم کے کلاموں میں…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 16 { فَبِاَیِّ اٰلَآئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ۔ } ”تو تم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں اور قدرتوں کا انکار کرو گے ؟“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 16–17

14 یہاں دو مشرقوں اور دو مغربوں کا ذکر فرمایا اس لیے کہ اس سورة میں مسلسل دو دو چیزوں کا ذکر چل رہا ہے جبکہ سورة معارج کی آیت نمبر 40 میں فرمایا کہ وہ بہت سے مشرقوں اور مغربوں کا مالک ہے۔ دو مشرقوں سے مراد ایک تو وہ مقام ہے جب سورج موسم گرما کے سب سے بڑے دن طلوع ہوتا ہے۔ اور دوسرا وہ مقام ہے جہاں سے سورج، موسم کے سب سے چھوٹے دن طلوع ہوتا ہے۔ اور ان دونوں مقاموں کے درمیان سب مشرق ہی مشرق ہیں۔ ہر روز طلوع آفتاب کے مقام کا ایک نیا زاویہ ہوتا ہے اور یہی حال مغربوں کا ہے۔ اسی تبدیلی سے موسم پیدا ہوتے ہیں اور مختلف موسموں میں مختلف فصلیں اور پھل پیدا ہوتے ہیں اور ان مشرقوں اور مغربوں کے پیچھے ایک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

11۔ جن مادی روحانی نعمتوں کا ذکر اس سیاق وسباق میں چل رہا ہے اس سے معلوم ایسا ہوتا ہے کہ جنات بھی ان سے طرح مستفید ہورہے ہیں، جس طرح انسان۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 15–25

وخلق الجان من مارج من نار، جان سے جنس جنات مراد ہے، اور مارج آگ کے شعلہ کو کہتے ہیں، انسان کی طرح جن بھی عناصر اربعہ سے بنا ہوا ہے، گمر جن میں ناری عنصر غالب ہے جیسا کہ انسان میں خاکی عنصر غالب ہے رب المشرقین و رب المغربین سے سردی گرمی کے مشرق و مغرب مراد ہیں شمس و قمر کا مطلع اور مغرب اگرچہ بہت قیل مقدار میں روزانہ ہی بدلتا رہتا ہے اس لئے آسانی سے اس کا احساس نہیں ہوتا، گرمی سردی کے مشرق و مغرب میں چونکہ بین فرق اور نمایاں فاصلہ ہوتا ہے اس لئے صرف ان کا ہی ذکر کردیا ہے اور بعض حضرات نے مشرقین اور مغربین سے شمس و قمر کے مشرق و مغرب مراد لئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فبای الا ربکما تکذبان سو اے جن و انس تم اپنے رب کی کون کونسی نعمتوں کے منکر ہوجاؤ گے فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ : انسان اور جن تخلیق کے مختلف مدارج اور دوروں سے گزر کر افضل مرکبات اور خلاصۂ کائنات بنے۔ اللہ کی یہ بڑی (فطری) نعمت ہے ‘ جس سے جن و انس کو سرفراز کیا گیا۔ پس کون کونسی نعمت کا یہ دونوں انکار کرسکتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 14–16

(14۔ 16) اسی نے آدم کو ایسی مٹی سے جو ٹھیکری کی طرح بجتی ہے پیدا کیا، اور جنات و شیاطین کی اصل کو ایسی آگ سے جس میں دھواں نہ تھا پیدا کیا سو اے جن و انس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کا انکار کرو گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

فَبِاَیِّ اٰلَآئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ : جن و انس کی پیدائش میں اللہ تعالیٰ کی قدرت بھی ہے اور ان دونوں پر نعمت بھی۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 15–16

وخلق الجآن من مارج من نار۔ حضرت حسن بصری نے کہا، جان سے مراد ابلیس ہے یہ جنوں کا باپ ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : الجآن جن کا واحد مارج سے مراد خالص شعلہ ہے۔ حضتر ابن عباس نے کہا، اللہ تعالیٰ کے جنوں کو خالص جان سے پیدا کیا۔ لیث نے کہا :: مارج سے مراج ایسا شعلہ ہے جو پھیلنے والا ہو جو شدید لپک والا ہو۔ حضرت ابن عباس سے یہ بھی مروی ہے (2) : اس سے مراد وہ شعلہ ہے جو آگ پر بلند ہوتا ہے اور اس کا بعض بعض سے مل جاتا ہے یعنی کوئی سرخ کوئی زرد اور کوئی سبز ہوتا ہے۔ اس کی مثل مبرد کا قول ہے مبرد نے کا، مارج سے مراد ایسی آگ ہے روکی نہ جاسکے۔ ابو عبیدہ اور حسن بصری نے کہا، مارچ سے مراد خلط ملط آگ ہے۔ اس…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 14–16

1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) '' وخلق الجآن من مارج من نار '' (اور جنات کو خالص آگ سے پیدا کیا) یعنی آگ کے شعلے سے۔ 2:۔ عبد بن حمید (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا۔ 3:۔ الفریابی وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) '' من مارج من نار '' سے مراد ہے آگ کا وہ شعلہ جو اس کے درمیان سے نکلتا ہے۔ 4:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذ روابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) '' من مارج '' سے مراد خالص آگ ہے۔ 5:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) '' من مارج '' یعنی آگ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

فَبِاَيِّ اٰلَاۗءِ رَبِّكُمَا [ تو تم دونوں (جن وانس ) اپنے رب کی نعمتوں سے کس کس کو ] تُكَذِّبٰنِ [ تم دونوں جھٹلاؤگے ] نوٹ۔ 1: اس سے پہلی سورة القمر میں زیادہ تر مضامین سرکش قوموں پر عذاب آنے کے متعلق تھے ۔ اس لیے ہر عذاب کے ذکر کے بعد لوگوں کو متنبہ کرنے کے لیے ایک خاص جملہ بار بار استعمال فرمایا ہے۔ یعنی فَكَيْفَ كَانَ عَذَابِيْ وَنُذُرِ اور اس کے متصل ایمان و اطاعت کی ترغیب کے لیے دوسرا جملہ وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ بار بار لایا گیا ہے ۔ سورة الرحمن میں اس کے مقابل بیشتر مضامین اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے بیان میں ہیں ۔ اسی لیے جب کسی نعمت یا نعمتوں کا ذکر فرمایا تو شکر نعمت کی…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 14–16

اللہ تعالیٰ نے انسان کو بجتی ہوئی مٹی سے اور جنات کو خالص آگ سے پیدا فرمایا یہ تین آیتوں کا ترجمہ ہے پہلی آیت میں انسان کی تخلیق کا تذکرہ فرمایا اور یہ بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو مٹی سے پیدا فرمایا یعنی ابوالبشر سید نا آدم (علیہ السلام) جو سب سے پہلے انسان اور سب انسانوں کے باپ ہیں ان کا پتلا مٹی سے بنایا یہ پہلے صرف مٹی تھی اس میں پانی ملا دیا گیا توطین یعنی کیچڑ بن گئی پھر اس سے پتلا بنایا گیا اور وہ سوکھ گیا تو صلصال ہوگیا جیسا فخار ہوتا ہے فخار اس چیز کو کہتے ہیں جو کیچڑ والی مٹی سے بنائی گئی ہو، جب وہ سوکھ جائے تو اس میں انگلی مارنے سے آواز نکلتی ہے اس آواز دینے والی مٹی کو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–25

انعامات رب جلیل بر انسان بعطاء وصف بیان وتعلیم قرآن وفیضان نعماء جسمانیہ وروحانیہ : قال اللہ تعالیٰ : الرحمن علم القرآن ...... الی ...... فبای الآء ربکما تکذبن “۔ (ربط) سورة قمر میں دلائل نبوت اور معجزات عظیمہ کا بیان تھا اور امم سابقہ کے احوال ذکر فرمائے گئے کہ کس طرح انہوں نے اپنے پیغمبروں کا انکار کیا اور ان پر ایمان نہ لائے جس کے باعث عذاب خداوندی سے انکو ہلاک وبرباد کردیا گیا جس سے مقصود اہل مکہ کو متنبہ کرنا تھا کہ وہ ان احوال وواقعات کو سوچ کر اپنے انجام کے بارے میں بھی خود فیصلہ کرلیں تو اس کے بعد حق تعالیٰ شانہ نے ان انعامات خاصہ کا ذکر فرمایا جو انسان پر کئے گئے ان انعامات میں…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 14–16

ٖف 7:۔ ” خلق الانسان “ یہ توحید کی چوتھی عقلی دلیل ہے۔ الانسان سے حضرت آدم (علیہ السلام) مراد ہیں۔ ” صلصال “ خشک مٹی جو بجانے سے آواز دے۔ ” الفخار “ ٹھیکری یعنی وہ مٹی جو آگ میں پکا لی گئی ہو۔ ” مارج “ آگ کا شعلہ جس میں دھواں نہ ہو۔ اللہ نے انسان کو مٹی سے پیدا فرمایا اور ” جآن “ جنوں کے جد اعلیٰ کو آگ کے شعلے سے پیدا فرمایا۔ اے جن و انس ذرا سوچو تو سہی تمہاری تخلیق بھی اللہ کا تم پر انعام ہے تم اس کی کونسی نعمت کو نہیں مانو گے پھر یہ اس کی قدرت و صفت کا کمال ہے کہ مٹی اور آگ سے اس نے کس خوبی سے پیدا فرمایا یہ اس کی قدرت و وحدانیت کی دلیل ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 14–25

ربطہ آیات اس سورة مبارکہ میں کائنات اور بالخصوص انسانوں پر ہونے والے انعامات الٰہیہ کا ذکر ہورہا ہے۔ چناچہ گذشتہ درس میں روحانی انعامات میں سے سب سے بڑی نعمت قرآن حکیم کا تذکرہ ہوا۔ اس کے بعد اللہ نے خود انسانی جسم کی تخلیق کا ذکر کیا کہ اس نے انسان کو پیدا کیا اور کمال درجے کی قوت گویائی بھی عطافرمائی۔ پھر اللہ نے شمس و قمر ، پودوں اور درختوں کا ذکر کیا ہے کہ یہ بھی انعاماتِ الٰہیہ میں شامل ہیں جو اللہ نے انسانوں کی مصلحت کی خاطر پیدا فرمائے ہیں پھر اللہ نے ترازو کا ذکر کیا جو کہ عدل کی علامت ہے ، لہٰذا اللہ نے عدل قائم کرنے کا حکم دیا ، اور فرمایا کہ ناپ تول میں کسی قسم کی کمی بیشی نہ کرو…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَبِاَيِّ اٰلَاۗءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ۝ 16 أيا أَيُّ في الاستخبار موضوع للبحث عن بعض الجنس والنوع وعن تعيينه، ويستعمل ذلک في الخبر والجزاء، نحو : أَيًّا ما تَدْعُوا فَلَهُ الْأَسْماءُ الْحُسْنى [ الإسراء/ 110] ، وأَيَّمَا الْأَجَلَيْنِ قَضَيْتُ فَلا عُدْوانَ عَلَيَّ [ القصص/ 28] ( ا ی ی ) ای ۔ جب استفہام کیلئے ہو تو جنس یا نوع کی تعیین اور تحقیق کے متعلق سوال کے لئے آتا ہے اور یہ خبر اور جزا کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے چناچہ فرمایا :۔ { أَيًّا مَا تَدْعُوا فَلَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى } ( سورة الإسراء 110) جس نام سے اسے پکارا اس کے سب نام اچھے ہیں { أَيَّمَا الْأَجَلَيْنِ قَضَيْتُ فَلَا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 9–18

ترکیب : ولاتخسرو ابضم التاء ای ولا تنقصوا الموزدن وقیل التقدیر فی المیزان۔ ویقرء بفتح التاء والخاء والاول اصح۔ للانام یتعلق بوضعہا والحب بالرفع عطفاً علی النخل والریحان کذلک ویقرء بالنصب ای خلق الحب۔ کالفخار لغت لصلصال من نار لغت لمارج۔ رب المشرقین ای ھو وقیل ھذا مبتداء دخبرہ مرج الاکمام جمع کم بالکسرو ھو دعاء الثمر اصلہ یطلق علی ماستر شیئا ومنہ کم القمیص بالضم۔ تفسیر : پہلے بطور علت و سبب کے عدل قائم کرنا بیان فرمایا تھا۔ اب بصراحت حکم دیتا ہے واقیموالوزن بالقسط کہ دنیا میں انصاف کی ترازو سے تولو۔ یہ حکم بڑا وسیع المعنی ہے جس میں اشیاء کا انصاف سے تولنا بھی داخل ہے اور عموماً ہر بات میں حق…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 14–16

خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ کَالْفَخَّارِ ۔ وَخَلَقَ الْجَآنَّ مِنْ مَّارِجٍ مِّنْ نَّارٍ ۔ فَبِاَیِّ اٰ لَآئِ رَبِّـکُمَا تُـکَذِّبٰنِ ۔ (الرحمن : 14 تا 16) (اس نے انسان کو پیدا کیا ٹھیکری جیسے سڑے ہوئے گارے سے۔ اور جنات کو پیدا کیا، آگ کے شعلہ سے۔ تو اے جنو اور انسانو ! تم اپنے رب کی کن کن قدرتوں کو جھٹلائو گے۔ ) جن و انس کے مادہ خلقت سے یاددہانی انسان کے اندر جو شرک پایا جاتا ہے اور آخرت سے انکار یا اعراض عام دیکھا جاتا ہے اس کا اصل سبب صرف یہ ہے کہ انسان زبان سے اپنے رب کو سب کچھ تسلیم کرتا ہے لیکن اس کا دل اللہ تعالیٰ کی عظیم قدرت کو اس طرح ماننے کو تیار نہیں ہوتا جس سے دل میں یہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 14–16

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سب سے افضل مخلوق انسان ہے اس لیے جن کی بجائے انسان کی تخلیق کا ذکر پہلے کیا ہے۔ جبکہ جنات کی پیدائش انسان سے پہلے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق میں جس مخلوق کو حساب و کتاب کا مکلف ٹھہرایا ہے وہ انسان اور جن ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انسانِ اوّل یعنی حضرت آدم (علیہ السلام) کو کھنکھناتی ہوئی مٹی سے پیدا کیا اور جن کو آگ کے شعلے سے پیدا فرمایا۔ آدم (علیہ السلام) کے زمین پر نازل ہونے سے پہلے زمین پر جن رہتے تھے اور ان کا زمین پر راج تھا۔ اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو پیدا کرنے کے بعد اسے زمین میں خلافت عطا فرمائی اور اس کو اپنے احکام کا مکلف بنایا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

16 : فَبِاَیِّ اٰلَآ ئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ (پس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلائو گے)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

15 ۔” وخلق الجان “ اور یہ ابوالجن ہے اور ضحاک (رح) فرماتے ہیں یہ ابلیس ہے۔ ” من مارج من نار “ یہ آ گ کے شعلوں میں سے خالص شعلہ جس میں دھواں نہ ہو۔ مجاہد (رح) فرماتے ہیں وہ شعلہ جس میں سرخ زرد اور سبز شعلہ مل جل گئے ہوں، جب آگ جلائی جائے تو یہ اس کے اوپر ہوتا ہے۔ یہ ان کے قول مرج المرالقوم سے مشتق جب معاملہ خلط ملط ہوجائے تو بولا جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 14–25

14۔ 25۔ ترمذی نسائی ‘ مسند بزار وغیرہ میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ﷺ کا پتلا بنانے کے لئے پہلے مٹی لی پھر اس میں پانی ملا کر چھوڑ دیا کہ سیاہ رنگ کا بودار گارا ہوگیا اور یہاں تک سوکھا کہ ٹھیکرے کی طرح ہوگیا۔ ابن حبان نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔ سورة آل عمران ‘ سورة حج ‘ سورة و الصفات اور اس سورة میں اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کے پتلے کی مختلف حالتیں جو فرمائی ہیں یہ حدیث ان سب حالتوں کی تفسیر ہے جس سے معلوم ہوا کہ ان سورتوں کی آیتوں میں کچھ اختلاف نہیں ہے بلکہ ان چند حالتوں میں سے کسی آیت میں کوئی حالت ہے اور کسی میں کوئی اور۔ حقیقت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 15–16

(وَخَلَقَ الْجَاۗنَّ ) اور جنات کے باپ ابلیس لعین کو پیدا کیا (مِنْ مَّارِجٍ مِّنْ نَّارٍ ) آگ کے صاف شعلے سے یا اس سے مراد وہ شعلہ ہے جس کے ساتھ دھواں ملا ہوا ہو۔ یہ آیت کریمہ انسان کے عنصر کے شرف پر دلالت کرتی ہے جسے گارے اور مٹی سے پیدا کیا گیا ہے جو وقار، ثقل اور منافع کا محل ہے بخلاف جنات کے عنصر، یعنی آگ کے جو خفت، طیش، شر اور فساد کا محل ہے جب اللہ نے دونوں گروہوں کی تخلیق اور ان کا مادہ تخلیق بیان فرمایا یہ ان پر اللہ تعالیٰ کا احسان تھا تو ارشاد فرمایا (فَبِاَيِّ اٰلَاۗءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ ) اے جن وانس۔ پھر تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔ ؟

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 12–21

عصف اور ریحان کی تشریح قول باری ہے (والحب ذوالعصف والریحان۔ طرح طرح کے غلے ہیں جن میں بھوسا بھی ہوتا ہے اور دانہ بھی) حضرت ابن عباس ؓ ، قتادہ اور ضحاک سے مروی ہے کہ عصف بھوسے کو کہتے ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ ، مجاہد اور ضحاک سے منقول ہے کہ ریحان ورق یعنی پتے کو کہتے ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ سے یہ بھی مروی ہے کہ ریحان غذائی دانوں کو کہتے ہیں۔ حسن کا قول ہے کہ ریحان پھول کو کہتے ہیں جسے سونگھا جاتا ہے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اگر یہ تمام معانی مراد لئے جائیں تو اس میں کوئی امتناع نہیں ہے کیونکہ ریحان کا اسم ان سب پر واقع ہوتا ہے۔ تاہم ریحان کے ظاہری معنی اس پھول کے ہیں جس کی خوشبو سونگھی جاتی ہے۔ جب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 16] گروہ جن و انس کو تنبیہ و تذکیر : سو گروہ جن و انس کو خطاب کرکے بطور تنبیہ و تذکیر ارشاد فرمایا گیا۔ کہ تم دونوں اے گروہ جن و انس اپنے رب کی کون کون سے نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟ کہ تخلیق ووجود کی یہ عظیم الشان نعمت جو دوسری تمام نعمتوں کیلئے اساس و بنیاد ہے۔ اور باقی تمام نعمتیں اس کی فروغ اور اس کے تابع ہیں، اس سے اسی نے تم کو نوازا ہے اور از خود نوازا ہے، اور یہ اسی وحدہٗ لاشریک کی بخشی ہوئی نعمت ہے اس لئے اس کے شکر کا حق دار وہی وحدہ لاشریک ہے۔ فلا بشیٍ من نعمک ربنا نکذب فلک الحمد ولک الشکر اور جب تم دونوں اے گروہ جن و انس اپنے رب کی یہ شانیں اور حکمتیں خود اپنے اندر دیکھ چکے ہو اور دیکھ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 14–18

انسان کی پیدائش اور مشرقین اور مغربین تشریح : انسان کی پیدائش مٹی سے اور جنات کی آگ سے اس کی حکمتیں تو وہی جانتا ہے جس نے پیدا کیا ہے ہمیں تو صرف یہ معلوم ہے کہ زندگی کی نعمت ان تمام نعمتوں میں سے ایک ہے جو ہمیں ملی ہیں اور ہم ان تمام نعمتوں کے لیے اللہ رحمن و رحیم کے شکر گزار ہیں پھر مشرقوں اور مغربوں کی ملکیت کا ذکر کیا گیـا ہے۔ اور یہ فلکیاتی نظام کی طرف ایک اشارہ ہے۔ اس کی وضاحت بڑے سادہ انداز میں مورس بو کائیے یوں کرتے ہیں۔ لکھتے ہیں۔ ' کوئی شخص جو طلوع شمس اور غروب شمس کا بغور مشاہدہ کرتا ہے وہ جانتا ہے کہ موسم کے مطابق سورج مشرق کے مختلف نقطوں سے نکلتا ہے اور مغرب کے مختلف نقطوں پر…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–25

آیات 1 تا 25۔ اسرار ومعارف۔ وہ ذات بیحد و حساب رحم کرنے والی ہے اور اس کی رحمت ہے کہ اس نے قرآن سکھلایا اپنے نبی پر نازل فرما کر ان خوش نصیبوں کو جنہوں نے آپ سے سیکھا اور ان کے واسطے سے اگلوں کو سکھایا یوں تعلیم قرآن کا سلسلہ ہمیشہ کے لیے جاری فرمایا کہ بنی آدم میں سے جو چاہے اس چشمہ رحمت سے سیراب ہو۔ آخر یہ بھی تو اسی کی رحمت عامہ ہے کہ انسان کو پیدا فرمایا اور اسے زبان دانی بات کرنے کا فن ودیعت فرمایا کہ وہ علم قرآن حاصل کرسکنے کے قابل ہوا۔ قوت گویائی کا اصل مصرف۔ گویاقوت گویائی اور بات کرنے کی صلاحیت کا اصل مصرف علوم قرآن کا حصول اور اس کا آگے پہنچانا ہے باقی سارے فوائد دوسرے درجے میں ہیں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 14–17

ف 11 دونوں پور بوں (مشرقوں) اور پچھموں (مغریوں) سے مراد موسم سرما اور موسم گرما کے مشرق اور مغرب ہیں۔ موسم سرما میں سورج چھوٹا سا دائرہ بنا کر طلوع و غروب ہوتا ہے اور موسم گرما میں بڑا دائرہ بنا کر۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(55:16) فبای الاء ربکما تکذبن۔ پس اے جن و انس تم اپنے رب کے کن کن عجائبات قدرت کو جھٹلاؤ گے۔ اگرچہ یہاں نعمت کا پہلو بھی موجود ہے لیکن موقع کی مناسبت سے الاء کے معنی عجائب قدرت زیادہ موزوں ہے۔ فائدہ : اس سورة میں جہاں جہاں فبای الاء ربکما تکذین آیا ہے تفہیم القرآن میں دئیے گئے معنی کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–25

لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 25 علم اس نے سکھایا۔ البیان بولنا بحسبان ایک حساب سے، ایک طریقے سے۔ النجم بےتنے کے درخت، پودے۔ وضع اس نے رکھا ۔ اس نے بنایا ۔ الاتطفوا یہ کہ تم نہ گھٹائو۔ انام مخلوق۔ الاکمام (کم) غلام، چھلکا ۔ العصف بھوسہ (جانوروں کی غذا) الریحان خوشبودار ۔ الاء (الی) نعمتیں صلصال خشک مٹی جو کھن کھن بجتی ہو۔ الفخار ٹھیکرا۔ الجان جن ، ابو الجنات ۔ مارج شعلہ جس میں دھواں نہ ہو۔ مرج (خوب بہتا ہے) جاری کیا البحرین دوریا، دو سمندر۔ برزخ پردہ، رکاوٹ۔ لا یبغین دونوں کو ملنے نہیں دیتا اللولو موتی۔ المرجان مونگا، سفید موتی۔ المنشئت بلند کئے ہوئے۔ الاغلام (ملم) پہاڑ، جھنڈا اللہ تعالیٰ نے اپنی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 15–19

اللہ کی قدرت کا ذکر۔ (ف 1) اللہ نے دنیا میں دونوں طرح کے دریا میں جاری کیے شریں اور تلخ، اور یہی حال زمین کے اندر کا ہے کہ کھودنے سے کہیں میٹھا پانی نکلتا ہے اور کہیں کھاری اور قدرت کی روک کے سبب سے ایک دوسرے پر غالب نہیں آتا، سورة فرقان میں اس کی تفصیل زیادہ ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 13–16

[5] یہ آیت آگے بار بار آئے گی اور یہ اس سورت کی اہم ترین آیت ہے۔ اس میں لفظ اٰلآء استعمال ہوا ہے جس کے معنی نعمتوں کے بھی ہیں اور کمالات قدرت کے بھی، اوصاف حمیدہ اور کمالات و فضائل کے معنی بھی ہیں اور نشانی اور کرشمے کے بھی۔ ہر مقام پر اس لفظ کا وہ مفہوم لیا گیا ہے جو سیاق وسباق سے مناسبت رکھتا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 5–16

جنوں کا وجود 1: جن ایک الگ مخلوق ہے ۔ جس کو اللہ تعالیٰ نے آگ سے پیدا کیا ہے ۔ یہی وجہ ہے ۔ ان میں لطافت زیادہ ہے ۔ آج سے پچاس سال قبل تو لوگ اس مخلوق کا انکار کرتے تھے ۔ مگر اب تجربات نے ثابت کردیا ہے ۔ کہ جنات بھی موجود ہیں ۔ اور وہ لوگ جنہوں نے بڑے شدومد سے کہا تھا ۔ کہ یہ محض وہم ہے ۔ اب وہی کہہ رہے ہیں ۔ کہ یہ ایک حقیقت ہے ۔ ہمارے ہاں بعض ایسے جاہل بھی موجود ہیں ۔ جنہوں نے اس وقت کی آواز کو تو سنا تھا ۔ مگر موجودہ وقت کے خیالات سے آگاہ نہیں ۔ وہ اب تک یہ سمجھے بیٹھے ہیں ۔ کہ علماء مغرب کے معتقلات میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ۔ بلکہ وہ اس قدر روشن خیال ہیں ۔ کہ سارا مغرب بھی ان مسائل کا قائل…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(16) سوائے جماعت جن وانس تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمتوں کی تکذیب کرو گے اور جھٹلائو گے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

پس تم دونوں اپنے پروردگار کی کس کس نشانی کو جھٹلائو گے 61۔ (الانسان) کی دونوں اقسام جن کا گزشتہ دو آیتوں میں الگ الگ ذکر کیا گیا ہے ان کو مخاطب کر کے کہا جا رہا ہے کہ اپنے وجود کے اندر ذرا غور کرو کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے جسم کے اندر کتنی نشانیاں رکھ دی ہی کہ تم میں سے ہر ایک فرد عالم صغیر کہلاتا ہے جو عالم کبیر کیا یک ایک چیز اپنے اندر رکھتا ہے اسی عالم کبیر میں جو جو کچھ ایجاد ہوا وہ اس کے اندرونی نفسہ موجود ہے اور جو ابھی ایجاد ہوگا وہ بھی اس کے اندر پوشیدہ ہے جو اگرچہ ظاہر نہیں ہوا لیکن یقینا ظاہر ہوگا اور پھر تم ان نشانیوں پر غور و فکر کر کے اپنی آخرت کو بھی سنوار سکتے تھے لیکن افسوس تم…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 15–16

وَخَلَقَ الْجَانَّ مِن مَّارِ‌جٍ مِّن نَّارٍ‌ (and created Jann [ father of the Jinns ] from a smokeless flame of fire...55:15) The word جَانَّ - jann, refers to the class of beings called jinn'. The word مَّارِ‌جٍ marij refers to the ' smokeless flame of fire'. The major element in the creation of jinn is the smokeless flame of fire, just as the major element in the creation of man is dry sounding clay.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

16 Here, in view of the context, It is more appropriate to translate alaa' as 'wonders of power", but in this the aspect of the blessing is also present. Just as it is a wonderful manifestation of Allah's power to have brought into existence marvellous creatures like man from the dust and the jinn from the flame of fire, so for both these creatures this is a great blessing also that Allah not only granted them a body but gave each such a structure and endowed each with such powers and capabilities that they became able to perform unique works in the world. Though we do not know much about the…

Read the full tafseer →