Explained with ayahs 14–25
انسان اور جنات کی پیدائش میں فرق
یہاں بیان ہو رہا ہے کہ انسان کی پیدائش بجنے والی ٹھیکری جیسی مٹی سے ہوئی ہے اور جنات کی پیدائش آگ کے شعلے سے ہوئی ہے جو خالص اور احسن تھا مسند کی حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں فرشتے نور سے جنات نار سے اور انسان اس مٹی سے جس کا ذکر تمہارے سامنے ہوچکا ہے پیدا کئے گئے ہیں پھر اپنی کسی نعمت کے جھٹلانے کی ہدایت کر کے فرماتا ہے جاڑے اور گرمی کے دو سورج کے نکلنے اور ڈوبنے کے مقامات کا رب اللہ ہی ہے دو سے مراد سورج نکلنے اور ڈوبنے کی دو مختلف جگہیں ہیں کہ وہاں سے سورج چڑھتا اترتا ہے اور موسم کے لحاظ سے یہ بدلتی جگہیں رہتی ہیں ہر دن انقلاب لاتا ہے جیسے دوسری آیت…
Read the full tafseer →سورة الرَّحْمٰن 17
دو مشرقوں اور دو مغربوں سے مراد جاڑے کے چھوٹے سے چھوٹے دن اور گرمی کے بڑے سے بڑے دن کے مشرق و مغرب بھی ہو سکتے ہیں، اور زمین کے دونوں نصف کروں کے مشرق و مغرب بھی۔ جاڑے کے سب سے چھوٹے دن میں سورج ایک نہایت تنگ زاویہ بنا کر طلوع و غروب ہوتا ہے، اور اس کے برعکس گرمی کے سب سے بڑے دن میں وہ انتہائی وسیع زاویہ بناتے ہوئے نکلتا اور ڈوبتا ہے۔ ان دونوں کے درمیان ہر روز اس کا مطلع اور مغرب مختلف ہوتا رہتا ہے جس کے لیے ایک دوسرے مقام پر قرآن میں رَبُّ الْمشَارِقِ وَالْمَغَارِبِ (المعارج۔ 40) کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔ اسی طرح زمین کے ایک نصف کرے میں جس وقت سورج طلوع ہوتا ہے اسی وقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
رَبُّ الْمَشْرِقَيْنِ وَرَبُّ الْمَغْرِبَيْنِ ، سردی اور گرمی میں آفتاب کا مطلع بدلتا ہے، اس لئے سردی کے زمانے میں مشرق یعنی آفتاب کے نکلنے کی جگہ اور ہوتی ہے اور گرمی کے زمانے میں دوسری، انہی دونوں جگہوں کو آیت میں مشرقین سے تعبیر فرمایا ہے، اسی طرح اس کے بالمقابل مغربین فرمایا کہ سردی میں غروب آفتاب کی جگہ اور ہوتی ہے اور گرمی میں دوسری۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
(رب المشرقین و رب المغربین فبای الاء ربکما تکذبن) (17۔ 18)
(مشرق اور مغرب کی مثنی لانے کی وجہ) یعنی مشرق و مغرب، سب کا رب اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ نہ کوئی اس کے حدود مملکت سے باہر ہے اور نہ کوئی اس کی خدائی میں حصہ دار ہے۔ اللہ تعالیٰ تمام مشرق و مغرب کا بلا شرکت غیرے مالک ہے۔ اس کے آسمانوں اور زمین میں بالشت بھر علاقہ بھی کسی اور کے قبضہ میں نہیں ہے کہ وہ اس علاقہ والوں کو خدا کی پکڑ سے بچا لے۔ سورة معارج میں یہی مضمون اس طرح بیان ہوا ہے (فلا اقسم برب المشرق و المغرب انا لقدرون نلی ان نبدل خیرا منھم وما نحن بمسبعرقین) (40۔ 41) (پس نہیں، میں قسم کھاتا ہوں مشرقوں اور مغربوں کے خداوند کی، ہعم اس بات…
Read the full tafseer →17۔ 1 ایک گرمی کا مشرق اور ایک سردی کا مشرق اسی طرح مغرب ہے۔ اس لئے دونوں کو دوگنا ذکر کیا ہے، موسموں کے اعتبار سے مشرق و مغرب کا مختلف ہونا اس میں بھی انس و جن کی بہت سی مصلحتیں ہیں، اس لئے اسے بھی نعمت قرار دیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
3: مشرق در اصل افق کے اس حصے کا نام ہے جہاں سے سورج طلوع ہوتا ہے اور مغرب اس حصے کا جہاں سورج غروب ہوتا ہے، چونکہ سردی اور گرمی کے موسموں میں مشرق اور مغرب کے یہ حصے بدل جاتے ہیں، اس لیے ان کو دو مشرقوں اور دو مغربوں سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔
Read the full tafseer →یہ اشارہ انسان کو اللہ کے شعور کے فیض میں غرق کردیتا ہے جس طرف بھی کوئی توجہ کرے جس طرف بھی التفات کرے اور جس قدر بھی ہمارا مشاہدہ اس کائنات میں دور تک جاتا ہے جہاں بھی نام جائیں وہاں مشرق ہیں اور مغرب ہیں۔ اللہ کی ربوبیت ہے۔ اس کی مشیت ہے اور اس کا اقتدار اعلیٰ ہے۔ جدھر دیکھتا ہوں ادھر تو ہی تو ہے۔ تیرا نور ہے۔ تیری ہدایت ہے۔
مشرکین اور مغربین یعنی ” مشرق اور مغرب “ ان سے مراد سورج کے طلوع اور غرورب ہونے کے مقامات بھی ہوسکتے ہیں کیونکہ شمس وقمر کی حیثیت انعام الٰہی پہلے آچکی ہے اور اس سے مراد سورج کے مختلف مقامات طلوع اور غروب بھی ہوسکتے ہیں یعنی جو گرمیوں اور سردیوں میں چلتے رہتے ہیں۔
یہ…
Read the full tafseer →3 جاڑے اور گرمی میں جس جس نقطہ سے سورج طلوع ہوتا ہے وہ دو مشرق اور جہاں جہاں غروب ہوتا ہے وہ دو مغرب ہوئیں۔ ان ہی مشرقین اور مغربین کے تغیر و تبدیل سے موسم اور فصلیں بدلتی ہیں۔ اور طرح طرح کے انقلابات ہوتے ہیں۔ زمین والوں کے ہزارہا فوائد و مصالح ان تغیرات سے وابستہ ہیں تو ان کا ادل بدل بھی خدا کی بڑی نعمت اور اس کی قدرت عظیمہ کی نشانی ہوئی۔ (تنبیہ) آیت سے پہلے اور پیچھے دور تک دو دو چیزوں کے جوڑے بیان ہوئے ہیں اس لیے یہاں مشرقین و مغربین کا ذکر نہایت ہی لطف دیتا ہے۔
Read the full tafseer →آیت 17{ رَبُّ الْمَشْرِقَیْنِ وَرَبُّ الْمَغْرِبَیْنِ۔ } ”وہ ربّ ہے دونوں مشرقوں کا اور دونوں مغربوں کا۔“
یہاں پر رَبُّ الْمَشْرِقَیْنِ اور رَبُّ الْمَغْرِبَیْنِ تثنیہ کے اس صیغہ کی مناسبت سے آیا ہے جو پوری سورت میں بار بار آ رہا ہے۔ اس کے علاوہ قرآن مجید میں { رَبُّ الْمَشْرِقِِ وَ الْمَغْرِبِ } المُزَّمل : 9 اور { رَبِّ الْمَشٰرِقِ وَالْمَغٰرِبِ } المعارج : 40 کی تراکیب بھی آئی ہیں۔ بہرحال واحد ‘ تثنیہ اور جمع کے یہ تینوں صیغے اپنی اپنی جگہ پر درست ہیں۔ واحد کے صیغے میں مشرق اور مغرب تو معروف عام ہیں۔ دو مشرقوں اور دو مغربوں کے تصور کو یوں سمجھیں کہ ایک وقت میں سورج جہاں سے طلوع ہو رہا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
14 یہاں دو مشرقوں اور دو مغربوں کا ذکر فرمایا اس لیے کہ اس سورة میں مسلسل دو دو چیزوں کا ذکر چل رہا ہے جبکہ سورة معارج کی آیت نمبر 40 میں فرمایا کہ وہ بہت سے مشرقوں اور مغربوں کا مالک ہے۔ دو مشرقوں سے مراد ایک تو وہ مقام ہے جب سورج موسم گرما کے سب سے بڑے دن طلوع ہوتا ہے۔ اور دوسرا وہ مقام ہے جہاں سے سورج، موسم کے سب سے چھوٹے دن طلوع ہوتا ہے۔ اور ان دونوں مقاموں کے درمیان سب مشرق ہی مشرق ہیں۔ ہر روز طلوع آفتاب کے مقام کا ایک نیا زاویہ ہوتا ہے اور یہی حال مغربوں کا ہے۔ اسی تبدیلی سے موسم پیدا ہوتے ہیں اور مختلف موسموں میں مختلف فصلیں اور پھل پیدا ہوتے ہیں اور ان مشرقوں اور مغربوں کے پیچھے ایک…
Read the full tafseer →12۔ مشرقین ومغربین۔ کے صیغہ تثنیہ سے مراد چاند اور سورج کے طلوع ہونے والے دو افق اور انہیں دونوں غروب ہونے والے دو افق ہیں۔ اے مشرق الشمس والقمرومغربھما (کبیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–25
وخلق الجان من مارج من نار، جان سے جنس جنات مراد ہے، اور مارج آگ کے شعلہ کو کہتے ہیں، انسان کی طرح جن بھی عناصر اربعہ سے بنا ہوا ہے، گمر جن میں ناری عنصر غالب ہے جیسا کہ انسان میں خاکی عنصر غالب ہے رب المشرقین و رب المغربین سے سردی گرمی کے مشرق و مغرب مراد ہیں شمس و قمر کا مطلع اور مغرب اگرچہ بہت قیل مقدار میں روزانہ ہی بدلتا رہتا ہے اس لئے آسانی سے اس کا احساس نہیں ہوتا، گرمی سردی کے مشرق و مغرب میں چونکہ بین فرق اور نمایاں فاصلہ ہوتا ہے اس لئے صرف ان کا ہی ذکر کردیا ہے اور بعض حضرات نے مشرقین اور مغربین سے شمس و قمر کے مشرق و مغرب مراد لئے ہیں۔
Read the full tafseer →رب المشرقین و رب المغربین
دونوں مشرق اور دونوں مغرب کا مالک ہے
دو مشرق یعنی ایک موسم گرما کا مطلع اور دوسرا موسم سرما کا۔ اسی طرح سردی ‘ گرمی کی دو فصلوں کے دو مغرب۔
اختلاف مشارق و مغارب اللہ کی بڑی نعمت ہے۔ اس سے ہوا میں اعتدال ‘ فصلوں اور موسموں کا اختلاف اور ہر موسم کے مناسب مختلف احوال پیدا ہوتے ہیں۔ تفصیلی فوائد بیان سے باہر ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
(17۔ 18) وہ گرمی اور سردی کے دونوں شمرق اور ایسے ہی دونوں مغرب کا مالک ہے۔
دونوں مشرق کی ایک سو اسی منزلیں ہیں اسی طرح دونوں مغرب کی اور اتنی ہی چاند کی منزلیں ہیں اور کہا گیا ہے کہ دونوں مشرق اور دونوں مغرب کی ایک سو ستتر منزلیں ہیں پورے سال میں سورج دو دن تک ایک منزل سے طلوع ہوتا ہے اور اسی طرح ایک منزل میں غروب ہوتا ہے، سو اے جن انس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کا انکار کرو گے۔
Read the full tafseer →رَبُّ الْمَشْرِقَیْنِ وَرَبُّ الْمَغْرِبَیْنِ : سورج ہمیشہ مشرقی سمت کے درمیان سے طلوع نہیں ہوتا ، بلکہ گرمیوں میں اس کا مشرق شمال کی طرف سر کیا جاتا ہے اور سردیوں میں جنوب کی طرف اور ہر روز سورج کے طلوع ہونے کی جگہ ایک ہوتی ہے۔ ایک لحاظ سے سال بھر میں سورج کے 365 مشرق ہوتے ہیں ، یہی حال اسکے مغربوں کا ہے۔ اس کے مطابق اللہ تعالیٰ نے سورة ٔ صافات (5) میں اپنی صفت ”رب المشارق“ اور سورة ٔ معارج (40) میں ”برب المشرق والمغرب“ بیان فرمائی ہے۔ یہاں سردی اور گرمی کے آخری دو مقامات کے اعتبار سے ”رب المشرقین و رب المغربین ‘ ‘ فرمایا ہے۔ مزید دیکھئے سورة ٔ صفافات (5)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
رب المشرقین و رب المغربین۔ تقدیر کلام یوں ہے ھو رب المشرقین سورة صافات میں ہے رب المشارق۔ اس کے بارے میں وہاں گفتگو گزر چکی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
قولہ تعالیٰ : (آیت ) '' رب المشرقین '' (الآیہ)
9:۔ سعید بن منصور (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' رب المشرقین ورب المغربین '' (وہ دونوں مشرق اور دونوں مغرب کا مالک ہے) سے مراد ہے سورج طلوع ہونے کی جگہ موسم سرما اور غروب ہونے کی جگہ موسم سرما میں اور طلوع ہونے کی جگہ موسم گرما میں اور غروب ہونے کی جگہ موسم گرما میں اور موسم گرما کی طلوع اور غروب ہونے کی جگہ موسم سرما کی طلوع اور غروب ہونے کی جگہ کے سوا اور علیحدہ ہے۔
10:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' رب المشرقین ورب…
Read the full tafseer →رَبُّ الْمَشْرِقَيْنِ [ دونوں مشرقوں کا مالک ] وَرَبُّ الْمَغْرِبَيْنِ [ اور دونوں مغربوں کا مالک ]
ترجمہ : نوٹ۔ 1: دومشرقوں اور دو مغربوں سے مراد اجاڑے کے چھوٹے سے چھوٹے دن اور گرمی کے بڑے سے بڑے دن کے مشرق ومغرب بھی ہوسکتے ہیں ۔ جاڑے کے سب سے چھوٹے دن میں سورج ایک نہایت تنگ زاویہ بناکر طلوع و غروب ہوتا ہے اس کے برعکس گرمی کے سب سے بڑے دن میں وہ انتہائی وسیع زاویہ بناتے ہوئے نکلتا اور ڈوبتا ہے ۔ ان دونوں کے درمیان ہر روز اس کے طلوع اور غروب ہوئے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کو مشرقوں اور مغربوں کا رب کہنے کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ اس کے حکم سے سورج کے طلوع و غروب اور سال کے دوران میں انکے مسلسل بدلتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
اللہ تعالیٰ مشرقین اور مغربین کا رب ہے، میٹھے اور نمکین دریا اسی نے جاری فرمائے ان سے موتی اور مرجان نکلتے ہیں، اسی کے حکم سے کشتیاں چلتی ہیں
ان آیات میں بھی اللہ تعالیٰ کی قدرت کے مظاہر بیان فرمائے ہیں اور اس کی نعمتیں ذکر کی ہیں اول تو یہ فرمایا کہ وہ دونوں مشرقوں اور دونوں مغربوں کا رب ہے، اسی نے دونوں مشرقوں اور دونوں مغربوں کو پیدا فرمایا اور چاند اور سورج کو مقرر فرمایا جو اپنی مقررہ رفتار پر چلتے ہیں مشرقین سے طلوع ہوتے ہیں اور مغربین میں چھپ جاتے ہیں ان کے طلوع اور غروب سے رات اور دن کا ظہور ہوتا ہے اور دن میں دن کے کام اور رات میں رات کے کام انجام پذیر ہوتے ہیں، رات اور دن کے آگے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–25
انعامات رب جلیل بر انسان بعطاء وصف بیان وتعلیم قرآن وفیضان نعماء جسمانیہ وروحانیہ :
قال اللہ تعالیٰ : الرحمن علم القرآن ...... الی ...... فبای الآء ربکما تکذبن “۔
(ربط) سورة قمر میں دلائل نبوت اور معجزات عظیمہ کا بیان تھا اور امم سابقہ کے احوال ذکر فرمائے گئے کہ کس طرح انہوں نے اپنے پیغمبروں کا انکار کیا اور ان پر ایمان نہ لائے جس کے باعث عذاب خداوندی سے انکو ہلاک وبرباد کردیا گیا جس سے مقصود اہل مکہ کو متنبہ کرنا تھا کہ وہ ان احوال وواقعات کو سوچ کر اپنے انجام کے بارے میں بھی خود فیصلہ کرلیں تو اس کے بعد حق تعالیٰ شانہ نے ان انعامات خاصہ کا ذکر فرمایا جو انسان پر کئے گئے ان انعامات میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
8:۔ ” رب المشرقین و رب المغربین “ یہ توحید کی پانچویں عقلی دلیل ہے دو مشرق اور دو مغرب سے، موسم سرما اور موسم گرما کے مشرق و مغرب مراد ہیں۔ سوج کو سال بھر کے دوران میں مختلف جگہوں سے نکالنا اور مختلف جگہوں میں غروب کرنا یہ بھی اللہ ہی کا کام ہے نیز اس سے چونکہ موسم بدلتے ہیں اس لیے یہ مشرق و مغرب کی تبدیلی میں انسانوں کے لیے بیشمار منافع ہیں اور یہ تبدیلی بھی اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے جس کا انکار نہیں کیا جاسکتا۔ یہ ساری برکتیں اور نعمتیں اللہ ہی کے اختیار میں ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–25
ربطہ آیات
اس سورة مبارکہ میں کائنات اور بالخصوص انسانوں پر ہونے والے انعامات الٰہیہ کا ذکر ہورہا ہے۔ چناچہ گذشتہ درس میں روحانی انعامات میں سے سب سے بڑی نعمت قرآن حکیم کا تذکرہ ہوا۔ اس کے بعد اللہ نے خود انسانی جسم کی تخلیق کا ذکر کیا کہ اس نے انسان کو پیدا کیا اور کمال درجے کی قوت گویائی بھی عطافرمائی۔ پھر اللہ نے شمس و قمر ، پودوں اور درختوں کا ذکر کیا ہے کہ یہ بھی انعاماتِ الٰہیہ میں شامل ہیں جو اللہ نے انسانوں کی مصلحت کی خاطر پیدا فرمائے ہیں پھر اللہ نے ترازو کا ذکر کیا جو کہ عدل کی علامت ہے ، لہٰذا اللہ نے عدل قائم کرنے کا حکم دیا ، اور فرمایا کہ ناپ تول میں کسی قسم کی کمی بیشی نہ کرو…
Read the full tafseer →رَبُّ الْمَشْرِقَيْنِ وَرَبُّ الْمَغْرِبَيْنِ 17 ۚ
رب
الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15]
( ر ب ب ) الرب ( ن )
کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ وربیہ تنیوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ کسی نے کہا ہے ۔ لان یربنی رجل من قریش احب الی من ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–18
ترکیب : ولاتخسرو ابضم التاء ای ولا تنقصوا الموزدن وقیل التقدیر فی المیزان۔ ویقرء بفتح التاء والخاء والاول اصح۔ للانام یتعلق بوضعہا والحب بالرفع عطفاً علی النخل والریحان کذلک ویقرء بالنصب ای خلق الحب۔ کالفخار لغت لصلصال من نار لغت لمارج۔ رب المشرقین ای ھو وقیل ھذا مبتداء دخبرہ مرج الاکمام جمع کم بالکسرو ھو دعاء الثمر اصلہ یطلق علی ماستر شیئا ومنہ کم القمیص بالضم۔
تفسیر : پہلے بطور علت و سبب کے عدل قائم کرنا بیان فرمایا تھا۔ اب بصراحت حکم دیتا ہے واقیموالوزن بالقسط کہ دنیا میں انصاف کی ترازو سے تولو۔ یہ حکم بڑا وسیع المعنی ہے جس میں اشیاء کا انصاف سے تولنا بھی داخل ہے اور عموماً ہر بات میں حق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
رَبُّ الْمَشْرِقَیْنِ وَ رَبُّ الْمَغْرِبَیْنِ ۔ فَبِاَیِّ اٰ لَآئِ رَبِّـکُمَا تُـکَذِّبٰنِ ۔ (الرحمن : 17، 18)
(وہی دونوں مشرق کا رب ہے اور وہی دونوں مغرب کا رب ہے۔ تم اپنے رب کی کن کن قدرتوں کو جھٹلائو گے۔ )
مشرقین و مغربین کا مفہوم
ہم چونکہ چار جہتوں سے مانوس ہیں مشرق، مغرب، شمال اور جنوب۔ اس لیے دو مشرق اور دو مغرب عجیب سے بات معلوم ہوتے ہیں۔ لیکن اس کی ایک توجیہ تو یہ ہے کہ قرآن کریم میں یہ الفاظ واحد، مثنیٰ اور جمع تینوں صورتوں میں آئے ہیں اور تینوں ہی صورتوں میں مفہوم کے اعتبار سے کوئی فرق نہیں۔ تثنیہ کی صورت میں دونوں اطراف کا احاطہ مقصود ہوتا ہے۔ اور جمع کی شکل میں اس میں اطراف و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–21
فہم القرآن
ربط کلام : جس رب نے انسان اور جن کو پیدا کیا ہے وہی مشرقین اور مغربین کا مالک ہے۔
سورة الصّافات کی آیت 5 میں مشرق کے لیے مشارق کے الفاظ استعمال کیے ہیں اور یہاں مشرقین اور مغربین کے الفاظ استعمال فرمائے ہیں۔ بیشک سورج مشرق سے نکل کر مغرب کی جانب غروب ہوتا ہے لیکن سورج ہمیشہ ایک ہی مقام سے نہ طلوع ہوتا ہے اور نہ غروب ہوتا ہے بلکہ ہر روز اپنی جگہ بدلتا ہے جسے موجودہ سائنسدان اور فلکیات کے ماہرین بھی تسلیم کرتے ہیں اس لیے یہاں مشرقین اور مغربین کے الفاظ استعمال فرمائے ہیں۔ عربی میں یہ الفاظ فاصلے کی طوالت کے لیے بھی استعمال ہوتے ہیں۔ مشرقین اور مغربین کے الفاظ استعمال فرما کر شمال اور…
Read the full tafseer →17 : رَبُّ الْمَشْرِقَیْنِ وَرَبُّ الْمَغْرِبَیْنِ (وہ دونوں مشرقوں اور دونوں مغربوں کا مالک ہے) دو مشرق، مغرب سے گرمیوں اور سردیوں کے مشرق و مغرب مراد ہیں۔
Read the full tafseer →16 ۔” فبای الاء ربکما تکذبن۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–25
14۔ 25۔ ترمذی نسائی ‘ مسند بزار وغیرہ میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ﷺ کا پتلا بنانے کے لئے پہلے مٹی لی پھر اس میں پانی ملا کر چھوڑ دیا کہ سیاہ رنگ کا بودار گارا ہوگیا اور یہاں تک سوکھا کہ ٹھیکرے کی طرح ہوگیا۔ ابن حبان نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔ سورة آل عمران ‘ سورة حج ‘ سورة و الصفات اور اس سورة میں اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کے پتلے کی مختلف حالتیں جو فرمائی ہیں یہ حدیث ان سب حالتوں کی تفسیر ہے جس سے معلوم ہوا کہ ان سورتوں کی آیتوں میں کچھ اختلاف نہیں ہے بلکہ ان چند حالتوں میں سے کسی آیت میں کوئی حالت ہے اور کسی میں کوئی اور۔ حقیقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
یعنی اللہ تعالیٰ ہر اس چیز کا رب ہے جس پر سورج چاند اور روشن ستارے طلوع و غروب ہوتے ہیں اور وہ سب کچھ جس کے اندر چاند اور سورج ہیں تو وہ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت اور اس کے دست تدبیر کے تحت ہیں۔ اللہ نے یہاں مشرق اور مغرب کو سورج کے گرمیوں اور سردیوں کے مقامات طلوع و غروب کے مختلف ہونے کے اعتبار سے تثنیہ ذکر کیا ہے۔ واللہ اعلم۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–21
عصف اور ریحان کی تشریح
قول باری ہے (والحب ذوالعصف والریحان۔ طرح طرح کے غلے ہیں جن میں بھوسا بھی ہوتا ہے اور دانہ بھی) حضرت ابن عباس ؓ ، قتادہ اور ضحاک سے مروی ہے کہ عصف بھوسے کو کہتے ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ ، مجاہد اور ضحاک سے منقول ہے کہ ریحان ورق یعنی پتے کو کہتے ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ سے یہ بھی مروی ہے کہ ریحان غذائی دانوں کو کہتے ہیں۔ حسن کا قول ہے کہ ریحان پھول کو کہتے ہیں جسے سونگھا جاتا ہے۔
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اگر یہ تمام معانی مراد لئے جائیں تو اس میں کوئی امتناع نہیں ہے کیونکہ ریحان کا اسم ان سب پر واقع ہوتا ہے۔ تاہم ریحان کے ظاہری معنی اس پھول کے ہیں جس کی خوشبو سونگھی جاتی ہے۔ جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
[ 17] مشرقوں اور مغربوں کا مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ :
سو اس سے حق تعالیٰ کی عظمت شان کا ایک اہم اور واضح پہلو پیش فرمایا گیا ہے کہ وہ اس پوری کائنات کا بلا شرکت غیر سے خالق اور مالک ہے، چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ جو مالک ہے دونوں مشرقوں اور مغربوں کا۔ کہ سردی و گرمی کے دو موسموں میں سورج کے طلوع و غروب کے اعتبار سے ان دو مشرقوں اور مغربوں کا مشاہدہ ہر انسان بچشم خود کرتا ہے، نیز کرہء ارضی کے دو نصفوں کے اعتبار سے کہ ایک طرف تو سورج ڈوب رہا ہوتا ہے اور دوسری طرف طلوع ہو رہا ہوتا ہے، وبالعکس، سو اس اعتبار سے بھی دو مشرقوں اور دو مغربوں کا یہ سلسلہ برابر چلتا رہتا ہے، اور اس طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–18
انسان کی پیدائش اور مشرقین اور مغربین
تشریح : انسان کی پیدائش مٹی سے اور جنات کی آگ سے اس کی حکمتیں تو وہی جانتا ہے جس نے پیدا کیا ہے ہمیں تو صرف یہ معلوم ہے کہ زندگی کی نعمت ان تمام نعمتوں میں سے ایک ہے جو ہمیں ملی ہیں اور ہم ان تمام نعمتوں کے لیے اللہ رحمن و رحیم کے شکر گزار ہیں پھر مشرقوں اور مغربوں کی ملکیت کا ذکر کیا گیـا ہے۔ اور یہ فلکیاتی نظام کی طرف ایک اشارہ ہے۔ اس کی وضاحت بڑے سادہ انداز میں مورس بو کائیے یوں کرتے ہیں۔ لکھتے ہیں۔ ' کوئی شخص جو طلوع شمس اور غروب شمس کا بغور مشاہدہ کرتا ہے وہ جانتا ہے کہ موسم کے مطابق سورج مشرق کے مختلف نقطوں سے نکلتا ہے اور مغرب کے مختلف نقطوں پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–25
آیات 1 تا 25۔
اسرار ومعارف۔
وہ ذات بیحد و حساب رحم کرنے والی ہے اور اس کی رحمت ہے کہ اس نے قرآن سکھلایا اپنے نبی پر نازل فرما کر ان خوش نصیبوں کو جنہوں نے آپ سے سیکھا اور ان کے واسطے سے اگلوں کو سکھایا یوں تعلیم قرآن کا سلسلہ ہمیشہ کے لیے جاری فرمایا کہ بنی آدم میں سے جو چاہے اس چشمہ رحمت سے سیراب ہو۔ آخر یہ بھی تو اسی کی رحمت عامہ ہے کہ انسان کو پیدا فرمایا اور اسے زبان دانی بات کرنے کا فن ودیعت فرمایا کہ وہ علم قرآن حاصل کرسکنے کے قابل ہوا۔
قوت گویائی کا اصل مصرف۔
گویاقوت گویائی اور بات کرنے کی صلاحیت کا اصل مصرف علوم قرآن کا حصول اور اس کا آگے پہنچانا ہے باقی سارے فوائد دوسرے درجے میں ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–17
ف 11 دونوں پور بوں (مشرقوں) اور پچھموں (مغریوں) سے مراد موسم سرما اور موسم گرما کے مشرق اور مغرب ہیں۔ موسم سرما میں سورج چھوٹا سا دائرہ بنا کر طلوع و غروب ہوتا ہے اور موسم گرما میں بڑا دائرہ بنا کر۔
Read the full tafseer →(55:17) رب المشرقین ورب المغربین : یہ مبتداء محذوف کی خبر ہے ای ھو رب المشرقین ورب المغربین۔ وہ دو مشرقوں اور دو مغربوں کا پروردگار ہے۔
حضرت ابن عباس کہتے ہیں کہ :۔ جاڑے میں آفتاب اور جگہ سے اور گرمیوں میں اور جگہ سے طلوع ہوتا ہے اس ظاہر فرق کے لحاظ سے مشرقین یعنی دو مشرق کہتے ہیں۔ اسی طرح دونوں موسموں میں غروب بھی دو جگہ ہوتا ہے اس لئے مغربین یعنی دو مغرب کہے جاتے ہیں۔ ورنہ ہر روز آفتاب کا طلوع و غروب اور جگہ سے ہوتا ہے اسی لئے قرآن مجید میں دوسری جگہ آیا ہے رب المشرق والمغرب (70:40) مشرقوں اور مغربوں کا رب۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–25
لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 25
علم اس نے سکھایا۔ البیان بولنا بحسبان ایک حساب سے، ایک طریقے سے۔ النجم بےتنے کے درخت، پودے۔ وضع اس نے رکھا ۔ اس نے بنایا ۔ الاتطفوا یہ کہ تم نہ گھٹائو۔ انام مخلوق۔ الاکمام (کم) غلام، چھلکا ۔ العصف بھوسہ (جانوروں کی غذا) الریحان خوشبودار ۔ الاء (الی) نعمتیں صلصال خشک مٹی جو کھن کھن بجتی ہو۔ الفخار ٹھیکرا۔ الجان جن ، ابو الجنات ۔ مارج شعلہ جس میں دھواں نہ ہو۔ مرج (خوب بہتا ہے) جاری کیا البحرین دوریا، دو سمندر۔ برزخ پردہ، رکاوٹ۔ لا یبغین دونوں کو ملنے نہیں دیتا اللولو موتی۔ المرجان مونگا، سفید موتی۔ المنشئت بلند کئے ہوئے۔ الاغلام (ملم) پہاڑ، جھنڈا
اللہ تعالیٰ نے اپنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–19
اللہ کی قدرت کا ذکر۔
(ف 1) اللہ نے دنیا میں دونوں طرح کے دریا میں جاری کیے شریں اور تلخ، اور یہی حال زمین کے اندر کا ہے کہ کھودنے سے کہیں میٹھا پانی نکلتا ہے اور کہیں کھاری اور قدرت کی روک کے سبب سے ایک دوسرے پر غالب نہیں آتا، سورة فرقان میں اس کی تفصیل زیادہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
[6] دو مشرقوں اور دو مغربوں سے مراد جاڑے کے چھوٹے سے چھوٹے دن اور گرمی کے بڑے سے بڑے دن بھی ہوسکتے ہیں اور زمین کے دونوں نصف کروں کے مشرق و مغرب بھی۔ جاڑے کے سب سے چھوٹے دن میں سورج ایک نہایت تنگ زاویہ بنا کر طلوع و غروب ہوتا ہے، اور اس کے برعکس گرمی کے سب سے بڑے دن میں وہ انتہائی وسیع زاویہ بناتے ہوئے نکلتا اور ڈوبتا ہے۔ اسی طرح زمین کے ایک نصف کرے میں جس وقت سورج طلوع ہوتا ہے اسی وقت دوسرے نصف کرے میں وہ غروب ہوتا ہے۔ یوں بھی زمین کے دو مشرق اور دو مغرب بن جاتے ہیں۔ ان دو مشرقوں اور دو مغربوں کا مالک و پروردگار وہی ہے اور ان کے درمیان رہنے والی مخلوق کو وہی پال رہا ہے اور اسی پرورش کے لئے…
Read the full tafseer →ف 3: اس تثنیہ سے مراد بھی جمع ہے ۔ یعنی مشارق ومغارب غرض یہ ہے ۔ کہ آفتا کے طلوع اور غروب کے مقامات جو مختلف ہیں ۔ تو اس لئے کہ حرکت میں اختلاف ہے اور وہ یلن مصالح دنیوی کے مطابق ہیں ۔
Read the full tafseer →(17) وہی دونوں مشرقوں اور دونوں مغربوں کا حقیقی مالک ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی جاڑے گرمی کی دو مشرقیں اسی طرح دو مغربیں۔ واقعہ یہ ہے کہ سورج ہر روز نئے خط پر طلوع اور غروب ہوتا ہے اس لئے رب المشرقین ورب المغربین بلکہ رب المشارق والمغارب بھی کہا جاسکتا ہے جیسا کہ سورة معارج میں انشاء اللہ آجائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–17
ف 6۔ مراد اس سے سورج اور چاند کے طلوع و غروب کا افق ہے۔
Read the full tafseer →وہی دونوں مشرکوں اور دونوں مغربوں کا رب بھی ہے
71۔ کی دو مشرقوں اور دو مغربوں کا جب ذکر آتا ہے تو اس سے دو سورج یا دو چاند الگ الگ تصور کرلیے جائیں گے ؟ ہرگز نہیں ‘ بلکہ اس سے ایک ہی سال کے دو موسم مراد لیے جائیں گے چونکہ دونوں موسموں کے حالات و عوارضات ایک دوسرے سے الگ الگ ہیں۔ ایک میں سخت گرمی ہے اور دوسرے میں سخت سردی۔ ایک کو صیف کہتے ہیں اور دوسرے کو شتا ایک میں ربیع ہے اور دوسرے میں خریف ہے۔ ایک میں گرمی ہے دوسرے میں جاڑا۔ من حیث الجنس ایک ہی طرح سے طلوع و غروب ہے لیکن ایک ٹھڑنا ہے اور دوسرے میں جلنا اور یہی بات گزشتہ آیت میں تخلیق انسانی میں پیش کی گئی ہے اور وہی بات اس جگہ دہرائی جا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
Allah is the Lord of the Two Points of Sunrise and the Two Points of Sunset
رَبُّ الْمَشْرِقَيْنِ وَرَبُّ الْمَغْرِبَيْنِ (He is the Lord of both points of sunrise and both points of sunset...55:17) The sun rises at different cardinal points in the east in winter and in summer: Thus we have the two easts [ mashriqain ]. Similarly, the sun sets at different cardinal points in the west in winter and summer: Thus we have two wests [ maghribain ].
Read the full tafseer →17 'Both the Easts and both the Wests" may mean the two points of sunrise and the two points of sunset on the shortest day of winter and the longest day of summer as well as the easts and the wests of the two hemispheres of the earth. On the shortest day of winter the sun rises and sets making a small acute angle: on the contrary, on the longest day of summer-it rises and sets making a wide obtuse angle. Between them its points of rising and setting go on shifting every day, for which at another place in the Qur'an (AI-Ma'arij: 40) the words Rabbul-mashariq wal-magharib have been used.…
Read the full tafseer →