Explained with ayahs 14–25
انسان اور جنات کی پیدائش میں فرق
یہاں بیان ہو رہا ہے کہ انسان کی پیدائش بجنے والی ٹھیکری جیسی مٹی سے ہوئی ہے اور جنات کی پیدائش آگ کے شعلے سے ہوئی ہے جو خالص اور احسن تھا مسند کی حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں فرشتے نور سے جنات نار سے اور انسان اس مٹی سے جس کا ذکر تمہارے سامنے ہوچکا ہے پیدا کئے گئے ہیں پھر اپنی کسی نعمت کے جھٹلانے کی ہدایت کر کے فرماتا ہے جاڑے اور گرمی کے دو سورج کے نکلنے اور ڈوبنے کے مقامات کا رب اللہ ہی ہے دو سے مراد سورج نکلنے اور ڈوبنے کی دو مختلف جگہیں ہیں کہ وہاں سے سورج چڑھتا اترتا ہے اور موسم کے لحاظ سے یہ بدلتی جگہیں رہتی ہیں ہر دن انقلاب لاتا ہے جیسے دوسری آیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
سورة الرَّحْمٰن 18
یہاں بھی اگرچہ موقع و محل کے لحاظ سے آلاء کا مفہوم " قدرت " زیادہ نمایاں محسوس ہوتا ہے، مگر ساتھ ہی " نعمت " اور صفات حمیدہ " کا پہلو بھی اس میں موجود ہے۔ یہ بڑی نعمت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سورج کے طلوع و غروب کا یہ قاعدہ مقرر کیا، کیونکہ اس کی بدولت فصلوں اور موسموں کے وہ تغیرات باقاعدگی سے رونما ہوتے ہیں جن سے انسان و حیوان اور نباتات سب کے بیشمار مصالح وابستہ ہیں۔ اسی طرح یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت و ربوبیت اور حکمت ہی تو ہے کہ اس نے جن مخلوقات کو زمین پر پیدا کیا تھا ان کی ضرورتوں کو ملحوظ رکھ کر اپنی قدرت سے یہ انتظامات کردیے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
رَبُّ الْمَشْرِقَيْنِ وَرَبُّ الْمَغْرِبَيْنِ ، سردی اور گرمی میں آفتاب کا مطلع بدلتا ہے، اس لئے سردی کے زمانے میں مشرق یعنی آفتاب کے نکلنے کی جگہ اور ہوتی ہے اور گرمی کے زمانے میں دوسری، انہی دونوں جگہوں کو آیت میں مشرقین سے تعبیر فرمایا ہے، اسی طرح اس کے بالمقابل مغربین فرمایا کہ سردی میں غروب آفتاب کی جگہ اور ہوتی ہے اور گرمی میں دوسری۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
(رب المشرقین و رب المغربین فبای الاء ربکما تکذبن) (17۔ 18)
(مشرق اور مغرب کی مثنی لانے کی وجہ) یعنی مشرق و مغرب، سب کا رب اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ نہ کوئی اس کے حدود مملکت سے باہر ہے اور نہ کوئی اس کی خدائی میں حصہ دار ہے۔ اللہ تعالیٰ تمام مشرق و مغرب کا بلا شرکت غیرے مالک ہے۔ اس کے آسمانوں اور زمین میں بالشت بھر علاقہ بھی کسی اور کے قبضہ میں نہیں ہے کہ وہ اس علاقہ والوں کو خدا کی پکڑ سے بچا لے۔ سورة معارج میں یہی مضمون اس طرح بیان ہوا ہے (فلا اقسم برب المشرق و المغرب انا لقدرون نلی ان نبدل خیرا منھم وما نحن بمسبعرقین) (40۔ 41) (پس نہیں، میں قسم کھاتا ہوں مشرقوں اور مغربوں کے خداوند کی، ہعم اس بات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
20۔ 1 جس کا خلاصہ یہ ہے کہ دو دریاؤں سے مراد بعض کے نزدیک ان کے الگ الگ وجود ہیں، جیسے میٹھے پانی کے دریا ہیں، جن سے کھیتیاں سیراب ہوتی ہیں اور انسان ان کا پانی اپنی دیگر ضروریات میں بھی استعمال کرتا ہے۔ دوسری قسم سمندروں کا پانی جو کھارا ہے جس کے کچھ اور فوائد ہیں۔ یہ دونوں آپس میں نہیں ملتے۔ بعض نے اس کا مفہوم یہ بیان کیا ہے کہ کھارے سمندروں میں ہی میٹھے پانی کی لہریں چلتی ہیں اور یہ دونوں لہریں آپس میں نہیں ملتیں، بلکہ ایک دوسرے سے جدا اور ممتاز ہی رہتی ہیں۔ اس کی ایک صورت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کھارے سمندروں میں ہی کئی مقامات پر میٹھے پانی کی لہریں بھی جاری کی ہوئی ہیں اور وہ کھارے پانی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
3: مشرق در اصل افق کے اس حصے کا نام ہے جہاں سے سورج طلوع ہوتا ہے اور مغرب اس حصے کا جہاں سورج غروب ہوتا ہے، چونکہ سردی اور گرمی کے موسموں میں مشرق اور مغرب کے یہ حصے بدل جاتے ہیں، اس لیے ان کو دو مشرقوں اور دو مغربوں سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔
Read the full tafseer →فبای ............ تکذبن (55: 81) (تم اپنے رب کے کن کن عجائبات قدرت کو جھٹلاؤ گے)
بالائی کائنات کی وسعتوں سے اب زمین اور اس کے اندر کی انعامات اور احسانات کی طرف ، زمین کے اندر اللہ تعالیٰ نے خشکی اور تری کو ایک اندازے کے مطابق بنایا ہے اور خشکی اور تری میں اللہ نے انسان کے لئے بہت کچھ پیدا کیا ہے ۔ ایک مقدار کے مطابق۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
4 یعنی ایسا نہیں کہ میٹھا اور کھاری پانی ایک دوسرے پر چڑھائی کر کے اس کی خاصیت وغیرہ کو بالکلیہ زائل کر دے یا دونوں مل کر دنیا کو غرق کر ڈالیں۔ اس آیت کے مضمون کے متعلق کچھ تقریر سورة " فرقان " کے اواخر میں گزر چکی ہے۔ اس کو ملاحظہ کرلیا جائے۔
Read the full tafseer →آیت 18 { فَبِاَیِّ اٰلَآئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ۔ } ”تو تم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں اور قدرتوں کا انکار کرو گے ؟“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
15 اس کی تشریح کے لیے سورة فرقان کی آیت نمبر 53 کا حاشیہ ملاحظہ فرمایئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
13۔ ماہرین فن کا بیان ہے کہ سطح زمین کے نیچے پانی دو مستقل نظام جاری ہیں۔ ایک سلسلہ آب شور کا ہے جو سمندروں سے ظاہر ہوتا ہے۔ دوسرے دونوں نظام پوری طرح قائم بھی ہیں۔ اور پھر ایک دوسرے سے گڈمڈ اور مدغم نہیں ہونے پاتے۔ ملاحظہ ہوں سورة الفرقان (پ 19) کے حاشیے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–25
وخلق الجان من مارج من نار، جان سے جنس جنات مراد ہے، اور مارج آگ کے شعلہ کو کہتے ہیں، انسان کی طرح جن بھی عناصر اربعہ سے بنا ہوا ہے، گمر جن میں ناری عنصر غالب ہے جیسا کہ انسان میں خاکی عنصر غالب ہے رب المشرقین و رب المغربین سے سردی گرمی کے مشرق و مغرب مراد ہیں شمس و قمر کا مطلع اور مغرب اگرچہ بہت قیل مقدار میں روزانہ ہی بدلتا رہتا ہے اس لئے آسانی سے اس کا احساس نہیں ہوتا، گرمی سردی کے مشرق و مغرب میں چونکہ بین فرق اور نمایاں فاصلہ ہوتا ہے اس لئے صرف ان کا ہی ذکر کردیا ہے اور بعض حضرات نے مشرقین اور مغربین سے شمس و قمر کے مشرق و مغرب مراد لئے ہیں۔
Read the full tafseer →فبای الا ربکما تکذبان .
سو اے جن و انس تم اپنے رب کی کون کونسی نعمتوں کے منکر ہوجاؤ گے۔
پس جن و انس اس نعمت کا انکار کیسے کرسکتے ہو اور کون کونسی نعمت کے منکر ہوسکتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
(17۔ 18) وہ گرمی اور سردی کے دونوں شمرق اور ایسے ہی دونوں مغرب کا مالک ہے۔
دونوں مشرق کی ایک سو اسی منزلیں ہیں اسی طرح دونوں مغرب کی اور اتنی ہی چاند کی منزلیں ہیں اور کہا گیا ہے کہ دونوں مشرق اور دونوں مغرب کی ایک سو ستتر منزلیں ہیں پورے سال میں سورج دو دن تک ایک منزل سے طلوع ہوتا ہے اور اسی طرح ایک منزل میں غروب ہوتا ہے، سو اے جن انس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کا انکار کرو گے۔
Read the full tafseer →فَبِاَیِّ اٰلَآئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ : سورج کے طلوع و غروب ، اس کی گردش اور اس کے متعدد مطالع و مغارب میں اللہ تعالیٰ کی بیشمار قدرتیں ہیں اور اس سے موسموں کے بدلنے ، بارشیں برستے ، برف گرنے ، بےشمارقسم کی فصلیں اگنے اور انسان کی راحت و آرام کے بےحساب سامان مہیا کرنے کی بیشمار نعمتیں ہیں، جنہیں اللہ تعالیٰ یاد دلا رہے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
رب المشرقین و رب المغربین۔ تقدیر کلام یوں ہے ھو رب المشرقین سورة صافات میں ہے رب المشارق۔ اس کے بارے میں وہاں گفتگو گزر چکی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
قولہ تعالیٰ : (آیت ) '' رب المشرقین '' (الآیہ)
9:۔ سعید بن منصور (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' رب المشرقین ورب المغربین '' (وہ دونوں مشرق اور دونوں مغرب کا مالک ہے) سے مراد ہے سورج طلوع ہونے کی جگہ موسم سرما اور غروب ہونے کی جگہ موسم سرما میں اور طلوع ہونے کی جگہ موسم گرما میں اور غروب ہونے کی جگہ موسم گرما میں اور موسم گرما کی طلوع اور غروب ہونے کی جگہ موسم سرما کی طلوع اور غروب ہونے کی جگہ کے سوا اور علیحدہ ہے۔
10:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' رب المشرقین ورب…
Read the full tafseer →فَبِاَيِّ اٰلَاۗءِ رَبِّكُمَا [ تو تم دونوں (جن وانس ) اپنے رب کی نعمتوں سے کس کس کو ] تُكَذِّبٰنِ [ تم دونوں جھٹلاؤگے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
اللہ تعالیٰ مشرقین اور مغربین کا رب ہے، میٹھے اور نمکین دریا اسی نے جاری فرمائے ان سے موتی اور مرجان نکلتے ہیں، اسی کے حکم سے کشتیاں چلتی ہیں
ان آیات میں بھی اللہ تعالیٰ کی قدرت کے مظاہر بیان فرمائے ہیں اور اس کی نعمتیں ذکر کی ہیں اول تو یہ فرمایا کہ وہ دونوں مشرقوں اور دونوں مغربوں کا رب ہے، اسی نے دونوں مشرقوں اور دونوں مغربوں کو پیدا فرمایا اور چاند اور سورج کو مقرر فرمایا جو اپنی مقررہ رفتار پر چلتے ہیں مشرقین سے طلوع ہوتے ہیں اور مغربین میں چھپ جاتے ہیں ان کے طلوع اور غروب سے رات اور دن کا ظہور ہوتا ہے اور دن میں دن کے کام اور رات میں رات کے کام انجام پذیر ہوتے ہیں، رات اور دن کے آگے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–25
انعامات رب جلیل بر انسان بعطاء وصف بیان وتعلیم قرآن وفیضان نعماء جسمانیہ وروحانیہ :
قال اللہ تعالیٰ : الرحمن علم القرآن ...... الی ...... فبای الآء ربکما تکذبن “۔
(ربط) سورة قمر میں دلائل نبوت اور معجزات عظیمہ کا بیان تھا اور امم سابقہ کے احوال ذکر فرمائے گئے کہ کس طرح انہوں نے اپنے پیغمبروں کا انکار کیا اور ان پر ایمان نہ لائے جس کے باعث عذاب خداوندی سے انکو ہلاک وبرباد کردیا گیا جس سے مقصود اہل مکہ کو متنبہ کرنا تھا کہ وہ ان احوال وواقعات کو سوچ کر اپنے انجام کے بارے میں بھی خود فیصلہ کرلیں تو اس کے بعد حق تعالیٰ شانہ نے ان انعامات خاصہ کا ذکر فرمایا جو انسان پر کئے گئے ان انعامات میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
8:۔ ” رب المشرقین و رب المغربین “ یہ توحید کی پانچویں عقلی دلیل ہے دو مشرق اور دو مغرب سے، موسم سرما اور موسم گرما کے مشرق و مغرب مراد ہیں۔ سوج کو سال بھر کے دوران میں مختلف جگہوں سے نکالنا اور مختلف جگہوں میں غروب کرنا یہ بھی اللہ ہی کا کام ہے نیز اس سے چونکہ موسم بدلتے ہیں اس لیے یہ مشرق و مغرب کی تبدیلی میں انسانوں کے لیے بیشمار منافع ہیں اور یہ تبدیلی بھی اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے جس کا انکار نہیں کیا جاسکتا۔ یہ ساری برکتیں اور نعمتیں اللہ ہی کے اختیار میں ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–25
ربطہ آیات
اس سورة مبارکہ میں کائنات اور بالخصوص انسانوں پر ہونے والے انعامات الٰہیہ کا ذکر ہورہا ہے۔ چناچہ گذشتہ درس میں روحانی انعامات میں سے سب سے بڑی نعمت قرآن حکیم کا تذکرہ ہوا۔ اس کے بعد اللہ نے خود انسانی جسم کی تخلیق کا ذکر کیا کہ اس نے انسان کو پیدا کیا اور کمال درجے کی قوت گویائی بھی عطافرمائی۔ پھر اللہ نے شمس و قمر ، پودوں اور درختوں کا ذکر کیا ہے کہ یہ بھی انعاماتِ الٰہیہ میں شامل ہیں جو اللہ نے انسانوں کی مصلحت کی خاطر پیدا فرمائے ہیں پھر اللہ نے ترازو کا ذکر کیا جو کہ عدل کی علامت ہے ، لہٰذا اللہ نے عدل قائم کرنے کا حکم دیا ، اور فرمایا کہ ناپ تول میں کسی قسم کی کمی بیشی نہ کرو…
Read the full tafseer →فَبِاَيِّ اٰلَاۗءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ 18
أيا
أَيُّ في الاستخبار موضوع للبحث عن بعض الجنس والنوع وعن تعيينه، ويستعمل ذلک في الخبر والجزاء، نحو : أَيًّا ما تَدْعُوا فَلَهُ الْأَسْماءُ الْحُسْنى [ الإسراء/ 110] ، وأَيَّمَا الْأَجَلَيْنِ قَضَيْتُ فَلا عُدْوانَ عَلَيَّ [ القصص/ 28]
( ا ی ی ) ای ۔
جب استفہام کیلئے ہو تو جنس یا نوع کی تعیین اور تحقیق کے متعلق سوال کے لئے آتا ہے اور یہ خبر اور جزا کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے چناچہ فرمایا :۔ { أَيًّا مَا تَدْعُوا فَلَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى } ( سورة الإسراء 110) جس نام سے اسے پکارا اس کے سب نام اچھے ہیں { أَيَّمَا الْأَجَلَيْنِ قَضَيْتُ فَلَا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–18
ترکیب : ولاتخسرو ابضم التاء ای ولا تنقصوا الموزدن وقیل التقدیر فی المیزان۔ ویقرء بفتح التاء والخاء والاول اصح۔ للانام یتعلق بوضعہا والحب بالرفع عطفاً علی النخل والریحان کذلک ویقرء بالنصب ای خلق الحب۔ کالفخار لغت لصلصال من نار لغت لمارج۔ رب المشرقین ای ھو وقیل ھذا مبتداء دخبرہ مرج الاکمام جمع کم بالکسرو ھو دعاء الثمر اصلہ یطلق علی ماستر شیئا ومنہ کم القمیص بالضم۔
تفسیر : پہلے بطور علت و سبب کے عدل قائم کرنا بیان فرمایا تھا۔ اب بصراحت حکم دیتا ہے واقیموالوزن بالقسط کہ دنیا میں انصاف کی ترازو سے تولو۔ یہ حکم بڑا وسیع المعنی ہے جس میں اشیاء کا انصاف سے تولنا بھی داخل ہے اور عموماً ہر بات میں حق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
رَبُّ الْمَشْرِقَیْنِ وَ رَبُّ الْمَغْرِبَیْنِ ۔ فَبِاَیِّ اٰ لَآئِ رَبِّـکُمَا تُـکَذِّبٰنِ ۔ (الرحمن : 17، 18)
(وہی دونوں مشرق کا رب ہے اور وہی دونوں مغرب کا رب ہے۔ تم اپنے رب کی کن کن قدرتوں کو جھٹلائو گے۔ )
مشرقین و مغربین کا مفہوم
ہم چونکہ چار جہتوں سے مانوس ہیں مشرق، مغرب، شمال اور جنوب۔ اس لیے دو مشرق اور دو مغرب عجیب سے بات معلوم ہوتے ہیں۔ لیکن اس کی ایک توجیہ تو یہ ہے کہ قرآن کریم میں یہ الفاظ واحد، مثنیٰ اور جمع تینوں صورتوں میں آئے ہیں اور تینوں ہی صورتوں میں مفہوم کے اعتبار سے کوئی فرق نہیں۔ تثنیہ کی صورت میں دونوں اطراف کا احاطہ مقصود ہوتا ہے۔ اور جمع کی شکل میں اس میں اطراف و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–21
فہم القرآن
ربط کلام : جس رب نے انسان اور جن کو پیدا کیا ہے وہی مشرقین اور مغربین کا مالک ہے۔
سورة الصّافات کی آیت 5 میں مشرق کے لیے مشارق کے الفاظ استعمال کیے ہیں اور یہاں مشرقین اور مغربین کے الفاظ استعمال فرمائے ہیں۔ بیشک سورج مشرق سے نکل کر مغرب کی جانب غروب ہوتا ہے لیکن سورج ہمیشہ ایک ہی مقام سے نہ طلوع ہوتا ہے اور نہ غروب ہوتا ہے بلکہ ہر روز اپنی جگہ بدلتا ہے جسے موجودہ سائنسدان اور فلکیات کے ماہرین بھی تسلیم کرتے ہیں اس لیے یہاں مشرقین اور مغربین کے الفاظ استعمال فرمائے ہیں۔ عربی میں یہ الفاظ فاصلے کی طوالت کے لیے بھی استعمال ہوتے ہیں۔ مشرقین اور مغربین کے الفاظ استعمال فرما کر شمال اور…
Read the full tafseer →18 : فَبِاَیِّ اٰلَآ ئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ (پس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلائو گے)
Read the full tafseer →17 ۔” رب المشرقین “ سردیوں کی مشرق اور گرمیوں کی مشرق کا۔ ” ورب المغربین “ گرمیوں کی مغرب اور سردیوں کی مغرب کا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–25
14۔ 25۔ ترمذی نسائی ‘ مسند بزار وغیرہ میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ﷺ کا پتلا بنانے کے لئے پہلے مٹی لی پھر اس میں پانی ملا کر چھوڑ دیا کہ سیاہ رنگ کا بودار گارا ہوگیا اور یہاں تک سوکھا کہ ٹھیکرے کی طرح ہوگیا۔ ابن حبان نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔ سورة آل عمران ‘ سورة حج ‘ سورة و الصفات اور اس سورة میں اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کے پتلے کی مختلف حالتیں جو فرمائی ہیں یہ حدیث ان سب حالتوں کی تفسیر ہے جس سے معلوم ہوا کہ ان سورتوں کی آیتوں میں کچھ اختلاف نہیں ہے بلکہ ان چند حالتوں میں سے کسی آیت میں کوئی حالت ہے اور کسی میں کوئی اور۔ حقیقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
یعنی اللہ تعالیٰ ہر اس چیز کا رب ہے جس پر سورج چاند اور روشن ستارے طلوع و غروب ہوتے ہیں اور وہ سب کچھ جس کے اندر چاند اور سورج ہیں تو وہ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت اور اس کے دست تدبیر کے تحت ہیں۔ اللہ نے یہاں مشرق اور مغرب کو سورج کے گرمیوں اور سردیوں کے مقامات طلوع و غروب کے مختلف ہونے کے اعتبار سے تثنیہ ذکر کیا ہے۔ واللہ اعلم۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–21
عصف اور ریحان کی تشریح
قول باری ہے (والحب ذوالعصف والریحان۔ طرح طرح کے غلے ہیں جن میں بھوسا بھی ہوتا ہے اور دانہ بھی) حضرت ابن عباس ؓ ، قتادہ اور ضحاک سے مروی ہے کہ عصف بھوسے کو کہتے ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ ، مجاہد اور ضحاک سے منقول ہے کہ ریحان ورق یعنی پتے کو کہتے ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ سے یہ بھی مروی ہے کہ ریحان غذائی دانوں کو کہتے ہیں۔ حسن کا قول ہے کہ ریحان پھول کو کہتے ہیں جسے سونگھا جاتا ہے۔
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اگر یہ تمام معانی مراد لئے جائیں تو اس میں کوئی امتناع نہیں ہے کیونکہ ریحان کا اسم ان سب پر واقع ہوتا ہے۔ تاہم ریحان کے ظاہری معنی اس پھول کے ہیں جس کی خوشبو سونگھی جاتی ہے۔ جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
[ 17] مشرقوں اور مغربوں کا مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ :
سو اس سے حق تعالیٰ کی عظمت شان کا ایک اہم اور واضح پہلو پیش فرمایا گیا ہے کہ وہ اس پوری کائنات کا بلا شرکت غیر سے خالق اور مالک ہے، چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ جو مالک ہے دونوں مشرقوں اور مغربوں کا۔ کہ سردی و گرمی کے دو موسموں میں سورج کے طلوع و غروب کے اعتبار سے ان دو مشرقوں اور مغربوں کا مشاہدہ ہر انسان بچشم خود کرتا ہے، نیز کرہء ارضی کے دو نصفوں کے اعتبار سے کہ ایک طرف تو سورج ڈوب رہا ہوتا ہے اور دوسری طرف طلوع ہو رہا ہوتا ہے، وبالعکس، سو اس اعتبار سے بھی دو مشرقوں اور دو مغربوں کا یہ سلسلہ برابر چلتا رہتا ہے، اور اس طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–18
انسان کی پیدائش اور مشرقین اور مغربین
تشریح : انسان کی پیدائش مٹی سے اور جنات کی آگ سے اس کی حکمتیں تو وہی جانتا ہے جس نے پیدا کیا ہے ہمیں تو صرف یہ معلوم ہے کہ زندگی کی نعمت ان تمام نعمتوں میں سے ایک ہے جو ہمیں ملی ہیں اور ہم ان تمام نعمتوں کے لیے اللہ رحمن و رحیم کے شکر گزار ہیں پھر مشرقوں اور مغربوں کی ملکیت کا ذکر کیا گیـا ہے۔ اور یہ فلکیاتی نظام کی طرف ایک اشارہ ہے۔ اس کی وضاحت بڑے سادہ انداز میں مورس بو کائیے یوں کرتے ہیں۔ لکھتے ہیں۔ ' کوئی شخص جو طلوع شمس اور غروب شمس کا بغور مشاہدہ کرتا ہے وہ جانتا ہے کہ موسم کے مطابق سورج مشرق کے مختلف نقطوں سے نکلتا ہے اور مغرب کے مختلف نقطوں پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–25
آیات 1 تا 25۔
اسرار ومعارف۔
وہ ذات بیحد و حساب رحم کرنے والی ہے اور اس کی رحمت ہے کہ اس نے قرآن سکھلایا اپنے نبی پر نازل فرما کر ان خوش نصیبوں کو جنہوں نے آپ سے سیکھا اور ان کے واسطے سے اگلوں کو سکھایا یوں تعلیم قرآن کا سلسلہ ہمیشہ کے لیے جاری فرمایا کہ بنی آدم میں سے جو چاہے اس چشمہ رحمت سے سیراب ہو۔ آخر یہ بھی تو اسی کی رحمت عامہ ہے کہ انسان کو پیدا فرمایا اور اسے زبان دانی بات کرنے کا فن ودیعت فرمایا کہ وہ علم قرآن حاصل کرسکنے کے قابل ہوا۔
قوت گویائی کا اصل مصرف۔
گویاقوت گویائی اور بات کرنے کی صلاحیت کا اصل مصرف علوم قرآن کا حصول اور اس کا آگے پہنچانا ہے باقی سارے فوائد دوسرے درجے میں ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–22
ف 12 موتی اور مونگے صرف کھاری پانی سے نکلتے ہیں لیکن جب کھاری اور میٹھا پانی ایک جگہ مل جاتے ہیں تو گویا وہ دونوں کے مجموعہ سے نکلتے ہیں یا ممکن ہے کہ آئندہ تحقیقات سے معلوم ہو کہ جن کھاری سمندروں اور دریائوں سے موتی نکلتے ہیں انکی تہ میں میٹھا پانی ہوتا ہے اور یہ ان پانیوں کے اشتراک عمل سے پیدا ہوتے ہیں۔
Read the full tafseer →(55:18) فبای الاء ربکما تکذبن پس اے جن و انس تم اپنے رب کی کن کن قدرتوں کو جھٹلاؤ گے۔ یہاں بھی اگرچہ موقع و محل کے لحاظ سے الاء کا مفہوم ” قدرت “ زیادہ نمایاں محسوس ہوتا ہے ۔ مگر ساتھ ہی نعمت اور صفات حمیدہ کا پہلو بھی اس میں موجود ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–25
لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 25
علم اس نے سکھایا۔ البیان بولنا بحسبان ایک حساب سے، ایک طریقے سے۔ النجم بےتنے کے درخت، پودے۔ وضع اس نے رکھا ۔ اس نے بنایا ۔ الاتطفوا یہ کہ تم نہ گھٹائو۔ انام مخلوق۔ الاکمام (کم) غلام، چھلکا ۔ العصف بھوسہ (جانوروں کی غذا) الریحان خوشبودار ۔ الاء (الی) نعمتیں صلصال خشک مٹی جو کھن کھن بجتی ہو۔ الفخار ٹھیکرا۔ الجان جن ، ابو الجنات ۔ مارج شعلہ جس میں دھواں نہ ہو۔ مرج (خوب بہتا ہے) جاری کیا البحرین دوریا، دو سمندر۔ برزخ پردہ، رکاوٹ۔ لا یبغین دونوں کو ملنے نہیں دیتا اللولو موتی۔ المرجان مونگا، سفید موتی۔ المنشئت بلند کئے ہوئے۔ الاغلام (ملم) پہاڑ، جھنڈا
اللہ تعالیٰ نے اپنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–19
اللہ کی قدرت کا ذکر۔
(ف 1) اللہ نے دنیا میں دونوں طرح کے دریا میں جاری کیے شریں اور تلخ، اور یہی حال زمین کے اندر کا ہے کہ کھودنے سے کہیں میٹھا پانی نکلتا ہے اور کہیں کھاری اور قدرت کی روک کے سبب سے ایک دوسرے پر غالب نہیں آتا، سورة فرقان میں اس کی تفصیل زیادہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
[6] دو مشرقوں اور دو مغربوں سے مراد جاڑے کے چھوٹے سے چھوٹے دن اور گرمی کے بڑے سے بڑے دن بھی ہوسکتے ہیں اور زمین کے دونوں نصف کروں کے مشرق و مغرب بھی۔ جاڑے کے سب سے چھوٹے دن میں سورج ایک نہایت تنگ زاویہ بنا کر طلوع و غروب ہوتا ہے، اور اس کے برعکس گرمی کے سب سے بڑے دن میں وہ انتہائی وسیع زاویہ بناتے ہوئے نکلتا اور ڈوبتا ہے۔ اسی طرح زمین کے ایک نصف کرے میں جس وقت سورج طلوع ہوتا ہے اسی وقت دوسرے نصف کرے میں وہ غروب ہوتا ہے۔ یوں بھی زمین کے دو مشرق اور دو مغرب بن جاتے ہیں۔ ان دو مشرقوں اور دو مغربوں کا مالک و پروردگار وہی ہے اور ان کے درمیان رہنے والی مخلوق کو وہی پال رہا ہے اور اسی پرورش کے لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
ف 4: یعنی اللہ تعالیٰ کی قدرت کے عجائب میں سے ایک بات یہ بھی ہے کہ دودریاؤں کے مقام اتصال پر یعنی جہاں پانی کے دودھارے ملتے ہیں تو درمیان میں ایک برزخ ساحائل رہتا ہے ۔ اور صاف معلوم ہوتا ہے ۔ کہ صورۃ یہ دو الگ الگ پانی میں ۔
حل لغات :۔ الاء ۔ انی ن جمع ہے ۔ بمعنی نعمتیں ھرج ۔ ملایا ۔ مختلط کیا ۔
Read the full tafseer →(18) سوائے گروہ جن وانس تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمتوں کی تکذیب کرو گے اور جھٹلائو گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–26
ف 2۔ چونکہ مقصود تنبیہ کرنا ثقلین کو ہے اور وہ سب اہل ارض ہیں، اس لئے فنا میں اہل ارض کا ذکر کیا گیا۔ اس تخصیص ذکری سے نفی فنا کی غیر اہل ارض سے لازم نہیں آتی۔
Read the full tafseer →پھر تم دونوں اپنے پروردگار کی کون کون سی نشانیوں کو جھٹلائو گے
81۔ موسموں کا تغیر و تبدیل عین حکمت خداوند ہے توم خوان کون ہو ‘ کہاں ہو اور کیسے ہو جو موسم اللہ نے بنایا ہے اس کو تم ہٹا نہیں سکتے ہاں ! اس کی دی ہوئی عقل و فکر اور سمجھ سوچ سے تم اپنی اپنی ضرورت کے مطابق اپنی ضرورت کا ازالہ کرسکتے ہو اس کے زیر پروگرام ہی تم کرو گے جو کچھ کرسکو گے۔ اس کے پروگرام کو منسوخ کرنا اور ہٹانا تمہا اختیار اور بس کی بات نہیں ہے۔ اگر غور کرو گے تو اس میں تمہاری زندگی کے لیے کتنی نشانیاں موجود ہیں پھر تم اللہ تعالیٰ کی کس کس نشانی کی تکذیب کرو گے ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
Allah is the Lord of the Two Points of Sunrise and the Two Points of Sunset
رَبُّ الْمَشْرِقَيْنِ وَرَبُّ الْمَغْرِبَيْنِ (He is the Lord of both points of sunrise and both points of sunset...55:17) The sun rises at different cardinal points in the east in winter and in summer: Thus we have the two easts [ mashriqain ]. Similarly, the sun sets at different cardinal points in the west in winter and summer: Thus we have two wests [ maghribain ].
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
18 Here also, although in view of the context, "power" seems to be a more conspicuous meaning of alaa', yet, besides, the aspect of "blessing" and 'praiseworthy qualities" also is present in it. It is a great blessing that Allah Almighty has prescribed the rule of the rising and setting of the sun, for by means of it the changes of the crops and seasons arc regulated with which countless interests of the men and animals and vegetables are attached. Likewise, it is Allahs mercy and providence and wisdom that He has made these arrangements by His power to meet the respective needs and…
Read the full tafseer →