Explained with ayahs 14–25
انسان اور جنات کی پیدائش میں فرق
یہاں بیان ہو رہا ہے کہ انسان کی پیدائش بجنے والی ٹھیکری جیسی مٹی سے ہوئی ہے اور جنات کی پیدائش آگ کے شعلے سے ہوئی ہے جو خالص اور احسن تھا مسند کی حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں فرشتے نور سے جنات نار سے اور انسان اس مٹی سے جس کا ذکر تمہارے سامنے ہوچکا ہے پیدا کئے گئے ہیں پھر اپنی کسی نعمت کے جھٹلانے کی ہدایت کر کے فرماتا ہے جاڑے اور گرمی کے دو سورج کے نکلنے اور ڈوبنے کے مقامات کا رب اللہ ہی ہے دو سے مراد سورج نکلنے اور ڈوبنے کی دو مختلف جگہیں ہیں کہ وہاں سے سورج چڑھتا اترتا ہے اور موسم کے لحاظ سے یہ بدلتی جگہیں رہتی ہیں ہر دن انقلاب لاتا ہے جیسے دوسری آیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
سورة الرَّحْمٰن 18
یہاں بھی اگرچہ موقع و محل کے لحاظ سے آلاء کا مفہوم " قدرت " زیادہ نمایاں محسوس ہوتا ہے، مگر ساتھ ہی " نعمت " اور صفات حمیدہ " کا پہلو بھی اس میں موجود ہے۔ یہ بڑی نعمت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سورج کے طلوع و غروب کا یہ قاعدہ مقرر کیا، کیونکہ اس کی بدولت فصلوں اور موسموں کے وہ تغیرات باقاعدگی سے رونما ہوتے ہیں جن سے انسان و حیوان اور نباتات سب کے بیشمار مصالح وابستہ ہیں۔ اسی طرح یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت و ربوبیت اور حکمت ہی تو ہے کہ اس نے جن مخلوقات کو زمین پر پیدا کیا تھا ان کی ضرورتوں کو ملحوظ رکھ کر اپنی قدرت سے یہ انتظامات کردیے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ ، مرج کے لغوی معنی آزاد و بےقید چھوڑ دینے کے ہیں اور بحرین سے دو دریا شیریں اور نمکین مراد ہیں، زمین پر حق تعالیٰ نے دونوں قسم کے دریا پیدا فرمائے ہیں اور بعض جگہ یہ دونوں مل جاتے ہیں جس کی نظائر دنیا کے ہر خطے میں پائی جاتی ہیں مگر جہاں دو دریا شیریں اور نمکین مل کر بہتے ہیں وہاں کافی دور تک دونوں کا پانی الگ الگ ممتاز رہتا ہے، ایک طرف میٹھا دوسری طرف کھارا اور بعض جگہ یہ صورت اوپر نیچے بھی ہوتی ہے جہاں دریائے شور کسی شیریں دریا کے اوپر چڑھ آتا ہے وہاں بھی نیچے کا پانی اپنی جگہ شیریں ہوتا ہے اور اوپر کا نمکین اور کھاری، پانی باوجود رقیق اور لطیف ہونے کے ایک مسافت تک ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
(مرج البحرین یلتقین بنھما برزخ لا یبغین فبای الاء ربکما تکذبین) (19۔ 21)
(توحید کی دلیل انسداد کا توافق کے پہلو سے)۔ یہ اوپر کے دعوائے توحید کی دلیل اس کائنات کے اضداد میں توافق کے پہلو سے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس کائنات کے ہر گوشے میں بظاہر جو تضاد نظر آتا ہے، طلوع کے ساتھ غروب، دن کے ساتھ رات اور سردی کے مقابل میں گرمی ہے تو اس سے کسی کو یہ غلط فہمی نہ ہو کہ اس کے اندر مختلف ارادے اور مشتیں کار فرما ہیں۔ انسان اگر اس کی تہہ میں جھانک کر دیکھے تو معلوم ہوگا کہ اس کے ہر تضاد کے اندر نہایت گہرا توافق اور نہایت عمیق سازگاری ہے۔ ہر چیز اپنے مقابل کے ساتھ مل کر ایک بالا تر مقصد کی خدمت میں لگی ہوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
20۔ 1 جس کا خلاصہ یہ ہے کہ دو دریاؤں سے مراد بعض کے نزدیک ان کے الگ الگ وجود ہیں، جیسے میٹھے پانی کے دریا ہیں، جن سے کھیتیاں سیراب ہوتی ہیں اور انسان ان کا پانی اپنی دیگر ضروریات میں بھی استعمال کرتا ہے۔ دوسری قسم سمندروں کا پانی جو کھارا ہے جس کے کچھ اور فوائد ہیں۔ یہ دونوں آپس میں نہیں ملتے۔ بعض نے اس کا مفہوم یہ بیان کیا ہے کہ کھارے سمندروں میں ہی میٹھے پانی کی لہریں چلتی ہیں اور یہ دونوں لہریں آپس میں نہیں ملتیں، بلکہ ایک دوسرے سے جدا اور ممتاز ہی رہتی ہیں۔ اس کی ایک صورت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کھارے سمندروں میں ہی کئی مقامات پر میٹھے پانی کی لہریں بھی جاری کی ہوئی ہیں اور وہ کھارے پانی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
3: مشرق در اصل افق کے اس حصے کا نام ہے جہاں سے سورج طلوع ہوتا ہے اور مغرب اس حصے کا جہاں سورج غروب ہوتا ہے، چونکہ سردی اور گرمی کے موسموں میں مشرق اور مغرب کے یہ حصے بدل جاتے ہیں، اس لیے ان کو دو مشرقوں اور دو مغربوں سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
مرج البحرین ............ کالاعلام (4 2) فبای الاء ربکما تکذبن (55:5 2)
” دو سمندروں کو اس نے چھوڑ دیا کہ بہم مل جائیں پھر بھی ان کے درمیان ایک پردہ حائل ہے جس سے وہ تجاوز نہیں کرتے۔ پس اے جن وانس ، تم اپنے رب کی قدرت کے کن کن کرشموں کو جھٹلاؤ گے ؟ ان سمندروں سے موتی اور مونگے نکلتے ہیں۔ پس اے جن وانس ، تم اپنے رب کی قدرت کے کن کن کمالات کو جھٹلاؤ گے ؟ اور یہ جہاز اسی کے ہیں جو سمندر میں پہاڑوں کی طرح اونچے اٹھے ہوئے ہیں ، پس اے جن وانس ، تم اپنے رب کے کن کن احسانات کو جھٹلاؤ گے ؟ “
یہاں جن دو دریاؤں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے وہ میٹھا سمندر اور کھارا سمندر ہیں۔ کھارے دریا سے مراد سمندر اور بڑے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
4 یعنی ایسا نہیں کہ میٹھا اور کھاری پانی ایک دوسرے پر چڑھائی کر کے اس کی خاصیت وغیرہ کو بالکلیہ زائل کر دے یا دونوں مل کر دنیا کو غرق کر ڈالیں۔ اس آیت کے مضمون کے متعلق کچھ تقریر سورة " فرقان " کے اواخر میں گزر چکی ہے۔ اس کو ملاحظہ کرلیا جائے۔
Read the full tafseer →آیت 19 { مَرَجَ الْبَحْرَیْنِ یَلْتَقِیٰنِ۔ } ”اس نے چلا دیے دو دریا جو آپس میں ملے ہوئے بھی ہیں۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
15 اس کی تشریح کے لیے سورة فرقان کی آیت نمبر 53 کا حاشیہ ملاحظہ فرمایئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
13۔ ماہرین فن کا بیان ہے کہ سطح زمین کے نیچے پانی دو مستقل نظام جاری ہیں۔ ایک سلسلہ آب شور کا ہے جو سمندروں سے ظاہر ہوتا ہے۔ دوسرے دونوں نظام پوری طرح قائم بھی ہیں۔ اور پھر ایک دوسرے سے گڈمڈ اور مدغم نہیں ہونے پاتے۔ ملاحظہ ہوں سورة الفرقان (پ 19) کے حاشیے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–25
وخلق الجان من مارج من نار، جان سے جنس جنات مراد ہے، اور مارج آگ کے شعلہ کو کہتے ہیں، انسان کی طرح جن بھی عناصر اربعہ سے بنا ہوا ہے، گمر جن میں ناری عنصر غالب ہے جیسا کہ انسان میں خاکی عنصر غالب ہے رب المشرقین و رب المغربین سے سردی گرمی کے مشرق و مغرب مراد ہیں شمس و قمر کا مطلع اور مغرب اگرچہ بہت قیل مقدار میں روزانہ ہی بدلتا رہتا ہے اس لئے آسانی سے اس کا احساس نہیں ہوتا، گرمی سردی کے مشرق و مغرب میں چونکہ بین فرق اور نمایاں فاصلہ ہوتا ہے اس لئے صرف ان کا ہی ذکر کردیا ہے اور بعض حضرات نے مشرقین اور مغربین سے شمس و قمر کے مشرق و مغرب مراد لئے ہیں۔
Read the full tafseer →مرج البحرین یلتقین
” اسی نے دو دریاؤں کو ملایا کہ دونوں آپس میں ملے ہوئے ہیں
مَرَجَ الْبَحْرَیْنِ : اللہ نے دو سمندر چھوڑ دیئے۔ لفظ مرج اس جگہ مرجت الدابۃ (مَیں نے جانور کو چراگاہ میں چھوڑ دیا) سے ماخوذ ہے۔ دو سمندر ایک شیریں ‘ دوسرا نمکین۔
یَلْتَقِیٰنِ : باہم ملے ہوئے۔ ایک کی سطح دوسرے کی سطح سے متصل ‘ غیر ممتاز۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
(19۔ 21) اسی نے دو دریاؤں شیریں اور تلخ کو ملا دیا کہ آپس میں ایک دوسرے کا پانی نہیں ملتا اور ان دونوں کے درمیان ایک حجاب ہے کہ جس سے دونوں ایک دوسرے کے ساتھ مل نہیں سکتے اور نہ ایک دوسرے کا پانی تبدیل کرسکتے ہیں سو اے جن و انس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کا انکار کرو گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
مَرَجَ الْبَحْرَیْنِ یَلْتَقِیٰـنِ۔۔۔۔۔: ان آیات کی تفسیر کے لیے دیکھئے سورة ٔ فرقان (53) کی تفسیر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
مرج البحرین یلتقین۔ بینھا برزخ لایبغین۔ مرج کا معنی چھوڑ دینا ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے : مرج السطان النسا جب بادشاہ نے لوگوں کو مہمل چھوڑ دیا۔ مرج کا اصل معنی مہمل چھوڑنا ہے جس طرح جانوروں کو چراگاہ میں چھوڑ دیا جاتا ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے : مرج یعنی خلط ملط کردیا۔ اخفش نے کہا، ایک قومی کہتی ہے امرج البحیرن یہ مرج کی طرح ہے فعل اور افعل ایک معنی میں ہے۔ البحرین حضرت ابن عباس نے کہا : آسمان کا سمندر اور زمین کا سمندر (1) ، یہ مجاہد اور سعید بن جبیر کا قول ہے۔ یلتقین وہ ہر سال میں ملتے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : دونوں کے کنارے ملتے ہیں (2) حضرت حسن بصری اور قتادہ نے کہا : فارس اور روم کا سمندر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
1:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' مرج البحرین یلتقین '' (اسی نے دو دریاؤں کو ملایا) یعنی دو دریاجاری فرمائے (آیت ) '' بینھما برزخ '' (ان کے درمیان پردہ ہے) یعنی رکاوٹ (آیت ) '' لابیغین '' یعنی آپس میں خلط ملط نہیں ہوتے (یعنی آپس میں ایک دوسرے سے نہیں ملتے)
دوسمندروں کا ساتھ چلنا :
2:۔ عبد بن حمید (رح) ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' مرج البحرین یلتقین '' (اسی نے دو دریاؤں کو ملایا کہ دونوں آپس میں ملے ہوئے ہیں) سے مراد ہے دونوں دریاؤں کا برابر اور ہموار ہونا (آیت ) '' بینہما برزخ '' (ان کے…
Read the full tafseer →مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ [ اس نے رواں کیے دو سمندر ] يَلْتَقِيٰنِ [ وہ دونوں ملتے ہیں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–25
اس کے بعد کشتیوں کا تذکرہ فرمایا کہ اونچی اونچی کشتیاں پہاڑوں کی طرح سمندروں میں بلند ہیں یہ سب اللہ تعالیٰ ہی کی مشیت سے قائم ہیں۔ وہی اپنی قدرت کاملہ سے ان کی حفاظت فرماتا ہے۔ سمندر کا تلاطم اور تیز ہواؤں کے حملوں سے محفوظ فرماتا ہے، یہ کشتیاں بڑے بڑے وزن کے سامان تجارت کو اور تاجروں کو اور انسانوں کی خوراکوں اور دوسری ضروریات کو ایک براعظم سے دوسرے براعظم تک لے جاتی ہیں جسے سورة البقرہ میں یوں فرمایا ہے ﴿ وَ الْفُلْكِ الَّتِيْ تَجْرِيْ فِي الْبَحْرِ بِمَا يَنْفَعُ النَّاسَ ﴾ (اور ان کشتیوں میں جو سمندر میں وہ چیزیں لے کر چلتی ہیں جو انسانوں کو نفع دیتی ہیں، عقلمندوں کے لیے نشانیاں ہیں)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–25
انعامات رب جلیل بر انسان بعطاء وصف بیان وتعلیم قرآن وفیضان نعماء جسمانیہ وروحانیہ :
قال اللہ تعالیٰ : الرحمن علم القرآن ...... الی ...... فبای الآء ربکما تکذبن “۔
(ربط) سورة قمر میں دلائل نبوت اور معجزات عظیمہ کا بیان تھا اور امم سابقہ کے احوال ذکر فرمائے گئے کہ کس طرح انہوں نے اپنے پیغمبروں کا انکار کیا اور ان پر ایمان نہ لائے جس کے باعث عذاب خداوندی سے انکو ہلاک وبرباد کردیا گیا جس سے مقصود اہل مکہ کو متنبہ کرنا تھا کہ وہ ان احوال وواقعات کو سوچ کر اپنے انجام کے بارے میں بھی خود فیصلہ کرلیں تو اس کے بعد حق تعالیٰ شانہ نے ان انعامات خاصہ کا ذکر فرمایا جو انسان پر کئے گئے ان انعامات میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–23
9:۔ ” مرج البحرین “ یہ توحید کی چھٹی دلیل ہے۔ مرج ای ارسل واجری، بہا دیا، جاری کردیا، دو دریا، میٹھا اور کھاری۔ اس کی قدرت کاملہ کا کرشمہ دیکھو کہ اس نے دو دریا ساتھ ساتھ چلائے ہیں جن کا پانی ساتھ ساتھ جا رہا ہے اور ان کے درمیان ظاہری طور پر کوئی حجاب حاجز بھی نہیں محض اللہ کی قدرت کا پردہ ہے جو ان کو آپس میں ملنے نہیں دیتا اور دونوں دریا اپنی حدوں سے نکل کر ایک دوسرے کی حد میں داخل نہیں ہوسکتے۔ ان دونوں سے ہر حجم میں چھوٹے اور بڑے سچے موتی نکلتے ہیں۔ ” اللؤلؤ “ بڑے موتی، ” المرجان “ چھوٹے موتی۔ اللؤؤ والمرجان کبار الدر وصغارہ (بیضاوی، ابن کثیر) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–25
ربطہ آیات
اس سورة مبارکہ میں کائنات اور بالخصوص انسانوں پر ہونے والے انعامات الٰہیہ کا ذکر ہورہا ہے۔ چناچہ گذشتہ درس میں روحانی انعامات میں سے سب سے بڑی نعمت قرآن حکیم کا تذکرہ ہوا۔ اس کے بعد اللہ نے خود انسانی جسم کی تخلیق کا ذکر کیا کہ اس نے انسان کو پیدا کیا اور کمال درجے کی قوت گویائی بھی عطافرمائی۔ پھر اللہ نے شمس و قمر ، پودوں اور درختوں کا ذکر کیا ہے کہ یہ بھی انعاماتِ الٰہیہ میں شامل ہیں جو اللہ نے انسانوں کی مصلحت کی خاطر پیدا فرمائے ہیں پھر اللہ نے ترازو کا ذکر کیا جو کہ عدل کی علامت ہے ، لہٰذا اللہ نے عدل قائم کرنے کا حکم دیا ، اور فرمایا کہ ناپ تول میں کسی قسم کی کمی بیشی نہ کرو…
Read the full tafseer →مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ يَلْتَقِيٰنِ 19 ۙ
مرج
أصل المَرْج : الخلط، والمرج الاختلاط، يقال : مَرِجَ أمرُهم «2» : اختلط، ومَرِجَ الخاتَمُ في أصبعي، فهو مارجٌ ، ويقال : أمرٌ مَرِيجٌ. أي : مختلط، ومنه غصنٌ مَرِيجٌ: مختلط، قال تعالی: فَهُمْ فِي أَمْرٍ مَرِيجٍ [ ق/ 5] والمَرْجان : صغار اللّؤلؤ . قال : كَأَنَّهُنَّ الْياقُوتُ وَالْمَرْجانُ [ الرحمن/ 19] من قولهم : مَرَجَ.
ويقال للأرض التي يكثر فيها النّبات فتمرح فيه الدّواب : مَرْجٌ ، وقوله : مِنْ مارِجٍ مِنْ نارٍ
[ الرحمن/ 15] أي : لهيب مختلط، وأمرجت الدّابّةَ في المرعی: أرسلتها فيه فَمَرَجَتْ.
( م ر ج ) اصل میں المرج کے معنی خلط ملط کرنے اور ملا دینے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–25
ترکیب : المرج الارسال یقال مرجت الدابۃ اذا ارسل تھا یلتقیان حال و بینہما برزخ حال من الضمیر فی یلتقیان ولایبغیان حال ایضا یخرج قالوا التقدیر من احدھما الجواری جمع جاریۃ وھی السفن وحذفت الیاء المنشئات من انشأء اذا رفعہ المرفوعات وقریٔ بکسر الشین وفی البحر یتعلق بہ کالا علام جمع علم وھو الجبل الطویل۔ حال من الضمیر فی المنشئات۔
تفسیر : ان آیات میں دوسرے مسئلہ توحید کو ثابت کر رہا ہے مگر جہاں کہیں قرآن مجید میں اپنے دلائلِ قدرت و جبروت ذکر کر کے اس مسئلہ کو ثابت کیا ہے دلائل میں وہی چیزیں بیان فرمائی ہیں کہ جو بندوں کے لیے انعام اور کارآمد چیزیں ہیں یہ اس لیے کہ انسانی جبلت انعام کی وجہ سے منعم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
مَرَجَ الْبَحْرَیْنِ یَلْتَقِیٰنِ ۔ بَیْنَہُمَا بَرْزَخٌ لاَّیَبْغِیٰنِ ۔ فَبِاَیِّ اٰ لَآئِ رَبِّـکُمَا تُـکَذِّبٰنِ ۔ (الرحمن : 19 تا 21)
(اس نے چھوڑے دو سمندر اور وہ دونوں آپس میں ٹکراتے ہیں۔ لیکن ان کے درمیان ایک پردہ حائل ہے جس سے وہ تجاوز نہیں کرتے۔ تم اپنے رب کی قدرت کے کن کن کرشموں کو جھٹلائو گے۔ )
اللہ تعالیٰ کی مزید قدرت کا بیان
اللہ تعالیٰ اپنی مزید قدرت کا اظہار فرماتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے کہ تم سمندروں کو غور سے دیکھو، تمہیں بعض جگہ نظر آئے گا کہ سمندر میں دو لہریں چل رہی ہیں اور وہ دونوں سمندر کا حصہ ہیں۔ ان کی موجوں اور طغیانی میں دوسرے سمندر کی نسبت کوئی فرق نہیں۔ لیکن حیرانی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–21
فہم القرآن
ربط کلام : جس رب نے انسان اور جن کو پیدا کیا ہے وہی مشرقین اور مغربین کا مالک ہے۔
سورة الصّافات کی آیت 5 میں مشرق کے لیے مشارق کے الفاظ استعمال کیے ہیں اور یہاں مشرقین اور مغربین کے الفاظ استعمال فرمائے ہیں۔ بیشک سورج مشرق سے نکل کر مغرب کی جانب غروب ہوتا ہے لیکن سورج ہمیشہ ایک ہی مقام سے نہ طلوع ہوتا ہے اور نہ غروب ہوتا ہے بلکہ ہر روز اپنی جگہ بدلتا ہے جسے موجودہ سائنسدان اور فلکیات کے ماہرین بھی تسلیم کرتے ہیں اس لیے یہاں مشرقین اور مغربین کے الفاظ استعمال فرمائے ہیں۔ عربی میں یہ الفاظ فاصلے کی طوالت کے لیے بھی استعمال ہوتے ہیں۔ مشرقین اور مغربین کے الفاظ استعمال فرما کر شمال اور…
Read the full tafseer →19 : مَرَجَ الْبَحْرَیْنِ یَلْتَقِیٰنِ (اس نے دو دریائوں کو ملایا کہ دونوں آپس میں ملے ہوئے ہیں) نمکین اور میٹھے دریائوں کو چلا دیا اس طرح کہ ایک دوسرے کے پڑوس میں ملے چل رہے ہیں آنکھوں کے دیکھنے میں دونوں میں کوئی فرق نظر نہیں آتا ہے۔
Read the full tafseer →18 ۔” فبای آلاء ربکما تکذبن “
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–25
14۔ 25۔ ترمذی نسائی ‘ مسند بزار وغیرہ میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ﷺ کا پتلا بنانے کے لئے پہلے مٹی لی پھر اس میں پانی ملا کر چھوڑ دیا کہ سیاہ رنگ کا بودار گارا ہوگیا اور یہاں تک سوکھا کہ ٹھیکرے کی طرح ہوگیا۔ ابن حبان نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔ سورة آل عمران ‘ سورة حج ‘ سورة و الصفات اور اس سورة میں اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کے پتلے کی مختلف حالتیں جو فرمائی ہیں یہ حدیث ان سب حالتوں کی تفسیر ہے جس سے معلوم ہوا کہ ان سورتوں کی آیتوں میں کچھ اختلاف نہیں ہے بلکہ ان چند حالتوں میں سے کسی آیت میں کوئی حالت ہے اور کسی میں کوئی اور۔ حقیقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–23
یہ ان بحرین سے مراد ہے، میٹھے پانی کا سمندر اور نمکین پانی کا سمندر جو آپس میں ملتے ہیں (دریا کا) میٹھا پانی نمکین سمندر میں گرتا ہے پھر دونوں قسم کے پانی ایک دوسرے سے مل جاتے ہیں مگر اللہ نے ان دونوں کے درمیان زمین کو ایک رکاوٹ بنارکھا ہے ایک پانی دوسرے پانی پر سرکشی نہیں کرتا اور یوں دونوں پانیوں کی منفعت حاصل ہوتی ہے لوگ میٹھے پانی کو خود پیتے ہیں اور اس سے اپنے باغات اور کھیتی باڑی کو سیراب کرتے ہیں کھاری پانی فضا کو پاک صاف کرتا ہے اس میں وہیل مچھلیاں موتی اور گھونگے پیدا ہوتے ہیں اور یہ کشیتوں اور دیگر بحری سواریوں کے لیے مستقر اور مسخر ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–21
عصف اور ریحان کی تشریح
قول باری ہے (والحب ذوالعصف والریحان۔ طرح طرح کے غلے ہیں جن میں بھوسا بھی ہوتا ہے اور دانہ بھی) حضرت ابن عباس ؓ ، قتادہ اور ضحاک سے مروی ہے کہ عصف بھوسے کو کہتے ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ ، مجاہد اور ضحاک سے منقول ہے کہ ریحان ورق یعنی پتے کو کہتے ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ سے یہ بھی مروی ہے کہ ریحان غذائی دانوں کو کہتے ہیں۔ حسن کا قول ہے کہ ریحان پھول کو کہتے ہیں جسے سونگھا جاتا ہے۔
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اگر یہ تمام معانی مراد لئے جائیں تو اس میں کوئی امتناع نہیں ہے کیونکہ ریحان کا اسم ان سب پر واقع ہوتا ہے۔ تاہم ریحان کے ظاہری معنی اس پھول کے ہیں جس کی خوشبو سونگھی جاتی ہے۔ جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
[ 17] مشرقوں اور مغربوں کا مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ :
سو اس سے حق تعالیٰ کی عظمت شان کا ایک اہم اور واضح پہلو پیش فرمایا گیا ہے کہ وہ اس پوری کائنات کا بلا شرکت غیر سے خالق اور مالک ہے، چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ جو مالک ہے دونوں مشرقوں اور مغربوں کا۔ کہ سردی و گرمی کے دو موسموں میں سورج کے طلوع و غروب کے اعتبار سے ان دو مشرقوں اور مغربوں کا مشاہدہ ہر انسان بچشم خود کرتا ہے، نیز کرہء ارضی کے دو نصفوں کے اعتبار سے کہ ایک طرف تو سورج ڈوب رہا ہوتا ہے اور دوسری طرف طلوع ہو رہا ہوتا ہے، وبالعکس، سو اس اعتبار سے بھی دو مشرقوں اور دو مغربوں کا یہ سلسلہ برابر چلتا رہتا ہے، اور اس طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–25
سمندر اور دریا اپنی بناوٹ میں حیران کن ہیں
تشریح : ڈاکٹر ہلوک نور باقی صاحب نے 19 اور 20 آیات کی تشریح بےحد خوبصورت الفاظ میں کی ہے ملاحظہ ہو لکھتے ہیں۔ آیات میں دو اہم نکات کو بیان کی گیا ہے۔
1 دو سمندروں کا strait کے ذریعے آپس میں ملنا بہر حال یہ ایک معمول کی حالت ہے۔
2 ۔ یہ حقیقت کہ دو سمندران کے درمیان ایک خاص قسم کی رکاوٹ کی وجہ سے مکمل طور پر آپس میں نہیں مل سکتے۔
آئیے اس سلسلے میں سب سے پہلے سائنسی نکات کا مطالعہ کریں۔ فرانسیسی سائنسدان جیکوی کو سٹو نے جو سمندر کے اندر پانی کی تحقیقات کے لیے مشہور ہے، یہ دریافت کیا کہ بحرہ روم اور بحرہ اوقیانوس کیمیاوی اور حیاتیات کے لحاظ سے ایک دوسرے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–25
آیات 1 تا 25۔
اسرار ومعارف۔
وہ ذات بیحد و حساب رحم کرنے والی ہے اور اس کی رحمت ہے کہ اس نے قرآن سکھلایا اپنے نبی پر نازل فرما کر ان خوش نصیبوں کو جنہوں نے آپ سے سیکھا اور ان کے واسطے سے اگلوں کو سکھایا یوں تعلیم قرآن کا سلسلہ ہمیشہ کے لیے جاری فرمایا کہ بنی آدم میں سے جو چاہے اس چشمہ رحمت سے سیراب ہو۔ آخر یہ بھی تو اسی کی رحمت عامہ ہے کہ انسان کو پیدا فرمایا اور اسے زبان دانی بات کرنے کا فن ودیعت فرمایا کہ وہ علم قرآن حاصل کرسکنے کے قابل ہوا۔
قوت گویائی کا اصل مصرف۔
گویاقوت گویائی اور بات کرنے کی صلاحیت کا اصل مصرف علوم قرآن کا حصول اور اس کا آگے پہنچانا ہے باقی سارے فوائد دوسرے درجے میں ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–22
ف 12 موتی اور مونگے صرف کھاری پانی سے نکلتے ہیں لیکن جب کھاری اور میٹھا پانی ایک جگہ مل جاتے ہیں تو گویا وہ دونوں کے مجموعہ سے نکلتے ہیں یا ممکن ہے کہ آئندہ تحقیقات سے معلوم ہو کہ جن کھاری سمندروں اور دریائوں سے موتی نکلتے ہیں انکی تہ میں میٹھا پانی ہوتا ہے اور یہ ان پانیوں کے اشتراک عمل سے پیدا ہوتے ہیں۔
Read the full tafseer →(55:19) مرج : ماضی واحد مذکر غائب۔ اس نے چھوڑا۔ اس نے مخلوط کیا۔ اس نے چلایا۔ اس نے رواں کیا۔ (نیز ملاحظہ ہو 55:15) متذکرہ الصدر۔
البحرین : دو سمندر۔ بحر کا تثنیہ۔ بحالت نصب و جر۔ اور سورة الفرقان میں ان دو سمندروں کا ذکر یوں ہے :۔ ھو الذی مرج البحرین ھذا عذب فرات وھذا ملح اجاج وجعل بینھما برزخا وحجرا محجورا (25:53) اور وہی تو ہے جس نے دو دریاؤں کو ملا دیا۔ (مخلوط کیا) ایک کا پانی شیریں ہے پیاس بجھانے والا۔ اور دوسرے کا کھاری کڑوا۔ (چھاتی جلانے والا) اور دونوں کے درمیان ایک آڑ اور مضبوط اوٹ بنادی۔
مولٰنا اشرف علی تھانوی (رح) اپنی تفسیر بیان القرآن میں مثالاً ذکر کرتے ہیں اراکان سے چاٹگام تک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–25
لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 25
علم اس نے سکھایا۔ البیان بولنا بحسبان ایک حساب سے، ایک طریقے سے۔ النجم بےتنے کے درخت، پودے۔ وضع اس نے رکھا ۔ اس نے بنایا ۔ الاتطفوا یہ کہ تم نہ گھٹائو۔ انام مخلوق۔ الاکمام (کم) غلام، چھلکا ۔ العصف بھوسہ (جانوروں کی غذا) الریحان خوشبودار ۔ الاء (الی) نعمتیں صلصال خشک مٹی جو کھن کھن بجتی ہو۔ الفخار ٹھیکرا۔ الجان جن ، ابو الجنات ۔ مارج شعلہ جس میں دھواں نہ ہو۔ مرج (خوب بہتا ہے) جاری کیا البحرین دوریا، دو سمندر۔ برزخ پردہ، رکاوٹ۔ لا یبغین دونوں کو ملنے نہیں دیتا اللولو موتی۔ المرجان مونگا، سفید موتی۔ المنشئت بلند کئے ہوئے۔ الاغلام (ملم) پہاڑ، جھنڈا
اللہ تعالیٰ نے اپنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–19
اللہ کی قدرت کا ذکر۔
(ف 1) اللہ نے دنیا میں دونوں طرح کے دریا میں جاری کیے شریں اور تلخ، اور یہی حال زمین کے اندر کا ہے کہ کھودنے سے کہیں میٹھا پانی نکلتا ہے اور کہیں کھاری اور قدرت کی روک کے سبب سے ایک دوسرے پر غالب نہیں آتا، سورة فرقان میں اس کی تفصیل زیادہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
[6] دو مشرقوں اور دو مغربوں سے مراد جاڑے کے چھوٹے سے چھوٹے دن اور گرمی کے بڑے سے بڑے دن بھی ہوسکتے ہیں اور زمین کے دونوں نصف کروں کے مشرق و مغرب بھی۔ جاڑے کے سب سے چھوٹے دن میں سورج ایک نہایت تنگ زاویہ بنا کر طلوع و غروب ہوتا ہے، اور اس کے برعکس گرمی کے سب سے بڑے دن میں وہ انتہائی وسیع زاویہ بناتے ہوئے نکلتا اور ڈوبتا ہے۔ اسی طرح زمین کے ایک نصف کرے میں جس وقت سورج طلوع ہوتا ہے اسی وقت دوسرے نصف کرے میں وہ غروب ہوتا ہے۔ یوں بھی زمین کے دو مشرق اور دو مغرب بن جاتے ہیں۔ ان دو مشرقوں اور دو مغربوں کا مالک و پروردگار وہی ہے اور ان کے درمیان رہنے والی مخلوق کو وہی پال رہا ہے اور اسی پرورش کے لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
ف 4: یعنی اللہ تعالیٰ کی قدرت کے عجائب میں سے ایک بات یہ بھی ہے کہ دودریاؤں کے مقام اتصال پر یعنی جہاں پانی کے دودھارے ملتے ہیں تو درمیان میں ایک برزخ ساحائل رہتا ہے ۔ اور صاف معلوم ہوتا ہے ۔ کہ صورۃ یہ دو الگ الگ پانی میں ۔
حل لغات :۔ الاء ۔ انی ن جمع ہے ۔ بمعنی نعمتیں ھرج ۔ ملایا ۔ مختلط کیا ۔
Read the full tafseer →(19) اسی نے دو دریائوں کو اسی طرح چلایا کہ وہ دونوں باہم ملے ہوئے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–26
ف 2۔ چونکہ مقصود تنبیہ کرنا ثقلین کو ہے اور وہ سب اہل ارض ہیں، اس لئے فنا میں اہل ارض کا ذکر کیا گیا۔ اس تخصیص ذکری سے نفی فنا کی غیر اہل ارض سے لازم نہیں آتی۔
Read the full tafseer →اس نے دو دریا رواں کیے ہیں جو باہم ملے ہوئے ہیں
91۔ (مرج) واحد مذکرغائب ماضی معروف مرج مصدر باب نصر ایک دوسرے سے ملا ہوا آزاد چھوڑ دیا (یلتقین) وہ دونوں ملے ہوئے ہیں۔ دو دریا جو ہم باہم ایک دوسرے ملے ہوئے ہیں ان دو دریائوں سے مراد کوئی مخصوص دریا نہیں ہیں بلکہ وہ دو طرح کے پانیوں کا ذکر کرنا مقصود ہے کہ قدرت الٰیئ کے نشانات میں سے یہ بھی ایک نشانی ہے کہ جہاں کڑوا پانی پایا جاتا ہے وہا میٹھا پانی بھی موجود ہوتا ہے اور جہاں میٹھا ہوتا ہے وہاں کڑوا بھی۔ پانی وہ چیز ہے جو اپنی سطح ہموار رکھتا ہے لیکن اس کے باوجود اس کی سطح بھی فی الوقاع ہموارہی رہتی ہے اور دونوں پانی برابر برابر چل رہے ہوتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
Allah created Different Types of Water
مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ يَلْتَقِيَانِ (He has set forth the two seas that meet together...55:19). Literally, the verb maraja means 'to let loose'. The word bahrain [ two seas or two types of waters ] refers to sweet and salty waters. Allah has created two types of waters. In some places the two seas meet together, the samples of which are available in every region of the world. However, where the sweet and salty waters meet, there is a distinct barrier between the sweet and salty waters. In some cases, the two types of waters are seen distinctly in higher…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
18 Here also, although in view of the context, "power" seems to be a more conspicuous meaning of alaa', yet, besides, the aspect of "blessing" and 'praiseworthy qualities" also is present in it. It is a great blessing that Allah Almighty has prescribed the rule of the rising and setting of the sun, for by means of it the changes of the crops and seasons arc regulated with which countless interests of the men and animals and vegetables are attached. Likewise, it is Allahs mercy and providence and wisdom that He has made these arrangements by His power to meet the respective needs and…
Read the full tafseer →