Ar-Rahmaan 55:63

Ar-Rahmaan · from ayah 63

55:63

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ ۟ۙفَبِاَىِّ اٰلَاۤءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۙ‏

تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟

— Fateh Muhammad Jalandhari

So which of the favors of your Lord would you deny? -

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 3 of surah · Ruku 13 of juz

Read the whole surah · Surah Ar-Rahmaan

All translations of 55:63

اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟

— مولانا فتح محمد جالندہری

پس تم اپنے پرورش کرنے والے کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟

— مولانا محمد جوناگڑہی

اب بتاؤ کہ تم دونوں اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پس تم دونوں اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

تو تم دونوں اپنے رب کی نعمتوں میں سے کس کس کو جھٹلاؤ گے ؟

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پس تم اپنے پروردگار کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تو تم اپنے رب کی کتنی نعمتوں کو جھٹلائو گے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پس تم دونوں (اے گروہ جن و انس !) اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟

— مولانا اسحاق مدنی

سو تم (دونوں) اپنے پروردگار کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤگے ؟

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تو تم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں اور قدرتوں کا انکار کرو گے ؟

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تو تم اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے

— محترمہ رفعت اعجاز

Which of the favours of your Lord will you twain – you men and jinn – then deny?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

So, which of the bounties of your Lord will you deny?

— Muhammad Taqi Usmani

So, which of the bounties of your Lord will you deny?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Then which of the blessings of your Lord will you both deny

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Which is it, of the favours of your Lord, that ye deny?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

So which of the favors of your Lord would you deny? -

— Saheeh International

- jinn and mankind - which of the favors of your Lord would you then deny

— Muhammad Sarwar

Which then of the bounties of your Lord will you deny?

— Muhammad Habib Shakir

Which, then, of the benefits of your Lord will ye twain beli?

— Abdul Majid Daryabadi

Then which of the favours of your Lord will ye deny?-

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 55:63

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 62–78

اصحاب یمین اور مقربین یہ دونوں جنتیں ہیں جن کا ذکر ان آیتوں میں ہے ان جنتوں سے کم مرتبہ ہیں جن کا ذکر پہلے گذرا اور وہ حدیث بھی بیان ہوچکی جس میں ہے دو جنتیں سونے کی اور دو چاندی کی۔ پہلی دو تو مقربین خاص کی جگہ ہیں اور یہ دوسری دو اصحاب یمین کی الغرض درجے اور فضیلت میں یہ دو ان دو سے کم ہیں جس کی دلیلیں بہت سی ہیں ایک یہ کہ ان کا ذکر اور صف ان سے پہلے بیان ہوئی اور یہ تقدیم بیان بھی دلیل ہے ان کی فضیلت کی، پھر یہاں آیت (وَمِنْ دُوْنِهِمَا جَنَّتٰنِ 62ۚ) 55۔ الرحمن :62) فرمانا صاف ظاہر کرتا ہے کہ یہ ان سے کم مرتبہ ہیں وہاں ان کی تعریف میں آیت (ذَوَاتَآ اَفْنَانٍ 48ۚ) 55۔ الرحمن :48) یعنی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 62–63

سورة الرَّحْمٰن 49 اصل الفاظ ہیں مِنْ دُوْنِھِمَا جَنَّتٰن۔ دُوْن کا لفظ عربی زبان میں تین مختلف معنوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ ایک، کسی اونچی چیز کے مقابلے میں نیچے ہونا۔ دوسرے، کسی افضل و اشرف چیز کے مقابلے میں کم تر ہونا۔ تیسرے، کسی چیز کے ماسوا یا اس کے علاوہ ہونا۔ اس اختلاف معنی کی بنا پر ان الفاظ میں ایک احتمال یہ ہے کہ ہر جنَّتی کو پہلے کے دو باغوں کے علاوہ یہ دو باغ اور دیے جائیں گے۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ یہ دو باغ اوپر کے دونوں باغوں کی بہ نسبت مقام یا مرتبے میں فر و تر ہونگے یعنی پہلے دو باغ یا تو بلندی پر ہونگے اور یہ ان سے نیچے واقع ہونگے، یا پہلے دو باغ بہت اعلیٰ درجہ کے ہونگے اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 60–63

هَلْ جَزَاۗءُ الْاِحْسَانِ اِلَّا الْاِحْسَانُ ، مقربین خاص کے دو باغوں کی کچھ تفصیل ذکر کرنے کے بعد یہ ارشاد فرمایا کہ احسان عمل کا بدلہ احسان جزا ہی ہوسکتا ہے اس کے سوا کوئی احتمال نہیں، ان حضرات نے احسان عمل یعنی ہمیشہ نیک عمل کرنے کی پابندی کی تو حق تعالیٰ کی طرف سے ان کو عمدہ جزا ہی کا بدلہ دیا جانا چاہئے تھا جو ان کو دیا گیا۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 62–63

(ومن دونھما جنتن فبای الاء ربکما تکذبن (62۔ 63) (بےایمان جنت)۔ مذکورہ دو جنتیوں کے سوا اب دو اور جنتوں کا ذکر آ رہا ہے جو اپنی خصوصیات کے اعتبار سے مذکورہ دو جنتوں کے ساتھ فی الجملہ اشتراک بھی رکھتی ہیں اور بعض اعتبار سے ان سے مختلف بھی ہیں۔ ان کے متعلق یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان دونوں قسم کی جنتوں کے حق دار ایک ہی قسم کے لوگ ہوں گے یا الگ الگ قسم کے لوگ۔ اس کا صحیح جواب آگے آنے والی سورة سورة ٔواقعہ میں آئے گا۔ اس میں اہل ایمان کو دو گروہوں میں تقسیم فرمایا ہے۔ (اصحب المینۃ اور السابقون اور ان دونوں کے لیے الگ الگ جنتوں کا ذکر ہے جن کے اوصاف میں فی الجملہ اشتراک بھی ہے اور بعض پہلوئوں سے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 63–64

64۔ 1 کثر سیرابی اور سبزے کی فروانی کی وجہ سے وہ مائل بہ سیاہی ہوں گے

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 62–63

10: اکثر مفسرین کے مطابق پہلے (آیت نمبر 46 میں) جن دو باغوں کا ذکر ہوا تھا۔ وہ اعلیٰ درجے کے مقرب بندوں کے لیے ہیں، جیسا کہ اگلی سورت (سورة واقعہ) میں اس کی تفصیل آنے والی ہے، اور اب آیت نمبر 62 سے جن دو باغوں کا ذکر ہو رہا ہے، وہ عام مومنوں کے لیے ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 62–63

اب دوسرا فریق جس کو دو باغ ملیں گے۔ ومن دونھما جنتن (55: 26) ” اور ان دو باغوں کے علاوہ وہ دو باغ اور ہوں گے “ اور ان کے اوصاف سابقہ باغوں سے ذرا کم ہوں گے۔ یہ دو باغ۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 63{ فَبِاَیِّ اٰلَآئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ۔ } ”تو تم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں اور قدرتوں کا انکار کرو گے ؟“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 63–64

40 مُدْھَامَّتٰنِ : دَھَمٌ بمعنی کسی چیز کا تاریکی میں ڈھک جانا۔ کہتے ہیں دَھَمَتِ النَّارُ الْقَدَرَ یعنی آگ نے ہنڈیا کو سیاہ کردیا۔ اس آیت میں مفہوم یہ ہے کہ ان دونوں باغوں کے درختوں کے پتے اتنے گہرے سبز ہوں گے جیسے سیاہ ہو رہے ہوں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 63–70

34۔ جنت کی مادی نعمتوں کا بیان اجمالا نہیں۔ بلکہ ایک ایک جزئیہ کی صراحت کے ساتھ ہورہا ہے۔ (آیت) ” فیھن “۔ ضمیر ھن سے مراد یہ ہے کہ ان باغوں، چمنوں، گلشنوں کے اندر جو آراستہ و پیراستہ کوٹھیاں بنگلے، حویلیاں، محل سرائیں ہوں گی، ان میں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 46–78

ترجمہ : اور اس شخص کے لئے یعنی ان میں سے ہر ایک کے لئے یا دونوں کے مجموعہ کے لئے جو اپنے رب کے روبرو حساب کے لئے کھڑے ہونے سے ڈرا اور اس نے اس کی نافرمانی ترک کردی دو باغ ہیں سو تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کا انکار کرو گے ؟ (دونوں باغ) کثیر شاخوں والے (گھنے) ہوں گے ذواتا، ذوات کا تثنیہ ہے اصل کے مطابق اور اس کا لام یاء ہے، افنان، فنن کی جمع ہے (جیسا کہ) اطلال، طلل کی جمع ہے، سو تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کے منکر ہوجائو گے ؟ (دونوں باغ) کثیر شاخوں والے (گھنے) ہوں گے ذواتا، ذوات کا تثنیہ ہے اصل کے مطابق اور اس کا لام یاء ہے، افنان، فنن کی جمع ہے (جیسا کہ) اطلال، طلل کی جمع ہے، سو تم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فبای الا ربکما تکذبن . سو اے جن و انس تم اپنے رب کی کون کونسی نعمتوں کے منکر ہوجاؤ گے۔ “

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 62–63

(62۔ 63) اور ان پہلے دو باغوں سے کم درجہ میں دو باغ اور ہیں۔ پہلے دونوں باغ ان سے افضل ہیں اور اور یہ دو ان سے کم درجہ کے ہیں، یعنی جنت النعیم اور جنت الماوی سو اے جن و انس تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمتوں کا انکار کرو گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 62–63

وَمِنْ دُوْنِہِمَا جَنَّـتٰنِ : جیسا کہ ”ولمن خاف مقام ربہ جنتن“ کی تفسیر میں گزر چکا ہے کہ پہلی دو جنتیں جن کا ذکر اوپر گزرا ، اللہ سے ہمیشہ ڈرنے والے مقربین کے لیے ہیں اور یہاں سے عام اہل ایمان یعنی اصحاب الیمین کو ملنے والی جنتوں کا ذکر ہوتا ہے ، جو کئی باتوں میں پہلی دونوں جنتوں کے ساتھ مشرک اور کئی باتوں میں ان سے کم تر ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 62–65

ومن دونھما جنتان۔ یعنی ان کے لئے ان پہلی دو جنتوں کے علاوہ دو اور جنتیں بھی ہیں حضرت ابن عباس ؓ نے کہا ان دونوں سے درجہ کم ہوں گی ابن زید نے کہا : فضلیت میں کم ہوں گی۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : یہ تمام جنتی اس کے لئے ہیں جو اپنے رب کے حضور کھڑا ہونے سے ڈرا پہلی دو جنتوں میں کھجور کے اور دوسرے درخت ہوں گے اور دوسری دو میں کھیتیاں اور نباتات ہوں گی اور جو اسے نوش کریں گی ماوردی نے کہا : یہ بھی احتمال موجود ہے (1) سے مراد ایسی جنتیں ہیں جو ان کے پیرو کاروں کے لئے ہوں کیونکہ پیروکاروں کا مرتبہ اس سے کم ہوتا ہے ان میں سے ایک جنت (باغ) حورعین کے لئے اور دوسرا باغ ایسے بچوں کے لئے ہوگا جو ہمیشہ بچے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 62–63

قولہ تعالیٰ : (آیت ) '' ومن دونھما جنتن '' (الآیات ) 40:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' ومن دونھما جنتن '' (اور ان دو باغوں سے کم مرتبہ دو باغ اور ہیں) یعنی دونوں ان کے سوا ہیں جن میں نہریں جاری ہیں

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

فَبِاَيِّ اٰلَاۗءِ رَبِّكُمَا [ تو تم دونوں (جن وانس ) اپنے رب کی نعمتوں سے کس کس کو ] تُكَذِّبٰنِ [ تم دونوں جھٹلاؤگے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 62–63

دوسرے درجہ کی جنتوں اور نعمتوں کا تذکرہ گزشتہ آیات میں دو جنتوں کا ذکر فرمایا، اب یہاں سے دوسری دو جنتوں کا ذکر شروع ہو رہا ہے، یہ دونوں جنتیں پہلی دو جنتوں سے مرتبہ اور فضیلت میں کم ہوں گی یہ جن بندوں کو دی جائیں گی وہ اپنے احوال اور اعمال کے اعتبار سے ان حضرات سے کم درجے کے ہوں گے جن کو پہلی دو جنتیں دی جائیں گی گو صفت ایمان سے سب متصف ہوں گے، آئندہ سورت واقعہ میں سابقین اولین اور اصحاب یمین جنت میں جانے والی دو جماعتوں کا تذکرہ فرمایا ہے۔ مفسرین نے فرمایا ہے کہ پہلی دو جنتیں سابقین اولین کے لیے اور بعد والی دو جنتیں (جن کا یہاں ذکر ہو رہا ہے) اصحاب یمین کے لیے ہوں گی جو درجہ کے اعتبار سے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 46–78

اعزاز واکرام اہل ایمان بعطاء نعمتہائے عظام از رب ذی الجلال والاکرام : قال اللہ تعالیٰ (آیت ) ” ولمن خاف مقام ربہ جنتین ...... الی ....... ذی الجلل والاکرام “۔ (ربط) گذشتہ سلسلہ آیات کفار ومجرمین کی تنبیہ اور ان کی سزاؤں کے بیان پر مشتمل تھا ان آیات میں اہل ایمان اور مطیعین کی جزاؤں اور ان پر آخرت میں عطا کردہ نعمتوں اور راحتوں کا بیان ہے ارشاد فرمایا جارہا ہے۔ اور جو شخص بھی ڈرا اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے اس کیلئے دو باغ ہیں جنت کے عظیم الشان باغات میں سے جن کی نعمتیں اور راحتیں وہ ہیں کہ نہ کسی آنکھ نے دیکھیں اور نہ کسی کان نے سنیں اور نہ کسی انسان کے قلب و دماغ میں اس کا تصور ہوا ظاہر ہے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 62–67

22:۔ ومن دونہما جنتٰن “ یہاں بھی تثنیہ تکرار کے لیے ہے جیسا کہ ثم اجرع البصر کرتین۔ الایۃ (ملک رکوع 1) ۔ یعنی مذکورہ بالا باغوں کے علاوہ ان کو اور باغات بھی ملیں گے۔ ” مدھا متٰن “ ان باغوں کے درخت نہایت ہی سبز ہوں گے اور شدت رنگ کی وجہ سے سیاہی مائل نظر آئیں گے یہ ان کی شادابی کی دلیل ہوگی ای سوداوان من شدۃ الخضرۃ من الری (قرطبی ج 17 ص 185) ۔ ” نضا ختٰن “ ابلنے والے یعنی ان باغوں میں فواروں کی طرح چشم ابلتے ہوں گے۔ فوارتان بالماء لاینقطعان (مدارک ج 4 ص 161) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 62–78

ربطہ آیات سورة کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے مادی اور روحانی نعمتوں کا ذکر کیا ، پھر تکذیب کرنے والوں کی مذمت بیان فرمائی اور توحید کے دلائل بیان کیے۔ پھر قیامت کے محاسبے اور جزائے عمل کا ذکر فرمایا اور اسی سلسلے میں مجرموں اور نافرمانوں کا انجام بھی بیان کیا۔ اس کے بعد اللہ نے انسانوں اور جنوں دونوں گروہوں کے اہل ایمان کا دو حصوں میں ذکر فرمایا۔ پہلے حصے میں فرمایا ولمن خاف… الآیۃ جو شخص اپنے پروردگار کے سامنے کھڑا ہونے سے دنیا میں ڈر گیا اور ایمان اور تقویٰ کے راستہ پر چل نکلا ، فرمایا اس کے لیے دو بہشت ہیں۔ میں نے کل عرض کیا تھا کہ ایک تفسیر یہ بھی ہے کہ ایک بہشت انسان کے لیے ہے اور دوسرا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَبِاَيِّ اٰلَاۗءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ۝ 63 أيا أَيُّ في الاستخبار موضوع للبحث عن بعض الجنس والنوع وعن تعيينه، ويستعمل ذلک في الخبر والجزاء، نحو : أَيًّا ما تَدْعُوا فَلَهُ الْأَسْماءُ الْحُسْنى [ الإسراء/ 110] ، وأَيَّمَا الْأَجَلَيْنِ قَضَيْتُ فَلا عُدْوانَ عَلَيَّ [ القصص/ 28] ( ا ی ی ) ای ۔ جب استفہام کیلئے ہو تو جنس یا نوع کی تعیین اور تحقیق کے متعلق سوال کے لئے آتا ہے اور یہ خبر اور جزا کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے چناچہ فرمایا :۔ { أَيًّا مَا تَدْعُوا فَلَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى } ( سورة الإسراء 110) جس نام سے اسے پکارا اس کے سب نام اچھے ہیں { أَيَّمَا الْأَجَلَيْنِ قَضَيْتُ فَلَا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 62–78

ترکیب : جنتان مبتداء ومن دونہما خبر مدھا متان صفۃ لجنتان اوخبر مبتداء محذوف عینان موصوف نضاختان صفۃ الموصوف والصفۃ مبتداء فیہما خبرہ وقس علیہ مابعدہ۔ حور بدل من خیرات وقیل الخبر مخذوف ای فیھن حور۔ حال وذوالحال محذوف دل علیہ الضمیر فی قبلھم۔ رفرف فی معنی الجمع وقیل رفرفۃ خضر صفۃ والاکرام بالجر عطفا علی الجلال وقرأ ابن عامر بالرفع صفۃ للاسم۔ تفسیر : یہ اہل سعادت کے مقامات کی اور زیادہ تشریح ہے کہ ان خدا ترسوں کے لیے دو اور باغ ملیں گے جن کے اوصاف بعد میں بیان فرماتا ہے۔ کیا یہ چاروں جنت ایک کے لیے ہوں گی ؟ جمہور کے نزدیک وہ دو جنت ایک گروہ اہل سعادت کے لیے ہوں گی اور یہ دونوں دوسرے گروہ اہل…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 62–63

وَمِنْ دُوْنِہِمَا جَنَّتٰنِ ۔ فَبِاَیِّ اٰ لَآئِ رَبِّـکُمَا تُـکَذِّبٰنِ ۔ (الجن : 62، 63) (ان دو باغوں کے سوا اور بھی دو باغ ہوں گے۔ تو تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلائو گے۔ ) اصحابُ الیمین کی جنت دُوْنِہِمَا اس کا ایک معنی تو ہے ان دونوں کے علاوہ۔ اور دوسرا معنی ہے ان دونوں سے فروتر۔ معنی کے اسی فرق کی وجہ سے اس آیت کے مفہوم کے تعین میں دشواری ہورہی ہے، لیکن جب ہم سورة الواقعۃ کو دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو دو گروہوں میں تقسیم فرمایا ہے۔ ایک گروہ ہے السابقون کا۔ اور دوسرا گروہ ہے جنھیں اصحابُ الیمین اور اصحابُ المیمنۃ کہا گیا ہے۔ ایسا معلوم ہوا ہے کہ اس…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 56–63

فہم القرآن ربط کلام : جنت کی نعمتوں کا ذکر جاری ہے۔ جنت کی عورتوں کا حسن و جمال اور حیاء۔ جنت میں شرمیلی اور نیچی نگاہ رکھنے والی حوریں ہوں گی جنہیں جنتی سے پہلے کسی انسان اور جن نے نہیں چھوا ہوگا۔ جنت کی حوریں اتنی خوبصورت ہوں گی جسے یاقوت اور مرجان خوبصورت اور پرکشش ہوتے ہیں یاد رہے کہ یاقوت اپنی سرخی میں بےمثال ہوتا ہے اور مرجان اپنی سفیدی میں بےمثل سمجھا جاتا ہے۔ جنتی کو اس لیے خوبصورت عورتیں دی جائیں گی کیونکہ یہ دنیا میں اللہ کے حکم کے مطابق نیکیاں کرتے رہے اور ہر نیکی کا بدلہ احسان ہی ہونا چاہیے۔ جنت کی عورتوں کے بارے میں ارشاد ہوا ہے کہ انہیں انسانوں اور جنوں میں سے کسی نے چھوا نہیں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

63 : فَبِاَیِّ اٰلَآ ئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ۔ (پس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلائو گے)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

آیت ومن دونھما جنتن کی تفسیر 62 ۔” ومن دونھما جنتان “ یعنی پہلی دو جنتوں کے علاوہ دوسری دو جنتیں ہیں۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں ان دونوں سے درجہ میں کم اور ابن زید (رح) فرماتے ہیں ان سے مرتبہ میں بڑھ کر اور ابو موسیٰ اشعری ؓ فرماتے ہیں سونے کی دو جنتیں ہیں سبقت کرنے والوں کی اور چاندی کی دو جنتیں ہیں پیچھے آنے والوں کے لئے اور ابن جریج (رح) فرماتے ہیں وہ چار چنتیں ہیں دو جنتیں مقرب سبقت کرنے والوں کے لئے۔ اس میں ہر قسم کے میوئوں کی دو دو قسمیں ہیں اور دو جنتیں اصحاب یمین اور تابعین کے لئے۔ ” فیھما فاکھۃ ونخل ورمان “ ابوبکر بن عبداللہ بن قیس نے اپنے والد سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دو…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 62–71

62۔ 71۔ 1 ؎ ترمذی وغیرہ میں چند صحابہ سے جو روایتیں ہیں ان سے معلوم ہوتا کہ جنت کے سو درجے ہیں اور ہر درجہ کا فاصلہ دوسرے درجہ تک سو برس کے راستہ کا ہے ہر درجہ میں اس قدر گنجائش ہے کہ تمام دنیا کے لوگ ایک درجہ میں رہ سکتے ہیں جس جنت کا نام فردوس ہے وہ سب درجوں میں اعلیٰ درجہ کی جنت ہے۔ اسی واسطے آپ نے ان ہی روایتوں میں فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے جنت الفردوس کی خواہش کرنی چاہئے۔ میٹھے پانی کی اور شہد اور دودھ اور شراب کی نہریں اس جنت الفردوس سے جاری ہو کر اور جنتوں میں گئی ہیں صاحب مشکوٰۃ نے یہ جو لکھا 2 ؎ ہے کہ یہ حدیث صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں نہیں ہے۔ شاید صاحب مشکوٰۃ کا مطلب یہ ہے کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 62–65

(وَمِنْ دُوْنِهِمَا جَنَّتٰنِ ) اور ان دو کے علاوہ دو اور جنتیں ہیں۔ یہ جنتیں چاندی سے تعمیر کی گئی ہوں گی ان کے برتن، زیورات اور ان کے اندر موجود دیگر چیزیں چاندی سے بنی ہوں گی اور یہ سب کچھ اصحاب یمین کے لیے ہوگا یہ جنتین گہری سبز ہونے اور اپنی سیرابی کی وجہ سے سیاہ نظر آئیں گی۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 37–67

آسمان کا سرخ ہونا قول باری ہے (فاذا انشقت السمآء فکانت وردۃ کالدھان، پس جب آسمان پھٹ جائے گا اور وہ لال چمڑے کی طرح سرخ ہوجائے گا) روایت ہے آسمان سرخ ہوکر روغن کی طرح پگھل جائے گا۔ ایک روایت کے مطابق آسمان دنیا لوہے کا ہے جب قیامت کا دن ہوگا تو اس کا نیلا رنگ جہنم کی آگ کی گرمی کی وجہ سے سرخ رنگ میں تبدیل ہوجائے گا جس طرح لوہے کو آگ پر تپانے کی صورت میں اس کا رنگ سرخ ہوجاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 62–63

[ 52] اہل جنت کیلئے دو اور باغوں کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان دو کے علاوہ دو جنتیں اور بھی ہونگی۔ یہ لفظ " دون " کا ایک معنی ہے۔ جب کہ اس کا دوسرا معنی اس سے کم اور نیچے کا بھی آتا ہے۔ سو پہلی صورت میں معنی یہ ہوگا کہ اللہ سے ڈرنے والے ان اہل جنت کے لئے مذکورہ بالا دو جنتوں کے علاوہ دو باغ اور بھی ہوں گے، اور دوسری صورت میں اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ان کے لئے اس سے کم اور نیچے درجے کے دو باغ اور بھی ہوں گے، یعنی پہلے دو باغ تو مقربین کے لئے ہوں گے، اور دوسرے دو باغ اصحاب یمین کے لئے جیسا کہ آگے سورة واقعہ میں آرہا ہے اور جیسا کہ صحیحین کی روایت میں ہے کہ دو باغوں کے برتن اور دوسرا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 46–78

نیک لوگوں کا اچھا انجام تشریح :۔ آیت نمبر 46 کی وضاحت ہم اس حدیث مقدسہ سے کرتے ہیں۔ حضرت عائشہ ؓ نے پوچھا ' یا رسول اللہ ﷺ ! کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص چوری، زنا اور شراب نوشی کرتے ہوئے اللہ سے ڈرے ؟ فرمایا نہیں اے صدیق کی بیٹی ! اس سے مراد وہ شخص ہے جو نماز پڑھتا ہے، روزے رکھتا ہے، زکوٰۃ دیتا ہے اور پھر خدائے عزو جل سے ڈرتا رہتا ہے '۔ (از شعور حیات مصنف محمد یوسف اصلاحی) یعنی گناہ سے پہلے ڈرنا۔ حضرت حسن بصری ؓ کا قول ہے 5 چیزیں قساوت قلب کا نشان ہیں (1) توبہ کی امید پر گناہ کرنا (2) عمل کرنا بغیراخلاص کے (3) علم سیکھنا اور عمل نہ کرنا (4) رزق کھانا اور شکر نہ کرنا (5) مردوں کو دفن کرنا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 46–78

آیات 46 تا 48۔ اسرار ومعارف۔ جو کوئی اپنے پروردگار کے سامنے پیش ہوکرجوابدہی سے ڈرتا ہے اور یوں اس کی نافرمانی نہیں کرتا یہ وصف اللہ کے خاص بندوں اور اہل اللہ کا ہے جنہیں آخرت مستحضر رہتی ہے یعنی ہر حال میں اللہ کے سامنے پیش ہونے کامراقبہ دائمی رہتا ہے توخلوص دل سے اطاعت کا سبب بن جاتا ہے ایسے لوگوں کے لیے ہر ایک کے واسطے دو باغ ہیں دودوجنتیں ہیں بھلاکس کس انعام کا شکر ادا نہ کرو گے دونوں بہت گھنے اور بہت آباد ہوں گے تو کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے جبکہ ان باغات میں ابلتے چشموں کا پانی جاری ہوگا ، حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ آب رواں کو جنتی جدھر کو کہے گا ادھر چلنا شروع کردے گا تم کس کس نعمت کا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 63–66

ف 1 میں ان میں ہر آن نواے کی طرف پانی ابل رہا ہے اور وہ کبھی خشک نہیں ہوتے

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 46–78

لغات القرآن آیت نمبر 46 تا 78 ذواتا افنان بہت شاخوں والے۔ بطائن (بطن) استر، پیٹ۔ استبرق سبز ریشم دان قریب قریب۔ قصرت روکنے والیاں۔ لم یطمت ہاتھ نہ لگایا ہوگا۔ مدھآ متن دو گہرے سبز۔ نضاختن دو چشمے جوش مارتے ہوئے۔ رمان انار ۔ خیرات بہت عمدہ۔ حسان خوبصورت و حسین۔ الخیام خیمے۔ رفرق مسند، مسہریاں۔ عبقری قیمتی۔ تبرک برکت والا۔ الاکرام بہت بزرگی اور عظمت والا۔ تشریح : آیت نمبر 46 تا 79 اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ ہے کہ وہ تقویٰ ، پرہیز گاریوں اور نیکیوں کے ساتھ زندگی گذارنے والوں کو اجر عظیم عطا فرمائے گا۔ چناچہ کفار و مشرکین اور گناہگار مجرموں کی سزا کو بیان کرنے کے بعد ان صالح مومنین کے لئے اجر عظیم کا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 63–78

قیامت کے انکار کا جواب۔ (ف 1) نہایت بزرگ بابرکت نام ہے تیرے رب کا جوصاحب بزرگی ومہربانی کا ہے ان بندو پر جو اس سے ڈرتے ہیں اور اس کا اور اس کے رسول کا حکم بخوشی بجالاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 62–76

[15] سورة واقعہ میں نیک انسانوں کی دو قسمیں بیان ہوئی ہیں، مقربین اور اصحاب الیمین اس لئے ان دونوں کے لئے باغوں کے اوصاف الگ الگ ارشاد ہوئے ہیں۔ پہلے دو باغ مقربین کے لئے تھے اور یہ دو باغ اصحاب الیمین کے لئے۔ احادیث سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 61–78

ف 3: برکت کے معنے عربی میں تین ہیں ۔ دوام و ثبوت ، فیوض اور علوم وارتقاع ، اور اللہ کی نسبت جب کہا جائے گا ۔ کہ وہ بابرکت ذات ہے ۔ تو اس کے معنے یہ ہوں گے ۔ کہ وہ خوددائمی ہے ۔ اس کے فیوض رحمانیت دائمی ہیں ۔ اور وہ کائنات سے بامین اور بلند ہے ۔ حل لغات :۔ خیرات ۔ یعنی وہ عورتیں صورت اور سیرت کے لحاظ سے دنیا کی عورتوں سے کہیں بہتر اور اعلیٰ ہونگی ۔ ان کے ہر کام میں حسن نمایاں ہوگا ۔ ہر عادت میں نیکی اور خیر سگالی کا اظہار ہوگا ۔ مقصورات فی الخیام ۔ کے معنے یہ ہیں ۔ کہ وہ نازونعمت کی زندگی بسرکرینگی ۔ اور عزت ووقار کے ساتھ خیموں میں رہیں گی زفرف ۔ بھیڑ ۔ شجر ۔ جامہائے سبزہ فرش ، خیمہ ۔ بالش…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 63–78

ف 4۔ نام سے مراد صفات جو کہ ذات کے غیر نہیں، پس حاصل جملہ کا ثناء ہوئی کمال ذات وصفات کے ساتھ، اور شاید لفظ اسم بڑھانے سے مقصود مبالغہ ہو کہ مسمی تو کیسا کچھ کامل اور بابرکت ہوگا، اس کا تو اسم بھی مبارک اور کامل ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

پھر تم دونوں اپنے پروردگار کی کن کن قدرتوں کا انکار کرو گے 36 یہ وہی ترجیع پھر بیان کردی گئی ہے جس کا ذکر آیت 31 سے مسلسل چلتا نظر آرہا ہے اور اس کی وضاحت ہم آیت 31 کے بعد علاوہ ازیں بہت سے مقامات پر کرچکے ہیں اس لیے آپ پیچھے ہی سے اس مضمون کو دیکھ لیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 60–63

هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ (Is there any reward for goodness other than goodness?...55:60). Having described the two Gardens for the intimate believers, it is declared as a principle that a good deed attracts a good reward. The righteous believers will be blessed, therefore, with good rewards.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 62–63

49 The word dun as used in min dun-i-hima Jannatan. is employed in three different meanings in Arabic (1) To be situated at a lower level than another thing; (2) to be inferior to something of better and nobler quality; and (3) to be over and above something else. On account of this difference in meaning, one probable meaning of these words is that every dweller of Paradise will be given two more gardens besides the two previously mentioned; another probable meaning is that these two gardens will be inferior in quality and rank to both the tirst mentioned gardens: that is, the tirst two…

Read the full tafseer →