مُدْهَآمَّتٰنِ ۟ۚمُدۡهَآمَّتٰنِۚ
دونوں خوب گہرے سبز
— Fateh Muhammad Jalandhari
Dark green [in color].
— Saheeh International
Juz 27 · Ruku 3 of surah · Ruku 13 of juz
مُدْهَآمَّتٰنِ ۟ۚمُدۡهَآمَّتٰنِۚ
دونوں خوب گہرے سبز
— Fateh Muhammad Jalandhari
Dark green [in color].
— Saheeh International
Juz 27 · Ruku 3 of surah · Ruku 13 of juz
Read the whole surah · Surah Ar-Rahmaan
گھنے سرسبز و شاداب باغ
دونوں خوب گہرے سبز
جو دونوں گہری سبز سیاہی مائل ہیں
دونوں سبزے کی کثرت سے سیاہی کی طرف مائل
نہایت سبزی سے سیاہی کی جھلک دے رہی ہیں،
وہ دونوں گہری سبز رنگت میں سیاہی مائل لگتی ہیں،
دونوں سیاہی مائل گہرے سبز ہیں۔
یہ دونوں گہرے سبز ہوں گے
دونوں سبزی سے سیاہی مائل ،
وہ دونوں گہرے سبز ہوں گے
دونوں گہرے سبز رنگ کے
دونوں گہرے سبز رنگ کی ہوں گی۔
دونوں خوب گہرے سبز
Two Gardens, dark green and fresh.
__ both (gardens are) dark green!
__ both (gardens are) dark green!
Mudhammatan.
Dark green with foliage.
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
Dark green [in color].
- dark green in color.
Both inclining to blackness.
Dark-green.
Dark-green in colour (from plentiful watering).
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 62–78
اصحاب یمین اور مقربین یہ دونوں جنتیں ہیں جن کا ذکر ان آیتوں میں ہے ان جنتوں سے کم مرتبہ ہیں جن کا ذکر پہلے گذرا اور وہ حدیث بھی بیان ہوچکی جس میں ہے دو جنتیں سونے کی اور دو چاندی کی۔ پہلی دو تو مقربین خاص کی جگہ ہیں اور یہ دوسری دو اصحاب یمین کی الغرض درجے اور فضیلت میں یہ دو ان دو سے کم ہیں جس کی دلیلیں بہت سی ہیں ایک یہ کہ ان کا ذکر اور صف ان سے پہلے بیان ہوئی اور یہ تقدیم بیان بھی دلیل ہے ان کی فضیلت کی، پھر یہاں آیت (وَمِنْ دُوْنِهِمَا جَنَّتٰنِ 62ۚ) 55۔ الرحمن :62) فرمانا صاف ظاہر کرتا ہے کہ یہ ان سے کم مرتبہ ہیں وہاں ان کی تعریف میں آیت (ذَوَاتَآ اَفْنَانٍ 48ۚ) 55۔ الرحمن :48) یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–71
سورة الرَّحْمٰن 50 ان باغوں کی تعریف میں لفظ مُدْھَا مَّتَان استعمال فرمایا گیا ہے۔ مُدْھَامَّۃ ایسی گھنی سرسبزی کو کہتے ہیں جو انتہائی شادابی کے باعث سیاہی مائل ہوگئی ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–69
مُدْهَاۗمَّتٰنِ ، گہری سبزی کی وجہ سے جو سیاہی جھلکنے لگتی ہے اس کو ادہمام کہا جاتا ہے، مراد یہی ہے کہ ان دونوں باغوں کی سر سبزی ان کے سیاہی مائل ہونے کا سبب ہوگی، یہ صفت اگرچہ پہلے دو باغوں میں ذکر نہیں کی گئی ہے مگر اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ ان میں یہ صفت نہ ہو، بلکہ ذَوَاتَآ اَفْنَانٍ جو وہاں کی صفت بتلائی ہے، اس میں مدہامتان کی صفت بھی شامل ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–65
(مدھا متن فبای الا ربکما تکذبن (64۔ 65) یعنی انکی سربزی کا حال یہ ہوگا کہ وہ مائل بہ سیاہی ہوجائے گی۔ شاداب باغ کا سب سے زیادہ خوبصورت رنگ یہی ہوتا ہے۔ اس کے بعد آیت ترجیح ہے جس کا موقع و محل بالکل واضح ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–64
64۔ 1 کثر سیرابی اور سبزے کی فروانی کی وجہ سے وہ مائل بہ سیاہی ہوں گے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–71
11: سبزہ جب خوب گھنا اور گہرا ہوجائے تو وہ دور سے سیاہی مائل نظر آتا ہے یہ اسی کیفیت کی طرف اشارہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–65
مدھامتن (55:4 6) ” گھنے ، سرسبز اور شاداب باغ “ یعنی ایسے سبز جو سیاہی مائل ہوں گے کیونکہ وہ گھنے ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–64
7 سبزی جب زیادہ گہری ہوتی ہے تو سیاہی مائل ہوجاتی ہے۔
Read the full tafseer →آیت 64{ مُدْہَآمَّتٰنِ۔ } ”دونوں گہرے سبز رنگ کی ہوں گی۔“ ان دو نوں جنتوں کا رنگ سیاہی مائل سبز ہوگا۔ یعنی بہت گھنی اور سرسبز و شاداب۔ اس رنگ کے ذکر کی توجیہہ آگے آیت 68 کے ضمن میں بیان کی گئی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–64
40 مُدْھَامَّتٰنِ : دَھَمٌ بمعنی کسی چیز کا تاریکی میں ڈھک جانا۔ کہتے ہیں دَھَمَتِ النَّارُ الْقَدَرَ یعنی آگ نے ہنڈیا کو سیاہ کردیا۔ اس آیت میں مفہوم یہ ہے کہ ان دونوں باغوں کے درختوں کے پتے اتنے گہرے سبز ہوں گے جیسے سیاہ ہو رہے ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–70
34۔ جنت کی مادی نعمتوں کا بیان اجمالا نہیں۔ بلکہ ایک ایک جزئیہ کی صراحت کے ساتھ ہورہا ہے۔ (آیت) ” فیھن “۔ ضمیر ھن سے مراد یہ ہے کہ ان باغوں، چمنوں، گلشنوں کے اندر جو آراستہ و پیراستہ کوٹھیاں بنگلے، حویلیاں، محل سرائیں ہوں گی، ان میں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–78
ترجمہ : اور اس شخص کے لئے یعنی ان میں سے ہر ایک کے لئے یا دونوں کے مجموعہ کے لئے جو اپنے رب کے روبرو حساب کے لئے کھڑے ہونے سے ڈرا اور اس نے اس کی نافرمانی ترک کردی دو باغ ہیں سو تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کا انکار کرو گے ؟ (دونوں باغ) کثیر شاخوں والے (گھنے) ہوں گے ذواتا، ذوات کا تثنیہ ہے اصل کے مطابق اور اس کا لام یاء ہے، افنان، فنن کی جمع ہے (جیسا کہ) اطلال، طلل کی جمع ہے، سو تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کے منکر ہوجائو گے ؟ (دونوں باغ) کثیر شاخوں والے (گھنے) ہوں گے ذواتا، ذوات کا تثنیہ ہے اصل کے مطابق اور اس کا لام یاء ہے، افنان، فنن کی جمع ہے (جیسا کہ) اطلال، طلل کی جمع ہے، سو تم…
Read the full tafseer →مدھا متن ” وہ دونوں باغ گہرے (سر) سبز ہوں گے۔ مُدْھَآمَّتٰنِ : اتنے سبز کہ انتہائی سبزی کی وجہ سے مائل بہ سیاہی ہوجائیں۔ یہ آیت دلالت کر رہی ہے کہ ان دونوں باغوں میں سبزی اور زمین پر پھیلی ہوئی بیلوں کی کثرت ہوگی ‘ جس طرح اوّ ل الذکر دونوں باغوں میں درختوں اور پھلوں کی فراوانی ہوگی اور ظاہر ہے کہ اول الذکر باغوں کو مؤخر الذکر باغوں پر اسی وجہ سے برتری ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–65
(64۔ 65) اور یہ دونوں باغ گہرے سبز ہوں گے سو اے جن و انس تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمتوں کا انکار کرو گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–65
مُدْہَآ مَّـتٰنِ :”ادھم یدھم ادھماماً“ (افعلال) سیاہ ہونا اور ”ادھام یدھام ادھماماً“ (افعیلال) بہت سیاہ ہونا۔ یعنی وہ دونوں باغ گہرے سبز ہوں گے جیسے بہت سیاہ ہوں۔ پہلے دو باغوں میں شاخوں اور پتوں کی کثرت کا ذکر ہے جن کے ضمن میں ان کا گہرا سبز ہونا خود بخود آجاتا ہے اور یہاں صرف ان کے گہرے سبز رنگ کا ذکر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–65
ومن دونھما جنتان۔ یعنی ان کے لئے ان پہلی دو جنتوں کے علاوہ دو اور جنتیں بھی ہیں حضرت ابن عباس ؓ نے کہا ان دونوں سے درجہ کم ہوں گی ابن زید نے کہا : فضلیت میں کم ہوں گی۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : یہ تمام جنتی اس کے لئے ہیں جو اپنے رب کے حضور کھڑا ہونے سے ڈرا پہلی دو جنتوں میں کھجور کے اور دوسرے درخت ہوں گے اور دوسری دو میں کھیتیاں اور نباتات ہوں گی اور جو اسے نوش کریں گی ماوردی نے کہا : یہ بھی احتمال موجود ہے (1) سے مراد ایسی جنتیں ہیں جو ان کے پیرو کاروں کے لئے ہوں کیونکہ پیروکاروں کا مرتبہ اس سے کم ہوتا ہے ان میں سے ایک جنت (باغ) حورعین کے لئے اور دوسرا باغ ایسے بچوں کے لئے ہوگا جو ہمیشہ بچے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–65
41:۔ ھناد وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) وابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' مدھآمتن '' (گہرے سبز) یعنی وہ دونوں (باغ) سرسبز و شاداب ہیں۔ 42:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' مدھآمتن '' سے مراد ہے کہ وہ دونوں باغ اس سرسبزی کی وجہ سے سیاہ ہونے والے ہیں جو پانی کی کثرت کی وجہ سے ہوتی ہے۔ دوسرسبز تروتازہ باغ : 43:۔ الفریابی ابن ابی شیبہ وھناد وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے عبداللہ بن زبیر ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' مدھآمتن '' سے مراد ہے کہ دونوں باغ سرسبز ہیں تروتازگی کی وجہ سے۔ 44:۔ الطبرانی وابن مردویہ (رح) نے ابوایوب ؓ…
Read the full tafseer →مُدْهَاۗمَّتٰنِ [(یہ دونوں باغ) سیاہی مائل سبز ہیں ] د ھ م : (ف ، س) دھما ۔ اچانک آگرنا ، دھم سے آپڑنا ۔ (تفعیل ) تدھیما آگ کا ہانڈی کو سیاہ کرنا ۔ (افعلال ) ادھماما ۔ سیاہی مائل ہوجانا ۔ مدھام ۔ اسم الفاعل ہے۔ سیاہی مائل ہوجانے والا (ایسے گہرے سبز رنگ کیلیے آتا ہے جو سیاہی مائل ہوگیا ہو ) زیرمطالعہ آیت ۔ 64 ۔ نوٹ۔ 1: آیت ۔ 46 ۔ میں دو جنتوں کے سوا اب آیت ۔ 62 ۔ میں دو اور جنتوں کا ذکر ہے جو اپنی خصوصیات کے اعتبار سے مذکورہ جنتوں کے ساتھ اشتراک بھی رکھتی ہیں اور بعض اعتبار سے ان سے مختلف بھی ہیں ۔ ان کے متعلق یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان دونوں قسم کی جنتوں کے حقدار ایک ہی قسم کے لوگ ہوں گے یا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–65
لفظ مُدْهَآمَّتٰنِكی تحقیق : مُدْهَآمَّتٰنِۚ0064 (یہ دونوں جنتیں بہت گہرے سبز رنگ والی ہوں گی) یہ کلمہ لفظ ادھیمام باب افعیلال سے اسم فاعل مونث کا تثنیہ کا صیغہ ہے جو لفظ دھمة سے مشتق ہے۔ دھمت سیاسی کو کہتے ہیں جب سبزی بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے تو سیاہی کی طرف مائل ہوجاتی ہے اس لیے مُدْهَآمَّتٰنِ فرمایا جس کا ترجمہ سبز گہرے رنگ کا کیا گیا، قرآن مجید میں یہی ایک آیت ہے جو کلمہ واحدہ پر مشتمل ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–78
اعزاز واکرام اہل ایمان بعطاء نعمتہائے عظام از رب ذی الجلال والاکرام : قال اللہ تعالیٰ (آیت ) ” ولمن خاف مقام ربہ جنتین ...... الی ....... ذی الجلل والاکرام “۔ (ربط) گذشتہ سلسلہ آیات کفار ومجرمین کی تنبیہ اور ان کی سزاؤں کے بیان پر مشتمل تھا ان آیات میں اہل ایمان اور مطیعین کی جزاؤں اور ان پر آخرت میں عطا کردہ نعمتوں اور راحتوں کا بیان ہے ارشاد فرمایا جارہا ہے۔ اور جو شخص بھی ڈرا اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے اس کیلئے دو باغ ہیں جنت کے عظیم الشان باغات میں سے جن کی نعمتیں اور راحتیں وہ ہیں کہ نہ کسی آنکھ نے دیکھیں اور نہ کسی کان نے سنیں اور نہ کسی انسان کے قلب و دماغ میں اس کا تصور ہوا ظاہر ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–67
22:۔ ومن دونہما جنتٰن “ یہاں بھی تثنیہ تکرار کے لیے ہے جیسا کہ ثم اجرع البصر کرتین۔ الایۃ (ملک رکوع 1) ۔ یعنی مذکورہ بالا باغوں کے علاوہ ان کو اور باغات بھی ملیں گے۔ ” مدھا متٰن “ ان باغوں کے درخت نہایت ہی سبز ہوں گے اور شدت رنگ کی وجہ سے سیاہی مائل نظر آئیں گے یہ ان کی شادابی کی دلیل ہوگی ای سوداوان من شدۃ الخضرۃ من الری (قرطبی ج 17 ص 185) ۔ ” نضا ختٰن “ ابلنے والے یعنی ان باغوں میں فواروں کی طرح چشم ابلتے ہوں گے۔ فوارتان بالماء لاینقطعان (مدارک ج 4 ص 161) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–78
ربطہ آیات سورة کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے مادی اور روحانی نعمتوں کا ذکر کیا ، پھر تکذیب کرنے والوں کی مذمت بیان فرمائی اور توحید کے دلائل بیان کیے۔ پھر قیامت کے محاسبے اور جزائے عمل کا ذکر فرمایا اور اسی سلسلے میں مجرموں اور نافرمانوں کا انجام بھی بیان کیا۔ اس کے بعد اللہ نے انسانوں اور جنوں دونوں گروہوں کے اہل ایمان کا دو حصوں میں ذکر فرمایا۔ پہلے حصے میں فرمایا ولمن خاف… الآیۃ جو شخص اپنے پروردگار کے سامنے کھڑا ہونے سے دنیا میں ڈر گیا اور ایمان اور تقویٰ کے راستہ پر چل نکلا ، فرمایا اس کے لیے دو بہشت ہیں۔ میں نے کل عرض کیا تھا کہ ایک تفسیر یہ بھی ہے کہ ایک بہشت انسان کے لیے ہے اور دوسرا…
Read the full tafseer →مُدْہَاۗمَّتٰنِ 64 ۚ دهم الدُّهْمَة : سواد اللیل، ويعبّر بها عن سواد الفرس، وقد يعبّر بها عن الخضرة الکاملة اللّون، كما يعبّر عن الدُّهْمَة بالخضرة إذا لم تکن کاملة اللّون، وذلک لتقاربهما باللون . قال اللہ تعالی: مُدْهامَّتانِ [ الرحمن/ 64] ، وبناؤهما من الفعل مفعالّ ، يقال : ادهامّ ادهيماما، قال الشاعر في وصف اللیل : في ظلّ أخضر يدعو هامه البوم ( د ھ م ) الدھمۃ ۔ کے اصل معنی تورات کی سیاہی کے ہیں اور یہ لفظ گھوڑے کی سیاہی پر بولا جاتا ہے ۔ کبھی اس سے نہایت گہرا سبز رنگ مراد ہوتا ہے جیسا کہ ہلکے سیاہ رنگ کو خضرۃ سے تعبیر کرلیتے ہیں ۔ کیونکہ یہ دونوں قسم کی رنگت قریبا ملتی جلتی سی ہوتی ہے ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–78
ترکیب : جنتان مبتداء ومن دونہما خبر مدھا متان صفۃ لجنتان اوخبر مبتداء محذوف عینان موصوف نضاختان صفۃ الموصوف والصفۃ مبتداء فیہما خبرہ وقس علیہ مابعدہ۔ حور بدل من خیرات وقیل الخبر مخذوف ای فیھن حور۔ حال وذوالحال محذوف دل علیہ الضمیر فی قبلھم۔ رفرف فی معنی الجمع وقیل رفرفۃ خضر صفۃ والاکرام بالجر عطفا علی الجلال وقرأ ابن عامر بالرفع صفۃ للاسم۔ تفسیر : یہ اہل سعادت کے مقامات کی اور زیادہ تشریح ہے کہ ان خدا ترسوں کے لیے دو اور باغ ملیں گے جن کے اوصاف بعد میں بیان فرماتا ہے۔ کیا یہ چاروں جنت ایک کے لیے ہوں گی ؟ جمہور کے نزدیک وہ دو جنت ایک گروہ اہل سعادت کے لیے ہوں گی اور یہ دونوں دوسرے گروہ اہل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–65
مُدْھَآمَّتٰنِ ۔ فَبِاَیِّ اٰ لَآئِ رَبِّـکُمَا تُـکَذِّبٰنِ ۔ (الجن : 64، 65) (گھنے سرسبز و شاداب باغ۔ تم اپنے رب کے کن کن انعامات کو جھٹلائو گے۔ ) گزشتہ آیت میں جن باغوں کا ذکر ہے ان کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ وہ انتہائی گھنے اور سرسبز ہوں گے۔ حتیٰ کہ ان کی سرسبزی سیاہی مائل ہوچکی ہوگی۔ مُدْھَآمّۃٌایسی گھنی سرسبزی کو کہتے ہیں جو انتہائی شادابی کے بعد سیاہی مائل ہوگئی ہو۔ اور کسی بھی شاداب باغ کا سب سے خوبصورت رنگ یہی ہوتا ہے۔ اس کے بعد آیت ترجیع ہے جو موقع و محل کے اعتبار سے بالکل واضح ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–77
فہم القرآن ربط کلام : جنت کی بیویوں کا ذکر کرنے کے بعد جنت کی بہاروں اور اس کے باغات کا ذکر۔ اسی سورت کی آیت 46 میں دو جنتوں کا ذکر کیا گیا۔ اب دو اور جنتوں کا ذکر کیا جاتا ہے جن کے لیے ” دُوْنَ “ کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔ عربی زبان میں ” دُوْنَ “ کا لفظ کئی معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ 1۔ اعلیٰ کے مقابلے میں حقیر۔ 2۔ ایک کے علاوہ سب کی نفی ہو جس طرح قرآن مجید میں ” من دون اللّٰہ “ یا ” من دونہٖ “ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ 3۔ یہاں ذکر ہونے والی دو جنتوں کے لیے ” دُوْنَ “ کا لفظ استعمال فرمایا ہے جس کا اہل تفسیر نے یہی معنٰی لیا ہے کہ یہ پہلی دو جنتوں سے نسبتاً کم درجے کی جنتیں ہوں گی۔ گویا کہ…
Read the full tafseer →64 : مُدْھَآ مَّتٰنِ (وہ دونوں باغ گہرے سرسبز ہونگے) انتہائی سبز ہونے کی وجہ سے وہ سیاہ معلوم ہونگے۔ قولِ خلیل۔ : الدھمۃ : سیاہی کو کہتے ہیں۔
Read the full tafseer →63 ۔” فبای آلاء ربکما تکذبن۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–71
62۔ 71۔ 1 ؎ ترمذی وغیرہ میں چند صحابہ سے جو روایتیں ہیں ان سے معلوم ہوتا کہ جنت کے سو درجے ہیں اور ہر درجہ کا فاصلہ دوسرے درجہ تک سو برس کے راستہ کا ہے ہر درجہ میں اس قدر گنجائش ہے کہ تمام دنیا کے لوگ ایک درجہ میں رہ سکتے ہیں جس جنت کا نام فردوس ہے وہ سب درجوں میں اعلیٰ درجہ کی جنت ہے۔ اسی واسطے آپ نے ان ہی روایتوں میں فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے جنت الفردوس کی خواہش کرنی چاہئے۔ میٹھے پانی کی اور شہد اور دودھ اور شراب کی نہریں اس جنت الفردوس سے جاری ہو کر اور جنتوں میں گئی ہیں صاحب مشکوٰۃ نے یہ جو لکھا 2 ؎ ہے کہ یہ حدیث صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں نہیں ہے۔ شاید صاحب مشکوٰۃ کا مطلب یہ ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–65
(وَمِنْ دُوْنِهِمَا جَنَّتٰنِ ) اور ان دو کے علاوہ دو اور جنتیں ہیں۔ یہ جنتیں چاندی سے تعمیر کی گئی ہوں گی ان کے برتن، زیورات اور ان کے اندر موجود دیگر چیزیں چاندی سے بنی ہوں گی اور یہ سب کچھ اصحاب یمین کے لیے ہوگا یہ جنتین گہری سبز ہونے اور اپنی سیرابی کی وجہ سے سیاہ نظر آئیں گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–67
آسمان کا سرخ ہونا قول باری ہے (فاذا انشقت السمآء فکانت وردۃ کالدھان، پس جب آسمان پھٹ جائے گا اور وہ لال چمڑے کی طرح سرخ ہوجائے گا) روایت ہے آسمان سرخ ہوکر روغن کی طرح پگھل جائے گا۔ ایک روایت کے مطابق آسمان دنیا لوہے کا ہے جب قیامت کا دن ہوگا تو اس کا نیلا رنگ جہنم کی آگ کی گرمی کی وجہ سے سرخ رنگ میں تبدیل ہوجائے گا جس طرح لوہے کو آگ پر تپانے کی صورت میں اس کا رنگ سرخ ہوجاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–67
[ 53] ان دونوں باغوں کی سرسبزی کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ دونوں سخت گہرے سبز ہوں گے اور ایسے گہرے سبز کہ اپنے سبزے کی بنا پر سیاہ نظر آئیں گے۔ کیونکہ سبزہ جب زیادہ گہرا ہوتا ہے تو وہ سیاہی مائل ہوجاتا ہے [ ابن کثیر، قرطبی، مراغی، وغیرہ ] سو اس سے ان دونوں باغوں کی سرسبزی اور شادابی کا حال بیان فرمایا گیا ہے اور شاداب باغ کا سب سے زیادہ خوبصورت اور عمدہ رنگ یہی ہوتا ہے، حضرت ابو ایوب انصاری ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور ﷺ سے۔ [ مدھامتان ] کے بارے میں پوچھا۔ یعنی اس لفظ کے معنی کے بارے میں سوال کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا " خضراوان " یعنی " اس سے مراد دو سرسبز باغ ہیں "۔ [ المراغی وغیرہ ]…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–78
نیک لوگوں کا اچھا انجام تشریح :۔ آیت نمبر 46 کی وضاحت ہم اس حدیث مقدسہ سے کرتے ہیں۔ حضرت عائشہ ؓ نے پوچھا ' یا رسول اللہ ﷺ ! کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص چوری، زنا اور شراب نوشی کرتے ہوئے اللہ سے ڈرے ؟ فرمایا نہیں اے صدیق کی بیٹی ! اس سے مراد وہ شخص ہے جو نماز پڑھتا ہے، روزے رکھتا ہے، زکوٰۃ دیتا ہے اور پھر خدائے عزو جل سے ڈرتا رہتا ہے '۔ (از شعور حیات مصنف محمد یوسف اصلاحی) یعنی گناہ سے پہلے ڈرنا۔ حضرت حسن بصری ؓ کا قول ہے 5 چیزیں قساوت قلب کا نشان ہیں (1) توبہ کی امید پر گناہ کرنا (2) عمل کرنا بغیراخلاص کے (3) علم سیکھنا اور عمل نہ کرنا (4) رزق کھانا اور شکر نہ کرنا (5) مردوں کو دفن کرنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–78
آیات 46 تا 48۔ اسرار ومعارف۔ جو کوئی اپنے پروردگار کے سامنے پیش ہوکرجوابدہی سے ڈرتا ہے اور یوں اس کی نافرمانی نہیں کرتا یہ وصف اللہ کے خاص بندوں اور اہل اللہ کا ہے جنہیں آخرت مستحضر رہتی ہے یعنی ہر حال میں اللہ کے سامنے پیش ہونے کامراقبہ دائمی رہتا ہے توخلوص دل سے اطاعت کا سبب بن جاتا ہے ایسے لوگوں کے لیے ہر ایک کے واسطے دو باغ ہیں دودوجنتیں ہیں بھلاکس کس انعام کا شکر ادا نہ کرو گے دونوں بہت گھنے اور بہت آباد ہوں گے تو کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے جبکہ ان باغات میں ابلتے چشموں کا پانی جاری ہوگا ، حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ آب رواں کو جنتی جدھر کو کہے گا ادھر چلنا شروع کردے گا تم کس کس نعمت کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–66
ف 1 میں ان میں ہر آن نواے کی طرف پانی ابل رہا ہے اور وہ کبھی خشک نہیں ہوتے
Read the full tafseer →(55:64) مدھامتن اسم فاعل تثنیہ مؤنث اسھیمام (افعیلال) ۔ مصدر۔ واحد مدھامۃ۔ دو گہری سبز (جنتیں) ادھیمام کے اصل معنی بہت زیادہ سیاہ ہونا کے ہیں۔ چونکہ انتہائی سرسبز و شاداب باغ سیاہی مائل ہوتا ہے اس لئے یہ تعبیر کی گئی یہ جنتن کی صفت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–78
لغات القرآن آیت نمبر 46 تا 78 ذواتا افنان بہت شاخوں والے۔ بطائن (بطن) استر، پیٹ۔ استبرق سبز ریشم دان قریب قریب۔ قصرت روکنے والیاں۔ لم یطمت ہاتھ نہ لگایا ہوگا۔ مدھآ متن دو گہرے سبز۔ نضاختن دو چشمے جوش مارتے ہوئے۔ رمان انار ۔ خیرات بہت عمدہ۔ حسان خوبصورت و حسین۔ الخیام خیمے۔ رفرق مسند، مسہریاں۔ عبقری قیمتی۔ تبرک برکت والا۔ الاکرام بہت بزرگی اور عظمت والا۔ تشریح : آیت نمبر 46 تا 79 اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ ہے کہ وہ تقویٰ ، پرہیز گاریوں اور نیکیوں کے ساتھ زندگی گذارنے والوں کو اجر عظیم عطا فرمائے گا۔ چناچہ کفار و مشرکین اور گناہگار مجرموں کی سزا کو بیان کرنے کے بعد ان صالح مومنین کے لئے اجر عظیم کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–78
قیامت کے انکار کا جواب۔ (ف 1) نہایت بزرگ بابرکت نام ہے تیرے رب کا جوصاحب بزرگی ومہربانی کا ہے ان بندو پر جو اس سے ڈرتے ہیں اور اس کا اور اس کے رسول کا حکم بخوشی بجالاتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–76
[15] سورة واقعہ میں نیک انسانوں کی دو قسمیں بیان ہوئی ہیں، مقربین اور اصحاب الیمین اس لئے ان دونوں کے لئے باغوں کے اوصاف الگ الگ ارشاد ہوئے ہیں۔ پہلے دو باغ مقربین کے لئے تھے اور یہ دو باغ اصحاب الیمین کے لئے۔ احادیث سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–78
ف 3: برکت کے معنے عربی میں تین ہیں ۔ دوام و ثبوت ، فیوض اور علوم وارتقاع ، اور اللہ کی نسبت جب کہا جائے گا ۔ کہ وہ بابرکت ذات ہے ۔ تو اس کے معنے یہ ہوں گے ۔ کہ وہ خوددائمی ہے ۔ اس کے فیوض رحمانیت دائمی ہیں ۔ اور وہ کائنات سے بامین اور بلند ہے ۔ حل لغات :۔ خیرات ۔ یعنی وہ عورتیں صورت اور سیرت کے لحاظ سے دنیا کی عورتوں سے کہیں بہتر اور اعلیٰ ہونگی ۔ ان کے ہر کام میں حسن نمایاں ہوگا ۔ ہر عادت میں نیکی اور خیر سگالی کا اظہار ہوگا ۔ مقصورات فی الخیام ۔ کے معنے یہ ہیں ۔ کہ وہ نازونعمت کی زندگی بسرکرینگی ۔ اور عزت ووقار کے ساتھ خیموں میں رہیں گی زفرف ۔ بھیڑ ۔ شجر ۔ جامہائے سبزہ فرش ، خیمہ ۔ بالش…
Read the full tafseer →(64) یہ دونوں باغ خوب گہرے سبز ہوں گے۔ یعنی سبزی کا گہرا ہونا مائل بہ سیاہی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–78
ف 4۔ نام سے مراد صفات جو کہ ذات کے غیر نہیں، پس حاصل جملہ کا ثناء ہوئی کمال ذات وصفات کے ساتھ، اور شاید لفظ اسم بڑھانے سے مقصود مبالغہ ہو کہ مسمی تو کیسا کچھ کامل اور بابرکت ہوگا، اس کا تو اسم بھی مبارک اور کامل ہے۔
Read the full tafseer →یہ دونوں باغ بھی نہایت سرسبز و شاداب ہوں گے 46 زیرنظر آیت میں فقط ایک ہی لفظ بولا گیا ہے یعنی (مدھامتان) یہ دونوں باغوں کی صفت کے طور پر بولا گیا ہے جو اسم فاعل و اسم مفعول دونوں ہی ہو سکتے ہیں۔ تثنیہ مؤنث اور مدھامۃ واحد ہے۔ (مدھامتان) بھی دونوں باغ ہی بہت سرسبز ہیں۔ اتنے سرسبز کہ ان کا رنگ سیاہی مائل ہوگیا ہے۔ ادھیمام مصدر ہے سیاہ ہونا یعنی اتنا گہرا سبز ہونا کہ سیاہی مائل نظر آئے۔ دھمۃ سیاہی کو کہتے ہیں۔ حدثۃ وھماء انتہائی سرسبزباغ دھم ہر مہینہ کی آخری تین راتوں کو بھی کہتے ہیں کیونکہ وہ تقریباً مکمل راتیں چاند نہ ہونے کے باعث سیاہ رنگ کی ہوتی ہیں ہ۔ دھیم اور دھیمۃ کالی مصیبت یعنی سخت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–69
مُدْهَامَّتَانِ (both dark green!...55:64). This is one word verse, and it means 'dark green with foliage'. The word is derived from idhimam signifying, for a meadow or garden, to become of dark green hue inclining to black by reason of abundance of moisture or irrigation. This description is not assigned to the first two Gardens. This does not necessarily imply that they do not have this quality. The former Gardens are described as ذَوَاتَا of 'having lot of branches'. This comprehends the quality of 'dark green' as well.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–71
50 The word madhammatan has been used in praise of these gardens. Mudhamma is such luxuriant vegetation which because of its extreme luxuriance assumes a darkish hue.
Read the full tafseer →