Explained with ayahs 46–53
فکر آخرت اور انسان
ابن شوذب اور عطا خراسانی فرماتے ہیں آیت (وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِ 46ۚ) 55۔ الرحمن :46) حضرت صدیق اکبر کے بارے میں نازل ہوئی ہے، حضرت عطیہ بن قیس فرماتے ہیں یہ آیت اس شخص کے بارے میں نازل ہوئی ہے جس نے کہا تھا مجھے آگ میں جلا دینا تاکہ میں اللہ تعالیٰ کو ڈھونڈانے پر نہ ملوں یہ کلمہ کہنے کے بعد ایک رات ایک دن توبہ کی اللہ تعالیٰ نے قبول فرما لی اور اسے جنت میں لے گیا۔ لیکن صحیح بات یہ ہے کہ یہ آیت عام ہے حضرت ابن عباس وغیرہ کا قول بھی یہی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو شخص قیامت کے دن اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے کا ڈر اپنے دل میں رکھتا ہے اور اپنے آپ کو نفس کی خواہشوں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–51
سورة الرَّحْمٰن 42
یہاں سے آخر تک آلاء کا لفظ نعمتوں کے معنوں میں بھی استعمال ہوا ہے اور قدرتوں کے معنی میں بھی۔ اور ایک پہلو اس میں صفات حمیدہ کا بھی ہے۔ اگر پہلے معنی لیے جائیں تو اس سلسلہ بیان میں اس فقرے کا بار بار دہرانے کا مطلب یہ ہوگا کہ تم جھٹلانا چاہتے ہو تو جھٹلاتے رہو، خدا ترس لوگوں کو تو ان کے رب کی طرف سے یہ نعمتیں ضرور مل کر رہیں گی۔ دوسرے معنی لیے جائیں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ تمہارے نزدیک اللہ کا جنت بنانے پر قادر ہونا اور اس میں یہ نعمتیں اپنے نیک بندوں کو عطا کرنا غیر ممکن ہے تو ہوتا رہے، اللہ یقیناً اس کی قدرت رکھتا ہے اور وہ یہ کام کر کے رہے گا۔ تیسرے معنی کے لحاظ سے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–47
خلاصہ تفسیر
(ان آیتوں میں دو باغوں کا ذکر وَلِمَنْ خَافَ سے شروع ہوا ہے اور دو باغوں کا ذکر وَمِنْ دُوْنِهِمَا سے پہلے دو باغ خواص مقربین کے ہیں اور پچھلے دو باغ عامہ مومنین کے لئے، دلائل اس تعیین و تقسیم کے آگے لکھ دیئے جاویں گے، یہاں صرف تفسیر لکھی جاتی ہے، پچھلی آیات میں مجرمین کی سزاؤں کا ذکر تھا، یہاں سے مومنین صالحین کی جزا کا ذکر شروع ہوتا ہے) اور (اہل جنت کا حال یہ ہے کہ ان میں دو قسم ہیں، خواص اور عوام پس) جو شخص (خواص میں سے ہو اور) اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے (ہر وقت) ڈرتا رہتا ہو (اور ڈر کر شہوات و معاصی سے مجتنب رہتا ہو اور یہ شان خواص ہی کی ہے، کیونکہ عوام پر تو گاہ گاہ خوف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–47
4۔ آگے آیات 46۔ 78 کا مضمون
مجرموں کا انجام بیان کرنے کے بعد آگے اس صلہ کی تفصیل ہے جو اللہ سے ڈرتے رہنے والوں کو قیامت میں ملنے والا ہے۔ اس تقابل سے دونوں گروہوں کی پوری تصویر سامنے آگئی ہے۔ نظم کلام بالکل واضح ہے۔ بس اتنی بات یاد رکھنے کی ہے کہ آیات 46۔ 61 میں مقربین کی حیثیت کا بیان ہے اور اس کے بعد کی آیات میں اصحاب الیمین کی جنت کا، ان دونوں گروہوں کے فرق مراتب کی تفصیل اس کے بعد والی سورة الواقعہ میں آئے گی جو اس کی توام سورة ہے۔ اس روشنی میں آیات کی تلاوت فرمایئے۔
5۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت۔۔ (ولمن خاف مقام ربہ جنتن فبای الا ربکما تکذبین) (46۔ 47)
(مقتیوں کا انجام)۔ مجرمین کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
48۔ 1 یہ اشارہ ہے اس طرف کہ اس میں سایہ گنجان اور گہرا ہوگا، نیز پھلوں کی کثرت ہوگی، کیونکہ کہتے ہیں ہر شاخ ٹہنی پھلوں سے لدی ہوگی (ابن کثیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–61
9: یعنی سوال و جواب اور حساب و کتاب کا مرحلہ تو اس وقت گزرچکا ہوگا جس میں ان لوگوں سے حجت قائم کرنے کے لئے سوالات بھی کئے گئے تھے، لیکن اب ان کو دوزخ میں ڈالنے کے لئے نہ تو اللہ تعالیٰ کو کسی سے یہ پوچھنے کی ضرورت ہوگی کہ اس نے کیا گناہ کیا تھا، کیونکہ اسے خود ہی معلوم ہے، اور نہ فرشتوں کو ضرورت ہوگی کیونکہ جیسا اگلی آیت میں آرہا ہے، مجرم لوگ اپنے چہرے کی علامتوں ہی سے پہچان لئے جائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–47
قرآن کی جس قدر سورتیں اب تک گزری ہیں ان میں پہلی بار دو باغوں کا ذکر ہے اور یہ دو باغ بھی جنت کے اندر ہی ہوں گے جو بہت ہی وسیع اور بڑی جگہ ہوگی لیکن یہاں دو باغوں کا خصوصی ذکر محض ان کے عالیشان ہونے کے ناطے سے ہے۔ سورة واقعہ میں یہ بات آنے والی ہے کہ اہل جنت کے دو فریق ہوں گے۔ پہلے السابقون المقربون ہوں گے اور اصحاب الیمین ہوں گے۔ دونوں فریقوں کے لئے نعمتیں ہوں گی۔ یہ دو باغ یوں معلوم ہوتا ہے کہ یہ دو اعلیٰ مرتبے کے لوگوں کے لئے ہوں گے اور یہ وہی لوگ ہیں جن کو السابقون الاولون کہا گیا ہے اور ان دو باغات سے کم درجے کے بھی دو اور باغ ہوں گے اور یہ باغ شاید السابقون اولون کے بعد کے لوگوں کے لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
12 یعنی مختلف قسم کے پھل ہوں گے اور درختوں کی شاخیں نہایت پر میوہ اور سایہ دار ہوں گی۔
Read the full tafseer →آیت 47{ فَبِاَیِّ اٰلَآئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ۔ } ”تو تم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں اور قدرتوں کا انکار کرو گے ؟“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
32 افنان۔ فن کی جمع ہے یعنی بہت بڑا اور لمبا ٹہنا یعنی ان دو باغوں کے جتنے درخت ہوں گے ان سب کے دو بڑے بڑے ٹہنے ہوں گے۔ پھر ان ٹہنوں کی چھوٹی چھوٹی ٹہنیاں نکلیں گی۔ اس آیت میں اللہ کی اس قدرت کا اظہار ہے کہ ان باغوں کے درختوں کی نشوونما میں ایک دوسرے سے پوری طرح یکسانیت اور ہم آہنگی ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
26۔ جن کا سایہ بھی خوب گھنا اور گنجان ہوگا، اور جو پھل پھلاریوں سے بھی خوب لدے ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–78
ترجمہ : اور اس شخص کے لئے یعنی ان میں سے ہر ایک کے لئے یا دونوں کے مجموعہ کے لئے جو اپنے رب کے روبرو حساب کے لئے کھڑے ہونے سے ڈرا اور اس نے اس کی نافرمانی ترک کردی دو باغ ہیں سو تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کا انکار کرو گے ؟ (دونوں باغ) کثیر شاخوں والے (گھنے) ہوں گے ذواتا، ذوات کا تثنیہ ہے اصل کے مطابق اور اس کا لام یاء ہے، افنان، فنن کی جمع ہے (جیسا کہ) اطلال، طلل کی جمع ہے، سو تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کے منکر ہوجائو گے ؟ (دونوں باغ) کثیر شاخوں والے (گھنے) ہوں گے ذواتا، ذوات کا تثنیہ ہے اصل کے مطابق اور اس کا لام یاء ہے، افنان، فنن کی جمع ہے (جیسا کہ) اطلال، طلل کی جمع ہے، سو تم…
Read the full tafseer →فبای الاء ربکما تکذبان
سو تم دونوں اپنے رب کی کون کونسی نعمتوں کے منکر ہوجاؤ گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–49
(47۔ 49) سو اے جن و انس تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمتوں کا انکار کرو گے۔ اور وہ دو باغ کثیر شاخوں اور رنگوں والے ہوں گے، سو اے جن و انس تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمتوں کا انکار کرو گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–47
1۔ وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ جَنَّـتٰنِ :”مقام“”قام یقوم قیاماً“ (ن) سے ظرف بھی ہوسکتا ہے ،”کھڑا ہونے کی جگہ یا وقت“ اور مصدر میمی بھی ہوسکتا ہے۔ ”کھڑا ہونا“۔ جہنم اور اہل جہنم کے تذکرے کے بعد اہل جنت کا ذکر فرمایا۔ ”مقام ربہ“ کے دو مطلب ہوسکتے ہیں اور دونوں قرآن مجید کی آیات میں ملتے ہیں ، ایک یہ کہ جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈر گیا اس کے لیے دو باغ ہیں۔ اس صورت میں ”مقام ربہ“ سے مراد بندے کا اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونا ہے۔ اس کی تائید اس آیت سے ہوتی ہے ، فرمایا :(یَّوْمَ یَقُوْمُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعٰـلَمِیْنَ) (المطففین : 6)”جس دن لوگ رب العالمین کے لیے کھڑے ہوں گے“۔ دوسرا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–47
ولمن خاف مقام ربہ جنتان۔
اس میں دو مسئلے ہیں :
مسئلہ نمبر 1: جب جہنمیوں کے احوال کا ذکر کیا تو نیکو کاروں کے لئے جو تیار کیا اس کا بھی ذکر کیا معنی ہے وہ اپنے رب کے حضور حساب کے لئے کھڑا ہونے سے ڈرا تو اس نے معصیت کو ترک کیا۔ مقام مصدر ہے قیام کے معنی میں ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ اپنے رب کے اپنیاوپر کھڑا ہونے سے ڈرا ‘ یعنی اللہ تعالیٰ اس کو جھانگ رہا ہے اور اس پر مطلع ہے اس کی وضاحت اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے۔
مجاہد اور ابراہیم نخعی نے کہا : اس سے مراد وہ آدمی ہے جو معصیت کا ارادہ کرتا ہے اور پھر اللہ تعالیٰ کو یاد کرتا ہے تو اس کی پکڑ کے خوف سے معصیت کو ترک کردیتا ہے۔
مسئلہ نمبر 2: یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–47
1:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن شوذب (رح) سے روایت کیا کہ یہ (آیت ) '' ولمن خاف مقام ربہ جنتن '' (جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرتا ہے) ابوبکر صدیق ؓ کے بارے میں نازل ہوئی۔
2:۔ ابن ابی حاتم (رح) وابوالشیخ (رح) نے العظمہ میں وعطاء (رح) سے روایت کیا کہ ایک دن ابوبکر صدیق ؓ سے قیامت اور اعمال کے تولنے اور جنت اور دوزخ اور فرشتوں کے صفیں باندھنے اور آسمانوں کے لیپٹنے اور سورج کی روشنی لپیٹی جانے اور ستاروں کے بکھر جانے کے بارے میں غور وفکر کیا تو فرمایا میں اس بات دوست رکھتا ہوں (یعنی پسند کرتا ہوں) کہ میں ایک سبزہ ہو تو اس سبزے میں ایک جانور مجھ پر آتا اور مجھے کھالیتا اور میں پیدا نہ کیا…
Read the full tafseer →فَبِاَيِّ اٰلَاۗءِ رَبِّكُمَا [ تو تم دونوں (جن وانس ) اپنے رب کی نعمتوں سے کس کس کو ] تُكَذِّبٰنِ [ تم دونوں جھٹلاؤگے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–53
اہل تقویٰ کی دو جنتیں اور اس کی صفات
ان آیات میں اہل جنت کے بعض انعامات کا تذکرہ فرمایا اور ہر نعمت بیان کرنے کے بعد ﴿فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ﴾ فرمایا ہے کہ اے انس و جن تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے، پہلے رکوع میں دنیاوی جنتوں کا تذکرہ فرمایا اور تیسرے رکوع میں آخرتک جنت کا تذکرہ کیا اور دوسرے رکوع میں جنات اور انسانوں کے عذاب کا تذکرہ فرمایا جس میں قیامت کے دن اور اس کے بعد دوزخ میں مجرمین مبتلا ہوں گے۔
مذکورہ بالا آیات میں اول تو یہ فرمایا کہ جو شخص اپنے رب کے حضور میں کھڑا ہونے سے ڈرا اس کے لیے دو باغ ہوں گے، جنت خود بہت بڑا باغ ہے پھر اس باغ میں الگ الگ باغ ہوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–78
اعزاز واکرام اہل ایمان بعطاء نعمتہائے عظام از رب ذی الجلال والاکرام :
قال اللہ تعالیٰ (آیت ) ” ولمن خاف مقام ربہ جنتین ...... الی ....... ذی الجلل والاکرام “۔
(ربط) گذشتہ سلسلہ آیات کفار ومجرمین کی تنبیہ اور ان کی سزاؤں کے بیان پر مشتمل تھا ان آیات میں اہل ایمان اور مطیعین کی جزاؤں اور ان پر آخرت میں عطا کردہ نعمتوں اور راحتوں کا بیان ہے ارشاد فرمایا جارہا ہے۔
اور جو شخص بھی ڈرا اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے اس کیلئے دو باغ ہیں جنت کے عظیم الشان باغات میں سے جن کی نعمتیں اور راحتیں وہ ہیں کہ نہ کسی آنکھ نے دیکھیں اور نہ کسی کان نے سنیں اور نہ کسی انسان کے قلب و دماغ میں اس کا تصور ہوا ظاہر ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–49
18:۔ ” ولمن خاف “ یہ ماننے والوں کے لیے بشارت اخرویہ ہے مقام سے قیامت کے دن حساب کتاب کے لیے بارگاہ خداوندی میں کھڑے ہونے کی جگہ مراد ہے۔ ظاہر ہے جس کو حساب کتاب کا ڈر ہوگا وہ اپنی کتاب اعمال کو برائیوں سے پاک رکھنے کی کوشش کرے گا۔ موقفہ الذی یقف فیہ العباد للحساب یوم القیامۃ فترک المعاصی (مدارک ج 4 ص 160) ۔ جنتٰن سے دو باغ مراد نہیں بلکہ تثنیہ تکرار کے لیے ہے یعنی قسم قسم کے باغات (رضی) ۔ اور ضمائر کا تثنیہ باعتبار لفظ ہے۔ جو شخص آخرت کے حساب کتاب سے ڈر کر اللہ کی اطاعت کو اپنا دستور زندگی بنا لے قیامت کے دن اس کو کوئی باغات ملیں گے جن میں ہر قسم کی نعمتیں موجود ہوں گے۔ ذواتا افنان، یہ فن کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–61
ربطہ آیات
پہلے اللہ کے مطلق مادی ، حسی اور روحانی انعامات کا ذکر ہوا۔ پھر اس کے بعد نافرمانوں کے انجام کا تذکرہ ہوا۔ برائی کی چیزوں سے خبردار کرنا بھی نعمت خداوندی ہے تاکہ لوگ اللہ کے عذاب سے بچ جائیں۔ اب اگلی آیات میں اللہ کے اطاعت گزار بندوں کا ذکر آرہا ہے۔ ان کے آگے پھر دو گروہ بن جاتے ہیں جن کی سزائے عمل بھی اللہ نے الگ الگ بیان کی ہے۔
متقین کے لیے انعامات
ارشاد ہوتا ہے ولمن خاف مقام ربہ اور جو شخص ڈر گیا اپنے پروردگار کے سامنے کھڑا ہونے سے۔ جس کو وقوع قیامت اور جزائے عمل پر یقین آگیا ، اور اسے علم ہوگیا کہ اس نے ایک دن اللہ رب العزت کی عدات میں کھڑے ہو کر اپنے اعمال کا حساب دینا ہے ، وہ…
Read the full tafseer →فَبِاَيِّ اٰلَاۗءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ 47
أيا
أَيُّ في الاستخبار موضوع للبحث عن بعض الجنس والنوع وعن تعيينه، ويستعمل ذلک في الخبر والجزاء، نحو : أَيًّا ما تَدْعُوا فَلَهُ الْأَسْماءُ الْحُسْنى [ الإسراء/ 110] ، وأَيَّمَا الْأَجَلَيْنِ قَضَيْتُ فَلا عُدْوانَ عَلَيَّ [ القصص/ 28]
( ا ی ی ) ای ۔
جب استفہام کیلئے ہو تو جنس یا نوع کی تعیین اور تحقیق کے متعلق سوال کے لئے آتا ہے اور یہ خبر اور جزا کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے چناچہ فرمایا :۔ { أَيًّا مَا تَدْعُوا فَلَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى } ( سورة الإسراء 110) جس نام سے اسے پکارا اس کے سب نام اچھے ہیں { أَيَّمَا الْأَجَلَيْنِ قَضَيْتُ فَلَا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–61
ترکیب : جنتان مبتداء لمن خاف خبرہ مقام ربہ المقام اما اسم منان ای خاف الموقف الذی یقف فیہ العباد للحساب کمافی قولہ تعالیٰ یوم یقوم الناس لرب العالمین و اما مصدر رففیہ احتمالان امابمعنی قیامہ تعالیٰ علی احوال العباد من قام علیہ اذارقبہ کمافی قولہ تعالیٰ فمن ھو قائم علیٰ کل نفس بماکسبت و امابمعنی قیام العباد بین یدیہ۔ فعلی الاول اضافۃ الی الرب تفخیماً و تھویلاً ۔ وقیل لفظ المقام مقحم ای ولمن خاف ربہ والمعنٰی لکل خائفین منکما اولکل واحد جنتان۔ ذواتا تثنیہ ذوات علی الاصل ولامھاتاء (الجلال المحلی) قال ابن الصائغ الالف قبل التاء بدل من یاء وقیل من واوقال الخطیب فی تثنیہ ذات لغتان الاولیٰ الردالی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–47
وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ جَنَّتٰنِ ۔ فَبِاَیِّ اٰ لَآئِ رَبِّـکُمَا تُـکَذِّبٰنِ ۔ (الجن : 46، 47)
(اور اس شخص کے لیے جو اپنے رب کے حضور پیش ہونے سے ڈرتا رہا دو باغ ہیں۔ تم اپنے رب کے کن کن انعامات کو جھٹلائو گے۔ )
اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والوں کا انجام
گزشتہ رکوع کا آغاز بھی اسی حقیقت کے بیان سے ہوا تھا کہ زمین پر بسنے والی ہر مخلوق فنا ہونے والی ہے اور باقی رہنے والی ذات صرف اللہ تعالیٰ کی ہے۔ مقصود اس سے یہ تھا کہ لوگ اپنی موت اور اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہی کے تصور سے بہرہ ور ہو کر زندگی کے طرزعمل کو درست کرنے کی کوشش کریں۔ اس رکوع کے آغاز میں بھی اسی حقیقت کو دوسرے پہلو سے نمایاں کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–47
فہم القرآن
ربط کلام : جہنمیوں کے مقابلے میں جنتیوں کا مقام اور انعام۔
جو شخص قیامت کے دن سے پہلے اپنے رب کے حضور کھڑا ہونے سے ڈر گیا اس کے لیے جنت میں دو باغ ہوں گے۔ اللہ کا خوف اور قیامت کا ڈر ایسا عمل ہے جو انسان کو صراط مستقیم پر گامزن رکھتا ہے، انسان حرام و حلال کی تمیز کرتا ہے، ظلم سے بچتا ہے اور ہر حال میں عدل پر قائم رہتا ہے۔ وہ نیکی کرنے کے باوجود اس پر اتراتا نہیں بلکہ ہر وقت اپنے رب سے لرزاں رہتا ہے۔ یہی وہ عقیدہ ہے جس بنا پر سیدنا ابوبکر صدیق ؓ نے ایک تنکا پکڑ کر کہا تھا کہ کاش ! میں انسان کی بجائے ایک تنکا ہوتا تاکہ قیامت کے دن کے حساب و کتاب سے بچ جاتا۔ (سیرت ابوبکر ؓ جس نے اپنے…
Read the full tafseer →47 : فَبِاَیِّ اٰلَآ ئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ۔ (پس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلائو گے)
Read the full tafseer →46 ۔” ولمن خاف مقام ربہ “ یعنی اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے حساب کے لئے۔ پس اس نے معصیت اور شہوت کو چھوڑ دیا اور کہا گیا ہے اس کے رب کے اس پر قیام کرنے سے۔ اس کا بیان اللہ تعالیٰ کا قول ” افمن ھو قائم علی کل نفس بما کسبت “ ابراہیم نخعی اور مجاہد رحمہما اللہ فرماتے ہیں وہ شخص جو معصیت کا پختہ ارادہ کرے پھر اللہ کو یاد کرے اور اس معصیت کو اللہ کے خوف سے چھوڑ دے ۔ ” جنتان “ مقاتل (رح) فرماتے ہیں جنت عدن اور جنت نعیم۔
محمد بن علی ترمذی (رح) فرماتے ہیں ایک جنت اپنے رب کے خوف کی وجہ سے اور ایک جنت اس کی شہوت کو چھوڑنے کی وجہ سے ۔ ضحاک (رح) فرماتے ہیں یہ اس کے لئے ہے جو پوشیدہ اور اعلانیہ اللہ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–53
46۔ 53۔ جن لوگوں کے دل میں قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہونے اور حساب و کتاب کا خوف ہے اور وہ لوگ اس خوف کے سبب سے فرض اور نفل عبادت کے بجا لانے اور گناہوں سے بچنے میں احکام شرع کے پابند ہیں ‘ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان کی بڑی عزت فرمائے گا چناچہ صحیح بخاری 4 ؎ و مسلم وغیرہ میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس میں حشر کی گرمی اور پسینے کے وقت سات شخصوں کو عرش کے سایہ میں جگہ ملنے کی عزت کا ذکر ہے ان سات شخصوں میں ایک شخص وہ ہے جس کو کوئی مالدار حسین عورت بدکاری کا پیغام دے اور وہ شخص اللہ کے خوف سے بدکاری نہ کرے۔ اس بات میں اور بھی حدیثیں ہیں ان آیتوں میں بھی ایسے لوگوں کی عزت کا یہ ذکر ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–49
جب اللہ تعالیٰ نے یہ ذکر فرمایا کہ وہ مجرموں کے ساتھ کیا سلوک کرے گا تو اللہ سے ڈرنے والے تقوی شعار لوگوں کی جزا کا بھی ذکر فرمایا۔ یعنی اس شخص کے لیے جو اپنے رب اور اس کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈر گیا اس نے نواہی کو ترک کردیا اور جس کام کا اسے حکم دیا گیا اس کی تعمیل کی دو جنتیں ہیں جن کے برتن، زیورات اور عمارتیں اور ان میں موجود تمام چیزیں سونے کی ہوں گی ایک جنت ان کو اس امر کی جزا کے طور پر عطا کی جائے گی کہ انہوں نے منہیات کو ترک کردیا اور دوسری جنت نیکیوں کی جزا ہوگی۔ ان دونوں جنتوں کا ایک وصف یہ ہے کہ (ذَوَاتَآ اَفْنَانٍ ) ان دونوں میں بہت سی شاخیں ہیں۔ یعنی ان جنتوں میں انواع و اقسام کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–67
آسمان کا سرخ ہونا
قول باری ہے (فاذا انشقت السمآء فکانت وردۃ کالدھان، پس جب آسمان پھٹ جائے گا اور وہ لال چمڑے کی طرح سرخ ہوجائے گا) روایت ہے آسمان سرخ ہوکر روغن کی طرح پگھل جائے گا۔ ایک روایت کے مطابق آسمان دنیا لوہے کا ہے جب قیامت کا دن ہوگا تو اس کا نیلا رنگ جہنم کی آگ کی گرمی کی وجہ سے سرخ رنگ میں تبدیل ہوجائے گا جس طرح لوہے کو آگ پر تپانے کی صورت میں اس کا رنگ سرخ ہوجاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–47
[ 42] اپنے رب سے ڈرنے والوں کیلئے دو باغوں کی خوشخبری :
سو اس ارشاد سے صاف اور صریح طور پر یہ خوشخبری سنائی گئی کہ اپنے رب سے ڈرنے والوں کے لیے دو باغ مانگے۔ ایک اپنے لئے اور ایک اپنے خدام و متعلقین کے لیے، جیسا کہ دنیاوی بادشاہوں کے لئے ہوتا ہے [ صفوۃ وغیرہ ] یا ایک قلبی و روحانی اور دوسرا ظاہری و مادی، کہ دنیا میں وہ دل سے بھی اللہ پاک سے محبت رکھتا اور اس کے احکام بجالاتا تھا، اور ظاہری طور پر بھی اس کی ناراضگی اور مخالفت کے کاموں سے بچتا رہتا تھا، یا ایک جنت اس کو نیک اعمال کرنے پر، اور دوسری برے اعمال چھوڑنے پر ملے گی۔ سو خوف خداوندی سے سرفرازی دارین کی سعادت اور فوز و فلاح کی اصل اساس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–78
نیک لوگوں کا اچھا انجام
تشریح :۔ آیت نمبر 46 کی وضاحت ہم اس حدیث مقدسہ سے کرتے ہیں۔ حضرت عائشہ ؓ نے پوچھا ' یا رسول اللہ ﷺ ! کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص چوری، زنا اور شراب نوشی کرتے ہوئے اللہ سے ڈرے ؟ فرمایا نہیں اے صدیق کی بیٹی ! اس سے مراد وہ شخص ہے جو نماز پڑھتا ہے، روزے رکھتا ہے، زکوٰۃ دیتا ہے اور پھر خدائے عزو جل سے ڈرتا رہتا ہے '۔ (از شعور حیات مصنف محمد یوسف اصلاحی)
یعنی گناہ سے پہلے ڈرنا۔ حضرت حسن بصری ؓ کا قول ہے 5 چیزیں قساوت قلب کا نشان ہیں (1) توبہ کی امید پر گناہ کرنا (2) عمل کرنا بغیراخلاص کے (3) علم سیکھنا اور عمل نہ کرنا (4) رزق کھانا اور شکر نہ کرنا (5) مردوں کو دفن کرنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–78
آیات 46 تا 48۔
اسرار ومعارف۔
جو کوئی اپنے پروردگار کے سامنے پیش ہوکرجوابدہی سے ڈرتا ہے اور یوں اس کی نافرمانی نہیں کرتا یہ وصف اللہ کے خاص بندوں اور اہل اللہ کا ہے جنہیں آخرت مستحضر رہتی ہے یعنی ہر حال میں اللہ کے سامنے پیش ہونے کامراقبہ دائمی رہتا ہے توخلوص دل سے اطاعت کا سبب بن جاتا ہے ایسے لوگوں کے لیے ہر ایک کے واسطے دو باغ ہیں دودوجنتیں ہیں بھلاکس کس انعام کا شکر ادا نہ کرو گے دونوں بہت گھنے اور بہت آباد ہوں گے تو کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے جبکہ ان باغات میں ابلتے چشموں کا پانی جاری ہوگا ، حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ آب رواں کو جنتی جدھر کو کہے گا ادھر چلنا شروع کردے گا تم کس کس نعمت کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–52
ف 4 ایک قسم وہ جس سے وہ دنیا میں آشنا تھا اور دوسری قسم وہ جو کبھی اس کے خواب و خیال میں بھی نہ آئی تھی یا مطلب یہ ہے کہ ایک باغ میں ایک طرح کئے ہیں اور پھول ہوں گے اور دوسرے میں دوسری طرح کے واللہ اعلم۔
Read the full tafseer →(55:47) فبای الاء ربکما تکذبن : تم اپنے رب کے کن کن انعامات کو جھٹلاؤ گے ؟
یہاں سے آخر تک الاء کا لفظ نعمتوں کے معنی میں بھی استعمال ہوا ہے اور قدرتوں کے معنی میں بھی اور ایک پہلو اس میں اوصاف حمیدہ کا بھی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–78
لغات القرآن آیت نمبر 46 تا 78
ذواتا افنان بہت شاخوں والے۔ بطائن (بطن) استر، پیٹ۔ استبرق سبز ریشم دان قریب قریب۔ قصرت روکنے والیاں۔ لم یطمت ہاتھ نہ لگایا ہوگا۔ مدھآ متن دو گہرے سبز۔ نضاختن دو چشمے جوش مارتے ہوئے۔ رمان انار ۔ خیرات بہت عمدہ۔ حسان خوبصورت و حسین۔ الخیام خیمے۔ رفرق مسند، مسہریاں۔ عبقری قیمتی۔ تبرک برکت والا۔ الاکرام بہت بزرگی اور عظمت والا۔
تشریح : آیت نمبر 46 تا 79
اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ ہے کہ وہ تقویٰ ، پرہیز گاریوں اور نیکیوں کے ساتھ زندگی گذارنے والوں کو اجر عظیم عطا فرمائے گا۔ چناچہ کفار و مشرکین اور گناہگار مجرموں کی سزا کو بیان کرنے کے بعد ان صالح مومنین کے لئے اجر عظیم کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–62
(ف 1) ان آیتوں میں پہلے تو یہ فرمایا کہ جن لوگوں کے دل اللہ کے سامنے کھڑے ہونے کا خوف ہوگا انکو جنت کی دو منزلیں ملیں گی ایک ان کے نیک عمل کے بدلے میں اور ایک خوف الٰہی سے برے کاموں سے بچنے کے بدلے میں پھر ان منزلوں کے سازوسامان کا ذکر کیا کہ بعض منزلوں میں اعلی درجہ کا سازوسامان ہے اور بعض میں ان سے کم درجہ کا، ہر طرح کی منزلوں کے سازوسامان کا ذکر اسلیے فرمایا تاکہ معلوم ہوجائے کہ جس قدر خوف الہی انسان کے دل میں ہوگا اسی قدرسازوسامان والی جنت کیدومنزلیں اس کو ملیں گی آگے فرمایا کہ وہ دونوں باغ سرسبز و شاداب ہیں ایسی سبزی ہے کہ نہایت ہی گہری سبزی ہے اور ان دونوں باغوں میں دوچشمے ہیں جو جوش…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–51
[11] یعنی جب دوزخ میں پیاس کے مارے ان کا برا حال ہوگا تو وہ بھاگ بھاگ کر پانی کے چشموں کی طرف جائیں گے مگر وہاں کھولتا ہوا پانی ملے گا۔ اسی طرح انہی کے درمیان پھیرے لگانے میں ان کی زندگی گزرے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–54
دورِ عیش کا آغاز
2: جنت نام ہے ۔ پوری آسودگی اور کامل عیش کا ۔ اور ایسی جگہ کا جہاں ہر آن اللہ کے فضل کی بارش ہوتی ہے ۔ اور انسان کو ہر نوع کے انعامات سے نوازا جاتا ہے ۔ یہ مقام ہے ، اللہ کی رحمت اور عفو کا ۔ یہ ٹھکانہ ہے ۔ ایسے لوگوں کا جنہوں نے اللہ کی رضا کے لئے ہر جذبہ کو ٹھکرایا ہے ۔ اور تکلیفوں او صعوبتوں کو برداشت کیا ہے ۔ جنہوں نے مال و دولت کی پرواہ نہیں کی ۔ جنہوں نے مال و دولت کی پرواہ نہیں کی ۔ اور فقر میں استغنا کا ثبوت دیا ہے ۔
جنہوں نے روح کی تسکین کے لئے جسم کی تذلیل کی ہے ۔ اور مظاہرہ عبودیت میں اپنا سب کچھ اس کی راہ میں صرف کیا ہے ۔ ان لوگوں کے لئے اب دور عیش و تقرب ہے ۔ ان…
Read the full tafseer →(47) سوتم دونوں اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمتوں کی تکذیب کرو گے ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–54
ف 1۔ قاعدہ ہے کہ ابرہ بہ نسبت استر کے زیادہ نفیس ہوتا ہے پس جب استر استبرق کا ہوگا تو ابرہ کیسا کچھ ہوگا۔
Read the full tafseer →پھر تم دونوں اپنے پروردگار کی کون کون سی نشانیوں کو جھٹلائو گے
74 یہ آیت ترجیع ہے جو ان ہی لوگوں کے لئے ہے جو زندگی کے عیش و طرب کی محفلوں میں مصروف ہو کر آخرت کو بھول گئے ہیں اور اس عارضی زندگی ہی کو اصل اور حقیقی زندگی سمجھ بیٹھے ہیں۔ ان ہی کو مخاطب کر کے کہا جارہا ہے کہ ہم نے تم کو سمجھانے کی ساری کوششیں کی ہیں لکنم تم نے بھی اللہ تعالیٰ کی ساری نشانیوں کو جھٹلانے کا عہد کرلیا ہے پھر جو کچھ تم جھٹلا رہے ہو اس کا حال تم کو سنایا جارہا ہے لیکن تم ٹس سے مس بھی نہیں ہوتے تو تمہارا یہ جھٹلانا کب تک رہے گا ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–47
The Delight of the Righteous in Paradise
The foregoing verses spoke of the horrible punishments to be faced by the disbelievers. In the current set of verses we are told about the rewards and bounties reserved for the righteous believers. The verse 46 speaks of two Gardens that are exclusively reserved 'for those who are fearful of having to stand before their Lord'. This phrase refers to those fortunate believers who are, at all times, concerned about reckoning on the Day of Judgment and, as a result, keep away from all sorts of sins under all circumstances. Obviously, these are the people…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–51
42 From here till the end, the word alaa ' has been used both for the blessings and forthe powers, and there is an aspect of the praiseworthy qualities too. in it. If we take the first meaning, the meaning of repeating the refrain in this context will be: "If you like to deny the blessings of AIIah, you may do so. The righteous will certainly receive these blessings from their Lord." In the second case the meaning would be: "If you think it is impossible for AIIah to create the Garden and bless His righteous servants with these bounties in it, you may think so. AIIah certainly lass the power…
Read the full tafseer →