ذَوَاتَاۤ اَفْنَانٍ ۟ۚذَوَاتَاۤ اَفۡنَانٍۚ
ان دونوں میں بہت سی شاخیں (یعنی قسم قسم کے میووں کے درخت ہیں)
— Fateh Muhammad Jalandhari
Having [spreading] branches.
— Saheeh International
Juz 27 · Ruku 3 of surah · Ruku 13 of juz
ذَوَاتَاۤ اَفْنَانٍ ۟ۚذَوَاتَاۤ اَفۡنَانٍۚ
ان دونوں میں بہت سی شاخیں (یعنی قسم قسم کے میووں کے درخت ہیں)
— Fateh Muhammad Jalandhari
Having [spreading] branches.
— Saheeh International
Juz 27 · Ruku 3 of surah · Ruku 13 of juz
Read the whole surah · Surah Ar-Rahmaan
ہری بھری ڈالیوں سے بھرپور
ان دونوں میں بہت سی شاخیں (یعنی قسم قسم کے میووں کے درخت ہیں)
(دونوں جنتیں) بہت سی ٹہنیوں اور شاخوں والی ہیں
دونوں باغ شاخوں سے بھرے ہوئے۔
بہت سی ڈالوں والیاں
جو دونوں (سرسبز و شاداب) گھنی شاخوں والی (جنتیں) ہیں،
دونوں بہت شاخوں والے ہیں۔
وہ دونوں باغ لمبی لمبی اور بڑی بڑی شاخوں والے ہوں گے
دونوں نہایت کثیر شاخوں والے ہوں گے
وہ دونوں جنتیں (طرح طرح کے میووں والی) ڈالیوں سے بھرپور ہوں گی
(اور وہ باغ بھی) خوب شاخوں والے۔
دونوں بہت سی شاخوں والی ہوں گی۔
ان دونوں میں بہت سی شاخیں ہیں یعنی قسم قسم کے میووں کے درخت ہیں۔
These Gardens will abound in green, blooming branches.
__ both having branches.
__ both having branches.
With Afnan.
Of spreading branches.
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
Having [spreading] branches.
full of various trees.
Having in them various kinds.
With spreading branches.
Containing all kinds (of trees and delights);-
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 46–53
فکر آخرت اور انسان ابن شوذب اور عطا خراسانی فرماتے ہیں آیت (وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِ 46ۚ) 55۔ الرحمن :46) حضرت صدیق اکبر کے بارے میں نازل ہوئی ہے، حضرت عطیہ بن قیس فرماتے ہیں یہ آیت اس شخص کے بارے میں نازل ہوئی ہے جس نے کہا تھا مجھے آگ میں جلا دینا تاکہ میں اللہ تعالیٰ کو ڈھونڈانے پر نہ ملوں یہ کلمہ کہنے کے بعد ایک رات ایک دن توبہ کی اللہ تعالیٰ نے قبول فرما لی اور اسے جنت میں لے گیا۔ لیکن صحیح بات یہ ہے کہ یہ آیت عام ہے حضرت ابن عباس وغیرہ کا قول بھی یہی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو شخص قیامت کے دن اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے کا ڈر اپنے دل میں رکھتا ہے اور اپنے آپ کو نفس کی خواہشوں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–51
سورة الرَّحْمٰن 42 یہاں سے آخر تک آلاء کا لفظ نعمتوں کے معنوں میں بھی استعمال ہوا ہے اور قدرتوں کے معنی میں بھی۔ اور ایک پہلو اس میں صفات حمیدہ کا بھی ہے۔ اگر پہلے معنی لیے جائیں تو اس سلسلہ بیان میں اس فقرے کا بار بار دہرانے کا مطلب یہ ہوگا کہ تم جھٹلانا چاہتے ہو تو جھٹلاتے رہو، خدا ترس لوگوں کو تو ان کے رب کی طرف سے یہ نعمتیں ضرور مل کر رہیں گی۔ دوسرے معنی لیے جائیں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ تمہارے نزدیک اللہ کا جنت بنانے پر قادر ہونا اور اس میں یہ نعمتیں اپنے نیک بندوں کو عطا کرنا غیر ممکن ہے تو ہوتا رہے، اللہ یقیناً اس کی قدرت رکھتا ہے اور وہ یہ کام کر کے رہے گا۔ تیسرے معنی کے لحاظ سے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–51
ذَوَاتَآ اَفْنَانٍ ، یہ پہلے دو باغوں کی صف ہے کہ بہت شاخوں والے ہوں گے، جس کا یہ اثر لازمی ہے کہ ان کا سایہ بھی گھنا ہوگا اور پھل بھی زیادہ ہوگا، دوسرے دو باغ جن کا ذکر آ گے آتا ہے ان میں یہ صفت مذکور نہیں، جس سے اس معاملہ میں ان کی کمی کی طرف اشارہ ہوسکتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
(ذواتا افنان فبای الاء ربکما تکذبن) (48۔ 49) یہ ان دو باغوں کی زرخیزی، شادابی اور برگ و بار کی کثرت کی تعبیر ہے کہ وہ اجاڑ اور بےرونق نہیں ہوں گے بلکہ ایک ایک درخت شاخوں اور ٹہنیوں کی کثرت سے رشک چمن ہوگا۔ باغوں کی اس صفت کے بعد بھی آیت ترجیح ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ عرب کے امراء و اغنیاء کا سب سے بڑا سرمایہ ناز باغ ہی ہوتے تھے اور ایک گرم و خشک ملک میں کسی کے پاس اگر سر سبز و شاداب باغ ہوں تو اس کی خوش بختی و بلند اقبالی کے کیا کہنے ہیں ! ان کے اسی ذوق کو سامنے رکھ کر فرمایا کہ ہم اس طرح کے باغ اپنے نیک بندوں کو دیں گے تو تم ہماری کن کن بخشنوں کو جھٹلائو گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
48۔ 1 یہ اشارہ ہے اس طرف کہ اس میں سایہ گنجان اور گہرا ہوگا، نیز پھلوں کی کثرت ہوگی، کیونکہ کہتے ہیں ہر شاخ ٹہنی پھلوں سے لدی ہوگی (ابن کثیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–61
9: یعنی سوال و جواب اور حساب و کتاب کا مرحلہ تو اس وقت گزرچکا ہوگا جس میں ان لوگوں سے حجت قائم کرنے کے لئے سوالات بھی کئے گئے تھے، لیکن اب ان کو دوزخ میں ڈالنے کے لئے نہ تو اللہ تعالیٰ کو کسی سے یہ پوچھنے کی ضرورت ہوگی کہ اس نے کیا گناہ کیا تھا، کیونکہ اسے خود ہی معلوم ہے، اور نہ فرشتوں کو ضرورت ہوگی کیونکہ جیسا اگلی آیت میں آرہا ہے، مجرم لوگ اپنے چہرے کی علامتوں ہی سے پہچان لئے جائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–51
ذواتا ............ الجنتین دان فبای الاء ربکما تکذبن (55) (55: 8 4 تا 55) ” ہری بھری ڈالیوں سے بھر پور ، اپنے رب کے کن کن انعامات کو جھٹلاؤ گے ؟ دونوں باغوں میں دو چشمے رواں ، اپنے رب کے کن کن انعامات کو جھٹلاؤ گے ؟ دونوں باغوں میں ہر پھل کی دو قسمیں ، اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے ؟ جنتی لوگ ایسے فرشوں پر تکئے لگا کے بیٹھیں گے جن کے استر دبیزریشم کے ہوں گے اور باغوں کی ڈالیں پھلوں سے جھکی پڑرہی ہوں گی۔ اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے ؟ “ ذواتا افنان (55: 8 4) (ہری بھری ڈالیوں سے بھرپور) افنان ، اغصان ، چھوٹی ڈالیاں ، تازہ ، نرم اور سرسبز وشادات ، عینان تجربان (دو باغوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
12 یعنی مختلف قسم کے پھل ہوں گے اور درختوں کی شاخیں نہایت پر میوہ اور سایہ دار ہوں گی۔
Read the full tafseer →آیت 48{ ذَوَاتَآ اَفْنَانٍ۔ } ”دونوں بہت سی شاخوں والی ہوں گی۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
32 افنان۔ فن کی جمع ہے یعنی بہت بڑا اور لمبا ٹہنا یعنی ان دو باغوں کے جتنے درخت ہوں گے ان سب کے دو بڑے بڑے ٹہنے ہوں گے۔ پھر ان ٹہنوں کی چھوٹی چھوٹی ٹہنیاں نکلیں گی۔ اس آیت میں اللہ کی اس قدرت کا اظہار ہے کہ ان باغوں کے درختوں کی نشوونما میں ایک دوسرے سے پوری طرح یکسانیت اور ہم آہنگی ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
26۔ جن کا سایہ بھی خوب گھنا اور گنجان ہوگا، اور جو پھل پھلاریوں سے بھی خوب لدے ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–78
ترجمہ : اور اس شخص کے لئے یعنی ان میں سے ہر ایک کے لئے یا دونوں کے مجموعہ کے لئے جو اپنے رب کے روبرو حساب کے لئے کھڑے ہونے سے ڈرا اور اس نے اس کی نافرمانی ترک کردی دو باغ ہیں سو تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کا انکار کرو گے ؟ (دونوں باغ) کثیر شاخوں والے (گھنے) ہوں گے ذواتا، ذوات کا تثنیہ ہے اصل کے مطابق اور اس کا لام یاء ہے، افنان، فنن کی جمع ہے (جیسا کہ) اطلال، طلل کی جمع ہے، سو تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کے منکر ہوجائو گے ؟ (دونوں باغ) کثیر شاخوں والے (گھنے) ہوں گے ذواتا، ذوات کا تثنیہ ہے اصل کے مطابق اور اس کا لام یاء ہے، افنان، فنن کی جمع ہے (جیسا کہ) اطلال، طلل کی جمع ہے، سو تم…
Read the full tafseer →ذواتا افنان ” اور وہ دونوں باغ کثیر ٹہنیوں والے ہوں گے ‘ ذَوَاتَآ اَفْنَانٍ : ذو مذکر کے لیے آتا ہے۔ ذو اصل میں ذو و تھا ‘ ذات مؤنث کے لیے آتا ہے۔ اس کی اصل ذوات تھی ‘ ذوات کا تثنیہ ذواتا آتا ہے اور تخفیفاً جمع کے لیے بھی ذوات کا لفظ مستعمل ہے۔ اَفْنَانٍ فَنَن کی جمع ہے۔ فنن ‘ نرم ٹہنی جو درخت کی شاخوں سے نکلتی ہے۔ برگ و بار کی پیدائش اور درخت کی سایہ آفرینی ٹہنیوں سے ہی ہوتی ہے۔ مجاہد اور کلبی نے افنان کا یہی معنی بیان کیا ہے۔ عکرمہ کا قول ہے کہ فنن ‘ ٹہنیوں کے اس سایہ کو کہتے ہیں جو باغ کی دیواروں پر پڑتا ہے۔ حسن نے ذواتا افنان کا ترجمہ کیا ہے : ذواتا اظلالٍ (سایہ دار) یہ بھی ہوسکتا ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–49
(47۔ 49) سو اے جن و انس تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمتوں کا انکار کرو گے۔ اور وہ دو باغ کثیر شاخوں اور رنگوں والے ہوں گے، سو اے جن و انس تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمتوں کا انکار کرو گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
ذَوَاتَآ اَفْنَانٍ ”افنان“ ”فنن“ کی جمع ہے ، سیدھی لمبی شاخ اور ”فن“ کی جمع بھی ہے جس کا معنی نوع ہے۔ بہت شاخوں والے سے مراد شاخوں ، پتوں اور پھلوں کی کثرت ہے ، ورنہ باغوں کی ٹہنیاں تو ہوتی ہی ہیں اور اگر ”افنک“ ’ فن“ کی جمع ہو تو مطلب یہ ہے کہ وہ دونوں باغ بہت سی قسموں کے پودوں اور درختوں والے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
ذواتا افنان۔ حضرت ابن عباس اور دوسرے علماء نے کہا : وہ پھل کی مختلف اقسام والے ہوں گے۔ افنان کا واحد فن ہے۔ مجاہد نے کہا : افنان سے مراد ٹہنیاں ہیں اس کا واحد فنن ہے ! نابغہ نے کہا : اس کبوتر کا رونا جو بچے کو بلا رہی ہے جو دکھی ہے شاخوں پر نغمے گا رہی ہے۔ محل استدلال لفظ فنن ہے۔ ایک اور شاعر دو پرندوں کی صفت بیان کرتا ہے : دونوں پرندوں نے بان درخت کی ٹہنیوں کی چوٹیوں پر رات گزاری۔ اور ایک شاعر نے کہا : کبوتری ٹہنیوں پر بیٹھ کر کبوتر کو بلا رہی ہے۔ فنن کی جمع افنان اور اس کی جم افانین ہے ایک آدمی چکی کی صفت بیان کرتا ہے : اس کی ایسی لگام ہے جو درخت کی شاخوں سے ہے۔ ایسا درخت جو شاخوں والا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–51
24:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' ذواتا افنان '' سے مراد ہے کہ دونوں باغ مختلف رنگوں والے ہوں گے۔ 25:۔ عبد بن حمید (رح) نے سعید بن جبیر ؓ سے اسی طرح روایت کیا۔ 26:۔ ھناد نے ضحاک (رح) سے بھی اسی طرح روایت کیا۔ 27:۔ ابن جریر (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا (آیت ) '' ذواتا افنان '' سے مراد ہے دونوں باغوں میں مختلف رنگ کے میوے ہوں گے۔ 28:۔ ابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' ذواتا افنان '' سے کثیر شاخوں والے مراد ہیں۔ 29:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے ابن عباس ؓ سے (آیت ) '' ذواتا افنان '' سے مراد ہے کہ ان کی…
Read the full tafseer →ذَوَاتَآ اَفْنَانٍ [ (وہ دونوں باغ) ہری بھری شاخوں والے ہیں ] ن ن : (ن ) فنا ۔ کسی چیز کو مزین کرنا ۔ فنان ج : افنان ، ہری بھری شاخ ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 48 ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–53
اہل تقویٰ کی دو جنتیں اور اس کی صفات ان آیات میں اہل جنت کے بعض انعامات کا تذکرہ فرمایا اور ہر نعمت بیان کرنے کے بعد ﴿فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ﴾ فرمایا ہے کہ اے انس و جن تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے، پہلے رکوع میں دنیاوی جنتوں کا تذکرہ فرمایا اور تیسرے رکوع میں آخرتک جنت کا تذکرہ کیا اور دوسرے رکوع میں جنات اور انسانوں کے عذاب کا تذکرہ فرمایا جس میں قیامت کے دن اور اس کے بعد دوزخ میں مجرمین مبتلا ہوں گے۔ مذکورہ بالا آیات میں اول تو یہ فرمایا کہ جو شخص اپنے رب کے حضور میں کھڑا ہونے سے ڈرا اس کے لیے دو باغ ہوں گے، جنت خود بہت بڑا باغ ہے پھر اس باغ میں الگ الگ باغ ہوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–78
اعزاز واکرام اہل ایمان بعطاء نعمتہائے عظام از رب ذی الجلال والاکرام : قال اللہ تعالیٰ (آیت ) ” ولمن خاف مقام ربہ جنتین ...... الی ....... ذی الجلل والاکرام “۔ (ربط) گذشتہ سلسلہ آیات کفار ومجرمین کی تنبیہ اور ان کی سزاؤں کے بیان پر مشتمل تھا ان آیات میں اہل ایمان اور مطیعین کی جزاؤں اور ان پر آخرت میں عطا کردہ نعمتوں اور راحتوں کا بیان ہے ارشاد فرمایا جارہا ہے۔ اور جو شخص بھی ڈرا اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے اس کیلئے دو باغ ہیں جنت کے عظیم الشان باغات میں سے جن کی نعمتیں اور راحتیں وہ ہیں کہ نہ کسی آنکھ نے دیکھیں اور نہ کسی کان نے سنیں اور نہ کسی انسان کے قلب و دماغ میں اس کا تصور ہوا ظاہر ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–49
18:۔ ” ولمن خاف “ یہ ماننے والوں کے لیے بشارت اخرویہ ہے مقام سے قیامت کے دن حساب کتاب کے لیے بارگاہ خداوندی میں کھڑے ہونے کی جگہ مراد ہے۔ ظاہر ہے جس کو حساب کتاب کا ڈر ہوگا وہ اپنی کتاب اعمال کو برائیوں سے پاک رکھنے کی کوشش کرے گا۔ موقفہ الذی یقف فیہ العباد للحساب یوم القیامۃ فترک المعاصی (مدارک ج 4 ص 160) ۔ جنتٰن سے دو باغ مراد نہیں بلکہ تثنیہ تکرار کے لیے ہے یعنی قسم قسم کے باغات (رضی) ۔ اور ضمائر کا تثنیہ باعتبار لفظ ہے۔ جو شخص آخرت کے حساب کتاب سے ڈر کر اللہ کی اطاعت کو اپنا دستور زندگی بنا لے قیامت کے دن اس کو کوئی باغات ملیں گے جن میں ہر قسم کی نعمتیں موجود ہوں گے۔ ذواتا افنان، یہ فن کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–61
ربطہ آیات پہلے اللہ کے مطلق مادی ، حسی اور روحانی انعامات کا ذکر ہوا۔ پھر اس کے بعد نافرمانوں کے انجام کا تذکرہ ہوا۔ برائی کی چیزوں سے خبردار کرنا بھی نعمت خداوندی ہے تاکہ لوگ اللہ کے عذاب سے بچ جائیں۔ اب اگلی آیات میں اللہ کے اطاعت گزار بندوں کا ذکر آرہا ہے۔ ان کے آگے پھر دو گروہ بن جاتے ہیں جن کی سزائے عمل بھی اللہ نے الگ الگ بیان کی ہے۔ متقین کے لیے انعامات ارشاد ہوتا ہے ولمن خاف مقام ربہ اور جو شخص ڈر گیا اپنے پروردگار کے سامنے کھڑا ہونے سے۔ جس کو وقوع قیامت اور جزائے عمل پر یقین آگیا ، اور اسے علم ہوگیا کہ اس نے ایک دن اللہ رب العزت کی عدات میں کھڑے ہو کر اپنے اعمال کا حساب دینا ہے ، وہ…
Read the full tafseer →ذَوَاتَآ اَفْنَانٍ 48 ۚ ذواتا افنان : ذواتا ذات کا تثنیہ بحالت رفع ہے۔ والیاں ۔ صاحب ذو ذو علی وجهين : أحدهما : يتوصّل به إلى الوصف بأسماء الأجناس والأنواع، ويضاف إلى الظاهر دون المضمر، ويثنّى ويجمع، ويقال في المؤنّث : ذات، وفي التثنية : ذواتا، وفي الجمع : ذوات، ولا يستعمل شيء منها إلّا مضافا، قال : وَلكِنَّ اللَّهَ ذُو فَضْلٍ [ البقرة/ 251] ، وقال : ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوى [ النجم/ 6] ، وَذِي الْقُرْبى [ البقرة/ 83] ، وَيُؤْتِ كُلَّ ذِي فَضْلٍ فَضْلَهُ [هود/ 3] ، ذَوِي الْقُرْبى وَالْيَتامی [ البقرة/ 177] ، إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذاتِ الصُّدُورِ [ الأنفال/ 43] ، وَنُقَلِّبُهُمْ ذاتَ الْيَمِينِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–61
ترکیب : جنتان مبتداء لمن خاف خبرہ مقام ربہ المقام اما اسم منان ای خاف الموقف الذی یقف فیہ العباد للحساب کمافی قولہ تعالیٰ یوم یقوم الناس لرب العالمین و اما مصدر رففیہ احتمالان امابمعنی قیامہ تعالیٰ علی احوال العباد من قام علیہ اذارقبہ کمافی قولہ تعالیٰ فمن ھو قائم علیٰ کل نفس بماکسبت و امابمعنی قیام العباد بین یدیہ۔ فعلی الاول اضافۃ الی الرب تفخیماً و تھویلاً ۔ وقیل لفظ المقام مقحم ای ولمن خاف ربہ والمعنٰی لکل خائفین منکما اولکل واحد جنتان۔ ذواتا تثنیہ ذوات علی الاصل ولامھاتاء (الجلال المحلی) قال ابن الصائغ الالف قبل التاء بدل من یاء وقیل من واوقال الخطیب فی تثنیہ ذات لغتان الاولیٰ الردالی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
ذَوَاتَـآ اَفْنَانٍ ۔ فَبِاَیِّ اٰ لَآئِ رَبِّـکُمَا تُـکَذِّبٰنِ ۔ (الجن : 48، 49) (نہایت ہری بھری ڈالیوں والے۔ تم اپنے رب کے کن کن انعامات کو جھٹلائو گے۔ ) جنت کے درختوں کی شادابی یعنی وہ دو باغ جو ان اہل جنت کو ملیں گے ان باغوں کا ہر درخت زرخیزی اور شادابی اور برگ و بار کی کثرت سے گراں بار ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ باغ کی خوبصورتی اور رعنائی کا دارومدار صرف اس بات پر ہوتا ہے کہ درختوں کی چھائوں کتنی گھنی ہے۔ ہر درخت کی شاخیں کیسی خوش رنگ اور سرسبز سبزی و شادابی کی امین ہیں۔ چناچہ ان باغوں کے درخت ایسی ہی خوبصورتیوں سے مالامال ہوں گے۔ اگلی آیت ترجیع کی آیت ہے اس میں ان نعمتوں کی طرف توجہ دلاتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–55
فہم القرآن ربط کلام : جنت کے باغات کی بہاریں اور ان کے پھل۔ ” اللہ “ کا خوف رکھنے والے جنتی کو جنت میں دو باغ دیئے جائیں گے جن کے درخت طرح طرح کے پھلوں سے لدے ہوئے ہوں گے۔ ان باغات میں دو دو چشمے ہوں گے اور ان کے پھل بھی دو قسم کے ہوں گے۔ جنتی حضرات ایسے قالینوں پر تکیے لگائے تشریف فرما ہوں گے جن کے استر اطلس کے بنے ہوئے ہوں گے اور جنت کے پھل ان کے سامنے ٹپک رہے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے جنت کی بڑی بڑی نعمتوں کا ذکر کرنے کے بعد بار بار ارشاد فرمایا ہے کہ اے جن اور انسانو ! تم اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے۔ اس ارشاد سے یہ ثابت کیا ہے کہ اگر جن اور انسان آخرت کی فکر پیدا کرلیں اور اپنے…
Read the full tafseer →لذت اندوز نعمتیں : 48 : ذَوَاتَآ اَفْنَانٍ (اور وہ دونوں باغ کثیر شاخوں والے ہونگے) افنان جمع فننٌ ٹہنیوں کو خاص اس لیے کیا گیا کیونکہ اسی پر پتے اور پھل آتے ہیں۔ اسی سے سائے دراز ہوتے ہیں۔ اور پھل انہی سے چنے جاتے ہیں۔ نمبر 2۔ افنان جمع فن بمعنی رنگ یعنی رنگا رنگ پھلوں والے۔ مطلب یہ ہوا کہ جنتی کیلئے اس میں وہ چیزیں ہونگی جن کو نفوس پسند کریں گے اور آنکھیں ان سے لذت اندوز ہونگی۔ جیسا شاعر کا قول ومن کل افنان اللذاذۃ والصبا۔ لھوت بہٖ والعیش اخضر ناضر تو یہاں افنانؔ اللذاذۃ کا معنی رنگا رنگ کی لذتیں ہیں۔
Read the full tafseer →47 ۔” فبای آلاء ربکما تکذبن “ پھر دونوں جنتوں کا وصف بیان کیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–53
46۔ 53۔ جن لوگوں کے دل میں قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہونے اور حساب و کتاب کا خوف ہے اور وہ لوگ اس خوف کے سبب سے فرض اور نفل عبادت کے بجا لانے اور گناہوں سے بچنے میں احکام شرع کے پابند ہیں ‘ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان کی بڑی عزت فرمائے گا چناچہ صحیح بخاری 4 ؎ و مسلم وغیرہ میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس میں حشر کی گرمی اور پسینے کے وقت سات شخصوں کو عرش کے سایہ میں جگہ ملنے کی عزت کا ذکر ہے ان سات شخصوں میں ایک شخص وہ ہے جس کو کوئی مالدار حسین عورت بدکاری کا پیغام دے اور وہ شخص اللہ کے خوف سے بدکاری نہ کرے۔ اس بات میں اور بھی حدیثیں ہیں ان آیتوں میں بھی ایسے لوگوں کی عزت کا یہ ذکر ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–49
جب اللہ تعالیٰ نے یہ ذکر فرمایا کہ وہ مجرموں کے ساتھ کیا سلوک کرے گا تو اللہ سے ڈرنے والے تقوی شعار لوگوں کی جزا کا بھی ذکر فرمایا۔ یعنی اس شخص کے لیے جو اپنے رب اور اس کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈر گیا اس نے نواہی کو ترک کردیا اور جس کام کا اسے حکم دیا گیا اس کی تعمیل کی دو جنتیں ہیں جن کے برتن، زیورات اور عمارتیں اور ان میں موجود تمام چیزیں سونے کی ہوں گی ایک جنت ان کو اس امر کی جزا کے طور پر عطا کی جائے گی کہ انہوں نے منہیات کو ترک کردیا اور دوسری جنت نیکیوں کی جزا ہوگی۔ ان دونوں جنتوں کا ایک وصف یہ ہے کہ (ذَوَاتَآ اَفْنَانٍ ) ان دونوں میں بہت سی شاخیں ہیں۔ یعنی ان جنتوں میں انواع و اقسام کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–67
آسمان کا سرخ ہونا قول باری ہے (فاذا انشقت السمآء فکانت وردۃ کالدھان، پس جب آسمان پھٹ جائے گا اور وہ لال چمڑے کی طرح سرخ ہوجائے گا) روایت ہے آسمان سرخ ہوکر روغن کی طرح پگھل جائے گا۔ ایک روایت کے مطابق آسمان دنیا لوہے کا ہے جب قیامت کا دن ہوگا تو اس کا نیلا رنگ جہنم کی آگ کی گرمی کی وجہ سے سرخ رنگ میں تبدیل ہوجائے گا جس طرح لوہے کو آگ پر تپانے کی صورت میں اس کا رنگ سرخ ہوجاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–51
[ 43] ان دونوں باغوں کی شادابی کا ذکر وبیان : سو ان دونوں باغوں کی سرسبزی و شادابی کے بیان کیلئے ارشاد فرمایا گیا کہ دو دونوں باغ ڈالیوں سے بھرپور ہوں گے۔ افنان یا تو جمع ہے فن کی، بمعنی نوع اور قسم، یا یہ جمع ہے فنن کی جس کے معنی شاخ کے آتے ہیں۔ سو ان دونوں باغوں میں قسما قسم کے درخت بھی ہوں گے اور طرح طرح کے پھل بھی، سو اس سے ان دونوں باغوں کی رزخیزی، شادابی اور ان کے برگ و بار کی کثرت کا ظاہر فرمایا گیا ہے، کہ وہ کوئی اجاڑ اور بیاباں قسم کے باغ نہیں ہوں گے، بلکہ وہاں پر ایک ایک درخت شاخوں، ٹہنیوں اور پھلوں کی کثرت سے رشک چمن ہوگا، اور یہ بھی صرف الفاظ کی حد تک ورنہ ان کی اصل حقیقت خدا ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–78
نیک لوگوں کا اچھا انجام تشریح :۔ آیت نمبر 46 کی وضاحت ہم اس حدیث مقدسہ سے کرتے ہیں۔ حضرت عائشہ ؓ نے پوچھا ' یا رسول اللہ ﷺ ! کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص چوری، زنا اور شراب نوشی کرتے ہوئے اللہ سے ڈرے ؟ فرمایا نہیں اے صدیق کی بیٹی ! اس سے مراد وہ شخص ہے جو نماز پڑھتا ہے، روزے رکھتا ہے، زکوٰۃ دیتا ہے اور پھر خدائے عزو جل سے ڈرتا رہتا ہے '۔ (از شعور حیات مصنف محمد یوسف اصلاحی) یعنی گناہ سے پہلے ڈرنا۔ حضرت حسن بصری ؓ کا قول ہے 5 چیزیں قساوت قلب کا نشان ہیں (1) توبہ کی امید پر گناہ کرنا (2) عمل کرنا بغیراخلاص کے (3) علم سیکھنا اور عمل نہ کرنا (4) رزق کھانا اور شکر نہ کرنا (5) مردوں کو دفن کرنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–78
آیات 46 تا 48۔ اسرار ومعارف۔ جو کوئی اپنے پروردگار کے سامنے پیش ہوکرجوابدہی سے ڈرتا ہے اور یوں اس کی نافرمانی نہیں کرتا یہ وصف اللہ کے خاص بندوں اور اہل اللہ کا ہے جنہیں آخرت مستحضر رہتی ہے یعنی ہر حال میں اللہ کے سامنے پیش ہونے کامراقبہ دائمی رہتا ہے توخلوص دل سے اطاعت کا سبب بن جاتا ہے ایسے لوگوں کے لیے ہر ایک کے واسطے دو باغ ہیں دودوجنتیں ہیں بھلاکس کس انعام کا شکر ادا نہ کرو گے دونوں بہت گھنے اور بہت آباد ہوں گے تو کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے جبکہ ان باغات میں ابلتے چشموں کا پانی جاری ہوگا ، حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ آب رواں کو جنتی جدھر کو کہے گا ادھر چلنا شروع کردے گا تم کس کس نعمت کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–52
ف 4 ایک قسم وہ جس سے وہ دنیا میں آشنا تھا اور دوسری قسم وہ جو کبھی اس کے خواب و خیال میں بھی نہ آئی تھی یا مطلب یہ ہے کہ ایک باغ میں ایک طرح کئے ہیں اور پھول ہوں گے اور دوسرے میں دوسری طرح کے واللہ اعلم۔
Read the full tafseer →(55:48) ذواتا افنان : ذواتا ذات کا تثنیہ بحالت رفع ہے۔ والیاں ۔ صاحب مضاف، افنان یہ یا تو فنن کی جمع ہے (بروزن فعل) بمعنی شاخیں یا فن (فعل) کی جمع ہے بمعنی نوع، قسم، رنگارنگ۔ علامہ ابوحیان بحر المحیط میں اول الذکر کو اولیٰ سمجھتے ہیں کیونکہ افعال (افنان) کے وزن پر فعل (فنن) کی جمع بہ نسبت فعل (فن) کی اسی وزن (افعال) پر جمع کے زیادہ مستعمل ہے علماء کی اکثریت کی یہی رائے ہے۔ مضاف الیہ ہے۔ ذواتا افنان (شاخوں والیاں) یہ جنتن کی صفت ہے۔ یعنی پھلے پھولے، ہرے بھرے۔ خزاں۔ گرمی و سردی سے محفوظ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–78
لغات القرآن آیت نمبر 46 تا 78 ذواتا افنان بہت شاخوں والے۔ بطائن (بطن) استر، پیٹ۔ استبرق سبز ریشم دان قریب قریب۔ قصرت روکنے والیاں۔ لم یطمت ہاتھ نہ لگایا ہوگا۔ مدھآ متن دو گہرے سبز۔ نضاختن دو چشمے جوش مارتے ہوئے۔ رمان انار ۔ خیرات بہت عمدہ۔ حسان خوبصورت و حسین۔ الخیام خیمے۔ رفرق مسند، مسہریاں۔ عبقری قیمتی۔ تبرک برکت والا۔ الاکرام بہت بزرگی اور عظمت والا۔ تشریح : آیت نمبر 46 تا 79 اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ ہے کہ وہ تقویٰ ، پرہیز گاریوں اور نیکیوں کے ساتھ زندگی گذارنے والوں کو اجر عظیم عطا فرمائے گا۔ چناچہ کفار و مشرکین اور گناہگار مجرموں کی سزا کو بیان کرنے کے بعد ان صالح مومنین کے لئے اجر عظیم کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–62
(ف 1) ان آیتوں میں پہلے تو یہ فرمایا کہ جن لوگوں کے دل اللہ کے سامنے کھڑے ہونے کا خوف ہوگا انکو جنت کی دو منزلیں ملیں گی ایک ان کے نیک عمل کے بدلے میں اور ایک خوف الٰہی سے برے کاموں سے بچنے کے بدلے میں پھر ان منزلوں کے سازوسامان کا ذکر کیا کہ بعض منزلوں میں اعلی درجہ کا سازوسامان ہے اور بعض میں ان سے کم درجہ کا، ہر طرح کی منزلوں کے سازوسامان کا ذکر اسلیے فرمایا تاکہ معلوم ہوجائے کہ جس قدر خوف الہی انسان کے دل میں ہوگا اسی قدرسازوسامان والی جنت کیدومنزلیں اس کو ملیں گی آگے فرمایا کہ وہ دونوں باغ سرسبز و شاداب ہیں ایسی سبزی ہے کہ نہایت ہی گہری سبزی ہے اور ان دونوں باغوں میں دوچشمے ہیں جو جوش…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–51
[11] یعنی جب دوزخ میں پیاس کے مارے ان کا برا حال ہوگا تو وہ بھاگ بھاگ کر پانی کے چشموں کی طرف جائیں گے مگر وہاں کھولتا ہوا پانی ملے گا۔ اسی طرح انہی کے درمیان پھیرے لگانے میں ان کی زندگی گزرے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–54
دورِ عیش کا آغاز 2: جنت نام ہے ۔ پوری آسودگی اور کامل عیش کا ۔ اور ایسی جگہ کا جہاں ہر آن اللہ کے فضل کی بارش ہوتی ہے ۔ اور انسان کو ہر نوع کے انعامات سے نوازا جاتا ہے ۔ یہ مقام ہے ، اللہ کی رحمت اور عفو کا ۔ یہ ٹھکانہ ہے ۔ ایسے لوگوں کا جنہوں نے اللہ کی رضا کے لئے ہر جذبہ کو ٹھکرایا ہے ۔ اور تکلیفوں او صعوبتوں کو برداشت کیا ہے ۔ جنہوں نے مال و دولت کی پرواہ نہیں کی ۔ جنہوں نے مال و دولت کی پرواہ نہیں کی ۔ اور فقر میں استغنا کا ثبوت دیا ہے ۔ جنہوں نے روح کی تسکین کے لئے جسم کی تذلیل کی ہے ۔ اور مظاہرہ عبودیت میں اپنا سب کچھ اس کی راہ میں صرف کیا ہے ۔ ان لوگوں کے لئے اب دور عیش و تقرب ہے ۔ ان…
Read the full tafseer →(48) وہ دونوں باغ بکثرت ٹہنیوں اور شاخوں والے ہوں گے۔ یعنی گھنے ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–54
ف 1۔ قاعدہ ہے کہ ابرہ بہ نسبت استر کے زیادہ نفیس ہوتا ہے پس جب استر استبرق کا ہوگا تو ابرہ کیسا کچھ ہوگا۔
Read the full tafseer →یہ دونوں باغ گھنی شاخوں والے ہوں گے 84 وہی دو باغات جن کا ذکر پیچھے گزر چکا ہے یعنی جو لوگ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ڈرتے زندگی بسر کرتے ہیں انھیں جنت عدن کے اندر دو دو باغ عطا کیے جائیں گے۔ ایک وہ جن میں ان کی رہائش گاہ ہوگی جہاں سے وہ اپنے اہلخانہ کے ساتھ رہ رہے ہوں گے اور دوسراباغ وہ جہاں ان کا مہمان خانہ ہوگا اور آنے جانے والوں کیلئے بیٹھنے کی جگہ ہوگی تاکہ وہ عیش و خوشی ان کو میسر آئے جو دنیوی زندگی میں ان کو محص اس لیے میسر نہ آئی کہ وہ سیدھی راہ چلنا چاہتے تھے اور محنت و مزدوری کر کے جائز اور درست صلہ حاصل کر کے نہایت محنت و مشقت سے تنگ جگہوں میں وقت گزارتے رہے اور انھوں نے دائیں بائیں بالکل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–51
ذَوَاتَا أَفْنَانٍ (both having lot of branches...55:48). This describes the first two Gardens. There will be plenty of trees abounding in. branches and consequently their shade will be dense, and the fruits will be in abundance. The other two Gardens are described later. No such qualities are mentioned about them, which may imply their relative deficiency in this quality.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–51
42 From here till the end, the word alaa ' has been used both for the blessings and forthe powers, and there is an aspect of the praiseworthy qualities too. in it. If we take the first meaning, the meaning of repeating the refrain in this context will be: "If you like to deny the blessings of AIIah, you may do so. The righteous will certainly receive these blessings from their Lord." In the second case the meaning would be: "If you think it is impossible for AIIah to create the Garden and bless His righteous servants with these bounties in it, you may think so. AIIah certainly lass the power…
Read the full tafseer →