Ar-Rahmaan 55:46

Ar-Rahmaan · from ayah 46

55:46

وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِ ۟ۚوَلِمَنۡ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِ‌ۚ

اور جو شخص اپنے پروردگار کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرا اس کے لئے دو باغ ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

But for he who has feared the position of his Lord are two gardens -

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 3 of surah · Ruku 13 of juz

Read the whole surah · Surah Ar-Rahmaan

All translations of 55:46

اور ہر اُس شخص کے لیے جو اپنے رب کے حضور پیش ہونے کا خوف رکھتا ہو، دو باغ ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جو شخص اپنے پروردگار کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرا اس کے لئے دو باغ ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور اس شخص کے لیے جو اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرا دو جنتیں ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور جو شخص (دنیا میں) اپنے پروردگار کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرتا تھا، اس کے لیے دو باغ ہوں گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور جو اپنے رب کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرے اس کے لیے دو جنتیں ہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور جو شخص اپنے رب کے حضور (پیشی کے لئے) کھڑا ہونے سے ڈرتا ہے اُس کے لئے دو جنتیں ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور اس شخص کے لیے جو اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈر گیا، دو باغ ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور جو شخص اپنے پروردگار کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرتا رہا۔ اس کے لئے دو باغ ہوں گے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

(اور ان کے لیے جو اپنے رب کے حضور پیشی سے ڈرتے رہے دو باغ ہوں گے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور جو کوئی ڈرتا رہے گا اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے (اور اس کے حضور پیشی) سے تو اس کے لئے دو جنتیں ہیں

— مولانا اسحاق مدنی

اور جو کوئی اپنے پروردگار کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرتا رہے اس کے لئے دو دو باغ ہوں گے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور جو کوئی اپنے رب کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرتا رہا اس کے لیے دو جنتیں ہیں۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرا اس کے لیے دو باغ ہیں

— محترمہ رفعت اعجاز

For any who fears to stand before his Lord are two Gardens.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And for the one who is fearful of having to stand before his Lord, there are two gardens, __

— Muhammad Taqi Usmani

And for the one who is fearful of having to stand before his Lord, there are two gardens, __

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

But for him who fears the standing before his Lord, there will be two Gardens.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

But for him who feareth the standing before his Lord there are two gardens.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

But for he who has feared the position of his Lord are two gardens -

— Saheeh International

Those who fear their Lord will have two gardens

— Muhammad Sarwar

And for him who fears to stand before his Lord are two gardens.

— Muhammad Habib Shakir

And for him who dreadeth the standing before his Lord will be two Gardens.

— Abdul Majid Daryabadi

But for such as fear the time when they will stand before (the Judgment Seat of) their Lord, there will be two Gardens-

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 55:46

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 46–53

فکر آخرت اور انسان ابن شوذب اور عطا خراسانی فرماتے ہیں آیت (وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِ 46ۚ) 55۔ الرحمن :46) حضرت صدیق اکبر کے بارے میں نازل ہوئی ہے، حضرت عطیہ بن قیس فرماتے ہیں یہ آیت اس شخص کے بارے میں نازل ہوئی ہے جس نے کہا تھا مجھے آگ میں جلا دینا تاکہ میں اللہ تعالیٰ کو ڈھونڈانے پر نہ ملوں یہ کلمہ کہنے کے بعد ایک رات ایک دن توبہ کی اللہ تعالیٰ نے قبول فرما لی اور اسے جنت میں لے گیا۔ لیکن صحیح بات یہ ہے کہ یہ آیت عام ہے حضرت ابن عباس وغیرہ کا قول بھی یہی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو شخص قیامت کے دن اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے کا ڈر اپنے دل میں رکھتا ہے اور اپنے آپ کو نفس کی خواہشوں سے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الرَّحْمٰن 40 یعنی جس نے دنیا میں خدا سے ڈرتے ہوئے زندگی بسر کی ہو، جسے ہمیشہ یہ احساس رہا ہو کہ میں دنیا میں شتر بےمہار بنا کر نہیں چھوڑ دیا گیا ہوں، بلکہ ایک روز مجھے اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونا اور اپنے اعمال کا حساب دینا ہے۔ یہ عقیدہ جس شخص کا ہو وہ لامحالہ خواہشات نفس کی بندگی سے بچے گا اندھا دھند ہر راستے پر نہ چل کھڑا ہوگا۔ حق و باطل، ظلم و انصاف، پاک و ناپاک اور حلال و حرام میں تمیز کرے گا۔ اور جان بوجھ کر خدا کے احکام کی پیروی سے منہ نہ موڑے گا۔ یہی اس جزا کی اصل علّت ہے جو آگے بیان کی جا رہی ہے۔ سورة الرَّحْمٰن 41 جنت کے اصل معنی باغ کے ہیں۔ قرآن مجید میں کہیں تو اس پورے عالم…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 46–47

خلاصہ تفسیر (ان آیتوں میں دو باغوں کا ذکر وَلِمَنْ خَافَ سے شروع ہوا ہے اور دو باغوں کا ذکر وَمِنْ دُوْنِهِمَا سے پہلے دو باغ خواص مقربین کے ہیں اور پچھلے دو باغ عامہ مومنین کے لئے، دلائل اس تعیین و تقسیم کے آگے لکھ دیئے جاویں گے، یہاں صرف تفسیر لکھی جاتی ہے، پچھلی آیات میں مجرمین کی سزاؤں کا ذکر تھا، یہاں سے مومنین صالحین کی جزا کا ذکر شروع ہوتا ہے) اور (اہل جنت کا حال یہ ہے کہ ان میں دو قسم ہیں، خواص اور عوام پس) جو شخص (خواص میں سے ہو اور) اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے (ہر وقت) ڈرتا رہتا ہو (اور ڈر کر شہوات و معاصی سے مجتنب رہتا ہو اور یہ شان خواص ہی کی ہے، کیونکہ عوام پر تو گاہ گاہ خوف…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 46–47

4۔ آگے آیات 46۔ 78 کا مضمون مجرموں کا انجام بیان کرنے کے بعد آگے اس صلہ کی تفصیل ہے جو اللہ سے ڈرتے رہنے والوں کو قیامت میں ملنے والا ہے۔ اس تقابل سے دونوں گروہوں کی پوری تصویر سامنے آگئی ہے۔ نظم کلام بالکل واضح ہے۔ بس اتنی بات یاد رکھنے کی ہے کہ آیات 46۔ 61 میں مقربین کی حیثیت کا بیان ہے اور اس کے بعد کی آیات میں اصحاب الیمین کی جنت کا، ان دونوں گروہوں کے فرق مراتب کی تفصیل اس کے بعد والی سورة الواقعہ میں آئے گی جو اس کی توام سورة ہے۔ اس روشنی میں آیات کی تلاوت فرمایئے۔ 5۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت۔۔ (ولمن خاف مقام ربہ جنتن فبای الا ربکما تکذبین) (46۔ 47) (مقتیوں کا انجام)۔ مجرمین کے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 45–46

46۔ 1 جیسے حدیث میں آتا ہے ' دو باغ چاندی کے ہیں، جن میں برتن اور جو کچھ ان میں ہے، سب چاندی کے ہونگے۔ دو باغ سونے کے ہیں اور ان کے برتن اور جو کچھ ان میں ہے سونے کے ہی ہونگے ' (صحیح بخاری تفسیر رحمن) بعض آثار میں ہے کہ سونے کے باغ خواص مومنین مقربین اور چاندی کے باغ عام مومنین اصحاب الیمین کے لیے ہوں گے۔ (ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 39–61

9: یعنی سوال و جواب اور حساب و کتاب کا مرحلہ تو اس وقت گزرچکا ہوگا جس میں ان لوگوں سے حجت قائم کرنے کے لئے سوالات بھی کئے گئے تھے، لیکن اب ان کو دوزخ میں ڈالنے کے لئے نہ تو اللہ تعالیٰ کو کسی سے یہ پوچھنے کی ضرورت ہوگی کہ اس نے کیا گناہ کیا تھا، کیونکہ اسے خود ہی معلوم ہے، اور نہ فرشتوں کو ضرورت ہوگی کیونکہ جیسا اگلی آیت میں آرہا ہے، مجرم لوگ اپنے چہرے کی علامتوں ہی سے پہچان لئے جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 46–47

قرآن کی جس قدر سورتیں اب تک گزری ہیں ان میں پہلی بار دو باغوں کا ذکر ہے اور یہ دو باغ بھی جنت کے اندر ہی ہوں گے جو بہت ہی وسیع اور بڑی جگہ ہوگی لیکن یہاں دو باغوں کا خصوصی ذکر محض ان کے عالیشان ہونے کے ناطے سے ہے۔ سورة واقعہ میں یہ بات آنے والی ہے کہ اہل جنت کے دو فریق ہوں گے۔ پہلے السابقون المقربون ہوں گے اور اصحاب الیمین ہوں گے۔ دونوں فریقوں کے لئے نعمتیں ہوں گی۔ یہ دو باغ یوں معلوم ہوتا ہے کہ یہ دو اعلیٰ مرتبے کے لوگوں کے لئے ہوں گے اور یہ وہی لوگ ہیں جن کو السابقون الاولون کہا گیا ہے اور ان دو باغات سے کم درجے کے بھی دو اور باغ ہوں گے اور یہ باغ شاید السابقون اولون کے بعد کے لوگوں کے لئے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 45–46

11 یعنی جس کو دنیا میں ڈر لگا رہا کہ ایک روز اپنے رب کے آگے کھڑا ہونا اور رتی رتی کا حساب دینا ہے۔ اور اسی ڈر کی وجہ سے اللہ کی نافرمانی سے بچتا رہا اور پوری طرح تقویٰ کے راستوں پر چلا اس کے لیے وہاں دو عالیشان باغ ہیں جن کی صفات آگے بیان کی گئی ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 46{ وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ جَنَّتٰنِ۔ } ”اور جو کوئی اپنے رب کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرتا رہا اس کے لیے دو جنتیں ہیں۔“ اہل جنت کی صفت یہ بیان ہوئی ہے کہ وہ دنیا میں اپنے رب کے حضور پیشی سے لرزاں و ترساں رہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کا جادئہ مستقیم پر قائم رکھنے والی واحد چیز یہی اللہ تعالیٰ کے حضور پیشی کا خوف ہے۔ دو جنتوں کے بارے میں مفسرین نے مختلف آراء نقل کی ہیں ‘ تاہم دو جنتوں کی توجیہہ جو میری سمجھ میں آئی ہے اور مجھے اپنی اس رائے پر اطمینان اور انشراح ہے کہ یہ انسانوں اور جنوں کے لیے الگ الگ جنتوں کا بیان ہے۔ چونکہ اس سورت میں خطاب بھی مسلسل ان دونوں سے ہے اور جہنم کی وعید بھی…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 45–46

31 اس سورة کی اکثر آیات میں دو دو چیزوں کا ذکر آرہا ہے لہذا یہاں بھی دو باغات کا ذکر فرمایا : حالانکہ ہر جنتی کو کئی باغات ملیں گے۔ جیسا کہ بعض دوسری آیات سے واضح ہے۔ پھر تمام اہل جنت کے سارے باغوں کے مجموعہ کا نام بھی الجنۃ ہے۔ یعنی باغات کا مخصوص مقام۔ بہشت۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 45–46

25۔ یہ ذکر خواص امت اور اعلی متقیوں کا ہے جو برابر ہر وقت ڈرتے رہتے ہیں۔ (آیت) ” ولمن .... ربہ “۔ جو کوئی حق تعالیٰ کے سامنے حاضری سے ڈرتا ہے اور اس ڈر سے برابر طاعت حق میں لگا رہے۔ محدثین نے آیت کے ذیل میں ذکر کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اللہ سے ڈرنے والے کو جنت کی بشارت دی، اس پر صحابی ابودرداء ؓ نے عرض کیا کہ اگر ایسا بندہ چوری اور زنا کرے تو بھی ؟ حضور ﷺ نے یہ آیت پڑھ کر ارشاد فرمایا کہ ہاں بندہ اگر چوری اور زنا کرے تو بھی۔ اس پر صحابی نے حیرت سے دوبارہ وہی سوال کیا۔ مکرر وہی جواب ارشاد ہوا۔ یہاں تک کہ تیسری بار کے سوال کے جواب میں ارشاد ہوا کہ ہاں، چاہے ابودارداء کو کیسا ہی ناگوار گزرے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 46–78

ترجمہ : اور اس شخص کے لئے یعنی ان میں سے ہر ایک کے لئے یا دونوں کے مجموعہ کے لئے جو اپنے رب کے روبرو حساب کے لئے کھڑے ہونے سے ڈرا اور اس نے اس کی نافرمانی ترک کردی دو باغ ہیں سو تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کا انکار کرو گے ؟ (دونوں باغ) کثیر شاخوں والے (گھنے) ہوں گے ذواتا، ذوات کا تثنیہ ہے اصل کے مطابق اور اس کا لام یاء ہے، افنان، فنن کی جمع ہے (جیسا کہ) اطلال، طلل کی جمع ہے، سو تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کے منکر ہوجائو گے ؟ (دونوں باغ) کثیر شاخوں والے (گھنے) ہوں گے ذواتا، ذوات کا تثنیہ ہے اصل کے مطابق اور اس کا لام یاء ہے، افنان، فنن کی جمع ہے (جیسا کہ) اطلال، طلل کی جمع ہے، سو تم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ولمن خاف مقام ربہ جنتن اور جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرتا رہتا ہے ‘ اس کے لیے دو باغ ہوں گے ‘ ابن ابی حاتم نے ابن سوذب کی روایت سے لکھا ہے کہ یہ آیت حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے متعلق نازل ہوئی۔ مقام یا ظرف مکان ہے (کھڑے ہونے کی جگہ) یعنی وہ جگہ جہاں بندے حساب دینے کے لیے کھڑے ہوں گے ‘ یا رب کے سامنے حساب فہمی کے لیے کھڑے ہونے کی جگہ۔ قتادہ نے کہا : مؤمن اس مقام سے ڈرتے ہیں اس لیے خاص اللہ کے لیے عمل کرتے اور شب و روز اس کی اطاعت میں سرگرم رہتے ہیں یا مقام مصدر میمی ہے اس وقت مقام (بمعنی قیام) کا معنی ہوگا۔ نگرانی ‘ دیدبانی۔ عربی محاورہ ہے : قام علیہ ‘ اسکی نگرانی رکھی۔ بلفظ قیام اس معنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور جو شخص ہر وقت اپنے پروردگار کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرتا رہتا ہو اور نافرمانیوں اور گناہوں سے اجتناب کرتا ہو اس کے لیے جنت میں دو باغ ہوں گے ایک جنت العدن اور دوسری جنت الفردوس۔ شان نزول : وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِ (الخ) ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے کتاب العظہ میں عطاء سے روایت کیا ہے کہ ایک روز حضرت ابوبکر صدیق نے قیامت، میزان، عمل اور جنت و دوزخ کا ذکر کیا پھر فرمایا کہ میری تمنا اور خواہش تو یہ ہے کہ میں ان سبزیوں میں سے کوئی سبزی ہوتا۔ جانور آتا اور مجھے کھا جاتا تو پیدا ہی نہ کیا گیا ہوتا اس پر یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 46–47

1۔ وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ جَنَّـتٰنِ :”مقام“”قام یقوم قیاماً“ (ن) سے ظرف بھی ہوسکتا ہے ،”کھڑا ہونے کی جگہ یا وقت“ اور مصدر میمی بھی ہوسکتا ہے۔ ”کھڑا ہونا“۔ جہنم اور اہل جہنم کے تذکرے کے بعد اہل جنت کا ذکر فرمایا۔ ”مقام ربہ“ کے دو مطلب ہوسکتے ہیں اور دونوں قرآن مجید کی آیات میں ملتے ہیں ، ایک یہ کہ جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈر گیا اس کے لیے دو باغ ہیں۔ اس صورت میں ”مقام ربہ“ سے مراد بندے کا اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونا ہے۔ اس کی تائید اس آیت سے ہوتی ہے ، فرمایا :(یَّوْمَ یَقُوْمُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعٰـلَمِیْنَ) (المطففین : 6)”جس دن لوگ رب العالمین کے لیے کھڑے ہوں گے“۔ دوسرا…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 46–47

ولمن خاف مقام ربہ جنتان۔ اس میں دو مسئلے ہیں : مسئلہ نمبر 1: جب جہنمیوں کے احوال کا ذکر کیا تو نیکو کاروں کے لئے جو تیار کیا اس کا بھی ذکر کیا معنی ہے وہ اپنے رب کے حضور حساب کے لئے کھڑا ہونے سے ڈرا تو اس نے معصیت کو ترک کیا۔ مقام مصدر ہے قیام کے معنی میں ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ اپنے رب کے اپنیاوپر کھڑا ہونے سے ڈرا ‘ یعنی اللہ تعالیٰ اس کو جھانگ رہا ہے اور اس پر مطلع ہے اس کی وضاحت اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے۔ مجاہد اور ابراہیم نخعی نے کہا : اس سے مراد وہ آدمی ہے جو معصیت کا ارادہ کرتا ہے اور پھر اللہ تعالیٰ کو یاد کرتا ہے تو اس کی پکڑ کے خوف سے معصیت کو ترک کردیتا ہے۔ مسئلہ نمبر 2: یہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 46–47

1:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن شوذب (رح) سے روایت کیا کہ یہ (آیت ) '' ولمن خاف مقام ربہ جنتن '' (جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرتا ہے) ابوبکر صدیق ؓ کے بارے میں نازل ہوئی۔ 2:۔ ابن ابی حاتم (رح) وابوالشیخ (رح) نے العظمہ میں وعطاء (رح) سے روایت کیا کہ ایک دن ابوبکر صدیق ؓ سے قیامت اور اعمال کے تولنے اور جنت اور دوزخ اور فرشتوں کے صفیں باندھنے اور آسمانوں کے لیپٹنے اور سورج کی روشنی لپیٹی جانے اور ستاروں کے بکھر جانے کے بارے میں غور وفکر کیا تو فرمایا میں اس بات دوست رکھتا ہوں (یعنی پسند کرتا ہوں) کہ میں ایک سبزہ ہو تو اس سبزے میں ایک جانور مجھ پر آتا اور مجھے کھالیتا اور میں پیدا نہ کیا…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَلِمَنْ خَافَ [ اور اس کے لیے جو ڈرا ] مَقَامَ رَبِّهٖ [ اپنے رب (کے سامنے ) کھڑے ہونے کے وقت سے ] جَنَّتٰنِ [دو باغ ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 46–53

اہل تقویٰ کی دو جنتیں اور اس کی صفات ان آیات میں اہل جنت کے بعض انعامات کا تذکرہ فرمایا اور ہر نعمت بیان کرنے کے بعد ﴿فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ﴾ فرمایا ہے کہ اے انس و جن تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے، پہلے رکوع میں دنیاوی جنتوں کا تذکرہ فرمایا اور تیسرے رکوع میں آخرتک جنت کا تذکرہ کیا اور دوسرے رکوع میں جنات اور انسانوں کے عذاب کا تذکرہ فرمایا جس میں قیامت کے دن اور اس کے بعد دوزخ میں مجرمین مبتلا ہوں گے۔ مذکورہ بالا آیات میں اول تو یہ فرمایا کہ جو شخص اپنے رب کے حضور میں کھڑا ہونے سے ڈرا اس کے لیے دو باغ ہوں گے، جنت خود بہت بڑا باغ ہے پھر اس باغ میں الگ الگ باغ ہوں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 46–78

اعزاز واکرام اہل ایمان بعطاء نعمتہائے عظام از رب ذی الجلال والاکرام : قال اللہ تعالیٰ (آیت ) ” ولمن خاف مقام ربہ جنتین ...... الی ....... ذی الجلل والاکرام “۔ (ربط) گذشتہ سلسلہ آیات کفار ومجرمین کی تنبیہ اور ان کی سزاؤں کے بیان پر مشتمل تھا ان آیات میں اہل ایمان اور مطیعین کی جزاؤں اور ان پر آخرت میں عطا کردہ نعمتوں اور راحتوں کا بیان ہے ارشاد فرمایا جارہا ہے۔ اور جو شخص بھی ڈرا اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے اس کیلئے دو باغ ہیں جنت کے عظیم الشان باغات میں سے جن کی نعمتیں اور راحتیں وہ ہیں کہ نہ کسی آنکھ نے دیکھیں اور نہ کسی کان نے سنیں اور نہ کسی انسان کے قلب و دماغ میں اس کا تصور ہوا ظاہر ہے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 46–49

18:۔ ” ولمن خاف “ یہ ماننے والوں کے لیے بشارت اخرویہ ہے مقام سے قیامت کے دن حساب کتاب کے لیے بارگاہ خداوندی میں کھڑے ہونے کی جگہ مراد ہے۔ ظاہر ہے جس کو حساب کتاب کا ڈر ہوگا وہ اپنی کتاب اعمال کو برائیوں سے پاک رکھنے کی کوشش کرے گا۔ موقفہ الذی یقف فیہ العباد للحساب یوم القیامۃ فترک المعاصی (مدارک ج 4 ص 160) ۔ جنتٰن سے دو باغ مراد نہیں بلکہ تثنیہ تکرار کے لیے ہے یعنی قسم قسم کے باغات (رضی) ۔ اور ضمائر کا تثنیہ باعتبار لفظ ہے۔ جو شخص آخرت کے حساب کتاب سے ڈر کر اللہ کی اطاعت کو اپنا دستور زندگی بنا لے قیامت کے دن اس کو کوئی باغات ملیں گے جن میں ہر قسم کی نعمتیں موجود ہوں گے۔ ذواتا افنان، یہ فن کی…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 46–61

ربطہ آیات پہلے اللہ کے مطلق مادی ، حسی اور روحانی انعامات کا ذکر ہوا۔ پھر اس کے بعد نافرمانوں کے انجام کا تذکرہ ہوا۔ برائی کی چیزوں سے خبردار کرنا بھی نعمت خداوندی ہے تاکہ لوگ اللہ کے عذاب سے بچ جائیں۔ اب اگلی آیات میں اللہ کے اطاعت گزار بندوں کا ذکر آرہا ہے۔ ان کے آگے پھر دو گروہ بن جاتے ہیں جن کی سزائے عمل بھی اللہ نے الگ الگ بیان کی ہے۔ متقین کے لیے انعامات ارشاد ہوتا ہے ولمن خاف مقام ربہ اور جو شخص ڈر گیا اپنے پروردگار کے سامنے کھڑا ہونے سے۔ جس کو وقوع قیامت اور جزائے عمل پر یقین آگیا ، اور اسے علم ہوگیا کہ اس نے ایک دن اللہ رب العزت کی عدات میں کھڑے ہو کر اپنے اعمال کا حساب دینا ہے ، وہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ جَنَّتٰنِ۝ 46 خوف الخَوْف : توقّع مکروه عن أمارة مظنونة، أو معلومة، كما أنّ الرّجاء والطمع توقّع محبوب عن أمارة مظنونة، أو معلومة، ويضادّ الخوف الأمن، ويستعمل ذلک في الأمور الدنیوية والأخروية . قال تعالی: وَيَرْجُونَ رَحْمَتَهُ وَيَخافُونَ عَذابَهُ [ الإسراء/ 57] ( خ و) الخوف ( س ) کے معنی ہیں قرآن دشواہد سے کسی آنے والے کا خطرہ کا اندیشہ کرنا ۔ جیسا کہ کا لفظ قرائن دشواہد کی بنا پر کسی فائدہ کی توقع پر بولا جاتا ہے ۔ خوف کی ضد امن آتی ہے ۔ اور یہ امور دنیوی اور آخروی دونوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے : قرآن میں ہے : ۔ وَيَرْجُونَ رَحْمَتَهُ وَيَخافُونَ عَذابَهُ […

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 46–61

ترکیب : جنتان مبتداء لمن خاف خبرہ مقام ربہ المقام اما اسم منان ای خاف الموقف الذی یقف فیہ العباد للحساب کمافی قولہ تعالیٰ یوم یقوم الناس لرب العالمین و اما مصدر رففیہ احتمالان امابمعنی قیامہ تعالیٰ علی احوال العباد من قام علیہ اذارقبہ کمافی قولہ تعالیٰ فمن ھو قائم علیٰ کل نفس بماکسبت و امابمعنی قیام العباد بین یدیہ۔ فعلی الاول اضافۃ الی الرب تفخیماً و تھویلاً ۔ وقیل لفظ المقام مقحم ای ولمن خاف ربہ والمعنٰی لکل خائفین منکما اولکل واحد جنتان۔ ذواتا تثنیہ ذوات علی الاصل ولامھاتاء (الجلال المحلی) قال ابن الصائغ الالف قبل التاء بدل من یاء وقیل من واوقال الخطیب فی تثنیہ ذات لغتان الاولیٰ الردالی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 46–47

وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ جَنَّتٰنِ ۔ فَبِاَیِّ اٰ لَآئِ رَبِّـکُمَا تُـکَذِّبٰنِ ۔ (الجن : 46، 47) (اور اس شخص کے لیے جو اپنے رب کے حضور پیش ہونے سے ڈرتا رہا دو باغ ہیں۔ تم اپنے رب کے کن کن انعامات کو جھٹلائو گے۔ ) اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والوں کا انجام گزشتہ رکوع کا آغاز بھی اسی حقیقت کے بیان سے ہوا تھا کہ زمین پر بسنے والی ہر مخلوق فنا ہونے والی ہے اور باقی رہنے والی ذات صرف اللہ تعالیٰ کی ہے۔ مقصود اس سے یہ تھا کہ لوگ اپنی موت اور اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہی کے تصور سے بہرہ ور ہو کر زندگی کے طرزعمل کو درست کرنے کی کوشش کریں۔ اس رکوع کے آغاز میں بھی اسی حقیقت کو دوسرے پہلو سے نمایاں کیا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 46–47

فہم القرآن ربط کلام : جہنمیوں کے مقابلے میں جنتیوں کا مقام اور انعام۔ جو شخص قیامت کے دن سے پہلے اپنے رب کے حضور کھڑا ہونے سے ڈر گیا اس کے لیے جنت میں دو باغ ہوں گے۔ اللہ کا خوف اور قیامت کا ڈر ایسا عمل ہے جو انسان کو صراط مستقیم پر گامزن رکھتا ہے، انسان حرام و حلال کی تمیز کرتا ہے، ظلم سے بچتا ہے اور ہر حال میں عدل پر قائم رہتا ہے۔ وہ نیکی کرنے کے باوجود اس پر اتراتا نہیں بلکہ ہر وقت اپنے رب سے لرزاں رہتا ہے۔ یہی وہ عقیدہ ہے جس بنا پر سیدنا ابوبکر صدیق ؓ نے ایک تنکا پکڑ کر کہا تھا کہ کاش ! میں انسان کی بجائے ایک تنکا ہوتا تاکہ قیامت کے دن کے حساب و کتاب سے بچ جاتا۔ (سیرت ابوبکر ؓ جس نے اپنے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

فرائض ادا کرتا ہے : 46 : وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ جَنَّتٰنِ (اور جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرتا رہتا ہے اس کے لئے دو باغ ہونگے) مقامؔ سے وہ موقف مراد ہے جب یہ حساب کیلئے بار گاہ الٰہی میں کھڑا ہوگا۔ اس کو سامنے رکھ کر وہ گناہوں سے باز رہتا ہے۔ یا نمبر 2۔ فرائض ادا کیے۔ ایک قول یہ ہے کہ مقامؔ کا لفظ زائد ہے جیسا کہتے ہیں نفیت عنہ مقام الذئب ای نفیت عنہ الذئب۔ جنتانؔ دو جنتوں سے انسان کی جنت نمبر 2۔ جنات کی جنت کیونکہ اس میں خطاب جن و انس کو ہے گویا اس طرح کہا گیا لکل خائفین منکم جنتان۔ جنۃ للخائف الانسی وجنۃ للخائف الجنی۔ ہر دو تم میں سے ان کے لئے دو باغ ہیں۔ ایک انسان جو اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

45 ۔” فبای آلاء ربکما تکذبن “ اور اللہ نے جو کچھ ذکر کیا اپنے قول ” کل من علیھا فان “ سے یہاں تک وہ مواعظ اور ڈانٹ اور ڈرانا ہے اور یہ تمام اللہ تعالیٰ کی طرف سے نعمتیں ہیں اس لئے کہ معاصی سے روکتی ہیں اس لئے ہر آیت کو اپنے قول ” فبای آلاء ربکما تکذبن “ کے ذریعے ختم کیا ہے۔ پھر وہ ذکر کیا جو تقویٰ والے اور خوف کرنے والے کے لئے تیار کیا ؟

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 46–53

46۔ 53۔ جن لوگوں کے دل میں قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہونے اور حساب و کتاب کا خوف ہے اور وہ لوگ اس خوف کے سبب سے فرض اور نفل عبادت کے بجا لانے اور گناہوں سے بچنے میں احکام شرع کے پابند ہیں ‘ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان کی بڑی عزت فرمائے گا چناچہ صحیح بخاری 4 ؎ و مسلم وغیرہ میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس میں حشر کی گرمی اور پسینے کے وقت سات شخصوں کو عرش کے سایہ میں جگہ ملنے کی عزت کا ذکر ہے ان سات شخصوں میں ایک شخص وہ ہے جس کو کوئی مالدار حسین عورت بدکاری کا پیغام دے اور وہ شخص اللہ کے خوف سے بدکاری نہ کرے۔ اس بات میں اور بھی حدیثیں ہیں ان آیتوں میں بھی ایسے لوگوں کی عزت کا یہ ذکر ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 46–49

جب اللہ تعالیٰ نے یہ ذکر فرمایا کہ وہ مجرموں کے ساتھ کیا سلوک کرے گا تو اللہ سے ڈرنے والے تقوی شعار لوگوں کی جزا کا بھی ذکر فرمایا۔ یعنی اس شخص کے لیے جو اپنے رب اور اس کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈر گیا اس نے نواہی کو ترک کردیا اور جس کام کا اسے حکم دیا گیا اس کی تعمیل کی دو جنتیں ہیں جن کے برتن، زیورات اور عمارتیں اور ان میں موجود تمام چیزیں سونے کی ہوں گی ایک جنت ان کو اس امر کی جزا کے طور پر عطا کی جائے گی کہ انہوں نے منہیات کو ترک کردیا اور دوسری جنت نیکیوں کی جزا ہوگی۔ ان دونوں جنتوں کا ایک وصف یہ ہے کہ (ذَوَاتَآ اَفْنَانٍ ) ان دونوں میں بہت سی شاخیں ہیں۔ یعنی ان جنتوں میں انواع و اقسام کی…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 37–67

آسمان کا سرخ ہونا قول باری ہے (فاذا انشقت السمآء فکانت وردۃ کالدھان، پس جب آسمان پھٹ جائے گا اور وہ لال چمڑے کی طرح سرخ ہوجائے گا) روایت ہے آسمان سرخ ہوکر روغن کی طرح پگھل جائے گا۔ ایک روایت کے مطابق آسمان دنیا لوہے کا ہے جب قیامت کا دن ہوگا تو اس کا نیلا رنگ جہنم کی آگ کی گرمی کی وجہ سے سرخ رنگ میں تبدیل ہوجائے گا جس طرح لوہے کو آگ پر تپانے کی صورت میں اس کا رنگ سرخ ہوجاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 46–47

[ 42] اپنے رب سے ڈرنے والوں کیلئے دو باغوں کی خوشخبری : سو اس ارشاد سے صاف اور صریح طور پر یہ خوشخبری سنائی گئی کہ اپنے رب سے ڈرنے والوں کے لیے دو باغ مانگے۔ ایک اپنے لئے اور ایک اپنے خدام و متعلقین کے لیے، جیسا کہ دنیاوی بادشاہوں کے لئے ہوتا ہے [ صفوۃ وغیرہ ] یا ایک قلبی و روحانی اور دوسرا ظاہری و مادی، کہ دنیا میں وہ دل سے بھی اللہ پاک سے محبت رکھتا اور اس کے احکام بجالاتا تھا، اور ظاہری طور پر بھی اس کی ناراضگی اور مخالفت کے کاموں سے بچتا رہتا تھا، یا ایک جنت اس کو نیک اعمال کرنے پر، اور دوسری برے اعمال چھوڑنے پر ملے گی۔ سو خوف خداوندی سے سرفرازی دارین کی سعادت اور فوز و فلاح کی اصل اساس…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 46–78

نیک لوگوں کا اچھا انجام تشریح :۔ آیت نمبر 46 کی وضاحت ہم اس حدیث مقدسہ سے کرتے ہیں۔ حضرت عائشہ ؓ نے پوچھا ' یا رسول اللہ ﷺ ! کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص چوری، زنا اور شراب نوشی کرتے ہوئے اللہ سے ڈرے ؟ فرمایا نہیں اے صدیق کی بیٹی ! اس سے مراد وہ شخص ہے جو نماز پڑھتا ہے، روزے رکھتا ہے، زکوٰۃ دیتا ہے اور پھر خدائے عزو جل سے ڈرتا رہتا ہے '۔ (از شعور حیات مصنف محمد یوسف اصلاحی) یعنی گناہ سے پہلے ڈرنا۔ حضرت حسن بصری ؓ کا قول ہے 5 چیزیں قساوت قلب کا نشان ہیں (1) توبہ کی امید پر گناہ کرنا (2) عمل کرنا بغیراخلاص کے (3) علم سیکھنا اور عمل نہ کرنا (4) رزق کھانا اور شکر نہ کرنا (5) مردوں کو دفن کرنا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 46–78

آیات 46 تا 48۔ اسرار ومعارف۔ جو کوئی اپنے پروردگار کے سامنے پیش ہوکرجوابدہی سے ڈرتا ہے اور یوں اس کی نافرمانی نہیں کرتا یہ وصف اللہ کے خاص بندوں اور اہل اللہ کا ہے جنہیں آخرت مستحضر رہتی ہے یعنی ہر حال میں اللہ کے سامنے پیش ہونے کامراقبہ دائمی رہتا ہے توخلوص دل سے اطاعت کا سبب بن جاتا ہے ایسے لوگوں کے لیے ہر ایک کے واسطے دو باغ ہیں دودوجنتیں ہیں بھلاکس کس انعام کا شکر ادا نہ کرو گے دونوں بہت گھنے اور بہت آباد ہوں گے تو کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے جبکہ ان باغات میں ابلتے چشموں کا پانی جاری ہوگا ، حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ آب رواں کو جنتی جدھر کو کہے گا ادھر چلنا شروع کردے گا تم کس کس نعمت کا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 45–46

ف 2 یعنی اس نے خدا سے ڈرتے ہوئے زندگی بسر کی اور اس بنا پر گناہوں سے بچتا رہا۔ 3 ایک جنت عدن اور دوسری جنت نعیم یا ایک بلند اور دوسر اپائیں باغ یا ایک روحانی اور دوسرا جسمانی باغ یا ایک مردانہ اور دوسرا زنانہ باغ یا ایک اطاعت کے بدلہ میں اور دوسرا ترک معصیت کے بدلہ میں یا ایک باغ صحت عقید ہ کے بدلہ میں اور دوسرا نیک عمل کے بدلہ میں دو باغوں کے مفسرین نے یہ سب معنی بیان کئے ہیں۔ واللہ اعلم شوکانی

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(55:46) ولمن خاف۔ واؤ عاطفہ لام استحقاق کا ہے۔ من موصولہ ۔ اور اس کے لئے ہے جو ڈرا۔ مقام مصدر میمی بمعنی کھڑا ہونا۔ اس صورت میں اس کے دو مفہوم ہوں گے۔:۔ (1) یہ کہ جو لوگ ہر وقت اس بات سے خوف زدہ رہتے ہیں کہ ان کا رب ان کی نگرانی کر رہا ہے وہ ان کے افعال و اقوال سے پوری طرح باخبر ہے وہ ڈرتے ہیں کہ کوئی ایسی بھول نہ ہوجائے جس کے باعث ان کا رب ان سے ناراض ہوجائے۔ (2) یہ کہ وہ لوگ جو اپنے رب کی جناب میں کھڑے ہونے سے ہر وقت ڈرتے رہتے ہیں۔ اگر مقام اسم ظرف لیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ :۔ وہ لوگ جو اس جگہ سے ہر وقت خائف ولرزاں رہتے ہیں جہاں کھڑا کرکے ان سے حساب لیا جائے گا۔ جنتان : دو جنتیں…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 46–78

لغات القرآن آیت نمبر 46 تا 78 ذواتا افنان بہت شاخوں والے۔ بطائن (بطن) استر، پیٹ۔ استبرق سبز ریشم دان قریب قریب۔ قصرت روکنے والیاں۔ لم یطمت ہاتھ نہ لگایا ہوگا۔ مدھآ متن دو گہرے سبز۔ نضاختن دو چشمے جوش مارتے ہوئے۔ رمان انار ۔ خیرات بہت عمدہ۔ حسان خوبصورت و حسین۔ الخیام خیمے۔ رفرق مسند، مسہریاں۔ عبقری قیمتی۔ تبرک برکت والا۔ الاکرام بہت بزرگی اور عظمت والا۔ تشریح : آیت نمبر 46 تا 79 اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ ہے کہ وہ تقویٰ ، پرہیز گاریوں اور نیکیوں کے ساتھ زندگی گذارنے والوں کو اجر عظیم عطا فرمائے گا۔ چناچہ کفار و مشرکین اور گناہگار مجرموں کی سزا کو بیان کرنے کے بعد ان صالح مومنین کے لئے اجر عظیم کا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 46–62

(ف 1) ان آیتوں میں پہلے تو یہ فرمایا کہ جن لوگوں کے دل اللہ کے سامنے کھڑے ہونے کا خوف ہوگا انکو جنت کی دو منزلیں ملیں گی ایک ان کے نیک عمل کے بدلے میں اور ایک خوف الٰہی سے برے کاموں سے بچنے کے بدلے میں پھر ان منزلوں کے سازوسامان کا ذکر کیا کہ بعض منزلوں میں اعلی درجہ کا سازوسامان ہے اور بعض میں ان سے کم درجہ کا، ہر طرح کی منزلوں کے سازوسامان کا ذکر اسلیے فرمایا تاکہ معلوم ہوجائے کہ جس قدر خوف الہی انسان کے دل میں ہوگا اسی قدرسازوسامان والی جنت کیدومنزلیں اس کو ملیں گی آگے فرمایا کہ وہ دونوں باغ سرسبز و شاداب ہیں ایسی سبزی ہے کہ نہایت ہی گہری سبزی ہے اور ان دونوں باغوں میں دوچشمے ہیں جو جوش…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 44–51

[11] یعنی جب دوزخ میں پیاس کے مارے ان کا برا حال ہوگا تو وہ بھاگ بھاگ کر پانی کے چشموں کی طرف جائیں گے مگر وہاں کھولتا ہوا پانی ملے گا۔ اسی طرح انہی کے درمیان پھیرے لگانے میں ان کی زندگی گزرے گی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 45–46

خوف کے معنے 1: خوف کے معنے یہ ہوتے ہیں ۔ کہ بندہ اپنے مقام وموقف کو پہچانے ۔ اور اللہ کے جلال وجبروت کیمقابل میں اپنے کو نہایت ذلیل اور حقیر جانے ۔ اور خشیت واتقا کے جذبات سے دل کو معمور کرے ۔ ایسے شخص کے لئے عقبیٰ اور آخرت میں دو نوع کے آرام میسر ہوں گے ۔ روح کا آرام اور جسم کا آرام اور اس تناسب سے اس کو حیاتین بھی دو ہی ملیں گی ۔ ایک میں جسم کی تسکین و طمانیت کا سامان ہوگا ۔ اور دوسری میں روحانیت کی تکمیل کا ۔ اور یا پھر اس کے معنے یہ ہیں ۔ کہ ایک جنت تو اس کو اعمال کے بدلہ میں ملے گی ۔ اور دیگر بطور احسان کے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(46) اور جو شخص اپنے پروردگار کے روبرو کھڑے ہونے سے ڈرتا رہتا ہے اس کے لئے بہت بڑھیا دو باغ ہیں۔ یعنی جو اللہ تعالیٰ کے حضور میں حاضر ہونے سے ڈرتا ہے اس کے لئے بہت بڑھیا دو باغ ہوں گے اوپر مجرموں اور گناہگاروں کا ذکر تھا یہاں سے مومنین کا ذکر شروع فرمایا مومنین میں ایک وہ ہیں جو مقربان خاص ہیں دوسرے وہ ہیں جن کو عامہ مومنین کہا جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 42–46

ف 8۔ یہ شان خواص کی ہے کیونکہ عوام پر تو گاہ گاہ خوف طاری ہوجاتا ہے اور ان سے معاصی بھی سرزد ہوجاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اور جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرا اس کے لیے دو باغات ہیں 64 گزشتہ آیات میں مجرموں کا حال بیان کیا گیا تھا اب ان لوگوں کی حالت بیان کی جارہی ہے جو دنیا میں اللہ تعالیٰ کے قانون سے ڈرتے رہے اور برائیوں سے بچتے ہوئے نیکیوں میں سبقت لے گئے اور بھلائیوں کی طرف دوڑتے رہے اور اس دشوار گزار راستے میں جو حالات بھی ان کو پیش آئے انہوں نے ان کو بخوشی قبول کیا اور آخرت کی فکر نے ان کو دنیا کی طرف متوجہ ہی نہ ہونے دیا ‘ وہ دنیا میں رہے تو اس طرح رہے کہ گویا وہ مسافر ہیں اور ان کا ٹھکانہ دنیا نہیں بلکہ آخرت ہے۔ فرمایا : جب وہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ سے اس صلہ میں ایک نہیں بلکہ دو باغات حاصل…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 46–47

The Delight of the Righteous in Paradise The foregoing verses spoke of the horrible punishments to be faced by the disbelievers. In the current set of verses we are told about the rewards and bounties reserved for the righteous believers. The verse 46 speaks of two Gardens that are exclusively reserved 'for those who are fearful of having to stand before their Lord'. This phrase refers to those fortunate believers who are, at all times, concerned about reckoning on the Day of Judgment and, as a result, keep away from all sorts of sins under all circumstances. Obviously, these are the people…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

40 'Who dreads... Lord": who fears God in whatever he dces in the world, and dreads his accountability before Him in the Hereafter. Whoever holds this belief will inevitably avoid serving the lusts of his self, will avoid following every path blindly, will distinguish between the truth and falsehood, justice and injustice, pure and impure, and the lawful and the unlawful, and will not turn away deliberately from following the Commands of God. This is the real ground for the reward that is being mentioned below. 41 Jannat actually means a garden. At sane places in the Qur'an the entire world…

Read the full tafseer →