Explained with ayahs 37–45
آسمان پھٹ جائے گا وقت احتساب ہوگا
آسمان کا پھٹ جانا اور آیتوں میں بھی بیان ہوا ہے۔ ارشاد ہے آیت (وَانْشَقَّتِ السَّمَاۗءُ فَھِيَ يَوْمَىِٕذٍ وَّاهِيَةٌ 16ۙ) 69۔ الحاقة :16) ایک اور جگہ ہے آیت (وَيَوْمَ تَشَقَّقُ السَّمَاۗءُ بالْغَمَامِ وَنُزِّلَ الْمَلٰۗىِٕكَةُ تَنْزِيْلًا 25) 25۔ الفرقان :25) ، اور فرمان ہے آیت (اِذَا السَّمَاۗءُ انْشَقَّتْ ۙ) 84۔ الانشقاق :1) ، وغیرہ۔ جس طرح چاندی وغیرہ پگھلائی جاتی ہے یہی حالت آسمان کی ہوجائے گی رنگ پر رنگ بدلے گا کیونکہ قیامت کی ہولناکی اس کی شدت و دہشت ہے ہی ایسی۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے لوگ قیامت کے دن اٹھائے جائیں گے اور آسمان ان پر ہلکی بارش کی طرح…
Read the full tafseer →سورة الرَّحْمٰن 39
یعنی کیا اس وقت بھی تم اس کا انکار کرسکو گے کہ خدا قیامت لا سکتا ہے، تمہیں موت کے بعد دوسری زندگی دے سکتا ہے، تم سے باز پرس بھی کرسکتا ہے، اور یہ جہنم بھی بنا سکتا ہے جس میں آج تم سزا پا رہے ہو ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–45
يُعْرَفُ الْمُجْرِمُوْنَ بِسِيْمٰهُمْ فَيُؤْخَذُ بالنَّوَاصِيْ وَالْاَقْدَامِ ، سیماء کے معنی علامت کے ہیں، حضرت حسن بصری نے فرمایا کہ اس روز مجرمین جن کو جہنم میں ڈالنے کا فیصلہ ہوگا ان کی علامت یہ ہوگی کہ چہرے سیاہ اور آنکھیں نیلگوں ہوں گی، رنج و غم سے چہرے فق ہوں گے، فرشتے اسی علامت کے ذریعہ ان کو پکڑیں گے۔
نواصی ناصیتہ کی جمع ہے پیشانی کے بالوں کو کہا جاتا ہے نواصی اور اقدام سے پکڑنے کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ کسی کو سر کے بال پکڑ کر گھسیٹا جائے گا، کسی کا ٹانگیں پکڑ کر یا کبھی اس طرح کبھی اس طرح گھسیٹا جائے گا اور یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ پیشانی کے بالوں اور ٹانگوں کو ایک جگہ جکڑ دیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–45
(ھذا جہنم التی یکذب بھا المجرمون یطوفون بینھا و بین حمیم ان فبای الا ربکما تکذبن) (43۔ 45)۔
(آگ اور کھولتے پانی کے درمیان گردش)۔ فرمایا کہ یہ ہے اس جہنم کی تصویر جس کی مجرمین تکذیب کر رہے ہیں بالآخر وہ اس کی آگ اور اس کے کھولتے پانی کے درمیان پھیرے لگائیں گے۔ ’ ان ‘ اس پانی کی صفت کے لیے آتا ہے جس کی گرمی اپنے آخری نقطہ پر پہنچی ہوئی ہو۔ یہ ان کی انتہائی بےکسی کی تصویر ہے کہ جب دوزخ کی آگ ان کو جھلسے گی تو وہ پانی کی تلاش میں بھاگیں گے لیکن پانی کا حال یہ ہوگا کہ وہ گرمی کے آخری نقطہ پر پہنچا ہوا ہوگا۔ انہی کے درمیان پھیرے لگانے میں ان کی زندگی گزرے گی۔ سورة غاشیہ میں ان کی اس حالت کی تویر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
46۔ 1 جیسے حدیث میں آتا ہے ' دو باغ چاندی کے ہیں، جن میں برتن اور جو کچھ ان میں ہے، سب چاندی کے ہونگے۔ دو باغ سونے کے ہیں اور ان کے برتن اور جو کچھ ان میں ہے سونے کے ہی ہونگے ' (صحیح بخاری تفسیر رحمن) بعض آثار میں ہے کہ سونے کے باغ خواص مومنین مقربین اور چاندی کے باغ عام مومنین اصحاب الیمین کے لیے ہوں گے۔ (ابن کثیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–61
9: یعنی سوال و جواب اور حساب و کتاب کا مرحلہ تو اس وقت گزرچکا ہوگا جس میں ان لوگوں سے حجت قائم کرنے کے لئے سوالات بھی کئے گئے تھے، لیکن اب ان کو دوزخ میں ڈالنے کے لئے نہ تو اللہ تعالیٰ کو کسی سے یہ پوچھنے کی ضرورت ہوگی کہ اس نے کیا گناہ کیا تھا، کیونکہ اسے خود ہی معلوم ہے، اور نہ فرشتوں کو ضرورت ہوگی کیونکہ جیسا اگلی آیت میں آرہا ہے، مجرم لوگ اپنے چہرے کی علامتوں ہی سے پہچان لئے جائیں گے۔
Read the full tafseer →فبای ................ تکذبن (55:54) ” پھر اپنے رب کے کن کن قدرتوں کو تم جھٹلاؤ گے ؟ “ یہ تو تھی صورت عذاب جہنم کی اور اب ذرا جنتیوں کا ذکر بھی ہوجائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
11 یعنی جس کو دنیا میں ڈر لگا رہا کہ ایک روز اپنے رب کے آگے کھڑا ہونا اور رتی رتی کا حساب دینا ہے۔ اور اسی ڈر کی وجہ سے اللہ کی نافرمانی سے بچتا رہا اور پوری طرح تقویٰ کے راستوں پر چلا اس کے لیے وہاں دو عالیشان باغ ہیں جن کی صفات آگے بیان کی گئی ہیں۔
Read the full tafseer →آیت 45{ فَبِاَیِّ اٰلَآئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ۔ } ”تو تم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں اور قدرتوں کا انکار کرو گے ؟“
یہ اہل جہنم کا تذکرہ تھا ‘ اب اس کے بعد آئندہ آیات میں اہل جنت کا بیان ہوگا۔ البتہ سورة الواقعہ میں پہلے اہل جنت کا ذکر ہے اور اس کے بعد اہل جہنم کا۔ یعنی جیسا کہ قبل ازیں بھی وضاحت کی جا چکی ہے کہ ان دونوں سورتوں کے مضامین باہم عکسی ترتیب میں ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
31 اس سورة کی اکثر آیات میں دو دو چیزوں کا ذکر آرہا ہے لہذا یہاں بھی دو باغات کا ذکر فرمایا : حالانکہ ہر جنتی کو کئی باغات ملیں گے۔ جیسا کہ بعض دوسری آیات سے واضح ہے۔ پھر تمام اہل جنت کے سارے باغوں کے مجموعہ کا نام بھی الجنۃ ہے۔ یعنی باغات کا مخصوص مقام۔ بہشت۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
25۔ یہ ذکر خواص امت اور اعلی متقیوں کا ہے جو برابر ہر وقت ڈرتے رہتے ہیں۔ (آیت) ” ولمن .... ربہ “۔ جو کوئی حق تعالیٰ کے سامنے حاضری سے ڈرتا ہے اور اس ڈر سے برابر طاعت حق میں لگا رہے۔ محدثین نے آیت کے ذیل میں ذکر کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اللہ سے ڈرنے والے کو جنت کی بشارت دی، اس پر صحابی ابودرداء ؓ نے عرض کیا کہ اگر ایسا بندہ چوری اور زنا کرے تو بھی ؟ حضور ﷺ نے یہ آیت پڑھ کر ارشاد فرمایا کہ ہاں بندہ اگر چوری اور زنا کرے تو بھی۔ اس پر صحابی نے حیرت سے دوبارہ وہی سوال کیا۔ مکرر وہی جواب ارشاد ہوا۔ یہاں تک کہ تیسری بار کے سوال کے جواب میں ارشاد ہوا کہ ہاں، چاہے ابودارداء کو کیسا ہی ناگوار گزرے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–45
فیومئذ لایسئل عن ذنبہ انس ولا جان اس کی تشریح آگے والا فقرہ یعرف المجرمون بسیمھم فیوخذ بالنواصی والاقدام کر رہا ہے کہ مجرم اپنے چہروں سے پہچان لئے جائیں گے، مطلب یہ ہے کہ اس عظیم الشان مجمع میں جہاں تم اولین اور آخرین جمع ہوں گے، یہ پوچھتے پھرنے کی ضرورت نہ ہوگی کہ کون کون لوگ مجرم ہیں ؟ مجرموں کے اترے ہوئے چہرے اور ذلت و ندامت سے جھکی ہوئی آنکھیں اور بدن سے چھوٹتا ہوا پسینہ خود ہی یہ راز فاش کردیں گے، اگر باز پرس ہوگی تو اس بات کی کہ تم نے یہ جرم کیوں کیا ؟ نہ یہ کہ کیا یا نہیں، یہ بعض مقام کا بیان ہے۔
نوای، ناصیۃ کی جمع ہے، پیشانی کے بالوں کو کہتے ہیں نواصی والاقدام سے پکڑنے کا یہ مطلب بھی…
Read the full tafseer →فبای الا ربکما تکذبان
فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا ..... : بعض علماء نے لکھا ہے کہ آیت : کل من علیھا فان سے اس آیت تک تنبیہات ہیں ‘ توبیخیں اور زجریات ہیں اور عذاب کی دھمکیاں ہیں اور یہ تمام چیزیں اللہ کی نعمت ہیں کیونکہ گناہوں سے باز رہنے کا یہ ذریعہ ہیں۔ علماء کا یہ قول محض تکلف ہے۔ کیونکہ اٰلآء سے مراد ہے تخلیق وجود ‘ ابقاء وجودکطاء رزق کی نعمتیں اور انہی جیسی دوسری بخششیں ‘ عذاب ‘ سزا اور ہلاکت کو توڑ مروڑ کر نعمت شمار کیا جائے لیکن عذاب سے توبیخ اور زجر کوئی نعمت نہیں ہے ‘ یہ زجر آگیں آیت اس سورة میں 31 مرتبہ ذکر کی گئی ہے۔ آٹھ مرتبہ تو اللہ کی آٹھ حقیقی صفات کی گنتی کے موافق ذکر کیا گیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–45
(44۔ 45) اور وہ لوگ دوزخ کے اور گرم کھولتے ہوئے پانی کے درمیان دورہ کرتے ہوں گے۔ سو اے جن و انس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کا انکار کرو گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–45
یَطُوْفُوْنَ بَیْنَہَا وَبَیْنَ حَمِیْمٍ اٰنٍ :”ان“ ”انی یانی انی“ (ض) سے اسم فاعل ہے ، جیسا کہ ”قاض“ ہے ، انتہائی گرم ، کھولنے والا۔ سورة ٔ غاشیہ میں ہے :(تُسْقٰی مِنْ عَیْنٍ اٰنِیَۃٍ) (الغاشیہ : 5)”و ہ ایک کھولتے ہوئے چشمے سے پلائے جائیں گے۔“ (”انی“ کھانے کا پک کر تیا ر ہونا ، جیسے فرمایا :(غیر نظرین انہٗ) الاحزاب : 53)”اس حال میں کہ اس کے پکنے کا انتظار کرنے والے نہ ہوں“۔”یطوفون“ کی تفسیر کے لیے دیکھئے سورة ٔ صافات (66 تا 68)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–45
یعرف المجرمون بسیماھم۔ حضرت حسن بصری نے کہا : چہرے کی سیاہی اور آنکھوں کی زردی (1) اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :
(طہٰ ) اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔ (آل عمران :106)
یعنی فرشتے ان کی پیشانیوں کو پکڑ لیں گے یعنی ان کے سروں کے اگلے حصہ کے بالوں اور ان کے قدموں سے پکڑ لیں گے اور انہیں جہنم میں پھینک دیں گے۔ نواصی ناصیہ کی جمع ہے۔ ضحاک نے کہا : اس کی پیشانی اور اس کے قدموں کو اس کی پشت کے پیچھے ایک زنجیر میں جمع کردیا جائے گا۔ ان سے یہ بھی مروی ہے : آدمی کی دونوں ٹانگوں کو پکڑا جائے گا اور ان دونوں اور اس کی پیشانی کو جمع کیا جائے گا یہاں تک کہ اس کی کمر ٹوٹ جائے گی ‘ پھر اسے آگ میں پھینک دیا جائے گا۔ ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–45
28:۔ ھناد وعبد بن حمید (رح) نے ضحاک (رح) سے (آیت ) '' یعرف المجرمون بسیمھم '' کے بارے میں روایت کیا کہ مجرموں کو ان کو چہروں کی سیاہی سے اور ان کی آنکھوں کے نیلا ہونے سے پہچان لیا جائے گا۔
29:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے (آیت ) '' یعرف المجرمون بسیمھم '' کے بارے میں روایت کیا کہ ان کو چہروں کی سیاہی سے اور ان کی آنکھوں کے نیلا ہونے سے پہچان لیا جائے گا۔
30:۔ ابن ابی حاتم (رح) وابن مردویہ (رح) والبیہقی (رح) نے البعث والنشور میں ابن عباس ؓ سے (آیت ) '' فیؤخذ بالنواصی والاقدام '' کے بارے میں روایت کیا کہ زبانیہ (یعنی جہنم کے داروغے) ان کو پیشانی کے بالوں اور ٹانگوں سے پکڑیں گے پھر ان کو…
Read the full tafseer →فَبِاَيِّ اٰلَاۗءِ رَبِّكُمَا [ تو تم دونوں (جن وانس ) اپنے رب کی نعمتوں سے کس کس کو ] تُكَذِّبٰنِ [ تم دونوں جھٹلاؤگے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–45
قیامت کے دن کفار انس و جانّ کی پریشانی، مجرمین کی خاص نشانی، پیشانی اوراقدام پکڑ کر دوزخ میں ڈالا جانا
ان آیات میں قیامت کے دن کا کچھ حال بتایا ہے اور مجرموں کا دوزخ میں داخلہ اور وہاں جو ان کی بدحالی ہوگی اس کا تذکرہ فرمایا ہے۔ ان حالات کا پیشگی اطلاع دینا بھی نعمت ہے تاکہ لوگ کفر سے اور بداعمالیوں سے بچیں اور قیامت کے دن بدحالی اور دوزخ کے داخلہ سے بچیں اس لیے ہر آیت کے ختم پر ﴿فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ﴾ فرمایا۔
اول تو یہ فرمایا کہ جب قیامت کا دن ہوگا تو تم دونوں پر آگ کے شعلے پھینکے جائیں گے اور دھواں بھی پھینکا جائے گا یہ دھواں بھی آگ ہی سے نکلا ہوا ہوگا چونکہ اس میں روشنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–45
عظمت خداوند رب انام مع ذکر اہوال قیامت وذلت و بدحالی مجرمین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” کل من علیھا فان ویبقی وجہ ربک ذوالجلال والاکرام ...... الی ........ تکذبن “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں حق تعالیٰ شانہ نے اپنی قدرت کی عظیم نشانیاں فرمائی تھیں جن کے ضمن میں ان گراں قدرانعامات کا ذکر فرمایا جو جن وانس پر کی گئیں اور ظاہر ہے کہ ان دلائل و انعامات کا متقضی یہی ہے کہ جن وانس اسکی اطاعت و بندگی میں مصروف ہوجائیں اب ان آیات میں عظمت خداوندی کا بیان ہے اور قیامت کی ہول وشدت اور اس میں مجرمین پر جو ندامت وذلت ہوگی اس کا ذکر ہے کہ قیامت کے ہولناک احوال میں منکرین ومکذبین کا کیسا عبرتناک حال ہوگا۔
ارشاد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–45
17:۔ ” ھذہ جہنم “ اس سے پہلے ” یقال “ مقدر ہے۔ جب مجرمین کو گھسیٹ کر جہنم میں پھینکا جائے گا اس وقت کہا جائیگا یہ وہی جہنم ہے جس کو مجرمین نہیں مانتے تھے۔ اب جہنم کی آگ اور انتہائی گرم اور کھولتے ہوئے پانی سے ان کی تواضع کی جائیگی، ” اٰن “ ایسا گرم پانی جو حرارت کے انتہائی درجہ تک گرم ہو، اٰن متناہ اناہ وطبخہ بالغ فی الحرارۃ اقصاھا۔ اذا استغاثوا من النار جعل غیاثہم الحمیم (روح ج 27 ص 115) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–45
ربطہ آیات
سورة کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے اپنے ان خصوصی انعامات کا ذکر کیا جو اس نے اپنی مخلوق اور خاص طور پر نسل انسانی پر کیے ہیں۔ پھر جزائے عمل کے بارے میں فرمایا کہ زمین و آسمان کی ہر چیز فانی ہے اور باقی رہنے والی صرف پروردگار کی ذات ہے اس کے ساتھ انعامات کے سلسلے کو دہرا کر لوگوں کو یہ بات باور کرائی گئی کہ وہ محتاج ہیں اور ہر چیز خدا تعالیٰ سے ہی اپنی حاجات طلب کرتی ہے ۔ پھر وقوع قیامت اور محاسبہ اعمال کا ذکر کیا۔ مجرمین کے متعلق فرمایا کہ ان پر آگ کے شعلے اور دھواں پھینکاجائے گا۔ مگر انہیں کسی طرف سے مدد نہیں مل سکے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ اللہ نے یہ جملہ بھی دہرایا کہ اے جنو اور انسانو…
Read the full tafseer →فَبِاَيِّ اٰلَاۗءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ 45
أيا
أَيُّ في الاستخبار موضوع للبحث عن بعض الجنس والنوع وعن تعيينه، ويستعمل ذلک في الخبر والجزاء، نحو : أَيًّا ما تَدْعُوا فَلَهُ الْأَسْماءُ الْحُسْنى [ الإسراء/ 110] ، وأَيَّمَا الْأَجَلَيْنِ قَضَيْتُ فَلا عُدْوانَ عَلَيَّ [ القصص/ 28]
( ا ی ی ) ای ۔
جب استفہام کیلئے ہو تو جنس یا نوع کی تعیین اور تحقیق کے متعلق سوال کے لئے آتا ہے اور یہ خبر اور جزا کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے چناچہ فرمایا :۔ { أَيًّا مَا تَدْعُوا فَلَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى } ( سورة الإسراء 110) جس نام سے اسے پکارا اس کے سب نام اچھے ہیں { أَيَّمَا الْأَجَلَيْنِ قَضَيْتُ فَلَا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–45
ترکیب : فاذا شرط فکانت جواب الشرط وقیل جو ابہ فیومئذ الخ فکانت علیٰ ھذاعطف۔ وقیل جو ابہ محذوف اے رأیت امرمھولا۔ کالدھان جمع دھن کقرط وقیراط ورمح و رماح۔ وقیل اسم مفرد کالخرام والادام۔ خبرتان علی کان الناقصۃ وحال علیٰ تقدیر کو نھا تا مۃ عن ذنبہ والضمیر للانس باعتبار اللفظ وان تاخر لفظاً تقدم رتبۃً ۔ والاخذ یستعمل بالباء تارۃً بغیر ھاتارۃً یقال اخذت الخطام واخذت بالخطام قالہ الکرخی یطوفون حال من المجرمون ویجوز ان یکون مستانفاً ان اسم فاعل منقوص کقاص۔ قال الزجاج انی یانی فھوآن اذا انتہٰی فی النضج والحرارۃ۔
تفسیر : پہلے فرمایا تھا یرسل علیکما شواظ من نار کہ تم پر آگ کا شعلہ چھوڑا جائے گا۔ اب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–45
ھٰذِہٖ جَھَنَّمُ الَّتِیْ یُـکَذِّبُ بِھَا الْمُجْرِمُوْنَ ۔ یَطُوْفُوْنَ بَیْنَھَا وَبَیْنَ حَمِیْمٍ اٰن۔ فَبِاَیِّ اٰ لَآئِ رَبِّـکُمَا تُـکَذِّبٰنِ ۔ (الجن : 43 تا 45)
(یہ ہے وہ جہنم جس کی مجرم تکذیب کرتے رہے تھے۔ وہ اس کے اور اس کے کھولتے ہوئے پانی کے درمیان گردش کرتے رہیں گے۔ اے جن و انس ! تم اپنے رب کی کن کن قدرتوں کو جھٹلائو گے۔ )
منکرینِ قیامت کو تنبیہ
مجرمین کو جہنم میں پھینکنے کے ذکر کے بعد ارشاد فرمایا کہ یہ وہ جہنم ہے دنیا میں مجرم جس کا انکار کرتے رہے اور اس کی خبر کو جھوٹ بتلاتے رہے ہیں، لیکن آج جب اسی جہنم میں انھیں ڈالا جائے گا تو تب انھیں یقین آجائے گا کہ جہنم کی خبر غلط نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–45
فہم القرآن
ربط کلام : جس طرح جن اور انسانوں کے پاس زمین و آسمانوں کے کناروں سے نکلنے کی طاقت نہیں اسی طرح باغی جن اور انسانوں کے پاس اللہ کے عذاب سے بچ نکلنے کی طاقت نہیں۔
قیامت کے اسرافیل جونہی دن صورپھونکیں گے تو آسمان کا رنگ سرخ ہوجائے گا اور وہ اس قدر ہلنا شروع ہوجائے گا کہ بالآخر ٹکڑوں کی صورت میں زمین پر گرپڑے گا۔ زمین و آسمانوں کو بدل دیا جائے گا اور محشر کے میدان میں لوگوں کو جمع کرلیا جائے گا۔ اس دن لوگوں کا حساب و کتاب پیش کرنے اور ان پر شہادتیں قائم کرنے کے بعد ایک ایسا مرحلہ آئے گا کہ مجرم جن اور انسانوں سے یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ تم نے فلاں فلاں جرم کیوں کیا تھا۔ کیونکہ اس سے…
Read the full tafseer →45 : فَبِاَیِّ اٰلَآ ئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ۔ (پس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلائو گے) ان اوپر والی اشیاء میں نعمت اس طرح ہے اللہ تعالیٰ کے فضل و رحمت سے ناجی کو نجات ملی اور اس سے ڈرانے کے ذریعہ متنبہ کیا گیا ( کہ مجرموں کی صف میں مت داخل ہو )
Read the full tafseer →44 ۔” یطوفون بینھا وبین حمیم آن “ جس کی گرمائش انتہا کو پہنچ چکی ہو۔ زجاج (رح) فرماتے ہیں ” انی یانی فھوآن “ جب پکنے کی انتہا کو پہنچ جائے۔ اور معنی یہ ہے کہ وہ جہنم اور گرم پانی کے درمیان دوڑیں گے۔ پس جب وہ جہنم کی گرمی سے فریاد طلب کریں گے تو ان کا عذاب کھولتا ہوا پانی جو تار کول کی طرح ہوگا بنایا جائے گا اور وہ اللہ تعالیٰ کا قول ” وان یستغیثوا یغاثوا بماء کالمھل “ اور کعب احبار (رح) فرماتے ہیں آن جہنم کی وادیوں میں سے ایک وادی ہے جس میں اہل جہنم پیپ جمع ہوتی ہے، پس وہ بیڑیوں میں وہاں لائے جائیں گے ، پھر اس وادی میں غوطے دیئے جائیں گے حتیٰ کہ ان کے جوڑ کھل جائیں گے پھر اس سے نکالے جائیں گے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–45
37۔ 45۔ پہلے صور سے جب ساری دنیا اجڑے گی ایک دفعہ تو آسمان اس وقت پھٹے گا اور پھر حشر کے لئے دوسرا صور پھونکا جائے گا جس کی آواز سے سب لوگ قبروں سے اٹھیں گے اس وقت نیا آسمان پھٹے گا اور اس میں دروازے ہوجائیں گے جن دروازوں سے حشر کے انتظام کے فرشتے زمین پر اتریں گے۔ ان آیتوں میں آسمان کی اسی دوسری حالت کا ذکر ہے کیونکہ اس کے بعد مجرموں کے دوزخ میں ڈالے جانے کا حال ہے جو دوسرے صور کے بعد ہوگا حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ کی صحیح 1 ؎ مسلم اور ترمذی کی حدیث اوپر گزر چکی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ستر ہزار نکیلیں لگا کر دوزخ کو محشر کے میدان میں لایا جائے گا اس وقت کی دوزخ کی لپٹ سے آسمان کا طرح طرح کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–45
(يَطُوْفُوْنَ بَيْنَهَا) وہ جہنم کے درمیان گھو میں گے۔ یعنی جہنم اور اس کے شعلوں کے طبقوں میں گھومتے پھریں گے۔ (وَبَيْنَ حَمِيْمٍ اٰنٍ ) اور وہ سخت کھولتے ہوئے پانی کے درمیان بھی گھو میں گے جس کی حرارت انتہا کو پہچنی ہوئی ہوگی اور زمہریر جس کی ٹھنڈک بہت شدید ہوگی۔ (فَبِاَيِّ اٰلَاۗءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ ) پھر اے جن وانس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–67
آسمان کا سرخ ہونا
قول باری ہے (فاذا انشقت السمآء فکانت وردۃ کالدھان، پس جب آسمان پھٹ جائے گا اور وہ لال چمڑے کی طرح سرخ ہوجائے گا) روایت ہے آسمان سرخ ہوکر روغن کی طرح پگھل جائے گا۔ ایک روایت کے مطابق آسمان دنیا لوہے کا ہے جب قیامت کا دن ہوگا تو اس کا نیلا رنگ جہنم کی آگ کی گرمی کی وجہ سے سرخ رنگ میں تبدیل ہوجائے گا جس طرح لوہے کو آگ پر تپانے کی صورت میں اس کا رنگ سرخ ہوجاتا ہے۔
Read the full tafseer →[ 41] گروہ جن و انس سے خطاب تنبیہ و تذکیر :
سو ان دونوں گروہوں سے فرمایا گیا کہ پھر تم دونوں اے گروہ جن و انس اپنے رب کی کون کون سے نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ؟ کہ وہ تم کو دوزخ کے ان احوال و اھوال سے اس دنیا میں اس طرح خبردار کرتا ہے کہ تاکہ تم اس سے بچنے کا سامان کرسکو، لیکن تم ہو کہ پھر بھی اس سے غفلت اور لاپرواہی برتتے ہو، بلکہ تم میں سے کتنے ہیں جو پوری ڈھٹائی اور بیباکی سے اس کا انکار کرتے ہیں، لیکن تم ذرہ سوچو اس بارے غور کرو کہ کل جب قیامت کی وہ حقیقت کبریٰ آپہنچے گی۔ اور یہ احوال و مناظر تمہارے سامنے ہوں گے اور تمہیں اپنے زندگی بھر کے کیے کرائے کی جوابدہی کرنا پڑے گی، اور اس کا خمیاز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–45
قیامت کیسے آئے گی اور دوزخ کا عذاب
تشریح : جہنم کا ہولناک نقشہ اور قیامت کا خوفناک منظر بیشمار دفعہ قرآن پاک میں بڑی وضاحت سے بیان کیا گیا ہے اور یہ اللہ کے رحمن ہونے کی دلیل ہے۔ کہ قبل از وقت اس غیب کی خبر سے مطلع کیا جا رہا ہے تاکہ اس دن کی سختیوں اور جہنم کے درد ناک عذاب سے بچ سکنے کا بندوبست ابھی اس دنیا کی زندگی میں ہی کرلیا جائے۔ خوب اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ قیامت کی خبر نہ تو کوئی افواہ ہے نہ نجومیوں کی پیشگوئی ہے نہ ہی کوئی سائنسی خبر ہے کہ جو اکثر تبدیل ہوتی رہتی ہے بلکہ یہ اٹل، پکی اور سچی خبر ہے جو وحی الٰہی کے نتیجہ میں آنحضرت ﷺ کو اللہ کی طرف سے دی گئی ہے اس لیے قیامت کا واقعہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–45
آیات 26 تا 45۔
اسرار ومعارف۔
ارض وسماء میں جو کچھ بھی ہے اپنی ذات میں فانی ہے اور روز قیامت فنا ہوگا ہاں بقا اور ہمیشہ کا رہنا صرف ذات باری کے لیے ہے جو بہت عظمت کا مالک ہے کہ اپنی بقا میں اور اپنی ذات وصفات میں کسی کا محتاج نہیں اور صاحب اکرام ہے کہ ساری مخلوق پہ اس کا کرم و احسان عام ہے جو ساری ہی اس کی محتاج ہے اور اس کے سہارے قائم ہے تو بھلا اس کے احسانات کیسے بھلاپاؤ گے سب کی سب مخلوق زمینوں میں ہے یا آسمانوں میں ہرگھڑی اس کے دروزاے پر دست سوال دراز کیے کھڑی ہے۔ اور سب اس ذات سے ہر شے مانگ رہے ہیں اور ہر روز ہر آن اس کی عظمت کا اظہار کئی کئی شانوں سے ہورہا ہے اور اس کی عطا بٹ رہی ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
ف 2 یعنی اس نے خدا سے ڈرتے ہوئے زندگی بسر کی اور اس بنا پر گناہوں سے بچتا رہا۔
3 ایک جنت عدن اور دوسری جنت نعیم یا ایک بلند اور دوسر اپائیں باغ یا ایک روحانی اور دوسرا جسمانی باغ یا ایک مردانہ اور دوسرا زنانہ باغ یا ایک اطاعت کے بدلہ میں اور دوسرا ترک معصیت کے بدلہ میں یا ایک باغ صحت عقید ہ کے بدلہ میں اور دوسرا نیک عمل کے بدلہ میں دو باغوں کے مفسرین نے یہ سب معنی بیان کئے ہیں۔ واللہ اعلم شوکانی
Read the full tafseer →(55:45) فبای الاء ربکما تکذبان۔ پھر تم اپنے رب کی کون کون سی قدرتوں کو جھٹلاؤ گے ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–45
لغات القرآن آیت نمبر 26 تا 45
فان فنا ہونے والا ۔ وجہ چہرہ، ذات۔ ذوالجلا عزت و عظمت والا۔ یسئل سوال کرتا ہے۔ شان ضروری کام، شان ۔ الثقلن دو بڑی بھاری مخلوق۔ معشر گروہ، جماعت تنفذوا تم نکل بھاگو۔ اقطار کنارے۔ سلطان طاقت و قوت شواظ شعلے نحاس دھواں لاتنصران تم بدلہ نہ لے سکو گے انشقت پھٹ پڑی وردۃ سرخ الدھان رنگا ہوا سرخ چمڑا یعرف پہچان لیا گیا۔ النواصی پیشانیاں یطرفون وہ گھو میں گے۔ حمیم کھولتا وہا۔ ان بہت کھولتا ہوا گرم پانی۔
تشریح : آیت نمبر 26 تا 45
اللہ تعالیٰ کا اپنی مخلوق پر سب سے بڑا کرم اور نعمت یہ ہے کہ اس نے قیامت قائم ہونے سے پہلے ہی انسانوں اور جنات کو اس بات سے پوری طرح آگاہ کردیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–45
جنت کے اوصاف اور اہل جنت کی اعلی زندگی۔
(ف 1) جن لوگوں کے دل میں قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہونے اور حساب وکتاب کا خوف ہے اور وہ لوگ اس خوف کے سبب سے فرض اور نفل عبادت کے بجالانے اور گناہوں سے بچنے میں احکام شرع کے پابند ہیں قیامت کے دن اللہ ان کی بڑی عزت فرمائے گا کہ ایک جنت ان کے نیک عمل کے بدلے میں اور ایک ان کے خوف کے بدلے میں اس طرح ان کو دوجنتیں ملیں گی۔ اور وہ دو عالیشان باغ جن کے اوصاف بیان کرتا ہے کہ وہ دونوں باغ ایسے ہوں گے جن میں مختلف قسم کے پھل ہوں گے اور درختوں کی شاخیں نہایت پر میوہ اور سایہ دار ہوں گی اور ان باغوں کی یہ بھی صفت ہے یعنی وہ ایسے باغ ہوں گے جن میں چشمے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–51
[11] یعنی جب دوزخ میں پیاس کے مارے ان کا برا حال ہوگا تو وہ بھاگ بھاگ کر پانی کے چشموں کی طرف جائیں گے مگر وہاں کھولتا ہوا پانی ملے گا۔ اسی طرح انہی کے درمیان پھیرے لگانے میں ان کی زندگی گزرے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
خوف کے معنے
1: خوف کے معنے یہ ہوتے ہیں ۔ کہ بندہ اپنے مقام وموقف کو پہچانے ۔ اور اللہ کے جلال وجبروت کیمقابل میں اپنے کو نہایت ذلیل اور حقیر جانے ۔ اور خشیت واتقا کے جذبات سے دل کو معمور کرے ۔ ایسے شخص کے لئے عقبیٰ اور آخرت میں دو نوع کے آرام میسر ہوں گے ۔ روح کا آرام اور جسم کا آرام اور اس تناسب سے اس کو حیاتین بھی دو ہی ملیں گی ۔ ایک میں جسم کی تسکین و طمانیت کا سامان ہوگا ۔ اور دوسری میں روحانیت کی تکمیل کا ۔ اور یا پھر اس کے معنے یہ ہیں ۔ کہ ایک جنت تو اس کو اعمال کے بدلہ میں ملے گی ۔ اور دیگر بطور احسان کے ۔
Read the full tafseer →(45) سوتم دونوں اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمتوں کی تکذیب کرو گے ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–46
ف 8۔ یہ شان خواص کی ہے کیونکہ عوام پر تو گاہ گاہ خوف طاری ہوجاتا ہے اور ان سے معاصی بھی سرزد ہوجاتے ہیں۔
Read the full tafseer →پھر تم دونوں پروردگار کی کون کون سے نشانیوں کی تکذیب کرو گے۔
54 یہ وہی ترجیع ہے جو بار بار پیش کی جارہی ہے کہ آج تم اس دنیا کی زندگی کے پیچھے اندھے اور بہرے ہو کر بھاگ رہے ہو اور آنے والے کل کا تم کو خیال تک بھی نہیں لیکن کل جب دوزخ میں تم کو جھونکا جائے گا تو کیا اس وقت بھی تم تکذیب ہی کرو گے ؟ آخر یہ تکذیب کب تک کرو گے اور کن کن نشانات کی کرو گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–45
يُعْرَفُ الْمُجْرِمُونَ بِسِيمَاهُمْ فَيُؤْخَذُ بِالنَّوَاصِي وَالْأَقْدَامِ (The guilty ones will be recognized [ by the angels ] by their marks and will be seized by foreheads and feet...55:41). The word sima means 'a sign'. Hasan Basri (رح) says that the day when sentence will be passed against the guilty to go to Hell, the following will be their signs: They will be known by their dark faces and their blue eyes. Through grief their faces will turn pale. The angels will recognize the guilty by these signs and seize them.
The word نَّوَاصِي nawasi is the plural of نَاصِیۃُ nasiyah, and…
Read the full tafseer →39 That is, "Will you even at that time be able to deny that God can bring about Resurrection, can give you another life after death, can call you to account, and can also make this Hell in which you are suffering punisment today?"
Read the full tafseer →